جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ

دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

یہ چند ضروریات بالکل عام سطح کی ہیں جن کا ماحول عملاً موجود ہے اور جن کا تقاضہ ملک بھر میں عام طور پر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اگر ملک کے دستوری تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے مطابق انتظامی و عدالتی نظام کو بھی قومی اور معاشرتی ضرورت سمجھ لیا جائے تو ان ضروریات کا دائرہ بہت پھیل جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف ان معاشرتی دینی ضروریات کو دیکھ لیں اور دوسری طرف ریاستی تعلیمی نظام پر نظر ڈال لیں کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۶ء

قادیانیوں کا ایک مغالطہ

قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت محمد رسول اللہؐ کی پیروی میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مگر یہ بات محض ایک مغالطہ ہے اور میں جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہؐ کے دور میں تین بندوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یمامہ کے مسیلمہ کذاب، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، یمن کے اسود عنسی، جبکہ ایک خاتون سجاح بھی نبوت کی دعوے دار تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۱۶ء

شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت

شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں۔ نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۴ء

حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۴ء

اچھے اور برے لوگوں کی علامات رسول اللہ ﷺ کی نظر میں

امام بخاریؒ نے ’’الادب المفرد‘‘ میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے مسلمانوں کی علامات بیان فرمائی ہیں۔ اسماء بنت یزیدؓ انصاریہ خاتون ہیں، صحابیہ ہیں اور ان کا لقب خطیبۃ الانصار بیان کیا جاتاہے۔ بڑی خطیبہ تھیں اور عوتوں میں وعظ کیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن جناب رسول اللہؐ نے فرمایا ’’اَلا اُخبرکم بخیارکم‘‘ کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۱۲ء

’’عیدِ محکوماں ہجومِ مومنین‘‘

آزاد قوموں کی عید تب ہوتی ہے جب ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ہو۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب ملک کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، قوم خود مختار ہوگی ، دین سر بلند ہوگا، اور ہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید نصیب فرمائیں، ملکی آزادی، قومی خود مختاری اور دین کی سر بلندی کی منزل سے ہمکنار کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اگست ۲۰۱۲ء

درسگاہ نبویؐ کے دو طلبہ

حضرت عبد اللہ درخواستی ؒ فرماتے تھے کہ ’’بڑوں کی موت نے ہم جیسوں کو بھی بڑا بنا دیا‘‘۔ حضرت درخواستیؒ تو کسرِ نفسی کرتے تھے مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارا معاملہ فی الواقع اسی طرح کا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرات شیخینؒ اور ان کے رفقاء کے آباد کردہ اس گلشن کو ہمیشہ آباد رکھیں، ہمیں اس کی آبیاری کرتے رہنے کی توفیق دیں، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں،آمین۔ میں تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر عزیز طلبہ کو برکت کے لیے درسگاہ نبویؐ کے دو طلبہ کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لیے راہ نمائی کا سرچشمہ وہی لوگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ ستمبر ۲۰۱۱ء

کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

آج ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دینی مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اور جن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا ہمارا عملی زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے اور ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ضروریات میں سے وہ کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں؟یہ سوال اٹھانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان مدارس کی تعلیمات کا ہماری عملی زندگی اور اس کی ضروریات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان مدارس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ مدارس قوم کی کوئی مثبت خدمت کرنے کی بجائے غیر ضروری مضامین پر قوم کے ایک بڑے حصے کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۷ء

قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء