ٹویٹس

۱۵ ستمبر ۲۰۲۰ء

جو وزراء جنسی درندگی کے شرمناک جرم پر سنگین سزا کے بارے میں باہمی بحث میں الجھے ہوئے ہیں وہ سب دستور کی وفاداری کا حلف اٹھا کر وزیر بنے ہیں جس میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے۔ کیا یہ حضرات قرآن و سنت اور دستور پاکستان دونوں سے بے خبر ہیں؟ یہ بھی قومی المیہ ہی ہے۔

۱۴ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حرمت و ناموس کا تحفظ و دفاع ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ پاکستان کو عراق و شام جیسی خانہ جنگی سے بچانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا اور عالمی و علاقائی سازشوں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ہو گی۔

۱۳ ستمبر ۲۰۲۰ء

ہمارا یہ مزاج بنتا جا رہا کہ دینی جدوجہد کے کسی بھی تقاضے پر دوسروں کو متوجہ کرنے اور کوستے رہنے پر ہماری توجہ مرکوز رہتی ہے، اور جو ہم خود کر سکتے ہیں اس کی طرف دھیان نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کا کام کرنے کی کوشش کرے تو کسی سے شکایت کا موقع ہی نہیں رہتا، اللہ کرے کہ ہم ایسا کر سکیں۔

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

پشاور کے عوام نے عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے عنوان سے، اور کراچی کے عوام نے تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے ایمانی جذبات کا جس جوش و ولولہ کے ساتھ اظہار کیا ہے وہ پورے ملک کے عوامی جذبات کی ترجمانی ہے، دونوں شہروں کے غیور عوام کو سلامِ عقیدت۔

۱۱ ستمبر ۲۰۲۰ء

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو ہم سے رخصت ہوئے سات عشرے گزر چکے ہیں مگر پاکستان کو ایک رفاہی، اسلامی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے ان کے اعلانات ابھی تک ہماری اسٹیبلشمنٹ کا منہ تک رہے، جو چہرے پر انگریزی کا نقاب ڈالے بدستور مغربی آقاؤں کے در پر کھڑی ہے، اس کا بھی کوئی علاج ہے؟

۱۰ ستمبر ۲۰۲۰ء

کراچی میں تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے کامیاب ریلی کے انعقاد پر مولانا مفتی منیب الرحمٰن اور ان کے سب رفقاء تمام اہل سنت کی طرف سے تبریک و تحسین کے مستحق ہیں، اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی توفیق دیں، آمین۔

۹ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے لیے ستارہ امتیاز ہم سب کے لیے اعزاز کی بات ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سال قبل سابق صدر جناب ممنون حسین کی طرف سے مجھے ملنے والے تمغہ امتیاز کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور مبارکباد کے مسلسل پیغام آ رہے ہیں، جس پر اس وضاحت کے ساتھ سب دوستوں کا شکرگزار ہوں۔

۸ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کے لیے ستارۂ امتیاز ہم سب کے لیے باعث اعزاز و افتخار ہے، اللہ پاک انہیں مزید در مزید عزتوں سے نوازیں اور صحت و عافیت کے ساتھ تادیر امت کی راہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

قادیانیوں کے شہری حقوق سے کوئی انکار نہیں ہے مگر کسی بھی ملک میں حقوق کا تعین وہاں کے دستور کے مطابق منتخب پارلیمنٹ کرتی ہے، جسے قادیانی سرے سے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ جب تک وہ دستور اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے حقوق کا واویلا کرتے رہنے کا کوئی جواز نہیں، اسے ذہن میں رکھنا ہو گا۔

۶ ستمبر ۲۰۲۰ء

قومی وحدت دفاعِ وطن کا ناگزیر تقاضا ہے، جسے سبوتاژ کرنے والوں کو لسانیت، قومیت، علاقائیت اور فرقہ واریت میں سے کسی سے دلچسپی نہیں ہے، صرف ہمیں آپس میں لڑانے سے غرض ہے۔ ہمیں ہر طرح سے محتاط اور چوکنا رہنا ہو گا۔

۵ ستمبر ۲۰۲۰ء

اجتہاد کا اہل کون ہے؟ از امام شافعی

قیاس (اجتہاد) کرنے کا مجاز وہی ہے جو آلاتِ قیاس کا مالک ہے۔ یعنی کتاب اللہ سے واقف ہے۔ فرائض و آداب، ناسخ و منسوخ عام و خاص، نصائح و مستحبات کا عالم ہے۔ محتمل مسائل میں سنتِ رسول اللہؐ اور اجماعِ امت سے استدلال کر سکے۔ ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ہے تو سنت نبویؐ اور اجماع امت پر نظر ڈالے، یہاں بھی نہ ملے تو پہلے کتاب اللہ پر قیاس کرے، پھر سنتِ رسول اللہ پر، پھر سلف صالحین کے مسلّم قول پر جس میں اختلاف نہیں۔ کسی کے لیے روا نہیں کہ ان اصولوں سے اور ان پر قیاس سے ہٹ کر دین الٰہی میں کوئی بات کہے۔ قیاس کرنے کا منصب (حق) اسی کو ہے جو گزرے بزرگوں کے طریقوں، سلف کے اقوال، امت کے اجماع و اختلاف، اور زبانِ عرب سے بخوبی واقف ہو۔ عقلِ سلیم بھی رکھتا ہو، مشتبہ امور میں قوتِ تمیز سے کام لے سکے۔ رائے قائم کرنے میں جلدباز نہ ہو۔ مخالف کی بات سننے سے بھی انکار نہ کرتا ہو کیونکہ مخالف کی بات پر توجہ دینے میں نقصان نہیں نفع ہی ہے۔ (بحوالہ جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر الاندلسیؒ ۔ مترجم ص ۱۶۹ مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)

۴ ستمبر ۲۰۲۰ء

چھ ستمبر یوم دفاع پاکستان، سات ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت، اور آٹھ ستمبر یوم قومی زبان، ایک ہی جذبہ کے مختلف پہلو ہیں کہ ہمیں ملکی سلامتی، سرحدوں کا تحفظ، عقیدۂ ختم نبوت، اور اپنی تہذیب و ثقافت یکساں عزیز ہیں، اس لیے دنیا کو پاکستانی قوم کی اس بے لچک کمٹمنٹ کا بہرحال احترام کرنا ہو گا۔

۳ ستمبر ۲۰۲۰ء

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و ناموس پر حرف گیری دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے، اس حوالے سے مسلمانوں کے صبر کو بار بار آزمانے کی بجائے ایسا کرنے والوں کو ہی اپنے مذموم طرز پر نظرثانی کرنا ہو گی اور متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

ستمبر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا مہینہ ہے، اور تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے اس کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کا مہینہ بھی ہے۔ اس موقع پر ہم سب کو تجدیدِ عہد اور عزمِ نو کے ساتھ وطن کے امن و استحکام کے لیے باہمی یکجہتی کے ماحول میں قومی پیشرفت کا اہتمام کرنا ہو گا۔

یکم ستمبر ۲۰۲۰ء

وفاقی وزارت مذہبی امور نے چند سال قبل قومی علماء و مشائخ کونسل قائم کی تھی، اگر وہ موجود و قائم ہے تو اسے فرقہ وارانہ کشیدگی میں مسلسل اضافے کے موجودہ ماحول میں کردار ادا کرنا چاہیے، قومی اداروں کا ایسے مواقع پر خاموش تماشائی نہیں بن جانا چاہیے، ان کی خاموشی عوام میں مایوسی پیدا کرتی ہے۔

۳۱ اگست ۲۰۲۰ء

ملک کا امن و استحکام اہل سنت اور اہل تشیع سمیت ساری قوم کی مشترکہ ضرورت ہے اور باہمی کشیدگی و اشتعال کو روکنا دونوں طرف کے سنجیدہ راہنماؤں کی ذمہ داری ہے، جس کے اسباب و عوامل کا سدباب بہرحال ناگزیر ہے، اس میں تغافل قومی جرم ہو گا، ہم میں سے ہر طبقے اور فرد کو سنجیدگی سے کردار ادا کرنا ہو گا۔

۳۰ اگست ۲۰۲۰ء

یہ بات بہرحال متعلقہ لوگوں اور ریاستی اداروں کو سمجھنا ہو گی کہ حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک بزرگ کی توہین و تحقیر بھی کسی سنّی کے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔ اور ایسی کوئی بات سرعام ہو تو فساد کا باعث بنتی ہے، امن و امان کے لیے اسے کنٹرول کرنا ہی ہو گا۔

۲۹ اگست ۲۰۲۰ء

امیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خانوادہ کے امت پر عظیم احسانات ہیں۔ حضرت امام حسنؓ نے امت کی وحدت کے لیے خلافت کی قربانی دی، اور حضرت امام حسینؓ نے اعلیٰ دینی اقدار کی پاسداری کے لیے اپنی اور خاندان نبوت کی انمول جانوں کو قربان کر دیا۔ اس خانوادے کی عظمت کو لاکھوں سلام۔

۲۸ اگست ۲۰۲۰ء

ملک میں سیاسی خلفشار اور باہمی بے اعتمادی کی موجودہ فضا دستور کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے اور بیرونی مداخلت کو راستہ دیتے چلے جانے کا منطقی نتیجہ ہے۔ ہمیں بالآخر دستور کے سامنے سپر انداز ہو کر قومی خود مختاری اور ملک کے نظریاتی استحکام کی راہ پر چلنا ہو گا، اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

۲۷ اگست ۲۰۲۰ء

آج لاہور میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الرؤف ملک اور حاجی عبد اللطیف چیمہ کے ہمراہ ’’پاکستان قومی زبان تحریک‘‘ کے صدر جناب محمد جمیل بھٹی، نائب صدر پروفیسر محمد سلیم ہاشمی اور دیگر راہنماؤں سے ملاقات کے دوران آٹھ ستمبر کو قومی زبان کا دن منانے اور لاہور میں قومی زبان کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تبادلۂ خیال ہوا اور اتفاق رائے سے اس کی بھرپور محنت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تمام ہم خیال دوستوں سے تعاون کی درخواست ہے۔

۲۶ اگست ۲۰۲۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی کے ساتھ افغان طالبان کے راہنما ملا عبد الغنی برادر کے مذاکرات کا منظر دیکھ کر ’’تلک الایّام نداولھا بین الناس‘‘ کے مختلف مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم گئے اور قرآن کریم کا یہ ارشاد گرامی بے ساختہ زبان پر جاری ہوا ’’والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین‘‘۔ اللہ تعالٰی مخلصین کے اس جانگسل اور صبر آزما سفر کو راستہ کی باقی ماندہ تمام بارودی سرنگوں سے محفوظ رکھتے ہوئے جلد از جلد تکمیل نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۵ اگست ۲۰۲۰ء

امریکی صدر ٹرمپ اور وزیرخارجہ پومپیو بار بار کہہ رہے ہیں کہ عرب امارات کے بعد دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں۔ جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے بعد او آئی سی کی طرف سے بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطین کے مسئلہ کے باوقار حل تک اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار سامنے آگیا ہے۔ اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا امت مسلمہ کی باہمی تقسیم اور محاذ آرائی کا باعث بن سکتا ہے۔

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دُعا ہے
امت پہ تری وقت عجب آن پڑا ہے

۲۳ اگست ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم ہمارے اکابر میں سے ہیں، ان کی کسی بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے خلاف بدتمیزی اور بدزبانی قابل برداشت نہیں ہے، اس منفی طرز عمل کے تلخ نتائج پہلے بھی ہم بہت بھگت چکے ہیں، سب حضرات سے گزارش ہے کہ اس سے بہرحال گریز کیا جائے۔

۲۲ اگست ۲۰۲۰ء

سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان صاحب نے آج فون پر خوشخبری سنائی ہے کہ مانسہرہ سے آگے کڑمنگ بالا کی جس پہاڑی چوٹی چیڑاں ڈھکی میں ہمارے دادا محترم جناب نور احمد خان رحمہ اللہ تعالٰی رہتے تھے، وہاں خاصی آبادی ہو گئی ہے اور مسجد بھی بن گئی ہے، جس میں جمعۃ المبارک کا آغاز یکم محرم الحرام ۱۴۴۲ھ کو ہوا ہے اور سردار محمد یوسف خان بھی اس میں شریک ہوئے ہیں۔ ہمارے خاندان کے لیے نئے ہجری سال کی یہ پہلی خوشخبری ہے جس پر ہم سردار صاحب محترم کے شکرگزار ہیں۔ اللہ تعالٰی مسجد کو ہمیشہ آباد رکھیں اور ہمارے دادا مرحوم اور دیگر خاندانی بزرگوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۱ اگست ۲۰۲۰ء

’’پاکستان قومی زبان تحریک‘‘ کا یہ مطالبہ فوری طور پر قابل توجہ ہے کہ یکساں قومی نصابِ تعلیم تشکیل دینے والی قومی نصاب کمیٹی میں قومی زبان اردو کے تحفظ اور تنفیذ کے لیے جدوجہد کرنے والی قیادت کی نمائندگی ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر زبان اور ذریعۂ تعلیم دونوں حوالوں سے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ادھورا اور یکطرفہ ہو گا جو قابل عمل نہیں ہو گا۔ ملک بھر کے احباب سے گزارش ہے کہ اس مطالبہ کی ہر سطح پر حمایت کی جائے۔

۲۰ اگست ۲۰۲۰ء

پاکستان اور سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان فلسطینیوں کے جائز موقف اور جدوجہد کی پاسداری ہے، جبکہ اس کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے عالمی رائے عامہ کی حمایت کو منظم اور امت مسلمہ کو مجتمع و متحرک کرنا بھی ضروری ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مشترکہ طور پر کر سکتے ہیں۔

۱۹ اگست ۲۰۲۰ء

گڈگورننس اور ویلفیئر اسٹیٹ کے حوالے سے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا دور حکومت اور نظام آج بھی دنیا میں آئیڈیل تسلیم کیا جاتا ہے اور انسانی سوسائٹی کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے، مگر اس کے لیے ایک نظریاتی اسلامی ریاست و حکومت درکار ہے جو خلافت راشدہ کی طرز پر عملی نمونہ پیش کر سکے۔

۱۸ اگست ۲۰۲۰ء

’’امریکی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن اسلام آباد کالج فار گرلز کی اساتذہ اور طالبات کے ساتھ گھل مل گئیں اور ان سے ایک گھنٹے سے زیادہ بے تکلفانہ گفتگو کی۔ ہیلری کلنٹن نے طالبات سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ طالبات نے دوستانہ انداز میں کلنٹن کی اہلیہ کو سب مسائل بتائے۔ فورتھ ایئر کی طالبہ نائلہ خالد نے امریکی خاتون اول سے پوچھا کہ امریکی طالبات کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس پر امریکہ کی خاتون اول نے کھل کر گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طالبات کا مسئلہ تعلیم کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، تعلیمی اداروں میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ ہے، مگر امریکہ میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بغیر شادی کے طالبات اور لڑکیاں حاملہ بن جاتی ہیں۔ اس طرح بے چاری لڑکی ساری عمر بچے کو پالنے کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ ایک دوسری طالبہ وجیہہ جاوید نے کہا کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ اس پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ مذہبی و سماجی روایات اور اصولوں کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے والدین کی عزت و آبرو اور سکون کو غارت نہیں کرنا چاہیے۔ مسز ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ اسلام اور عیسائیت کی شادی کے خلاف نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی روایات کا احترام کرتے ہوئے شادی ہوتی ہے اس لیے یہاں لڑکیوں کے مسائل کم ہیں۔‘‘ (جنگ لاہور ۲۸ مارچ ۱۹۹۵ء)

۱۷ اگست ۲۰۲۰ء

محرم الحرام کی آمد آمد ہے اور امن برقرار رکھنے کے لیے ہر سطح پر مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں۔ اگر ہر شخص اخلاقی اور قانونی حدود میں رہے، قانون کا سب پر یکساں اور بے لاگ اطلاق ہو، اور محض خبروں اور افواہوں پر فیصلے کرنے کی بجائے تحقیق کر لی جائے، تو بد اَمنی و فساد کے امکانات بہت محدود رہ جاتے ہیں۔

۱۶ اگست ۲۰۲۰ء

امت مسلمہ کا اصل مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر کوئی ایسا فورم موجود نہیں ہے جو اس کی اجتماعی اور مؤثر قیادت یا کم از کم نمائندگی ہی کر سکے۔ جو برائے نام دکھائی دیتے ہیں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ اس لیے خلافت راشدہ کی اصولوں کی بنیاد پر خلافت کا قیام ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے۔

۱۵ اگست ۲۰۲۰ء

انگریزوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا تو دفتری زبان، عدالتی قوانین، تعلیمی نظام، اور انتظامی ڈھانچہ سب کچھ بدل دیا۔ ہمیں ان سے حکومت واپس لیے پون صدی گزرنے کو ہے مگر ابھی تک کوئی چیز نہیں بدل سکے، البتہ یوم آزادی ہر سال پورے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اور قربانیوں کا تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

۱۴ اگست ۲۰۲۰ء

ہر سال چودہ اگست کو یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم یوم آزادی تو منا رہے ہیں مگر کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے۔ اس سال کشمیر کو پاکستان کے سرکاری نقشے میں شامل کرنے کے بعد پاکستان کے جغرافیائی طور پر نامکمل ہونے کی تصدیق بھی ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مکمل کب ہو گا اور اس میں کس کا کیا کردار ہو گا؟

۱۳ اگست ۲۰۲۰ء

حضرت موسٰی و ہارون علیہما السّلام کو اللہ تعالٰی نے نبوت دے کر فرعون کے پاس بھیجا تو یہ پیغام بھی دیا کہ ’’ان ارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبہم‘‘۔ گویا قوم کی آزادی بھی نبوت کے مقاصد میں سے ہے، اس لیے آزادی کے حصول اور تحفظ کی جدوجہد دینی قیادت کی ذمہ داریوں میں سے ہے اور اس کا اہتمام ضروری ہے۔

۱۲ اگست ۲۰۲۰ء

چودہ اگست آزادی اور قیام پاکستان کا دن ہے۔ ہم ہر سال اس بے مقصد بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ کس نے حمایت کی تھی اور کون مخالف تھا؟ جب قیام پاکستان کے بعد حمایت اور مخالفت کرنے والے سب اس کی بقا و استحکام کے لیے ایک پیج پر ہیں، تو اس بے مقصد جگالی کی بجائے اس کی ترقی سب کا مقصد وحید ہونا چاہیے۔

۱۱ اگست ۲۰۲۰ء

حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تمام طبقات کے ساتھ محبت و عقیدت ایمان کا تقاضا ہے، اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بغض و نفرت اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جبکہ دوسروں کے سامنے اس کا اظہار دل آزاری ہونے کے باعث ڈبل جرم بن جاتا ہے، اسے ملحوظ رکھنا سب کے لیے ضروری ہے۔

۱۰ اگست ۲۰۲۰ء

قرآن کریم نے اپنے نزول کا مقصد خود ’’لتحکم بین الناس‘‘ بیان فرمایا ہے، اس لیے جب تک انسانی معاشرے یا کم از کم مسلم معاشرے میں قرآن کریم کا حکم و قانون عملًا نافذ نہیں ہو جاتا ‘‘لتحکم بین الناس‘‘ کا پیغام پوری نسل انسانی کی طرف متوجہ رہے گا اور اس پر عملدرآمد امت مسلمہ بالخصوص علماء کے ذمہ ہو گا۔

۹ اگست ۲۰۲۰ء

عالمی سطح پر ہم جب تک امریکی استعمار کے شکنجے سے نجات حاصل نہیں کرتے اس وقت تک اپنی کوئی بات آزادی کے ساتھ پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اور استعماری تسلط سے آزادی مذہبی اور نظریاتی قوت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے یہ کام جلد یا بدیر مذہبی قوتوں کو ہی کرنا ہو گا اور متحد ہو کر کرنا ہو گا۔

۸ اگست ۲۰۲۰ء

استنبول کی تاریخی عمارت آیاصوفیہ کی مسجد کی حیثیت بحال ہونے پر جو خوشی ہوئی تھی، لاہور کی تاریخی مسجد وزیرخان میں فلم کی شوٹنگ کے افسوسناک واقعہ نے اسے غم میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسی سے آزاد ذہن اور غلامانہ سوچ کا فرق معلوم کیا جا سکتا ہے، اللہ پاک ہمیں بھی آزادانہ سوچ عطا فرما دیں، آمین۔

۷ اگست ۲۰۲۰ء

بیرون ملک سے ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ پاکستانیوں میں اتنا غصہ اور اضطراب کیوں رہتا ہے؟ عرض کیا ہے کہ ایک بڑا سبب یہ ہے کہ دستور میں شامل اسلامی دفعات میں سے کسی پر عمل دکھائی نہیں دیتا، جبکہ دوسرا سبب یہ ہے کہ قومی فیصلوں بالخصوص دینی معاملات میں بیرونی مداخلت کھلم کھلا نظر آتی ہے۔

۶ اگست ۲۰۲۰ء

مدرسہ صداقت الاسلام گوندلانوالہ گوجرانولہ میں گزشتہ شب غنڈہ عناصر کی طرف سے غاصبانہ قبضہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف بروقت قانونی کاروائی پر ضلعی حکام کا شکریہ، اور جمعیت اہل سنت کے راہنماؤں کو محنت پر شاباش۔ اللہ پاک سب کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

۵ اگست ۲۰۲۰ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرے نام سے ویب سائیٹ میرا بیٹا عامر خان اور فیس بک میرا نواسہ خزیمہ خان سواتی چلاتے ہیں۔ واٹس ایپ پر میرا کوئی ذاتی گروپ نہیں ہے، اور ٹویٹ میں خود کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ میری گزارشات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے جو حضرات کاوش کر رہے ہیں میں ان کا شکر گزار ہوں، مگر مذکورہ بالا کے علاوہ ٹویٹ، واٹس ایپ، ویب سائیٹ اور فیس بک پر میرا ذاتی کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے اور نہ میں کسی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ شکریہ، والسلام۔ ۵ اگست ۲۰۲۰ء۔ ابوعمار زاہد الراشدی، خطیب مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ۔

۴ اگست ۲۰۲۰ء

آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء سے میرا ایک پرانا سوال چلا آرہا ہے کہ جہاد کے جس شرعی فتوٰی پر آزاد ریاست کا یہ خطہ حاصل کیا گیا تھا اور حکومت قائم ہوئی تھی، وہ قائم ہے یا خدانخواستہ ختم ہو گیا ہے؟ اگر وہ قائم ہے تو حکومت اور علماء کرام کو سرپرست اداروں کے اعتماد کے ساتھ اس کی صورت نکالنی ہو گی۔

۳ اگست ۲۰۲۰ء

غصہ اور نفرت بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اسلام نے ان کے غلط اور بے جا استعمال سے منع کیا ہے مگر ان کی نفی نہیں کی۔ جیسے بدکاری اور شہوت پرستی کو سنگین جرم قرار دیا ہے مگر نکاح ترک کرنے یا خصی ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کا حکم دیتا ہے جو فطرت سلیمہ اور انسانی جبلت ہے۔

۲ اگست ۲۰۲۰ء

پشاور کی عدالت میں مبینہ گستاخ رسول کے قتل کو بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی موشگافیوں کی بجائے سماجی تناظر میں دیکھا جائے۔ جہاں عدالتی طور پر ثابت شدہ گستاخ کو فیصلہ کے مطابق سزا نہ ملتی ہو اور گستاخانہ رویوں کی حوصلہ افزائی مقتدر حلقوں میں ہوتی ہو، وہاں اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

یکم اگست ۲۰۲۰ء

وزیر داخلہ جناب شاہ محمود قریشی نے ۵ اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا ہے، جو بجا ہے، مگر بات دن منانے سے نہیں عالمی سطح پر کشمیر کا کیس سنجیدگی کے ساتھ لڑنے سے بنے گی۔ ہمارا قومی و ملی فریضہ ہے کہ اس کیس کی خود پیروی کرتے ہوئے او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) اور اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریاں جلد از جلد پوری کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی مؤثر عالمی مہم کا اہتمام کریں۔

۳۱ جولائی ۲۰۲۰ء

ہمارے حکمران کسی بین الاقوامی معاہدہ میں شریک ہوتے وقت قومی سوچ، عوامی جذبات، تہذیبی و نظریاتی تقاضوں، اور ممکنہ نتائج و عواقب کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے دستخط کر دیتے ہیں۔ لیکن جب ان معاہدات کے جال میں جکڑے ہوئے خود بے بسی سے پھڑپھڑانے لگتے ہیں تو انہی قومی اثاثوں کی بے دریغ قربانی دیتے چلے جاتے ہیں۔ فیا اسفاہ و یا ویلاہ۔

۳۰ جولائی ۲۰۲۰ء

پشاور کی عدالت میں مبینہ طور پر توہین رسالت پر ایک شخص کا قتل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، اس کی شرعی پوزیشن اکابر مفتیان کرام واضح کریں گے جبکہ قانونی پوزیشن عدالت میں مقدمہ کے دوران سامنے آئے گی۔ مگر یہ بھی توجہ طلب بات ہے کہ حالت اشتعال کا قتل، عام (قتل) سے شاید مختلف تصور کیا جاتا ہے۔

۲۹ جولائی ۲۰۲۰ء

قضا کی بہ نسبت تحکیم اور ثالثی میں مسائل کو سلجھانے اور کسی ایک بات پر فریقین کو لا کر فیصلہ کرنے میں سہولتیں اور گنجائشیں زیادہ ہوتی ہیں، جو موجودہ دور کی اہم سماجی ضرورت ہے۔ قضا اور فیصلے کی تنفیذ حکومتی اداروں کا کام ہے، مگر اس سے نیچے رہتے ہوئے باقی سارے کام دارالافتاء کی سطح پر منظم کیے جا سکتے ہیں۔

۲۸ جولائی ۲۰۲۰ء

قربانی شعائر اللہ میں سے ہے جس کی تعظیم کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے اور تعظیم کا طریقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے، اسی کے مطابق ہو گی تو تعظیم شمار ہو گی۔ جیسے پرچم ملک کی علامت ہے اور اس کی تعظیم کا پروٹوکول طے ہوتا ہے، اس سے ہٹ کر کوئی اور طریقہ کہیں بھی قبول نہیں کیا جاتا۔

۲۷ جولائی ۲۰۲۰ء

ایک محترم دانشور کا کہنا ہے کہ آزادی رائے کے مروجہ نظام و فلسفہ کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد پر ہے کہ ’’تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے، جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عمرؓ کے ارشاد کا مطلب یہی ہے تو وہ ہاتھ میں ہر وقت کوڑا کیوں رکھتے تھے؟

Pages