چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت

میرے نانا جی محترم مولانا محمد اکبرؒ کا تعلق راجپوت جنجوعہ فیملی سے تھا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا اور تو وہ موجودہ تھانہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کے عقبی محلہ کی ایک مسجد میں امام و خطیب تھے اور مسجد کے مکان میں ہی ان کی رہائش تھی۔ ان کی وفات تک یہ محلہ میرے کھیل کود اور بچپن کی سرگرمیوں کی جولانگاہ رہا۔ وہ قرآن کریم معروف لہجے میں اچھی طرز سے پڑھتے تھے جو اس دور میں کمیاب تھا۔ مطالعہ کے شوق کے ساتھ ساتھ اس کا عمدہ ذوق بھی رکھتے تھے، دہلی کا ماہنامہ برہان اور لکھنؤ کے دو رسالے النجم اور الفرقان ان کے پاس پابندی سے آتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت

۱۹ جولائی ۲۰۱۸ء

خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

آج ۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

۱۷ جولائی ۲۰۱۸ء

افغان حکومت اور طالبان کے مبینہ مذاکرات ۔ دو اہم موقف

۱۲ جولائی کے قومی اخبارات میں اے ایف پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام ۱۰۰ کے لگ بھگ مسلم اسکالرز کے ایک اجتماع میں افغان حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان نے بھی اس سلسلہ میں اپنا موقف جاری کیا ہے، صورتحال کو معروضی تناظر میں صحیح طور پر سمجھنے کے لیے دونوں کا مطالعہ ضروری ہے اس لیے ہم سردست یہ دونوں موقف قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان حکومت اور طالبان کے مبینہ مذاکرات ۔ دو اہم موقف

۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء

علماء کرام اور انتخابی سیاست

آج کل ملک بھر میں عام انتخابات کی گہماگہمی ہے متحدہ مجلس عمل سمیت بہت سی دینی جماعتیں اس معرکہ میں شریک ہیں۔ اس سلسلہ میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو ایک سوال کا عام طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے کہ علماء کرام کا انتخابی سیاست اور جمہوری عمل سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال دو طرف سے ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا کام لوگوں کو نماز پڑھانا، دین کی تعلیم دینا اور ان کی دینی و اخلاقی راہنمائی کرنا ہے، سیاست ان کے دائرہ کار کی چیز نہیں ہے اس لیے انہیں اس جھمیلے میں پڑے بغیر اپنے کام کو مسجد و مدرسہ تک محدود رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام اور انتخابی سیاست

۱۱ جولائی ۲۰۱۸ء

میاں محمد نواز شریف کو سزا کا ایک توجہ طلب پہلو

میاں نواز شریف کو ان کی بیٹی اور داماد سمیت جو سزا سنائی گئی ہے اس پر ایک عرصہ تک تبصروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے اٹھارہ برس قبل جب میاں صاحب موصوف کو طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی تھی تو اس وقت کے حالات کی روشنی میں ایک کالم میں اس پر ہم نے تبصرہ کیا تھا جو ۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء کو روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں شائع ہوا تھا، اسے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں محمد نواز شریف کو سزا کا ایک توجہ طلب پہلو

۸ جولائی ۲۰۱۸ء

انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی تقاضوں کی پاسداری کا وعدہ لیا جائے

بحمد اللہ تعالیٰ پاکستان شریعت کونسل کی اس تجویز کو مسلسل پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی مقاصد کے لیے تحریری وعدہ لینے کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ الیکشن کے اصل مقاصد کی طرف ملک کے منتخب نمائندوں کو توجہ دلائی جا سکے اور جس کام کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا ہے متعلقہ اسمبلیوں میں وہ اس کی انجام دہی کا اہتمام کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی تقاضوں کی پاسداری کا وعدہ لیا جائے

۶ جولائی ۲۰۱۸ء

دینی مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

وہ طلبہ اور طالبات خوش قسمت ہیں جو کسی بھی مدرسہ میں اور کسی بھی درجہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر وہ طلباء اس لحاظ سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو دینی اور عصری تعلیم دونوں اکٹھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دونوں تعلیمیں ہماری ضرورت ہیں اور قرآن کریم نے ’’فی الدنیا حسنۃ‘‘ اور ’’فی الآخرۃ حسنۃ‘‘ کی دعا سکھا کر یہ سبق دیا ہے کہ دین و دنیا دونوں ضروری ہیں۔ انسان جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہے، ہم عصری علوم میں جو کچھ سیکھتے ہیں وہ ہمارے جسم کی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے اور دینی علوم میں جسم کے ساتھ ساتھ روح کی ضروریات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۲ جولائی ۲۰۱۸ء

عام انتخابات اور دینی حلقے

ماہِ رواں پاکستان میں عام انتخابات کا مہینہ ہے، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ۲۵ جولائی کو ملک بھر میں عوام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کریں گے اور اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیاں اگلے پانچ سال کے لیے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیں گی۔ انتخابات کا انعقاد وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے جس کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد سے قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان کے طے کردہ اس اصول پر ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے جو قرآن و سنت کی راہنمائی کے پابند ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عام انتخابات اور دینی حلقے

جولائی ۲۰۱۸ء

علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

۲۲ تا ۲۴ جون ۲۰۱۸ء

دینی خدمات کا معاوضہ

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی خدمات کا معاوضہ

۱۵ جون ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔