فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود بارک نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی بستی میں دس گنا اضافے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نیم خود مختار فلسطینی شہر نابلس کے قریب 70 ایکڑ کے رقبہ پر آباد یہودی بستی کو 700 ایکڑ تک پھیلانا ہے جس سے اس علاقہ میں یہودی آبادی کا تناسب بڑھ جائے گا۔

فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کی تاریخ زیادہ طویل نہیں ہے اس کا آغاز اسی صدی کے آغاز میں ہوا تھا۔ یہودیوں نے فلسطین میں اپنی آباد کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے جو پاپڑ بیلے وہ مکر و فریب کی ایک دلخراش داستان کے طور پر تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور آج جبکہ اس آباد کاری کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے ایہود بارک کی قیادت میں اسرائیلی حکومت اپنے منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کے سامنے اس دور کے حالات کا ایک خاکہ رکھا جائے جب یہودی فلسطین میں تھوڑی سی جگہ کے حصول کے لیے بھی عثمانی خلیفہ کی ہر شرط ماننے کو تیار تھے۔ مگر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ نے ان کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا جس کے نتیجے میں یہودی سازشوں کا رخ سلطنت عثمانیہ کی طرف پھر گیا اور انہوں نے یورپی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کر کے خلافت عثمانیہ کا تیاپانچہ کرنے کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کی، بلکہ یہودی سلطنت کے قیام کی راہ ہموار کی۔

یورپ کی متعصب عیسائی حکومتوں نے ایک دور میں یہودیوں پر جینا حرام کر رکھا تھا اور کلیسا کے زیر سایہ ان حکومتوں نے یہودیوں پر دباؤ ڈالا ہوا تھا کہ وہ عیسائی مذہب اختیار کر لیں یا ملک چھوڑ دیں۔ عیسائیت قبول نہ کرنے کے جرم میں لاکھوں یہودی ان حکومتوں کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان ملکوں میں یہودیوں کا رہنا ناممکن ہوگیا، جبکہ اسی دور میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کے زیر سایہ ممالک میں یہودی نہ صرف آزادی کے ساتھ رہ رہے تھے بلکہ سیاسی عمل میں بھی شریک تھے اور مختلف علاقوں میں وزارتوں اور عہدوں پر بھی متمکن ہو جاتے تھے۔

1483ء میں فرانس کے بادشاہ لوئی دوازدہم نے یہودیوں کو سرکاری طور پر نوٹس دے دیا کہ وہ عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کریں یا ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس وقت فرانس کے یہودیوں نے خلافت عثمانیہ کے صدر مقام استنبول میں یہودی جماعت کے سربراہ ’’حاخام‘‘ کو راہنمائی کے لیے خط لکھا جس کا جواب انہیں یہ ملا کہ چونکہ ان میں ریاستی جبر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے اس لیے بظاہر عیسائیت قبول کر لیں لیکن دل میں اپنے ’’موسوی مذہب‘‘ پر قائم رہیں۔ عیسائیت قبول نہ کرنے والے یہودیوں کو فرانس، برطانیہ، روس اور اسپین سمیت اکثر یورپی ملکوں سے جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔ اور انہوں نے خلافت عثمانیہ کے زیر سایہ ممالک کو اپنے لیے زیادہ مناسب سمجھتے ہوئے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ عثمانی خلیفہ سے بات کر کے عثمانی سلطنت میں یہودیوں کی باقاعدہ آباد کاری کے لیے اجازت حاصل کی جائے۔ بلکہ کوشش کی جائے کہ اگر فلسطین میں یہودیوں کو آباد ہونے کا موقع فراہم کر دیا جائے تو بیت المقدس کے اردگرد یہودی آبادی اور بالآخر ایک یہودی ریاست کے قیام کی صورت بھی نکل آئے گی۔

اس مقصد کے لیے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید سے عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے ملاقات کی اور پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آبادکاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے جواب میں سلطان مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت اور انہیں پورے شہری حقوق دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں موجود ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس کے بعد 1893ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے یہودی رکن لارڈ سموئیل نے استنبول جا کر سلطان عبد الحمید سے ملاقات کی اور کثیر مالی معاونت کی پیشکش کے عوض یہ اجازت چاہی کہ شام کے شمالی اور اردن کے مشرقی علاقہ میں یہودی بستیاں بسانے کی سہولت دی جائے۔ اس کے جواب میں بھی سلطان عبد الحمید مرحوم نے اپنا موقف دہرایا کہ فلسطین کے علاوہ سلطنت عثمانیہ کے جس حصہ میں یہودی آباد ہونا چاہیں انہیں پوری سہولت دی جائے گی، مگر فلسطین میں انہیں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے بعد صیہونی تحریک کے سربراہ ہرتزل نے خود خلافت عثمانیہ سے رابطہ قائم کیا۔ 1896ء سے 1902ء تک پانچ بار استنبول کا دورہ کیا اور دوبار سلطان عبد الحمید مرحوم سے مل کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دیں۔ مگر سلطان مرحوم نے صاف انکار کر دیا۔

یہودی تحریک کے عالمی سربراہ نے سلطان مرحوم کے قریبی دوست عزت بک مرحوم کو بھی واسطہ بنایا مگر سلطان اپنے موقف پر اڑے رہے اور واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ فلسطین کی ایک انچ زمین بھی کسی قیمت پر یہودیوں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر عزت بک نے ہرتزل سے کہا کہ وہ فلسطین کی بجائے کوئی اور خطہ زمین خریدنے کی بات کریں تو وہ سلطان کو اس پر آمادہ کر لیں گے۔ اس پر ہرتزل نے خود اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ اس نے فلسطین کے متبادل کے طور پر قبرص کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا لیکن اس سوچ کو زیادہ دیر اپنے دماغ میں جگہ نہ دے سکا۔ ایک موقع پر ہرتزل نے سلطان عبد الحمید مرحوم کے سامنے بلینک چیک پر دستخط کر کے رکھ دیا کہ وہ اس پر جتنی رقم چاہیں لکھ لیں مگر فلسطین کا ایک قطعہ زمین یہودیوں کی آبادی کے لیے ضرور مرحمت فرما دیں جس پر سلطان مرحوم نے سخت طیش کے عالم میں اسے دربار سے نکل جانے کا حکم دیا اور اپنے عملہ کو ہدایت کی کہ آئندہ اس شخص سے ان کی ملاقات نہ کرائی جائے۔

سلطان عبد الحمید مرحوم کی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ایک مرحلہ میں ہرتزل نے یہ تجویز پیش کی کہ سلطنت عثمانیہ ایک عالمی یونیورسٹی کے قیام کی اجازت دے تو دنیا بھر کے یہودی سائنس دانوں کو جمع کر کے سلطنت عثمانیہ کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ اس پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں اور فلسطین کے علاوہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اس کے لیے جگہ اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کو روکنے کے لیے سلطان عبد الحمید عثمانی کا یہ بے لچک رویہ ہی ان کے خلاف عالمی سازشوں کا باعث بنا اور یہودیوں نے حکمت عملی تبدیل کر کے انہی یورپی ممالک سے ساز باز کرلی جن کی حکومتوں کے مظالم کا وہ صدیوں شکار رہے ہیں۔ اس ساز باز کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کر دیے گئے اور اس بندر بانٹ میں یہودیوں کو فلسطین کا وہ خطہ الاٹ کر دیا گیا جہاں آج اسرائیل قائم ہے اور جسے مستحکم اور وسیع کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے۔

درجہ بندی: