معراج النبیؐ: ایک سبق، ایک پیغام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۹ء

(۲۷ رجب ۱۴۳۰ھ کو معراج النبیؐ کے موقع پر جامع مسجد جلال آباد (پیٹرسن، نیو جرسی، امریکہ) میں ایک دینی اجتماع سے خطاب کی تحریری شکل۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ ۔ معراج اور اسراء جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرمؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک کیا، اور معراج وہ سفر ہے جو زمین سے ساتوں آسمانوں اور اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ تک ہوا، اور اس میں رسالتمآبؐ نے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر دیکھے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے اور سینکڑوں احادیث میں ان کی تفصیلات مذکور ہیں۔ عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ یہ دونوں سفر ایک ہی رات میں ہوئے اور نبوت کے گیارہویں سال ۲۷ویں رجب کو اس عظیم الشان معجزے کا ظہور ہوا۔ اور اسی کو جناب نبی اکرمؐ کے عظیم الشان معجزات میں شمار کیا جاتا ہے اس لیے کہ یہ دونوں سفر بیداری کی حالت میں جسم مبارک کے ساتھ ایک ہی رات میں ہوئے۔ چونکہ یہ سب کچھ عام حالات و اسباب میں ممکن نہیں ہے اسی لیے یہ سفر معجزہ کہلاتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معجزات عطا فرمائے ہیں اور جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی سے بھی سینکڑوں معجزات کا ظہور ہوا ہے۔معجزات کے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ کسی معجزاتی واقعہ کے ثبوت کے لیے روایت میں تو بحث و اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے یا نہیں، اس کی سند درست ہے یا نہیں، لیکن اگر کوئی واقعہ صحیح روایت اور سند کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس کے بعد اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو عقل اور مشاہدہ کے خلاف ہے، وغیرہ۔ اس لیے کہ معجزہ اگرچہ پیغمبر کے ہاتھ پر اس کی صداقت کے اظہار کے لیے ظاہر ہوتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار اور فعل سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے کوئی کام بھی ناممکن نہیں ہے وہ اپنی قدرت کاملہ سے کسی وقت اور کچھ بھی کر سکتا ہے۔

اس لیے ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جناب نبی اکرمؐ کو معراج کی شب مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک اور زمین سے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کی سیر کرائی اور یہ سارا سفر حالت بیداری میں جسم مبارک کے ساتھ ہوا، اس کی تفصیلات خود آنحضرتؐ نے بیان فرمائیں جو سینکڑوں احادیث مبارکہ میں مذکور و محفوظ ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ متعدد مواقع پر خواب میں بھی آپؐ کو جنت و دوزخ اور کائنات کے مختلف مناظر دکھائے گئے جن کا تذکرہ احادیث میں خواب کے حوالہ سے موجود ہے۔ اور یہیں سے کچھ حضرات کو مغالطہ ہوا ہے کہ معراج بھی شاید خواب کا واقعہ ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے خواب کے واقعات بھی ہوئے اور معراج و اسراء کا معروف واقعہ بیداری کے ساتھ جسمانی طور پر ہوا۔ اور اسی کو معجزہ کہا جاتا ہے ورنہ خواب کی بات ہو تو اسے معجزہ کا عنوان دینے کی ضرورت نظر نہیں آتی اس لیے کہ خواب میں تو ہم بھی خدا جانے کہاں کہاں کی سیر کرتے رہتے ہیں اور اس میں کوئی معجزاتی بات نہیں ہے۔

البتہ ایک بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہمارے خواب میں اور حضرات انبیاء کرامؑ کے خواب میں فرق ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہمارا خواب ضروری نہیں کہ سچا اور درست ہو شیطانی خیالات بھی ہو سکتے ہیں، نفسانی تخیلات بھی ہو سکتے ہیں اور فرشتوں کی طرف سے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ یہ ہے کہ پیغمبر کے سوا کسی کا خواب حجت اور دلیل نہیں بن سکتا جبکہ پیغمبر کا خواب حجت اور دلیل ہے، اللہ تعالیٰ کے کسی بھی نبی کے خواب اور بیداری میں کوئی فرق نہیں ہے اور بیداری کی طرح خواب کی وحی بھی حجت اور دلیل ہے۔ پیغمبر کا خواب اس درجہ کی وحی اور حجت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر تیار ہو گئے، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی والد محترم کے سامنے اپنی گردن ذبح کے لیے پیش کر دی بلکہ اپنی طرف سے باپ نے ذبح کر دیا اور بیٹا ذبح ہو گیا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح ہونے سے اپنی قدرت کے ساتھ بچا لیا۔اس سارے واقعہ کی بنیاد خواب پر ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر کا خواب بھی اس کی بیداری کی طرح وحی کا درجہ رکھتا ہے۔

اس بنیاد پر یہ عرض کرنا شاید نا مناسب بات نہ ہو کہ جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے تو ان کے خواب کے اسفار اور بیداری کے سفر میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں قسم کے مشاہدات حقیقی اور واقعاتی ہیں، البتہ ہمارے لیے دونوں کی حیثیت اس پہلو سے الگ الگ ہے کہ حضورؐ کا بیداری کی حالت میں معراج و اسراء کا سفر معجزہ ہے، جبکہ خواب کے اس قسم کے اسفار کو معجزات میں شمار نہیں کیا جاتا۔

اس تمہید کے ساتھ یہ گزارش کروں گا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج اور اسراء کا ہمارے ساتھ تعلق ایک تو اس حوالہ سے ہے کہ یہ ہمارے ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے، اور دوسرا تعلق اس پہلو سے ہے کہ ان میں ہمارے لیے سبق اور عمل کے بہت سے پہلو ہیں۔ ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان واقعات سے سبق حاصل کریں اور ان میں ہمارے لیے جو پیغامات اور تعلیمات ہیں ان پر عملدرآمد کا اہتمام کریں۔ چنانچہ خواب اور بیداری کے ان واقعات میں سے، جو سینکڑوں احادیث مبارکہ میں بکھرے ہوئے ہیں، دو واقعات کا تذکرہ کروں گا۔ ایک واقعہ خواب کا ہے اور دوسرا بیداری کے معراج کا ہے۔

جناب نبی اکرمؐ کا معمول مبارک یہ تھا کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد اشراق کے وقت تک مسجد میں ہی تشریف فرما ہوتے تھے اور اس دوران مختلف نوعیت کی باتیں ہوتی رہتی تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ کسی صحابی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ اپنا خواب بیان کرتا تھا اور آنحضرتؐ اس کی تعبیر بتا دیتے تھے۔ بسا اوقات آپؐ پوچھ بھی لیتے تھے کہ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرے، کبھی حضورؐ اپنا خواب بیان فرماتے تھے کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر بیان فرماتے تھے۔ بخاری شریف میں حضرت سمرۃ بن جندبؓ کی روایت سے جناب نبی اکرمؐ کا ایک طویل خواب مذکور ہے جس کا ایک حصہ عرض کر رہا ہوں۔

رسول اکرمؐ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔میں ان کے ساتھ چل پڑا، ہم چلتے چلتے ایک بستی میں پہنچے جو بہت خوبصورت تھی، اتنی خوبصورت بستی میں نے اس سے قبل نہیں دیکھی تھی، خوبصورت عمارتیں، کشادہ راستے، صاف ستھرا ماحول، غور سے دیکھا تو نظر آیا کہ عمارتیں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں۔ میں نے ساتھ والے دو شخصوں سے پوچھا کہ یہ بستی کون سی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آگے چلیں بعد میں بتائیں گے۔ہم آگے چلے تو بستی کے ایک طرف صاف ستھرے پانی کی ایک بڑی نہر ہے جس میں روانی کے ساتھ پانی چل رہا ہے، میں نے دیکھا کہ بستی کی دوسری طرف لوگوں کا ایک بڑا ہجوم ہے جو بستی کی طرف بڑھ رہا ہے مگر ان کے چہرے عجیب ہیں ’’نصفہم کأحسن مارأیت و نصفہم کأقبح ما رأیت‘‘ چہرے کا نصف حصہ اتنا خوبصورت ہے جتنا خوبصورت تم دیکھ سکو اور چہرے کا باقی نصف اتنا بدصورت ہے جتنا بدصورت تم دیکھ سکو۔ میں نے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلیں بعد میں بتائیں گے۔اتنے میں میرے ساتھیوں نے ہجوم والوں کو آواز دی کہ سب اس نہر میں کو د جاؤ وہ سب نہر میں کود گئے اور اس میں دو دو چار چار غوطے لگاتے ہوئے تیر کر دوسرے کنارے سے بستی میں داخل ہونا شروع ہو گئے، میں نے دیکھا کہ نہر میں چھلانگ لگانے اور غوطے کھانے سے ان کے چہروں کی ساری بدصورتی غائب ہو گئی اور وہ انتہائی خوبصورت چہروں کے ساتھ اس بستی میں داخل ہو گئے ۔ اس کے بعد میرے ان دو ساتھیوں نے جو مجھے لے کر آئے تھے بتایا کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں اور ہماری آج کی ڈیوٹی آپ کو یہ مناظر دکھانے کی ہے۔یہ بستی عدن ہے جو جنت کا وہ حصہ ہے جہاں آنجناب کا قیام ہو گا، یہ بستی کی طرف بڑھنے والے لوگوں کا ہجوم آپ کی امت کے ان لوگوں کا ہے جو ’’خلطوا عملاً صالحاً وآخر سیئا‘‘ نیکی اور بدی کے کام گڈمڈ کرتے رہے ہیں۔انہوں نے اچھے اعمال بھی کیے اور برے اعمال بھی کرتے رہے اور ان کے معمولات میں نیکی اور گناہ کے اعمال خلط ملط چلتے رہے ۔ان کے چہروں پر ان کے اپنے اعمال کا پرتُو ہے، نیکی اور خیر کے اعمال حسن کی صورت میں جبکہ گناہ اور شر کے اعمال قبح کی صورت میں ان کے چہروں سے ظاہر ہو رہے تھے۔ اور جس نہر میں چھلانگ لگا کر انہوں نے قبح اور بدصورتی سے نجات پائی ہے یہ توبہ اور استغفار کی نہر ہے جس میں نہانے سے ان کے چہروں سے ساری بدصورتی صاف ہو گئی اور وہ خوبصورت چہروں کے ساتھ جنت میں داخل ہو گئے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں گناہوں سے نجات اور اعمال شر کے اثرات ختم کرنے کے لیے توبہ اور استغفار کا راستہ بتایا ہے اور تلقین فرمائی ہے کہ ہم توبہ اور استغفار کرتے رہیں تاکہ گناہوں سے اور ان کے اثرات سے پاک ہو سکیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے جسم پر میل کچیل جمتی ہے، پسینہ آتا ہے اور بدبو پیدا ہوتی ہے، جس کا علاج یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً غسل کرتے رہیں۔ اگر غسل کرتے رہیں گے تو جسم کی بدبو، پسینہ اور میل کچیل ساتھ ساتھ صاف ہوتی رہے گی اور اگر غسل کی عادت اور معمول نہیں ہو گا تو رفتہ رفتہ یہ میل کچیل جسم کا حصہ بن جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ غسل بھی فائدہ نہیں دے گا۔ یا جیسے استعمال ہونے والے کپڑے ہیں کہ ان پر گرد بھی لگے گی، داغ بھی جمیں گے، پسینہ اور میل کچیل بھی ان کو میلا کرے گی اور ان سے بدبو بھی آئے گی۔ ان سب کا علاج یہ ہے کہ ان کو وقفہ وقفہ سے دھویا جاتا رہے، کپڑے استعمال ہوں گے اور ساتھ ساتھ وقفہ وقفہ سے دھلتے رہیں گے تو صاف رہیں گے، لیکن اگر استعمال تو ہو رہے ہیں مگر دھل نہیں رہے تو یہ میل کچیل اور داغ ان کے ساتھ پختہ ہوتے چلے جائیں گے اور ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ کپڑوں کو دھونے کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔

اسی طرح ہمارا جسم اور اس کے ساتھ روح ہے۔ اور ہمیں ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ اگر روح کا کنکشن ہے تو یہ انسان ہے ورنہ خالی جسم تو کباڑ کی طرح ہے کہ اسے کوئی بھی گھر میں رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔باپ بیٹے کو دفن کر دیتا ہے اور بیٹا اپنے ہاتھوں باپ کو سپرد خاک کرتا ہے، بیوی خاوند کو گھر میں رکھنے کے لیے تیار نہیں ہے اور خاوند بیوی کو گھر میں نہیں رکھتا۔ جیسے موبائل فون میں کنکشن ہو تو وہ رابطے کا کام کرتا ہے، اور ہم اپنے موبائل فون کو کارآمد رکھنے کے لیے سیٹ اور کنکشن دونوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دونوں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔سیٹ کی ضرورت یہ ہے کہ اس کی مشینری صحیح کام کرے اور اس کی بیٹری چارج ہوتی رہے جبکہ کنکشن کی ضرورت یہ ہے کہ وہ برقرار رہے اور اس کو ضرورت کے مطابق بیلنس ملتا رہے۔ اسی طرح انسان ہے جو جسم اور روح دونوں سے مرکب ہے، جسم کی ضروریات کی طرف تو ہماری توجہ ہوتی ہے اور ہم اس دنیا میں اس کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں ہو کرتے رہتے ہیں لیکن روح کی ضروریات کی طرف ہماری توجہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ جسم کے ساتھ کنکشن رکھتے ہوئے بھی ڈیڈ ہو جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح جسم میلا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ گرد اور بدبو لگتی ہے جس کا علاج ہم غسل کے ساتھ کرتے ہیں، اسی طرح روح بھی میلی ہوتی ہے، نفسانی خواہشات، گناہ، شیطانی خیالات اور برے اعمال انسان کی روح کو میلا کر دیتے ہیں، اسے بدبودار بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کا غسل بھی اگر ساتھ ساتھ ہوتا رہے تو وہ صاف رہتی ہے ورنہ میل اور بدبو رفتہ رفتہ اسے اس حال میں کر دیتی ہے کہ میل اور بدبو کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے، اسی حالت کو قرآن کریم نے دلوں کے گرد غلاف چڑھ جانے سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ پھر دلوں پر مہر لگ جاتی ہے اور ان میں حق اور خیر کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ روح کا غسل نماز کے ساتھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ ہوتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت سے ہوتا ہے، جناب نبی اکرمؐ پر درود شریف پڑھنے سے ہوتا ہے اور توبہ و استغفار کی کثرت سے ہوتا ہے۔ اور جناب رسول اکرمؐ کے اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی کی بات کی تعلیم دی ہے۔

دوسرا واقعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تاریخی سفر معراج و اسراء کا بیان کروں گا جو ایک بڑا معجزہ ہے، بیداری کی حالت میں ہوا ہے، جسم مبارک کے ساتھ ہوا ہے اور اس کی مختلف تفصیلات آنحضرتؐ سے سینکڑوں احادیث مبارکہ میں منقول ہیں۔ ترمذی شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے جب جنت میں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی تو حضرت ابراہیمؑ نے آنحضرتؐ کی امت کے لیے آپ کو دو پیغام دیے۔ وہ دو پیغام میں آج کی اس محفل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ حضرات کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ روایت کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ آنحضرتؐ کی اس سفر معراج و اسراء میں تین بار ملاقات ہوئی۔ پہلی بار جب تمام انبیاء کرامؑ بیت المقدس میں جمع ہوئے اور سب نے نبی اکرمؐ کی اقتدا میں نماز پڑھی ہے۔ دوسری بار فرشتوں کے قبلہ بیت المعمور کے پاس ان دو بزرگوں کی ملاقات کا ذکر روایات میں ملتا ہے۔ اور تیسری ملاقات کا ذکر ترمذی شریف کی اس روایت میں ہے جو جنت میں ہوئی ہے اور اس میں حضرت ابراہیمؑ نے جناب نبی اکرمؐ کے ذریعے آپؐ کی امت کے لیے دو پیغامات دیے۔

  1. ایک یہ کہ اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہہ دیجیے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ ہمیں سلام بھیج رہے ہیں، اور وہ بھی جناب نبی اکرمؐ کے ذریعہ سے۔ اس لیے یہ سلام سن کر ہم سب کو سنت کے مطابق اس کا جواب دینا چاہیے۔
  2. دوسرا پیغام یہ ہے کہ اپنی امت سے فرما دیجئے کہ ’’ان الجنۃ ارضہا طیب و ماء ہا عذب و انما ہی القیعان ، غرسہا سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ و اللّٰہ اکبر و لا الہ الا اللّٰہ‘‘ بے شک جنت کی زمین عمدہ ہے اور پانی میٹھا ہے لیکن وہ چٹیل میدان ہے، اسے ذکر الٰہی کے ذریعے خود آباد کرنا ہوگا۔

یعنی جنت انسانوں کے رہنے کے قابل ہے لیکن خالی پلاٹ ملے گا اور وہاں تعمیر اور آبادی خود کرنا ہو گی۔دنیا میں کسی بھی جگہ آبادی کے لیے اور بسنے کے لیے سب سے پہلے زمین اور پانی کو چیک کیا جاتا ہے اور پھر وہاں بستی بسانے اور انسانوں کو آباد کرنے کا پلان کیا جاتا ہے۔ آج کل ہمارے سائنسدان مختلف سیاروں میں انسانی زندگی کے امکانات تلاش کر رہے ہیں، پانی آکسیجن اور ہوا وغیرہ کی تلاش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ انسانوں کو اگر کسی دوسرے سیارے میں آباد ہونا پڑے تو اس کے لیے کونسا سیارہ مناسب رہے گا۔ویسے بھی ہم نے اس سیارۂ ارضی کا خود اپنے ہاتھوں جو حشر کر دیا ہے بلکہ مسلسل کیے جا رہے ہیں اس کے پیش نظر متبادل جگہ کی تلاش نسل انسانی کی ضرورت بھی ہے کہ ہماری بداعمالیوں اور حرکتوں کی وجہ سے یہ سیارۂ ارضی خدانخواستہ کسی وقت بھی تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن میں یہ عرض کروں گا کہ ہمارے سائنسدان تو ابھی امکانات کی تلاش میں سرگرداں ہیں جبکہ حضرت ابراہیمؑ نے چودہ سو سال قبل ایک پیغام کے ذریعے یہ رپورٹ ہمیں بھجوا دی ہے کہ جنت انسانوں کے رہنے کے قابل ہے اور اس کی زمین اور پانی دونوں حیات انسانی کے لیے خوشگوار ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دے دی ہے کہ جنت چٹیل میدان ہے اور جس کو بھی ملے گی خالی پلاٹ کی صورت میں ملے گی، اسے آباد خود کرنا ہو گا اور اس پر شجرکاری، باغات اور سبزہ وغیرہ کا اہتمام انسانوں کو خود کرنا پڑے گا۔

مختلف احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہر انسان کو اس کی دنیا میں پیدائش کے ساتھ ہی دو پلاٹ الاٹ ہو جاتے ہیں ایک جنت کا اور دوسرا دوزخ کا، دونوں پلاٹ اس کے ساتھ مختص ہو جاتے ہیں۔ اب یہ اس کا کام ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کس کو آباد کرتا ہے اور کس کو ویران رہنے دیتا ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں جب سوال و جواب کا مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے تو جنتی اور نیک شخص کے لیے پہلے جہنم کی کھڑکی کھولی جاتی ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اگر تو نیکی اور ایمان کا راستہ اختیار نہ کرتا تو تیرا یہ ٹھکانہ ہوتا، یہ بتا اور دکھا کر دوزخ کی وہ کھڑکی بند کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے جنت کی کھڑکی کھولی جاتی ہے۔ اسی طرح بد کار اور دوزخی کے لیے پہلے جنت کی کھڑکی کھولی جاتی ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ نیکی اور ایمان کا راستہ اختیار کرتا تو اس کا یہ ٹھکانہ ہوتا، اس کے بعد وہ کھڑکی بند کر کے اس کے لیے جہنم کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔

اس لیے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ کسی بھی انسان کو دنیا میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی جنت اور دوزخ کا ایک ایک پلاٹ الاٹ کر دیا جاتا ہے اور فیصلہ اس کی دنیا کی زندگی اور اس کے ایمان اور اعمال کے حوالہ سے ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد کون سا پلاٹ باقی رہ گیا ہے اور کون سا منسوخ ہو گیا ہے۔حضرت ابراہیمؑ بھی اپنے پیغام میں اسی بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ جنت کا خالی پلاٹ تو انسان کو مل جاتا ہے لیکن اس کی آبادی اور اس میں سبزہ کاری انسان کی دنیا کی زندگی کے اعمال و ایمان پر موقوف ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ یہ فرما کر کہ ’’انما ہی القیعان‘‘ جنت چٹیل میدان کا نام ہے، اس کی آباد کاری کا طریقہ بھی یہ فرما کر بتاتے ہیں کہ ’’ غرسھا سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ و اللّٰہ اکبر و لا الہ الا اللّٰہ‘‘ جنت کے اس بے آب و گیاہ اور چٹیل میدان کو سر سبز بنانے کے لیے دنیا میں جتنا اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرو گے اور جتنا اپنے مالک و رازق کا ذکر کرو گے اتنا ہی تمہارے جنت کے پلاٹ میں سبزہ اگے گا اور اتنے ہی وہاں درخت پیدا ہوں گے۔ گویا حضرت ابراہیمؑ نسل انسانی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ زمین کے تباہ ہو جانے کے بعد تمہارے لیے رہنے کے قابل جگہ جنت ہی ہے لیکن اس کے لیے تمہیں محنت دنیا میں کرنی ہو گی اور مرنے سے قبل اس کی تیاری کرنی ہو گی ورنہ وہ پلاٹ کینسل بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور بات عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاں جنت میں اپنے پلاٹ کو آباد کرنے کے لیے ہمیں اس دنیا میں محنت کرنی ہے اور ہمارے موت سے پہلے کے اعمال اور ایمان کے ساتھ ہی ہمارا جنت کا پلاٹ محفوظ رہے گا اور آباد ہو گا، وہاں ہمیں اس پلاٹ کے سائز کا بھی اندازہ کر لینا چاہیے تاکہ محنت اس کے مطابق ہو۔ جنت کی بے پناہ وسعت اور اس کی لمبائی اور چوڑائی کا تذکرہ مختلف احادیث میں ملتا ہے، مثلاً جناب نبی اکرمؐ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ جنت کے ایک درخت کے سائے میں تیز رفتار گھوڑا سو سال تک دوڑتا رہے تو اس کا سایہ پھر بھی ختم نہیں ہو گا۔ مگر میں اس حوالہ سے ایک روایت کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو مسلم شریف میں ہے اور جس میں اس شخص کا ذکر کیا گیا ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا۔

یہ ایک لمبی روایت ہے لیکن میں اس کا صرف ایک حصہ بیان کروں گا کہ جب جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا شخص جنت کے دروازے سے اندر جائے گا تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو گا کہ جا کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤ۔ وہ ادھر ادھر تلاش کرنے کے بعد عرض کرے گا کہ یا الٰہی مجھے تو کوئی خالی جگہ نہیں مل رہی، سب زمینیں ریزرو ہو چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ پھر فرمائیں گے کہ جا کر اپنی جگہ تلاش کرو، وہ دوبارہ گھوم پھر کر واپس آئے گا اور عرض کرے گا مولائے کریم !مجھے تو کوئی خالی جگہ نظر نہیں آرہی۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ بتاؤ کتنی جگہ چاہیے؟ جس زمین پر تم رہ کر آئے ہو، اس پوری زمین جتنی جگہ دے دوں؟ وہ عرض کرے گا’’ اتستہزء بی وأنت رب العالمین؟‘‘ یااللہ ! رب العالمین ہو کر میرے ساتھ استہزا کر رہے ہو؟ مسلم شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ بات سن کر ہنسیں گے اور فرمائیں گے کہ میں تم سے استہزا نہیں کر رہا ’’لک الارض و عشرۃ امثالہا‘‘ بلکہ پوری زمین اور اس جیسی دس زمینیں اور میں نے تمہیں عطا کر دی ہیں۔یعنی یہ کرّہ ارضی اور اس جیسی دس زمینیں اس شخص کو ملیں گی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا، اسی سے جنت کے پلاٹوں کے سائز کا اندازہ کر لیں اور اس بات کا بھی اندازہ کر لیں کہ اس پلاٹ کو آباد کرنے اور اسے اپنے لیے محفوظ رکھنے کی خاطر ہمیں دنیا میں کس قدر محنت درکار ہے۔

حضرات محترم! میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج و اسراء کے دونوں پہلوؤں یعنی بیداری کے معراج اور خواب کے معراج کے حوالہ سے دو مختصر واقعات آپ کے سامنے بیان کیے ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ ہم آنحضرتؐ کے معجزات پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے اپنے لیے سبق اور پیغام بھی تلاش کریں اور ان پر عمل کریں تاکہ ہماری یہ دنیا کی زندگی کار آمد ہو اور ہم یہاں سے سرخرو واپس جائیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: