حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیمی نظریہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ و ۲۴ دسمبر ۲۰۱۱ء

شیخ الہند اکادمی نے ۲۰ دسمبر کو الحمرا ہال لاہور میں ’’شیخ الہند سیمینار‘‘ منعقد کر کے سال رواں ۱۴۳۳ھ کو حضرت شیخ الہند کے سال کے طور پر منانے کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس موقع پر عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں شیخ الہند سیمینار منعقد کر کے نئی نسل کو اہل حق کی جدوجہد سے متعارف کرایا جائے گا اور دور حاضر کے حالات اور مسائل کے تناظر میں حضرت شیخ الہند کے افکار اور تعلیمات کو فروغ دینے کی منظم جدوجہد کی جائے گی۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں یہ سیمینار الحمرا کے دو وسیع ہالوں میں منعقد ہوا جو صبح ۱۱ بجے کے لگ بھگ شروع ہو کر مغرب کی نماز تک جاری رہا اور اس کی تین نشستوں سے مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد خان شیرانی، مولانا عبد الغفور حیدری، جناب مجیب الرحمان شامی، محترم حافظ عاکف سعید، ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری، ڈاکٹر قبلہ ایاز، جناب محمد فاروق قریشی، مولانا محمد امجد خان، الحاج سید سلمان گیلانی، حافظ نصیر احمد احرار اور دیگر سرکردہ حضرات نے خطاب کیا۔ پہلے وسیع ہال میں جہاں اسٹیج تھا جب سامعین کی تعداد کم و بیش دگنی ہوگئی تو دوسرے ہال میں سامعین کو بٹھا کر ٹی وی اسکرین کے ذریعے ان میں خطابات سنوانے کا اہتمام کیا گیا۔ مجھے سیمینار کی دوسری نشست میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جو حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی زیرصدارت منعقد ہوئی اور اس سے مولانا عبد الغفور حیدری، جناب مجیب الرحمان شامی، جناب حافظ عاکف سعید، مولانا محمد امجد خان، پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈاکٹر قاری عتیق الرحمان اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ ان گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج شیخ الہند اکادمی اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر رہی ہے میں بھی چونکہ اس کے نظامِ مشاورت میں شامل ہوں اس لیے سب سے پہلے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ اکادمی کس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے اور اس کے اہداف کیا ہیں۔ چند دوستوں کے درمیان اس بات پر مشاورت ہوئی کہ اہل حق سے وابستہ علمائے کرام اور دینی کارکنوں کو اپنے اکابر کی سیاسی، علمی اور فکری جدوجہد سے متعارف کرانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اور مستقبل کی دینی جدوجہد کے لیے ان کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنا آج کے دور کا اہم تقاضا ہے۔ اس مشاورت میں یہ بات سامنے آئی کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی شخصیت ایک ایسی مرکزیت اپنے اندر رکھتی ہے جن پر دینی کارکنوں اور علمائے کرام کو جمع کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ:

  • وہ متحدہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں قدیم اور جدید کے درمیان نکتۂ اتحاد رہے ہیں۔
  • دینی سیاسی کارکنوں اور قومی سیاسی کارکنوں کو انہوں نے تحریک آزادی کے لیے اکٹھے کام کرنے کا راستہ دکھایا تھا۔
  • دیوبند اور علی گڑھ کے دونوں بظاہر متضاد تعلیمی نظاموں کے درمیان جوڑ پیدا کیا۔
  • عسکری تحریکوں کے دور ختم ہوجانے کے بعد جنگ آزادی کے لیے پر امن سیاسی جدوجہد کا آغاز ان سے ہوا اور وہ عسکری تحریکوں اور پر امن سیاسی تحریکوں کے درمیان سنگم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
  • اور دیوبندی مکتب فکر کے تمام علمی، تحریکی اور سیاسی دائرے ان کی ذات پر مجتمع ہو جاتے ہیں، وغیر ذالک۔

اس لیے طے پایا کہ حضرت شیخ الہندؒ کی ذات اور فکر کو بنیاد بنا کر اس فکری اور نظریاتی جدوجہد کا آغاز کیا جائے اور اس کے لیے ۱۴۳۳ھ کو حضرت شیخ الہند کا سال قرار دے کر ملک بھر میں مربوط اور منظم محنت کی جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کے لیے آج یہ سیمینار انعقاد پذیر ہو رہا ہے جو اس فکری و نظریاتی جدوجہد کا نقطۂ آغاز ہے۔

آج کے اس سیمینار میں گفتگو کے لیے مجھے یہ عنوان دیا گیا ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ کے تعلیمی ذوق و اسلوب اور فکر و فلسفہ کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں اس لیے اپنی گفتگو کو دائرے میں محدود رکھتے ہوئے عرض کرنا چاہوں گا کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تعلیمی زندگی کے دو دور ہیں۔ ایک دور وہ ہے جب وہ عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ التفسیر والحدیث اور صدر مدرس تھے، جبکہ دوسرا دور مالٹا کی اسارت کے بعد ان کی وطن واپسی کا دور ہے۔ یہ دور بہت مختصر اور چند مہینوں تک محدود ہے لیکن اس میں انہوں نے ایک انقلابی اور بنیادی فکر پیش کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم کے قدیم اور جدید نظاموں کو ملانے کی ضرورت ہے اور قرآن کریم کو عوام میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نہ صرف سیاسی اور تحریکی میدان میں قدیم اور جدید میں رابطے پیدا کیے بلکہ تعلیمی محاذ پر خود علی گڑھ تشریف لے جا کر جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ساتھ تعلقات و روابط کا آغاز کیا۔ ان کی اس فکر پر ’’نیشنل مسلم یونیورسٹی‘‘ قائم ہوئی جو بعد میں جامعہ ملیہ کی شکل اختیار کر گئی۔

حضرت شیخ الہندؒ کے وسیع تر تعلیمی ذوق اور کام کو ان کے مایہ ناز تلامذہ نے اپنے اپنے دائروں میں آگے بڑھایا جن میں حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ، حضرت مولانا مرتضٰی حسن چاند پوریؒ اور دیگر سرکردہ حضرات شامل ہیں۔ ان سب بزرگوں کے علمی و تعلیمی ذوق اور محنت کے دائرے مختلف تھے لیکن سب ہی حضرت شیخ الہندؒ کے خوشہ چین تھے اور علمی دنیا میں انہی کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن میں حضرت شیخ الہندؒ کے تعلیمی ذوق کے تعارف کے لیے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کا حوالہ دینا چاہوں گا جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کی وفات کے بعد ایک مربوط تعلیمی نصاب و نظام تحریری طور پر پیش کر کے حضرت شیخ الہندؒ کے ذوق و فکر کی عکاسی کی۔ اور میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے حضرت مدنی کی اسی تحریر کو حضرت شیخ الہندؒ کے تعلیمی ذوق و اسلوب اور فکر و فلسفہ کے تعارف کا سب سے بہترین ذریعہ تصور کرتا ہوں۔ اس لیے کہ وہ حضرت شیخ الہندؒ کے سب سے قریبی شاگرد اور خاص طور پر ان کی زندگی کے آخری سالوں میں ان سے سب سے زیادہ فیض اور تربیت حاصل کرنے والے بزرگ تھے۔

یہ اس دور کی بات ہے جب حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی تدریس کے لیے دارالعلوم دیوبند میں تشریف نہیں لائے تھے اور سلہٹ میں قیام پذیر تھے۔ مجھے سلہٹ کی اس مسجد میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے جہاں حضرت مدنی کا کئی سال قیام رہا اور دارالعلوم دیوبند میں صدارت تدریس کے زمانے میں بھی وہ ہر سال رمضان المبارک سلہٹ کی اسی مسجد میں گزارا کرتے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کا تحریر کردہ یہ تعلیمی نصاب مدرسہ درگاہ شریف سلہٹ کے مدرس اول مولانا رحمت اللہ صاحب کی طرف سے شائع کیا گیا تھا اور مدرسہ مدینۃ العلوم سلہٹ میں حاضری کے موقع پر اس کی لائبریری سے میں نے یہ نسخہ حاصل کر کے اس کی فوٹو کاپی کرائی تھی جو میرے پاس موجود ہے۔ یہ سولہ سالہ تعلیمی نصاب دینی مدارس کے لیے لکھاگیا ہے جو ابتدا سے دورۂ حدیث تک تمام مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں مروجہ دینی تعلیمی نصاب میں متعدد ترمیمات و اصلاحات تجویز کی گئی ہیں اور مختلف عصری علوم و فنون کا اس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ وقت کی کمی کے باعث آج میں صرف اس کی تمہید آپ حضرات کی خدمت میں اس سیمینار میں پیش کر رہا ہوں جو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کی تحریر کردہ ہے، اور جو میرے خیال میں نہ صرف حضرت شیخ مدنی بلکہ حضرت شیخ الہند کے تعلیمی فکر و فلسفہ کا تعارف کراتی ہے۔ اور میں آج کی گفتگو کے عنوان کے تحت اسے شیخ الہند کے تعلیمی ذوق و اسلوب اور فکر و فلسفہ کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی تحریر فرماتے ہیں:

’’بعد الحمد الصلوٰۃ۔ مواسم کی تبدیلی اگر خوراک کے ردوبدل کی خواہاں ہے اور ممالک و اقطار عالم کی مزاجی کیفیتوں کا اختلاف سکان کے احوال و عادات پر اثر رساں ہے اور اگر مفید خزائن علمیہ کا تجدد ’’الانفع فالانفع‘‘ کو اختیار کرنے کا قانون بناتا ہے اور مختصرات و جوامع شروح جدید اور حواشی مفیدہ کا روز افزوں ذخیرہ متقدمین کی مسلمہ کتابوں کی جگہ لینے کی سنت زمانہ سلف سے دکھاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ زمانۂ موجودہ اور دیارِ ہندیہ میں ہم زمان اور مکان کی مختلف حادثہ و قدیمہ ضرورتوں سے چشم پوشی کریں اور ان مفید اور انفع کتابوں کو فنون ضروریہ رائجہ میں قابل واگزاشت سمجھیں جو کہ قدیم نصاب کی کتابوں سے نفع رسانی میں نہایت اعلیٰ شان رکھتی ہیں۔

ہم کسی طرح اس امر کو قابل عمل قرار نہیں دے سکتے کہ پرانی کتابیں صرف اس وجہ سے ہی ضروری ہیں کہ اسلاف کی تصنیف کردہ یا اسلاف کے زیر تدریس رہی ہیں۔ اور جدید تصنیف کردہ کتب صرف اس وجہ سے قابل ترک قرار دی جائیں کہ وہ زمانہ حال یا قریب کی تصنیف کی ہوئی ہیں یا اسلاف نے ان سے نفع نہیں اٹھایا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام محمد بن الحسنؒ کی مشہور اور غیر مشہور کتابوں پر صدر الشہیدؒ کی تصنیف نے جالے کھینچ دیے۔ صاحب ہدایہ اور صدر الشریعہ وغیرہ کی تصانیف نے اپنے سے پہلوں کی تصانیف کو زوایا خمول میں نسیاً منسیاً کر دیا۔ کتاب سیبویہ اور مبرد وغیرہ کی تصانیف پر ابن حاجب اور مالک کی تصانیف قضاء بالموت کا حکم نافذکرتی رہیں۔ اور فارابی اور ابن سینا کی تالیفات پر تصانیف مرزا، میر زاہد و محب اللہ بہاری وغیرہ پردہ ڈالتی رہیں۔

اگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات تحریر یہ قرار دیتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو زبان عبرانی سیکھنے کا حکم فرمائیں اور اگر ملوک عجم کا کسی خط کو بلا مہر قابل اعتبار نہ سمجھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آمادہ کرتا ہے کہ انگشتری اور مہر تیار کرائیں تو ہم کو زمانہ موجودہ پر نظر ڈالتے ہوئے اجنبی زبانوں اور فنون وغیرہ کے سیکھنے اور سکھانے کو یک قلم پس انداز کر دینا کسی طرح مناسب نہ ہوگا۔ مذہبی حیثیت بھی ضرورتوں کا تقاضا کرتی ہے کہ اقوام عالم کی زبان اور ان کے رسم و رواج اور ان کے علوم و فنون وغیرہ سے واقفیت حاصل کی جائے۔

مذکورہ بالا امور اور اس قسم کے مختلف اور متعدد وقائع عرصہ دراز سے مجھ کو پریشان کر رہے تھے کہ موجودہ اور رائج نصاب زمانہ حال میں قابل اصلاح و ترمیم ضرور ہے مگر زمانہ نے مجھ کو اب تک مہلت نہ دی۔ میں نے ایام تعلم و استفادہ میں دیوبند کا نصاب تعلیم (جس کا بڑا حصہ درس نظامی کا خوشہ چین ہے) اپنے لیے معراج ترقی اور مسلم زندگی قرار دیا اور حسب استعداد و قابلیت بڑے درجہ تک اس سے فیض یاب ہوا۔ مگر مدینہ منورہ میں مجھ کو جامعہ ازہر (مصر) اور استنبول و بخارا وغیرہ کے نصابوں سے سابقہ پڑا۔ پھر زندگانی کے مختلف شعبوں پر غوروخوض کرنے کی نوبت بھی آئی، مختلف ممالک اور متعدد حکومتوں کے احوال نظر سے گزرے، اسکولوں اور کالجوں کے نصابوں پر بھی بڑے درجہ تک عبور پہلے سے حاصل تھی، زمانہ حال کی مختلف اسلامی یونیورسٹیوں (جامعہ عثمانیہ دکن، جامعہ ملیہ قرول باغ دہلی، ندوۃ العلماء وغیرہ) کو بھی زیر نظر لانے کی نوبت آئی، حتی الوسع احباب و اکابر، اصحاب الرائے اور ارباب تجربہ سے مشوروں کی نوبت بھی بار بار آئی، بالآخر یہ موجودہ نصاب انتخاب اور غور و تدبر کے بعد قوم کے سامنے پیش کرنے کا فخر حاصل کرتا ہوں۔

اس میں شک نہیں کہ تعلیمی حالت پر پوری روشنی ڈالنا اور مکمل اصلاح و ترمیم مجھ جیسے ناواقف اور کم مایہ طالب علم کا کام نہیں مگر جبکہ اکابر قوم کو اس طرف کماحقہ توجہ نہیں تو پھر کم مایہ اشخاص کو قدم بڑھانا پڑتا ہے۔ ملک میں مختلف جماعتیں موجود ہیں جنہوں نے بعض امور کو اپنا مطمح نظر بنا کر دوسرے ضروری مقاصد کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے۔ مگر اس نصاب میں اپنی فہم و تجربہ کی بنا پر وہ صحیح راستہ اختیار کیا گیا ہے جو کہ مسلمانوں کو اصلی و حقیقی کامیابی کے بام ترقی پر پہنچانے والا ہے۔ اگرچہ نصاب سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ طلبہ کو حافظ فنون و علوم بنایا جائے بلکہ ایک ایسی استعداد اور قابلیت پیدا کرنی مقصود ہوتی ہے جس سے وہ جملہ ضروری فنون میں قوت پیدا کر لیں تاکہ ضرورت یا تکمیل کے وقت ان کو کوئی نقصان سد راہ نہ ہو سکے۔ مگر تاہم ان کو بہت سے فنون اور بہت سی اہم تر کتابوں اور اعمال سے دوچار ہونا ضروری ہے تاکہ یہ ملکہ راسخہ حاصل ہو۔ میں ابھی تک محسوس کر رہا ہوں کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دائرہ تصنیف و تالیف نامکمل ہے اور موجودہ کتابیں ہماری ضرورتوں کے لیے ایک درجہ تک ہماری زبانوں میں ناکافی ہیں۔ مگر تاہم ان شاء اللہ یہ نصاب اگر اکابر قوم نے پسند فرمایا اور رائج کیا تو مجھ کو قوی امید ہے کہ ہمارے ملک و قوم میں اچھے اچھے اشخاص پیدا ہو سکیں گے۔‘‘