سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ایک اہم مسئلہ کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

۱۳ فروری ۲۰۱۹ء

خلافت عثمانیہ اور ہمارے اکابر

جامعہ مظاہر علوم سہارنپور (انڈیا) کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی سید شاہد الحسنی سہارنپوری کا تحریر کردہ ایک کتابچہ گزشتہ روز نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اب سے ایک صدی قبل بپا ہونے والی تحریک خلافت میں جامعہ مظاہر علوم کی سرگرمیوں اور کردار کا تعارف کرتے ہوئے اس دور کے کچھ فقہی مسائل اور مباحث کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ ہماری ملی تحریک اور جدوجہد آزادی کا ایک اہم ریکارڈ ہے جس کا مطالعہ ہر دینی کارکن کو کرنا چاہیے البتہ اس میں سے چند باتیں قارئین کے علم میں لانے کے لیے اس کالم میں نقل کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ اور ہمارے اکابر

۱۲ فروری ۲۰۱۹ء

مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں؟

ان دنوں جہاں بھی جا رہا ہوں ایک سوال کا کم و بیش ہر جگہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں اور ان کا رخ کدھر ہے؟ میرا جواب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ رخ تو ان کا صحیح سمت ہی ہے البتہ رفتار اور لہجے کے بارے میں کبھی کبھی سوچنے لگ جاتا ہوں کہ کیا وہ ضرورت سے زائد تو نہیں ہے؟ ہماری مقتدر قوتوں اور میڈیا دونوں کی یہ مجبوری چلی آرہی ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے وہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کے تناسب کو کم سے کم کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے، مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں؟

۹ فروری ۲۰۱۹ء

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

۸ فروری ۲۰۱۹ء

سانحۂ ساہیوال اور ریاستی نظامِ امن و عدل

سانحۂ ساہیوال نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کا ارتعاش قومی زندگی میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ جس طرح ایک پر امن فیملی کو جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا گیا اس نے امن و امان اور عدل و انصاف کے نظام پر ایک عرصہ سے چلے آنے والے سوالیہ نشان کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ قوم کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کی ایک جھلک آج کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی درج ذیل خبروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ ساہیوال اور ریاستی نظامِ امن و عدل

۲۶ جنوری ۲۰۱۹ء

نواستعماری عزائم اور ایجنڈے پر دو اہم کتابیں

بہت سے احباب کو بعض معاملات میں مجھ سے شکایت رہتی ہے مگر ان دوستوں کے تمام تر خلوص و محبت کے باوجود ایسی شکایات کا ازالہ میرے بس میں نہیں ہوتا۔ مثلاً وقتاً فوقتاً مختلف مقامات میں دینی و علمی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں تو وہاں کے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب کے حوالہ سے کالم لکھوں اور اس میں کی جانے والی گفتگو بھی ریکارڈ میں لاؤں، جو کہ اس لیے ناقابل عمل ہو جاتا ہے کہ یہ کالم پھر اسی کام کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور باقی اہم موضوعات نظرانداز ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نواستعماری عزائم اور ایجنڈے پر دو اہم کتابیں

۲۲ جنوری ۲۰۱۹ء

سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی اور الاقتصاد اسلامک سوسائٹی کی تقریبات میں شرکت

جنوری کو دو اہم تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ہال میں سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی کے زیر اہتمام مضمون نویسی کے ایک بین الاقوامی مقابلہ کی تکمیل پر انعامات کی تقسیم کے لیے سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی اور اس سے دیگر ممتاز اصحاب فکر و دانش کے علاوہ معروف اسکالر جناب احمد جاوید نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی اور الاقتصاد اسلامک سوسائٹی کی تقریبات میں شرکت

۱۸ جنوری ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت کا معاملہ

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام کراچی میں گزارنے کا معمول ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے، اس سال بھی گزشتہ ہفتہ میں چار پانچ روز کراچی میں رہ کر گیا ہوں جس میں میرا بڑا پوتا حافظ محمد طلال خان بھی ہمراہ تھا، اس سفر کی تفصیلات ابھی قلمبند نہیں کر سکا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ارشاد پر دوبارہ کراچی حاضری ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی جماعت کا معاملہ

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

حضرت مولانا حمد اللہؒ

استاذ العلماء حضرت مولانا حمد اللہ صاحب آف ڈاگئی کی وفات حسرت آیات کی خبر مجھے کراچی کے سفر کے دوران ملی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے ان پرانے بزرگوں میں ایک اہم شخصیت تھے جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم میں بھی مرجع اور راہنما کی حیثیت حاصل تھی اور بہت سے مشکل معاملات و مسائل میں ان سے رجوع کر کے اطمینان ہو جاتا تھا کہ متعلقہ مسئلہ و معاملہ کا صحیح رخ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حمد اللہؒ

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

۱۱ جنوری ۲۰۱۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔