افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان کے بعد افغان تنازعہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی میز بچھانے کے لیے ازسرنو کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ میں نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لینے سے قبل اب تک کی مجموعی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ضروری محسوس ہوتا ہے اس لیے ہم اپنے ایک طویل تجزیاتی مضمون کے کچھ متعلقہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان تنازعہ کا تاریخی پس منظر اور اس کا نیا راؤنڈ

۱۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر کو یومِ ختم نبوت تھا، بحمد اللہ تعالٰی دونوں دن خاصی مصروف رہی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہمارے قومی فرائض میں سے ہے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی اہم ترین ملی تقاضا ہے چنانچہ ملک بھر میں دونوں حوالوں سے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا گیا جس میں تھوڑا بہت ہمارا حصہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

وزیراعظم جناب عمران خان کے ساتھ مجوزہ ملاقات اور ہماری معذرت کے بارے میں مختلف تبصرے مسلسل سامنے آرہے ہیں، بہت سے دوست اس معذرت سے اتفاق کر رہے ہیں اور اختلاف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ دونوں طرف مخلصین ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی بات کہہ رہے ہیں اور دلائل و قرائن بھی کسی کے کمزور نہیں ہیں مگر چونکہ سوالات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صورتحال رونما ہوئی وہ قارئین کے سامنے رکھ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیر اعظم سے مجوزہ ملاقات۔ ایک ضروری وضاحت

۹ ستمبر ۲۰۱۸ء

مولانا جلال الدین حقانیؒ

مولانا جلال الدین حقانیؒ کی وفات کی خبر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اس کے ساتھ ہی جہادِ افغانستان کے مختلف مراحل نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ہیں۔ مولانا جلال الدین حقانیؒ جہاد افغانستان کے ان معماروں میں سے تھے جنہوں نے انتہائی صبر و حوصلہ اور عزم و استقامت کے ساتھ نہ صرف افغان قوم کو سوویت یونین کی مسلح جارحیت کے خلاف صف آرا کیا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے افغان جہاد میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں اور مجاہدین کی سرپرستی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا جلال الدین حقانیؒ

۶ ستمبر ۲۰۱۸ء

قادیانیوں کی پاکستان کے لیے ’’خدمات‘‘

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے اقتصادی و معاشی معاملات کے حوالہ سے جو ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے، اس لیے اس کونسل میں ان کی شمولیت درست نہیں ہے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نام کونسل سے خارج کر دیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی کا بے جا اظہار ہے اور مطالبہ کرنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کی پاکستان کے لیے ’’خدمات‘‘

۴ ستمبر ۲۰۱۸ء

نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا ہے اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کی ریلی کے اسلام آباد پہنچنے پر تحریک کے راہنما پیر محمد افضل قادری کو مذاکرات میں بتایا ہے کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے انہیں فون پر اطلاع کی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

یکم ستمبر ۲۰۱۸ء

نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم

سینٹ آف پاکستان نے ناموس رسالتؐ کے حوالہ سے ہالینڈ (نیدرلینڈز) میں دس نومبر کو منعقد کی جانے والی گستاخانہ خاکوں کی مجوزہ نمائش کی مذمت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتنا پیار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم

۲۹ اگست ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

عید الاضحٰی کے موقع پر دینی مدارس کے لیے قربانی کی کھالوں کا مسئلہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی کا میدان بنا رہا اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں، مقدمات اور چھاپوں کا سلسلہ رہا۔ جبکہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت کے بارے میں انتظامیہ کا رویہ بھی حوصلہ افزا اور آبرومندانہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور قربانی کی کھالیں ۔ دو اہم تجویزیں

۲۷ اگست ۲۰۱۸ء

ترکی پر امریکہ کا معاشی حملہ اور عہدِ نبویؐ کی چند جھلکیاں

ترکی کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ سے ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جو دلچسپ انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کو ترکی سے یہ شکایت ہے کہ وہ پون صدی تک مغرب کی ہاں میں ہاں ملانے اور اس کے ایجنڈے کے ساتھ چلتے رہنے کے بعد اب کچھ فیصلے آزادانہ بھی کرنے لگا ہے، جس سے امریکہ اور یورپی یونین کو صرف ترکی یا یورپ کی حد تک نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں اس بغاوت کے اثرات وسیع ہوتے چلے جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی پر امریکہ کا معاشی حملہ اور عہدِ نبویؐ کی چند جھلکیاں

۲۵ اگست ۲۰۱۸ء

مدینہ منورہ طرز کی فلاحی ریاست

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان کی پہلی نشری تقریر کو ملک بھر میں پوری توجہ کے ساتھ سنا گیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو ظاہر ہے کہ کافی دیر تک چلتا رہے گا۔ مجھ سے بعض دوستوں نے تقریر کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ تقریر کے طور پر تو بہت اچھی تقریر ہے اور جناب وزیر اعظم نے اس تقریر میں جن خواہشات کا اظہار کیا ہے اگر ان کے دس فیصد پر بھی وہ عمل کر پائے تو میں اسے ان کی کامیابی سمجھوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدینہ منورہ طرز کی فلاحی ریاست

۲۴ اگست ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔