محسنِ ملت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت

محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایٹمی سائنسدان کے طور پر انہوں نے وطن عزیز اور عالمِ اسلام کی جو خدمت کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس پر انہیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنا کہلانے والوں کی طرف سے کردارکشی اور حوصلہ شکنی کے جن کربناک مراحل سے گزرنا پڑا وہ بھی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم حکومتیں اور اسلامی نظام

آج میں آپ حضرات کو موجودہ معروضی حالات میں اسلام کے قانون و نظام کو کسی بھی سطح پر تسلیم کرنے والی مسلم حکومتوں کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کے دستور و قانون میں اسلام کا نام شامل ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومتیں اور ریاستیں ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ایران تو سب کے سامنے ہیں البتہ مراکش میں بھی سربراہ مملکت کو امیر المؤمنین کہا جاتا ہے جس کا پس منظر اس وقت میرے سامنے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان کو منظم کرنے کا فیصلہ

۱۶ ستمبر کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کا ایک اہم اجلاس ’’تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان‘‘ کی دعوت پر منعقد ہوا، جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، اس فورم کا قیام متنازع اوقاف قوانین کے نفاذ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف فکر کے سرکردہ علماء کرام کی مشترکہ کاوشوں سے عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے تحت اس قانون پر عملدرآمد کو رکوانے کے لیے مؤثر جدوجہد کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۲۱ء

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

چھ اور سات ستمبر کی ختم نبوت کانفرنسوں کی اہمیت و ضرورت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور سات ستمبر کو مینارِ پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں جو تاریخی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلہ میں یہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام کے تحفظ اور مسجد و مدرسہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے جو مراحل اس وقت درپیش ہیں ان میں یہ بات سب دوستوں کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان میں طالبان کا نیا دور۔ توقعات و خدشات

کابل میں طالبان کے پُراَمن داخلہ پر اطمینان و مسرت کے اظہار کے لیے آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طلبہ نے قرآن خوانی کا اہتمام کیا، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں طلبہ نے مکمل قرآن کریم کی قراءت کی اور جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کے شہداء اور مرحوم راہنماؤں کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے درج ذیل خطاب کیا اور بزرگ استاذ مولانا عبد القیوم گلگتی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات

آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

فرقانِ حمید اور فاروقِ اعظمؓ

قرآنِ کریم نے اپنا دوسرا نام ’’الفرقان‘‘ بتایا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’الفاروق‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، دونوں کا معنٰی حق و باطل میں فرق کرنے والا بنتا ہے۔ جبکہ اس لفظی مناسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زندگی بھر کا طرز عمل بھی اس مشابہت و مماثلت کی گواہی دیتا ہے جس کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۱ء

Pages

Flag Counter