متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

۱۵ نومبر ۲۰۱۸ء

چند تقریبات اور مجالس میں شرکت

آج کا کالم چند تقریبات اور مجالس میں شرکت کے حوالہ سے ہے۔ ۲۸ اکتوبر کو، جو میرا یوم پیدائش بھی ہے، اقراء روضۃ الاطفال گوجرانوالہ زون کی سالانہ تقریب تھی، بچوں اور بچیوں کے لیے قرآن کریم اور ضروریات دین کے ساتھ ساتھ سکول کی عصری تعلیم کا یہ وسیع نیٹ ورک ملک بھر میں کام کر رہا ہے جس کا آغاز مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اکابر علماء کرام کی سرپرستی میں ۱۹۸۴ء میں کیا تھا۔ یہ تعلیمی نیٹ ورک معیاری تعلیم اور قابل اعتماد دینی ماحول کے باعث اولاد کو دین و دنیا دونوں کی تعلیم دلوانے کے خواہشمند مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند تقریبات اور مجالس میں شرکت

۹ نومبر ۲۰۱۸ء

آسیہ مسیح کیس: حالیہ بحران اور وزیراعظم کا خطاب

تین سال قبل رہائش کی تبدیلی کے بعد سے معمول ہے کہ نماز فجر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد بخاری شریف کا مختصر درس ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تقریباً چالیس برس تک نماز فجر پڑھانے اور اس کے بعد قرآن و حدیث کا درس دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ آج کے درس میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت گفتگو کا موضوع تھی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جب اسلام کی بیعت لی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ’’والنصح لکل مسلم‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسیہ مسیح کیس: حالیہ بحران اور وزیراعظم کا خطاب

۲ نومبر ۲۰۱۸ء

انبیاء کرامؑ کی دعوت کے مختلف مناہج

اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، نبی اور رسول کا بنیادی منصب داعی کا ہے کہ وہ نسل انسانی کے کس حصہ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کی طرف دعوت دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس بندگی کو شرک سے محفوظ رکھنا سب سے پہلی دعوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے اس کے نبی اور رسول کی اطاعت اس دعوت کا دوسرا حصہ ہے جبکہ اس دنیا کو عارضی زندگی سمجھتے ہوئے آخرت کی اصل اور ابدی زندگی کی تیاری کرنا جو انسان کی اصل ذمہ داری ہے اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا دعوت کا تیسرا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انبیاء کرامؑ کی دعوت کے مختلف مناہج

نومبر ۲۰۱۸ء

چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے گزشتہ دنوں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اور ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد سو فیصد درست ہے اور ملک و قوم کے دستور و قانون کے ساتھ ساتھ اس کی وحدت و استحکام کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر ہم اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال

نومبر ۲۰۱۸ء

قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ حکومت بدلتی ہے تو پہلی حکومت کے اچھے کاموں کی بساط بھی لپیٹ دی جاتی ہے اور ہر معاملہ میں نئی حکومت الگ پالیسی طے کر کے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے کام شروع کرنے کو ترجیح دیتی ہے جس سے کوئی کام بھی فطری رفتار سے آگے نہیں بڑھتا اور ایڈہاک ازم کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اس لیے جب ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کے اجلاس کا دعوت نامہ ملا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ سابقہ حکومت کے ایک اچھے کام کے تسلسل کو قائم رکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۸ء

پاک چین دوستی اور سی پیک کے معاملات

مجلس ارشاد المسلمین لاہور کے امیر مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک اہم قومی مسئلہ پر اس سیمینار کا اہتمام کیا اور مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی۔ اس قسم کے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال، مذاکرہ اور مباحثہ ہمارے ہاں جس قدر ضروری ہے اسی اعتبار سے اس کی طرف توجہ کم ہوتی ہے، اس لیے اس نشست کے انعقاد پر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے راہنما حافظ ابوبکر شیخ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے سی پیک کے تاریخی اور معروضی پس منظر کے بارے میں ایک معلوماتی رپورٹ پیش کی جو انتہائی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک چین دوستی اور سی پیک کے معاملات

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۸ء

اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات

کراچی میں چار روز گزارنے کے بعد جمعرات کی شب گوجرانوالہ واپسی ہوگئی ہے، اس سفر میں میرے سوشل میڈیا کے ایڈمن اور عزیز نواسہ حافظ محمد خزیمہ خان سواتی بھی ہمراہ تھے، اس دوران بیشتر مصروفیات کی جولانگاہ تعلیمی ادارے رہے اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ جامعہ انوار القرآن نارتھ کراچی میں ’’ریاست مدینہ اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر مسلسل تین روز تک گفتگو ہوئی۔ چھ نشستوں میں مجموعی طور پر ساڑھے سات گھنٹے بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۸ء

سہ ماہی تعطیلات کا آغاز

اسباق کے دوران میں نے خود پر ایسا سفر ممنوع قرار دے رکھا ہے جس کے لیے جامعہ نصرۃ العلوم میں سبق کی چھٹی کرنا پڑے اس لیے دور دراز کے دوستوں کے تقاضوں کا سارا بوجھ تعطیلات پر آجاتا ہے اور میری چھٹیاں عام طور پر سفر میں گزرتی ہیں۔ سہ ماہی امتحان اور تعطیلات کا دورانیہ ایک ہفتہ کا ہوتا ہے جبکہ دو روز قبل طلبہ کو امتحان کی تیاری کے لیے وقت دینے کا بہانہ بھی کام دے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سہ ماہی تعطیلات کا آغاز

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ء

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔