نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں حوالہ جات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔

اکبر بادشاہ کا دینِ الٰہی اور حضرت مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد، آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

حضرت مجدد الفؒ ثانی کی حیات د خدمات کے بارے میں ارباب فکر و دانش اس محفل میں اظہار خیال کر رہے ہیں جو حضرت مجددؒ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے ہوگی، میں ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مجددؒ نے اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دین الٰہی‘‘ کو اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ دین الٰہی کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں حضرت مجددؒ کی جدوجہد کیا تھی؟ اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کے خدوخال اور حدود اربعہ کے بارے میں تاریخ بہت کچھ بتاتی ہے جسے میں چار دائروں یا مراحل میں تقسیم کروں گا ۔ ۔ ۔

28 نومبر 2016ء

چند وفیات

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی، گوجرانوالہ۔ حضرت مولانا محمد یعقوبؒ ربانی، فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ۔ مولانا محمد اسماعیل محمدیؒ، رانا ٹاؤن، شیخوپورہ۔ مولانا غلام رسول شوقؒ، کوٹلہ، ضلع گجرات۔ مولانا عبد الرؤفؒ، تھب، باغ، آزاد کشمیر۔

27 نومبر 2016ء

پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی خدمت میں یکم اگست 2016ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے میں نے ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے۔ ’’گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز اور جمعۃ المبارک جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ مسجد اب بھی بارونق و آباد ہے ۔ ۔ ۔

22 نومبر 2016ء

مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کا فلسفہ و فکر

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے ۔ ۔ ۔

19 نومبر 2016ء

تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس

ہمیں اپنے بزرگوں سے صحیح استفادہ کے لیے اس نفسیات اور مزاج کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اکابر کی زندگیوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا چاہیے جن کا تعلق امت کی اجتماعی راہنمائی سے ہے اور جن سے نئی نسل کو اس کی تربیت و اصلاح کے لیے آگاہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جدوجہد، افکار و تعلیمات اور حوصلہ و کردار کے بارے میں چند گزارشات اس موقع پر میں نے پیش کیں جس کی کچھ تفصیل ایک مستقل کالم کی صورت میں سامنے لانے کا ارادہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔

15 نومبر 2016ء

مذہبی منافرت کا سدباب ۔ قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

اجلاس کے دوران دینی مدارس کے نصابات کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور ارکان نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں: (۱) نصاب تعلیم کا جائزہ صرف دینی مدارس کے حوالہ سے کافی نہیں بلکہ ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر اس وقت رائج تمام نصابوں کا دو حوالوں سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ درجنوں قسم کے الگ الگ نصابات ملک میں جاری ہیں جن کے اہداف اور نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور معاشرہ میں ذہنی اور تہذیبی خلفشار کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔

12 نومبر 2016ء

نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودات

میں نے عرض کیا کہ نفاذ شریعت کے حوالہ سے پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا ہوم ورک اور فائل ورک اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت ہو تو ہمارا یہ ہوم ورک اس کے لیے بنیادی اور اصولی راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان کے دور حکومت میں مجھے قندھار جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے ان کے ذمہ داران کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان میں اب تک ہونے والے ہوم ورک سے استفادہ کریں اور اسے سامنے رکھ کر افغانستان کے ماحول اور ضروریات کے دائرے میں اسلامائزیشن کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔

8 نومبر 2016ء

عالمی معاہدات اور طیب اردگان کی صدائے احتجاج

کم و بیش نصف صدی قبل انڈونیشیا کے صدر عبد الرحیم احمد سوئیکارنو نے بغاوت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی تھی مگر کسی طرف سے بھی حمایت نہ پا کر ’’پہلی تنخواہ پر گزارہ‘‘ کرنے میں ہی عافیت محسوس کی تھی۔ اس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد مغرب کے اس معاہداتی جبر اور اقوام متحدہ کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف اپنے دور حکومت میں آواز بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ دیکھ کر خاموش ہوگئے۔ اب ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان اس میدان میں آئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے اس کھلی دھاندلی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ ۔ ۔

4 نومبر 2016ء

ہزارہ کا سفر اور صفہ اکیڈمی مانسہرہ کا منصوبہ

صفہ اکیڈمی کا یہ طریق کار مجھے بہت پسند آیا بلکہ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کی ایک پرانی تجویز یاد آگئی کہ بڑے دینی مدارس کو اپنی اقامت گاہوں میں ایسے بچوں کے لیے بھی کمرے تعمیر کرنے چاہئیں جن کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی توفیق نہ رکھتے ہوں۔ وہ تعلیم تو سکولوں اور کالجوں میں حاصل کریں مگر دینی ماحول اور اخراجات کی کفالت ساتھ ساتھ ضروری دینی تعلیم کا ان کے لیے انتظام کر دیا جائے۔ یوں وہ قومی زندگی کے جس شعبے میں جائیں گے ایک فرض شناس مسلمان کے طور پر جائیں گے اور اپنے مدرسہ و مسلک کے نمائندہ بھی ہوں گے ۔ ۔ ۔

یکم نومبر 2016ء

ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۰۱۶ء

چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس 27و 28 اکتوبر کو منعقد ہو رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ راہنما اس سے خطاب کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کو ایک عرصہ تک اس کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے بلکہ یہ سعادت اس دور میں بھی حاصل رہی ہے جب یہ کانفرنس چنیوٹ کے میونسپل ہال میں منعقد ہوا کرتی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سے محروم ہوں جس کی وجہ چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا وہ حکم نامہ ہے جو چند دیگر علماء کرام سمیت مجھ پر ہر ایسے اجتماع سے قبل لاگو ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔

28 اکتوبر 2016ء

Pages