مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ پس منظر، نتائج اور تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۵ء

سوات ہمارے آباء و اجداد کا وطن ہے جہاں سے ہمارے بڑے کسی دور میں نقل مکانی کر کے ہزارہ کے وسطی ضلع مانسہرہ کے مختلف اطراف میں آباد ہوگئے تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا تعارف سواتی قوم کے طور پر ہوتا ہے اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان صاحب زید مجدہم کے نام کے ساتھ سواتی کی نسبت مستقل طور پر شامل رہتی ہے۔ مگر مجھے زندگی میں اس سے قبل کبھی سوات جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالے سے اس خطہ کے حالات کا براہ راست جائزہ لینے کا داعیہ پیدا ہوا تو دو تین روز کے لیے سوات جانے کا پروگرام بن گیا اور ۱۰ دسمبر ہفتہ کی شام سے ۱۲ دسمبر پیر کی عصر تک ضلع سوات کے مختلف مقامات پر حاضری اور سرکردہ حضرات سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔

اس دوران مینگورہ، سیدو شریف، خوازہ خیلہ، مٹہ اور بشام میں احباب کے ساتھ متعدد نشستیں ہوئیں، بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمان، شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل محمد، مولانا قاری عبد الباعث، مولانا محمد زمان، مولانا قاری حبیب احمد، حاجی سلطان یوسف، مولانا احمد اور جناب محمد ابراہیم حقیقت پسند کے علاوہ ہائیکورٹ کے وکیل جناب بشیر محمد ایڈووکیٹ اور سرکاری حکام میں سے ایک ذمہ دار شخصیت کے ساتھ ملاقاتیں بہت سودمند رہیں اور تحریک نفاذ شریعت کے پس منظر اور حالات کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی۔

آج سے ربع صدی قبل تک سوات، دیر اور چترال پاکستان کے اندر مستقل ریاستوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ سوات میں والی، دیر میں نواب اور چترال میں مہتر صاحبان اپنی ریاستوں کے اندرونی نظم و نسق میں خودمختار تھے اور ان کا عدالتی نظام بھی اپنا اپنا تھا۔ سوات کی صورتحال یہ تھی کہ قضاء شرعی کا نظام قائم تھا اور قاضی صاحبان شرعی قوانین کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔ اگرچہ مرور زمانہ کے ساتھ قضا کے اس نظام میں رشوت اور سفارش کے جراثیم سرایت کر آئے تھے اور اس دور کے بہت سے قاضی صاحبان کے بارے میں اچھی روایات سننے میں نہیں آتیں، تاہم لوگوں کو سستا اور فوری انصاف مل جاتا تھا اور مقدمات کے فیصلوں کے لیے زیادہ دیر تک پریشان نہیں رہنا پڑتا تھا۔ بالخصوص قصاص کے مقدمات بروقت نمٹ جاتے تھے اور فریقین زیادہ عرصہ تک کھینچا تانی کے عذاب میں مبتلا رہنے سے بچ جاتے تھے۔ اس کے ساتھ مختلف علاقوں میں والی سوات کے انتظامی نمائندوں کو بھی عدالتی اختیارات حاصل تھے اور وہ علاقائی رواج کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے۔

یہ سسٹم اس وقت تک رہا جب ۱۹۶۹ء میں سوات، دیر اور چترال کی الگ حیثیت ختم کر کے تینوں ریاستوں کو پاکستان میں ضم کر لیا گیا اور دستور پاکستان کے مطابق ملک کے انتظامی اور عدالتی ڈھانچوں کا دائرہ ان ریاستوں تک وسیع کر دیا گیا۔ پاکستان میں ضم ہوجانے کے بعد پاکستان کے انتظامی اور عدالتی ضوابط کا ان علاقوں پر اطلاق ہوا اور تینوں ریاستوں کو الگ الگ ضلع کی حیثیت دے کر وہاں ڈپٹی کمشنر، ایس پی اور سیشن جج مقرر کر دیے گئے۔ اس طرح پاکستان کا عدالتی نظام جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کا ورثہ ہے اور عرف عام میں انگریزی عدالتی نظام کہلاتا ہے سوات، دیر اور چترال کے تین نئے اضلاع پر بھی لاگو ہوگیا۔

غالباً ۱۹۷۵ء میں دیر میں جنگلات کی رائلٹی کے حوالہ سے ایک عوامی تحریک اٹھی جس نے حکومت کے خلاف مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی، اس تحریک کے مطالبات میں سابقہ عدالتی سسٹم کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل تھا جس کے نتیجے میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کے تحت اس خطہ میں ایک نیا عدالتی نظام نافذ کر دیا۔ یہ ریگولیشن مالاکنڈ ڈویژن کی حدود میں نافذ کیا گیا جس میں سوات، دیر اور چترال کے تین اضلاع کے علاوہ مالاکنڈ کا صوبائی حکومت کے زیرانتظام علاقہ بھی شامل ہے۔ اس عدالتی نظام میں فوجداری اور دیوانی دونوں قسم کے مقدمات میں ڈپٹی کمشنر کو کلیدی حیثیت حاصل تھی اور عدالتی افسران کے تقرر اور اپیلوں کی سماعت میں اس کے فیصلے حتمی شمار ہوتے تھے۔ وکلاء صاحبان نے اس عدالتی نظام کو بنیادی حقوق اور آئینی تحفظات کے منافی قرار دیتے ہوئے فاٹا ریگولیشن کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا اور ایک طویل جنگ لڑی جس کے نتیجے میں ہائیکورٹ نے فاٹا ریگولیشن کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جناب آفتاب احمد شیرپاؤ اپنے پہلے دور میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔ ان کی حکومت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے کی بجائے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جس کی وجہ سے ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کا عدالتی سسٹم اس کے بعد بھی بدستور اس علاقہ میں قائم و جاری رہا۔

فاٹا ریگولیشن وکلاء کی طرح علماء اور دینی حلقوں کے لیے بھی قابل قبول نہیں تھا اور وہ بھی اسے ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اپنے دائرہ میں اس کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ مگر فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ پر متفق ہونے کے باوجود اس کے بعد کے عدالتی نظام کے بارے میں دونوں کے اہداف الگ الگ تھے۔ وکلاء یہ چاہتے تھے کہ فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد اس خطہ میں وہی عدالتی نظام رائج ہو جو پاکستان کے دوسرے علاقوں میں آئین کے تحت کام کر رہا ہے۔ جبکہ علماء کرام اور دینی حلقے پاکستان کے عدالتی نظام کو انگریزی عدالتی نظام سمجھتے ہوئے اس کی بجائے خالصتاً شرعی نظام کے نفاذ کے خواہاں تھے۔ چنانچہ فاٹا ریگولیشن کے خلاف خلاف دونوں طبقوں کی جدوجہد جاری رہی تاآنکہ سال رواں کے آغاز میں بارہ فروری کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فاٹا ریگولیشن کو غیر آئینی قرار دینے کے بارے میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی توثیق کر دی اور اس کے ساتھ ہی فاٹا ریگولیشن اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب مالاکنڈ ڈویژن میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ جو اس سے قبل بھی فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ اور شرعی نظام کے نفاذ کے مطالبات کے ساتھ دھیرے دھیرے عوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی تھی، ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے علاقہ کی سب سے بڑی عوامی قوت کی حیثیت اختیار کر لی۔ اس تحریک کے قائد مولانا صوفی محمد ہیں جو عالم دین ہیں، ایک عرصہ تک جماعت اسلامی سے وابستہ رہے ہیں، ڈسٹرکٹ کونسل دیر کے چیئرمین بھی رہے ہیں، مگر گزشتہ سات آٹھ برس سے کسی بھی جماعت سے متعلق نہیں ہیں بلکہ مختلف دینی جماعتوں کے وجود اور ووٹ کی سیاست کو حرام اور نفاذ اسلام کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ضلع دیر کی تحصیل لعل قلعہ میں دارالعلوم میران کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور قدیم وضع کی متصلب دینی شخصیت کے حامل ہیں۔

مولانا صوفی محمد کی زیرقیادت تحریک نفاذ شریعت محمدی کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ سے اس خطہ میں قانونی نظام کا جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پاکستان کے مروجہ عدالتی نظام کے ذریعے نہیں بلکہ خالص شرعی عدالتی نظام کے ذریعے پر کیا جائے اور مالاکنڈ ڈویژن میں مکمل شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ اس مطالبہ پر اس علاقہ کے مسلمان جس طرح دیوانہ وار جمع ہوئے اور اپنا سب کچھ نفاذ شریعت کے ’’جہاد‘‘ کے لیے پیش کر دیا وہ ان غیور مسلمانوں کی دینی غیرت اور شریعت اسلامیہ کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی کا مظہر ہے۔ تحریک نفاذ شریعت محمدی میں مالا کنڈ ڈویژن اور باجوڑ ایجنسی کے عوام نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں ان کی تفصیلات ایک مستقل مضمون کی متقاضی ہیں اور مستقبل قریب میں مالاکنڈ ڈویژن کے دوسرے سفر کے بعد ان شاء اللہ قارئین کو ان سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم اس موقع پر صورتحال کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ تحریک کی طرف سے روڈ بلاک کرنے کے فیصلے پر شدید سردی میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس سے چالیس ہزار افراد مسلسل سات روز تک کھلی سڑک پر بستر ڈالے پڑے رہے، لوگوں نے اپنی جائیدادیں اور عورتوں نے اپنے زیورات بیچ کر نفاذ شریعت کے جہاد میں شرکت کے لیے اسلحہ خریدا۔ اور اس خطہ کے عوام نے تحریک میں شرکت کے لیے بالکل اسی جذبہ اور جوش و خروش کے ساتھ تیاری کی جس طرح کسی دور میں باقاعدہ جہاد میں شریک ہونے کے لیے تیاری کی جاتی تھی۔

تحریک نفاذ شریعت کا موجودہ دور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد شروع ہوا، لوگ سڑکوں پر آئے، روڈ بلاک کیے گئے، بعض مقامات پر سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم بھی ہوا، متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور مئی ۱۹۹۴ء کے دوران صوبائی حکومت نے وعدہ کر لیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ غالباً اس مقصد کے لیے چار ماہ کی مدت بھی متعین کی گئی مگر مدت ختم ہونے کے بعد بھی جب نفاذ شریعت کے کوئی آثار نظر نہ آئے تو لوگ دوبارہ سڑکوں پر آگئے، پھر سڑکیں بند کر دی گئیں، کچھ سرکاری افسران یرغمال بنائے گئے، بعض مقامات پر تصادم میں ایک ایم پی اے سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، ہوائی اڈے سمیت بہت سی سرکاری عمارتوں پر تحریک کے کارکنوں نے قبضہ کر لیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حکومت کو اپنا نظم و نسق بحال کرنے کے لیے فوج طلب کرنا پڑی۔

یہ نازک مرحلہ تھا جب دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے بارے میں یہ تاثر دے رہے تھے کہ اس خطہ کے لوگوں نے شریعت کے نام پر پاکستان کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ اور بعض حلقے اس تاثر کو عام کرنے میں مصروف تھے کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی ایجنسیوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں یہ صورتحال پیدا کی ہے۔ ادھر علاقہ میں حالات کا منظر یہ تھا کہ تحریک کے ہزاروں کارکن مسلح تھے اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ نفاذ شریعت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس کیفیت میں جب امن و امان کی بحالی کے لیے فوج حرکت میں آئی تو سچی بات ہے کہ حساس دل لرزنے لگے اور مضطرب دلوں کے اضطراب میں کئی گنا اضافہ ہوگیا کہ پاکستان کی مسلح فوج اور تحریک نفاذ شریعت کے مسلح کارکن آمنے سامنے ہیں، خدا جانے نتائج کس قدر خوفناک ہوں گے۔ مگر بے ساختہ سلام عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے تحریک نفاذ شریعت کے امیر مولانا صوفی محمد اور مسلح افواج کے علاقائی کمانڈر جنرل فضل غفور کو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صحیح سمت راہنمائی کی اور ان دونوں نے کمال تدبر اور بصیرت کے ساتھ حالات کو اس طرح سنبھال لیا کہ پاکستان آرمی اور ملک کے دینی حلقوں کو آمنے سامنے تصادم کی کیفیت میں دیکھنے کے خواہشمند حلقوں کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔

ہوا یوں کہ مولانا صوفی محمد نے حالات کی نزاکت اور سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے خود کو فوج کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں مگر فوج اور عوام میں تصادم کسی صورت میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تصادم فوجی حکام بھی نہیں چاہتے تھے چنانچہ مولانا صوفی محمد نے فوجی حکام کے ہمراہ تحریک کے مراکز کا دورہ کیا اور جس طرح ممکن ہوا انہیں سمجھا بجھا کر گھروں میں واپس کیا۔ مولانا صوفی محمد ویسے بھی تحریک نفاذ شریعت محمدی میں تشدد کے رجحانات کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ افسران کو یرغمال بنانے اور گولی چلانے کے واقعات ان کی ہدایات اور مرضی کے بغیر ہوئے ہیں اور انہوں نے کھلم کھلا ان واقعات سے براءت اور بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو اسلحہ او رجہاد کی ترغیب ضرور دی ہے لیکن جب تک حکومت پاکستان شریعت اسلامیہ کے وعدہ پر قائم ہے اور اس سے انکار نہیں کر دیتی اس وقت تک ہتھیار اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہتھیار اٹھانا جہاد کہلائے گا۔

الغرض کھلم کھلا تصادم کے خطرات ٹل جانے کے بعد تحریک نفاذ شریعت اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے سلسلہ کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا جو صوبائی سیکرٹری قانون جناب سلیم خان کے ایک تحریری مکتوب کے مطابق یوں ہے:

’’محترم حضرت مولانا صوفی محمد بن الحضرت حسن صاحب

السلام علیکم

آپ کو یاد ہوگا کہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۴ء کو تیمرگرہ کے مقام پر صوبائی چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری اور آپ کے درمیان مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ نظام شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء کے بارہ میں بات چیت ہوئی۔ اس ریگولیشن کے تحت شریعت کی تعریف نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء کے مطابق کی گئی ہے۔ یعنی احکام اسلام قرآن و سنت کے مطابق اور اجماع اور قیاس کی روشنی میں۔ اس کے علاوہ تمام اسلامی قوانین کا اطلاق اس ریگولیشن کے تحت اس علاقہ میں کیا جائے گا۔ مزید کہ اسلامی قوانین پر عملدرآمد اسلامی عدلیہ کے نظام کے تحت کرنے کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں قاضی صاحب کے منصب کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ضلع قاضی کا منصب اس ریگولیشن میں شامل کیا گیا ہے۔

آپ نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ تحصیل قاضی کا کرنا اہم ضرورت ہے اور یہ کہ منصب قاضی پر فائز حضرات اسلامی فقہ پر دسترس رکھتے ہوں۔ حکومت نے غوروخوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ تحصیل قاضی منصب تسلیم کر لیا جائے، جن کے دائرہ اختیار میں دیوانی اور فوجداری دونوں اختیارات ہوں گے، اور یہ کہ اسلامی یونیورسٹی کے سند یافتہ لوگ قاضی کے منصب کے حقدار ہوں گے۔ اس کے لیے تقرری کے قوانین میں مناسب تبدیلی کی جا رہی ہے۔ قاضی صورۃً اور سیرۃً قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ فوری اجرا کے لیے وہی عدالتی افسر قاضی کے منصب پر فائز ہوں گے جنہوں نے تسلیم شدہ شرعی کورس کیا ہوا ہو۔ قاضی کو وہ تمام اختیارات دیے گئے ہیں جن کی رو سے وہ پولیس اور انتظامیہ کو مقدمات اور معاملات کے شرعی فیصلہ کرنے میں اور جزا اور سزا کو عملی طور پر نافذ کرنے میں بروئے کار لا سکیں۔

مالاکنڈ ڈویژن میں قانونی خلا کو پر کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میرا یقین ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کا پاٹا نفاذ نظام شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء کے نئے مسودہ میں ہر وہ عنصر موجود ہے جس کی بنا پر یہ علاقہ امن و امان اور خوشحالی کا گہوارا بن سکتا ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ آپ اسی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں جس کی قوم کو آپ سے توقع ہے اور اس نظام کو عملی جامہ پہنانے میں معاونت فرمائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تجربہ و مشاہدہ کے بعد اگر تغیرات کی ضرورت پڑے گی تو اس کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ یہی نظام، کہ جس کا اہتمام مالاکنڈ ڈویژن میں کیا جائے گا، کوہستان ضلع میں بھی بیک وقت نافذ کیا جائے گا۔ ‘‘

مولانا صوفی محمد امیر تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نام صوبہ سرحد کے سیکرٹری قانون جناب سلیم خان کے اس مکتوب پر ان دونوں حضرات کے علاوہ صوبائی سیکرٹری داخلہ جناب ایوب خان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اور یہ مکتوب ۲۶ نومبر ۱۹۹۴ء کا تحریر کردہ ہے۔ اس کے چار روز بعد یکم دسمبر ۱۹۹۴ء کو گورنر سرحد نے مندرجہ ذیل ریگولیشن جاری کیا۔


مالاکنڈ ڈویژن نفاذ شریعت ریگولیشن ۱۹۹۴ء


پشاور (نمائندہ خصوصی) حکومت صوبہ سرحد نے مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت ریگولیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت ۲۲ قوانین مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کر دیے گئے ہیں جن میں ۱۴ جنرل ضیاء الحق مرحوم دور کے مرتب کردہ قوانین ہیں، ۶ نواز شریف دور میں تشکیل پا گئے تھے۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق گورنر سرحد میجر جنرل (ریٹائرڈ) خورشید علی خان کے جاری کردہ ریگولیشن میں کہا گیا ہے کہ

نمبر ۱

  1. یہ ریگولیشن صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات (نفاذ شریعت) ریگولیشن ۱۹۹۴ء کہلائے گا۔
  2. یہ چترال، دیر، سوات (جس میں کالام شامل ہے)، بونیر اور مالاکنڈ محفوظ علاقہ پر مشتمل مالاکنڈ ڈویژن کے صوبائی انتظام کے تحت تمام قبائلی علاقہ جات پر وسعت پذیر ہوگا۔
  3. یہ فورًا نافذ العمل ہوگا۔

نمبر ۲

اس ریگولیشن میں، تاوقتیکہ سیاق و سباق عبارت سے کچھ اور مطلب نہ نکلتا ہو، مندرجہ ذیل الفاظ کے معنی وہی لیے جائیں گے جو بذریعہ ہذا ان کے لیے بالترتیب مقرر کیے گئے ہیں، یعنی:

(ا) عدالت سے مراد مالاکنڈ ڈویژن میں فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت قائم کردہ مجاز اختیار سماعت کی قانونی عدالت ہے۔

(ب) حکومت سے مراد حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ۔

(ج) عدالتی افسر سے مراد ہے کسی عدالت کی صدارت کے لیے باضابطہ طور پر متعین اور:

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلعی قاضی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اضافی ضلع قاضی
سینئر سول جج اعلیٰ علاقہ قاضی
دیوانی سول جج علاقہ قاضی
دیوانی اور مجسٹریٹ علاقہ قاضی فوجداری

(د) معاونین قاضی سے مراد وہ اشخاص جن کا نام دفعہ ۶ کے تحت عدالت کی مرتبہ معاونین قاضی کی رواں فہرست میں درج ہوں۔

(ہ) مقررہ سے مراد ہے اس ریگولیشن کے تحت بنائے گئے قواعد سے مقرر کردہ۔

(و) جدول سے مراد ہے اس ریگولیشن سے منسلک کوئی جدول۔

(ح) شریعت سے مراد ہے قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام۔

نمبر ۳: مالاکنڈ ڈویژن میں بعض قوانین کا اطلاق

  1. جدول کے خانہ ۲ میں مصرحہ قوانین، اسی شکل میں جیسے کہ اس ریگولیشن کے آغاز نفاذ سے فوری پیشتر شمال مغربی سرحدی صوبہ میں نافذ العمل ہیں، اور ممکنہ حد تک تمام قواعد نوٹیفیکیشن اور احکام جو ان کے تحت بنائے یا جاری کیے گئے ہوں، مذکورہ علاقہ میں نافذ العمل ہوں گے۔
  2. مذکورہ علاقہ میں نافذ العمل تمام قوانین، بشمول ذیلی دفعہ (۱) میں ذکر کردہ قوانین کا اطلاق (۲) مستثنیات اور ترمیمات کے تابع ہوگا جس کی وضاحت اس ریگولیشن میں کی گئی ہے۔

نمبر ۴: بعض قوانین کی موقوفی کار

اگر اس ریگولیشن کے آغاز نفاذ سے فوری پیشتر مذکورہ علاقہ میں کوئی ایسی دستاویز نافذ العمل تھی یا رواج یا معمول نافذ العمل تھا جسے قانون کا درجہ حاصل تھا، اور جو اس ریگولیشن کے ذریعہ مذکورہ علاقہ میں نافذ کیے جانے والے کسی قانون کے امور کے مماثل پائے جائیں، تو اس آغاز نفاذ کے ساتھ ہی وہ قانونی دستاویز، رواج یا معمول مذکورہ علاقہ میں بے اثر ہو کر موقوف ہو جائے گا۔

نمبر ۵: عدالت ہا، عدالتی افسران اور ان کے اختیارات و کارہائے منصبی

  1. قوانین پر عملدرآمد کے لیے مذکورہ علاقہ میں عدالتوں کے عدالتی افسران ان عہدوں سے موسوم ہوں گے جو جدول دوئم کے خانہ ۳ میں مصرحہ ہیں۔
  2. فوجداری یا دیوانی مقدمات کی کارروائی اور کارکردگی سے متعلق وہ تمام اختیارات، کارہائے منصبی اور فرائض جو کسی فی الوقت نافذ العمل قانون کے تحت شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عدالتی افسران کو عطا کردہ، منتقل کردہ یا عائد کردہ ہیں، اوپر مذکور طور پر عہدوں سے موسوم عدالتی افسران استعمال کریں گے، سرانجام دیں گے اور بجا لائیں گے۔

نمبر ۶

  1. حکومت سرکاری گرانٹ میں اعلان کے ذریعے ان مقدمات کی درجہ بندی کرے گی جن میں عدالت ایک یا زیادہ معاونین قاضی کو عدالت کی مدد کے لیے اپنے ساتھ شریک کار کرنے کے لیے کہہ سکے گی۔
  2. ذیلی دفعہ (۱) کے مقصد کے لیے حکومت وقتاً فوقتاً ہر ضلع یا علاقہ کے لیے تیس کی حد تک ایسے اشخاص کی فہرست مرتب کرے گی جو دیانتداری کی شہرت رکھتے ہوں اور اچھے کردار کے مالک ہوں جو معاونین قاضی جانے جائیں گے۔

نمبر ۷: مصلح مقرر کرنے کا اختیار

جہاں اس ریگولیشن کے تحت قابل سماعت تنازعہ کے فریقین رضامند ہوں، تو عدالت اس کو شریعت کے مطابق تصفیہ کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے مقرر کردہ ایک یا زیادہ مصلحین کے حوالے کر سکے گی۔

نمبر ۸: عدالتی افسران کا طریق عمل

  1. جدول دوئم میں مصرحہ عدالتی افسران کا طریق عمل اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔
  2. حکومت وقتاً فوقتاً ذیلی دفعہ (۱) کے مقاصد کے لیے ایسی تدابیر اختیار کرے گی جو وہ ضروری تصور کرے گی۔

نمبر ۹: عدالت اور اس کے دستاویزات کی زبان

عدالت کے تمام حکمنامہ جات اور کارروائی بشمول عرضی دعویٰ و جواب دعویٰ، شہادت، حکم، بحث و فیصلہ اردو میں درج کیے اور زیرعمل لائے جائیں گے۔

نمبر ۱۰: قواعد بنانے کا اختیار

حکومت اس ریگولیشن کے مقاصد کے حصول کے لیے قواعد وضع کر سکے گی۔

نمبر ۱۱: تنسیخ

  1. صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات فوجداری قانون (خاص امور)، ریگولیشن ۱۹۷۵ء (شمالی مغربی سرحدی صوبہ ۱۹۷۵ء کا ریگولیشن اول) اور صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات دیوانی طریقہ کار (خاص امور)، ریگولیشن ۱۹۷۵ء (شمال مغربی سرحدی صوبہ ۱۹۷۵ء کا ریگولیشن دوئم)، لہٰذا منسوخ کیے جاتے ہیں۔
  2. اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (۱) کے تحت منسوخی یا دفعہ (۴) کے تحت کسی قانون، کسی قانونی دستاویز، رواج یا معمول کی موقوفی کے باوجود تنسیخ یا موقوفی جیسی بھی صورت ہو۔
    1. کسی ایسی چیز کا احیا نہیں کرے گی جو اس وقت نافذ العمل یا موجود ہو جب تنسیخ یا موقوفی عمل میں آئے۔
    2. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے سابقہ عمل یا ان کے تحت باضابطہ کیے ہوئے فعل یا برداشت کردہ نقصان کو متاثر نہیں کرے گی۔
    3. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے تحت حاصل شدہ کسی حق، پیدا شدہ کسی استحقاق یا عائد شدہ کسی وجوب یا ذمہ داری کو متاثر نہیں کرے گی۔
    4. قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کی بنا پر عائد شدہ کسی تاوان، ضبطی یا سزا کو متاثر نہیں کرے گی۔
    5. کسی حق، استحقاق، وجوب، ذمہ داری، تاوان، ضبطی یا سزا کی بابت تفتیش، قانونی کارروائی یا چارہ جوئی شروع کی جا سکے گی، جاری رکھی جا سکے گی یا نافذ کی جا سکے گی۔ اور کوئی ایسا تاوان، ضبطی یا سزا اس طرح عائد کی جا سکے گی گویا قانون، قانونی دستاویز، رواج یا معمول منسوخ نہیں ہوگیا تھا، یا جیسی صورت ہو، موقوفی سے بے اثر نہیں ہوگیا تھا۔

جدول اول: بحوالہ تمہید، دفعہ ۲ (د) اور ۳ (۱) / اسمائے قوانین:

مغربی پاکستان تاریخی مساجد و زیارت گاہ سرہ بہ محبوب آرڈیننس ۱۹۶۰ء (مغربی پاکستان ۱۹۳۰ء کا آرڈیننس پنجم)۔ (الف):

  1. مغربی پاکستان عائلی عدالت ہائے ایکٹ ۱۹۶۴ء (مغربی پاکستان ایکٹ سہ دہ و پنجم)
  2. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۷۶ء (۱۹۷۶ء کا پانزنودھم)
  3. شمال مغربی سرحدی صوبہ انسداد قمار بازی آرڈیننس ۱۹۷۸ء (شمال مغربی سرحد صوبہ ۱۹۷۸ء کا آرڈیننس)
  4. مجموعہ طریقہ کار دیوانی (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس دہم)
  5. جرائم برخلاف جائیداد (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء نودھم)
  6. جرم زنا (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس بیستم)
  7. جرم قذف (نفاذ حد) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس بیست و یکم)
  8. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۰ء (۱۹۸۰ء کا آرڈیننس شش دہ و سوئم)
  9. احترام رمضان آرڈیننس ۱۹۸۱ء (۱۹۸۱ء کا آرڈیننس کا بیست و سوئم)
  10. وفاقی قوانین (نظر ثانی و تصدیق نامہ) آرڈیننس ۱۹۸۱ء (۱۹۸۱ء کا آرڈیننس بیست ہشتم)۔ تا حد صرف دوئم اور دفعہ ۱، ۳ اور اس کے جدول دوئم کے نکتہ ۱۵)
  11. جرائم خلاف جائیداد (نفاذ حدود) (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۲ء (۱۹۸۲ء کا آرڈیننس دوئم)
  12. زکاۃ و عشر (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس ہفتم)
  13. زکاۃ و عشر (دوسری ترمیم) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس دہم)
  14. زکاۃ و عشر (تیسری ترمیم) آرڈیننس ۱۹۸۳ء (۱۹۸۳ء کا آرڈیننس بیست و ششم)
  15. قادیانی گروہ کے لاہوری گروہ اور احمدیوں کے خلاف اسلام (انسداد و سزا) آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا آرڈیننس بیستم)
  16. زکاۃ و عشر (ترمیمی) آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا آرڈیننس چہار دہ و پنجم)
  17. شمال مغربی سرحدی صوبہ (نفاذ مخصوص امور قانون کے) ایکٹ ۱۹۸۹ء (۱۹۸۹ء کا ایکٹ دوئم)
  18. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۸۹ء (۱۹۸۹ء کا چہارم)
  19. زکاۃ و عشر (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۹۱ء (۱۹۹۱ء کا بیست و سوئم)
  20. نفاذ شریعہ ایکٹ ۱۹۹۱ء (۱۹۹۱ء کا دہم)
  21. پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۲ء (۱۹۹۲ء کا یکم)
  22. مجموعہ طریق کار دیوانی (ترمیمی) ایکٹ ۱۹۹۲ء (۱۹۹۲ء کا چہارم)

جدول دوئم: بحوالہ دفعات ۲ (ج)، ۵ (۱)، و ۸ (۱): ترتیبی عدد

مالاکنڈ ڈویژن کے پاٹا کے علاوہ شمال مغربی سرحدی صوبہ میں عدالتی افسران کا عہدہ مالاکنڈ کے پاٹا میں عدالتی افسران کا عہدہ
۱ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / ضلع قاضی
۲ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / اضافی ضلع قاضی
۳ سینئر سول جج سول جج / علاقہ قاضی دیوانی
۴ سول جج سول جج / علاقہ قاضی دیوانی
۵ مجسٹریٹ مجسٹریٹ / علاقہ قاضی فوجداری

(بشکریہ روزنامہ نوائے وقت، راولپنڈی ۔ ۲ دسمبر ۱۹۹۴ء)

گورنر سرحد کے جاری کردہ اس ریگولیشن کا دائرہ کار مالاکنڈ ڈویژن تک محدود ہے مگر روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ دسمبر ۱۹۹۴ء میں شائع شدہ کمشنر ہزارہ ڈویژن مسٹر ندیم منظور کی پریس کانفرنس کے مطابق ہزارہ کے ضلع کوہستان کو بھی اس ریگولیشن کے دائرہ میں شامل کر لیا گیا ہے اور وہاں اس کے مطابق اقدامات شروع ہوگئے ہیں۔

تحریک نفاذ شریعت کے مطالبات، عوام کی بے پناہ قربانیوں اور صوبہ سرحد کے سیکرٹری قانون کی تحریری یقین دہانی کے بعد گورنر سرحد کے جاری کردہ ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ کا ایک بار پر مطالعہ کیجئے اور داد دیجئے بیوروکریسی کی اس چابکدستی پر کہ کس کمال ہوشیاری اور عیاری کے ساتھ نفاذ شریعت کے بنیادی تقاضوں کو گول کرتے ہوئے پاکستان کے دوسرے حصوں میں کار فرما وہی عدالتی سسٹم مالاکنڈ ڈویژن میں بھی نافذ کر دیا ہے جس کے نفاذ کے لیے کسی قسم کی جدوجہد کی ضرورت نہ تھی اور ’’فاٹا ریگولیشن‘‘ کے خاتمہ سے پیدا ہونے والے خلاء بالآخر اسی عدالتی سسٹم کے ذریعے پر ہونا تھا۔

یہ سسٹم تحریک نفاذ شریعت کا تقاضا نہیں تھا بلکہ تحریک تو دراصل اس سسٹم کو روکنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ مگر خدا سمجھے اس بیوروکریسی سے کہ جس عدالتی سسٹم کے نفاذ کو روکنے کے لیے تحریک نفاذ شریعت کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر آئے اور جان و مال کی بے پناہ قربانی دی گئی، وہی عدالتی سسٹم ’’نفاذ شریعت ریگولیشن‘‘ کے نام پر نافذ کر کے ان لوگوں پر احسان جتلایا جا رہا ہے کہ دیکھو ہم نے تمہارا مطالبہ پورا کر دیا ہے، ممکن ہے کچھ دوست اس ریگولیشن کی پیچیدہ زبان کو نہ سمجھ پائیں اس لیے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

  • وہی عدالتی سسٹم جو پاکستان میں رائج ہے، وہ مالا کنڈ ڈویژن میں بھی اس ریگولیشن کے ذریعہ نافذ ہوگیا ہے البتہ اس سسٹم میں سیشن جج کو ضلع قاضی، سول جج کو علاقہ قاضی، دیوانی اور مجسٹریٹ کو علاقہ قاضی فوجداری کہا جائے گا۔
  • جو قوانین جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور میاں محمد نواز شریف کے دور میں پاکستان میں اسلامائزیشن کے حوالہ سے نافذ ہوئے تھے وہ اس علاقہ میں بھی نافذ ہوگئے ہیں۔
  • عائلی قوانین جو اس خطہ میں پہلے رائج نہ تھے اب اس ریگولیشن کے ذریعے نافذ ہوگئے ہیں۔
  • قاضی صاحبان کے ساتھ معاون قاضی کے طور پر ہر علاقہ میں تیس تک افراد کی فہرست مرتب ہوگی جن کی اہلیت کا معیار یہ ہوگا کہ دیانت داری کی شہرت رکھتے ہوں اور اچھے کردار کے حامل ہوں اور ان کا کام یہ ہوگا کہ قاضی صاحبان (یعنی جج صاحبان) کسی مقدمہ میں ضرورت محسوس کریں تو ان میں سے کسی کو اپنی معاونت کے لیے طلب کر سکیں گے۔ اور اگر کسی مقدمہ کے دونوں فریق باہمی رضامندی سے اپنے مقدمہ کا تصفیہ شریعت کے مطابق چاہیں تو متعلقہ جج اس کیس کو ان میں سے کسی کے حوالہ بطور ’’مصلحین‘‘ کر سکے گا۔

اس ریگولیشن کو اگرچہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء نے قبول نہیں کیا مگر عملاً یہ ریگولیشن نافذ ہو چکا ہے اور تحریک نفاذ شریعت کے راہنماؤں کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ کا سلسلہ جاری ہے جس کا پلڑا ہمیشہ بیوروکریسی کے حق میں رہتا ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت اپنے طور پر اس ریگولیشن کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں ’’شریعت‘‘ نافذ کر کے سرخرو ہو چکی ہے اور اس کے بعد اس سے کسی مزید پیش رفت کی توقع فضول ہے۔

اس مرحلہ میں تحریک نفاذ شریعت کے حوالہ سے تین چار اہم باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں:

  1. ایک یہ کہ میں نے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کی ہے کہ تحریک کے راہنماؤں کی اکثریت دین اور دینی علم میں پختہ کار ہونے کے باوجود قانون، ڈپلومیسی اور آئین کی وہ زبان نہیں سمجھتی جس زبان میں حکومت کے ساتھ معاملات طے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی اپنی چالوں میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ میرے لیے یہ بات انتہائی پریشان کن تھی کہ ۱۰ دسمبر سے ۱۲ دسمبر تک میری ملاقات تحریک نفاذ شریعت کی مجلس شوریٰ کے چار ذمہ دار حضرات سے ہوئی مگر ان میں سے کسی نے یکم دسمبر کو نافذ ہونے والے نفاذ شریعت ریگولیشن کا اس وقت تک مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ ان کے بقول یہ ریگولیشن شوریٰ کے اجلاس میں بھی نہیں پڑھا گیا تھا۔ یہ صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ تحریک کے لیڈروں ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کے ان علماء سے رابطہ کرتے جو آئین و قانون اور ڈپلومیسی کی زبان کو سمجھتے ہیں اور صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت ان علماء سے راہنمائی حاصل کی جاتی۔
  2. دوسری بات یہ کہ وکلاء اور قانون دان طبقے کو مکمل طور پر اس مہم سے لاتعلق رکھنا بھی تحریک کے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی اس تحریک کو طبقاتی کشمکش میں تبدیل کر دینا حکمت و دانش کا تقاضا ہے۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے اور شرعی عدالتی نظام کے حق میں ہے۔ ان سے رابطہ کرنا، انہیں تحریک میں شریک کرنا اور قانونی معاملات میں ان کی مشاورت اور راہنمائی سے استفادہ کرنا تحریک نفاذ شریعت کے ناگزیر تقاضوں میں سے ہے۔
  3. تیسری بات یہ ہے کہ تحریک کے دوران جزوی اور ضمنی باتوں پر اس قدر زور دینا کہ وہ تحریک کے ماٹو اور عنوان کے طور پر متعارف ہو جائیں، فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ مثلاً تحریک کے دوران اس بات پر اس قدر زور دیا گیا کہ تحریک کے ایک کارکن نے میرے سامنے فخر کے ساتھ ذکر کیا کہ اس نے مینگورہ میں پورا ایک دن گاڑی دائیں ہاتھ چلا کر انگریزی قانون کو پامال کیا۔ یہ کوئی ضروری بات نہیں ہے، اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے تو بھی بہت جزوی اور ضمنی درجہ کی ہے۔ اس قسم کی باتوں کو تحریک کا عنوان بنا دینا تحریک کے لیے بدنامی کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی طرح ڈاڑھی کا ذکر بھی بار بار ہوتا ہے۔ ڈاڑھی سنت نبویؐ ہے جس کی اتباع اور احترام ہر مسلمان پر ضروری ہے، لیکن اسے بے احترامی سے بچانا اور استہزاء کا ہدف بننے سے روکنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ابھی چند روز قبل خبر آئی کہ تحریک نفاذ شریعت کے راہنماؤں کے تقاضے پر صوبائی حکومت ڈاڑھی والے افسران تلاش کر رہی ہے تاکہ انہیں مالاکنڈ ڈویژن میں تعینات کر سکے۔ ہمارے نزدیک یہ سنت رسولؐ کو مذاق کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے کہ انتظامی اور عدالتی سسٹم تو وہی نوآبادیاتی رہے مگر کرسیوں پر ڈاڑھی والے افسران کو بٹھا دیا جائے تاکہ سارے سسٹم کی گندگی ان کی ڈاڑھیوں کے مقدس پردے میں چھپی رہے۔
  4. چوتھے نمبر پر تحریک کے قائدین کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں عالم اسلام کی دینی تحریکات پر لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ مغربی جمہوریت اور کمیونزم کی ناکامی کے بعد دنیا ایک نئے نظام کی تلاش میں ہے اور عقل سلیم انسانی فہم و دانش کو فطری طور پر اسلام کا عادلانہ نظام کی طرف متوجہ کر رہی ہے جس کی دعوت لے کر عالم اسلام کی دینی تحریکات اس وقت سامنے آرہی ہیں۔ اس مرحلہ پر اسلام دشمن لابیوں اور مغربی قوتوں کا پورا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ عالم اسلام کی دینی تحریکات کی کوئی اچھی تصویر دنیا کے سامنے نہ آنے پائے بلکہ انہیں انسانی حقوق و اخلاق کے تصور سے عاری، تشدد پسند، طبقاتی بالادستی کے خواہاں اورا نسانی حقوق کے دشمن کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ تاکہ انسانی معاشرہ ان لوگوں کے بارے میں کوئی مثبت سوچ اختیار نہ کر سکے۔

    اس تاثر سے خود کو بچانا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء راشدینؓ کی سنت ہمارے لیے کافی ہے۔ اگر ہم دور نبویؐ اور دور خلافت راشدہؓ میں لوگوں کو حاصل معاشرتی، سیاسی، عدالتی اور معاشی حقوق کا صحیح نقشہ اجاگر کر کے دنیا کو اس کی طرف دعوت دینے میں کامیاب ہو جائیں تو آنے والا دور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اسلام کے غلبہ و نفاذ کا دور ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے علم، دانش، تدبر اور حوصلہ کی ضرورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔