روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں فرق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۷ء

(’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے ۲ جنوری سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۷ء تک بر طانیہ کے چند شہروں لندن، برمنگھم، نوٹنگھم، والسال، آکسفرڈ اور لیسٹر وغیرہ میں مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور متعدد اصحاب فکر ودانش سے دینی وتعلیمی مسائل پر گفتگو کی۔ ۸ جنوری کو بعد نماز عشا آکسفرڈ میں سٹینلے روڈ کی مدینہ مسجد میں احباب کی ایک نشست سے ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر الشریعہ)

مغرب نے تاریک ادوار سے نکل کر انقلاب فرانس کے ساتھ اب سے کم وبیش تین سو برس پہلے جس نئے علمی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی سفر کا آغاز کیا تھا، اسے تاریکی سے روشنی، ظلم سے انصاف اور جبر سے حقوق کی طرف سفر قرار دیا جا رہا ہے۔ مغرب نے اس عمل میں جن نئے افکار اورفکر وفلسفے کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، انھیں روشن خیالی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور ہم مسلمانوں سے بھی دنیا بھر میں یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ ہم اس روشن خیالی کو قبول کریں اور مغرب کے اس سفر میں اس کے ساتھ شریک ہوں، مگر ہمار اروشن خیالی کا تصور مغرب کی روشن خیالی سے قطعی طور پر مختلف بلکہ متضاد ہے۔ ہماری روشن خیالی کا تاریخی پس منظر مغر ب سے الگ ہے اوراس کی تاریخ بھی مغرب سے الگ ہے۔

مغرب نے تاریکی سے روشنی کی طرف سفر انقلاب فرانس سے شروع کیا اور مغرب کے ہاں تاریک دور اورروشن دور میں فاصل انقلاب فرانس ہے۔ اس سے پہلے کا دور تاریکی، جہالت اور ظلم وجبر کا دور کہلاتاہے جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور انصاف وحقوق کا دورکہا جاتاہے، مگر ہمارے ہاں دور جاہلیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے دور کو سمجھا جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے زمانہ جاہلیت، ظلم وجبراور تاریکی کا دورکہلاتاہے، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت سے شروع ہونے والا دور علم، روشنی اور عدل کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ہماری روشن خیالی کے تصور اور تاریخ کا مغرب کی روشنی خیالی کے تصور اور تاریخ سے کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ ہم نے مغرب سے گیارہ سوبرس پہلے روشنی کے دور میں قدم رکھا تھا اورجاہلیت کو خیرباد کہہ کر علم اورعدل کے دورکی طرف پیش رفت کی تھی۔

یہ فرق تو تاریخی حوالے سے ہے،جبکہ ہماری روشن خیالی اور مغرب کی روشن خیالی میں ایک اور جوہری فرق بھی ہے جس کو ملحوظ نہ رکھنے والے بہت سے دانشور خود بھی کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں اور مسلم امہ کو بھی کنفیوژن کاشکار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ جوہری فرق یہ ہے کہ مغرب جس سفر کو تاریک دور سے روشن دور کی طرف سفر قراردیتاہے، وہ دراصل آسمانی تعلیمات سے انحراف اور وحی الٰہی سے روگردانی کرکے انسانی سوسائٹی کی خواہشات کو ہرچیز کا معیار قراردینے کا سفر ہے۔ اس طرح مغرب کے نزدیک آسمانی تعلیمات تاریکی کے دور کی علامات قرارپاتی ہیں، جبکہ انسانی سوسائٹی کی خواہشات پر مبنی فکر وفلسفہ روشنی کا عنوان اختیار کر جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورت حال اس سے قطعی مختلف ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجۃ الوداع کے خطبے میں یہ ارشاد فرمایاتھا کہ ’’جاہلیت کی تمام قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانی سوسائٹی کی خواہشات کی بالاتری کو مسترد کرتے ہوئے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی کا اعلان کر رہے تھے۔ گویا ہمارے نزدیک سوسائٹی کی خواہشات کی بالادستی، جہالت اور تاریکی کی علامت ہے جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی روشن خیالی اور علم کی جانب سفر تصور ہوتا ہے۔ مغرب آسمانی تعلیمات کی معاشرے پر بالادستی کوجہالت اورتاریکی قراردیتاہے، مگر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسائٹی کی خواہشات کی برتری کوجہالت اور تاریکی قراردیتے ہوئے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کو روشنی اور علم کی علامت بتایا ہے۔ اس لیے ہمارا روشن خیالی اور دورِ علم کا تصور مغرب کی روشن خیالی اور دورِ علم کے تصور سے قطعی مختلف اور متضاد ہے، اور ہمارے لیے اس سفر میں مغرب کاساتھ دینا اسلامی عقیدے اورتعلیمات کی رو سے ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم آج بھی قرآن وسنت کی حقانیت پر بے لچک ایمان رکھتے ہیں اور نسل انسانی کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپس بلا رہے ہیں، جبکہ مغرب اسے جہالت اور تاریکی کے دور کی طرف واپسی سے تعبیر کر رہا ہے اور مسلم امہ کو اس عقیدے سے ہٹانے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔

پھر روشن خیالی اور علم کی اس بحث کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ آج کی جدید معاشرت اور تمدن وثقافت کی جتنی علامات ہیں اورجن اقدار وروایات کو جدید تہذیب کی اساس تصور کیا جاتا ہے، ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہے جو نئی ہو اور اس معاشرت وثقافت کا حصہ نہ ہو جسے ہم چودہ سو سال قبل ’’دور جاہلیت‘‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں اور جس جاہلی دور کی اقدار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے قدموں تلے روندنے کا تاریخی اعلان فرمایا تھا۔

مرد وعورت کا آزادانہ اختلاط، ہم جنس پرستی، زنا، فحاشی، عریانی، شراب، جوا، سود، کہانت، حلال وحرام کا عدم امتیاز اور ناچ گانا وغیرہ،یہ سب کی سب اقدار وہ ہیں جو ابوجہل او ر ابولہب کے دور جاہلیت کا خاصہ تھیں اور آج کی طرح اس دور میں بھی ترقی اور افتخار کی علامت تصورہوتی تھیں، مگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام جاہلی اقدار کے خاتمے کا اعلان کیا اور ان اقدار کے خاتمے کو جاہلیت کے دور کے خاتمے سے تعبیر کیا،مگر آج مغرب انہی جاہلی اقدار کو پھر سے جھاڑ پھونک کر نئے میک اپ کے ساتھ دنیا کے سامنے جدید تہذیب وثقافت کی ترقی یافتہ اقدار کے طورپر پیش کررہاہے اور ہم مسلمانوں سے مسلسل مطالبہ کررہاہے کہ انسانی معاشرت کی جن جاہلی اقدار کو ہم چودہ سوسال پہلے پاؤں تلے روند کر آگے بڑھے تھے، انہی جاہلی روایات واقدار کو جدید تہذیب وتمدن اور ثقافت کے نام پر دوبارہ اختیار کرلیں۔

مغرب کو آج سے تین صدیاں قبل جن وجوہ کی بنا پر آسمانی تعلیمات سے دستبرداری اختیار کرنا پڑی تھی، اس میں مغرب کا اپنا ایک مخصوص پس منظر ہے اور اس نے جو کئی صدیاں ظلم وجبر کے دور میں بسر کیں، وہ بھی اس کا اپنا علاقائی تناظر ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان اسباب وعوامل کی موجودگی میں مغرب کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا جو اس نے کیا، مگر ہمار ا پس منظر یہ نہیں ہے اور ہمیں ان عوامل اور اسباب کا سامنا کبھی نہیں رہا جن کی وجہ سے مغرب کو انقلاب فرانس کے مرحلے سے گزرنا پڑا، مگر مغرب تاریخی اور زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنا مخصوص پس منظر اور علاقائی بیک گراؤنڈ ہم مسلمانوں پر بھی زبردستی مسلط کرنا چاہتاہے اور ہمیں آسمانی تعلیمات سے انحراف اوروحی الٰہی سے روگردانی کے اس سفر میں ہر قیمت پر اپنے ساتھ رکھنے پر مصر ہے جو سراسر اناانصافی اور دھونس کے مترادف ہے، اس لیے مسلمان علما ے کرام اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فکری وتہذیبی دھونس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور تاریخی حقائق کو ان کے اصل پس منظر میں سامنے لاکر مغرب پر واضح کریں کہ وہ اپنا پس منظر اور اس پس منظر میں تشکیل پانے والے فکروفلسفہ کو مسلمانوں پر بزور طاقت مسلط کرنے کی جو کوشش کر رہاہے، وہ زیادتی اور ناانصافی ہے جسے مسلم امہ کبھی اور کسی قیمت پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔

مغربی تہذیب وثقافت کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے کہ ویسٹرن کلچر اور فکر وفلسفہ کی بہت سی مروجہ اقدار دراصل وہی جاہلی اقدار ہیں جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل دور جاہلیت کی قدریں قراردے کر مسترد کردیاتھا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں یہ تاریخی اعلان فرما کر ان اقدار سے بیزاری کا اظہار فرمایاتھا کہ ’’آج جاہلیت کی تمام قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘، بلکہ بعض حوالوں سے اس دور کی جاہلیت یعنی ابوجہل اور ابولہب کی جاہلیت آج کی جاہلیت جدیدہ سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً سیکس کے فری ہونے کا مسئلہ وہاں بھی تھا اور آج بھی اس کے فری ہونے پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے، مگر ڈیڑھ ہزار سال قبل کے دور جاہلیت میں سیکس کے کئی راستے کھلے رکھنے کے باوجود کسی بچے کی ولادت پر اس کے نسب اور اس کی کفالت کی ذمہ داری کے تعین کا سسٹم موجود تھا اور کوئی بچہ بغیر باپ کے نہیں رہ پاتا تھا۔

  • اس دور میں مرد اور عورت کے جنسی تعلق کی ایک صورت تو یہی تھی جسے زندگی بھر کے نکاح کی صورت میں اسلام نے بھی باقی رکھا ہے۔
  • دوسری صورت موقت نکاح کی تھی جس میں کوئی مرد اور عورت مناسب معاوضے پر ایک مقررہ وقت کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے تھے اور مدت گزر جانے کے بعد ان کا یہ نکاح متعہ ختم ہو جایا کرتا تھا۔ اسے اسلا نے ناجائز قرار دے دیا اور اب اس کی اجازت نہیں ہے۔
  • تیسری صورت یہ تھی جسے ’’استبضاع‘‘ کہا جاتا تھا کہ میاں بیوی اور خاندان کے باہمی مشورے سے کوئی عورت کسی تیسرے خاندان میں جاتی تھی اور کسی بہادر یا سخی شخص سے جنسی تعلق قائم کر کے ا سے حاملہ ہوتی تھی جس کے بارے میں تصور یہ تھا کہ اس طرح اچھی نسل حاصل ہوتی ہے۔ اس صورت میں اس بچے کا نسب اس عورت کے اصل خاوند سے ہی ثابت ہوتا تھا جس کی رضامندی اور مشورے سے وہ کسی اور شخص کے پاس گئی تھی۔
  • چوتھی صورت یہ تھی کہ کوئی عورت بیک وقت پانچ چھ افراد سے جنسی تعلق رکھتی ہے جس کا ایک دوسرے کو پتہ ہوتا تھا اور اگر بچہ پیدا ہو جاتا تو وہ ان سب کو اکٹھے بلا کر سب کی موجودگی میں اس بچے کو ان میں سے کسی سے منسوب کر دیتی تھی جسے قبول کرنے کا وہ پابند ہوتا تھا اور بچے کا نسب اور کفالت اس شخص کے حوالے سے ہوتا تھا۔
  • پانچویں صورت یہ تھی کہ بعض عورتوں اپنے مکانوں پر خاص قسم کا پرچم لہرائے رکھتی تھیں جو اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہاں معاوضہ دے کر کوئی بھی شخص آ سکتا ہے۔ ایسی کسی عورت کے ہاں بچہ ہوتا تو وہ اپنے اندازے کے مطابق متعلقہ افراد کو طلب کرتی جو سب اکٹھے ہونے کے پابند تھے۔ ایسی صورت میں قیافہ شناس بلائے جاتے تھے جو قیافے کے ذریعے سے ان افراد میں سے اس بچے کے باپ کا انتخاب کرتے تھے اور وہ اس کے نسب اور کفالت کا ذمہ دار قرار پاتا تھا۔

یہ اس دور جاہلیت میں سیکس کے فری ہونے کی صورت میں بچے کے نسب اورکفالت کے تعین کا سسٹم تھا جس کی موجودگی میں کوئی بچہ لاوارث یا سنگل پیرنٹ نہیں ہوتاتھا، لیکن آج کی جدید جاہلیت سیکس کو فری کرنے کے بعد اس کے نتائج سے نمٹنے کا کوئی نظام وضع نہیں کرسکی اور سنگل پیرنٹ کا قانون طے کرکے اس نے نسب اورکفالت کی ذمہ داری کا سرے سے پتہ ہی کاٹ دیاہے اورسیکس کے جس عمل میں مرد اور عورت دونوں برا بر کے شریک تھے، اس کے نتائج بھگتنے کے لیے عورت کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ مرد اپنا کام کر کے چلتا بنتا ہے اور اس کے نتائج سب کے سب عورت کو بھگتنا ہوتے ہیں جسے عورت کے حقوق اور اس کی آزادی اور مرد وعورت کی مساوات کا نام دے دیا گیا ہے۔

اس پر مجھے محترمہ ہیلری کلنٹن کی ایک بات یاد آگئی۔ جب وہ امریکہ کی خاتون اول تھیں تو اسلام آباد کے دورے پر تشریف لائیں اورایک گرلز کالج کے دورے کے موقع پر انہوں نے سیکنڈ ایئر کی ایک پاکستانی طالبہ سے پوچھا کہ یہاں کالج کی طالبات کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں معیاری لائبریریاں اور لیبارٹریاں میسر نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے ہم ریسرچ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اس لڑکی نے امریکہ کی خاتون اول سے سوال کیا کہ امریکہ میں کالج کی طالبات کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کالج تک پہنچتے پہنچتے بہت سی لڑکیوں کی گود میں بچہ ہوتاہے جس کاکوئی ذمہ دار نہیں ہوتا اور وہ مصیبت میں پڑی ہوتی ہے کہ اس بچے کی پرورش کرے یا تعلیم حاصل کرے۔ اس سے آپ اندازہ کر لیجیے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے دورجاہلیت کے فری سیکس اور آج کی دور جاہلیت کے فری سیکس میں کیا فرق ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق مانع حمل ادویات اور اسقاط حمل کی تمام تر سہولتوں کے باوجود جو بچے پیدا ہو رہے ہیں، ان میں سے گزشتہ سال چالیس فیصد بچے بغیر شادی کے پیدا ہوئے۔

اسلام نے اسی وجہ سے نکاح کے سوا جنسی تعلق کی تمام صورتوں کو ناجائز قرار دیاہے اور زنا کے حوالے سے انتہائی سختی کی ہے کہ اس کے بغیر نسب، کفالت اور خاندان کا نظام ہی باقی نہیں رہتا۔

درجہ بندی: