ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کا انٹرویو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ قومی ڈائجسٹ، لاہور
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۷ء

(ماہنامہ قومی ڈائجسٹ میں دسمبر 2007ء کو شائع ہونے والا انٹرویو ضروری اصلاح و ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جس کی نظر ثانی مولانا راشدی نے کی ہے۔ انٹرویو نگار پروفیسر خالد ہمایوں تھے۔)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی طویل عرصے تک خارزار سیاست میں آبلہ پائی کرنے کے بعد اب کئی سالوں سے علمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دنیا کی دوسری تہذیبوں سے مکالمہ کرتے اور ان پر اسلام کی حقانیت واضح کرتے ہیں۔ وہ قدیم اسلامی علوم میں بھی دستگاہ رکھتے ہیں اور دور جدید کے سیاسی، معاشی، اور عمرانی مسائل کی مبادیات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ہم نے ان کے سیاسی تجربات اور قومی حوادث کے بارے میں بھی استفسار کیا اور اسلامی دنیا کی بحرانی کیفیت پر بھی کئی سوالات اٹھائے۔ ان کے لب و لہجے کی شائستگی اور گفتگو کے عالمانہ وقار سے ہم بھی متاثر ہوئے، ہمیں یقین ہے کہ قارئین بھی ان کے خیالات سے لطف اٹھائیں گے۔ ہم مولانا شبیر احمد میواتی کے شکرگزار ہیں کہ ان کی وساطت سے سوال و جواب کی یہ نشست انعقاد پذیر ہوئی۔

خاندانی پس منظر

سوال: مولانا آپ اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔

جواب: ہمارا خاندانی پس منظر یہ ہے کہ ہزارہ میں مانسہرہ سے آگے سواتی برادری بہت بڑی تعداد میں آباد ہے۔ کسی زمانے میں ہمارے آباؤ اجداد سوات سے ہزارہ آگئے تھے اور وہ اسی طرح وہاں سواتی کہلاتے ہیں جیسے لاہور اور گوجرانوالہ میں کشمیر سے آنے والے لوگ کشمیری کہلواتے ہیں۔ میرا تعلق اسی سواتی برادری سے ہے اور ہمارے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ہم یوسف زئی پٹھان ہیں۔ سوات میں کسی زمانے میں باہم جھگڑے ہوئے ہوں گے جن کی وجہ سے کچھ لوگ وہاں سے نکل کر ہزارہ چلے آئے۔ یوسف زئی خاندان کا وہ حصہ جو ہزارہ کے علاقے میں سواتی برادری کے نام سے معروف ہے، شنکیاری سے ایک میل آگے اچھڑیاں ایک گاؤں ہے، وہ آج کل ہمارے خاندان کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس سے تھوڑا آگے جائیں تو کوٹلی بالا ہے جس کے قریب ایک گاؤں ہے کڑمنگ۔ یہ پہاڑ کی چوٹی پر ہے، وہ ہمارے دادا مرحوم نور احمد خان مرحوم کا مسکن تھا، وہ چھوٹے موٹے زمیندار تھے۔ ان کے والد تھے گل احمد خان مرحوم، کڑمنگ سے آگے چیڑھاں ڈھکی ہے، ہمارے دادا جی کا وہاں مکان ہوتا تھا اور وہاں چھوٹی موٹی زمینداری کرتے تھے۔ میرے والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ہیں اور چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی، ان دونوں بھائیوں کی والدہ محترمہ یعنی ہماری دادی صاحبہ ان کے بچپن ہی میں وفات پا گئی تھیں۔

جب ہمارے دادا نے وفات پائی تو والد صاحب غالباً نو سال کے اور صوفی عبد الحمیدؒ سواتی چھ سال کے تھے، یہ یتیم بچے تھے، صرف سوتیلی والدہ حیات تھیں جو اپنے میکے چلی گئیں۔ اب یہ دونوں بھائی ادھر رہ گئے۔ بٹل سید برادری کا علاقہ تھا۔ والد صاحب کی پھوپھی وہاں کے ایک سید گھرانے میں بیاہی گئی تھیں وہ ان دونوں بھائیوں کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ پھر والد صاحب کے پھوپھی زاد بھائی مولانا سید فتح علی شاہ صاحبؒ انہیں اپنے ہاں لے گئے جو کہ بٹل سے مغرب کی جانب ایک گاؤں لمی میں مسجد کے امام تھے۔ پیچھے دادا مرحوم کی زمین پر لوگوں نے قبضہ کر لیا۔ اس زمانے میں کاغذات وغیرہ تو تھے نہیں۔ ہمارے پردادا کے زمانے میں زمینوں کا بندوبست ہوا تھا۔ مانسہرہ میں جب انگریز افسر آکے بیٹھا تو لوگوں نے پردادا کو توجہ دلائی کہ تم بھی کاغذات وغیرہ بنوا کر زمین اپنے نام لکھوا لو۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں انگریز افسر کا منہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ چنانچہ پردادا نہیں گئے، ان کے نام کاغذات بھی نہیں بنے۔ میرے چھوٹے بھائی ایک دفعہ وہاں گئے تھے، کہتے ہیں کہ جہاں ہمارے دادا کا مکان تھا وہاں کوئی فیکٹری لگی ہوئی ہے، البتہ کچھ نہ کچھ کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔

والد صاحب جن کے ہاں رہے وہ کام بھی کراتے اور تھوڑا بہت پڑھا بھی دیتے تھے۔ زمانہ وہ تھا کہ بچوں پر سختی بھی ہوتی تھی۔ علاقہ کے کسی سمجھدار بندے نے دیکھا کہ یہ یتیم بچے ان حالات میں رہتے ہوئے ضائع ہو جائیں گے، اس نے بچوں کو وہاں سے نکلنے کی ترغیب دی اور پھر نزدیک کے ایک گاؤں بفہ کے ایک دینی مدرسے میں چھوڑ آئے۔ یہ مدرسہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا تھا جہاں سے ان دونوں بھائیوں کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ جبکہ ان کے پہلے استاد لمی کے مولانا سید سید فتح علی شاہ صاحبؒ تھے۔ کچھ دیر بفہ میں رہے لیکن مزید تعلیم کی جستجو انہیں کئی مدرسوں میں لے گئی۔ ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں وڈالہ سندھواں میں بھی رہے، جہانیاں منڈی میں بھی رہے۔ پرانے زمانے میں یہ رواج تھا کہ جہاں کسی قابل استاد کے بارے میں اطلاع ملتی طالب علم وہاں اس کے پاس جا پہنچتا تھا۔ البتہ زیادہ تعلیم ان بھائیوں نے مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حاصل کی جہاں آج کل میں خطیب ہوں۔ اس مدرسے کو حضرت مولانا عبد العزیز صاحبؒ نے 1926ء میں قائم کیا تھا اور شہر کا قدیم ترین دینی مدرسہ یہی ہے۔ یہاں ایک بزرگ حضرت مولانا عبد القدیر صاحبؒ پڑھاتے تھے جو کہ چھچھ کے علاقے کے تھے اور جید عالم دین تھے۔ ابھی چند سال پہلے انہوں نے وفات پائی ہے۔ آخری دور میں وہ دارالعلوم تعلیم القرآن، راجہ بازار، راولپنڈی میں شیخ الحدیث تھے۔ میرے والد اور چچا نے زیادہ تعلیم انہی سے حاصل کی اور دونوں بھائیوں کو ان سے بہت قربت ہوگئی۔ اس مدرسہ میں انہیں مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے بھی اکتساب فیض کا موقع ملا۔

یہ 1935ء سے 1940ء کا دور تھا، پھر 1941ء یا 1942ء میں یہ دیوبند چلے گئے تھے۔ دورۂ حدیث کے حوالے سے وہاں ان کے استاد تھے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا اعزاز علی، اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہم اللہ تعالیٰ۔ دیوبند سے انہیں سند ملی۔ حضرت مولانا مدنیؒ اپنی طرف سے بھی طالب علم کو ایک سند دیا کرتے تھے، وہ بھی انہیں ملی۔

سوال: دونوں بھائیوں نے گویا اکٹھے ہی تعلیم حاصل کی۔

جواب: جی ہاں۔ تقریباً تمام تعلیمی مراحل میں اکٹھے ہی رہے۔ 1942ء میں والد صاحب دیوبند سے سیدھے گوجرانوالہ آگئے کیونکہ وہ اس شہر سے مانوس تھے۔ گکھڑ منڈی میں بٹ دری فیکٹری کے مالک حاجی اللہ دتہ بٹ مرحوم تھے، ہم انہیں دادا جی کہا کرتے تھے۔ وہ گوجرانوالہ آئے تو اساتذہ نے ان کی فرمائش پر والد صاحب کو ان کے ہمراہ گکھڑ بھیج دیا کہ وہاں دین کی اشاعت کریں۔ چنانچہ والد صاحب نے وہاں امامت بھی کی اور مدرسہ بھی بنا لیا۔

سوال: کیا آپ کے والد صاحب کو سیاست سے بھی دلچسپی تھی؟

جواب: جمعیۃ علمائے ہند سے تعلق تھا۔ حضرت مدنیؒ کی گرفتاری کے بعد دیوبند کے طلباء جو مظاہرے وغیرہ کرتے تھے، والد صاحب ان کی قیادت کرتے رہے۔ جمعیۃ کے ساتھ ساتھ والد صاحب کا مجلس احرار کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے۔ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بھی گکھڑ تشریف لائے، وہاں احرار کے جلسے ہوتے اور والد صاحب ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے۔ اگرچہ ان کا بنیادی مزاج تعلیم و تدریس کا رہا ہے۔

سوال: صوفی عبدا لحمید صاحب نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد کیا کیا؟

جواب: وہ حیدر آباد دکن چلے گئے۔ وہاں جامعہ طبیہ نظامیہ میں داخلہ لے لیا اور تین سال کا کورس کر کے حکیم حاذق کی سند لے لی۔ اس کے بعد لکھنؤ چلے گئے جہاں مولانا عبد الشکور لکھنوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ان سے مناظرے کا کورس کیا۔ وہ فرنگی محلی علماء کا مرکز تھا۔ گویا صوفی صاحب دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے تین چار سال بعد گوجرانوالہ آئے۔ پہلے پہل حکمت کا مطب شروع کیا جو کہ اہل حدیث عالم دین حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کی مسجد کے ساتھ واقع تھی۔ والد صاحب نے ایک دن خوشگوار موڈ میں بتایا کہ ہم تو دوائیاں گھوٹ گھوٹ کر تھک جاتے اور یہ حضرت صاحب وہ دوائیاں دوستوں کو مفت بانٹ دیتے تھے۔ یعنی ان کا مزاج دکان اور کاروبار چلانے والا نہ تھا۔

جہاں آج جامعہ نصرۃ العلوم ہے وہاں اس دور میں ایک بہت بڑا جوہڑ ہوتا تھا۔ صوفی صاحب نے اس کے کنارے پر مٹی وغیرہ ڈلوا کر مدرسے کی بنیاد رکھ دی۔ نزدیک کے محلے توتیاں والا کی مسجد میں دو علماء خطیب و امام تھے مولانا عبد القیوم ہزاروی اور مولانا محمد یوسف ہزاروی جو کہ دیوبند مکتب فکر سے متعلق تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے اس مسجد میں مولانا غلام اللہ خان صاحبؒ کی تقریر کروائی۔ مولانا اپنی ہی طرز کے خطیب تھے، انہوں نے توحید اس طور سے بیان کی کہ اہل محلہ ناراض ہوگئے اور دونوں کو مسجد سے نکال دیا۔

سوال: بریلوی مکتب فکر والوں نے دیوبندی عالم کو کیسے بلا لیا؟

جواب: اس دور میں رواداری بہت تھی۔ مفتی عبد الواحد صاحبؒ کہتے ہیں کہ ہم نے سوچا اس علاقے میں کسی دیوبندی عالم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ 1952ء میں صوفی صاحبؒ کے ہاتھوں وہاں مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھوائی۔ میں نے وہ دور دیکھا ہوا ہے، مسجد اور مدرسے کے کمرے کچے ہوتے تھے۔ وہاں مقامی لوگوں کا ایک حلقہ بن گیا اور والد صاحب روزانہ گکھڑ سے وہاں آکر پڑھاتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس تالاب کو بھرواتے رہے تا آنکہ آج وہاں ہم جامعہ نصرۃ العلوم جیسا بڑا دارالعلوم دیکھ رہے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ وہاں تشریف لائے اور مسجد و مدرسہ میں وسعت دیکھی تو وہیں عوامی جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مولوی کو تو بس پاؤں رکھنے کی جگہ چاہیے، آگے پھر سب کچھ بن جاتا ہے۔

تعلیمی و تربیتی مرحلہ

سوال: آپ کا تعلیمی سفر کیسے شروع ہوا؟

جواب: میری ولادت گکھڑ منڈی کی ہے۔ اب تو بٹ دری فیکٹری کا ماحول مختلف ہے، اس دور میں کام ابھی محدود تھا۔ اس کے اوپر ایک چوبارہ تھا جس میں والد صاحب رہتے تھے ۔سامنے مسجد تھی۔ میرے ننھیال گوجرانوالہ شہر ہی کے تھے۔ کشمیر محل سینما کے عقب میں تالاب دیوی والا ہے جو محلہ رام بستی کہلاتا تھا، وہاں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں میرے نانا مولوی محمد اکبر مرحوم امام تھے۔ راجپوت جنجوعہ برادری سے ان کا تعلق تھا۔ اصلاً وہ لالہ موسیٰ کے قرب و جوار کے رہنے والے تھے، وہاں سے قرآن مجید پڑھنے کے بعد یہاں آگئے تھے۔ بڑے باذوق آدمی تھے، باقاعدہ عالم نہ تھے اور قرآن کریم کا کچھ ہی حصہ انہیں حفظ تھا۔ البتہ قرآن کریم پڑھنے کا انداز بہت اچھا تھا۔ ان کے ذوق مطالعہ کا اندازہ اس بات سے کریں کہ اس زمانے کے نمایاں علمی رسالے مثلاً البرہان (دہلی)، النجم، اور الفرقان (لکھنؤ) وغیرہ میں نے سب سے پہلے انہی کے ہاں دیکھے تھے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد کے ساتھ ایک ادارہ ہے ’’اصلاح و تبلیغ‘‘، اس کی طرف سے جمعہ کا خطبہ چھپا کرتا تھا۔ اب وہ خطبات کتابی شکل میں چھپ گئے ہیں، ناناجی مرحوم ان خطبات سے جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ تو یہ علمی ماحول تھا جو مجھے بچپن میں ملا۔

سوال: کیا زاہد الراشدی آپ کا اصل نام ہے؟

جواب: میرا پورا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ ہے۔ حروف ابجد کے حساب سے اس کے عدد 1367 بنتے ہیں جو ہجری لحاظ سے میرا سن پیدائش ہے۔ میں نے زاہد گکھڑوی کے نام سے لکھنا شروع کیا تھا اور ابتدائی چند سال تک میرے مضامین اسی نام سے شائع ہوتے رہے۔ پھر حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کا تعلق ہوجانے کی وجہ سے ان کے روحانی سلسلہ ’’عالیہ قادریہ راشدیہ‘‘ کی مناسبت سے راشدی کی نسبت اختیار کرلی اور زاہد الراشدی کے نام سے لکھنا شروع کر دیا۔ جبکہ 1975ء میں بڑے بیٹے محمد عمار خان ناصر کی ولادت کے بعد ’’ابوعمار‘‘ کی کنیت بھی ساتھ شامل کرلی۔

سوال: کیا آپ کی جائے پیدائش گوجرانوالہ ہی ہے؟

جواب: جی نہیں، میں گکھڑ میں اکتوبر 1948ء میں پیدا ہوا۔ مجھ سے ایک سال بڑی میری ہمشیرہ ہیں۔ والد صاحب کو یہ شدید احساس تھا کہ انہیں اپنی حقیقی والدہ کی خدمت کا موقع نہیں ملا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سوتیلی والدہ کو اپنے پاس بلا لیا جو تاحیات والد صاحب کے پاس ہی رہیں اور یہیں فوت ہو کر بٹ دری فیکٹری کے عقبی قبرستان میں مدفون ہیں۔ ان کا چہرہ تو یاد نہیں رہا البتہ ذہن میں ایک ہیولا سا ہے۔ اور اس دور کی چند دھندلی سی یادیں ہیں جو 1953ء کی اینٹی قادیانی تحریک سے متعلق ہیں۔ مثلاً ہم بچے مرزا قادیانی اور خواجہ ناظم الدین کے خلاف نعرے لگاتے تھے۔ والد صاحب کی گرفتاری کا منظر بھی یاد ہے کہ کئی دن سے پولیس ان کا پیچھا کر رہی تھی اور وہ ہاتھ نہیں آرہے تھے۔ بالآخر ایک دن صبح ہی صبح وہ تیار ہو کر گھر سے نکلے، اس روز گھر میں حلوہ پکا ہوا تھا۔ والد صاحب جب سیڑھیاں اتر رہے تھے تو میں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں؟ والدہ صاحبہ بس اتنا کہا کہ وہ نیکی کے کام پر جا رہے ہیں۔ ایک شخص نے ان کا بستر بھی اٹھایا ہوا تھا، وہ سیدھا پولیس چوکی میں پہنچے اور گرفتاری دے دی۔

سوال: والد صاحب کتنا عرصہ قید رہے؟

جواب: کوئی دس مہینے کے لگ بھگ ملتان میں رہے۔ جیل جانے سے پہلے انہوں نے ایک اور نکاح کیا تھا۔ والد صاحب کی دوسری اہلیہ کو ہم چھوٹی امی کہہ کر بلاتے تھے، وہ والد صاحب کی چچا زاد تھیں۔

سوال: آپ کی والدہ نے احتجاج نہیں کیا؟

جواب: کیا ہوگا، ہم تو بچے تھے۔ البتہ آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ شروع سے آخر تک دونوں والدہ اکٹھی رہیں اور دونوں کی اولاد ایک ہی گھر میں رہی۔ بڑی امی کی اولاد سے ہم کل پانچ ہیں، تین بھائی اور دو بہنیں۔ ایک بھائی مولانا عبد القدوس خان قارن ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم میں مدرس ہیں۔ دوسرے بھائی عبد الحق خان بشیر ہیں جو مسجد و مدرسہ حیات النبی گجرات کے خطیب و مہتمم ہیں۔ بڑی بہن اچھڑیاں مانسہرہ جبکہ چھوٹی بہن جہلم میں بیاہی گئیں۔ چھوٹی امی سے ہمارے چھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ایک بھائی وفات پا چکے ہیں۔ اکٹھا رہنے سے باہم چھوٹا موٹا اختلاف تو کبھی کبھار ہوا، جیسا کہ انسان ہونے کے ناطے سے ہوتا ہی ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کبھی تقسیم تک نوبت نہیں پہنچی اور وقت اچھا گزر گیا۔ چھوٹی امی کی اولاد سے بھی مجھے بہت پیار ہے بلکہ ان چھوٹے بھائیوں کے گھروں میں مجھے زیادہ پروٹوکول ملتا ہے۔ ہمایوں صاحب! ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت جس نہج پر جا پہنچی ہے اس سے آپ بھی واقف ہیں، لیکن الحمد للہ ہمارے گھروں میں اب بھی باہمی احترام اور محبت کی فضا موجود ہے۔

سوال: آپ نے تعلیم کا سفر کیسے شروع کیا؟

جواب: میرے پہلے پہل استاد تو والدین ہی ہیں۔ والدہ گھر پر محلے کے بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ وہ حافظہ تو نہ تھیں لیکن دو درجن کے لگ بھگ بچیوں نے ان سے باقاعدہ قرآن کریم حفظ مکمل کیا تھا۔ ان کے شاگردوں میں سابق صدر جناب رفیق تارڑ بھی ہیں، پولیس افسر احمد نسیم بھی ہیں، اور آرمی کے ایجوکیشن کور کے بریگیڈیئر محمد علی چغتائی بھی ہیں۔ میں نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم والدہ صاحبہ سے حاصل کی جبکہ والد صاحب مجھ سے تختی لکھواتے تھے۔

سوال: کیا آپ سکول بھی گئے؟

جواب: جی ہاں۔ قریب ہی پرائمری سکول تھا جہاں سے میں نے چار جماعتیں پاس کیں۔ اس کے بعد مجھے گکھڑ کے مدرسہ تجوید القرآن میں داخل کر دیا گیا۔ آپ راہوالی کی گتہ فیکٹری کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اس کے مالک حاجی محمد یوسف سیٹھی نومسلم باپ کے بیٹے تھے۔ انہیں قرآن مجید کی تعلیم سے گہری محبت تھی، وہ مختلف جگہوں پر جاتے اور وہاں کے مقامی لوگوں کو ترغیب دیتے کہ قرآن مجید کے حفظ کا مدرسہ کھولو، استاذ کی آدھی تنخواہ میں دوں گا۔ وہ ایک دفعہ گکھڑ آئے اور نماز جمعہ کے بعد لوگوں کو ترغیب دی جس پر گکھڑ میں مدرسہ قائم ہوگیا۔ پہلے استاذ قاری اعزاز الحقؒ جن کا اس مدرسہ میں تقرر ہوا ان کا تعلق امروہہ سے تھا۔ محمد یوسف سیٹھی صاحب کو قرآن کی تجوید و حفظ سے جو عشق تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک دفعہ میں نے ان کے ٹرسٹ کے انچارج ابراہیم خان سے پوچھا کہ آپ کی امداد سے کتنے مدرسے چل رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں ایسے گیارہ سو مدرسے چل رہے ہیں۔ بلکہ آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ سعودی عرب میں بھی تجوید اور حفظ کے مدارس کا آغاز سیٹھی صاحب مرحوم ہی نے کیا تھا اس سے پہلے وہاں اس طرز کے مدرسے نہیں ہوتے تھے۔ مسجد الحرام میں تجوید و حفظ کرانے کا پہلے پہل فریضہ قاری خلیل احمد صاحب کے ہاتھوں انجام پایا۔ میری معلومات کی حد تک سیٹھی صاحب کی کوششوں سے جب ایسے مدارس کی تعداد تین سو تک پہنچی تب سے یہ سارا انتظام سعودی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ امام کعبہ شیخ عبد اللہ السبیل بھی قاری خلیل صاحب کے شاگرد بتائے جاتے ہیں۔

سوال: آپ نے گکھڑ ہی سے قرآن مجید حفظ کیا؟

جواب: جی ہاں۔ پہلے پہل کئی اساتذہ آتے رہے لیکن کچھ عرصہ ٹھہر کر وہ چلے جاتے۔ البتہ استاذِ محترم قاری محمد انور صاحبؒ ٹک گئے ۔یوں سمجھیے کہ قرآن کریم از سرِنو میں نے انہی سے حفظ کیا۔ قاری محمد انور صاحبؒ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتے ہیں اور لاہور مدرسہ تجوید القرآن کوچہ کندی گراں میں قاری سید حسن شاہ صاحبؒ سے پڑھے ہوئے ہیں۔ بعد میں سیٹھی صاحب ہی کے نظم کے تحت قاری صاحب پہلے یوگنڈا رہے پھر سعودی عرب چلے گئے۔ اب وہ مدینہ منورہ میں ہیں اور حفظ و تجوید کے ایک معروف استاد ہیں۔ میں جب کبھی جاؤں تو انہی کا مہمان ہوتا ہوں۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ اٹھائیس سال سے مدینہ منورہ میں قرآن مجید کے حفظ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ اب ان کی عمر 80 برس کے لگ بھگ ہے۔ میں نے اکتوبر 1960ء میں حفظ مکمل کیا تھا۔

اتفاق کی بات یہ ہے کہ میری زندگی کے اکثر اہم واقعات ماہ اکتوبر میں ہی پیش آئے۔ مثلاً میری پیدائش 28 اکتوبر کی ہے، قرآن کریم کے حفظ کا سلسلہ 20 اکتوبر کو مکمل ہوا، جب میری مدرسہ کی تعلیم مکمل ہوئی تو اکتوبر کا مہینہ تھا، میری شادی 25 اکتوبر کو ہوئی، اکتوبر 1990ء میں میری اکلوتی بیٹی کی شادی ہوئی، اور میں دادا بھی اکتوبر کے مہینے میں بنا۔

سوال: حفظ کے اختتام پر تقریب وغیرہ ہوئی تھی؟

جواب: جی ہاں۔ والد صاحب نے باقاعدہ جلسہ کیا جس میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ تشریف لائے تھے۔ لاہور سے حضرت قاری فضل کریمؒ اور مولانا قاری حسن شاہؒ بھی تشریف لائے تھے، دونوں بڑے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ ان سب بزرگوں نے مجھے دعاؤں سے نوازا۔ حفظ کی تکمیل کے بعد ایک سال تک والد صاحب نے گھر پر مجھے صرف و نحو کی تعلیم دی۔ پھر میں 1962ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آیا۔ 1962ء سے 1969ء تک میرا طالب علمی کا دور تھا میں نے اس دوران درس نظامی کی تعلیم مکمل کی، 1969ء میں دورۂ حدیث کیا۔

صحافت اور تدریس کا آغاز

سوال: دور طالب علمی میں سیاسی ہنگاموں میں بھی حصہ لیا؟

جواب: جی ہاں۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ میں سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔

سوال: اس دور میں اکثر وہابی سنی کا جھگڑا رہتا تھا، مناظروں میں بھی کبھی گئے؟

جواب: میرا مناظرے کا کبھی ذوق نہیں رہا۔ البتہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں طلباء کی تنظیم سازی کا آغاز کرنے والا میں ہی ہوں۔ والد صاحب کے استاذ اور پھوپھی زاد بھائی مولانا سید فتح علی شاہؒ کے بیٹے سید عطاء اللہ شاہ شیرازی وہیں زیر تعلیم تھے، وہ ہمارے سینئر تھے اور میرے کزن بھی تھے۔ ہم نے مل کر مدرسے کے طلباء کی یونین بنائی۔ شیرازی صاحب صدر بنے جبکہ میں سیکرٹری تھا۔ ہم ہر جمعرات کو اجلاس منعقد کرتے جس میں طلباء کو تقریر کی تربیت دی بھی جاتی تھی۔ اس کے بعد میں جمعیۃ طلباء اسلام میں شامل ہوگیا۔ یہ 1964ء یا 1965ء کی بات ہے جب میں نے گکھڑ میں ’’انجمن نوجوانان اسلام‘‘ بنائی جو تین چار برس تک فعال رہی۔ ہم مشاعرے کرتے تھے اور ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔ اس دوران میرا رابطہ بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبد الرحمان جامیؒ سے بھی رہا۔ 1965ء کی جنگ کے دنوں میں وہ شہری دفاع کے ’’علماء ونگ‘‘ کے چیف وارڈن رہے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور جنگ کے دوران میں نے سول رضا کار کے طور پر کئی راتیں پہرے دیے۔ بھارت کے ساتھ ان دنوں رن کچھ کی جھڑپیں شروع ہو چکی تھیں اور جنگ کا خطرہ برابر موجود تھا۔ جس رات کی صبح بھارت نے حملہ کیا اسی رات ہم نے انجمن نوجوانان اسلام کا جلسہ کیا جس میں خون اکٹھا کرنے کا پروگرام بنایا۔ البتہ میں نے سب کو توجہ دلائی کہ سول ڈیفنس کی تربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ جنگ کے دوران بھارتی جنگی طیاروں نے گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر گولے برسائے جہاں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب میں نے لکھنا شروع کر دیا تھا اور ہفت روزہ ترجمان اسلام میں خبریں اور رپورٹیں وغیرہ لکھا کرتا تھا۔

سوال: یوں صحافت کے کوچے میں آنکلے؟

جواب: میری صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز روزنامہ وفاق کی نامہ نگاری سے ہوا۔ جمیل اطہر اس وقت وہاں ایڈیٹر تھے۔ صفدر باجوہ کی شہادت پر میں نے روزنامہ وفاق میں ایک فیچر لکھا اور پھر صحافت کے ساتھ ساتھ سیاست کے کوچے میں بھی آنکلا۔ جمعیۃ طلباء اسلام میں ایک دو برس کام کرنے کے بعد میں جمعیۃ علماء اسلام میں شامل ہوگیا جس کا میں گوجرانوالہ ضلع اور ڈویژن تنظئم کا سیکرٹری اطلاعات رہا۔ انہی دنوں روزنامہ کوہستان کے ادارتی صفحہ پر میرا ایک مضمون شائع ہوا جو کہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ یہ 1964ء کا دور تھا، انہی اشغال میں ایک سال بیت گیا، پڑھائی کی طرف توجہ کم ہوگئی جس پر والد صاحب نے میری لاپروائی کا سخت نوٹس لیا اور مجھے گکھڑ لے گئے۔ اس وقت تک مجھے گوجرانوالہ کی ادبی محفلوں میں بیٹھنے کا چسکا پڑ چکا تھا۔ اس زمانے میں یہاں جو اہل قلم تھے ان میں اثر لدھیانوی، ارشد میر، بیکس فتح گڑھی، پروفیسر عبد اللہ جمال، جناب افضل سہیل، پروفیسر افتخار احمد ملک، راز کاشمیری، سید سبط الحسن ضیغم، رفیق چودھری، اور راشد بزمی نمایاں تھے۔ اس دور میں ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع خیام ہوٹل میں یہ لوگ بیٹھتے تھے اور وہاں مجلس فکر و نظر کے تحت ادبی محفلیں ہوتی تھیں۔ کوئی صاحب مقالہ پڑھتے، نظم یا غزل پیش کرتے تو اس پر تنقید ہوتی تھی۔ میں نے وہاں آنا جانا شروع کر دیا۔

ایک دفعہ محفل میں پوچھا جا رہا تھا کہ اگلی دفعہ مقالہ کون پڑھے گا؟ کوئی بھی ہامی نہیں بھر رہا تھا۔ کسی نے ایسے ہی مجھ سے پوچھ لیا، آپ پڑھ دیں گے؟ ممکن ہے طنزیہ طور پر ہی پوچھا ہو کیونکہ میری وضع قطع ایک مولوی کی تھی۔ میں نے ہامی بھری تو ساری محفل پر سناٹا چھا گیا۔ انہوں نے پھر پوچھا، آپ پڑھ دیں گے نا؟ میں نے کہا، سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ضرور پڑھ دوں گا۔ پوچھنے لگے کیا پڑھیں گے؟ ان دنوں میں نے فلپ کے ہٹی (Phillip Khuri Hitti) کی ’’ہسٹری آف دی عربز‘‘ کا ترجمہ پڑھ رکھا تھا جو دہلی سے تازہ تازہ چھپا تھا۔ میں نے اس کے کچھ نوٹس بھی لے رکھے تھے۔ میں نے کہا کہ اس کتاب پر تنقیدی مقالہ پڑھوں گا، پوری مجلس کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ کہنے لگے ٹھیک ہے مولوی صاحب۔ چنانچہ میں نے مقالہ لکھا اور وہاں پڑھا، ہٹی کی کتاب میں کوئی پانچ سات واقعاتی غلطیاں تھیں ان کی نشاندہی کی۔ میرا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہٹی نے اسلام کو بحیثیت تحریک پیش کیا ہے حالانکہ اسلام تحریک نہیں دین ہے۔ اس پر میں نے دلائل دیے کہ تحریک داخلی چیز ہوتی ہے جبکہ دین آسمان سے نازل ہوتا ہے وغیرہ۔ محفل کی صدارت پروفیسر اسرار احمد سہاروی کر رہے تھے اور اسٹیج سیکرٹری ارشد میر صاحب تھے۔ میرا مقالہ بہت پسند کیا گیا اور اس پر بحث ہوئی۔ پھر ارشد میر صاحب سے میری دوستی ہوگئی۔ سید سبط الحسن ضیغم اور افتخار احمد ملک سے بھی دوستانہ تعلق شروع ہوگیا۔

اس کے بعد مجھ سے ایک اور مقالہ لکھنے کی فرمائش کی گئی۔ افتخار ملک صاحب نے کہا کہ ہم اجتہاد کے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہیں، اس پر لکھیں۔ میں نے دو ہفتے کی محنت کے بعد کوئی بتیس فل اسکیپ صفحات پر مشتمل مقالہ وہاں پڑھا۔ مجھے یاد ہے وہاں شیخ ایزد مسعود ایڈووکیٹ بھی تھے، وہ اچھے خاصے دانشور آدمی ہیں۔ افتخار ملک نے مجھ سے وہ مقالہ پڑھنے کے لیے لیا، فوٹو اسٹیٹ کا تب رواج نہ تھا، وہ لے گئے اور کہیں گم ہوگیا۔

سوال: آپ اپنی لکھنے پڑھنے کی سرگرمیاں بتاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ شروع ہی میں آپ کا کتاب کے ساتھ بہت مضبوط تعلق قائم ہوگیا تھا۔

جواب: خدا کا شکر ہے کہ مجھے بچپن ہی سے مطالعہ کرنے کی عادت پڑ گئی۔ والد صاحب بھی تحقیقی ذوق رکھتے ہیں، اب تک ان کی تقریباً چالیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ وہ کوئی کتاب لکھ رہے ہوتے تو ان کے گرد کتابیں بکھری ہوتی تھیں۔ کسی کتاب سے حوالہ لینا ہوتا تو پکارتے کہ بیٹا فلاں فلاں الماریوں سے فلاں فلاں کتابیں نکال لاؤ۔ میرا بڑی ہمشیرہ سے مقابلہ ہوتا تھا کہ کون پہلے کتاب ڈھونڈ کر لاتا ہے۔ تب سے کتابوں کے ساتھ میرا تعلق قائم ہے۔

سوال: مطالعے کی خاص فیلڈ کونسی ہے؟

جواب: میرا مطالعہ متنوع قسم کا ہے۔ ناول بھی بہت پڑھے ہیں اور ہر قسم کے پڑھے ہیں۔ ساری ساری رات مطالعہ کیا ہے۔ جلسوں میں بھی جاتا رہا ہوں اور جن حضرات کو بڑے شوق سے سننے جاتا تھا ان میں صاحبزادہ سید فیض الحسن اور مولانا محمد حسین شیخوپوریؒ نمایاں ہیں۔ مولانا شیخوپوری کی تو خیر میں پنجابی سننے جاتا تھا۔ مولانا عبد الرحمان جامیؒ کو بھی بہت سنا ہے اور ان سے باقاعدہ رابطہ رہا۔ مولانا جامیؒ کو میں نے شیعہ حضرات کے جلسے میں بھی سنا ہے جہاں وہ واحد مقرر ہوتے تھے جو کئی گھنٹے بولتے تھے۔ مثلاً اس ماحول میں کہ دسویں محرم کی شب ہے، چوک گھنٹہ گھر ہے، ہزاروں کا مجمع ہے، اور صدارت کی کرسی پر مفتی جعفر حسین بیٹھے ہیں۔ مولانا جامیؒ نے گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ ’’اج میرا دل کردا اے گل اوتھوں شروع کراں جتھوں ٹری سی‘‘۔ (آج میرا جی چاہتا ہے کہ بات وہاں سے شروع کروں جہاں سے چلی تھی) ۔ یہ کہنے کے بعد انہوں نے حضرت عثمانؓ کی شہادت اور مظلومیت بیان کی۔ اس موضوع پر ایسے مجمع میں ایک سنی عالم کا بولنا بہت بڑی بات تھی۔ کوئی بیس منٹ کے بعد پھر کہا کہ ’’چلو ہن کربلا ول چلیے‘‘۔ (چلو اب کربلا کی طرف چلتے ہیں)۔ تو یہ انداز تھا اس وقت مولانا جامیؒ کی تقریر کا۔ اس زمانے میں ایک دوسرے کے خلاف علماء بولتے تھے، لوگ اعتراض کرتے تھے، رقعے بھی لکھے جاتے تھے، لیکن یہ آج والا فسادی قسم کا ماحول نہ تھا۔

سوال: آپ نے دیکھا کہ کبھی حکومت بھی علماء کو باہم لڑانے کی کوشش کرتی تھی؟

جواب: یہ بھی ہوتا تھا۔ لیکن اس بات کا اندازہ تب نہیں ہوا بلکہ بہت بعد میں ہوا۔ معلوم ہوا کہ ایشوز کھڑے کرنے والے اور لوگ ہوتے ہیں، پھر ان ایشوز پر بات بڑھانے والے اور لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی کچھ لوگ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ بھڑکاتے تھے۔

سوال: آپ کا زندگی بھر تعلق چونکہ دینی حلقے سے رہا ہے، اس لیے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا سول انتظامیہ خفیہ طور پر بعض علماء سے رابطہ رکھتی ہے کہ جنہیں وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکے؟

جواب: میرے عملی تجربے میں یہ بات تو نہیں آئی لیکن سنا ضرور ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔ البتہ لوگوں سے کہلواتے ہوں گے۔ مجھے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت کے فرائض ادا کرتے ہوئے 37 سال ہوگئے ہیں، بعض لوگ عقیدت مندی ظاہر کر کے ترغیب دیتے ہیں کہ حضرت فلاں مسئلے پر کچھ کہیے، لیکن میں بھانپ لیتا ہوں کہ کہنے والا کیوں یہ بات کہہ رہا ہے۔

سوال: ارشد میر گوجرانوالہ کی ایک معروف ادبی شخصیت تھے اور وہ رہتے بھی آپ کے ہمسائے میں تھے۔

جواب: جی ہاں ،ان سے بہت دوستی رہی، وہ باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ کچہری میں ان کے دفتر میں بھی گپ شپ ہوتی تھی اور مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد میرے دفتر میں جو مختصر محفل جمتی اس میں وہ کبھی کبھی بیٹھتے تھے۔ ان کے واسطے سے پروفیسر افتخار ملک سے بھی گپ شپ تھی جو بہت پہلے وفات پا گئے تھے۔ راشد بزمی بھی اچھا لکھنے والے تھے۔

سوال: مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں آپ کیسے آئے؟

جواب: مرکزی جامع مسجد شیرنوالہ باغ 1301 ہجری میں بنی اور شہر کی قدیم جامع مسجد ہے۔ شروع میں یہاں مولانا سراج الدین مرحوم ہوتے تھے۔ 1944ء سے مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے خطابت کے فرائض سر انجام دینا شروع کیے۔ جب وہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہوئے تو کبھی کبھار چار ماہ کے لیے دورے پر نکل جاتے جس سے مسجد کا نظام گڑبڑ ہو جاتا تھا۔ چنانچہ مسجد کی انتظامیہ نے والد صاحب سے میرے بارے میں بات کی اور میرا یہاں 1969ء میں بطور نائب خطیب تقرر کروالیا۔ اس مسجد کی ایک تاریخ ہے اور یہ ہمیشہ تحریکات کا مرکز رہی ہے۔

سوال: مفتی عبد الواحد صاحب کا کس جماعت سے تعلق تھا؟

جواب: وہ جمعیۃ علماء اسلام ہی سے تعلق رکھتے تھے، سہال کے رہنے والے تھے جو کہ اٹک اور راولپنڈی کے درمیان کہیں واقع ہے۔ 1969ء میں جب میں یہاں آیا تو ابھی طالب علم تھا، 1970ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد پھر یہیں ٹک گیا۔ اسی مسجد کے ساتھ مدرسہ انوار العلوم ہے جہاں میں نے 1990ء تک پڑھایا ہے۔ تدریس کو میں نے مستقلاً کبھی نہیں چھوڑا۔ 1982ء میں جب مفتی عبد الواحد صاحبؒ وفات پا گئے تو میں مستقل خطیب مقرر ہوگیا۔ ویسے تو ان کی موجودگی میں بھی اکثر جمعہ میں ہی پڑھاتا تھا، وہ میرے والد صاحب کے استاذ بھی تھے اور شہر میں ان کی بہت قدر و منزلت تھی۔

عالمی نظام پر نقطۂ نظر

سوال: یہ جو ہمارے ملک میں اسلام اور سوشلزم کی لڑائی کا دور رہا، آج اسے آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

جواب: اس لڑائی کا اصل پس منظر یہ ہے کہ ہمارے مغرب اور شمال کی طرف سوویت یونین ایک بڑی طاقت کے طور پر موجود تھا۔ کمیونسٹ چین بھی ہمسائے میں تھا لیکن اس کے عزائم توسیع پسندانہ نہیں تھے۔ جبکہ سوویت یونین نے پہلے مشرقی یورپ میں اور پھر ادھر افغانستان کی طرف پھیلاؤ کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے مقابلے میں مغرب کا ایجنڈا یہ تھا کہ یہاں سے کوئی ملک مذہب کی بنیاد پر سوویت یونین کے پھیلاؤ کی مزاحمت کرے۔

سوال: کیا مغرب والوں نے یہاں مذہب کے گہرے اثرات دیکھ کر کمیونزم کو روکنے کے لیے یہ پالیسی اپنائی؟

جواب: مغرب والوں کی یہ سوچ تھی کہ اگر ایشیا میں کمیونزم کو کوئی روک سکتا ہے تو یہ مذہب ہی ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ادبی حلقوں کے ذریعے سے وہ کمیونسٹ نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف مہم اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ آزادی سے پہلے یہاں ترقی پسند تحریک منظم ہوئی تھی اور وہ اشتراکی نظریات پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی تھی۔ اہل مغرب کی اگر یہ اپروچ تھی کہ کمیونزم کو مذہب کے حوالے سے روکا جا سکتا ہے تو یہ ان کا ایجنڈا تھا، لیکن خود یہ ہماری بھی مجبوری تھی۔ اس لیے کہ روس نے وسط ایشیائی ریاستوں پر قبضہ کر رکھا تھا اور اب وہ افغانستان میں پاؤں جمانے کی کوشش کر رہا تھا۔ روس نے جو کچھ وہاں کے مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ کیا تھا، وہ ہم یہاں برپا ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس طرح سے گویا سوشلزم کی مخالفت میں ہم ایک ہوگئے تھے۔ مغرب کا اپنا مفاد تھا، ہمارا اپنا مفاد تھا۔ ہم اس صورت سے دوچار نہیں ہونا چاہتے تھے جو صورت وسط ایشیائی ریاستوں پر روس کے غلبے کے بعد بنی تھی۔ یہ فکری محاذ ابتداء میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے سنبھالا تھا۔ ہم جمعیۃ علمائے اسلام والے غیر جانبدار تھے۔

جمعیۃ 1957ء میں ’’جمعیۃ علماء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے دوبارہ باقاعدہ طور پر منظم ہوئی تھی۔ یہ دراصل جمعیۃ علماء اسلام ہند کی ہی ایک نئی شکل تھی۔ آزادی سے پہلے ہم نے، جنہیں نیشنلسٹ علماء کہا جاتا تھا، برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ہم نے دیکھا کہ اب یہاں امریکہ پاؤں جمانے کی کوشش کر رہا ہے تو ہماری ترجیحات کچھ اس طرح تھیں کہ امریکہ روس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

سوال: آپ نے امریکہ کو زیادہ خطرناک کیوں سمجھا؟

جواب: ہم امریکہ کو اس خطے میں برطانیہ کا جانشین سمجھتے تھے۔ ہم نے برطانیہ کے خلاف ڈیڑھ سو سال تک جنگ لڑی تھی، باقاعدہ مسلح جنگیں بھی لڑیں، قربانیاں دیں، گرفتاریاں دیں، تحریکیں برپا کیں۔ اور مصر کے جمال عبد الناصر سے ہماری قربت بھی اسی وجہ سے تھی کہ ہم عالمی سطح پر امریکہ کو برطانیہ کا جانشین سمجھتے تھے۔ تب دو ہی امکانات تھے کہ امریکہ کی مدد سے روس کے ساتھ لڑائی لڑی جائے، یا پھر روس کی مدد سے امریکہ کے ساتھ لڑائی لڑی جائے۔ لیکن میں اس حوالے سے مولانا مودودیؒ کو کریڈٹ دیتا ہوں کہ انہوں نے کمیونزم کے خلاف ایک بھرپور فکری جنگ لڑی ہے۔ ہم ان کے ساتھ نہیں تھے جس پر ہمیں سوشلسٹ علماء بھی کہا گیا۔ ہم ان کے مقابلہ میں اس وقت بائیں بازو کی تائید کرتے تھے۔ بھٹو کے خلاف جب 113ء علماء کا فتویٰ آیا۔ مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے کہا ہم نہیں مانتے ایسے فتووں کو۔ جمعیۃ علماء اسلام نے اس فتوے کو مسترد کر دیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ جمال عبد الناصر نیشنلزم کے قائل تھے اور یہ نیشنلزم مغربی استعمار کے مقابلے میں تھا۔ نیشنلزم کے دراصل دو پہلو ہیں۔ ترکی میں نیشنلزم بمقابلہ اسلام تھا، ہم اس کی بات نہیں کرتے تھے۔ عرب نیشنلزم بمقابلہ برطانوی استعمار تھا، ہم اس کی حمایت کرتے تھے۔

سوال: جماعت اسلامی جمال عبد الناصر کے نیشنلزم کی مخالف تھی؟

جواب: ایک ہے اصولی موقف کہ ہم نے نیشنل ازم کو بطور اصول اور نظریے کے نہیں بلکہ بطور حکمت عملی کے لیا۔ متحدہ ہندوستان میں بھی ہم نے نیشنلزم کے تحت آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اگر مسلمان اور ہندو اکٹھے نہ ہوتے تو وہ یہ جنگ نہ جیت سکتے تھے۔ اگر پہلے ہی باہم لڑ پڑتے تو آزادی کی تحریک آگے بڑھ ہی نہ سکتی۔ ہم نے مذہب کے مقابلے میں نیشنلزم کو کبھی سپورٹ نہیں کیا۔ لیکن نیشنلزم کے نام پر جب استعمار کے خلاف جنگ لڑی گئی ہے تو ہم اس کے سپورٹر رہے ہیں۔ اور یہ تب تک لڑی گئی جب تک افغانستان میں روس نہیں آیا۔ جب تک روس افغانستان کی سرحدوں سے باہر رہا ہماری پوزیشن وہ رہی۔ جبکہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جب روس افغانستان میں آکر بیٹھا تو پھر ہم بھی اسی کیمپ میں چلے گئے۔

سوال: روس افغانستان میں آیا تو آپ کو اس کیمپ میں آنا پڑا جس میں مولانا مودودیؒ تھے؟

جواب: جہاد افغانستان کو ان سے زیادہ ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مجھے وہ مکالمہ یاد ہے جو ولی خان اور مولانا مفتی محمودؒ کے درمیان ہوا تھا۔ جب افغانستان میں روس کے آنے کے بعد فتویٰ جاری ہوا کہ روس کے خلاف لڑنا جہاد ہے تو ان دنوں مولانا عبد اللہ درخواستیؒ نے سرحد کا طوفانی دورہ کیا تھا۔ ساری قبائلی پٹی میں مولانا کے معتقدین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ مولانا مفتی محمودؒ نے جگہ جگہ تقریریں کیں۔ جناب ولی خان نے اعتراض کیا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں، جو کچھ کر رہے ہیں غلط کر رہے ہیں کہ یہ تو امریکہ کی جنگ ہے۔ جواب میں مولانا مفتی محمودؒ نے دو باتیں کہیں، یہ غالباً مردان کے جلسے کی بات ہے۔ مفتی صاحب نے ایک بات یہ کہی کہ یہ جنگ افغانستان کی نہیں بلکہ ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ روس اس سے آگے پاکستان آنا چاہتا ہے کہ اسے گرم پانیوں تک رسائی درکار ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب ہم پر برطانوی استعمار نے قبضہ کیا اور ہم نے یہاں سے ہجرت کی تو افغانستان ہمارا بیس کیمپ بنا تھا، افغانستان والوں نے ہمیں دھکے نہیں دیے تھے۔ آج ان پر بپتا آئی ہے اور وہ ہمارے پاس آئے ہیں تو ہم ان سے بے وفائی نہیں کریں گے۔ مفتی صاحب نے جناب ولی خان سے کہا کہ تم پٹھان ہو، پٹھانی روایات کو تو قائم رکھو۔ بحیثیت مسلمان ہم آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یوں ہم بھی اس کیمپ میں چلے گئے۔

سوال: اس زمانے میں بائیں بازو کا کہنا یہ تھا کہ روس سے اصل خطرہ ہمارے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اور اسٹیبلشمنٹ کو ہے۔

جواب: خطرے ان کی طرف بھی تھے لیکن ہمیں تو ازبکستان کی ویران مسجدیں نظر آرہی تھیں کہ مسجدوں کو تالے لگےہوئے تھے، وہ منظر بھی ہمارے سامنے ہی تھا۔ ہم بھی پہلے یہ باتیں نہیں مانا کرتے تھے، اب جو یہ پردہ اٹھا ہے تو بہت کچھ سامنے آیا ہے۔ میں 90 کے عشرے میں خود تاشقند گیا ہوں اور وہاں جو ماحول میں نے دیکھا ہے وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ میں نے سمرقند، تاشقند کے شہر خود دیکھے ہیں۔ میں وہاں وفد کے ساتھ گیا تھا۔ تاشقند کے جس مدرسے میں ہم ٹھہرے وہ چالیس سال تک سیمنٹ کا گودام بنا رہا۔ سمرقند کی مرکزی جامع مسجد جہاں ہم ایک رات رہے وہ پچاس سال تک سینما ہال بنی رہی۔ ہم جانتے تھے کہ افغانستان میں روس کے آجانے سے خطرات تاجروں کو بھی ہیں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو بھی ہیں، لیکن ہم نے روسی قبضے میں جانے والے مدرسوں اور مسجدوں کا جو حال دیکھا تھا اسے بھی ہم بھلا تو نہیں سکتے تھے۔ خطرات سب کے لیے تھے کہ روس اگر یہاں آگیا تو کیا ہوگا؟

سوال: آپ نے ان ریاستوں کے جو مسلمان دیکھے وہ کس طرح کے تھے؟

جواب: اصل بات یہ ہے کہ وسط ایشیا میں روس کے آنے سے دیندار مسلمان زیرزمین چلے گئے تھے۔ میں تاشقند اور سمرقند دونوں جگہ گیا۔ میرے ساتھ مفتی محمد جمیل شہید، مولانا فداء الرحمن درخواستی، اور مفتی نظام الدین شامزئی شہید بھی تھے۔ وہاں ایک مدرسہ میں ہم استاد ذاکر جان سے ملے، بہت فصییح عربی بولتے تھے۔ مجھے تعجب ہوا، میں نے سوچا کہ ایک زمانے میں ان کے تعلقات جمال عبد الناصر سے رہے ہیں ممکن ہے وہاں جا کر پڑھتے رہے ہوں۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگے کہ مدرسوں کا قیام غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ وہ ہمیں اپنے مکان کے پچھلے حصے میں لے گئے جہاں باغیچہ تھا۔ اس باغیچے میں بیس پچیس فٹ زیر زمین ایک غار نما کمرے میں لے گئے اور بتایا کہ ہم یہاں رات کو بارہ سے دو بجے تک قرآن مجید پڑھتے تھے۔ ہم نے یہیں درس نظامی کا کورس پڑھا تھا۔ اس قسم کے زیر زمین مدرسے آپ کو تاشقند میں بہت ملیں گے۔ داڑھیاں غائب ہوگئی تھیں۔ ہمارا ایک اندازہ تھا کہ وسط ایشیا کی یہ ریاستیں آزاد ہوئی ہیں تو ان کا سب سے بڑا تقاضا کیا ہوگا۔ ہم اس لیے گئے تھے کہ وہ لوگ ہم سے مسجدوں کے لیے امام اور حافظ وغیرہ مانگیں گے۔ لیکن کہیں سے بھی یہ مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے پاس امام بھی تھے، خطیب بھی تھے۔ البتہ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمیں قرآن مجید بھیجو کیونکہ یہاں قرآن کریم رکھنا قانونی طور پر جرم رہا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب اور مصر کے علاوہ ہماری تنظیم مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی بہت بڑی تعداد میں وہاں قرآن مجید بھجوائے اور میں انہی کے وفد میں وہاں گیا تھا۔

ایک واقعہ سے آپ حیران ہوں گے کہ امام بخاریؒ کا مزار خرتنگ میں ہے جو کہ سمرقند سے چند میل کے فاصلے پر ہے۔ ہم وہاں فاتحہ پڑھ کر پلٹ رہے تھے، ہمارے پاس ایک بڑی ویگن تھی۔ اچانک ایک بڑھیا ہماری ویگن کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ وہ کانپ رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’مصحف شریف، مصحف شریف‘‘۔ ہم نے ترجمان سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے؟ اس نے بتایا کہ اسے کہیں سے خبر ملی ہے کہ آپ لوگ قرآن مجید بانٹ رہے ہیں۔ ہم متذبذب تھے کہ ہمارے پاس قرآن کریم محدود تعداد میں تھے۔ ہم نے طے کر رکھا تھا کہ فلاں فلاں مدرسے میں قرآن مجید دینے ہیں۔ ہم نے اسے ٹالنے کی کوشش کی لیکن وہ بضد تھی۔ آخر ہم نے ایک نسخہ دیا تو وہ اسے سینہ سے لگا کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ کہنے لگی کہ ستر سال بعد قرآن مجید کی زیارت نصیب ہوئی ہے، بچپن میں نانی کے ہاتھ میں دیکھا کرتی تھی، حسرت سے سوچا کرتی تھی کہ دوبارہ کبھی زیارت ہوگی یا نہیں۔

دیکھیں، امریکہ روس کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے اپنے مقاصد تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ نتائج امریکہ سمیٹ کر لے گیا کہ وہ طاقتور تھا اور ہم کمزور تھے۔ ہمارے مقامی اونچے طبقوں نے بھی مفادات حاصل کیے۔ رہے ہم، تو ہم اسی کیفیت میں ہیں۔ افغانی بے چارے کل روسی فوجوں سے لڑتے رہے، آج امریکیوں سے نبرد آزما ہیں۔ فرق کچھ نہیں پڑا۔

سوال: آپ کے کالموں میں بیرونی دنیا کا بہت ذکر ملتا ہے، لگتا ہے آپ نے بہت دنیا دیکھی ہے۔

جواب: جن ممالک میں اب تک تبلیغی، تعلیمی اور مطالعاتی حوالہ سے گیا ہوں وہ ہیں: سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، ترکی، بنگلہ دیش، بھارت، ازبکستان، ایران، افغانستان، کینیا، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ وغیرہ شامل ہیں۔ کینیا کے ایک سفر میں مجیب الرحمن شامی صاحب کے ساتھ بھی شامل رہا ہوں۔

قومی سیاست اور تحریکات میں کردار

سوال: یہ ضیاء الحق سے تعاون کا فیصلہ کیسے ہوا تھا یعنی جب اتحاد والے وزارتوں میں گئے۔ حالانکہ مولانا شاہ احمد نورانی، شیر باز مزاری، اور اصغر خان وغیرہ راضی نہیں تھے۔ کیا ان سیاسی رہنماؤں کو یہ نظر نہیں آتا تھا کہ مارشل لاء حکومت میں اصل اختیارات تو جرنیلوں کے پاس ہوتے ہیں، یہ تعاون کرنے والے کیا حاصل کریں گے؟

جواب: اس حوالے سے بات کرنا ایک خطرناک مرحلہ ہے لیکن میں اس پر بات کروں گا۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک سیاسی ورکر کے طور پر اس وقت بھی میری سوچ یہی تھی اور آج بھی ہے کہ ہم نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کو قبول کر کے غلطی کی تھی۔ بھٹو نے لاہور میں مارشل لاء لگوایا تھا تو Withdraw ہوگیا تھا۔ اگر ہم اکٹھے رہتے اور جدوجہد جاری رکھتے تو ضیاء الحق کبھی مارشل لاء کو طول نہ دے سکتا اور انہیں واپس جانا پڑتا۔ میں نے جمعیۃ کی شوریٰ میں یہ رائے بھی دی تھی۔ میں یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ قومی اتحاد کا مارشل لاء کو قبول کرنا صحیح نہیں تھا۔ میری رائے تھی کہ ہم ایک دو مہینے مزید قربانیاں دے کر مارشل لاء سے جان چھڑا لیں، لیکن اتحاد نے وہ مارشل لاء قبول کر لیا۔

قومی اتحاد جب وزارتوں میں گیا تو ان دنوں راولپنڈی میں جمعیۃ کی شوریٰ کا اجلاس تھا جس میں مفتی محمود صاحبؒ بھی موجود تھے۔ وہاں میرے اور مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب کے درمیان طویل مکالمہ ہوا۔ وہ بھی مرکزی ناظم تھے اور میں بھی مرکزی ناظم تھا۔ میرا موقف یہ تھا کہ ہمیں وزارتوں میں نہیں جانا چاہیے جبکہ قاضی صاحب جانے کے حق میں تھے۔ یوں سمجھیے کہ اچھا خاصا مناظرہ ہوا ہمارے درمیان۔ شوریٰ والے اور مفتی صاحب ہمیں دیکھے جا رہے تھے اور ہم اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔

سوال: آپ نے دلیل کیا دی؟

جواب: میں نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ ہم مارشل لاء حکومت کا حصہ نہ بنیں۔ مارشل لاء لگ گیا ہے، ہم اسے روک تو نہ سکے لیکن اس کا حصہ بننا درست نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ لوگ ہمیں کچھ نہیں کرنے دیں گے، خواہ مخواہ کی بدنامی ہوگی اور رسوائی اٹھائیں گے۔ شوریٰ نے مجموعی طور پر وزارتوں میں جانا طے کر لیا تو میں نے مفتی صاحب سے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ میرا اختلافی نوٹ درج کیا جائے۔ مفتی صاحب نے کہا، ٹھیک ہے یہ آپ کا حق ہے۔ چنانچہ اس فیصلے پر میرا اختلافی نوٹ شوریٰ کی کارروائی میں موجود ہے۔

میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ میں دو ایسے مرحلے آئے جب رخ بدل سکتا تھا لیکن دونوں مرحلوں پر ہم سے غلطی ہوئی۔ ایک جب سقوط ڈھاکہ کے بعد بقیہ پاکستان پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہوئی، اس وقت بھٹو صاحب اتنی سیاسی طاقت رکھتے تھے کہ وہ سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی کو لگام ڈال سکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اگر بھٹو صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ہتھے نہ چڑھ جاتے تو یہاں سیاسی عمل پوری آزادی سے رواں دواں رہتا۔ لیکن بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے بھٹو کو شکار کر لیا۔ مولانا مفتی محمود اور خان عبد الولی خان کے ساتھ بھٹو کا جو سہ فریقی معاہدہ ہوا تھا سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں کے حوالے سے، میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر معاہدہ اور اس سے بہتر ٹیم نہیں آسکتی۔ میں ایک سیاسی ورکر کے طور پر سوچتا تھا کہ بھٹو، ولی، اور مفتی صاحب کی صورت میں ایسی ذہین اور محب وطن ٹیم آگئی ہے کہ جو ملک کو ایک نئے رخ پر ڈال سکتی ہے، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے بھٹو کو گھیرے میں لے لیا۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان قومی اتحاد ضیاء الحق کے مارشل لاء کو قبول نہ کرتا یا کم از کم وزارتوں میں شریک نہ ہوتا بلکہ مقابلے میں اسٹینڈ لیتا تو پھر بھی جلد ملٹری رجیم سے نجات حاصل کی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

سوال: بعد میں مفتی صاحب کو احساس ہوا اس بات کا؟

جواب: جی ہاں بعد میں احساس ہوگیا تھا مفتی صاحب کو۔ انہوں نے وزارتوں سے نکلنے کے بعد سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ وہ ابھی اس کام میں مصروف ہی تھے کہ وفات پا گئے۔

سوال: پھر ایم آر ڈی کی تحریک چل پڑی؟

جواب: اس کی ابتداء مفتی صاحب ہی نے کی تھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ’’قومی اتحاد‘‘ سے پہلے ’’متحدہ جمہوری محاذ‘‘ بنا تھا جس کے پیر پگاڑا صاحب صدر تھے۔ تب میں محاذ کا پنجاب کا نائب صدر تھا۔ جب قومی اتحاد بنا تو میں پنجاب کونسل میں تھا، حمزہ صاحب صدر تھے، اور پیر اشرف جنرل سیکرٹری تھے۔

سوال: آپ اس ساری جدوجہد میں شامل رہے ہیں، آپ بتائیں کہ کیا شروع میں یہ طے تھا کہ اتحاد نظام مصطفیٰ کے لیے بنایا جا رہا ہے، یا بعد میں یہ نعرہ اختیار کیا گیا؟ کیونکہ اتحاد میں ولی خان ایسے سیکولر مزاج رہنما بھی موجود تھے۔

جواب: پہلے میں اپنی پوزیشن واضح کردوں کہ جب قومی اتحاد بنا تو میں پنجاب کے پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کا نمائندہ تھا۔ مرکز کی دستور کمیٹی میں بھی جمعیۃ کا نمائندہ تھا اور میں منشور بنانے والوں میں شامل تھا۔ ایم انور بار ایٹ لاء اس کمیٹی کے صدر تھے اور ان کے ساتھ سیدہ عابدہ حسین اور ظہور الحسن بھوپالی مرحوم تھے۔

بات یہ ہے کہ تحریک تو شروع ہوئی تھی دھاندلیوں کے خلاف لیکن اس سے پہلے جس منشور پر قومی اتحاد الیکشن لڑ چکا تھا اس میں نظام مصطفیٰ کا باقاعدہ پروگرام شامل تھا بلکہ اسی نعرہ پر الیکشن لڑا گیا تھا اور سب پارٹیوں نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔

سوال: کسی پارٹی نے اعتراض نہیں کیا؟

جواب: بنیادی مخالفت نہیں ہوئی، رجحان یہ تھا کہ ہم اس کے بغیر نہیں چل سکیں گے۔ اگرچہ تحریک جو چلی تھی وہ دھاندلیوں کے خلاف تھی۔ اس میں نظام مصطفیٰ کا جو نعرہ لگا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اتحاد اسی نعرے کی بنیاد پر الیکشن لڑ چکا تھا۔ تب میں پنجاب کا نائب صدر تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب تحریک کے عین درمیان میں رفیق احمد باجوہ صاحب نے بھٹو صاحب سے خفیہ ملاقات کی تو انہیں جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، اس پروگرام میں پیر اشرف صاحب بھی ان کے ساتھ تھے چنانچہ انہیں بھی ہٹا دیا گیا۔

سوال: جماعت میں رہتے ہوئے بھی وہ کچھ مشکوک تو ہوچکے ہوئے تھے؟

جواب: بہرحال وہ جماعت ہی کی طرف سے قومی اتحاد پنجاب کے جنرل سیکرٹری بنے تھے۔ لیکن باجوہ صاحب کو بھٹو سے ملاقات کے نتیجے میں ان کے ساتھ پیر صاحب کو بھی اتحاد سے فارغ کر دیا گیا تو مجھے پنجاب کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ اتحاد کی پنجاب ٹیم میں میرے ساتھ اکبر ساقی، اقبال احمد خان، علامہ احسان الٰہی ظہیر، اور مولانا فتح محمد تھے، تحریک استقلال کے معین الدین بھی تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کے دفتر میں ہمارا دفتر ہوتا ۔ ہفتہ کے دوران دو تین روز وہاں جانا ہوتا تھا بلکہ تحریک کے دوران تو میں وہیں رہتا تھا۔ اس دوران نوابزادہ صاحب سے بے تکلفی ہوگئی اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ میں نے جن تین شخصیتوں سے سیاست سیکھی ہے وہ ہیں مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، اور نوابزادہ نصر اللہ خان۔ نوابزادہ صاحب عابد شب زندہ دار تھے، پانچ وقت کے نمازی تھے، عقیدے کے مضبوط تھے۔ آدمی کسی کے قریب آکر یا تو بھاگ جاتا ہے یا پھر اور قریب ہو جاتا ہے۔ میں قریب ہونے والوں میں ہوں اور ان کی کئی باتوں سے متاثر ہوا ہوں۔

سوال: نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب کی کونسی خوبی زیادہ پسند آئی؟ وہ بہت محتاط تھے، پریس کانفرنس ہو یا جلسہ عام ہو بہت کھلتے نہیں تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: وہ جو بات ایک دفعہ طے کر لیتے تھے تو پھر اِدھر اُدھر نہیں ہوتے تھے اور کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کونسی بات کہنی ہے اور کونسی نہیں، ان میں ایک اچھے سیاستدان والی خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں اور موجودہ بحران میں تو وہ بہت یاد آتے ہیں۔

پی این اے کی جو مرکزی کونسل گرفتار ہوئی تھی اس میں اکبر ساقی بھی تھے اور میں بھی تھا۔ لاہور میں قومی اتحاد کی مرکزی کونسل کے اجلاس کے دوران ہمیں گھیرا ڈال کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ محمود علی قصوری مرحوم تھے، جماعت اسلامی کے عبد الوحید خان تھے، اتفاق سے رانا نذر الرحمان، حمزہ صاحب اور میں پنڈی سے آرہے تھے۔ جبکہ والد صاحب مولانا سرفراز خان صفدر اس سے پہلے گوجرانوالہ سے گرفتار ہو چکے تھے اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے۔ والد صاحب کے ساتھ تو یہ ہوا کہ ان دنوں بھٹو صاحب نے نیم فوجی تنظیم فیڈرل سیکیورٹی فورس بنا رکھی تھی جس سے وہ تحریک کو روک رہے تھے۔ گکھڑ میں جمعہ کی نماز کے بعد جلوس نکلا کرتا تھا جس کی قیادت والد صاحب کیا کرتے تھے۔ ایف ایس ایف کے کمانڈر نے جلوس کے سامنے سڑک پر لکیر کھینچ دی کہ جو اسے عبور کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔ والد صاحب یہ کہہ کر اس لکیر کو عبور کر گئے کہ مسنون عمر پوری کر چکا ہوں، اب شہادت کی تمنا ہے، مل جائے تو خوش قسمتی ہوگی۔ مدینہ والے میرے استاذ قاری محمد انور صاحبؒ بھی وہاں موجود تھے، جے یو پی کے سید احمد ڈار بھی تھے، وہ بھی عبور کر گئے۔ ایف ایس ایف کے کمانڈر حیران پریشان رہ گئے۔ ہم پنڈی سے آرہے تھے، گکھڑ پہنچے تو میں نے رانا نذر الرحمان سے کہا کہ یار گاڑی روکو میں والد صاحب کا پتہ کر لوں کہ جیل میں ہیں یا باہر۔ والد صاحب ایک دن پہلے رہا ہوئے تھے اور دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ شام کو قومی اتحاد کی مرکزی کونسل کی میٹنگ تھی۔ حمزہ صاحب مجھے ڈیوس روڈ پر یہ کہہ کر اتار گئے کہ آپ چلیں ہم دس منٹ میں آتے ہیں۔ میں اندر گیا تو مجھے گرفتار کر لیا گیا جبکہ یہ لوگ بچ گئے۔

میں قومی اتحاد کے پارلیمانی بورڈ میں بھی رہا ہوں۔ پیر پگاڑا صاحب سے بھی مجھے کچھ عقیدت تھی۔ میں جو ’’راشدی‘‘ کہلاتا ہوں تو اس کی وجہ پیر صاحب کے خاندان کے ایک بزرگ تھے شاہ محمد راشدؒ، ان کی نسبت سے کہلاتا ہوں۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، دین پور کی گدی، اور امروٹ شریف کی گدی سب ان سے وابستہ ہیں۔ اسی نسبت سے ہم راشدی کہلاتے ہیں۔ جب ہم لاہور ٹھہرے ہوئے تھے تو ایک دن میں نے بات چھیڑ دی کہ میں بھی راشدی ہوں۔ پیر صاحب نے سنی ان سنی کر دی۔ میں نے تو ایسے ہی اظہار کیا تھا کہ مجھے آپ کے بڑوں سے ایک نسبت ہے، عقیدت ہے۔ جب دیکھا کہ انہیں میری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تو میں بھی خاموش ہوگیا۔

ایک دفعہ ایک تلخ تجربہ بھی ہوا کہ رمضان کا مہینہ تھا لیکن پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں پیر صاحب سگار پیتے رہے ۔ظہور الحسن بھوپالی مرحوم سے میری کافی انڈر اسٹینڈنگ تھی، وہ جے یو پی کے تھے اور میں جے یو آئی کا تھا۔ جہاں کوئی مسئلہ ہوتا ہم باہم صلاح مشورہ کر کے ایک رائے بنا لیتے، کبھی مولانا فتح محمد صاحب کو بھی ملا لیتے۔ پیر صاحب کی سگار نوشی پر ہم نے طے کیا کہ بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ ایک دن ہم نے کہہ ہی دیا کہ پیر صاحب ! رمضان میں آپ کا سگار پینا افسوسناک ہے۔ کہنے لگے، چھوڑو۔ گویا سنی ان سنی کر دی اور کوئی توجہ نہ دی۔ آخر ہم نے مفتی صاحب سے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ رمضان المبارک میں پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہو رہا ہوتا ہے اور بورڈ کے چیئرمین صاحب سگار پینا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے کہنے سے صرف اتنا فرق پڑا کہ میٹنگ دن کی بجائے رات کو ہونے لگی۔ بہرحال اس دور کی سیاست میں میرا ایک متحرک کردار رہا ہے۔

سوال: آپ کتنا عرصہ گرفتار رہے؟

جواب: پہلی دفعہ تو میں 1975ء میں گرفتار ہوا تھا۔ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا آل پاکستان کنونشن ہوا تھا جس میں ہم نے پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس پر حکومت نے جمعیۃ کی پوری قیادت پر مقدمات بنائے تھے۔ اکتیس علماء پر مقدمے بنے تھے۔ پارٹی نے فیصلہ کر لیا کہ ہم ضمانتیں نہیں کروائیں گے، قبل از گرفتاری ضمانت نہ کروانے کا فیصلہ تھا۔ میں دو ہفتے گرفتار رہا پھر میری ضمانت ہوگئی۔ دوسری دفعہ میں 1976ء میں گرفتار ہوا تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر کے ساتھ مسجد نور میں یہ کنونشن ہوا تھا جس میں ملک بھر سے پانچ ہزار علماء نے شرکت کی تھی۔ گوجرانوالہ سے ایک صاحب رانا محمد اقبال اوقاف اور جیل خانہ جات کے وزیر تھے۔ ان ہی دنوں محکمہ اوقاف نے اس مسجد اور مدرسہ کو اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کر دیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے متعلق نوٹیفیکیشن جاری ہوگیا۔ اس میں مدرسہ کا نام نہیں لیا گیا تھا بلکہ لکھا تھا کہ مسجد نور مع ملحقہ پینتالیس کمروں کے۔ اس وقت نوید انور نوید گوجرانوالہ کے نوجوان وکیل تھے۔ ہم نے مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا اور احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ ساڑھے چار مہینے لگاتار ہم نے تحریک چلائی، ڈیڑھ پونے دو سو ورکر گرفتار ہوئے، میں خود بھی تین مہینے جیل میں رہا، نوید انور نوید مرحوم بھی جیل میں رہے۔

سوال: اس مہم میں دوسرے مکاتب فکر نے بھی ساتھ دیا؟

جواب: بالکل دیا۔ خواجہ وارث شیعہ رہنما تھے وہ بھی ہماری تحریک میں شامل رہے۔ ہماری مسجد میں جلسہ ہو رہا تھا، رانا اقبال کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تو خواجہ صاحب نے اٹھ کر کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، پھر وہ گرفتار بھی ہوئے۔

سوال: اس کے بعد کب گرفتار ہوئے؟

جواب: میں تیسری بار قومی اتحاد کی تحریک میں گرفتار ہوا تھا۔ آرمی ایکٹ کے تحت ہم پر کیس چلا۔ لیفٹینینٹ کرنل نصیر احمد تھے، لاہور کیمپ جیل میں عدالت لگتی تھی۔وہاں کچھ دلچسپ باتیں ہوئیں۔ ایک تو یہ ہوا کہ میاں محمود علی قصوری ہمارے ساتھ قید بھی تھے اور سمری کورٹ میں ہمارے وکیل بھی تھے۔ ایم انور بار ایٹ لاء ہماری سپورٹ کے لیے آتے تھے لیکن کورٹ میں ہماری طرف سے قصوری صاحب ہی پیش ہوتے تھے۔ قصوری صاحب کی آواز بہت بھاری تھی، وہ جب بولتے تو کرنل صاحب میز بجانے لگتے اور ساتھ کہتے کہ آہستہ بولو، عدالت میں بول رہے ہو۔ Contempt Of Court لگ جائے گی۔ قصوری صاحب آواز دھیمی کرنے کی کوشش تو کرتے لیکن پھر بھی اونچی رہتی۔ دو تین دفعہ کرنل صاحب لال پیلے ہوئے کہ ان کے حکم کی تعمیل نہیں ہو رہی۔ اس پر ایم انور صاحب نے آگے بڑھ کر کہا کہ جناب یہ آہستہ ہی بول رہے ہیں، آپ کی توہین نہیں کر رہے۔ ان کا لہجہ ہی اس طرح کا ہے۔

دوسرا واقعہ کافی خوفناک تھا۔ ہوا یہ کہ پولیس انسپکٹر وہاں پیش تھا اور اس پر جرح ہو رہی تھی کہ کب گرفتار کیا، کہاں سے گرفتار کیا، روزنامچے میں کیا لکھا وغیرہ وغیرہ۔ اس نے کہا کہ یہ بات روزنامچے میں لکھی ہوئی ہے۔ ہمارے وکیل نے اعتراض کیا کہ روزنامچے میں اگر یہ لکھا گیا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ درست بھی ہو۔ اس پر انسپکٹر کے منہ سے نکل گیا کہ ہمارے لیے تو یہ قرآن کی طرح ہی ہے۔ یہ سن کر ہماری طرف سے ایک نوجوان کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ یہ کیا بکواس کر رہا ہے۔ کرنل نے بات گول کرنے کی کوشش کی، کچھ اپنی کرنیلی کا رعب بھی دکھانا چاہا۔ لیکن نوجوان نے کہا کہ چھوڑیں، کرنل ہوں گے آپ۔ میں قرآن مجید کی یہ توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ مولانا محمد اجمل خان مرحوم بھی ہمارے ساتھ تھے، وہ اٹھ کھڑے ہوئے، انہوں نے ایسی خطابت دکھائی کہ کرنل کے چھکے چھوٹ گئے۔ وہاں موجود چند نوجوان عالم دیوانگی میں دیواروں سے سر ٹکرانے لگے کہ یہ انسپکٹر روزنامچے کو قرآن کہہ کر کتنی بڑی توہین کر رہا ہے۔ اس کے بعد عدالت ایسی برخاست ہوئی کہ پھر نہیں بیٹھی۔ ادھر عدالت عالیہ کے جسٹس زکی الدین پال نے مارشل لاء کو غیر قانونی قرار دے دیا، مارشل لاء ودڈرا ہوگیا اور ہم بھی رہا ہوگئے۔

میری رہائی کا واقعہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ عدالت عالیہ میں مجھے پیش کیا گیا تو عدالت نے مجھے بری کر دیا۔ اس پر ڈی ایس پی نے یہ کہہ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ ان کے خلاف اور کیس بھی ہیں۔ جیسا کہ مجھے یاد ہے ایک کیس وزیرآباد کا تھا، ایک گکھڑ کا تھا، ایک گوجرانوالہ کا تھا، اور توڑ پھوڑ کے دو کیس تھے۔ جسٹس نے ڈی ایس پی سے پوچھا، تعمیل ہوگئی ہے؟ کہا، ہوگئی ہے جیل میں۔ جسٹس صاحب نے ڈی ایس پی کو حکم دیا کہ آپ یہاں کھڑے رہیں۔ اور مجھے کہا کہ آپ جائیں۔ میں ہائی کورٹ سے نکلا تو جیل میں اپنا سامان لینے نہیں گیا۔ رکشہ پکڑا اور بادامی باغ کا رخ کیا، بس پر بیٹھا اور سیدھا گکھڑ جا پہنچا۔ میرا سامان دو تین روز بعد مولانا امجد خان لے کر آئے۔ مارشل لاء تک تو کہانی یہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ایک مرتبہ دفعہ 144 توڑنے پر سرگودھا میں گرفتار ہوا تھا لیکن چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا۔

بات ہو رہی تھی کہ مفتی محمود صاحبؒ اپنی زندگی کے آخری حصے میں کسی نہ کسی طرح فوجی حکومت سے نجات پانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی اکٹھے مل کر ضیاء الحق کا سامنا کریں۔ اس کے لیے گفتگو جاری تھی، کئی اجلاس ہوئے، شیرانوالہ میں بھی ایک میٹنگ ہوئی۔ کراچی کے شیخ حنیف صاحب کے واسطے سے بیگم نصرت بھٹو سے بات چیت چل رہی تھی۔ مفتی صاحب ان ایام میں اتنے غصے میں تھے کہ انہوں نے کھلم کھلا ضیاء الحق کو قادیانی کہنا شروع کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے خلاف پوری تقریر کیا کرتے تھے۔ میں نے ایک دن کہا کہ حضرت وہ قادیانی ہے یا منافق، آخر لائے تو ہم ہی ہیں۔ کراچی میں ایک دفعہ جلسہ تھا، مفتی صاحب سے پہلے مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی نے تقریر کی، تقریر کے دوران انہوں نے ضیاء الحق کو قادیانی نواز کہا۔ مفتی صاحب پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، فورًا بولے کہ سیدھا قادیانی کہو، قادیانی نواز کیا ہوتا ہے۔ مولانا چنیوٹی نے کہا کہ میں تو قادیانی نہیں کہتا کہ وہ قادیانی نہیں ہے۔ مفتی صاحب پھر گرجے کہ کہنا پڑے گا، آخر میں یہی کہو گے۔ یعنی وہ اس حد تک غصے میں تھے ان دنوں۔

سوال: جب قومی اتحاد نے وزارتیں جائن کیں تو سننے میں آیا کہ وزارتوں کے سیکرٹریوں نے ان وزیروں کا باہر آکر استقبال نہ کیا، اس پر اچھا خاصا جھگڑا بھی ہوا؟

جواب: بہت کچھ ہوا، لمبی داستان ہے۔ جمعیۃ کے تین وزیر تھے۔ میر صبح صادق کھوسو، حاجی فقیر محمد خان، اور حاجی زمان خان اچکزئی۔ کھوسو وزیر صحت تھے، اچکزئی وزیر بلدیات تھے، اور حاجی فقیر محمد خان قبائلی امور اور کشمیر کے وزیر تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قبائلی علاقے میں آپریشن ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست مولانا نور محمد وہاں جیل میں تھے۔ میں نے ایک دن حاجی فقیر محمد خان سے کہا کہ آپ کے پاس قبائلی امور کی وزارت ہے، ہمارے دوست مولانا نور محمد جیل میں ہیں، انہیں رہا کروانا چاہیے۔ اسی طرح ان دنوں بلوچستان کے گورنر صاحب قادیانی تھے۔ میں نے مفتی صاحب سے کہا کہ عجیب بات ہے کہ ہم لوگ وزارتوں میں ہوں اور بلوچستان کا گورنر قادیانی ہو، آپ نے ضیاء الحق سے بات نہیں کی؟ مفتی صاحب نے جواب دیا، کئی دفعہ کی ہے، وہ سنتا ہی نہیں۔

ایک دفعہ میں حاجی فقیر محمد خان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا، ہم دیر تک گپ شپ کرتے رہے۔ صبح ناشتہ کر رہے تھے کہ ٹیلی ویژن سے خبر نشر ہوئی کہ سردار عبد القیوم کو آزاد کشمیر کی صدارت سے برطرف کر کے ان کی جگہ بریگیڈیئر محمد حیات کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا گیا ہے۔ میں نے حاجی صاحب سے پوچھا کیا یہ واقعہ رات کو آپ کے علم میں نہیں تھا؟ کہنے لگے خدا کی قسم میں تو آپ کے ساتھ ہی یہ خبر سن رہا ہوں، مجھے پہلے سے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ یعنی یہ حال تھا ان وزیروں کا کہ ان کی وزارت کے معاملات سے بھی انہیں بے خبر رکھا جاتا۔

سوال: علماء نے پاکستان کی ہر بڑی تحریک میں بھرپور حصہ لیا ہے، چاہے وہ دستور سازی کی تحریک تھی، بحالیٔ جمہوریت کی تحریک تھی، یا اینٹی قادیانی تحریک تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا فرق پڑا؟ حالات تو روز بروز بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ علماء نے آخر کیا کامیابیاں حاصل کیں اتنی زیادہ بھاگ دوڑ کے بعد؟

جواب: دیکھیے دو تین باتیں ہیں۔ یہ سوال کیا تھا میں نے حضرت مفتی محمودؒ سے۔ حیدر آباد کے ایک جلسے میں ہم اکٹھے تھے، نصف شب کے قریب واپس کراچی پہنچے۔ شیخ محمد حنیف چنیوٹی صاحب مفتی صاحب کے میزبان ہوتے تھے۔ میں نے مفتی صاحب سے کہا کہ ہم 1957ء سے انتخابی سیاست میں ہیں، اس سیاست کے فائدے کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں، کبھی اس پر بیٹھ کر غور نہ کر لیا جائے؟ مفتی صاحب نے پوچھا، تم کیا سوچتے ہو؟ میں نے جواب دیا، میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ دیکھ رہا ہوں۔ کہنے لگے، ہاں اس پر بات کرنی چاہیے۔ میں نے پوچھا، کب؟ اس وقت مفتی صاحب ضیاء الحق کے خلاف تحریک اٹھانے کے موڈ میں تھے۔ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے، ایک دفعہ اس سے نپٹ لینے دو، پھر سوچ لیں گے اس بات پر۔

ایک اور بات مفتی صاحب کے حوالے سے ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک دفعہ راولپنڈی میں جامعہ اسلامیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وقت اکرام الحق شیخ نوائے وقت راولپنڈی کے رپورٹر ہوتے تھے، وہ مفتی صاحب سے ملنے آگئے۔ شیخ صاحب نے پوچھا، مفتی صاحب جب تک علماء کی خالص حکومت نہ یہاں آجائے، کیا اسلام کے نفاذ کی توقع ہو سکتی ہے؟ یعنی حکومت میں شراکت نہ ہو اور آپ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں، کیا ایسی حکومت کے بغیر اسلام نافذ ہو سکتا ہے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا، نہیں۔ شیخ صاحب نے پوچھا، کیا آپ انتخابی سیاست کے ذریعے علماء کو آگے لا سکتے ہیں؟ مفتی صاحب نے جواب دیا، نہیں۔ شیخ صاحب نے پوچھا، پھر آپ کیا کر رہے ہیں؟ مفتی صاحب نے جواب دیا، بات یہ ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تو نہیں کہ ہم حکومت بنا سکیں، لیکن اس پوزیشن میں ضرور ہیں کہ کسی کو آرام سے حکومت نہ کرنے دیں، اور یہ کام ہم کر رہے ہیں۔

ہمایوں صاحب! آپ نے پوچھا ہے کہ علماء کو سیاست سے کیا ملا؟ میں اس بارے میں یہ کہوں گا کہ انتخابی سیاست سے ہمارے مقاصد پورے نہیں ہوئے، لیکن ایک بات ہے کہ انتخابی سیاست میں حصہ لینے سے اور اسمبلیوں میں بیٹھنے سے بہت سی باتوں میں ہم رکاوٹ ضرور بنے ہیں۔ مثلاً قادیانی مسئلہ اگر اسمبلی میں نہ جاتا تو کبھی حل نہ ہوتا۔ 1973ء کے دستور میں اسلامی دفعات نہ ہوتیں اگر علماء اسمبلیوں میں نہ ہوتے۔ ضیاء الحق کے دور میں دستور میں جو ترامیم کا سلسلہ شروع ہوا، جو کہ اب تک چلا آرہا ہے، اگر علماء اسمبلیوں میں نہ ہوتے تو یہ اسلامی دفعات بھی باقی نہ رہتیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم کچھ کر نہیں پا رہے لیکن بہت سے غلط کاموں کے راستے میں رکاوٹ ضرور بنے ہیں۔

میں عملی سیاست میں 1962ء میں آیا تھا اور 1990ء تک مسلسل متحرک رہا۔ ہماری اصل کمزوری یہ ہے کہ ہماری سیاست نعرے بازی کی ہے، ہوم ورک کی نہیں ہے۔ یہ ہوم ورک نہ نظریاتی ہے اور نہ سیاسی۔ دینی جماعتیں اب بھی دس گنا زیادہ پیش رفت کر سکتی ہیں اگر یہ معروضی سیاست اور نظریاتی سیاست میں تھوڑا سا بیلنس قائم رکھیں۔ دوسرا یہ کہ ہوم ورک کریں، نظریاتی بھی اور سیاسی بھی۔

سوال: جمعیۃ علماء اسلام میں دھڑے بندی ہوتی رہی ہے، اس بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: 1980ء میں مولانا مفتی محمودؒ کے انتقال کے بعد جمعیۃ علماء اسلام دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک گروپ حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ تھا جو کہ ’’درخواستی گروپ‘‘ کہلاتا تھا۔ جبکہ دوسرا گروپ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تھا جو ’’فضل الرحمن گروپ‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ فضل الرحمن گروپ ضیاء الحق مرحوم کے خلاف بننے والے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی میں شامل ہوگیا تھا مگر درخواستی گروپ نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

سوال: آپ لوگوں کا کیا موقف تھا؟

جواب: نوابزادہ نصر اللہ خان نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح پوری جمعیۃ ایم آر ڈی کا حصہ بن جائے لیکن ہم مسلسل انکار کرتے چلے جا رہے تھے۔ نواب صاحب نے مجھے بلایا اور مخالفت کی وجہ پوچھی۔ میں نے کہا، کچھ ڈیڑھ سال پہلے تو ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف تحریک چلائی تھی، قربانیاں دی تھیں، جیلیں کاٹی تھیں، گولیاں کھائی تھیں، اب جو ہم کارکنوں کو آواز دیں تو انہیں کیا کہیں؟ دوسری بات یہ ہے کہ ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلانے کے نتیجے میں اگر نورانی صاحب آگے آجائیں، آپ آجائیں، بلکہ نو ستاروں میں سے کوئی ایک بھی آجائے تو میں حاضر ہوں۔ لیکن اگر نصرت بھٹو آگے آتی ہیں تو ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ آپ میرے بزرگ ہیں، آپ ہی بتائیں اس تحریک کے نتیجے میں کیا ہوگا؟

میں اس دھڑے بندی میں مولانا درخواستیؒ کے ساتھ تھا اور درخواستی گروپ کا متحرک کردار تھا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ، حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ 1990ء میں دونوں گروپوں میں اتحاد ہوا جس کے تحت حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کو متحدہ جمعیۃ علمائے اسلام کا امیر اور مولانا فضل الرحمن کو سیکرٹری جنرل چنا گیا، جبکہ مجھے سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا گیا۔ مگر حضرت مولانا سمیع الحق نے اس اتحاد کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ’’سمیع الحق گروپ‘‘ کے نام سے جمعیۃ علماء اسلام کا ایک الگ گروپ قائم کر لیا۔

سوال: اوپر فوج سارے اختیارات سنبھالے بیٹھی ہو اور نیچے سیاسی جماعتیں شریک اقتدار ہو جائیں تو آخر اس عمل کی کیا افادیت ہو سکتی ہے؟

جواب: میں یہ نہیں کہتا کہ معروضی سیاست چھوڑ دیں، سوال صرف بیلنس قائم رکھنے کا ہے۔ نظریاتی سیاست چلی گئی ہے اور صرف معروضی سیاست رہ گئی ہے۔ ہمارے پاس آخر قوت کونسی تھی؟ ایک اسٹریٹ پاور تھی جو ہم نے کھو دی ہے۔ اسٹریٹ پاور پر ہماری گرفت نہیں رہی۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہفتہ وار رسالہ ترجمان اسلام میں اعلان آتا تھا کہ فلاں مسئلے پر فلاں تاریخ کو ہماری جماعت مظاہرہ کرے گی۔ اس اعلان پر کم از کم پچاس ساٹھ شہروں میں مظاہرے ہو جاتے تھے۔ اب ہم چیختے چلاتے رہتے ہیں لیکن سوائے ہمارے دینی مدرسوں کے طالب علموں کے اور کوئی نہیں آتا۔ غضب تو یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کا تجزیہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ آخر ہم نے اسٹریٹ پاور کیوں کھو دی ہے، اس کے اسباب کیا ہیں؟

سوال: آخر یہ کیا سیاست ہے کہ دینی جماعتیں بار بار استعفیٰ دینے کی بات کرتی ہیں لیکن دیتی نہیں۔ عوام کیا سوچتے ہوں گے کہ دینی جماعتوں کا یہ کیا انداز سیاست ہے؟

جواب: افسوسناک بات ہے۔ جب یہ آئے روز استعفوں کی بات چل رہی تھی تو میں نے کہا تھا کہ مفتی صاحب کو صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ اور ارباب سکندر کو گورنری چھوڑتے ہوئے پندرہ منٹ لگے تھے۔ اس وقت جب بھٹو نے بلوچستان میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مشترکہ حکومت کو برطرف کیا تھا، سردار عطاء اللہ مینگل کو وزارت اعلیٰ سے اور غوث بخش بزنجو کو گورنری سے ہٹایا تھا تو پندرہ بیس منٹ بعد مفتی صاحب اور ارباب سکندر کے استعفے بھٹو کی میز پر تھے۔ بھٹو صاحب نے مفتی صاحب کو بلا کر رام کرنا چاہا لیکن انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے ساتھ کی پارٹی کو آپ نکال دیں اور میں کرسی سے چمٹا رہوں، یہ اصول کے خلاف ہے۔

اب کی سیاست دیکھیں کہ مہینے گزر گئے لیکن فیصلہ نہیں ہو پایا کہ استعفے دینے ہیں یا نہیں۔ یہ ہے نظریاتی اور معروضی سیاست کا قصہ۔ مفتی صاحب کو ایک ہفتہ بعد تک بھی بھٹو صاحب سمجھاتے رہے کہ مفتی صاحب! چھوڑیں کیا کرتے ہیں، آپ کو کون چھیڑتا ہے، آپ وزارت سنبھالے رکھیں۔ مفتی صاحب کا ایک ہی جواب تھا کہ میں یہ بے اصولی نہیں کر سکتا، میرا نیشنل عوامی پارٹی سے معاہدہ ہے، اگر آپ بلاوجہ اس کو فارغ کرتے ہیں تو میں کیوں اندر رہوں؟

علمی و فکری اور تعلیمی و نظریاتی جدوجہد

سوال: سیاست سے کیوں رشتہ توڑ لیا؟

جواب: 1990ء میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے مستعفی ہو کر میں نے انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اعلان کیا تھا کہ جمعیۃ علماء اسلام کا ’’غیر فعال‘‘ ممبر رہوں گا مگر اقتدار کی سیاست اور انتخابی عمل میں حصہ دار نہیں بنوں گا۔ البتہ نفاذ اسلام کے حوالے سے فکری اور علمی محاذ پر بدستور سرگرم عمل رہوں گا۔ اس مقصد کے لیے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی، حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، اور دیگر حضرات کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فورم تشکیل دے رکھا ہے جس پر ہم اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے اسلامائزیشن کے لیے نظریاتی اور فکری نوعیت کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ انتخابی سیاست میں ہم کسی بھی جماعت کی حمایت کے لیے آزاد ہیں، البتہ اس کے لیے پاکستان شریعت کونسل کا فورم استعمال نہیں کرتے۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی ہیں اور میں اس کا سیکرٹری جنرل ہوں۔ کونسل کا ہیڈ آفس جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی میں ہے۔ پنجاب شریعت کونسل کے امیر میرے چھوٹے بھائی مولانا عبد الحق خان بشیر جبکہ سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ہیں اور پنجاب کا ہیڈ آفس جامع مسجد امن، باغبانپورہ، لاہور میں ہے۔

میں نے اکتوبر 1989ء میں گوجرانوالہ سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا اجراء کیا جو مسلسل شائع ہو رہا ہے، میں اس کا چیف ایڈیٹر ہوں۔ جبکہ میرا بڑا بیٹا مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر ایڈیٹر ہے۔ عمار خان ناصر نے درس نظامی میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے فراغت حاصل کی، وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ’’الشہادۃ العالمیہ‘‘ کا فاضل ہے، اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش ہے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں کم و بیش دس سال تک درس نظامی کی تدریس کی ہے، اب میرے ساتھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ماہنامہ الشریعہ کے ایڈیٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہا ہے۔

سوال: آغا شورش کاشمیری سے بھی تو ملاقاتیں رہی ہوں گی؟

جواب: جی ہاں، بہت دفعہ۔ میں نے انہیں سب سے پہلے گوجرانوالہ میں دیکھا تھا۔ میاں افتخار الدین وفات پا گئے تھے، ان کی یاد میں جلسہ تھا جس میں مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ اور شیخ حسام الدین بھی شریک ہوئے۔ ایوب خان کا آئین آچکا تھا اور سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ اس جلسے کی دو باتیں اب تک ذہن پر نقش ہیں۔ ایک تو یہ کہ آغا صاحب نے تقریر کے شروع میں ایک جملہ کہا تھا جو مجھے یاد رہ گیا۔ کہنے لگے، ’’صدر ایوب چار سال صدر بنے بیٹھے رہے اور ہم صبر ایوب بنے بیٹھے رہے۔‘‘

آغا صاحب سے پہلے شیخ حسام الدین تقریر کر چکے تھے، انہوں نے گوجرانوالہ کے ڈی سی شیخ اکرام کا ذکر کیا تھا کہ اس نے شیخ صاحب کو بلاوجہ دفتر سے باہر لمبا انتظار کرایا تھا۔ آغا صاحب نے پہلے تو کہا کہ ڈی سی صاحب اچھے دوست ہیں، حسام الدین صاحب کو خواہ مخواہ شکایت پیدا ہوگئی ہے ان سے۔ بس اس کے بعد پھر آغا صاحب کی تقریر غیظ و غضب میں ڈوب گئی، آزادی کی تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ سول بیوروکریسی کے نامناسب رویوں کے حوالے سے آغا صاحب برستے چلے گئے۔

سوال: یہ بتائیں کہ مشرف حکومت ہاتھ دھو کر دینی مدرسوں کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے؟

جواب: جہاد افغانستان کے بارے میں مغرب کو ایک بڑی غلط فہمی تھی، ان کا خیال تھا کہ یہ مجاہدین ہماری وجہ سے لڑ رہے ہیں، جنگ ختم ہوگئی تو ہم انہیں فارغ کر دیں گے۔ مغرب کے ذہن میں یہ تھا کہ یہ ہمارے لیے کام کر رہے ہیں جب ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ مغرب اپنی جنگ لڑ رہا تھا، یہ اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔ افغانستان سے روس نکل گیا تو امریکہ نے مڈل ایسٹ میں محاذ کھول لیا۔ سوال یہ تھا کہ کل افغانستان میں روس کا آنا غلط تھا تو آج امریکہ کا عراق پر قبضہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ لوگ اکڑ گئے کہ ٹھیک ہے ہماری تربیت امریکہ نے کی ہے، اسامہ بن لادن امریکہ کے ساتھ مل کر لڑ رہا تھا، لیکن امریکہ کے لیے نہیں لڑ رہا تھا بلکہ یہ اس کی اپنی جنگ تھی۔ چنانچہ ہوا یہ کہ جب روس ہٹا تو انہوں نے امریکہ سے کہا کہ تم بھی ہٹو، اس پر امریکہ سے تصادم ہوگیا۔ اس کے بعد امریکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ تو اپنی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس پر ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔ طالبان بھی کھڑے ہیں، اسامہ بھی کھڑا ہے اور یہ ہمارے مقابلے پر ہیں۔

افغانستان کے جہاد سے پہلے اور بعد کی صورتحال آپ دیکھ لیں۔ دنیا بھر میں مسلمان جہاں کہیں بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے انہیں جہاد افغانستان سے حوصلہ ملا، تقویت لی۔ مثلاً کشمیر میں مسلمان لڑ رہا تھا، الجزائر میں بھی نبرد آزما تھا، فلسطین میں بھی جنگ جاری تھی، اری ٹیریا میں بھی برسر پیکار تھا۔ بوسنیا میں آخر کون لڑا ہے؟ چنانچہ افغانستان کی جنگ کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ جہاد پھیل گیا اور چیچنیا و فلپائن تک بھی اس کے اثرات پہنچ گئے۔ جب مغرب نے دیکھا کہ یہ جنگ ساری دنیا میں پھیل رہی ہے تو اس پر مغرب نے تجزیہ کیا کہ اس کا بیس کیمپ کہاں ہے؟ مغرب اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس ساری مہم جوئی کی بنیاد دینی مدرسہ ہے اور یہ اس کی فکری تربیت ہے جس نے جہاد کے نظریے کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے ’’دی انڈی پینڈنٹ‘‘ اخبار میں کوئی دس سال قبل ایک تفصیلی رپورٹ چھپی تھی جس کے لکھنے والے نے لکھا کہ شر کے اصل مراکز جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ہیں، اور ان میں بھی خاص طور پر دیوبندی مدارس۔ اس رپورٹ پر دو تصویریں شائع کی گئی تھیں۔ ایک دارالعلوم دیوبند کی اور دوسری بستی نظام الدین دہلی کے تبلیغی مرکز کی۔ ان دنوں برمنگھم میں ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس ہو رہی تھی، خاصا بڑا اجتماع تھا، لوگ پریشان تھے کہ ہمارے خلاف بہت خطرناک رپورٹ چھپی ہے۔ میں نے وہاں یہ کہا تھا کہ آپ لوگ اسے چارج شیٹ سمجھ کر پریشان ہو رہے ہیں جبکہ میں اسے کریڈٹ سمجھ رہا ہوں اور خوش ہو رہا ہوں اور ’’دی انڈی پینڈنٹ‘‘ کا شکریہ ادا کر رہا ہوں۔ یہ تو تاریخ کا اعتراف ہے، مغرب کو محسوس ہوگیا ہے کہ اس کے سامنے کون کھڑا ہے۔

مغرب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس ساری فکری لہر کا منبع مدرسہ ہے، لیکن وہ اس مسئلہ پر ایک ڈنڈی ماررہے ہیں۔ وہاں اس مسئلہ پر ایک مذاکرہ ہوا، میں نے اس میں کہا کہ مغرب یہ کہتا ہے کہ یہ مدارس جہاد پڑھاتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم بخاری کی کتاب الجہاد بھی پڑھاتے ہیں، ترمذی کی بھی کتاب الجہاد پڑھاتے ہیں، مغازی بھی پڑھاتے ہیں، اور قرآن کریم کی جہاد والی آیات بھی پڑھاتے ہیں۔ لیکن مغرب یہ نہیں بتاتا کہ جہاد پڑھاتے تو یہ مدارس ہیں مگر سکھایا امریکہ نے ہے۔ وہ اپنے رول کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ ہمیں بالکل انکار نہیں کہ ہم جہاد پڑھاتے ہیں، ہم تو یہ پڑھاتے رہے ہیں اور پڑھاتے رہیں گے۔ لیکن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدید اسلحے کی ٹریننگ امریکہ نے دی ہے۔ اسامہ بن لادن کو کمانڈو ٹریننگ کس نے دی اور مجاہدین کو کس نے تربیت دی؟ دنیا بھر میں جہاد کے نام سے جو لڑائیاں لڑی جا رہی ہیں، یہ اگر مدارس نے پڑھائی ہیں تو سکھائی امریکہ نے ہیں۔ اگر یہ جرم ہے تو پھر ہم برابر کے شریک ہیں۔ اگر امریکہ کے نزدیک افغانستان پر روس کا قبضہ ناجائز تھا تو اسے یہ اصول تسلیم کرتے ہوئے مسلم ممالک سے نکل جانا چاہیے، اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

سوال: آپ بیرون ملک جاتے رہتے ہیں، سننے میں آتا ہے کہ یورپی لوگ اسلام کی طرف آرہے ہیں، حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی وہ اس تعداد میں مسلمان ہو رہے ہیں جو اکثر بتائی جاتی ہے؟

جواب: خیر اتنی تعداد کے ساتھ تو لوگ مسلمان نہیں ہو رہے، ہم ایسے ہی خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بہت سے افراد مسلمان ہو رہے ہیں۔ میں ابھی ماہ شعبان میں امریکہ میں تھا، رمضان شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل نیویارک اسٹیٹ کے ایک پولیس آفیسر نے پریس کانفرنس کر کے اسلام قبول کیا۔ ہم نے وہ پریس کانفرنس ماہنامہ الشریعہ میں بھی شائع کی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے، یہ زندگی کے عملی معاملات میں بہت اچھی رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ تعصب سے ہٹ کر سنجیدگی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔

سوال: مطلب یہ ہے کہ پڑھا لکھا طبقہ غور و فکر کرتا ہے تو اس میں سے کچھ لوگ اسلام کی طرف آجاتے ہیں۔

جواب: ہمارا ایک پلیٹ فارم ہے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے۔ 1992ء میں لندن میں اس کا آغاز ہوا، میں ہی اس کا بانی ہوں۔ میرے ساتھ بھارت کے مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی برکت اللہ ہیں۔ ابھی کل ہی آسٹریلیا سے طارق گیلانی صاحب آئے ہوئے تھے، وہ بھی اس فورم میں ہیں۔ ڈربن، جنوبی افریقہ سے علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند ڈاکٹر سلمان ندوی ہیں۔ لکھنؤ سے مولانا سلیمان ندوی ہیں۔ پاکستان سے ڈاکٹر محمود احمد غازی ہیں۔ یہ ہمارا فکری حلقہ ہے، ہم سال میں ایک آدھ دفعہ اکٹھے ہوتے ہیں، لکھنے پڑھنے کا کام آپس میں تقسیم کرتے ہیں۔

ایک بات میں نے یہ محسوس کی ہے کہ دینی حلقوں کے خلاف مغرب والے جو کچھ کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کے باوجود ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ دینی حلقوں کی کمٹمنٹ میں کمی نہیں آئی۔ دوسری بات یہ ہے اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ مغرب کے ایکشن کا ری ایکشن ہو رہا ہے۔ پڑھے لکھے حلقوں میں بھی ہو رہا ہے اور وہ سوچنے لگے ہیں کہ اصل بات کیا ہے۔ میں نے رمضان المبارک کا پہلا عشرہ واشنگٹن ڈی سی کے علاقہ میں گزارا ہے۔ وہاں کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لوگ بھی یہ سوچ رہے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ مدرسہ کیا کر رہا ہے؟ میں نے کہا کہ میں اس مسئلے پر بات کرنے پر تیار ہوں لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ ترجمان میری مرضی کا ہوگا کہ میں انگریزی بول سمجھ نہیں سکتا۔ طے ہوا کہ اگلے دورے میں گفتگو ہوگی، کم از کم دو دن درکار ہوں گے اس کے لیے، میں نے ہامی بھر لی۔

میں نے کہا، آپ نے جو فیصلہ کیا تھا کہ مذہب کا سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، ہم اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ ہم نے اپنے ہاں یہ تعلق ٹوٹنے نہیں دیا اور آپ کے ہاں بھی اسے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مدرسے کا ایجنڈا یہ ہے کہ مغرب نے جو مذہب کو عملی زندگی سے اور مختلف اداروں سے نکال دیا ہے، ہم اپنی سوسائٹی میں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ آپ حکومتوں کو کنٹرول کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ حکومتوں کا مذہب سے تعلق ٹوٹنے سے سوسائٹی کا تعلق نہیں ٹوٹا۔ میں نے کہا کہ آپ فقط حکومتوں کا، حکمرانوں کا تعلق مذہب سے توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں، سوسائٹی کا تعلق مذہب سے نہیں ٹوٹا بلکہ پہلے سے مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے مذہب سے مکمل لاتعلقی اختیار کر کے غلطی کی تھی۔

سوال: مغربی عورت کا بھی ادھر رجحان ہے؟

جواب: رجحان ہو رہا ہے لیکن اس میں ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم صحیح اپروچ کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ میں اس کی ایک مثال دوں گا۔ لیسٹر، برطانیہ میں ایک ادارہ ہے اسلامک فاؤنڈیشن کے نام سے جس کے سربراہ پروفیسر خورشید احمد ہیں۔ بہت اچھا ادارہ ہے اور میں وہاں جاتا رہتا ہوں۔ وہاں ایک مذاکرہ ہوا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر جم مارشل نے ایک فکر انگیز بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہیں، سننا چاہتے ہیں، لیکن ایک کنفیوژن ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کی تین الگ الگ تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ایک تو وہ تصویر ہے جو ہمارے بڑوں نے پیش کی تھی۔ دوسری تصویر وہ ہے جو ہم اسلام کے بنیادی ذرائع سے حاصل کرتے ہیں۔ لیکن آج کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک تیسری تصویر بن جاتی ہے۔ جب تک آپ اس کنفیوژن کو حل نہیں کرتے آپ کی بات نہیں سنی جائے گی۔ مغرب آپ کی بات سننے کے لیے بالکل تیار ہے لیکن پہلے یہ گیپ دور کریں۔

سوال: وہاں کا خالص مذہبی طبقہ کیا سوچ رکھتا ہے، ان سے بھی مکالمہ ہوا؟

جواب: جی ہاں، یہ بات بھی میرے دوروں کا حصہ ہوتی ہے۔ مثلاً نوٹنگھم کے لارڈ پادری صاحب سے میں تین چار سال قبل ایک وفد کے ساتھ ملا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے معاشرے میں یہ جو بدکاری عام ہے، سود ہے، خاندانی نظام ٹوٹ گیا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کہنے لگے، یہ بہت غلط ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا، کوئی حل سوچا آپ نے؟ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں ہے، ہم تو آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم اس سوسائٹی کو اب واپس نہیں لا سکتے، وہ چمک جو اس سوسائٹی کو درکار ہے وہ ہمیں آپ کی آنکھوں میں دکھائی دیتی ہے، ہم اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ چنانچہ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے لیکن ہماری رکاوٹ یہ ہے کہ ہم وہاں بھی یہ جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ آپس کی جنگیں لڑ رہے ہیں۔

سوال: یہ جو ہم کبھی کبھی مسجدوں پر قبضے والی بات سنتے ہیں تو کیا یہ سلسلہ اب بھی ہے؟

جواب: اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ حکومتوں کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جو بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں، وہاں اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا۔ اور ہمارے جو دینی حلقے وہاں جاتے ہیں تو وہ اس ادراک ہی سے تہی ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ کام کرنے والے اکا دکا لوگ ہیں مگر انفرادی سطح کی کوششیں کوئی بڑا نتیجہ نہیں پیدا کرتیں۔

سوال: دینی حلقوں سے حکومت کا یہ جو ٹکراؤ ہوا ہے تو یہ بات تکرار کے ساتھ کہی گئی کہ ہمارے علماء کو بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرلینا چاہیے۔ کم از کم مدرسوں کا نصاب ہی بدل لیں۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا اس امر کی ضرورت ہے؟ اور یہ کہ کیا علماء نے ادھر توجہ دی ہے یا وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتے تبدیلی کی؟

جواب: اصل میں تبدیلی کے دو الگ الگ ایجنڈے ہیں۔ ایک سوچ یہ ہے کہ دینی مدارس کا الگ تشخص ختم کر دیا جائے اور معاشرے کے عام تعلیمی نظام میں انہیں ضم کر دیا جائے۔ یہ بات مدارس کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اس لیےکہ مدرسہ کا مقصد دین کی تعلیم دینا ہے اور وہ اسی کی تعلیم دے گا۔ اگر انجینئرنگ کالج انجینئرنگ کی تعلیم دیتا ہے، میڈیکل کالج میڈیکل کی تعلیم دیتا ہے، اور لاء کالج صرف لاء پڑھاتا ہے تو دینی مدرسے کا یہ حق ہے کہ وہ صرف دین پڑھائے ۔دوسرا ایجنڈا یہ ہے کہ دینی مدارس آج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنے نصاب کی اصلاح کریں، معاصر ضروریات کو شامل کریں، اور آج کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ اس کے ہم خود مدعی ہیں، میں 25 سال سے خود یہ جنگ لڑ رہا ہوں۔

سوال: آپ کو کتنی کامیابی ہوئی ہے اس میں؟

جواب: اتنی کامیابی ہوئی ہے کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ہم بے وقوف لوگ ہیں۔ مگر اب ہماری باتیں سنی جاتی ہیں اور ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہماری رہنمائی کریں۔ اس کی میں ایک چھوٹی سی مثال دوں گا۔ ہم باتیں کیا کرتے تھے کہ نصاب میں تبدیلی لاؤ تو کہتے تھے کہ یار کیا باتیں کرتے ہو؟ لیکن الحمد للہ وفاق المدارس نے تخصصات کے نصاب (Specializations) کی از سر نو تشکیل کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی ہے میں اس کا چیئرمین ہوں اور اپنا کام کر رہا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے تنہا یہ جنگ لڑی ہے، بلکہ جن لوگوں نے اس سلسلہ میں کوشش جاری رکھی میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ البتہ ہم نے اس دوران یہ پیش نظر رکھا ہے اور مدارس سے یہ کہا ہے کہ ہم آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں، آپ سے جنگ نہیں لڑ رہے۔ چنانچہ مدارس ہم پر اعتماد کر رہے ہیں اور جدوجہد کے ثمرات اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

سوال: اسلام کا مستقبل آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟

جواب: جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ مغرب اخلاقی انارکی کا اس حد تک شکار ہے کہ اسے مذہب کی طرف پلٹنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ اس کا خاندانی سسٹم تباہ ہو چکا ہے، بدکاری بہت عام ہے، مادہ پرستی نے انہیں روحانی سکون سے محروم کر دیا ہے، اب وہ مذہب کی طرف آنا چاہتے ہیں لیکن مذہب اصل حالت میں تو صرف اسلام کے پاس ہی ہے۔ اصل مذہب نہ ہندومت کے پاس ہے، نہ یہودیت اور عیسائیت کے پاس ہے۔ اصل مذہب اسلام ہے اور یہ آپ کو مدرسوں سے ملے گا۔

نوٹنگھم میں ایک لیکچر کے دوران میں نے مغرب سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ لوگ سمجھدار ہیں اور بہت دور کی سوچ رکھتے ہیں۔ آپ کی اعلیٰ درسگاہوں میں بحث ہو رہی ہے کہ کیا آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کا کوئی راستہ ہے؟ شہزادہ چارلس کے خطبات میں سے ایک خطبہ ہم نے ماہنامہ الشریعہ میں بھی شائع کیا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ جسے ہم مذہب کہتے ہیں آپ اسے وجدانیات کا نام دیتے ہیں۔ فرق تو اصطلاح کا ہی ہے۔ اگر آپ لوگ بیس پچیس سال بعد بھی مذہب کی طرف لوٹ ہی آؤ تو یہ بتاؤ کہ یہ سودا کس دکان سے ملے گا؟ مذہب کو اس کی اصل شکل میں کس نے سنبھال رکھا ہے؟ اس دکان کو بند کرنے کے درپے کیوں ہوگئے ہیں جس کی آپ کو بعد میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اپنا آپشن تو باقی رکھیں۔