اسلامی قوانین کے تحفظ پر قومی سیمینار

کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔ ’’وطن عزیز پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کے خلاف ایک منظم منصوبہ کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ اس کام میں بعض ملکی اداروں اور تنظیموں سے بھی سوئے استفادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختلف اسلامی شقوں کو بے اثر کرنے کے لیے اب تک کئی ایک اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کے بعد سے توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے اور قرارداد مقاصد کو پاکستان کے آئین سے نکالنے کے حوالے سے ملکی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۲۰۱۷ء

غیر سودی بینکاری کا فروغ اور ہماری ذمہ داریاں

رسک کم اور نفع زیادہ کی بنیاد پر کی جانے والی غیر سودی بینکاری کو کیا اسلامی بینکاری قرار دیا جا سکتا ہے؟ مجھے اس میں تامل ہے اس لیے کہ اسلامی معیشت کی بنیاد عقیدہ، اخلاقیات اور سوسائٹی کے وسیع تر سماجی مفادات پر ہے جبکہ مغرب کی یہ غیر سودی بینکاری محض مالیاتی مفادات کا پس منظر رکھتی ہے۔ اسلام میں مفادات کا حصول ثانوی درجہ رکھتا ہے جبکہ عقیدہ و اخلاق کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کی مجموعی دیانت اور وسیع تر سماجی مفاد کا تحفظ اسلام کے مقاصد میں اولین حیثیت کا حامل ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ مئی ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم

کسی بھی زبان کے کسی بھی لفظ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کا ایک تو لغوی ور وضعی معنٰی ہوتا ہے جس کے لیے وہ وضع کیا جاتا ہے اور ابتداء میں بولا جاتا ہے، پھر جب وہ لفظ عام استعمال کے ذریعہ کسی مخصوص معنٰی پر زیادہ بولا جانے لگے یا کسی شعبہ میں اسے کسی خاص مفہوم کے لیے مخصوص کر لیا جائے تو وہ اس کا اصطلاحی معنٰی کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ لفظ اس سے مختلف کسی مطلب کے لیے استعمال ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا مصداق ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ مئی ۲۰۱۷ء

سانحۂ مستونگ

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۱۷ء

فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت

گزشتہ دو تین روز وفاقی دارالحکومت اور اس کے اردگرد گزارنے کا موقع ملا۔ باگڑیاں گکھڑ کے مدرسہ کے استاد مولانا محمد جاوید اور ان کے ساتھی محمد عمران رفیق سفر تھے۔ ہماری بڑی ہمشیرہ محترمہ اچھڑیاں ہزارہ سے آنکھوں کے آپریشن کے لیے چھوٹی ہشیرہ کے پاس جھلم آئی ہوئی ہیں جہاں ان کی بیمار پرسی اور دونوں بہنوں سے ملاقات کی۔ ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ جھلم کے مہتمم مولانا حافظ محمد ابوبکر صدیق حال ہی میں برطانیہ کے سفر سے واپس آئے ہیں، ان سے وہاں کے حالات معلوم کیے اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔

۱۱ مئی ۲۰۱۷ء

مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالم‘‘ پر ایک نظر

کہا جاتا ہے کہ عباسی دور کے ایک معروف خطیب سحبان بن وائل اپنی زبان کی لکنت کی وجہ سے بعض حروف روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے تھے لیکن جب وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے مگر ان کے خطاب میں وہ حروف نہیں ہوتے تھے اور ایسے حروف کو استعمال میں لائے بغیر وہ اپنا مافی الضمیر پوری مہارت اور اعتماد کے ساتھ بیان کر دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی خطابت و فصاحت ضرب المثل بن گئی تھی اور بڑے بڑے فصیح اللسان خطباء کو اپنے وقت کا سحبان کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔

۶ مئی ۲۰۱۷ء

جامعہ فتحیہ لاہور میں ’’احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ کا پروگرام

بتایا جاتا ہے کہ 1857ء کے ہنگاموں کے بعد جب دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا تو لاہور میں سب سے پہلے نیلا گنبد میں رحیم بخش مرحوم نامی تاجر کی مساعی سے ’’مدرسہ رحیمیہ‘‘ قائم ہوا تھا اور پھرا نجمن حنفیہ اور انجمن حمایت اسلام کے تحت مختلف مدارس کا آغاز ہوا۔ اسی دوران اچھرہ میں وہاں کے ایک مخیر بزرگ میاں امام الدینؒ (وفات 1906ء) نے اپنے لائق فرزند حافظ فتح محمدؒ کے لیے 1875ء میں ’’مدرسہ فتحیہ‘‘ قائم کیا ۔ ۔ ۔

۵ مئی ۲۰۱۷ء

مروجہ سودی نظام اور ربع صدی قبل کی صورتحال

سودی نظام کے خاتمہ کی بحث ابھی تک جاری ہے اور وفاقی شرعی عدالت حالات کے مختلف ہونے کے بہانے سودی نظام کے خاتمہ کے مقدمہ کو غیر متعینہ عرصہ کے لیے ملتوی کر چکی ہے۔ مگر اس حوالہ سے اب سے ربع صدی قبل کی صورتحال میں اس وقت کے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب غلام اسحاق خان مرحوم کے نام ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیے جو راقم الحروف نے انہیں ’’کھلے خط‘‘ کی صورت میں ارسال کیا تھا۔ یہ خط ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور 20 مارچ 1992ء کے شمارہ میں شائع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔

۲ مئی ۲۰۱۷ء

مولانا زرنبی خان شہیدؒ اور شیخ عبد الستار قادری مرحوم

گزشتہ روز ہمیں ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مدرس مولانا زرنبی خان سالانہ امتحان کے بعد تعطیلات گزارنے کے لیے بچوں کو اپنے وطن چترال چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ لواری ٹاپ کے قریب وہ کوسٹر جس میں وہ سوار تھے گہری کھائی میں جا گری جس سے دیگر بہت سے مسافروں سمیت مولانا زرنبی خان بھی اپنے چھوٹے بھائی اور تین بچوں سمیت شہید ہوگئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔

۱ مئی ۲۰۱۷ء

بین الاقوامی علماء کانفرنس قاھرہ ۱۹۶۵ء سے مولانا مفتی محمودؒ کا خطاب

گزشتہ روز ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی پرانی فائیلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر قائد جمعیۃ علماء اسلام مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا ایک اہم خطاب نظر سے گزرا جو انہوں نے مئی ۱۹۶۵ء کے دوران قاہرہ میں ’’مجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کی سالانہ کانفرنس میں ارشا د فرمایا تھا۔ حکومت مصر کے زیراہتمام منعقد ہونے والی علماء اسلام کی اس بین الاقوامی کانفرنس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ ۔ ۔

۲۹ اپریل ۲۰۱۷ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں حوالہ جات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔