ٹویٹس

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دارالعلوم زبیریہ دیر کالونی پشاور میں مولانا رحیم اللہ حقانی کے درس مشکوٰۃ کے دوران بم دھماکہ بدترین دہشت گردی ہے، اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ پس پردہ اس قسم کی مذموم حرکتیں کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں، ان کو بے نقاب کر کے قانون کی زد میں لانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائیں، اور ان بدترین دشمنوں کی حرکات سے ملک و قوم کی حفاظت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۶ اکتوبر ۲۰۲۰ء

متحدہ اپوزیشن نے تو کوئٹہ کے عظیم الشان جلسہ میں مولانا فضل الرحمان کی قرارداد کی صورت میں فرانس کے افسوسناک گستاخانہ طرزعمل پر قوم کے جذبات کی ترجمانی کر دی ہے، مگر حکومت کا کام بیان دینا نہیں عملی اقدامات کرنا ہے، جس کا نہ صرف پاکستانی قوم کو بلکہ پورے عالم اسلام کو شدت سے انتظار ہے۔

۲۵ اکتوبر ۲۰۲۰ء

ترک صدر جناب رجب اردوان نے فرانسیسی صدر کے بارے میں جو بات کہی وہ مغرب کو برداشت نہیں ہوئی، مگر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں سے تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مغرب جو کچھ کہتا پھرے اسے اس کا حق سمجھ کر نہ صرف برداشت کیا جائے بلکہ اس کی ہاں میں ہاں بھی ملائی جائے۔ یہ مغربی فکر و دانش کا ’’نقطۂ عروج‘‘ ہے۔ فیا للعجب و یا للاسف۔

۲۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دستور و قانون کی بالادستی اور عملداری کی بات سب ہی کرتے ہیں مگر اپنی اپنی تعبیر و تشریح کے دائرے میں اور گروہی ترجیحات و صوابدید کے ساتھ۔ جب تک ان خود ساختہ دائروں سے دستبردار ہو کر دستور کی اصل اساس قرآن و سنت کی حاکمیت عملاً تسلیم نہیں کریں گے دستور و قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی۔

۲۳ اکتوبر ۲۰۲۰ء

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا جس پہلو سے بھی تذکرہ کیا جائے باعثِ برکت و سعادت ہے۔ مگر انسانی معاشرے کی ضروریات و مشکلات کو سامنے رکھ کر سیرتِ مبارکہ سے راہنمائی حاصل کرنا اور شخصی، خاندانی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنا ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے جس پر خاص توجہ درکار ہے۔

۲۳ اکتوبر ۲۰۲۰ء

افغان راہنما انجینئر حکمت یار صاحب کا یہ کہنا سنجیدہ توجہ کا طالب ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے موجودہ حکومت کو مستعفی ہونا چاہیے اور یکطرفہ بمباری جاری رکھتے ہوئے صرف طالبان سے جنگ بندی کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔

تمام متعلقہ اداروں اور حلقوں کو اس پر غور کرنا چاہیے اور کوئی یکطرفہ امن فارمولا افغانستان پر مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

۲۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

میرے نزدیک فکرِ اقبالؒ کا اصل المیہ یہی ہے اور اس کا حل آج بھی یہی ہے کہ اقبالؒ اور انور شاہؒ مل کر بیٹھیں اور قدیم اور جدید ایک دوسرے کی نفی کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا وجود اور ضرورت تسلیم کرتے ہوئے باہمی مشاورت اور اشتراک کے ساتھ امت مسلمہ کی علمی و فکری راہ نمائی کریں۔ اقبالؒ کے تصورِ اجتہاد کے سب پہلوؤں سے اتفاق نہ ہونے کے باوجود میں اسے ایک ایجنڈا تصور کرتے ہوئے اس پر علمی و تحقیقی کام کو آج کی ایک اہم ضرورت سمجھتا ہوں اور امت مسلمہ کی صحیح سمت راہ نمائی کے لیے قدیم و جدید کے متوازن امتزاج کو وقت کا ایک ناگزیر تقاضا تصور کرتا ہوں۔ (روزنامہ پاکستان، لاہور ۔ ۹ دسمبر ۲۰۱۲ء)

۲۰ اکتوبر ۲۰۲۰ء

یہ آٹھ دس سال جو آپ کو پڑھنے کے لیے ملے ہیں ان کو غنیمت سمجھیں اور پڑھائی کے علاوہ اور کاموں کی طرف دھیان نہ دیں۔ باقی کاموں کے لیے ساری زندگی پڑی ہے، یہ دور آپ کا تعلم کا دور ہے، سیکھنے کا دور ہے، تربیت کا دور ہے اور تیاری کا دور ہے۔ ان اوقات کو انہی کاموں میں صرف کریں اور یاد رکھیں کہ اس دوران اگر کوئی کمی رہ گئی تو وہ ساری زندگی اسی طرح رہے گی، نہ اس کمی کو دور کرنے کا موقع ملے گا اور نہ ہی اس کے لیے آپ کے پاس فرصت ہو گی۔

میں اپنا ذاتی تجربہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے بحمد اللہ تعالیٰ آٹھ دس سال مدرسہ کے ماحول میں گزارے ہیں، اس دور میں وفاق کی درجہ بندی ہمارے ہاں نہیں ہوتی تھی اور کتابوں کی ترتیب سے ہی پڑھا جاتا تھا۔ میں کسی جھجھک کے بغیر آپ سے عرض کرتا ہوں کہ جن فنون میں دورانِ تعلیم کمزوری رہ گئی ہے بخدا چالیس سالہ تدریسی دور میں بھی اسے ختم نہیں کر سکا۔ نہ مصروفیات میں سے اس کے لیے وقت نکل سکا ہے اور نہ ہی اس کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اس لیے طلبہ سے عرض ہے کہ اس تعلیمی دورانیہ کو پوری توجہ اور ہمت و صبر کے ساتھ تعلیمی محنت میں صرف کریں تاکہ صحیح ’’مُلا‘‘ بن کر دین و قوم کی صحیح خدمت کر سکیں،۔ (دارالعلوم مدنیہ، ماڈل ٹاؤن، بہاولپور ۔ ۹ جنوری ۲۰۱۱ء)

۱۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

ربیع الاول کے آغاز کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ مبارکہ کا سلسلہ زیادہ اہتمام کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ذکر مبارک باعثِ برکت و رحمت ہونے کے ساتھ ساتھ راہنمائی کے لیے ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو زیادہ سے زیادہ برکتیں سمیٹنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

پارلیمنٹ کے منظور کردہ وقف املاک قانون کو دینی جماعتیں اور مدارس کے وفاق جس ہلکے پھلکے انداز میں لے رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ اس کا پوری طرح ادراک نہیں کر پائے یا پھر ذہنی طور پر ۱۸۵۷ء کے بعد والی صورتحال کو ایک بار پھر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ’’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘

۱۶ اکتوبر ۲۰۲۰ء

روزنامہ اسلام لاہور سے ۱۷ ستمبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں نوجوان مسلمان راہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مہارت اور ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مغربی ترقی تک پہنچنا ہوگا تاکہ انہیں اسلام کی تضحیک اور تمسخر اڑانے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مذہب کے علاوہ سائنس کی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہیے، ہمیں جدید ہتھیاروں، ٹینکوں، جنگی بحری جہازوں، جنگی طیاروں اور راکٹوں کی ضرورت ہے، ان ہتھیاروں سے دشمن کے دلوں میں خوف پیدا ہو سکتا ہے اور ہمارا دفاع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے دلوں میں دھاک بٹھانا قرآن کریم کا حکم ہے اگر وہ مضبوط بن جائیں تو دشمن ان پر حملہ نہیں کریں گے لیکن اس وقت مسلمان مضبوط نہیں ہیں اسی وجہ سے ان میں مایوسی اور غصہ ہے اور وہ دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہیں۔

جہاں تک مہاتیر محمد کے مذکورہ خیالات کا تعلق ہے وہ ہر مسلمان کے دل کی آواز ہیں اور ہمارے خیال میں موصوف اس وقت دنیا کے واحد مسلم حکمران ہیں جو انتہائی جرأت اور حوصلہ کے ساتھ مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں اور مختلف مواقع پر انہوں نے سنگین خطرات مول لے کر ہی ملت اسلامیہ کے مفادات کی جرأتمندانہ نمائندگی کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا کے باقی مسلم حکمران ان کی خیال انگیز باتوں کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور ملت اسلامیہ کے مفادات و جذبات کی ترجمانی کرنے کی بجائے عالم اسلام میں مغربی مفادات کے ترجمان و محافظ بنے ہوئے ہیں۔

مہاتیر محمد ملائیشیا میں طویل عرصہ حکمران رہنے کے بعد چند ہفتوں تک ریٹائر ہو رہے ہیں اور اقتدار کے آخری ایام میں مسلمانوں کے مختلف طبقات کے اجتماعات منعقد کر کے انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات ان کے درد دل اور خلوص کی ترجمانی کرتی ہے اس لیے عالم اسلام کے تمام طبقات بالخصوص مسلم حکمرانوں کو ان کی باتوں کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ کرنی چاہیے۔

(ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ ۔ اکتوبر ۲۰۰۳ء)

۱۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کا یہ بیان خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ مقدس شخصیات کے ناموس کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ وقف املاک قانون کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دینی حلقوں، علمی مراکز اور اصحابِ فکر و دانش سے گزارش ہے کہ وہ ان دونوں معاملات میں سنجیدگی کے ساتھ اپنی آرا اور تجاویز پیش کریں اور اجتماعی موقف کا اہتمام کریں، یہ وقت کا اہم ترین ملی تقاضا ہے۔

۱۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء

آج گوجرانوالہ میں ’’عظمتِ صحابہؓ و اہل بیتؓ کانفرنس‘‘ کی بھرپور کامیابی پر تمام دوستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لانے کے بعد کانفرنس کے تمام شرکاء، منتظمین، معزز مہمانان گرامی، کارکنان اور معاونین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان سب کے تعاون سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر صاحب کے تعاون پر ان کا بھی شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں اور کانفرنس کے مقاصد میں بھی کامیابی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی شہادت کی المناک خبر پورے ملک کے اہل دین کے لیے صدمہ و رنج کا باعث ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہماری دینی قیادت کا ابھرتا ہوا روشن ستارہ تھے جن سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، اللہ تعالٰی ان کے درجات جنت میں بلند فرمائیں، آمین۔

۱۰ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دنیا کے ہر ملک میں کسی بھی شہری کی ہتکِ عزت کو قانونًا جرم قرار دیا گیا ہے، مگر اسی حق کا عالمی سطح پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور قومی ماحول میں صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے مطالبہ کیا جائے تو انسانی حقوق کے علمبرداروں کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟

۹ اکتوبر ۲۰۲۰ء

اپوزیشن کے متحدہ محاذ کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے سپرد ہونے پر امریکی حکمرانوں کی طرف سے تحفظات کے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادتیں بھی اپنی مرضی کی مسلط کرنا چاہتا ہے، جو ہماری مسلسل فدویانہ پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے، اس کا جائزہ اب لینا ہی ہو گا۔

۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دنیا میں اس وقت اصل حکمرانی اقوام متحدہ کی چھتری تلے بین الاقوامی معاہدات کے عنوان سے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ملکوں کی ہے، ان کی مرضی کے خلاف کوئی ملک آزادی کے ساتھ کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس حقیقت کو سمجھے بغیر آزادی کی کوئی محنت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

۷ اکتوبر ۲۰۲۰ء

برطانیہ کے معروف نومسلم دانشور ڈاکٹر یحییٰ برٹ نے ایک موقع پر لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی زبان میں بات کرنا ہو گی جو روایت، درایت اور وجدانیات کے متوازن امتزاج سے عبارت ہے۔

۶ اکتوبر ۲۰۲۰ء

ملک میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر شہری، ہر طبقہ اور ہر ادارے کو دستور کے مطابق اپنی حدود، دائرہ کار اور فرائض کا ادراک حاصل کر کے خود کو اس کا پابند بنانا ہو گا۔ دوسروں کو پابند اور خود کو مستثنٰی رکھنے کی عمومی روش ہمارے مسائل کی اصل وجہ ہے، اس کو تبدیل کیے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔

۵ اکتوبر ۲۰۲۰ء

عسکری قیادت نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ میاں نواز شریف صاحب کا کہنا ہے کہ ان کا مقابلہ وزیر اعظم سے نہیں، انہیں لانے والوں سے ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن کا معاملہ فوج کے ساتھ ہے۔ میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وزیر اعظم کس کی تائید فرما رہے ہیں؟ کیا کوئی دوست راہنمائی فرما سکیں گے؟

۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء

مولانا فضل الرحمان کے متحدہ اپوزیشن کا سربراہ منتخب ہونے سے ۱۹۷۷ء کی یاد تازہ ہو گئی ہے جب ان کے والد گرامی حضرت مولانا مفتی محمودؒ نو سیاسی و دینی جماعتوں پر مشتمل ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے ملک گیر عوامی ’’تحریک نظام مصطفٰی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت فرمائی تھی۔ اللہ تعالٰی مولانا فضل الرحمان کو اپنے عظیم والد کی روایات اور جدوجہد کو قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

۳ اکتوبر ۲۰۲۰ء

سوسائٹی کے مستحق، معذور، اور نادار افراد کی ضروریات کا خیال رکھنے اور ان پر خرچ کرنے کی روایت شروع سے چلی آ رہی ہے۔ مگر اسلام نے زکوٰۃ کے عنوان سے اسے فرض قرار دیا ہے، اسے ضرورتمندوں کا حق بتایا ہے، اس کی کم از کم حد مقرر کی ہے، اور ادا نہ کرنے کو جرم کہا ہے۔

۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء

ایک اور بات جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی کہ ’’المفسدون بین الأحبۃ‘‘ دوستوں کے درمیان فساد ڈالنے والے برے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک معاشرتی بیماری ہے کہ چند دوست اکٹھے محبت و اعتماد کے ساتھ رہ رہے ہیں، اگر کوئی آدمی ان کے درمیان غلط فہمیاں ڈال کر ان کی دوستی کو دشمنی میں بدل دیتا ہے تو وہ بہت بری حرکت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک خاندان محبت و اعتماد کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے اور کوئی شخص دخل دے کر ان کی محبت و اعتماد کی فضا کو خراب کر دیتا ہے تو وہ کوئی اچھا کا م نہیں کر رہا۔ محبت و اعتماد کی فضا خاندانوں میں ہو، دوستوں میں ہو، مشترکہ کام کرنے والوں میں ہو، اس میں فساد ڈالنے والوں کو جناب رسول اللہؐ نے برے لوگوں میں شمار کیا ہے۔ (ماہنامہ نصرۃ العلوم ۔ نومبر ۲۰۱۲ء)

یکم اکتوبر ۲۰۲۰ء

افغان راہنما جناب عبداللہ عبداللہ نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام سے ملاقات کے دوران مختلف امور پر اظہار خیال کیا ہے۔ وہ ان دنوں ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے ساتھ مذاکرات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان مذاکرات کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں بشرطیکہ ان کا مقصد افغانستان کی خودمختاری کے ساتھ جہاد افغانستان کے منطقی تقاضوں کی تکمیل اور افغان قوم کی ملی حمیت اور اسلامی تشخص کی پاسداری ہو۔ ورنہ وقت اور صلاحیتوں کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔

۳۰ ستمبر ۲۰۲۰ء

نیکی اور ثواب کسے کہتے ہیں اور یہ جو دس، بیس، سو، ہزار نیکیاں ملنے کی بات کی جاتی ہے، ان میں عملاً ملتا کیا ہے؟ ایک صاحب نے یہی سوال کیا تو میں نے عرض کیا کہ یہ آخرت کی کرنسی ہے، اس لیے کہ جس طرح دنیا میں ہمارے معاملات اور لین دین ڈالر، یورو، پونڈ، ریال، درہم اور روپے کے ذریعے طے پاتے ہیں اور ہم ان کرنسیوں کے تبادلے سے اپنے معاملات نمٹاتے ہیں، اسی طرح آخرت میں ہمارے معاملات، نیکیوں اور گناہوں کے تبادلے سے طے پائیں گے۔ وہاں ڈالر، ریال اور روپیہ نہیں چلے گا بلکہ کسی بھی شخص کے ساتھ لین دین نمٹانے کے لیے یا نیکیاں دینا پڑیں گی اور یا اس کے گناہ اپنے سر لینے پڑیں گے۔ اس لیے نیکی اور گناہ دونوں آخرت کی کرنسیاں ہیں۔ ایک پازیٹو ہے اور دوسری نیگیٹو ہے اور انہی کے ذریعے ہمارے آخرت کے معاملات نمٹائے جائیں گے۔ ہم دنیا کے کسی ملک میں جاتے ہیں تو جانے سے پہلے وہاں کی کرنسی کا انتظام کرتے ہیں تاکہ وہاں صحیح طور پر وقت گزار سکیں، اسی طرح آخرت کے دور میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں وہاں کی زیادہ سے زیادہ کرنسی کا بندوبست کر لینا چاہیے تاکہ وہاں کی زندگی بہتر ہو سکے۔ (ایشیا اسلامک سنٹر، ہیوسٹن، ٹیکساس، امریکہ میں خطاب ۔ ۳۰ جولائی ۲۰۱۰ء)

۲۹ ستمبر ۲۰۲۰ء

۱۸۵۷ء کے بعد ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام کا بیشتر حصہ مسجد کی چٹائیوں، محلہ کی روٹیوں اور اساتذہ کی بے لوث تدریسی خدمات پر چلتا رہا ہے۔ جس کی برکات و ثمرات ابھی تک روحانی اور فکری طور پر ہمارے پشتیبان ہیں۔ حالات کا رخ دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید ہمیں اسی دور میں واپس جانا پڑے گا۔ اصحابِ عزیمت کو اس کے لیے بہرحال ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔

۲۸ ستمبر ۲۰۲۰ء

ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی حکومت سے پہلے متحدہ ہندوستان میں ہزاروں دینی مدارس موجود و مصروف عمل تھے، جن پر قبضہ کرنے کی بجائے وقف قوانین تبدیل کر دیے گئے تھے، اور اس کے نتیجے میں مدارس اپنے وجود اور کردار سے محروم ہوگئے تھے۔ آج پھر وہی تجربہ دہرایا جا رہا ہے، اس کے بروقت ادراک کی ضرورت ہے۔

۲۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ علمی و فکری فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے وقف املاک اور اداروں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ قانون کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ اجتماعی مشاورت کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے۔ ملی مجلس شرعی پاکستان کے صدر مولانا زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین، اور مولانا عبد الرؤف فاروقی نے آج لاہور میں ایک ملاقات کے دوران اس قانون کو دینی مدارس کے آزادانہ کردار کو ختم کرنے کی عالمی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے دینی مدارس کے وفاقوں اور دیگر قائدین سے اس سلسلہ میں مشترکہ موقف طے کرنے کی اپیل کی ہے، اور یکم اکتوبر کو ایک اہم مشاورت کے اہتمام کا پروگرام طے کیا ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

۲۶ ستمبر ۲۰۲۰ء

ملک میں سیاسی بے یقینی، باہمی بے اعتمادی، اور خلفشار کا جو ماحول نظر آ رہا ہے اس کی اصل وجہ دستور پاکستان سے بے اعتنائی اور روزافزوں بیرونی مداخلت ہے۔ ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے اس سے بہرحال چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۵ ستمبر ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کے بارے میں مغرب کا ایجنڈا ہے کہ وہ دینی تعلیم کے امتیازی کردار کی بجائے ’’قومی دھارے‘‘ کے عنوان سے اس تعلیمی سسٹم میں گم ہو جائیں جس کی بنیاد مغربی فکر و فلسفہ پر ہے۔ مگر قرآن و سنت علم و فکر کے زندہ سرچشمے ہیں جن کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے، مغرب کو یہ حقیقت سامنے رکھنا ہی ہو گی۔

۲۴ ستمبر ۲۰۲۰ء

ملتان میں تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ ریلی کے اسٹیج پر اجتماعی دینی قیادت کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ قومی و دینی جدوجہد بالخصوص قومی خودمختاری، نفاذ اسلام، تحفظ ختم نبوت، اور تحفظ ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ کی اصل ضرورت یہی ہے۔ اللہ پاک تسلسل اور استقامت نصیب فرمائیں، آمین ثم آمین۔

۲۳ ستمبر ۲۰۲۰ء

ہم میں سے ہر فرد، طبقے، ادارے اور حلقے کو دستور پاکستان اور قراردادِ مقاصد کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ اور طرزعمل کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر ہم ملک و قوم کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔

۲۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ کوئی بالاتر قوت قومی سیاست کو جمہوریت کے ٹریک پر نہیں آنے دے رہی۔ اس صورت میں سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بالاتر قوت کی نشاندہی اور نقاب کشائی کریں جو مسلسل سات عشروں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسلام، جمہوریت اور خودمختاری کے دائرے میں شامل ہونے سے روکے ہوئے ہے۔

۲۱ ستمبر ۲۰۲۰ء

آج کے عالمی تناظر میں امن عالم کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں ہمیں کیا راہنمائی ملتی ہے اور آج کی دنیا کو امن سے روشناس کرنے کے لیے ہم آنحضرتؐ کے اسوۂ حسنہ سے کیا استفادہ کر سکتے ہیں؟

آج دنیا میں ہر طرف یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ترقی کے لیے امن ضروری ہے، خوشحالی کے لیے امن ضروری ہے، ملکی استحکام کے لیے امن ضروری ہے ، قومی وقار کے لیے امن ضروری ہے، اور امن کے بغیر ان میں سے کوئی مقصد بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ ساری باتیں درست ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ امن کے بغیر نہ ترقی ممکن ہے، نہ استحکام حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی قومی وقار قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کاموں کے لیے تو امن ضروری ہے مگر امن کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟ میں اصحاب فکر و دانش کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں کہ امن کیسے قائم ہو سکتا ہے اور امن کے لیے کیا ضروری ہے؟

میں یہ عرض کرتا ہوں کہ امن کے لیے انصاف ضروری ہے اس لیے کہ انصاف کے بغیر کسی بھی سطح پر امن کا قیام نہیں ہو سکتا، انصاف ہوگا تو امن ہوگا اور اگر انصاف نہیں ہوگا تو امن کسی قیمت پر قائم نہیں ہو سکے گا۔ کسی شہر کی بات ہو یا ملک و قوم کا معاملہ ہو، اقوام عالم کے باہمی روابط ہوں یا امن عالم کی بات ہو، ہر دائرہ میں اور ہر سطح پر اصول یہی ہے کہ انصاف ہوگا تو امن ہوگا ورنہ امن کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔

انصاف کے تقاضوں میں سے ایک بڑا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو اور قانون کے نفاذ میں کسی فرد یا طبقے کو تحفظ اور استثنا حاصل نہ ہو اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف بطور خاص توجہ دلائی ہے۔ فاطمہ مخزومیہ کا واقعہ مشہور ہے کہ بنو مخزوم کی خاتون فاطمہ نے چوری کی، جرم ثابت ہوگیا اور آنحضرتؒ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرما دیا۔ اس پر خاندان والوں کو تشویش ہوئی کہ اس سے پورے خاندان کی بے عزتی ہوگی، فاطمہ کا ہاتھ کٹا تو بنو مخزوم جیسے خاندان کی ناک کٹ جائے گی، اس لیے جناب نبی کریمؐ سے سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور سفارش کے لیے حضرت اسامہ بن زیدؓ کا انتخاب کیا گیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’کان حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ وہ نبی اکرمؐ کے چہیتے نوجوان تھے، منہ بولے بیٹے کے بیٹے تھے، حضورؐ کی گود میں پرورش پائی تھی اور آپؐ کی خصوصی شفقتیں سمیٹنے والوں میں سے تھے۔ حضرت اسامہؓ نے جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں سفارش کی تو آپؐ نے سخت غصہ اور ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ڈانٹ دیا کہ ’’اتشفع فی حد من حدود اللہ؟‘‘ کیا اللہ تعالٰی کی حدود کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ اس موقع پر آنحضرتؐ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔

بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اسامہ بن زیدؓ کو ڈانٹنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مسجد نبویؐ میں اس مسئلہ پر عمومی خطاب بھی فرمایا اور اس خطاب میں لوگوں کو خبردار کیا کہ تم سے پہلے قومیں اس وجہ سے برباد ہوتی رہی ہیں کہ کوئی عام اور غریب شخص جرم کرتا تھا تو اس کو سزا دی جاتی تھی لیکن اگر کوئی وی آئی پی اور بڑا شخص جرم کا مرتکب ہوتا تو وہ سزا سے بچ جایا کرتا تھا۔ قانون کے نفاذ میں یہ فرق اور تفاوت قوموں کی تباہی کے اسباب میں سے ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے اپنی امت کو اس سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ جب بھی کسی قوم اور معاشرے میں قانون کے یکساں نفاذ کا ماحول نہیں رہے گا وہاں فساد پھیلے گا اور قوم تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔

۲۰ ستمبر ۲۰۲۰ء

مسلسل بیرونی مداخلت اور بین الاقوامی سازشوں نے ہماری تہذیبی شناخت، ملی حمیت و روایات، قومی خودمختاری اور دستور کی عملدرآمدی سمیت سب معاملات کا حصار کر رکھا ہے۔ جس سے گلوخلاصی کے لیے ہم سب کو بحیثیت قوم سامنے آنا ہو گا ورنہ قومی غلامی کا ایک نیا اور خوفناک راؤنڈ ہمیں لپیٹ میں لینے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

۱۹ ستمبر ۲۰۲۰ء

سیال شریف کے سجادہ نشین حضرت خواجہ حمید الدین سیالویؒ کی وفات ہم سب کے لیے باعث صدمہ ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ تحریک خلافت، تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفٰیؐ، اور تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ میں سیال شریف کا کردار نمایاں رہا ہے، اللہ پاک جنت الفردوس میں جگہ دیں، آمین۔

۱۸ ستمبر ۲۰۲۰ء

پاکستان بار کونسل کی آل پارٹیز کانفرنس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام انصاف غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ نظام ۱۸۵۷ء کے بعد نوآبادیاتی دور کے لیے نافذ کیا گیا تھا جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے زائد المیعاد چلا آ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی بنیاد پر نیا نظام انصاف ہی مؤثر ہو سکتا ہے۔

۱۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

معروف محقق اور سیرت نگار ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی کی وفات عالم اسلام کے علمی و فکری حلقوں کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ محققین اور ارباب دانش کے لیے راہنما اور مرجع کی حیثیت رکھتے تھے، مجھے بھی ان سے نیاز مندی حاصل رہی ہے، اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں، آمین۔

۱۶ ستمبر ۲۰۲۰ء

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی مسلسل پیش قدمی امریکی استعمار کی سرپرستی کی مرہون منت اور مسلم حکمرانوں کی فدویانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج کی بڑی ملی ضرورت جمال عبد الناصر، شاہ فیصل شہید، عبد الرحیم سوئیکارنو اور بھٹو مرحوم جیسے غیور لیڈر ہیں، ان کی تلاش سنجیدگی سے کی جائے تو ضرور مل سکتے ہیں۔

۱۵ ستمبر ۲۰۲۰ء

جو وزراء جنسی درندگی کے شرمناک جرم پر سنگین سزا کے بارے میں باہمی بحث میں الجھے ہوئے ہیں وہ سب دستور کی وفاداری کا حلف اٹھا کر وزیر بنے ہیں جس میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے۔ کیا یہ حضرات قرآن و سنت اور دستور پاکستان دونوں سے بے خبر ہیں؟ یہ بھی قومی المیہ ہی ہے۔

۱۴ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حرمت و ناموس کا تحفظ و دفاع ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ پاکستان کو عراق و شام جیسی خانہ جنگی سے بچانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا اور عالمی و علاقائی سازشوں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ہو گی۔

۱۳ ستمبر ۲۰۲۰ء

ہمارا یہ مزاج بنتا جا رہا کہ دینی جدوجہد کے کسی بھی تقاضے پر دوسروں کو متوجہ کرنے اور کوستے رہنے پر ہماری توجہ مرکوز رہتی ہے، اور جو ہم خود کر سکتے ہیں اس کی طرف دھیان نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کا کام کرنے کی کوشش کرے تو کسی سے شکایت کا موقع ہی نہیں رہتا، اللہ کرے کہ ہم ایسا کر سکیں۔

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

پشاور کے عوام نے عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے عنوان سے، اور کراچی کے عوام نے تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے ایمانی جذبات کا جس جوش و ولولہ کے ساتھ اظہار کیا ہے وہ پورے ملک کے عوامی جذبات کی ترجمانی ہے، دونوں شہروں کے غیور عوام کو سلامِ عقیدت۔

۱۱ ستمبر ۲۰۲۰ء

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو ہم سے رخصت ہوئے سات عشرے گزر چکے ہیں مگر پاکستان کو ایک رفاہی، اسلامی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے ان کے اعلانات ابھی تک ہماری اسٹیبلشمنٹ کا منہ تک رہے، جو چہرے پر انگریزی کا نقاب ڈالے بدستور مغربی آقاؤں کے در پر کھڑی ہے، اس کا بھی کوئی علاج ہے؟

۱۰ ستمبر ۲۰۲۰ء

کراچی میں تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے کامیاب ریلی کے انعقاد پر مولانا مفتی منیب الرحمٰن اور ان کے سب رفقاء تمام اہل سنت کی طرف سے تبریک و تحسین کے مستحق ہیں، اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی توفیق دیں، آمین۔

۹ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے لیے ستارہ امتیاز ہم سب کے لیے اعزاز کی بات ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سال قبل سابق صدر جناب ممنون حسین کی طرف سے مجھے ملنے والے تمغہ امتیاز کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور مبارکباد کے مسلسل پیغام آ رہے ہیں، جس پر اس وضاحت کے ساتھ سب دوستوں کا شکرگزار ہوں۔

۸ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کے لیے ستارۂ امتیاز ہم سب کے لیے باعث اعزاز و افتخار ہے، اللہ پاک انہیں مزید در مزید عزتوں سے نوازیں اور صحت و عافیت کے ساتھ تادیر امت کی راہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

قادیانیوں کے شہری حقوق سے کوئی انکار نہیں ہے مگر کسی بھی ملک میں حقوق کا تعین وہاں کے دستور کے مطابق منتخب پارلیمنٹ کرتی ہے، جسے قادیانی سرے سے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ جب تک وہ دستور اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے حقوق کا واویلا کرتے رہنے کا کوئی جواز نہیں، اسے ذہن میں رکھنا ہو گا۔

۶ ستمبر ۲۰۲۰ء

قومی وحدت دفاعِ وطن کا ناگزیر تقاضا ہے، جسے سبوتاژ کرنے والوں کو لسانیت، قومیت، علاقائیت اور فرقہ واریت میں سے کسی سے دلچسپی نہیں ہے، صرف ہمیں آپس میں لڑانے سے غرض ہے۔ ہمیں ہر طرح سے محتاط اور چوکنا رہنا ہو گا۔

۵ ستمبر ۲۰۲۰ء

اجتہاد کا اہل کون ہے؟ از امام شافعی

قیاس (اجتہاد) کرنے کا مجاز وہی ہے جو آلاتِ قیاس کا مالک ہے۔ یعنی کتاب اللہ سے واقف ہے۔ فرائض و آداب، ناسخ و منسوخ عام و خاص، نصائح و مستحبات کا عالم ہے۔ محتمل مسائل میں سنتِ رسول اللہؐ اور اجماعِ امت سے استدلال کر سکے۔ ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ہے تو سنت نبویؐ اور اجماع امت پر نظر ڈالے، یہاں بھی نہ ملے تو پہلے کتاب اللہ پر قیاس کرے، پھر سنتِ رسول اللہ پر، پھر سلف صالحین کے مسلّم قول پر جس میں اختلاف نہیں۔ کسی کے لیے روا نہیں کہ ان اصولوں سے اور ان پر قیاس سے ہٹ کر دین الٰہی میں کوئی بات کہے۔ قیاس کرنے کا منصب (حق) اسی کو ہے جو گزرے بزرگوں کے طریقوں، سلف کے اقوال، امت کے اجماع و اختلاف، اور زبانِ عرب سے بخوبی واقف ہو۔ عقلِ سلیم بھی رکھتا ہو، مشتبہ امور میں قوتِ تمیز سے کام لے سکے۔ رائے قائم کرنے میں جلدباز نہ ہو۔ مخالف کی بات سننے سے بھی انکار نہ کرتا ہو کیونکہ مخالف کی بات پر توجہ دینے میں نقصان نہیں نفع ہی ہے۔ (بحوالہ جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر الاندلسیؒ ۔ مترجم ص ۱۶۹ مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)

Pages