ٹویٹس

۳۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

دستور پاکستان کی بالادستی اور عملداری کے مطالبہ پر سنجیدہ توجہ دینے کی بجائے اس سے بے اعتنائی کا تسلسل برقرار رکھنے کی روش زیادہ پریشان کن ہے جو پس پردہ عوامل کے حد سے زیادہ طاقتور ہونے کی غمازی کرتا ہے ؎ ’’کچھ علاج ان کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟‘‘

۳۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

جمہوریت کا متعارف مفہوم یہ ہے کہ عوام کی حاکمیت ہو، پارلیمنٹ خودمختار ہو، حکمرانی کا حق منتخب عوامی نمائندوں کو حاصل ہو۔ جبکہ دستورپاکستان میں یہ جمہوریت اختیار کی گئی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، پارلیمنٹ قرآن وسنت کی پابند ہے، حکومت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کا ہے۔

۲۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

ہر کارکن کو دین کے کسی خاص شعبے کا انتخاب کرکے اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے کیونکہ ہر کام کرنے یا بہت سے کام کرنے کی کوشش سے محنت بکھر کر رہ جاتی ہے۔ اور اگر دین کے دیگر شعبوں میں سلیقہ سے کام کرنے والوں کو اخلاقی، مالی اور عملی سپورٹ مہیا کر دی جائے تو اس کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے۔

۲۸ دسمبر ۲۰۲۰ء

میرے نام پر بعض حضرات مختلف سوشل میڈیا گروپ اور ٹویٹ اکاؤنٹ چلا رہے جو میری گزارشات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے جذبہ کے ساتھ ہیں، البتہ یہ وضاحت ہے کہ میرا آفیشل ٹویٹ اکاؤنٹ یہی ہے اس کے علاوہ کسی اکاؤنٹ کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔

۲۷ دسمبر ۲۰۲۰ء

جب امیرالمؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے احادیث کو سرکاری طور پر محفوظ کرنے کیلئے صوبوں کے عمّال کو ہدایات جاری کیں تو مدینہ منورہ کے قاضی کو لکھا کہ حضرت عمرہؒ کے علوم و روایات کو جمع و محفوظ کرنے کا خصوصی اہتمام کیا جائے کیونکہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے علوم کی وارث ہیں۔

۲۶ دسمبر ۲۰۲۰ء

یہ مسئلہ چودہ سو سال سے متفقہ چلا آرہا ہے اس لیے کہ اس کی تشریح خود نبی اکرم ﷺ نے فرما دی تھی کہ اب قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی، اور ساتھ یہ پیشگوئی بھی فرما دی کہ جھوٹے مدعیان نبوت ظاہر ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ بہت سی خرابیوں کے باوجود امت نے اس مسئلہ پر کبھی لچک نہیں دکھائی۔

۲۵ دسمبر ۲۰۲۰ء

پہلی دستورساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پیش کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خانؒ نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے اس مسئلہ پر اپنے جذبات کا متعدد بار اظہار کیا اور قوم نے ان کی تائید غیرمبہم الفاظ میں کی کہ برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق کرنا چاہتے ہیں۔

۲۴ دسمبر ۲۰۲۰ء

ایک طرف کفر اپنے فلسفہ و منطق کے ہتھیاروں اور اذہان و قلوب تک رسائی کیلئے ابلاغ کے تمام تر ذرائع سے لیس ہے، دوسری طرف ہم علماء کرام دین کے مسائل صرف فتویٰ اور حکم کی زبان میں سمجھانے کے درپے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ناواقف حضرات کے ذہنوں میں بے شمار شبہات قطار باندھے خاموش کھڑے ہیں۔

۲۳ دسمبر ۲۰۲۰ء

قاضی اوقصؒ بتاتے ہیں کہ میری ماں نے بچپن میں مجھے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں شکل و صورت اور جسمانی ساخت ایسی دی ہے کہ شاید کوئی تمہارے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہ کرے، اس لیے تم علم دین کے حصول کیلئے محنت کرو کیونکہ علم ایسی دولت ہے جو سارے عیوب اور کمزوریوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

۲۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

مغربی ممالک میں نئے مسلمان ہونے والوں کے بارے میں جہاں تشویش پائی جاتی ہے وہاں اس بات پر تحقیق کا سلسلہ بھی جاری ہے کہ یورپین نسلوں کے باشندوں کے اسلام قبول کرنے کے اسباب کیا ہیں؟ ایک معروف انگریز نومسلم دانشور ڈاکٹر یحییٰ برٹ کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم کا مطالعہ ہے۔

۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

ہم نے قیام پاکستان کے بعد اپنی قومی شناخت کیلئے اسلام اور جمہوریت دونوں کو بنیاد بنایا تھا۔ اس خوبصورت توازن کے ساتھ کہ حکومت کی تشکیل عوام کے ووٹوں سے ہو گی اور وہ ملکی نظام کے حوالے سے قرآن و سنت کی پابند ہو گی۔ مگر افسوس کہ نہ ہم اسلام کے ساتھ مخلص رہے اور نہ جمہوریت کے ساتھ۔

۲۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

ایک طرف آزادی کے نام پر عورت کو اسکے فطری تقدس و عصمت سے محروم کرنے کی کوششیں ہیں، اور دوسری طرف معاشرتی اقدار اور حدودوقیود کی جکڑبندیوں میں اسکے حقوق کا استحصال ہے۔ عورت کی مظلومیت کے بہت سے پہلو ہیں جن پر کلمہ حق بلند کرنا اسلامی تعلیمات کی رو سے ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

۱۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

ترمذی شریف کی روایت ہے کہ سفر معراج میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ ’’آپ میری طرف سے اپنی امت کوسلام کہنا اور بتانا کہ جنت کی زمین بہت پاکیزہ، عمدہ پانی والی اور صاف میدان ہے، اسکی شجرکاری سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہنے سے ہوتی ہے۔‘‘

۱۸ دسمبر ۲۰۲۰ء

یہ معروضی حقیقت بھی لادینی فلسفہ کے دانشوروں کیلئے پریشان کن بنی ہوئے ہے کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں علاقائی ثقافتیں ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں، جبکہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب یا نظام میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ہر حوالے سے تہذیب و ثقافت کی اس نئی تشکیل کا سامنا کر سکے۔

۱۷ دسمبر ۲۰۲۰ء

دنیا میں اسوقت کوئی معاشرہ اسلامی اقدار وروایات کی مکمل عملداری کا عکاس نہیں ہے، بلکہ صحیح اسلامی معاشرہ صرف کتابوں اور علمی و نظری بحثوں میں ہے۔ جبکہ علاقائی ثقافتوں کو ختم کرنے کیلئے مغربی کلچر آگے بڑھ رہا ہے، وہ نہ صرف عملی ڈھانچے کے ساتھ منظم ہے بلکہ اسکی پشت پر طاقت بھی ہے۔

۱۶ دسمبر ۲۰۲۰ء

غیرمسلم اقلیتوں سے عرض ہے کہ وہ اسلامی نظام سے خوف کھانے کی بجائے آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور مسیحی راہنما آنجہانی جوشوا فضل دین کی طرح شریعت کے نفاذ کی حمایت کریں، کیونکہ اس سے جہاں ملک میں عدل وانصاف کی فراہمی عام ہوگی وہاں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق ومفادات کا بھی تحفظ ہوگا۔

۱۵ دسمبر ۲۰۲۰ء

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نسبت و محبت کے اظہار کیلئے کرتے ہیں، رحمتوں اور برکتوں کے نزول کیلئے کرتے ہیں، اجر و ثواب کے حصول کیلئے کرتے ہیں، اللہ تعالٰی کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ مگر سب سے اہم پہلو جو ہماری نگاہوں سے اکثر اوجھل رہتا ہے وہ رہنمائی کا پہلو ہے۔

۱۴ دسمبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا طارق جمیل اسلام کے عظیم مبلغ، داعی، مصلح اور ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی علالت اور ہسپتال میں داخلہ ہم سب کے لیے باعث تشویش ہے، اللہ تعالیٰ صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں اور امت مسلمہ کو ان کی دینی و روحانی خدمات سے زیادہ دیر تک فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

۱۳ دسمبر ۲۰۲۰ء

مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار باہم گفتگو کریں اور دلیل و منطق کے ساتھ اپنے اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ یہ مناظرے کا میدان ہے، اسے قرآن کریم نے ’’مجادلہ‘‘ قرار دے کر ہدایت کی ہے کہ اگر یہ نوبت آ جائے تو اسے احسن طریقے سے انجام دو۔

۱۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

تحریک انسداد سود پاکستان کی جدوجہد: (۱) عوامی ماحول میں حلال و حرام کا شعور (۲) سود کی مروجہ صورتوں اور متبادل طریقوں کے متعلق آگاہی (۳) علماء، تجار اور وکلاء کے درمیان اشتراکِ عمل کا ماحول (۴) سودی نظام کے خلاف قانونی جدوجہد کرنے والے راہنماؤں کی سیاسی، اخلاقی اور علمی مدد۔

۱۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

خدا کی عبادت میں مگن ہو کر بندوں کے حقوق سے غافل ہو جانا بھی درست نہیں، اور بندوں کے حقوق و معاملات میں الجھ کر خدا کی بندگی سے غافل ہو جانا بھی غلط بات ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں انتہاؤں کی نفی کی اور فرمایا کہ انسان کی اصل زندگی توازن میں ہے۔

۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ و شریعت کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کے بغیر دینی راہنمائی کا عمل ایسا ہی ہے جیسے طبی تعلیم و تربیت کے بغیر میڈیکل کا کوئی شعبہ کسی عملے کے حوالے کر دیا جائے، اور ہمارے ہاں اسی کا مسلسل تقاضا جاری ہے۔

۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

سودی نظام کے بارے میں عالمی سطح پر جدید ترین ریسرچ بتا رہی ہے کہ معیشت میں عدم توازن کا اصل باعث یہی ہے، جس بنا پر بین الاقوامی معاشی ادارے قرآنی معاشی اصولوں کا حوالہ دے کر غیر سودی نظام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، مگر یہ بات قرآن کریم پر ایمان رکھنے والوں کو سمجھ نہیں آ رہی۔

۸ دسمبر ۲۰۲۰ء

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے جسکا اصولی طور پر خیرمقدم ہی کیا کیا جائیگا، مگر مسلسل ٹال مٹول اور تاخیری حربوں نے بے اعتمادی کی جو فضا بنا دی ہے اس میں یہ خیرمقدم بھی تکلف لگتا ہے، کیا معزز عدالت اس پر بھی غور کر سکے گی؟

۷ دسمبر ۲۰۲۰ء

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قرآن و سنت کی طرف عملی واپسی کے بغیر فلاح و ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور پاکستان کے قومی و معاشرتی نظام کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی دستور نے ضمانت دے رکھی ہے، اس لیے تمام طبقوں اور اداروں کو بالآخر اسی طرف لوٹنا ہو گا۔

۶ دسمبر ۲۰۲۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حقیقی منزل (۱) بیرونی مداخلت سے آزادی، (۲) معاشی خودمختاری، اور (۳) دستور کی بالادستی و عملداری ہے۔ اس کے لیے جدوجہد کسی بھی فورم اور عنوان سے ہو، ہر محب وطن پاکستانی کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔

۵ دسمبر ۲۰۲۰ء

جن امور پر قرآن و سنت کے احکام صریح اور واضح ہیں ان میں اپنے طور پر کوئی قانون سازی کرنا شرعی قوانین و ضوابط کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کے تقاضوں سے بھی انحراف کے مترادف ہے، قانون بنانے والے اداروں کو یہ بات ہر وقت پیش نظر رکھنی چاہیے۔

۴ دسمبر ۲۰۲۰ء

کرونا کے پھیلاؤ کا دوسرا راؤنڈ جس طرح تشویشناک بتایا جا رہا ہے اسے ہلکا سمجھ کر نظرانداز کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل کر دینا بھی ٹھیک نہیں، احتیاطی تدابیر کے ساتھ معمولات زندگی جاری رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام ضروری ہے۔

۳ دسمبر ۲۰۲۰ء

دوسری قوموں کے ساتھ نبی کریم ﷺ نے معاہدات کیے تھے، نبھائے تھے اور حالات تبدیل ہونے پر ختم بھی کیے تھے، مگر یہ مسلمانوں کا معاشرتی ماحول تبدیل کرنے کی بجائے اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ کا باعث بنے تھے۔ مسلم حکومتوں کو بین الاقوامی معاہدات میں یہ پہلو بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔

۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

مولانا فضل الرحمان کی جدوجہد کا اولین مقصد دستور کی بالادستی اور عملداری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قومی سیاست میں علماء کرام کے متحرک کردار کا تسلسل قائم رکھنا بھی ہے۔ اور یہ وہ ملی ضرورت ہے جس کا دینی حلقوں کو ہر وقت ادراک و احساس رہنا چاہیے۔

یکم دسمبر ۲۰۲۰ء

دنیا میں اسلام کی دعوت اور تبلیغ کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔ اگر ہم ہدایت کے ان دو عظیم سر چشموں کی طرف نسلِ انسانی کی رہبری کر سکیں تو یہ اس دور میں اسلام کی صحیح خدمت ہو گی۔

۳۰ نومبر ۲۰۲۰ء

سودی نظام کے خاتمے کی جدوجہد دستوری تقاضا ہونے کے باوجود مسلسل کنفیوژن کا شکار ہے، اسی سے دستور کے دیگر شرعی تقاضوں کا حال معلوم کیا جا سکتا ہے اور ہمارے ہاں دستور کی بالادستی اور عملداری کی اہمیت کا صحیح طور پر اندازہ ہوتا ہے جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

۲۹ نومبر ۲۰۲۰ء

دینی استقامت، علمی ثقاہت، حریتِ فکر، جہدِ مسلسل، اعتدال و توازن، اور روحانیت کا ذوق دیوبندیت کے امتیازات ہیں۔ اسی لیے عالمِ کفر اس سے خائف ہے کہ وہ دین کے ہر پہلو کی طرف متوجہ رہتی ہے اور کسی حالت میں بھی میدان نہیں چھوڑتی۔

۲۸ نومبر ۲۰۲۰ء

کرونا کی دوسری لہر بھی کم تشویشناک نہیں ہے مگر باقی تمام شعبوں میں مناسب ایس او پیز کے ساتھ معمولات زندگی جاری رکھتے ہوئے صرف تعلیم کے شعبے کو معطل کر دینا قابلِ فہم نہیں ہے اور تعلیم کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے جس پر بہرحال نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس پر سنجیدہ توجہ درکار ہے۔

۲۷ نومبر ۲۰۲۰ء

اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ کے بغیر ہمارے لیے کامیابی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہم اس میں جس قدر تاخیر اور ٹال مٹول کرتے رہیں گے معاملات کو مزید بگاڑنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

۲۶ نومبر ۲۰۲۰ء

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات بار بار چھیڑنے کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کی شدت کو کم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، مگر موجودہ صورتحال میں اسے تسلیم کرنا امتِ مسلمہ کے اجتماعی موقف سے دستبردار ہونے کے مترادف ہو گا اور فلسطینیوں سے بے وفائی ہو گی۔

۲۵ نومبر ۲۰۲۰ء

زیادتی کے مجرموں کو نامرد کر دینے کا قانون اہلِ علم کی سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت اور عوام کی راہنمائی کرے کہ کہیں یہ مجرم کے لیے توبہ و اصلاح کا دروازہ بند کرنے کے مترادف تو نہیں؟

۲۴ نومبر ۲۰۲۰ء

وفاقی وزیر انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری نے یہ کہہ کر ملت کے جذبات کی ترجمانی کی ہے کہ مغرب آزادی رائے کے نام پر منافقت کر رہا ہے، اسے فرانس کے صدر کی توہین برداشت نہیں ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کو آزادیٔ رائے قرار دیا جا رہا ہے۔

۲۳ نومبر ۲۰۲۰ء

فرانسیسی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے بارے میں جو اقدامات مبینہ طور پر سامنے آرہے ہیں وہ اس کے گستاخانہ طرز عمل پر ڈھٹائی کی علامت ہیں، اور اس کی وجہ او آئی سی اور بہت سی مسلمان حکمرانوں کی بے حسی بلکہ بے حمیتی ہے جس پر صدمہ اور افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

۲۲ نومبر ۲۰۲۰ء

علامہ خادم حسین رضویؒ کا تاریخی جنازہ پاکستانی عوام کے والہانہ عشقِ رسولؐ کی علامت ہے، تحفظِ ختمِ نبوت و ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں فیصلہ کن عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتا ہے، اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کے حوالہ سے عالمی و قومی حلقوں کو اپنے طرز عمل پر نظرِثانی کی دعوت دے رہا ہے۔

۲۱ نومبر ۲۰۲۰ء

انسانی حقوق کی عالمی مہم اس وقت دو الجھنوں کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک یہ کہ مذہبی اقدار اور انسانی حقوق کو بلاوجہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور دوسری یہ کہ انسانی حقوق کا اطلاق اور عملداری نسلی، مذہبی اور علاقائی تعصبات و ترجیحات کی نذر ہو چکے ہیں، جو لمحۂ فکریہ ہے۔

۲۰ نومبر ۲۰۲۰ء

علامہ خادم حسین رضوی صاحب کی وفات سب اھل دین کےلئے صدمہ کاباعث ھے انا للہ واناالیہ راجعون انہوں نے تحفظ ناموس رسالت وختم نبوت کے محاذ پر جس جرآت وحوصلہ اور صبر واستقامت کا مسلسل مظاہرہ کیا ھے وہ لائق رشک وپیروی ھے اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں آمین یارب العالمین

۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء

کرونا کی نئی لہر تشویشناک ہے اور انسانی جان و صحت کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین صحت اور متعلقہ محکموں کی ہدایات کی پابندی کا حتی الوسع اہتمام کرنا ضروری ہے اور دوسروں کو بھی اس طرف توجہ دلانی چاہیے۔

۱۸ نومبر ۲۰۲۰ء

علماء کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات ۱۹۵۱ء اور دستور پاکستان ۱۹۷۳ء میں عوام کی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا اور پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ یہ اگر جمہوریت ہے تو آمنا وصدقنا، مگر پاکستان کا ’’حکمران طبقہ‘‘ اسے قبول کرنے پر راضی نہیں۔

۱۷ نومبر ۲۰۲۰ء

جمہوریت کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثریت کی رائے معلوم کرکے اس کے مطابق ملک کا نظام اور حکومت تشکیل دی جائے مگر کسی ملک کے عوام اسلامی نظام اور حکومت کے حق میں اکثریتی رائے دے دیں تو یہی جمہوریت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے- اس سے "جمہوریت" کا اصل ایجنڈا معلوم کیا جا سکتا ہے۔

۱۶ نومبر ۲۰۲۰ء

تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر تشدد قابل مذمت ہے۔ (۱) تحفظ ناموس رسالتؐ (۲) تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ (۳) اور دستور پاکستان کی بالادستی کی تحریکات ہماری ملی جدوجہد کا حصہ ہیں، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار دینی تقاضوں میں سے ہے۔

۱۵ نومبر ۲۰۲۰ء

ایک طرف دنیا بھر کے مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جمہوریت اور سیاست کا راستہ اختیار کریں جبکہ دوسری طرف انہیں کہا جاتا ہے وہ سیاست میں مذہب کی بات نہ کریں گویا اصل مسئلہ سیاست و جمہوریت کے فروغ کا نہیں بلکہ اسلام کو روکنے کا ہے جیسا کہ آسٹریلیا کے حالیہ قانون سے ظاہر ہوتا ہے۔

۱۴ نومبر ۲۰۲۰ء

مظلوم کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور جبر و تشدد میں مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور ہماری سیاست کاری کا حصہ بھی کم نہیں ہے۔ ہم اسے مسلمانوں اور پاکستان کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے کشمیریوں کا مسئلہ قرار دے کر ڈیل کر رہے ہیں اور یہی سارے الجھاؤ کی جڑ ہے۔

۱۳ نومبر ۲۰۲۰ء

جب تک دستور کی بالادستی اور عملداری کے لیے سب ادارے اور طبقات سنجیدہ نہیں ہوتے قومی مشکلات و مسائل کے حل کی کوئی صورت نکلنے والی نہیں، اگر ہم فی الواقع مشکلات کے بھنور سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی ہوگا ورنہ خدانخواستہ اسی طرح اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے۔

۱۲ نومبر ۲۰۲۰ء

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کا احترام بحال کرائیں گے۔ بہت اچھی بات ہے مگر اس کے ساتھ وہ اعتماد کو بھی شامل کر لیں اور اس کے لیے سابق امریکی صدور جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن اور ابراھام لنکن کے موقف و کردار کو مشعلِ راہ بنا لیں تو یہ کام مشکل نہیں ہے۔

Pages