ریاست مدینہ کی ایک ’’این جی او‘‘

معروف مفسر و مؤرخ حافظ ابن کثیرؒ اور دیگر مفسرین نے سورۃ التوبۃ کی آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰ کی تشریح میں مختلف روایات کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کے قبیلہ بن خزرج کا ایک شخص ابو عامر جو پہلے سے عیسائی ہوگیا تھا اور مسیحیت کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کثرت عبادت کی وجہ سے راہب کہلاتا تھا، وہ بھی جناب نبی اکرمؐ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔ علاقہ میں اس کا اپنا ایک حلقہ قائم ہو چکا تھا اور اس کی عقیدت کا ماحول پایا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ریاست مدینہ کی ایک ’’این جی او‘‘

۱۷ اگست ۲۰۱۹ء

انسانی قربانیوں کے ماحول میں جانوروں کی قربانی

اس دفعہ عید الاضحٰی اور یومِ آزادی اکٹھے آرہے ہیں اور وطن عزیز کے مسلمان جہاں جانوروں کی قربانی کریں گے وہاں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کے ماحول کی انسانی قربانیوں کو یاد کریں گے اور عالم اسلام خصوصاً اپنے پڑوس مقبوضہ کشمیر میں انہی قربانیوں کے تسلسل میں قربان ہونے والے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہ ایزدگی میں ان کے لیے دعاگو ہوں گے۔ گزشتہ روز عرفات کے میدان میں اس سال کے امیر حج محترم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے اس میں کشمیر، فلسطین، اراکان اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی قربانیوں کے ماحول میں جانوروں کی قربانی

۱۲ اگست ۲۰۱۹ء

سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

گزشتہ ہفتہ کے دوران ۶ اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر محترم ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

۱۰ اگست ۲۰۱۹ء

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

۶ اگست ۲۰۱۹ء

قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

چند روز قبل امریکہ کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکہ نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے وہ بہرحال توجہ طلب ہے۔ اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکہ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

۲ اگست ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہم سب کے مخدوم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

یکم اگست ۲۰۱۹ء

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

۲۳ جولائی ۲۰۱۹ء

آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ۱۶ جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کاروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

۱۹ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔ مکمل تحریر بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔