آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ۱۶ جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کاروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

۱۹ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔ مکمل تحریر بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے مسائل اور حضرت شاہ ولی اللہؒ

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل سرکاری خزانے اور ٹیکسوں کے نظام پر بحث کرتے ہوئے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں تحریر فرمایا تھا کہ: ’’ہمارے زمانے میں ملک کی ویرانی کے بڑے اسباب دو ہیں۔ ایک یہ کہ لوگوں کا بیت المال پر بوجھ بن جانا، اس طرح کہ بہت سے لوگ سرکاری خزانے سے وصولی کو ہی کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ وہ ملک کے لیے لڑنے والوں میں سے ہیں، یا ان علماء میں سے ہیں جو سرکاری خزانے پر اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بجٹ کے مسائل اور حضرت شاہ ولی اللہؒ

۱۰ جولائی ۲۰۱۹ء

اسلام کے سیاسی نظام کا تاریخی پس منظر

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ کے موضوع پر گفتگو کے آغاز میں اس کے اس تاریخی پس منظر کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا جو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ، جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء‘‘ کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت کا منصب حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس ہوا کرتا تھا۔ نبیوں کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، ایک پیغمبر دنیا سے رخصت ہوتے تو دوسرے نبی آجاتے اور یہ تسلسل جاری رہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کے سیاسی نظام کا تاریخی پس منظر

۶ جولائی ۲۰۱۹ء

سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

ہفتہ کے روز ایران سے واپس گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں مگر دوحہ سے لاہور کی فلائیٹ پانچ گھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ سے اسباق میں حاضری نہیں ہو سکی۔ سفر کی مدت میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے نیا روٹ قطر ایئرویز کے ذریعے تہران سے دوحہ اور وہاں سے لاہور کا ترتیب پایا۔ دوحہ میں اسٹاپ سات گھنٹے کا تھا مگر فلائیٹ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے بارہ گھنٹے تک پھیل گیا جو میرے لیے آزمائش سے کم نہیں تھا۔ میرے ٹخنوں میں ایک عرصہ سے درد رہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

۲ جولائی ۲۰۱۹ء

پُراَمن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

میں سب سے پہلے جامعہ طہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ اور اس کے رئیس فضلیۃ الشیخ الدکتور مصطفی ذوالفقار طلب حفظہ اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ارباب ِ علم و دانش کی اس موقر محفل میں مجھے شرکت کا اعزاز بخشا اور عالم ِ اسلام کے سر کردہ علماء کرام اور دانش وران کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ اللہ تعالی ٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہمارے اس مل بیٹھنے کو انسانی سوسائٹی، عالمِ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پُراَمن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

جولائی ۲۰۱۹ء

تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز

تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا عالمی موتمر گزشتہ روز بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے شام چھ بجے تک جاری رہا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، جامعات کے اساتذہ اور اہل دانش نے شرکت کی۔ جبکہ بھارت سے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی اور پاکستان سے جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا عزیز الرحمان سواتی اور جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبد الحق ہاشمی کے علاوہ ایران سے بہت سے سرکردہ حضرات اس اجتماع میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہران یونیورسٹی میں فقہ حنفی کا شعبہ قائم کرنے کی تجویز

۲۹ جون ۲۰۱۹ء

تہران میں چند روز

تہران یونیورسٹی کے زیر اہتمام ۲۶ جون کو ’’پر امن معاشرہ کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات و اقدار کی حکمت عملی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی موتمر میں شرکت کی دعوت ملی تو میں نے اس سلسلہ میں ایران میں اہل سنت کے مرکزی ادارہ دارالعلوم زاھدان کے بزرگوں کے ساتھ مشورہ کو ضروری سمجھتے ہوئے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اس میں ضرور شریک ہوں اور بتایا کہ وہ بھی اس اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں، چنانچہ میں نے دعوت قبول کر لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہران میں چند روز

۲۶ جون ۲۰۱۹ء

پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ پورے ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہو چکا ہے، ملک میں پولیس نام کی کو کئی چیز نہیں ہے، پولیس آخر کیا کر رہی ہے جو تنخواہ دی جائے؟ انہوں نے یہ ریمارکس پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ اس کیس کی تفصیلات سے قطع نظر یہ بات ملک کے ہر باشعور شہری کے لیے قابل توجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک محترم جج کو یہ بات آخر کیوں کہنا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں

۲۴ جون ۲۰۱۹ء

مجھے ڈر لگ رہا ہے…!

آج کچھ ایسے مسائل پر ہلکا پھلکا تبصرہ پیش خدمت ہے جو عام مجلسوں میں زیر بحث رہتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے خدشات و تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔ (۱) وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کے بارے میں اکثر بات ہوتی ہے جس کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر قومی مسائل کے حوالہ سے کچھ کرنا چاہ رہے ہیں جس کے لیے وہ مخلص بھی دکھائی دیتے ہیں اور ہر طرح سے ہاتھ پاؤں بھی مار رہے ہیں، ان کے اہداف کے صحیح یا غلط ہونے کی بات اپنی جگہ مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجھے ڈر لگ رہا ہے…!

۲۱ جون ۲۰۱۹ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔