رؤیت ہلال

مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۷ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۷ء

نمازوں کے یکساں اوقات اور رؤیت ہلال

مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے لیے بازار بند کرانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے اوقات میں گھنٹوں کی گنجائش دی ہے کہ اس دوران کسی وقت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے تو اس گنجائش کو محدود کر کے لوگوں کو ایک ہی وقت میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرنا شریعت کا تقاضہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقہ کی مساجد میں نمازوں کے اوقات میں باہمی مشورہ کے ساتھ فرق رکھا ہوا ہے تاکہ دکاندار حضرات باری باری کسی نہ کسی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۱۶ء

امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

حسب سابق اس سال بھی امریکہ میں چاند کا مسئلہ زوروں پر ہے اور علمی و دینی مجالس میں ان دنوں زیادہ تر یہی مسئلہ زیربحث رہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جو فلکیات کے حساب کی بنیاد پر پہلے سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے دن کا اعلان کر دیتا ہے چنانچہ اس سال بہت پہلے سے ان کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ بروز پیر یکم ستمبر کو یکم رمضان المبارک ہوگی۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ چونکہ فلکیات کا حساب اس قدر سائینٹفک ہو چکا ہے کہ اس کے اندازوں میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ ستمبر ۲۰۰۸ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس بار پھر تنازع کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، اور اس کی بازگشت سپریم کورٹ کے ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ۲۳ ستمبر (۲۹ شعبان) کو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے چاند دیکھے جانے کی شہادت موصول نہیں ہوئی اس لیے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یکم رمضان المبارک ۲۵ ستمبر کو پیر کے روز ہو گی۔ جبکہ صوبہ سرحد کے وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ امریکہ میں بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں یا برطانیہ میں ہوتا ہے۔ میں ۱۱ کتوبر کو امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا) میں ہوں۔ دارالہدٰی کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر بہت محبت کرتے ہیں اور احترام سے نوازتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ اصرار بھی ہوتاہے کہ جتنے دن امریکہ میں رہوں دارالہدٰی ہی میں رہوں۔ اس سال ۱۱ اکتوبر سے ۲۲ اکتوبر تک امریکہ میں رہنے کا پروگرام تھا، میں نے لندن سے نیویارک کے لیے ٹکٹ کروا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۵ء

رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع

سرحد اسمبلی کی اس متفقہ قرارداد نے رویت ہلال کے مسئلہ پر ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کو توڑ دیا جائے اور رمضان المبارک اور عیدین وغیرہ کے نظام کو سعودی عرب کے ساتھ منسلک کر کے جس روز سعودیہ میں چاند کا اعلان ہو، اس کے مطابق روزہ اور عید کا پاکستان میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے صوبہ سرحد اور باقی ملک میں جو بدمزگی پیدا ہو گئی تھی اس کے پس منظر میں سرحد اسمبلی کی یہ متفقہ قرارداد خصوصی اہمیت کی حامل ہے جس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

عید الفطر پر تذبذب کی صورتحال اور اس کا حل

عید الفطر گزر گئی ہے اور ملک بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے۔ رؤیت ہلال کا تنازع حسب توقع عید کے موقع پر بھی قائم رہا۔ صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پیر کی شام کو اجلاس طلب کر لیا اور سینکڑوں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیا کہ عید الفطر ۲۵ نومبر منگل کو ہوگی۔ صوبہ بلوچستان کی رؤیت ہلال کمیٹی نے بھی اس حد تک صوبہ سرحد کا ساتھ دیا کہ چاند دیکھنے کے لیے اجلاس پیر کی شام کو طلب کر لیا مگر کوئی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے بدھ کی عید کا اعلان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

چاند کا مسئلہ: مشترکہ دینی قیادت کی آزمائش

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس سال قومی سطح پر متنازعہ صورت اختیار کرنا نظر آرہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی فوری کوشش نہ کی گئی تو عید الفطر کے موقع پر یہ خلفشار وسیع تر صورت اختیار کر جائے گا اور قوم متفقہ یا کم از کم اکثریتی عید کے ثواب و لطف سے محروم ہو جائے گی۔ اب سے ربع صدی قبل بلکہ اس سے بھی پہلے ہمارے طالب علمی کے دور میں یہ صورتحال عام طور پر پیش آ جاتی تھی کہ چاند کی رؤیت کے مسئلہ پر اختلاف ہو جاتا تھا اور بسا اوقات ایک شہر میں دو دن الگ الگ عید منائی جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۲۰۰۳ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ۔ قائدین توجہ فرمائیں!

رؤیت ہلال کا مسئلہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان کے استعفٰی کے بعد مزید تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک بیان میں مولانا حسن جان نے فرمایا ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے کمیٹی کے دیگر حاضر ارکان کے مشورے اور رائے پر توجہ دینے کی بجائے ذاتی فیصلے پر اڑے رہنے کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے ۲۸ اکتوبر کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان ان کا ذاتی فیصلہ ہے، کمیٹی کا فیصلہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۳ء

عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء