افغان طالبان کو شاہ محمود قریشی کا مشورہ

وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہیں اور افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے کہا ہے کہ انہیں ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ افغان مسئلہ کے فوجی حل کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو عسکری یلغار کی تھی اس کی ناکامی کا اعتراف خود امریکی جرنیل متعدد بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان کو شاہ محمود قریشی کا مشورہ

۱۱ دسمبر ۲۰۱۸ء

آسیہ مسیح کیس کا سماجی تناظر

مولانا مفتی منیب الرحمان نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آسیہ مسیح کیس میں عدالت عظمٰی کے فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل کی جلد سماعت شروع کی جائے اور اس کے لیے فل بنچ قائم کیا جائے۔ مفتی صاحب محترم کا یہ تقاضہ درست ہے اور ہماری گزارش بھی یہی ہے کہ عدالت عظمٰی کو اس پر سنجیدہ اور فوری توجہ دینی چاہیے جبکہ اس کے ساتھ چند دیگر متعلقہ امور کی طرف بھی دلانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ فیصلہ تین حوالوں سے توجہ طلب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسیہ مسیح کیس کا سماجی تناظر

۸ دسمبر ۲۰۱۸ء

تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل

تبلیغی جماعت دعوتِ اسلام کی عالمی تحریک ہے جو دنیا بھر میں دینی تعلیمات و روایات کی طرف مسلمانوں کی واپسی کے لیے ہر سطح پر محنت کر رہی ہے اور اس کی کاوش و برکت سے بحمد اللہ تعالٰی ہر جگہ دینی معمولات اور ماحول کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ مگر جوں جوں اس محنت میں توسیع اور پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اسی حساب سے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جو فطری امر ہے اور کسی بھی تحریک کے اس درجہ وسعت اختیار کرنے کی صورت میں عموماً ایسے ہو جایا کرتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط اور مثبت رویہ کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل

۴ دسمبر ۲۰۱۸ء

اسلام آباد میں انسانی حقوق کا سہ روزہ

گزشتہ ہفتہ کے آخری تین دن اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ماحول میں گزرے، حافظ محمد حذیفہ خان سواتی اور مفتی محمد عثمان جتوئی ہمراہ تھے۔ ہم نے شریعہ اکادمی کے تحت منعقد ہونے والی تین روزہ ورکشاپ میں شرکت کی جو ’’حقوق انسانی کا قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر منعقد ہوئی۔ جس کے لیے شریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اور ڈاکٹر حبیب الرحمان کا ذوق و محنت بڑا محرک تھا جبکہ معاونین میں مولانا محمد ادریس اور جناب اصغر شہزاد کی مساعی کارفرما تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد میں انسانی حقوق کا سہ روزہ

یکم دسمبر ۲۰۱۸ء

بعض ریاستی اداروں کا سوال طلب طرز عمل

گیارہ اور بارہ ربیع الاول کو اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی سیرت کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مجھے موصول ہوگیا تھا اور میں نے شرکت کا فیصلہ کر کے اپنی عادت کے مطابق اس سے پہلے اور بعد اس علاقہ میں چند مزید پروگرام بھی سفر کی ترتیب میں شامل کر لیے تھے، مگر دو روز قبل ایک واقعہ ہوا جس کے باعث میں نے کانفرنس میں شرکت کا ارادہ منسوخ کر دیا البتہ دیگر سب پروگراموں میں حاضری دی اور دو تین دن مسلسل اسلام آباد میں ہی رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بعض ریاستی اداروں کا سوال طلب طرز عمل

۲۷ نومبر ۲۰۱۸ء

سیرت کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کی تقریر

وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے جو گفتگو کی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے، ریاستِ مدینہ کے حوالے سے، فلاحی ریاست کے حوالے سے، اور اس حوالے سے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے، اور یہ بات کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا یہ دونوں آزادی رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتے، اور اس پر پاکستان کی حکومت کا یہ اعلان کہ ہم دنیا بھر میں کمپین کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیرت کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کی تقریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۸ء

حضرت حاجی عبد الوہابؒ

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا اور اصحاب خیر و برکت میں سے ایک اور بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب محترم دعوت و تبلیغ کی محنت کے سینئر ترین بزرگ تھے جنہوں نے حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ جیسے بزرگوں کی معیت و رفاقت کی سعادت حاصل کی اور زندگی بھر اسی کام میں مصروف رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت حاجی عبد الوہابؒ

۲۱ نومبر ۲۰۱۸ء

میرے فکری امتزاج کا پس منظر

والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ شنکیاری میں آباد یوسف زئی سواتی قبیلہ سے تھا۔ دونوں بھائیوں نے ۱۹۴۲ء میں دارالعلوم دیوبند کے دورۂ حدیث شریف میں شمولیت کی سعادت حاصل کی، اس سال شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ گرفتار ہوگئے تھے۔ والد گرامیؒ بتایا کرتے تھے کہ حضرت مدنیؒ کی گرفتاری کے بعد طلبہ نے ہڑتال کر دی اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جن کی قیادت کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میرے فکری امتزاج کا پس منظر

۱۸ نومبر ۲۰۱۸ء

متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

۱۵ نومبر ۲۰۱۸ء

چند تقریبات اور مجالس میں شرکت

آج کا کالم چند تقریبات اور مجالس میں شرکت کے حوالہ سے ہے۔ ۲۸ اکتوبر کو، جو میرا یوم پیدائش بھی ہے، اقراء روضۃ الاطفال گوجرانوالہ زون کی سالانہ تقریب تھی، بچوں اور بچیوں کے لیے قرآن کریم اور ضروریات دین کے ساتھ ساتھ سکول کی عصری تعلیم کا یہ وسیع نیٹ ورک ملک بھر میں کام کر رہا ہے جس کا آغاز مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اکابر علماء کرام کی سرپرستی میں ۱۹۸۴ء میں کیا تھا۔ یہ تعلیمی نیٹ ورک معیاری تعلیم اور قابل اعتماد دینی ماحول کے باعث اولاد کو دین و دنیا دونوں کی تعلیم دلوانے کے خواہشمند مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند تقریبات اور مجالس میں شرکت

۹ نومبر ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔