دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کی مہم

8 اگست منگل کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ضلع بھر کے دیوبندی علماء اور سرگرم کارکنوں کا بھرپور کنونشن ہوا جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ مجددیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم نے کی۔ کنونشن سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اور دیگر سرکردہ زعماء نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔

۱۱ اگست ۲۰۱۷ء

چینی زبان کی آمد

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے ۔ ۔ ۔

۳ اگست ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہنما، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے سابق امیر اور ریاستی اسمبلی کے سابق رکن شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کے ساتھ راقم الحروف نے گزشتہ صدی عیسوی کے آخری سال جولائی کے دوران پلندری حاضر ہو کر جہادِ کشمیر میں علماء کرام کے کردار اور شرعی قاضیوں کے مذکورہ نظام کے پس منظر کے حوالہ سے ایک انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے ان معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ یہ انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا تھا، موجودہ حالات میں اس کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کے نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

عام طور پر ایک مغالطہ پایا جاتا ہے کہ درس نظامی کا یہ نصاب بغداد کے ملا نظام الدین طوسیؒ کا مرتب کردہ ہے جو وہاں کے مدرسہ نظامیہ میں رائج رہا، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ دراصل لکھنو کے ملا نظام الدین سہالویؒ کا مرتب کردہ نصاب ہے جو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کے معاصر تھے۔درس نظامی کے نصاب میں اس وقت کی دینی اور قومی ضروریات کے حوالہ سے تمام ضروری دینی و عصری علوم و فنون شامل تھے جن کی ایک چھت کے نیچے تعلیم دی جاتی تھی۔ ملک کے تمام لوگ حتٰی کہ غیر مسلم بھی یہی نصاب پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔

۲۸ جولائی ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

آزاد کشمیر کے چند سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی ہے کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر میں سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم کی حکومتوں کے دور میں حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ اور دیگر اکابر علماء کرام کی مساعی سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقدمات کی سماعت کے لیے جج اور قاضی کے اشتراک سے دو رکنی عدالت کا جو نظام شروع ہوا تھا، اور جس سے لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق طے ہونے کا سلسلہ چلا آرہا ہے، اسے ختم کرنے اور ہائی کورٹ کی سطح پر قائم شرعی عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر بعض اقدامات عمل میں آچکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۴ جولائی ۲۰۱۷ء

ملی و ملکی حالات اور پاکستان شریعت کونسل کا سالانہ اجلاس

مرکزی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ مولانا عبدا لرؤف فاروقی، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبد الخالق، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا عبد الرزاق، مفتی محمد نعمان احمد، قاری محمد نعیم سعدی، قاری عبید اللہ عامر، جناب صلاح الدین فاروقی، پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا ۔ ۔ ۔

۲۱ جولائی ۲۰۱۷ء

سالانہ تعطیلات ۱۴۳۸ھ کا آخری سفر

ظہر کی نماز ہم نے ملہو والی میں پڑھی جو حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور حضرت مولانا نور محمدؒ کے حوالہ سے دینی حلقوں میں ایک تعلیمی اور تحریکی مرکز کے طور پر تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وہاں تعلیمی مرکز بھی ہے۔ مجھے جماعت اسلامی کے حلقہ کے ایک دینی مدرسہ میں ’’وحدت امت کے تقاضوں‘‘ پر گفتگو کرنا تھی۔ اس علاقہ کی مسلکی فضا کے پیش نظر میں وحدت امت پر گفتگو کے لیے تمہید سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں پروگرام تھا اس میں داخل ہوتے ہوئے نظر گیٹ پر لکھے ہوئے ’’مسجد ذوالنورین‘‘ پر پڑ گئی اور مجھے عنوان مل گیا ۔ ۔ ۔

۱۸ جولائی ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ نے ۱۹۹۱ء کے دوران عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک منصوبہ طے کیا تھا جو وائس آف امریکہ سے نشر ہوا اور روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ربع صدی کے بعد اسے ارباب فکر و دانش کی خدمت میں اس گزارش کے ساتھ ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے اور اس وقت ہم کس مرحلہ سے گزر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء

ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی ۔ ۔ ۔

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدۂ عمرانی کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے ۔ ۔ ۔

یکم جولائی ۲۰۱۷ء

Pages

نوٹ:   درجہ بندی کی غرض سے بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں حوالہ جات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی/پروف ریڈنگ مولانا راشدی نے کی ہے۔