ٹویٹس

یکم ستمبر ۲۰۲۱ء

اسلام کا آفاقی پیغام دنیا تک پہنچانے کے دو راستے ہیں: ایک یہ کہ زبان، قلم اور ابلاغ کے ذریعہ سے لوگوں کو اسلام اور اس کی تعلیمات سے متعارف کرایا جائے، اور دوسرا یہ کہ اسلامی معاشرت کا ایسا عملی ماحول اور نمونہ پیش کیا جائے جسے دیکھ کر لوگ متاثر ہوں اور اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں۔

۳۱ اگست ۲۰۲۱ء

انگریزی اور کمپیوٹن میں مہارت، لابنگ اور بریفنگ کی صلاحیت، مغربی فکروفلسفہ سے آگاہی، دنیا کی معروضی صورتحال سے واقفیت، مستقبل کی علمی و فکری ضروریات کا ادراک اور دیگر حوالوں سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ضروری اضافوں کے ہم خود داعی ہیں لیکن ان کے دینی و تعلیمی کردار کی قیمت پر نہیں۔

۳۰ اگست ۲۰۲۱ء

ہماری غلامی کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے اثرونفوذ کے ذریعے ہوا تھا جو جنوبی ایشیا پر برطانوی استعمار کے تسلط تک جا پہنچا۔ آج پھر مغرب و مشرق کی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہیں اور ہم عالمی معاہدات اور اداروں کے ذریعے قائم ہونے والے بیرونی تسلط کے ایک نئے دورسے گزر رہے ہیں۔

۲۹ اگست ۲۰۲۱ء

جب سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے پوچھا گیا کہ نیٹو کا قیام ہی سوویت یونین کے خلاف عمل میں لایا گیا تھا تو اب سوویت یونین کے عالمی منظر سے ہٹ جانے کے بعد اسے باقی رکھنے کا کیا جواز رہ گیا ہے؟ تو انہوں نے بے ساختہ کہہ دیا تھا کہ ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘۔

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

امریکہ بہادر نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’عالمی پولیس مین‘‘ کا کردار سنبھالا تھا تب سے مغرب کے استعماری ایجنڈے کی قیادت اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس نے تائیوان، کوریا، جاپان، ویتنام، افغانستان، عراق، شام، فلسطین، بوسنیا، صومالیہ اور دیگر خطوں میں جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔

۲۷ اگست ۲۰۲۱ء

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے خلافتِ عثمانیہ کے مرکز ترکی میں سیکولرازم کے غلبہ کے اسباب میں سے ایک سبب یہ ذکرکیا ہے کہ علماء اورصوفیاء کی گروہی مصروفیات نے ان کے اوقات اورتوجہات کو اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ ملک و ملت کے اجتماعی مسائل پر غور کرنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں بچا تھا۔

۲۶ اگست ۲۰۲۱ء

مسئلہ کشمیرایک زندہ تنازع ہے، اس کا جو حل بھی کشمیری عوام کی خواہشات اورمسلّمہ حقوق کے مطابق ہوگا اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ آزادی اورانسانیت کا نام لینے والی تمام اقوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفادات و تعصبات سے بالاتر ہو کر کشمیریوں کو ان کا جائزحق دلانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

۲۵ اگست ۲۰۲۱ء

اسلام وکالت کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے اور حدیث وفقہ کی بیشتر کتابوں میں ’’کتاب الوکالۃ‘‘ کے نام سے مستقل ابواب ہیں جن میں زندگی کے مختلف شعبوں میں وکالت اورنمائندگی کے قوانین وضوابط وضع کیے گئے ہیں، البتہ وکالت کے مروجہ نظام کی بنیاد اسلام کی بجائے نوآبادیاتی عدالتی ڈھانچہ پر ہے۔

۲۴ اگست ۲۰۲۱ء

امریکی اتحاد اپنی بنائی ہوئی افغان فوج کو ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کے خلاف لڑانے کے منصوبہ میں ناکامی کے بعد اب شمال اور جنوب کا قضیہ دوبارہ کھڑا کرنے پر تُل گیا ہے۔ اللہ تعالٰی افغانستان کی وحدت، سلامتی اور امن کی حفاظت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۳ اگست ۲۰۲۱ء

جنوبی ایشیا میں اسلامی شرعی قوانین تاجِ برطانیہ نے ۱۸۵۷ء کے قبضہ کے بعد منسوخ کیے تھے، جبکہ ترکی کو خلافت و شریعت سے یورپی اتحاد نے فوجی مداخلت کے ذریعے ۱۹۲۴ء میں محروم کیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا خلافِ واقعہ ہے کہ امتِ مُسلمہ شرعی قوانین سے خود دستبردار ہو گئی تھی۔

۲۲ اگست ۲۰۲۱ء

اگر ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ مغربی جمہوریت کی بجائے اسلامی شورائیت کا نظام رائج کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور اسے اس کا موقع ملنا چاہیے۔ مغرب کا صرف اپنے نظام پر اصرار نظاموں میں آزادانہ مقابلہ کے اصول سے انحراف اور سوسائٹی کے ساتھ ناانصافی ہے۔

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

جنگِ عظیم اول کے بعد برطانیہ اور اتحادی فوجوں نے قوم پرست ترک لیڈروں کو ان شرائط پر حکمران تسلیم کیا کہ وہ ترکی کی حدود میں رہیں گے، خلافت ختم کر دیں گے، ملک میں نافذ اسلامی قوانین منسوخ کر دیں گے، اور ضمانت دیں گے کہ آئندہ نہ اسلامی قوانین نافذ کریں گے اور نہ خلافت بحال کریں گے۔

۲۰ اگست ۲۰۲۱ء

نبی اکرمؐ کا فرمان ہے’’علماء امتی کأنبیاء بنی اسرائیل‘‘ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کرامؑ کی طرح ہیں۔ اور فرمایا ’’کانت بنواسرائیل تسوسھم الانبیاء‘‘ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاءؑ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ علماء ہردورمیں راہنمائی وقیادت کے فرائض سرانجام دیتے آرہے ہیں۔

۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

نبی اکرمؐ نے ’’ریاستِ مدینہ‘‘ علاقے پرقبضہ کر کے قائم نہیں کی تھی بلکہ اس کی بنیاد ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے مختلف قبائل و مذاھب کے درمیان ایک معاہدہ پرتھی، اسی طرح حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت بھی اجتماعی رائے سے تشکیل پائی تھی، اسلامی ریاست و حکومت کے قیام میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

۱۶ اگست ۲۰۲۱ء

افغان طالبان کے نمائندہ سہیل شاہین کا یہ کہنا افغانستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے کہ ’’ہم آئندہ حکومتی نظام میں تمام افغان طبقات کی شرکت کو یقینی بنائیں گے‘‘۔ افغانستان کی وحدت، قومی ہم آہنگی اور عقیدہ و ثقافت ہی افغان قوم کے روشن مستقبل کا عنوان ہے۔ اللہ تعالیٰ مبارک کریں، آمین۔

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

میں نے اٹلانٹا کا وہ میدان دیکھا ہے جہاں امریکی خانہ جنگی کے دوران جنوب کی ’’کنفڈریٹ اسٹیٹس آف امریکہ‘‘ نے شمال کی ’’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ‘‘ کے سامنے ہتھیارڈالے تھے جسکے بعد امریکہ کے متحد ہونے کی راہ ہموارہوئی تھی،آج افغانستان میں وہی ہونے جارہاہے توامریکہ کوپریشانی کیوں ہے؟

۱۳ اگست ۲۰۲۱ء

عالمی حلقے اگر افغان عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو زمینی حقائق کو تسلیم کریں اور افغانستان کی وحدت، قومی خودمختاری اور تہذیبی شناخت کا احترام کرتے ہوئے ویتنام، کوریا اور جرمنی کی تقسیم والا ڈرامہ دہرانے سے باز رہیں۔

۱۰ اگست ۲۰۲۱ء

شکر گزاری اور ناشکری کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ جو نعمتیں خود انسانوں کی فرمائش پر انہیں دی جاتی ہیں ان کی ناشکری پر زیادہ سخت عذاب ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے "پاکستان" جیسی عظیم نعمت اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لی تھی۔

۹ اگست ۲۰۲۱ء

سلامتی کونسل افغانستان میں وہی کھیل دہرانا چاہتی ہے جو وہ گذشتہ سات عشروں سے فلسطین اور کشمیر میں کھیل رہی ہے۔ اس ماحول میں مسلم حکمرانوں کے لیے بارگاہِ ایزدی میں ہدایت کی دعا ہی کی جا سکتی ھے، اللھم ربنا آمین۔

۸ اگست ۲۰۲۱ء

مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمٰن ملک کی محترم ترین شخصیات میں سے ہیں، ان کے بارے میں بعض سرکاری لوگوں کی زبان اورلب ولہجہ قرآنِ کریم کی اس آیت کریمہ کا مصداق نظرآتا ہے: افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ (النمل) ایسے حکمران فساد پھیلاتے ہیں اورمعزز لوگوں کی تذلیل کرتے ہیں۔

۶ اگست ۲۰۲۱ء

بعض مغربی اور عالمی حلقوں کے بقول افغانستان میں بزور طاقت قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ بعض ممالک میں مسلح افواج حکومت پر طاقت کے ذریعے قبضہ کر کے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں جسے تسلیم کر لیا جاتا ہے، یہ اصول افغانستان کے لیے کیوں قابل قبول نہیں ہے؟

۳ اگست ۲۰۲۱ء

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ فرماتے ہیں کہ اگر صحابہ کرامؓ کے درمیان مسائل میں اختلاف نہ ہوتا تو یہ بات مجھے اچھی نہ لگتی کیونکہ اس طرح امت ہر مسئلہ میں ایک لگے بندھے راستے پر چلنے کی پابند ہوجاتی۔

یکم اگست ۲۰۲۱ء

حرمین شریفین کی رونقوں اور جزیرۃ العرب کے عقیدہ و ثقافت کے حوالہ سے جو سوالات سامنے آ رہے ہیں وہ صرف سعودی عرب اور عربوں کا معاملہ نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کا اجتماعی مسئلہ ہے، اکابر علماء کرام اور اہلِ فکر و دانش کو اس صورت حال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا۔

۳۰ جولائی ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کا سب سے بڑا تقاضہ یہ ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ تحریکی کارکنوں میں بھی دینی علم و شعور اور معاشرتی ادراک و احساس کا ماحول پیدا کیا جائے، ورنہ بے خبری اور سطحی ماحول میں جدوجہد فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

۲۷ جولائی ۲۰۲۱ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہ مبینہ اعلان کہ اب ایم اے کی ڈگری قابل قبول نہیں ہو گی اور اس کی بجائے بی ایس سی کا نظام نافذ العمل ہو گا، اس حوالہ سے دینی مدارس کے وفاقوں کی اسناد کا مسئلہ فوری طور پر قابل توجہ ہے اور اس کا کوئی قابل عمل حل سامنے آنا ضروری ہے۔

۲۶ جولائی ۲۰۲۱ء

حضرت یوسف بنوریؒ نے نصابِ تعلیم میں تین طرح کی تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے ① تخفیف: ایک ہی موضوع پر ڈھیروں کی بجائے کم سے کم کتب پڑھائی جائیں ② تیسیر: غیر متعلقہ مباحث میں الجھانے کی بجائے نفسِ مضمون کی تفہیم دی جائے ③ ترمیم: غیر ضروری مضامین کی جگہ جدید و مفید علوم شامل کیے جائیں۔

۲۳ جولائی ۲۰۲۱ء

ریاستی واجتماعی امور پر صرف سوسائٹی کا اختیار ہونا چاہیے اور لوگوں کی اکثریت کسی معاملہ میں جو فیصلہ کردے اسے حرف آخر تسلیم کیا جائے، اس فلسفہ کا نام سیکولرازم ہے جو دنیا کی اکثر حکومتوں کے دساتیر کی بنیاد ہے بلکہ اقوام متحدہ کے قواعد اور فیصلوں کی پشت پر بھی اسی کی کارفرمائی ہے۔

۲۰ جولائی ۲۰۲۱ء

حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا ارشادِ گرامی ہے ’’کُل یوم لا یعصی اللہ فیہ فھو لنا عید‘‘ جس روز اللہ تعالٰی کی نا فرما نی سرزَد نہ ھو وہ ہمارے لیے عید کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی عید بار بار نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۱۸ جولائی ۲۰۲۱ء

اللہ تعالیٰ نے عربوں کو تیل اور سونے کی صورت میں جس دولت سے مالامال کیا اگر یہ ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی اور ملّی مفاد میں استعمال ہوتی تو اس کا میدان سائنس وٹیکنالوجی، دفاع ومعیشت، اور تعلیم و تحقیق تھا مگر افسوس کہ عربوں کی دولت نے مسلمانوں سے کہیں زیادہ غیروں کو فائدہ پہنچایا۔

۱۶ جولائی ۲۰۲۱ء

پاکستان میں گزشتہ تہتر سال سے اسلام اور جمہوریت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر، یہ تجویز کہ پاکستان کے علماء کرام افغان طالبان کی سیاسی و علمی رہنمائی کریں، ایک ملّی ضرورت ہونے کے باوجود کچھ زیادہ قابلِ عمل نظر نہیں آتی۔

۱۴ جولائی ۲۰۲۱ء

داعی کا کام یہ ہے کہ مخاطب کو مخالف سمجھ کر گفتگو کا آغاز نہ کرے بلکہ اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اس کا ہمدرد ہے، اس کی تمام تر کمزوریوں سے آنکھیں بند کرتے ہوئے خیرخواہی کے لہجے میں اسے قریب لانے کی کوشش کرے، اور دنیا کے کسی بھی طبقے یا فرد کو اپنی تگ وتاز کے دائرے سے باہر نہ سمجھے۔

۱۲ جولائی ۲۰۲۱ء

پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر عالم اسلام کی قیادت کی طرف ایک عملی قدم بڑھایا تھا، لیکن قیادت صرف قوت کا نام نہیں ہے، اس کی اصل اساس علم اور اخلاق پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم علم و تحقیق اور اخلاقیات کے تقاضے پورا نہیں کرتے صرف ایٹمی قوت کے بل بوتے پر برتری کا محض خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا یہ کہنا کہ بیس سالہ افغان جنگ میں امریکہ عسکری فتح حاصل نہیں کر سکا، قرآن کریم کے اس ارشاد کا تازہ ترین اظہار ہے: ’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللہ‘‘ (البقرہ ۲۴۹)

۹ جولائی ۲۰۲۱ء

بجٹ کا اصل مقصد آمدن اوراخراجات میں توازن قائم کرنا ہے کہ قومی وحکومتی اخراجات کیلئے میسر آمدنی کا جائزہ لیکر متوقع کمی کو پورا کرنے کا بروقت انتظام کرلیا جائے۔ ہمارے ہاں بجٹ میں دوسرا پہلو غالب ہوتا ہے اور اصل مقصد کہ آمدنی اوراخراجات میں توازن قائم کیا جائے ہمیشہ مفقود رہتا ہے۔

۵ جولائی ۲۰۲۱ء

سائنس کی بدولت زندگی کا معیار بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا ہے اور قدم قدم پر سہولتیں میسر آ رہی ہیں، جبکہ اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے انجانی دنیا میں چھپی قوتیں اور صلاحیتیں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہتی ہیں جس سے اللہ رب العزت کی ذات اور قدرتوں پر ہمارا یقین بڑھتا رہتا ہے۔

۳ جولائی ۲۰۲۱ء

بانیانِ پاکستان نے جب مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کا مطالبہ کیا تو اس کی فکری بنیاد انہی کے اجماعی عقائد و رجحانات پر طے شدہ تھی، ایسا نہیں تھا کہ وہ اسلام کی تعبیر و تشریح کے لیے ان کے عمومی رجحانات و مسلمات سے ہٹ کر کوئی نئی سوچ ان پر مسلط کرنے کے درپے تھے۔

۲ جولائی ۲۰۲۱ء

قانون کی بالادستی کا تحفظ، امن و امان کا قیام، اور امورِ نظم و نسق کی انجام دہی ملکی انتظامیہ کے فرائض میں شامل ہے۔ ان ذمہ داریوں کی درست ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی وفاداریوں سے لاتعلق ہو کر اپنے کام سے کام رکھے اور خلافِ قانون واقعات پر بلاجھجھک اقدامات کرے۔

یکم جولائی ۲۰۲۱ء

مولانا ڈاکٹرعبد الرزاق اسکندرؒ تعلیمی وتحریکی محاذوں پرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی جدوجہد کے امین تھے، زندگی بھر علوم اسلامیہ کی ترویج اوردینی روایات کے تحفظ کے لیے محنت کی، عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں سے تھے اورہماری دینی تاریخ کے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۳۰ جون ۲۰۲۱ء

آج کے ہتھیار علم، دلیل اور عوامی آگاہی ہیں، دینی رہنماؤں کو ان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و تحقیق کا ذوق بڑھانا ہو گا اور رائے عامہ کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے روایتی ڈگر سے ہٹ کر وسیع تر عوامی تعلقات کا ماحول قائم کرنا ہو گا۔

۲۹ جون ۲۰۲۱ء

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی شاگرد اورعلمی جانشین عمرہ بنت عبد الرحمانؓ اپنے وقت کی بڑی محدثہ اورفقیہہ تھیں، ان کے بھتیجے ابوبکر بن قاسمؒ مدینہ منورہ کے قاضی تھے۔ امام مالکؒ نے مؤطا میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرہؓ اپنے بھتیجے کے فتوؤں اور اجتہادات میں غلطیوں کی نشاندہی کیا کرتی تھیں۔

۲۸ جون ۲۰۲۱ء

اگر سعودی عرب کے ملکی نظم و نسق میں عوام کو شریک کرنے اور عوامی نمائندوں کے چناؤ کا کوئی نظام بنایا جاتا ہے تو یہ اسلامی اصولوں سے انحراف نہیں ہو گا بلکہ ان اعلیٰ اصولوں اور اقدار کی طرف واپسی کا عمل ہو گا جس کی وضاحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری خطبہ جمعہ میں فرمائی تھی۔

۲۷ جون ۲۰۲۱ء

برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت ومحصولات کے نظام میں شرکت کے ذریعے، اورفلسطین میں یہودیوں نے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کے ذریعے سے قبضہ کی راہ ہموار کی تھی۔ اس حوالہ سے پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرگرمیوں اوراثرورسوخ کے بارے میں ایک عوامی آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

۲۶ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی بینکاری کی مروجہ صورت کو سودی نظامِ معیشت کی دلدل سے نکلنے کا ایک راستہ اور اصلاحِ احوال کی بتدریج محنت کا ایک ضروری مرحلہ تصور کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ دلدل سے نکلنے کے لیے بہرحال اسی میں سے گزرنا ہوتا ہے، چنانچہ اسے مثالی صورت اور آخری منزل سمجھنا درست نہ ہو گا۔

۲۵ جون ۲۰۲۱ء

ایک طرف نام نہاد روشن خیالی کا سامنا ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں مغربی معاشرت و ثقافت کا ماحول پیدا کرنا ہے، اور دوسری طرف اس تنگ نظری کے کانٹوں نے بھی ملتِ اسلامیہ کے دامن کو الجھا رکھا ہے جس کا نتیجہ بات بات پر تکفیر و تفسیق کے فتووں کے سبب باہمی فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

۲۴ جون ۲۰۲۱ء

نبی کریم ﷺ نے اجتماعی کفالت کا ایسا نظام متعارف کرایا کہ کسی مستحق کی ضرورت رکتی نہیں تھی، اور یہ بعد میں بیت المال کے عنوان سے سرکاری محکمہ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ آج بھی یہ نظم اپنی اصل روح کے ساتھ واپس آ جائے تو انشورنس کے کسی سسٹم کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

اہل سنت، اہل تشیع، معتزلہ، جبریہ، قدریہ، مرجئہ اور خوارج وغیرہ میں سے اہل سنت اور اہل تشیع اب تک اپنے پورے تعارف کے ساتھ موجود چلے آ رہے ہیں۔ اہل السنۃ والجماعۃ کی بنیاد دو اصولوں پر ہے (۱) رسول اللہ ﷺ نے دینیات کی کیا تعلیم دی؟ (۲) صحابہ کرامؓ نے اجتماعی طور پر اسے کیسے سمجھا؟

۲۲ جون ۲۰۲۱ء

یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ دینی مدارس دین کے علاوہ اور شعبوں کی تعلیم نہیں دیتے اس لیے وہ ’’قومی دھارے‘‘ سے الگ ہیں۔ اس منطق کے مطابق تو میڈیکل، انجینئرنگ اور لاء وغیرہ کی تعلیم دینے والے ادارے بھی قومی دھارے سے خارج قرار پائیں گے کہ وہ دیگر قومی شعبوں کی تعلیم اپنے ذمے نہیں لیتے۔

۲۱ جون ۲۰۲۱ء

انسانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ سرے سے خدا اور مذہب کا قائل ہی نہیں ہے، ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اس سے پہلے اور بعد میں اور کوئی جہان نہیں ہے، موت جاندار کو معدوم کر دیتی ہے جس کے بعد نہ کوئی زندگی ہے اور نہ کوئی سزا و جزا کا نظام موجود ہے۔

۲۰ جون ۲۰۲۱ء

انبیاء کرام علیہم السلام انسانی معاشرہ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحت زندگی بسر کرنے کی دعوت دینے آتے رہے اور قرآن کریم کے ارشادات کے مطابق انہوں نے صرف عقیدہ اور عبادت کی بات نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ انسانی سماج کے مسائل کا حل پیش کیا اور اجتماعی خرابیوں کی اصلاح بھی کی۔

۱۹ جون ۲۰۲۱ء

لاہور میں ایک بچے کے ساتھ استاذ کی زیادتی اور قلعہ دیدار سنگھ میں ایک استاذ کی بھتیجی کے ساتھ ہونے والی درندگی، دونوں انسانیت کی تذلیل اور انسانی کردار کی ناکامی کے واقعات ہیں جن پر ہمیں قومی سطح پر شرمندہ ہونے اور اپنے تربیتی نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

Pages

Flag Counter