فہم قرآن کریم اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

’’قرآن فہمی‘‘ دین کے فہم اور تفہیم دونوں کا بنیادی تقاضہ ہے اس لیے یہ ہر دور کے اہل علم و دانش کی فکری و علمی جدوجہد کا مرکزی نکتہ رہا ہے جس کا تسلسل قیامت تک اسی طرح رہے گا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی مسلسل کا آخری، حتمی اور مکمل مجموعہ ہے جس کے نزول کے بعد رہتی دنیا تک نسل انسانی کی ہدایت اور رشد و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔ قرآن کریم کا اساسی موضوع نسل انسانی کی ہدایت ہے اس کا دائرہ پوری نسل انسانی اور دورانیہ قیامت تک وسیع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۱ء

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نئی مہم

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ایک بار پھر قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد پاکستان سے بھی تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو معروضی حقیقت سمجھ کر تسلیم کر لے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی طرف پیشرفت کرے۔ اس بار بعض دینی حلقوں کی طرف سے بھی یہ تقاضہ سامنے آیا ہے اور اس کے لیے جو دلائل دیئے جا رہے ہیں ان میں سے ایک دو کا سرسری جائزہ ان سطور میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۱ء

وقف املاک کا نیا قانون اور اس کا پس منظر

مولانا عبد الرشید انصاریؒ پاکستان شریعت کونسل کے بانی راہنماؤں میں سے تھے اور سالہا سال تک انہوں نے راقم الحروف کے ساتھ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر جماعتی خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کے داماد چودھری خالد محمود کامونکی ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،ایک عرصہ تک ملک کے عدالتی نظام میں خدمات سرانجام دینے کے بعد سیشن جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں اور قابل قدر دینی و فکری ذوق کے حامل ہیں۔ میری گزارش پر انہوں نے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالہ سے رٹ کی سماعت طویل عرصہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے سے ملک میں رائج سودی قوانین سے نجات کی جدوجہد نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تحریک انسداد سود پاکستان نے نئی صف بندی کے ساتھ اپنی مہم پھر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے وفات سے چند ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

نفاذِ شریعت اور فقہ جعفریہ

ان دنوں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے ایک مسودہ قانون علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں اہل تشیع کے لیے بعض معاملات میں فقہ جعفریہ کے مطابق قانونی فیصلوں کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بِل ایوان بالا میں عنقریب منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پاکستان میں دستوری طور پر شرعی قوانین کا نفاذ اور لوگوں کو قرآن و سنت کے مطابق ان کے مقدمات، تنازعات اور معاملات طے کرنے کے انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور اس کے لیے وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ پیشرفت ہوتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۲۰ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سابقہ اساتذہ و طلبہ سے ملاقات

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے حسین تصور پر ہم نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے گوجرانوالہ میں ایک تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا تھا جو اَب جامعۃ الرشید کراچی کے زیراہتمام ’’جامعہ شاہ ولی اللہؒ‘‘ کے نام سے انہی مقاصد اور پروگرام کے مطابق مصروف عمل ہے۔ اس پروگرام کے بانیوں میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ، الحاج میاں محمد رفیقؒ، الحاج شیخ محمد اشرفؒ، پروفیسر غلام رسول عدیم، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ اور دیگر بزرگوں کے ساتھ میں بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۰ء

علامہ خادم حسین رضویؒ

علامہ خادم حسین رضویؒ سے کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں اور ان کے خطابات بھی مختلف حوالوں سے سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وہ بریلوی مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور مدرس عالم دین تھے۔ دینی تعلیمات و معلومات کا گہرا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور تحریکات کے ادراک سے بھی بہرہ ور تھے، اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے تھے بلکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۲۰ء

فرانس کے تجارتی بائیکاٹ کی شرعی حیثیت

فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں بھی ایسا ہوتا تھا؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ایسا اس زمانے میں بھی ہوتا تھا اور معاشی بائیکاٹ اور ناکہ بندی جنگ و جہاد کا حصہ ہی تصور کی جاتی تھیں۔ اس حوالہ سے چند واقعات کا مختصرًا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۲۰ء

قومی خزانے کی غلط تقسیم اور عدالت عظمیٰ

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس محترم جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فرمایا ہے کہ حکمرانوں نے قومی خزانے کو ذاتی رقم سمجھ کر بانٹا ہے اور اس وجہ سے حکومت پاکستان مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد بظاہر ایک تاثراتی جملہ ہے مگر اس کے پیچھے ہماری پوری قومی تاریخ جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۰ء

فرانس ایک بار پھر مذہب دشمنی کے محاذ پر

فرانس ایک بار پھر آسمانی تعلیمات اور مذہب کے خلاف محاذ جنگ پر ہے اور نہ صرف وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی کرنے والوں کی قیادت کر رہا ہے بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دینی حوالہ سے مقدس شخصیات کی توہین اور استہزاء کا پرچم بھی اس نے اٹھا رکھا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالٰی نے انبیاء کرامؑ کے ساتھ طنز و استہزاء کا طرز عمل اختیار کرنے والی قوموں کی اس نوع کی حرکات اور پھر ان قوموں کے انجام کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

Pages

نوٹ:   بعض مضامین کے عنوانات اصل شائع کرنے والے جریدوں سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ بعض طویل مضامین خصوصاً محاضرات میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں جن میں ذیلی عنوانات کا اضافہ اور جملوں کی تسہیل وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا راشدی نے تقریباً تمام تحریروں کی نظر ثانی کی ہے۔