khutba-hajjatul-wadaislam-a-nizam-e-khilafatkhilafat-e-usmaniaunokashmirallama-iqbal-ka-pakistansoodi-nizamkhawateendeeni-madaristauheen-e-risalat ruyat-e-hilal-eid-ka-chandjaved-ahmad-ghamidiraja-muhammad-anwarafghan-pakistani-talibanjihad9-11

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

۲۲ مئی ۲۰۱۸ء

حالات حاضرہ اور پاکستان شریعت کونسل کا موقف

متحدہ مجلس عمل نے مینار پاکستان پارک میں پرہجوم جلسہ عام منعقد کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو میں اس میں شریک تھا بلکہ مولانا فضل الرحمان اور جناب سراج الحق کے خطابات میں نے اسٹیج پر ان کے پیچھے بیٹھ کر سنے اور اس بات پر اطمینان حاصل ہوا کہ دینی جماعتوں کے اس اتحاد کا جوش و خروش، عزم و حوصلہ اور اس کے ساتھ عوامی اعتماد کی بھرپور لہر اس کے روشن مستقبل کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ اور پاکستان شریعت کونسل کا موقف

۱۷ مئی ۲۰۱۸ء

قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

اپریل کو گکھڑ میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں جمعہ پڑھانے اور ان کے قائم کردہ مدرسہ معارف اسلامیہ اکادمی کے شعبہ تجوید و قراءت اور شعبہ حفظ و ناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے والے قراء اور حفاظ کی دستار بندی کرانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے جو آیت کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت نے نسل انسانی اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پر اپنے اس عظیم احسان کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

یکم و ۲ مئی ۲۰۱۸ء

مولانا فضل الرحمان کی گوجرانوالہ آمد

گزشتہ جمعۃ المبارک کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پیر طریقت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی گوجرانوالہ تشریف لائے اور جامعہ نصرۃ العلوم کی مسجد نور میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرمایا۔ اس موقع پر جامعہ نصرۃ العلوم کے دورہ حدیث، شعبہ تجوید اور درجہ حفظ کے فضلاء کی دستار بندی کا سالانہ پروگرام تھا، دونوں حضرات نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور فضلاء کی دستار بندی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان کی گوجرانوالہ آمد

۲۷ اپریل ۲۰۱۸ء

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ کی وفات کی خبر آج صبح نماز فجر کے بعد واٹس ایپ کے ذریعے ملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علالت میں اضافہ کی خبریں آرہی تھیں، اس دوران ایک موقع پر ملتان حاضری اور بیمار پرسی کا موقع بھی ملا اور ان کے فرزند گرامی مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث سے وقتاً فوقتاً ان کے احوال کا علم ہوتا رہا مگر ہر آنے والے نے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اور شاہ جی محترمؒ بھی ایک طویل متحرک زندگی گزار کر دار فانی سے رخصت ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ

۲۵ اپریل ۲۰۱۸ء

آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش

سورۃ المائدہ آیت ۴۴ تا آیت ۵۰ میں اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد اور تسلسل بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پھر انجیل نازل کی اور اس کے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس کتاب کے مطابق کیا کریں، اس دوران زبور نازل ہوئی اور حضرت داؤدؑ کو بھی اللہ رب العزت نے یہی حکم دیا کہ وہ لوگوں کے معاملات اور تنازعات کا کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش

۱۹ اپریل ۲۰۱۸ء

حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں، اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

۱۶ اپریل ۲۰۱۸ء

آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ

جامعۃ العلوم الشرعیۃ کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے، اس کے بانی حضرت مولانا حافظ محمد اسحاقؒ میرے دوستوں اور جماعتی ساتھیوں میں سے تھے۔ جبکہ ہمارے گوجرانوالہ کے مخدوم و محترم استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ یہاں پڑھاتے رہے ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پہلے شیخ الحدیث تھے۔ میری ان سے مسلسل نیاز مندی رہی ہے اور زندگی بھر ان کی شفقتوں سے فیض یاب ہوتا رہا ہوں، وہ مولانا حافظ محمد اسحاقؒ کے خسر بزرگوار تھے اور اب حضرت قاضی صاحبؒ کے نواسے اس دینی ادارہ کی خدمت و انتظام میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ

۱۰ اپریل ۲۰۱۸ء

ملالہ دیوی اور قندوز و کشمیر کے شہداء

ملالہ دیوی کی وطن واپسی اور قندوز کے دینی مدرسہ پر امریکی ڈرون حملہ کی خبریں ایک ہی دن قومی اخبارات میں پڑھنے کو ملیں اور ذہن میں ان دونوں خبروں کے باہمی تعلق کے حوالہ سے کئی سوالات گردش کرنے لگے۔ دیوی کے درشن میں ہمارے محترم وزیراعظم شریک تھے اور یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ملالہ نے کہا ہے کہ میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتی، جبکہ مستقبل میں وزیراعظم کے عہدہ کے ایک بڑے امیدوار سیاستدان نے کہا ہے کہ وہ اسے وزیرتعلیم بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملالہ دیوی اور قندوز و کشمیر کے شہداء

۵ اپریل ۲۰۱۸ء

قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام

آج میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے قادیانی مسئلہ کے ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا مذہب ہمارے مذہب سے الگ ہے اور ہم دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو پھر قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب کا نام، اصطلاحات، علامات اور ٹائٹل استعمال کرنے پر اس قدر اصرار اور ضد کیوں ہے؟ اور وہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہونے کے باوجود اپنا نام، علامات اور اصطلاحات و شعائر الگ اختیارکرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام

۲ و ۳ اپریل ۲۰۱۸ء

Pages

نوٹ:   بہت سے مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین اور محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔