’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘

یہ بات اس حد تک درست ہے کہ اسلام کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور اس دین نے قیامت تک باقی اور محفوظ رہنا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمارے عقیدے و ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کریم مکمل اور محفوظ حالت میں رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور اس کی تعبیر و تشریح میں جناب نبی اکرمؐ کی حدیث و سنت کا تسلسل بھی قائم رہے گا۔ حتیٰ کہ اسلامی سوسائٹی کی عملی اور آئیڈیل شکل بھی صحابہ کرامؓ کی معاشرتی زندگی کی صورت میں تاریخ کے ریکارڈ کا بدستور حصہ رہے گی۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اور دین کو کسی حوالہ سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا؟ ۔ ۔ ۔

29 مارچ 2017ء

یوم پاکستان ۲۰۱۷ء

حتیٰ کہ اب یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا جا رہا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگانے میں اور پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین نافذ کرنے کے اعلان میں تحریک پاکستان کی قیادت سنجیدہ نہیں تھی بلکہ صرف وقتی سیاست کی خاطر ایسا کیا گیا تھا۔ اگرچہ درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے ارشادات اور سابق وزیراعظم خان محمد لیاقت خان شہید کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد مقاصد اس خیال کی نفی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

25 مارچ 2017ء

اہانتِ رسولؐ پر ایک صحابیؓ کا طرز عمل

صحابیٔ رسولؐ حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ جہاد کے ایک سفر میں وہ آنحضرتؐ کے ساتھ تھے اور عبد اللہ بن ابی بھی چند ساتھیوں کے ساتھ شریک تھا۔ ایک مقام پر مہاجرینؓ اور انصارؓ کے چند لوگوں میں کسی بات پر تنازعہ ہوگیا جس پر عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ مہاجرین جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہوئے ہیں ان کا معاملہ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے انصار مدینہ ان مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کا سلسلہ روک دینا چاہیے تاکہ یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ۔ ۔ ۔

19 مارچ 2017ء

وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی ۔ ۔ ۔

17 مارچ 2017ء

انسدادِ سود قومی کنونشن

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی زیرصدارت منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حامد میر، مولانا اشرف علی، جناب عبد اللہ گل، اعجاز احمد چودھری، مفتی محمد سعید خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم خان اور جناب اسد اللہ بھٹو کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، جماعت الدعوہ پاکستان، پاکستان عوامی تحریک، وفاق العلماء الشیعہ اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہنما شامل ہیں۔ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا اعلامیہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔

15 مارچ 2017ء

جمعیۃ علماء اسلام کا تعارف ۔ مولانا مفتی محمودؒ کے قلم سے

اپریل کے پہلے عشرہ کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’عالمی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ وطن عزیز کی موجودہ عمومی صورتحال خاص طور پر ملک کے نظریاتی تشخص، اسلامی تہذیب و معاشرت اور دستور و قانون کی اسلامی دفعات کے خلاف بین الاقوامی اور ملکی سیکولر لابیاں جس طرح ہر سطح پر متحرک ہیں اس کے پیش نظر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا یہ اجتماع، بلکہ کسی بھی دینی حوالہ سے اس نوعیت کے عوامی اجتماعات قومی اور ملی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

12 مارچ 2017ء

صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔

9 مارچ 2017ء

’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے ۔ ۔ ۔

3 مارچ 2017ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں سیمینار

میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔

یکم مارچ 2017ء

عربی زبان کی تعلیم اور ہمارے قومی ادارے

روزنامہ اسلام لاہور میں ۱۷ فروری ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے ارکان نے ’’عربی بل ۲۰۱۵ء‘‘ کو بطور لازمی تعلیم پڑھانے پر بحث کے دوران اسے بطور مضمون نصاب میں شامل نہ کرنے کی وجہ کو دہشت گردی کا سبب قرار دیا۔ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب ہونے والی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے پیش کردہ بل کو ان کی غیر موجودگی میں ہی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا ۔ ۔ ۔

مارچ 2017ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں حوالہ جات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔