ریفرنڈم کی دلدل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ اپریل ۲۰۰۲ء

صدر محمد ایوب خان مرحوم کا ریفرنڈم مجھے یاد نہیں ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا، البتہ اتنی سرگرمیاں اس دور کی ذہن کی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں کہ نئے دستور کے لیے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں نظام العلماء پاکستان نے کچھ تجاویز مرتب کی تھیں جنہیں عرضداشت کے طور پر وزارت قانون کو مختلف شہروں سے خطوط کی شکل میں بھجوانے کی مہم جاری تھی اور گکھڑ میں اس پر دستخط کرانے کے لیے میں نے بھی تھوڑا بہت کام کیا تھا۔ اس کے علاوہ ضلعی سطح پر علماء کا ایک وفد، جس میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم، اور مولانا احمد سعید ہزارویؒ شامل تھے، سرکردہ سیاسی زعماء سے ملاقاتیں کر رہا تھا، میرے ذہن میں اس اجلاس کا نقشہ گھوم رہا ہے جس میں ان تینوں بزرگوں نے ممتاز مسلم لیگی لیڈر چوہدری صلاح الدین چٹھہ مرحوم (جناب حامد ناصر چٹھہ کے والد محترم) سے ملاقات کے لیے احمد نگر جانے کا پروگرام بنایا تھا۔

البتہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کا ریفرنڈم میری آنکھوں کے سامنے ہوا، میں اس وقت ایک سرگرم سیاسی کارکن کے طور پر متحرک تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیت علماء اسلام دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی قیادت میں کام کرنے والی جمعیت میں مجھے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر اہم حیثیت حاصل تھی۔ اسے عام حلقوں میں درخواستی گروپ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور سیاسی دنیا میں اس کا موقف یہ تھا کہ اس نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ایم آر ڈی میں شریک کار بننے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے عام تاثر یہ تھا کہ جمعیت علماء اسلام کا درخواستی گروپ جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کا ساتھ دے رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں تھا اور ہماری پالیسی جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم یا ایم آر ڈی میں سے کسی کا ساتھ دینے کی بجائے دینی نقطہ نظر سے ہر صحیح بات کی حمایت کرنے کی تھی اور ہم کسی بلاک یا لابی کی طرف رجحان رکھنے کے بجائے آزادانہ فیصلے کیا کرتے تھے۔

چنانچہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے ریفرنڈم کا اعلان پر ہم نے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلا لیا اور اس ریفرنڈم کے طریق کار سے اختلاف کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس ریفرنڈم میں سوال کیا گیا تھا کہ ’’کیا آپ اسلامی نظام کا ملک میں نفاذ چاہتے ہیں؟‘‘ اور اس سوال کے ہاں کی صورت میں جواب پر نتیجہ مرتب کیا جا رہا تھا کہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم پانچ سال کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ہم نے اس کا بائیکاٹ کیا اور دو حوالوں سے اسے غلط ٹھہرایا:

  1. ایک اس حوالہ سے کہ ریفرنڈم میں سوال کا عنوان بنا کر اسلامی نظام کے نفاذ کو پھر سے متنازعہ اور حل طلب مسئلہ کی حیثیت دے دی گئی ہے، حالانکہ یہ مسئلہ قیام پاکستان سے پہلے ہی طے ہو گیا تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہوگا اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ مرحوم نے متعدد اجتماعات میں واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا تھا کہ پاکستان میں قرآن و سنت کی حکمرانی ہوگی، اس لیے ہمارے نزدیک یہ سوال ہی سرے سے غلط تھا۔
  2. دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلامی نظام کے نفاذ کو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی صدارت کے ساتھ مشروط کرنے کا سوال ہماری سمجھ سے بالاتر تھا، اس لیے ہم دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس کے بائیکاٹ میں شریک ہوگئے۔

ریفرنڈم کے روز مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے سامنے شیرانوالہ باغ میں ہمارے حلقے کا پولنگ اسٹیشن تھا اور میں جامع مسجد میں اپنے کمرے کی گلی کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے سامنے بیٹھا سارا منظر دیکھ رہا تھا کہ ہمارے حلقہ کے بزرگ مسلم لیگی رہنما الحاج بابو محمد اسماعیل، جو موجودہ ناظم سٹی تحصیل الحاج بابو جاوید احمد کے والد ہیں، مجھے دیکھ کر تشریف لائے اور کہا کہ آئیں ہمارے ساتھ چل کر ریفرنڈم میں ووٹ ڈالیں۔ میں نے عرض کیا کہ ہم نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ اسلامی نظام نہیں چاہتے؟ میں نے جواب دیا کہ میں اسلامی نظام کو متنازعہ مسئلہ نہیں سمجھتا، جس پر وہ چلے گئے۔

اس ریفرنڈم کے حوالہ سے ایک اور واقعہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جامع مسجد کے ایک نمازی ریفرنڈم سے ایک روز قبل شام کے وقت میرے پاس تشریف لائے اور اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے تعاون کے لیے کہا۔ ان کی پریشانی یہ تھی کہ ان کی اہلیہ جو ایک سکول میں معلمہ تھیں صبح ڈیوٹی پر گئی تھیں مگر شام تک واپس نہیں آئیں اور نہ ہی ان کا کچھ پتہ چل رہا تھا، بات واقعی پریشانی کی تھی۔ میں نے بھی ایک دو جگہ سے معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ دوسرے روز ان صاحب سے ملاقات ہوئی تو میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ رات کافی دیر کے بعد ان کی اہلیہ گھر واپس آئیں اور جب ان سے پوچھا کہ اب تک وہ کہاں رہیں؟ تو انہوں نے انتہائی غصہ سے جواب دیا کہ ”اسلام نافذ کرتی رہی ہوں“ انہیں کسی خفیہ مقام پر دوسری معلمات کے ساتھ اس ڈیوٹی کے لیے کمرے میں بند کر دیا گیا تھا کہ وہ بیلٹ پیپروں پر مہریں لگاتی رہیں اور مطلوبہ ہدف پورا کرنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

اب جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کا سامنا ہے اور اگرچہ سیاست میں ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے متحرک نہیں ہوں لیکن قومی مسائل سے دلچسپی اور ان پر کوئی نہ کوئی رائے رکھنے کا سزاوار ضرور ہوں، جو میری دینی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو ریفرنڈم کی اس دلدل کی طرف لے جانے والے اگر ان کے ”دانا دشمن“ نہیں تو ”نادان دوست“ ضرور ہیں جنہوں نے انہیں خواہ مخواہ اس الجھن میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے پی سی او کے تحت صدارت سنبھال لی تھی اور اکتوبر میں الیکشن کا اعلان کر رکھا تھا۔ ملک کی سیاسی جماعتیں ان کے اقتدار کو چیلنج نہیں کر رہی تھیں بلکہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تیار دکھائی دیتی تھی، حتیٰ کہ جن لیڈروں کو انہوں نے سیاست سے آؤٹ کرنے کا اعلان کیا ہے وہ بھی الیکشن میں حصہ لینے کے حوالہ سے ملک میں واپسی کی بات کر رہے تھے اور اگر بعض سیاسی جماعتیں بائیکاٹ بھی کر دیتیں تو الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی پرانی روایت دہرانے کے کئی ذرائع موجود تھے اور نئی اسمبلی نے بہرحال ان کے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کے بعد ہی اپنے کام کا آغاز کرنا تھا، اس لیے اس مخمصہ میں پڑنے کی بظاہر ضرورت ہی نہیں تھی۔

ہوسکتا ہے کہ عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے یہ سارا جتن کیا جا رہا ہو، جس کا اظہار وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی روایتی صاف گوئی کے ساتھ کر دیا ہے کہ امریکہ نے ہمارا ہاتھ پکڑا ہے اور اسے بھی اپنی قوم کو دکھانا ہے کہ پاکستان کے عوام جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہیں۔ لیکن اس بھولپن پر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ عالمی رائے عامہ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کو کس قدر بے وقوف سمجھا جا رہا ہے کہ جس ملک کے خفیہ ادارے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں خود ڈیرے لگائے بیٹھے ہیں اس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور سرمہ لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ خدا جانے عالمی رائے عامہ اور اس کے ساتھ امریکی رائے عامہ کو اس قدر کمزور کیسے سمجھ لیا گیا ہے کہ انہیں موچی دروازے میں اے آر ڈی کے جلسہ کو ہر قیمت پر ناکام بنانے اور مینار پاکستان پر جنرل پرویز مشرف کے جلسہ کو بہرصورت کامیاب بنانے کے لیے سرکاری مشینری اور قومی دولت کا بے تحاشا استعمال نظر نہیں آیا ہوگا، اور اسی لاہور میں گورنر پنجاب جنرل (ر) خالد مقبول کے بستی بستی انتخابی جلسوں کے ساتھ ساتھ ریفرنڈم کے خلاف جماعت اسلامی کی ریلی روکنے کے لیے سرکاری رکاوٹوں، لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور لیڈروں کی گرفتاریوں کا منظر دکھائی نہیں دے رہا ہوگا۔ اس کھلے منظر پر اگر ہمارے ارباب اختیار خوش اور مطمئن ہیں تو وہ اپنی سادگی کی اس انتہا پر ہمدردی کے مستحق ہیں۔ اور اگر اس سب کچھ کے باوجود عالمی رائے عامہ اور امریکی قیادت کے نزدیک اس ریفرنڈم کی کوئی سیاسی اور اخلاقی حیثیت باقی رہ گئی ہے تو ان کی پیاز کے چھلکوں کی طرح تہہ در تہہ سیاسی ترجیحات قابل داد ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت اور گولی کے ذریعے حقائق کا نقشہ الٹ دینے والے اگر جنوبی ایشیا میں وہی کام سیاسی حربوں اور دھاندلیوں کے ذریعے کرنا چاہیں تو ان کا ہاتھ کون روک سکتا ہے؟