حضرت مولانا حمد اللہؒ

استاذ العلماء حضرت مولانا حمد اللہ صاحب آف ڈاگئی کی وفات حسرت آیات کی خبر مجھے کراچی کے سفر کے دوران ملی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے ان پرانے بزرگوں میں ایک اہم شخصیت تھے جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم میں بھی مرجع اور راہنما کی حیثیت حاصل تھی اور بہت سے مشکل معاملات و مسائل میں ان سے رجوع کر کے اطمینان ہو جاتا تھا کہ متعلقہ مسئلہ و معاملہ کا صحیح رخ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حمد اللہؒ

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت کا معاملہ

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام کراچی میں گزارنے کا معمول ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے، اس سال بھی گزشتہ ہفتہ میں چار پانچ روز کراچی میں رہ کر گیا ہوں جس میں میرا بڑا پوتا حافظ محمد طلال خان بھی ہمراہ تھا، اس سفر کی تفصیلات ابھی قلمبند نہیں کر سکا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ارشاد پر دوبارہ کراچی حاضری ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی جماعت کا معاملہ

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

۱۱ جنوری ۲۰۱۹ء

حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں سیمینار

گزشتہ اتوار کو جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ مولانا رشید میاں صدارت کر رہے تھے، سینیٹر مولانا عطاء الرحمان مہمان خصوصی تھے اور بہت سے فاضل مقررین نے حضرت رحمہ اللہ تعالٰی کی دینی و قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اسی روز مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کی دختر کا نکاح تھا، میں جب وہاں سے فارغ ہو کر جامعہ مدنیہ پہنچا تو مولانا نعیم الدین کا خطاب جاری تھا اور وہ مولانا سید محمد میاںؒ کی علمی و دینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں سیمینار

۸ جنوری ۲۰۱۹ء

ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کا تحفظ ناموس رسالتؐ سیمینار

میں سب سے پہلے گوجرانوالہ کے وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار کو اس حالیہ کامیابی پر مبارکباد پیش کروں گا جو گوجرانوالہ میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ قائم کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے حاصل کی ہے۔ یہ گوجرانوالہ ڈویژن کے عوام کا حق اور وکلاء کا جائز مطالبہ تھا جسے پورا کرنے پر حکومت بھی تحسین کی مستحق ہے۔ تحفظ ناموس رسالتؐ کے عنوان پر وکلاء کا یہ سیمینار آپ حضرات کے ایمانی ذوق اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے۔ گوجرانوالہ کے وکلاء نے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی جدوجہد میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کا تحفظ ناموس رسالتؐ سیمینار

۵ جنوری ۲۰۱۹ء

عالمی استعمار کے روبوٹس اور افغان طالبان کا امتحان

افغان طالبان کی طرف سے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات سے دوٹوک انکار پر اس بات پر اطمینان میں اضافہ ہوا ہے کہ تاریخ کا عمل اگرچہ سست رفتار ہے مگر اس کا رخ صحیح سمت ہے اور دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایک عرصہ سے افغان طالبان پر یہ دباؤ تھا کہ وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کریں یا کم از کم مذاکرات کے عمل میں اسے شمولیت کا موقع دیں، مگر امارت اسلامیہ افغانستان نے گزشتہ روز حتمی طور پر واضح کر دیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی استعمار کے روبوٹس اور افغان طالبان کا امتحان

۴ جنوری ۲۰۱۹ء

شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کالم میں ہم نے شکریہ ادا کیا تو بعض دوستوں نے اس پر الجھن کا اظہا رکیا، مگر اب اس سے بڑا ایک شکریہ ادا کرنے کو جی چاہ رہا ہے اس لیے ان احباب سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اپنے حالیہ دورۂ بغداد کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی پولیس مین کے کردار کے اختتام کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

۳۰ دسمبر ۲۰۱۸ء

دہشت گردی کے بعد رجعت پسندی کے خلاف جنگ

ایک مقتدر شخصیت کا یہ بیان پڑھ کر ذہن میں ایک نیا مخمصہ ابھر آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے بعد اب رجعت پسندی سے جنگ ہوگی۔ خدا جانے ان کے سامنے رجعت پسندی کا کونسا نقشہ ہے مگر یہ بات بہرحال فکر و نظر کو متوجہ کرنے لگی ہے کہ دہشت گردی کا تو ابھی تک کوئی واضح مفہوم طے نہیں پا سکا اور عالمی، علاقائی یا قومی دائروں میں یہ فیصلہ بہرحال ارباب حل و عقد کے ہاتھ میں ہی ہے کہ وہ جسے چاہیں دہشت گرد قرار دے کر قابل گردن زدنی ٹھہرا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے بعد رجعت پسندی کے خلاف جنگ

۲۶ دسمبر ۲۰۱۸ء

جھگی نشینوں کی تعلیم و اصلاح کا ایک اچھا منصوبہ

۱۶ دسمبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کا ایک سیمینار ہوا جس میں مجھے بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی اور میں نے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ یہ ٹرسٹ چند علماء کرام اور ان کے رفقاء پر مشتمل ہے جن میں ہمارے بعض شاگرد اور ساتھی بھی شریک ہیں جو ’’جھگی تعلیمی پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے خانہ بدوشوں میں اصلاح و ترقی اور تعلیم و تربیت کے حوالہ سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جھگی نشینوں کی تعلیم و اصلاح کا ایک اچھا منصوبہ

۲۲ دسمبر ۲۰۱۸ء

مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ ۔ عظیم مؤرخ اور مفکر

جمعیۃ علماء ہند کے قیام کو ایک صدی مکمل ہونے پر انڈیا میں صد سالہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور جمعیۃ کے بزرگ اکابر کی یاد میں مختلف سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے سرگرم راہنما، مؤرخ اور مفکر حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار کی مناسبت سے حضرتؒ کے ساتھ عقیدت اور چند ملاقاتوں کے تاثرات پر مشتمل کچھ گزارشات قلمبند ہوگئیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ ۔ عظیم مؤرخ اور مفکر

۱۸ دسمبر ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔