بیانات و محاضرات

علومِ دینیہ کی ترویج میں خواتین کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ مدرسہ ہمارے محترم دوست اور بزرگ ساتھی حضرت مولانا حافظ مہر محمد صاحبؒ کی یادگار اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ ہم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی برس اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، وہ مجھ سے سینئر تھے اور دو تین سال پہلے فارغ ہوئے تھے، البتہ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک رہے ہیں۔ فاضل اور محقق عالم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۲ء

سودی نظام اور ہمارا افسوسناک رویہ

آج کی گفتگو اس حوالے سے ہو گی کہ قرآن کریم نے بہت سے کاموں سے منع کیا ہے مگر ان میں سے بعض امور پر سخت لہجہ اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کاموں سے بہرحال بچنا ضروری ہے، ان میں سے ایک کام سود کا لین دین بھی ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ’’ان کنتم مومنین‘‘ اگر تم مسلمان ہو تو سود کا لین دین ترک کر دو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۲۲ء

کھیلوں کے مقابلے اور سنت نبویؐ

بعد الحمد والصلوٰة۔ آج الشریعہ اکادمی میں کرکٹ میچ ہوا ہے جس میں اکیڈمی ہی کی دو ٹیموں نے حصہ لیا اور اس میں کنگنی والا کی ٹیم نے کوروٹانہ ٹیم پر برتری حاصل کی۔ اس پر کامیاب ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کھیلوں کے مقابلوں کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر کھیلوں سے تین قسم کے فوائد مقصود ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۲ء

دینی مدارس کے نظام کا تاریخی پسِ منظر اور معاشرتی کردار

ہجری اعتبار سے یہ رجب المرجب کا مہینہ ہے، اس مہینے کے فضائل اور خصوصیات اپنے مقام پر، لیکن ہمارے ہاں دو باتوں کا اس میں زیادہ تذکرہ ہوتا ہے۔ ایک جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کے حوالے سے اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا یہ آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اس میں مدارس کی تقریبات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۲ء

فکری شبہات کی دلدل اور اربابِ علم و دانش کی ذمہ داری

جامعہ خیر المدارس میں حاضری سے نسبتوں کی تازگی اور خیر بلکہ اخیار کے ماحول میں کچھ وقت گزارنے کا وقتاً فوقتاً موقع مل جاتا ہے جس پر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا شکرگزار ہوں۔ میں یہاں مخدوم العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے دور سے حاضر ہوتا آ رہا ہوں اور میں نے ان کی زیارت پہلی بار یہیں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۲ء

مسلم سوسائٹی میں مسجد اور امام و خطیب کا کردار

اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے اس پروگرام میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس سے اس عظیم ادارہ کے ساتھ پرانی نسبتیں بھی تازہ ہو رہی ہیں۔ اس کا پہلا دور جامعہ عباسیہ کے عنوان سے ہماری تاریخ کا حصہ ہے جس کی علمی و دینی خدمات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۲ء

بخاری شریف اور عصرِ حاضر

آپ حضرات نے بخاری شریف کے آخری باب اور روایت کی قراءت کی ہے جو ہم نے سنی ہے اور اس سے آپ کا سبق مکمل ہو گیا ہے۔ مگر آپ کے پڑھے ہوئے اسباق میں سے دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ بخاری شریف کا نام ایک بار پھر ذہن میں تازہ کر لیں کہ اس کتاب کا اصل نام بخاری شریف نہیں ہے، یہ عرفی نام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۲۲ء

امارتِ اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے کی اصل وجہ

افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج کو اپنی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ وہاں سے واپسی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے، امارتِ اسلامی افغانستان نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے جسے پورے افغانستان میں کنٹرول حاصل ہے ،امن و امان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے، اور نئے حکمران بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں موقع دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۲ء

حلال و حرام کے دائرے اور حکمِ خداوندی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عقیدہ اور عبادت کے بعد جس موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے مسائل ہیں۔ حلال و حرام کھا نے پینے اور لباس کے معاملات میں بھی ہے، باہمی تعلقات و حقوق کے حوالہ سے بھی ہے، اور کلام و گفتگو کے دائرہ میں بھی ہے۔ آج اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۲۰۲۱ء

نبی آخر الزمانؐ اور اہلِ کتاب

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’الذین اٰتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم‘‘ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ یعنی انہیں رسول اللہؐ کو پہچاننے میں کوئی دیر نہیں لگی مگر انکار کر دیا جس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ ’’حسدًا من عند انفسھم‘‘ انہوں نے حسد کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ نہ صرف نبی آخر الزمانؐ کا انتظار کر رہے تھے بلکہ ’’کانوا یستفتحون علی الذین کفروا من قبل‘‘ اپنے مخالفوں کے خلاف نبی اکرمؐ کی برکت سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۱ء

دستور کی عملداری اور وفاداری ۔ تین سوالات

حضراتِ علماء کرام اور قابل صد احترام شرکاء محفل! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ عقیدۂ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہار کے اس محاذ پر عالمی مجلس کی کوششوں سے سرگرمیاں مسلسل جاری رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ ترقیات اور برکات نصیب فرمائے۔ دو تین باتیں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیرۃ النبیؐ اور علاج و پرہیز

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں محترم بھائی ڈاکٹر فضل الرحمن (ایم ایس) کا، ان کے رفقاء کا، اور یہاں کی انتظامیہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہء حسنہ کے حوالے سے محفل کا انعقاد کیا اور مجھے بھی موقع بخشا کہ میں آپ حضرات کے ساتھ اس مبارک محفل میں بیٹھوں اور اس کی برکات حاصل کروں - - - مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۲۱ء

تحفظ ناموس رسالت ۔ جدوجہد کی موجودہ صورتحال

کالعدم تحریک لبیک کی طرف سے سڑکوں پر دھرنا اور احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے اور کئی دنوں تک چلے گا، اس سلسلہ میں صورتحال اور اپنا موقف عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اقوام متحدہ، یورپی یونین اور تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ جس طرح کسی بھی ملک میں عام شہری کی توہین جرم سمجھی جاتی ہے، حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بھی بین الاقوامی سطح پر جرم تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم ریاست میں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری

پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۲۱ء

تہذیبی یلغار اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی ہمارے شہر کے معروف قاری جناب قاری حماد انور نفیسی نے قرآن کریم کی بہت خوبصورت لہجہ میں تلاوت کی ہے اور ان سے پہلے مولانا ندیم احمد نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی تلاوت کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر کی تھی جبکہ ایک تلاوت قرآن کریم کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کے حافظہ کا امتحان

بعد الحمد والصلوٰۃ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث مبارکہ کو یاد کرنے کا خصوصی ذوق تھا، جہاں بیٹھتے حدیثیں بیان کرتے تھے۔ جب انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں تو آخر عمر میں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں، پتہ نہیں ان کا حافظہ ٹھیک کام کرتا ہے یا نہیں؟ جان بوجھ کر غلط بیان کرنا اور بات ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہو تو ممکن ہے کہ بات ادھر کی ادھر بیان کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم حکومتیں اور اسلامی نظام

آج میں آپ حضرات کو موجودہ معروضی حالات میں اسلام کے قانون و نظام کو کسی بھی سطح پر تسلیم کرنے والی مسلم حکومتوں کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کے دستور و قانون میں اسلام کا نام شامل ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومتیں اور ریاستیں ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ایران تو سب کے سامنے ہیں البتہ مراکش میں بھی سربراہ مملکت کو امیر المؤمنین کہا جاتا ہے جس کا پس منظر اس وقت میرے سامنے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

چھ اور سات ستمبر کی ختم نبوت کانفرنسوں کی اہمیت و ضرورت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور سات ستمبر کو مینارِ پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں جو تاریخی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلہ میں یہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام کے تحفظ اور مسجد و مدرسہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے جو مراحل اس وقت درپیش ہیں ان میں یہ بات سب دوستوں کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون پر ہمارے تحفظات

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ایک نیا قانون ہے جو صوبوں میں نافذ ہو گیا ہے اور مرکز میں نافذ ہونے جا رہا ہے، جس کو ”گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون“ کہتے ہیں۔ اس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہے ، ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہے، دستور کے خلاف ہے اور مسلمہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر بحث چل رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے دینی حلقے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ

بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۲۱ء

مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

بعد الحمد والصلوٰة ۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ سرگودھا کے مختلف حلقوں کے دوست اور علماء کرام آج ایک جگہ جمع ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے، علماء کرام اور ہم خیال دوستوں کو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی عنوان پر اور کسی نہ کسی بہانے اکٹھے بیٹھتے رہنا چاہئے، اس سے ایک تو لوگوں کو سہارا ہوتا ہے کہ علماء میں وحدت ہے، جبکہ آپس میں تبادلۂ خیالات، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی ہو جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا یہ اجتماع قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۱ء

تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ اور سرکاری رویہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر پرسوں لاہور میں ہونے والے تشدد پر ملک بھر میں جو اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے، اور اس بات کی علامت ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ اور دینی شعائر کا تحفظ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر اور تمام طبقات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ سب نے اس درد کو محسوس کیا ہے اور سب نے اس پر اپنے جذبات، ردعمل اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے، ختم نبوت کے حوالے سے بات ہو یا ناموس رسالت کے حوالے سے بات ہو، ہمیشہ امت نے اور پاکستانی قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کا ایک بار پھر ر مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۱ء

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا ۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد کے بہت سے سرکردہ وکلاء محترم حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو لائقِ تحسین ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی محنت و کاوش سے خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی کے جج راجہ جواد عباسی نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ محترم وکلاء کا یہ گروپ ’’انٹرنیشنل لائیرز فورم اسلام آباد‘‘ کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۱ء

حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت اور اہم کارنامے

سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ، مقام و فضیلت اور خلافت و حکومت کے حوالہ سے گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں اور ہر ایک میں ہمارے لیے سبق اور راہنمائی موجود ہے، مگر آج حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے عنوان سے تین چار سوالات کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ خلافت کسے کہتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ تیسرا یہ کہ ان کی خلافت کی نظریاتی بنیاد کیا تھی؟ اور چوتھا یہ کہ بحیثیت خلیفہ انہوں نے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۱ء

غیر مسلموں سے معاہدہ اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۱ء

دین میں عُسر اور یُسر کا مفہوم

قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں ماہ رمضان میں قرآن کریم کے نزول اور روزے کی فرضیت کا تذکرہ ہے اور مسافر و مریض کے لیے روزہ دوسرے دنوں میں قضا کر لینے کی سہولت بیان کی گئی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر‘‘ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتے۔ آج قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یُسر اور عُسر کا مفہوم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام میں تنگی اور آسانی کی کون سی صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء

سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے افضل صحابی ہیں اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ہی ان کے حوالہ سے یہ ماحول بن گیا تھا کہ کم و بیش سبھی حضرات کا یہ اندازہ تھا کہ آنحضرتؐ کی جانشینی کے منصب پر وہی فائز ہوں گے، اس پر بہت سی شہادتیں احادیث و تاریخ میں موجود ہیں جن میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ احد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں افراتفری مچی جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ایک مرحلہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول اللہ شہید ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۱ء

’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘

سالِ رواں کے آغاز میں ’’مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈیسک‘‘ کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کے تحت مسلسل دس روز تک اکابر اہل علم و دانش کے خطابات کا سلسلہ چلتا رہا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اس سے استفادہ کیا۔ اختتامی نشست دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۱ء

درسِ نظامی کا آن لائن کورس

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام درس نظامی کے تین سالہ آن لائن کورس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اس کی بے پناہ نعمتوں پر اس کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے دو تین باتیں تعارفی اور تمہیدی طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ آج سے تین عشرے قبل ہم نے جب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا آغاز کیا تو بنیادی ہدف دین کی دعوت اور تعلیم و ترویج تھا۔ اس کے تین بنیادی مرحلے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۲۱ء

ہماری گھریلو درسگاہ

آج کی اس محفل میں حاضری میرے لیے مختلف حوالوں سے خوشی اور سعادت کی بات ہے ، ایک تو اس لیے کہ چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جن میں میری بھتیجیاں بھی شامل ہیں جو ہمارے چھوٹے بھائی مولانا منہاج الحق خان راشد کی بیٹیاں ہیں، دوسرا اس حوالہ سے کہ یہ درسگاہ والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور ہماری دو ماؤں کی گھریلو درسگاہ ہے، اور تیسرا اس لیے کہ میری اپنی ابتدائی درسگاہ بھی یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ حاضر کے مدعیانِ نبوت

میری گفتگو کا ایک دائرہ یہ ہوتا ہے کہ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اس میں نئی نبوت اور وحی کے دعوے کے ساتھ کون کون سے گروہ دنیا میں موجود ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان سے بھی ہمیں ضرور متعارف ہونا چاہیے، یہ تقریباً چار یا پانچ ہیں، ان کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک تو ذکری مذہب ہے کہ بلوچستان میں مکران اور تربت کی پٹی ان سے بھری پڑی ہے، یہ تقریباً چار سو سال سے چلے آرہے ہیں، ان کی مختصر تاریخ ذکر کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ اول کے مدعیانِ نبوت

حضرات علماء کرام! آج منحرف مذاہب کے حوالے سے بات کریں گے۔ منحرف مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جو نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن نئی نبوت اور نئی وحی کے قائل ہیں۔ میں نے ان کو منحرف مذاہب کا ٹائٹل صرف فرق بتانے کے لیے دے رکھا ہے ورنہ تو یہ غیر مسلموں میں ہی ہیں۔ یہ اس وقت کون کون سے ہیں؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپؐ کے بعد اب تک بہت سے لوگوں نے مختلف ادوار میں مختلف علاقوں میں نبوت اور نئی وحی کا دعوٰی کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― بدھ مت

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرات علماء کرام! آج بدھ مذہب کے بارے میں تعارفی معلومات مہیا کی جائیں گی۔ بدھ ازم، بدھ مت، یہ مہاتما بدھ کے نام سے متعارف ہے۔ مہاتما بدھ کا اصل نام ’’سدارتھا بوتم‘‘ ہے۔ ’’مہاتما‘‘ خدا کی صفات کے مظہر کو کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ پانچ سو سال قبل مسیح ہندوستان کے علاقے میں راجہ شدودھن کے ہاں پیدا ہوئے جو کہ ہندو کھشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ مہاتما بدھ کی پیدائش نیپال کی سرحد کے قریب بھارت میں اور بعض مؤرخین کے مطابق بنارس کے شمال میں ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بستی میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― ہندو

حضرات علماء کرام! آج ہندو مذہب کے حوالے سے کچھ بات ہو گی کہ ہندو مذہب کیا ہے، اس کے ساتھ ہمارے معاملات کیا چلے آرہے ہیں، اور اس وقت ہم کس پوزیشن میں ہیں۔ ہندو مذہب کا آغاز کب ہوا، اس کی بنیادیں کیا ہیں، اور ان کے بنیادی عقائد کیا ہیں، اس بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ ہندو مذہب کی بنیاد اور بنیادی عقائد کے بارے میں کوئی متفقہ بات نہیں ملتی۔ عام طور پر اسے وطنی مذہب سمجھا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں متحدہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ ہندی اور ان کا مذہب ہندو مذہب کہلاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― سکھ

ان ادیان میں سے جن مذاہب کے ساتھ ہمارا عملی واسطہ ہے آج آغاز کرنے لگا ہوں، اپنے قریبی اور پڑوسی مذہب یعنی سکھ مذہب کے بارے میں۔ سکھ مذہب پنجاب کا مذہب ہے، ان کی تاریخ زیادہ سے زیادہ پانچ سو سال کی ہے، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ان کا آغاز ہوا۔ ان کو سمجھنے سے پہلے ایک اور بات سمجھنی ضروری ہے کہ بابا گرو نانک سکھ مذہب کے بانی پہلے ہندو تھے۔ شیخوپورہ کے ساتھ ننکانہ صاحب ضلع ہے، اس کا پرانا نام تلونڈی تھا۔ بابا نانک کے نام سے اس کا نام ننکانہ صاحب رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― عیسائیت

حضرات علماء کرام! آج آپ سے بات کرنا چاہوں گا عیسائیت، مسیحیت، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیروکاری کا دعوٰی رکھنے اور انجیل کی بات کرنے والوں کے بارے میں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ساڑھے پانچ، چھ صدیاں پہلے مبعوث ہوئے اور خاتم انبیائے بنی اسرائیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطا فرمائی، ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور بغیر موت کے زندہ اٹھا لیا۔ یہ ان کے اعزازات و امتیازات میں سے ہے۔ حضرت عیسٰیؑ نے فلسطین میں اپنی دعوت پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― یہودیت

تعارف ادیان و مذاہب کے حوالے سے ہم نے گزشتہ نشست میں بات شروع کی تھی۔ موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و رسوخ کے اعتبار سے، عالمی نظام میں مداخلت کے اعتبار سے، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے حوالے سے یہودی اس وقت طاقتور ترین قوم ہیں۔ یہودیت کو سمجھنا اور پہچاننا ہمارے لیے بہت سے حوالوں سے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ حضرات علماء کرام! آج سے ہم اپنے دوسرے سمسٹر کا آغاز کر رہے ہیں۔ پہلے سمسٹر میں ہمارا موضوع تھا کہ موجودہ تہذیبی کشمکش اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے ساتھ دنیا کے جو فکری، ثقافتی اور تہذیبی تنازعات ہیں، ان کے کچھ حصوں کو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا تھا۔ انسانی حقوق کے چارٹر کے حوالے سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کے قوانین کے حوالے سے چند مسائل میں نے آپ کے سامنے بیان کیے تھے، جو ہمارے درمیان تنازعہ اور کشمکش کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے

کافی عرصہ کے بعد جامعہ فریدیہ میں حاضری اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ گزارشات بھی کروں اس لیے تعمیل حکم میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ جامعہ فریدیہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے اور مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی محنتوں کا ثمرہ اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان و رفقاء نے اس علمی ادارہ اور مرکز کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جامعہ فریدیہ آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزرا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

دیوبندیت کا عالمی تعارف

جامعہ رشیدیہ کو پاکستان میں دیوبندیت کے تعارف اور فروغ کی جدوجہد میں اہم مقام حاصل ہے اور ہم نے طالب علمی کے دور میں جن مراکز سے دیوبندیت کا سبق لیا ہے جامعہ رشیدیہ بھی ان میں سے ہے۔ پاکستان بننے کے بعد مسائل کی علمی تحقیق و وضاحت کے حوالہ سے حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو دیوبندیت کی علمی ترجمانی کا مقام حاصل ہوا اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ان کا مرکز تھا، جبکہ دیوبندیت کے تحریکی اور تاریخی پس منظر اور مقام سے نئی نسل کو روشناس کرانے میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال نے اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء

دینی مدارس کی تعلیم اور انسانی معاشرہ کی ضروریات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دار العلوم نیویارک کے مختلف اجتماعات میں کئی سالوں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور اساتذہ و منتظمین کے ذوق و محنت کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات میں شرکت کی توفیق دی ہے، علماء کرام، اساتذہ، طلبہ اور طلبہ و طالبات کے والدین کے اس بڑے اجتماع میں آپ حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور آپ سب حضرات کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس سال دار العلوم سے گیارہ طلبہ نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب: اہداف اور دائرے

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ آج کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا بھر میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سطح پر اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فورم یا ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۷ء

’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم سب کے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائناتؐ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہونے والی مبارک محفل میں بیٹھے ہیں، مختلف حوالوں سے آقائے نامدارؐ کا ذکر کر رہے ہیں اور سن رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائیں اور عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے آج کی مختصر گفتگو میں ایک دو کا تذکرہ ہی ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۴ء

ویلفیئر اسٹیٹ، اسوۂ نبویؐ کی روشنی میں

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر بات کی جا سکتی ہے، مگر میں آج ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک ریاست کو اپنی آبادی کے نادار، بے سہارا، ضرورت مند اور بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، اور بہت سی حکومتوں نے اسے اپنی ذمہ داری میں شامل کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۴ء

Pages

Flag Counter