زکوٰۃ کی جبری کٹوتی، سپریم کورٹ اور مولانا مفتی محمودؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ مارچ ۱۹۹۹ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے چیف جسٹس محمد اجمل میاں کی سربراہی میں اپنے ایک فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حنفی ہونے کا ڈیکلیریشن داخل کر کے بینکوں میں زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی سے استثنا حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کو یہ حق حاصل تھا مگر مس فرزانہ کوثر نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی کہ وہ فقہ حنفی کی پیروکار ہیں اور فقہ حنفی کی رو سے بھی حکومت کو بینکوں کی رقوم سے زکوٰۃ جبری طور پر وصول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے اسے یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے حنفی ہونے کا ڈیکلیریشن داخل کر کے زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی سے مستثنیٰ ہو سکے۔ سندھ ہائی کورٹ نے مس فرزانہ کوثر کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ صادر کر دیا تھا مگر اس کے خلاف حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے اور سندھ ہائی کورٹ کا مذکورہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے کی کیا وجوہات بیان کی ہیں اس وقت وہ ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ البتہ اس سے ایک پرانی علمی بحث یاد آگئی ہے جو اسی موضوع پر ملک کے سرکردہ علماء کرام کے درمیان اس وقت شروع ہوئی تھی جب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے زکوٰۃ آرڈیننس نافذ کر کے بینکوں کو پابند کر دیا تھا کہ وہ ہر سال یکم رمضان المبارک کو بعض متعین اکاؤنٹس میں جمع لوگوں کی رقوم میں سے زکوٰۃ کاٹ لیا کریں۔ اس وقت یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا حکومت کو بینک اکاؤنٹس میں سے زکوٰۃ جبرًا وصول کرنے کا شرعاً حق حاصل ہے؟ اور کیا اس طرح زکوٰۃ وضع کیے جانے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا موقف یہ تھا کہ اس صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور حکومت کو بینک اکاؤنٹس میں سے زکوٰۃ جبرًا وصول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہیں اس سلسلہ میں دیوبندی مکتب فکر کے اکابر علماء کرام میں سے مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ ، مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مولانا مفتی عبد الستار (ملتان) کی حمایت حاصل تھی۔ جبکہ باقی اکثر علماء کا فتویٰ یہ تھا کہ حکومت بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ جبرًا وصول کر سکتی ہے اور ایسا کرنے سے صاحب مال کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی محمودؒ کی وفات بھی اسی موقف پر دلائل دیتے ہوئے بحث کے دوران ہوئی۔ وہ حج کے لیے جا رہے تھے اور انہوں نے بنوری ٹاؤن کراچی کے دینی و علمی مرکز جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں کراچی کے سرکردہ علماء کرام اور مفتیان عظام کو اس مسئلہ پر باہمی گفت و شنید کے لیے دعوت دے رکھی تھی۔ اس موقع پر اہل علم کے اجلاس میں وہ اپنے موقف کی وضاحت کر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ چند لمحوں میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

مولانا مفتی محمودؒ کا موقف یہ تھا کہ بینک اکاؤنٹس ’’اموال ظاہرہ‘‘ میں سے نہیں ہیں کہ جن پر حکومت کو جبرًا زکوٰۃ وصول کرنے کا اختیار ہو۔ بلکہ یہ ’’اموال باطنہ ہیں‘‘ جن کی زکوٰۃ ادا کرنا صاحب مال کے اختیار میں ہے کہ وہ چاہے تو سرکاری بیت المال میں جمع کرادے اور چاہے تو اپنی مرضی سے مستحقین پر خرچ کرے۔ یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی تو بہرحال فرض ہے کہ شرعی فرائض میں سے ہے مگر حکومت کو زکوٰۃ دینا ضروری نہیں ہے بلکہ صاحب مال اپنی مرضی سے بھی زکوٰۃ کو شرعی مصارف پر خرچ کر سکتا ہے۔

اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے ادوار حکومت میں ہر قسم کے مال سے زکوٰۃ حکومت وصول کرتی تھی اور اسے بیت المال کے ذریعہ متعلقہ مصارف میں خرچ کیا جاتا تھا۔ مگر حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں جب مال کی کثرت ہوئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ سونا چاندی یعنی نقد رقوم میں زکوٰۃ کی جبری وصولی سے لوگوں کے ذاتی معاملات میں سرکاری تجسس کے امکانات بڑھ جائیں گے اور لوگوں کی ’’پرائیویسی‘‘ متاثر ہوگی۔ اس لیے امیر المومنین حضرت عثمانؓ نے خلیفہ راشد کی حیثیت سے یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ زرعی پیداوار اور مال مویشی تو اموال ظاہرہ ہیں جن کی تفصیلات آسانی کے ساتھ زیادہ کرید کیے بغیر معلوم کی جا سکتی ہے اس لیے ان کی زکوٰۃ سرکاری طور پر وصول کی جائے گی۔ مگر سونا چاندی وغیرہ یعنی نقد رقوم کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے کرید اور تجسس سے کام لینا پڑتا ہے جس سے پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اس لیے یہ اموال باطنہ ہیں ان کی زکوٰۃ جبرًا وصول نہیں کی جائے گی۔ اور صاحب مال کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے اموال کا سالانہ حساب خود کر کے زکوٰۃ بیت المال کو ادا کرے یا اپنی صوابدید پر مستحق لوگوں کے حوالہ کر دے۔ چنانچہ اس وقت سے اموال ظاہرہ اور اموال باطنہ کی تقسیم بھی چلی آرہی ہے۔ آج کے دور میں اس بات کو زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے ’’اوپن منی‘‘ اور پرائیویٹ منی‘‘ سے تعبیر کر دیا جائے تو شاید نامناسب نہ ہو۔

بعد میں جب معاملات کچھ اور آگے بڑھے تو سوال پیدا ہوا کہ مال تجارت کا شمار کس کھاتے میں کیا جائے گا؟ تو امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں ان کی طرف سے یہ حکم نافذ ہوا کہ وہ مال تجارت جو ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل ہوتا ہے یعنی سرکاری اہل کاروں کی نظروں سے کھلے بندوں گزرتا ہے وہ بھی اموال ظاہرہ میں شمار ہوگا اور اس کی زکوٰۃ سرکاری کارندے وصول کر سکیں گے۔ البتہ حرکت میں نہ آنے والا مال تجارت اور نقد رقوم بدستور اموال باطنہ کے زمرے میں شامل رہیں گی۔

اس پس منظر میں یہ عملی سوال پیدا ہوا کہ ’’بینک اکاؤنٹس‘‘ ان میں سے کس زمرے میں شمار ہوتے ہیں؟ علماء کرام کے ایک بڑے گروہ کا موقف یہ ہے کہ چونکہ یہ مال ’’ڈکلیئر‘‘ ہو چکا ہے اور اس کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے پرائیویسی کی حدود میں دخل نہیں دینا پڑتا اس لیے یہ ’’اوپن منی‘‘ ہے اور حکومت کو اس کی زکوٰۃ جبرًا وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔ جبکہ مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے ہمنوا سرکردہ علماء کرام کے نزدیک بینک اکاؤنٹس کو اموال ظاہرہ میں شامل کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ یہ اکاؤنٹ ہولڈر اور بینک کے درمیان آپس کا معاملہ ہے اور بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کا پابند ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ یہ رقم اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے بینک کے لیے قرض ہے جس کا اصول یہ ہے کہ قرض رقوم کی زکوٰۃ مقروض کے ذمہ نہیں بلکہ قرض دینے والے کے ذمہ ہوتی ہے۔ اور وہ قرض کی واپسی کے بعد اس کی سابقہ دور کی زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار قرار پاتا ہے۔ قرض کی مدت کے دوران اس پر زکوٰۃ ہر سال واجب ہوتی رہے گی مگر قرض کی واپسی سے پہلے وہ اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند نہیں ہے۔

مولانا مفتی محمودؒ کے موقف کی دوسری بنیاد یہ ہے کہ زکوٰۃ شرعی فریضہ ہے اور کسی بھی شرعی فریضہ کی ادائیگی کے لیے نیت شرط ہے۔ جبکہ بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی جبری وصولی کے وقت رقم کے مالک کی نیت اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر اس کی نیت نہیں ہے تو شرعًا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ مفتی صاحبؒ یہ بھی فرماتے تھے کہ ’’زکوٰۃ آرڈیننس‘‘ کی رو سے زکوٰۃ کی جبری وصولی صرف ان اکاؤنٹس میں ہوگی جن پر سود ادا کیا جاتا ہے، جبکہ غیر سودی اکاؤنٹس اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس لیے عملاً اس کی ظاہری صورت یہ بن گئی ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو اصل رقم تو پوری کی پوری واپس مل جائے گی البتہ سود میں سے کٹوتی ہوگی اور وہ اسے اڑھائی فیصد کم لے گا۔ اس لیے اسے زکوٰۃ شمار کرنا مناسب نہیں ہے۔

مولانا مفتی محمودؒ اپنا موقف پیش کرتے ہوئے علماء کرام کی مجلس میں علمی بحث و مباحثہ کے دوران اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے اور زکوٰۃ آرڈیننس ملک میں بدستور چلتا رہا۔ اب سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں میں مولانا مفتی محمودؒ کے موقف کی صدائے بازگشت سنائی دی ہے تو یہ تفصیلات ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہوگئی ہیں۔ چھٹی صدی ہجری کے نامور حنفی فقیہ امام ابوبکر بن مسعود الکاسانیؒ نے اپنی معروف کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘ میں اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ اس دور کے معروضی حالات کی مناسبت سے بحث کی ہے، اہل علم اسے وہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ البتہ انہوں نے اس میں کچھ ایسے دلچسپ مسائل بھی بیان فرمائے ہیں جن سے قارئین کو آگاہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، چنانچہ اگلے مضمون میں ان میں سے بعض امور کا ان شاء اللہ تعالیٰ تذکرہ ہوگا۔