اس ویب سائیٹ میں جن مجلّات کی شائع کردہ تحریریں اور جن اداروں کے منعقد کردہ خطابات شامل کیے گئے ہیں، ہم ان سب کے ممنونِ احسان ہونے کے ساتھ ساتھ ان احباب کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے استاذ جی مولانا ابوعمار زاہد الراشدی مدظلہ العالی کے رَشحاتِ علمی کو محفوظ کرنے کے سلسلہ میں کسی بھی نوعیت کی خدمات مہیا کیں، مثلاً مواد کی دریافت و فراہمی، سکیننگ، ریکارڈنگ، کمپوزنگ، ترتیب و تدوین اور طباعت وغیرہ۔ نمایاں نام درج ذیل ہیں:
مجلّات: روزنامہ اسلام، روزنامہ اوصاف، روزنامہ پاکستان، روزنامہ انصاف، روزنامہ وفاق، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ دنیا، روزنامہ تجارت، روزنامہ لشکر، روزنامہ مشرق، روزنامہ وزارت، ہفت روزہ ترجمان اسلام، ہفت روزہ خدام الدین، ہفت روزہ ضرب مومن، ہفت روزہ الہلال، ہفت روزہ اخبار المدارس، ہفت روزہ زندگی، ہفت روزہ نقاب، ماہنامہ الشریعہ، ماہنامہ نصرۃ العلوم، ماہنامہ قومی ڈائجسٹ، ماہنامہ ایوانِ اسلام، ماہنامہ تعلیم القرآن، ماہنامہ حق چار یار، ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن، ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ماہنامہ یوتھ کانٹیکٹ۔
ادارے: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی / شریعہ اکیڈمی، اسلام آباد۔ اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد۔ جامعہ فتحیہ، لاہور۔ انجمن خدام الاسلامیہ حنفیہ قادریہ، لاہور۔ بیت النور ٹرسٹ، لاہور۔ ابنِ خلدون انسٹیٹیوٹ، لاہور۔ جامعہ انوار القرآن، کراچی۔ زوار اکیڈمی، کراچی۔ جامعہ اسلامیہ محمدیہ، فیصل آباد۔ الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ۔ مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ۔ جمعیت اہلسنت والجماعت، گوجرانوالہ۔ ادارۃ النعمان، گوجرانوالہ۔ مرکز ختمِ نبوت، گوجرانوالہ۔ ادارۃ الحسنات میڈیا، گوجرانوالہ۔ بزم شیخ الہند، گوجرانوالہ۔ مجلس صوت الاسلام۔ عثمانیہ میڈیا آفیشل۔ درسِ قرآن ڈاٹ کام۔ دارالہدیٰ، ورجینیا، امریکہ۔ مدینۃ العلوم، ورجینیا، امریکہ۔ مکی مسجد، بروکلین، نیویارک۔ جامعہ الہدیٰ، نو ٹنگھم، برطانیہ۔
احباب: مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر۔ مولانا قاری جمیل الرحمٰن اخترؒ۔ مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد۔ مولانا مفتی محمد سعید خان۔ مولانا مفتی محمد سعد سعدی۔ جناب صلاح الدین فاروقی۔ مولانا کامران حیدر۔ حافظ دانیال عمر۔ جناب محمد شاہد حنیف۔ جناب شبیر احمد خان میواتی۔ حافظ محمد سلیمان اسدی۔ مولانا وقار احمد۔ مولانا فضل حمید۔ مولانا سعید ثاقب۔ مولانا شیراز نوید۔ مولانا انس عرفان۔ مولانا خرم شہزاد۔ حافظ عمر فاروق بلال پوری۔ قاری محمد زبیر جمیل۔ مولانا حذیفہ خان سواتی۔ حافظ خزیمہ خان سواتی۔ حافظ طلال خان ناصر۔ حافظ ہلال خان ناصر۔ جناب عزیز الرحمٰن۔ حافظ واجد معاویہ۔ حافظ فضل اللہ راشدی۔ حافظ شاہد الرحمٰن میر۔
ضروری وضاحت
ویب سائیٹ کے مواد کے حوالے سے پائے جانے والے بعض تاثرات کے ازالہ کے لیے کچھ امور کی وضاحت با دلِ نخواستہ ضروری معلوم ہوتی ہے۔ کمپوزنگ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
- اس وقت ویب سائیٹ پر موجود ساڑھے پانچ ہزار سے زائد تحریروں میں سے محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے چار ہزار سے زائد راقم نے کمپوز کی ہیں۔ ان میں مضامین، کالمز اور ٹویٹس کے ساتھ ساتھ وہ خطابات بھی شامل ہیں جنہیں استاذ جی نے اخباری کالمز کے لیے بطور خلاصہ قلمبند کیا، اور وہ بھی جو آڈیو یا ویڈیو سے کمپوز کیے گئے۔ استاذ جی ۲۰۱۲ء سے پہلے اخبارات کے دفاتر کو اپنے تحریری کالم بذریعہ فیکس ارسال کیا کرتے تھے، اس کے بعد سے یہ کالم کمپوز کر کے اخبارات کو بذریعہ ای میل بھیجنے کی ذمہ داری راقم کے سپرد چلی آ رہی ہے، چنانچہ ان کی کمپوزنگ بھی اسی تعداد میں شامل ہے۔
- پھر کمپوزنگ کی زیادہ خدمات مولانا حافظ کامران حیدر نے سرانجام دی ہیں جس میں ۵۰۰ کے قریب اخباری کالمز کے علاوہ آڈیو ویڈیو سے کمپوز ہونے والے خطابات کی ایک معقول تعداد شامل ہے۔
- ۱۹۹۴ء سے ۲۰۰۳ء تک برادرم عمار ناصر اور راقم مشترکہ طور پر مجلہ الشریعہ کی کمپوزنگ کرتے رہے جس کا زیادہ تر مواد پرانے سافٹ ویئر ’’شاہکار‘‘ میں تھا جسے کنورٹ نہیں کیا جا سکا، چنانچہ ویب سائیٹ کے لیے گزشتہ شماروں کی تحریریں راقم نے نئے سرے سے کمپوز کیں۔ البتہ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۲ء تک کا مواد ’’ان پیج‘‘ سافٹ ویئر میں دستیاب تھا جس کی تحریریں یونیکوڈ میں کنورٹ کی گئیں۔
- ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۲ء کے سالوں میں الشریعہ اکادمی کی طرف سے شائع ہونے والی کتب کی کمپوزنگ سے بھی کچھ مواد لیا گیا ہے جو عزیزم حافظ خزیمہ خان سواتی کے کمپیوٹر بیک اپ سے غالباً ۲۰۱۷ء/۲۰۱۸ء کے دوران دریافت ہوئی تھی۔
- ماہنامہ نصرۃ العلوم میں شائع ہونے والے بعض خطبات کی کمپوزنگ عزیزم حافظ حذیفہ خان سواتی کی طرف سے مہیا کی گئی تھی۔
- اس کے علاوہ اگر کچھ قابلِ ذکر ہے تو وہ چالیس کے قریب اخباری کالمز ہیں جو عزیزم ہلال خان ناصر نے نو دس سال کی عمر میں اردو ٹائپنگ سیکھنے کے دوران کمپوز کیے تھے۔
استاذ جی نے ویب سائیٹ کے بیشتر مواد کی نظرِ ثانی کی ہے۔ اس میں وہ خطابات بھی شامل ہیں جن کی کمپوزنگ و تسہیل راقم نے کی ہے، اور وہ بھی جن کی کمپوزنگ و تسہیل مولانا کامران حیدر نے کی ہے۔ اب صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ استاذ جی اپنی مصروفیات اور صحت و آرام کی ضروریات کے پیش نظر بس چیدہ چیدہ تحریروں کی نظرثانی کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے خطابات جن کی تسہیل کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی، وہ تکرار کے حذف اور [ہارڈ بریکٹس] میں ضروری اضافہ کے ساتھ استاذ جی کی نظرثانی کے بغیر شامل کیے جا رہے ہیں۔ نیز ایسی آڈیوز اور ویڈیوز جن کے حوالے دستیاب نہیں ہیں، ان کی ایڈٹ شدہ آڈیوز متن کے ساتھ شامل کی جا رہی ہیں۔
تراشوں کی باقاعدہ سکیننگ دو دفعہ ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ راقم نے ویب سائیٹ جاری ہونے کے ابتدائی مراحل میں استاذ جی کے فراہم کردہ تراشوں کی سکیننگ کی۔ دوسری دفعہ حافظ محمد دانیال عمر نے ۲۰۲۳ء میں تب تک کے بیشتر اخبارات کے تراشے نئے سرے سے سکین کیے۔ ان تراشوں کی فراہمی کے ذرائع اور حفاظتی انتظامات کی جامع معلومات استاذ جی کے پاس ہیں۔
مختلف احباب اور اداروں نے استاذ جی کی ترغیب یا اجازت سے جو کتابی مجموعے مرتب کیے ہیں وہ اپنے طور پر ان کی طباعت و فروخت کا انتظام کرتے ہیں، جبکہ راقم کی مرتب کردہ کتب فی الوقت الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہیں جنہیں کچھ ضوابط کے ساتھ دیگر تعلیمی و اشاعتی ادارے بھی شائع کر سکتے ہیں۔ راقم اِن دونوں میں سے کسی کی آمدن میں حصہ دار نہیں ہے، سب کا معاملہ استاذ جی اور الشریعہ اکادمی کے پاس ہے۔ اس حوالے سے دو معاملے قابلِ توجہ ہیں:
- ایک ہے مرتب کا رائیلٹی لینا، یعنی کتاب کی ہر اشاعت میں اس کا حصہ ہو۔ راقم اپنے مرتب کردہ مجموعوں کے بارے میں اسے درست نہیں سمجھتا کیونکہ ان کا مواد ویب سائیٹ سے لیا گیا ہے اور اس میں مرحلہ وار بہت سے افراد اور اداروں کی محنت شامل ہے۔ اس نوعیت کے مجموعوں کے لیے باقی سب معاونین کی طرح مرتب کے لیے بھی یکبارگی معاوضہ ہی درست معلوم ہوتا ہے۔ البتہ مرتب کو مجموعہ کی اشاعت کے لیے پبلشر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے، نیز یہ اختیار استاذ جی اور الشریعہ اکادمی کے پاس بھی ہے۔
- دوسرا یہ ہے کہ کوئی صاحب یا ادارہ اپنی رقم انویسٹ کر کے بطور پبلشر کوئی کتاب شائع کریں، یہ قابلِ عمل صورت ہے، اس سلسلہ میں مزید معلومات الشریعہ اکادمی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اصحابِ ذوق اور دینی مواد کی طباعت سے شغف رکھنے والے بعض ادارے ویب سائیٹ کے مواد کی اشاعت میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، اس سلسلہ میں ایک تجویز ہے جس سے استاذ جی نے بھی اتفاق کیا ہے کہ انفرادی بیانات اور مضامین کو الگ الگ سولہ یا اس سے کم صفحات کے پمفلٹس کی صورت میں شائع کریں تو مناسب رہے گا۔
ویسے تو ویب سائیٹ کی رجسٹریشن اور ہوسٹنگ معیاری بین الاقوامی سروسز کے ساتھ کی گئی ہے، لیکن احتیاطاً بیک اپ کے طور پر اس کا ایک ورژن درج ذیل ایڈریس پر موجود ہے جسے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے:

۱۴ اگست ۲۰۲۵ء