ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

   
تاریخ بیان: 
اکتوبر ۲۰۱۸ء

جامعہ انوار القرآن کراچی میں اکتوبر ۲۰۱۸ء کے دوران ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے کورس کی ایک نشست میں گفتگو کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے۔

مدینہ منورہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے یثرب کہلاتا تھا۔ قرآن کریم میں یثرب کا نام مذکور ہے ’’یا اھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا‘‘ لیکن جناب نبی کریمؐ نے اس کا نام تبدیل کر دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، کہتے ہیں کہ آج جو مسجد نبویؐ ہے پرانا یثرب سب اس کی حدود کے اندر تھا۔ مدینہ منورہ کا سرکاری نام ’’مدینتہ الرسول‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ کا شہر۔ جب ریاست قائم ہوئی تو اس وقت یہ یثرب، قبا اور اردگرد کی چند بستیوں پر مشتمل تھی جسے بخاری شریف کی روایت میں ’’بحیرہ‘‘ کہا گیا ہے یعنی ساحلی پٹی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور وصال کے درمیان دس سال کا عرصہ ہے کہ گیارہ ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ اس دس سال کے عرصہ میں یمن، بحرین، نجران اور نجد سمیت پورا جزیرۃ العرب ریاستِ مدینہ میں شامل ہو چکا تھا۔

اس سلسلہ میں تاریخ کا ایک اہم سوال ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بچتے بچاتے اور چھپتے چھپاتے یثرب جا رہے تھے، جاتے ہی حکومت کیسے بن گئی؟ آپؐ تو مہاجر تھے، آج کی زبان میں پناہ گزین۔ یثرب میں بڑے بڑ ےقبائل تھے، اوس اور خزرج جیسے طاقتور قبائل کے علاوہ یہود کے قبائل بھی تھے اور دیگر بہت سے قبائل تھے۔ آپؐ کے یثرب جاتے ہی مہاجروں کی حکومت کیسے بن گئی اور تسلیم کیسے ہو گئی؟ یہ امر واقعہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یثرب جاتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں دو مسلمان قبائل تھے اوس اور خزرج، ان کے علاوہ یہودی تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر اس کا حصہ تھے جبکہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی اس میں شامل تھے۔ اس معاہدے کی رو سے سب کے آپس میں معاملات طے ہوئے تھے کہ آپ یہ کام کریں گے ہم یہ کریں گے، آپ کے یہ حقوق ہوں گے ہمارے یہ ہوں گے، آپ کی یہ ذمہ داری ہو گی ہماری یہ ہوگی، جیسے کہ دستور میں ہوتا ہے۔ اس کا تھوڑا سا پس منظر معلوم کر لیتے ہیں۔

عربوں کا مجموعی ماحول یہ تھا کہ باضابطہ حکومتیں نہیں ہوتی تھیں۔ جزیرۃ العرب میں قبائل کا نظام تھا اور کسی مرکزی حکومت کا وجود نہیں تھا۔ مکہ میں قریش تھے، طائف میں بنو ثقیف تھے، یثرب میں بنو اوس اور بنو خزرج کے ساتھ یہودی قبائل تھے، ایک علاقے میں بنو غسان تھے، ایک علاقے میں بنو حمیر تھے۔ اوس اور خزرج تو حضور علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے، لیکن جو ایمان نہیں لائے تھے انہوں نے بھی آپؐ کو حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ اردگرد کے یہودی قبائل سمیت میثاق مدینہ میں جتنے قبائل شامل تھے سب نے آنحضرتؐ کو سربراہ ریاست تسلیم کیا تھا۔ یہ کیسے ہو گیا اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ سو دو سو آدمی ہجرت کر کے آئیں اور پورے علاقے میں حکومت قائم کر لیں۔ اس کے دو پس منظر بیان کیے جاتے ہیں۔

ایک یہ کہ یثرب میں ایک مشترکہ حکومت کا تصور جناب نبی اکرمؐ کی تشریف آوری سے قبل قائم ہو گیا تھا اور اس میں پیشرفت ہو رہی تھی۔ بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت ہے جو اس حوالے سے تاریخی پس منظر بیان کرتی ہے۔ یہ ہجرت کے بعد اور غزوۂ بدر سے پہلے کی بات ہے کہ بنو خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔ دو بڑے قبیلے تھے خزرج اور اوس۔ خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ جبکہ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ تھے۔ سعد بن عبادہؓ بیمار ہوئے، کچھ فاصلے پر رہتے تھے، نبی کریمؐ بیمار پرسی کے لیے جا رہے تھے، راستے میں کوئی مجلس تھی جس میں عبد اللہ بن ابی بھی موجود تھا۔ بنو خزرج سے اس کا تعلق تھا اور اس نے ظاہرًا بھی ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ مجلس میں یہودی بھی تھے، مسلمان بھی تھے، مشترک مجلس تھی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جہاں کہیں بات کہنے کا موقع ملتا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ حضورؐ مجلس کے پاس کھڑے ہوئے، سلام کہا اور اپنی دعوت اور نصیحت کی بات شروع کی۔ عبد اللہ بن ابی بیٹھا ہوا تھا، اس نے ناک پر رومال رکھا اور کراہت سے کہا کہ غبار کیوں اٹھا رہے ہو، ذرا اُدھر ہو کر بات کرو۔ آنحضرتؐ خچر پر آئے تھے۔ پھر اس نے کہا کہ یہاں ایسی بات کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمیں کیوں تنگ کرتے ہو؟ اپنے گھر میں بیٹھو، جو وہاں آئے اس کو سناؤ۔ اس طرح کے لہجے میں اس نے بات کی۔ مجلس میں بعض صحابہ کرامؓ بیٹھے تھے، ان میں عبد اللہ بن رواحہؓ بھی تھےان کو غصہ آ گیا، وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ تم کون ہو روکنے والے؟ ہمارےرسولؐ ہیں آئیں گے اور بات کریں گے، ہم سنیں گے۔ یا رسول اللہؐ آپ ارشاد فرمائیے، میں دیکھتا ہوں کیسے روکتا ہے یہ۔ بات ایسی بڑھی کہ دونوں طرف سے لوگ گتھم گتھا ہونے لگے۔ حضورؐ نے مشکل سے دونوں طرف کے لوگوں کو روکا کہ بات سنو نہ سنو آپس میں لڑو تو نہیں۔

اس کے بعد آنحضرتؐ جب سعد بن عبادہؓ کے ہاں پہنچے تو حال احوال پوچھنے کے بعد آپ نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ ابو حباب نے یہ کام کیا ہے۔ عبد اللہ بن ابی کی کنیت ابوحباب تھی۔ سعد بن عبادہؓ نے جواب میں جو بات کہی اس نے ایک تاریخی حقیقت کھول دی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ایسا ہی ہے، لیکن آپ کو تو معلوم ہے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ آپ کی ہجرت اور تشریف آوری سے پہلے ’’اتفق اھل ھذہ البحیرہ‘‘ اس ساحلی پٹی کے رہنے والوں نے ایک حکومت اور ریاست قائم کرنے پر اتفاق کر لیا تھا اور حکمران کے طور پر عبد اللہ بن ابی کا انتخاب بھی کر لیا تھا۔ لوگ تیاری کر رہے تھے کہ ’’یعصبونہ اور یتوجونہ‘‘ کہ اس کی تاجپوشی یا دستار بندی کر دیں، آپؐ کے آنے سے اس کا سارا کھیل ختم ہو گیا ہے۔ گویا آج کل کی اصطلاح میں انتخاب ہو گیا تھا صرف حلف اٹھانا رہ گیا تھا۔سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ آپ کے آنے سے اس کی حکمرانی چلی گئی ہے بس اسی کا غصہ نکال رہا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد پھر عبد اللہ بن ابی ساری زندگی غصہ ہی نکالتا رہا، کلمہ پڑھنے سے پہلے بھی اور کلمہ پڑھنے کے بعد بھی۔ اصل غصہ یہ تھا۔ چنانچہ ایک پس منظر یہ ہے کہ اس علاقے میں ریاست اور حکومت کے قیام کا تصور بلکہ ایک حد تک پیشرفت پہلے سے موجود تھی۔

دوسرا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے دو تین سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف قبائل سے مذاکرات چلتے رہے۔ حضورؐ مکہ چھوڑنا چاہتے تھے لیکن ایسے ٹھکانے کی تلاش میں تھے جہاں جا کر ریاست قائم کر سکیں۔ ادھر یثرب کی صورتحال یہ تھی کہ بنو اوس اور بنو خزرج کی آپس میں لڑائیاں چلتی رہتی تھیں۔ یہاں کے بڑے قبیلے یہی دونوں تھے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ حرب بعاث ان کے ہاں چلی، تین چار نسلیں آپس میں لڑتی رہیں اور بے شمار لوگ دونوں طرف سے قتل ہوئے۔ دونوں قبیلوں کے سنجیدہ لوگ اس لڑائی سے تنگ آ گئے تھے۔ جبکہ یہودی درمیان میں ان کی لڑائی کو ہوا دیتے رہتے تھے، کبھی اس کو اسلحہ بیچتے اور کبھی اس کو۔ اب جن دو قبیلوں کے درمیان کئی پشتوں سے لڑائیاں چل رہی ہوں اور قتل و قتال کا وسیع سلسلہ ہو ان کا آپس میں ایک دوسرے پر متفق ہونا تو ناممکن ہی تھا جبکہ یہودیوں سے یہ دونوں تنگ تھے۔ یہ لوگ تلاش میں تھے کہ کوئی ایسی شخصیت ہمیں ملے جس پر ہم اکٹھے ہو جائیں۔ چنانچہ دونوں طرف کے بوڑھے بوڑھے آپس میں بیٹھے اور مشورہ کیا کہ کوئی راستہ نکالتے ہیں، کوئی تیسری قوت مل جائے جو یہودیوں کی طرح سازشی نہ ہو اور ہمیں آپس میں اکٹھا کر دے۔ اس دوران ان کو معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں کوئی صاحب ہیں جو توحید اور نبوت کے اعلان کے ساتھ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ان کے پانچ افراد مکہ گئے ہجرت سے تین سال پہلے۔ حج کے موقع پر منٰی کی پہاڑیوں میں حضورؐ سے انہوں نے خفیہ ملاقات کی اور آپؐ کی باتیں سنیں۔ پھر آپس میں مشورہ کیا کہ یہ صاحب تو ہمارے کام کے ہیں، بڑی اچھی باتیں کرتے ہیں اور یہ اس علاقے میں تنگ بھی ہیں، ہمیں ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے جبکہ ان کو ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ ان میں اسعد بن زرارہؓ تھے، عبادہ بن صامتؓ تھے، جو بڑے صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔ انہوں نے کلمہ پڑھا، مسلمان ہوئے اور حضورؐ کو دعوت دی کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس یثرب آجائیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کے انتظار میں ہوں کہ میری ہجرت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گا، اگلے سال بات کریں گے۔

اگلے سال یثرب سے بارہ آدمی حضورؐ کی خدمت میں مکہ مکرمہ آئے۔ اس سال ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ ہوئی۔ لیکن پھر بھی حضورؐ نے یثرب جانے کے لیے ہاں نہیں کی۔ یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے تھے اور انہوں نے بھی حضورؐ کو دعوت دی کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس یثرب آجائیں ہم آپ کے معاون ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا، اگلے سال بات کریں گے۔ اگلے سال پھر یثرب سے ستر آدمی آئے۔ ان ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

حضرت عباسؓ حضورؐ کے چچا تھا۔ چچا اور بھتیجا ہم عمر ہوں تو دوست بھی ہوتے ہیں۔ دو سال کا فرق تھا دونوں میں۔ حضرت عباسؓ سے کوئی پوچھتا تھا کہ آپ بڑے ہیں یا حضرت محمد؟ تو کہا کرتے تھے کہ بڑے وہ ہیں لیکن پیدا میں پہلے ہوا تھا۔ حضرت عباسؓ نے کلمہ تو فتح مکہ کے موقع پر پڑھا تھا جبکہ یہ اس سے دس سال پہلے کی بات ہے۔ ان خفیہ مذاکرات میں ایک موقع پر وہ حضورؐ کے ساتھ تھے، اپنے بھتیجے کے ساتھ تھے، پیغمبر کے ساتھ نہیں۔ بیعت کے موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذؓ نے حضورؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ حضرت عباسؓ نے کہا کہ سوچ کر بات کرو کیا کہہ رہے ہو؟ میرے بھتیجے کو اپنے ہاں لے جانے کا مطلب سمجھتے ہو؟ پورے جزیرۃ العرب سے لڑنا پڑے گا۔ اگر پاؤں میں زور ہے تو بات کرو ورنہ آرام سے بیٹھو۔ اس کی حفاظت کے لیے ہم کافی ہیں، کلمہ پڑھیں نہ پڑھیں لیکن حفاظت کر رہے ہیں۔ جبکہ بنو ہاشم نے آپؐ کی حفاظت کی، جناب ابی طالب نے بھی کی اور جناب عباسؓ نے بھی کی۔ اس پر سعد بن معاذؓ نے کہا کہ ہمیں پوری طرح پتہ ہے کہ کیا ہو گا؟ سوچ سمجھ کر اور ہر قسم کے نتیجے کے لیے تیار ہو کر ہم آپؐ کو دعوت دے رہے ہیں۔ اسعد بن زرارہؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپؐ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ حضرت محمدؐ کو وہاں جگہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے ہر گھر سے لڑنا ہو گا، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

چنانچہ اس ریاست کے قیام کے لیے تین سال مسلسل مذاکرات ہوئے اور جناب نبی اکرمؐ نے دوسرے سال بارہ نقیب مقرر کر دیے یہ فرما کر کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے بارہ نقیب تھے ’’اثنا عشرہ نقیبًا‘‘ میں بھی تم میں بارہ نمائندے مقرر کرتا ہوں، جا کر علاقے میں کام کرو، ماحول بناؤ، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا میں آجاؤں گا۔

تاریخ کا دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ’’میثاق مدینہ‘‘ جو کہ ریاست کے قیام اور حکومت سازی کا معاہدہ تھا، کیا اس میں صرف مسلمان تھے یا غیر مسلم بھی شامل تھے؟ تین قبیلے تو یہودیوں کے تھے اور اردگرد کے دیگر غیر مسلم قبائل بھی تھے۔ اس معاہدے میں شامل فریق مسلمان بھی تھے، یہودی بھی تھے اور مشرکین بھی۔ اس کے ساتھ ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کیا حضورؐ نے یثرب پر قبضہ کر کے ریاست قائم کی تھی؟ حضورؐ نے قبضہ کر کے ریاست قائم نہیں کی تھی بلکہ وہاں کے لوگوں پر تین سال محنت کر کے، وہاں کی آبادی کو اعتماد میں لے کر یہ ریاست قائم کی تھی۔ اس ریاست کے قیام کی محنت میں ایک لڑائی بھی نہیں ہوئی۔ باہمی ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے ہیں، نہ حملہ کیا اور نہ قبضہ کیا، تین سال کے مسلسل فیلڈورک کے بعد تمام لوگوں کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کے ذریعے یہ ریاست قائم ہوئی۔

چنانچہ ریاست مدینہ کے پیچھے ایک محرک تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی جدوجہد تھی اور دوسرا یثرب کے قبائل اوس اور خزرج کی آپس کی لڑائی کا ماحول تھا۔ حضورؐ فرماتے ہیں کہ مجھے ہجرت کے لیے انتظار تو تھا کہ حکم آئے گا، علامتیں بھی بتا دی گئی تھیں کہ کونسے علاقے میں جانا ہے لیکن متعین نہیں تھا۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق آپؐ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں اپنی ہجرت کا علاقہ دکھایا گیا تھا۔ علاقے کی علامتیں یہ تھیں کہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں، کھجوروں کے باغات کی کثرت، اور وقفے وقفے سے پانی کے چشمے۔ فرماتے ہیں کہ میرے خیال یہ تھا کہ یہ ہجر کا علاقہ ہو گا کہ وہ بھی اسی طرح کا ہے لیکن جب ہجرت کا حکم ہوا تو یہ یثرب کا علاقہ تھا۔

اس سلسلہ میں بخاری شریف کی ایک اور روایت کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا جس میں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے انصارِ مدینہ سے فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دو قبیلوں اوس اور خزرج کی باہمی جنگیں تمہارے درمیان شر کا باعث تھیں؟ نہیں بلکہ یہ تو خیر کا باعث ہوئیں کہ اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو عرب دنیا میں مرکزیت حاصل ہوئی۔