حدیث و علومِ حدیث

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۲۱ء

بخاری شریف کو ایک نظام حیات کے طور پر بھی پڑھیں

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۱۵ء

حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۴ء

حدیث کا دین میں مقام و مرتبہ

ہم دینی علوم میں سے کوئی علم بھی حاصل کرنا چاہیں تو اس کےلیے ہمارے پاس سب سے بڑا ذریعہ حدیث نبویؐ ہے، حتیٰ کہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی حدیث نبویؐ ہے۔ اس کی ایک مثال عرض کرنا چاہوں گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات ہیں جو ’’اقراء‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بات معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پہلی پانچ آیات ہیں جن سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا تھا، ہمارے پاس ذریعہ صرف غار حرا کا واقعہ ہے جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۴ء

حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۱۴ء

اچھے اور برے لوگوں کی علامات رسول اللہ ﷺ کی نظر میں

امام بخاریؒ نے ’’الادب المفرد‘‘ میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے مسلمانوں کی علامات بیان فرمائی ہیں۔ اسماء بنت یزیدؓ انصاریہ خاتون ہیں، صحابیہ ہیں اور ان کا لقب خطیبۃ الانصار بیان کیا جاتاہے۔ بڑی خطیبہ تھیں اور عوتوں میں وعظ کیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن جناب رسول اللہؐ نے فرمایا ’’اَلا اُخبرکم بخیارکم‘‘ کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۱۲ء

تمام علوم دینیہ کا سرچشمہ حدیث نبویؐ ہے

دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ اسلامی علوم مقصودہ ہیں جنہیں ’’علوم عالیہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ باقی علوم و فنون مثلاً صرف و نحو، لغت، ادب، معانی اور منطق وغیرہ ان علوم تک رسائی کا ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے علوم عالیہ کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس لیے یہ ’’علوم آلیہ‘‘ کہلاتے ہیں۔ علومِ عالیہ تو وحی اور اس سے استنباط کی بنیاد پر ہر دور میں یکساں رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے، لیکن علومِ آلیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زمانے اور حالات کے مطابق ردوبدل ہوتا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۱۲ء

اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اس کے رسولؐ کی بھی اطاعت کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ دونوں ہمارے مستقلاً مطاع ہیں۔ اس لیے ہم پر جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ نے بھی ہمیں بہت سے احکام دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی

جناب نبی اکرمؐ کے تذکرہ کے سینکڑوں پہلو ہیں اور ہر پہلو کے بیسیوں رخ ہیں، اس لیے سیرت طیبہ پر گفتگو کرنے والوں کو سب سے پہلے اس امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ سیرت مبارکہ کا کون سا پہلو بیان کیا جائے اور کون سا پہلو چھوڑ دیا جائے؟ جبکہ یہ ’’کون سا چھوڑ دیا جائے‘‘ کا پہلو زیادہ آزمائش والا ہوتا ہے کہ حبیبِ خدا کی سیرت کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جسے چھوڑ دینے کا آسانی کے ساتھ فیصلہ کیا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۱ء

علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

حدیث نبوی ؐ کی تین نمایاں حیثیتیں

آج مجھے حدیث نبویؐ کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ حدیث لغوی طور پر گفتگو اور بات چیت کو کہتے ہیں مگر شریعت میں اسے جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے گفتگو کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور حدیث نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور افعال و اعمال کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے ایسے اقوال و اعمال کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو نبی اکرمؐ کے علم و مشاہدہ میں آئے اور آپؐ نے ان پر خاموشی اختیار کر کے ان کی تصویب و توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۰ء

فہم قرآن کے دو صحیح راستے

فہم قرآن کے حوالہ سے بیسیوں پہلو ہیں جن کے بارے میں عرض کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت بھی ہے لیکن آج میں صرف اس ایک پہلو پر گزارش کروں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کسی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یا درس سنتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں ذہن الجھ جائے، مغالطہ لگ جائے، غلط فہمی پیدا ہو جائے، کنفیوژن ہو جائے، کوئی اشکال سامنے آجائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۰ء

بخاری شریف کے امتیازات ۔ حدیث شریف کی طالبات سے ایک خطاب

سب سے پہلے ان طالبات کو جو آج دورۂ حدیث شریف اور بخاری شریف کے سبق کا آغاز کر رہی ہیں اس تعلیمی پیشرفت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں علم حدیث کا ذوق عطا فرمائیں، فہم نصیب کریں، عمل کی توفیق اور خدمت کے مواقع سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ آپ نے اس سے قبل حدیث نبویؐ کی بعض کتابیں پڑھی ہیں اور اس سال بھی بخاری شریف کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں آپ پڑھیں گی لیکن میں آپ کو بخاری شریف کی اہمیت اور اس کی چند خصوصیات و امتیازات کی طرف توجہ دلانا چاہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء

اربعین ولی اللّٰہی کا درس

دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

بخاری شریف کے چند امتیازات

بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

امام بخاریؒ اور بخاری شریف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۱۹۹۸ء