آصف علی زرداری، منتخب آ ئینی صدر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ ستمبر ۲۰۰۸ء

جناب آصف علی زرداری جن دنوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر منتخب ہوئے میں امریکہ میں تھا، اور اب جبکہ وہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکہ پہنچے ہیں تو میں پاکستان میں ہوں۔ صدارت کے لیے ان کی نامزدگی، انتخابی مہم، الیکشن، اور پھر ان کی حلف برداری کے مناظر میں نے نیویارک میں ٹی وی چینلز اور قومی اخبارات کے ذریعے دیکھے۔ میری مجبوری یہ ہے کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول سے انحراف میرے لیے عام حالات میں مشکل ترین ہوتا ہے، ورنہ جی یہ چاہتا تھا کہ صدر پاکستان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر میں بھی نیویارک میں موجود رہوں، ان سے ملنے کی کوشش کروں، اور اگر ممکن ہو تو جنرل اسمبلی سے ان کے خطاب کا منظر براہ راست دیکھنے کی کوئی صورت نکالوں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اب ان کے خطاب کی تفصیلات قومی اخبارات کے ذریعے معلوم ہوئی ہیں۔

امریکہ میں میرے چالیس روزہ قیام کے دوران اکثر مجالس میں پاکستان کے حالات، بالخصوص جناب آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف کے سیاسی روابط ہی زیر بحث رہے۔ میری سرگرمیوں کا دائرہ زیادہ تر پاکستانی کمیونٹی ہوتی ہے اور اس کا بھی وہ حصہ جس کا تعلق کسی دینی مدرسے یا مسجد سے ہے۔ کیونکہ ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ کے مصداق میری جولانگاہ پاکستان کی طرح امریکہ، برطانیہ، اور دیگر ممالک میں بھی مسجد و مدرسہ ہی ہے۔ کسی مسجد میں درس کے عنوان سے گفتگو ہو جاتی ہے، کسی مدرسہ والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے طلبہ کی تعلیمی حالت چیک کر کے اسے بہتر بنانے کے لیے انہیں مشورہ دوں، اور کہیں چند پاکستانی دوست چائے یا کھانے پر جمع ہو کر پاکستان کے حالات و مسائل پر تبصرے کی فرمائش کر دیتے ہیں۔ اسی قسم کی سرگرمیوں میں وقت گزر جاتا ہے اور اگر کوئی باذوق دوست مل جائے اور کچھ وقت بھی دے سکے تو امریکہ کے کسی تاریخی مقام کو دیکھنے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع بھی میسر آجاتا ہے۔

گزشتہ سال میں نے ہیوسٹن میں ناسا کا خلائی تحقیقاتی مرکز دیکھا۔ اس سے پچھلے برس الاباما میں مارٹن لوتھر کنگ کی سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کے محفوظ کیے گئے مناظر جبکہ اٹلانٹا میں مارٹن لوتھر کنگ میوزیم اور جمی کارٹر سنٹر دیکھنے کا موقع مل گیا تھا۔ مگر اس سال کوشش کے باوجود کوئی نئی چیز نہیں دیکھ سکا۔ اس دفعہ جی چاہ رہا تھا کہ اٹلانٹا میں وہ میدان دیکھوں جہاں امریکہ میں شمال اور جنوب کی تاریخی خانہ جنگی کے خاتمے پر جنوب کے کمانڈر جنرل رابرٹ ایڈورڈ لی نے ہتھیار ڈال کر شمال کی بالادستی قبول کی تھی۔ مگر دوستوں نے پروگرام کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی تھی کہ شارلٹ سے بالٹی مور جاتے ہوئے اٹلانٹا ایئرپورٹ پر کچھ دیر ہی ٹھہر سکا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے لیے جناب آصف علی زرداری کی نامزدگی اور انتخاب ان حلقوں اور دوستوں کے لیے بہرحال آسانی سے قبول کی جانے والی بات نہیں تھی جن سے میری ملاقاتیں ہوتی رہیں، اس لیے اکثر تاثرات منفی ہی سننے میں آئے۔ ایک مجلس میں دوستوں نے کہا کہ ایجنڈا وہی ہے صرف ٹیم تبدیل ہوئی ہے، امریکہ نے تھکے ہوئے گھوڑے کی بجائے تازہ دم گھوڑے کا اہتمام کر لیا ہے، اس لیے اب وہ ایجنڈا زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ ایک محفل میں بحث چل پڑی کہ جنرل پرویز مشرف میں اور آصف زرداری میں کیا فرق ہے؟ ایک دوست نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میں نے انہی سے الٹا سوال کر دیا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک تو کوئی فرق نہیں ہے، سوائے اس کے جو تھکے ہوئے گھوڑے اور تازہ دم گھوڑے میں ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میرا یہ خیال نہیں ہے اور میں ان دونوں میں بہت بڑا فرق دیکھ رہا ہوں۔ دوستوں نے تجسس سے پوچھا کہ وہ فرق کیا ہے؟

میں نے کہا جنرل پرویز مشرف سے بات کرنے کے لیے ان کی ذات کے سوا کوئی حوالہ ہمارے پاس نہیں ہوتا تھا، مگر آصف علی زرداری سے بات کرنے کے لیے ہمیں بہت سے حوالے میسر ہیں۔ جنرل پرویز مشرف سے اسلام کے حوالے سے بات نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے اسلام کے خود ہی شارح اور ترجمان تھے اور اسلام کی کسی بات کی وضاحت کے لیے ان کے ذہن میں خود ان کی ذات کے سوا کوئی اتھارٹی موجود نہیں تھی۔ ان سے دستور پاکستان کے حوالے سے بات کرنا بھی مشکل تھا کہ اسی کو پامال کر کے تو وہ مسند اقتدار پر فائز ہوئے تھے۔ اور انہیں ان کی اپنی بات، کمٹمنٹ اور وعدے کا حوالہ بھی نہیں دیا جا سکتا تھا کہ ان کے نزدیک کمٹمنٹ اور عہد سے کہیں زیادہ ’’قوم کے وسیع تر مفاد‘‘ کےلیے ان کی ذاتی سوچ اتھارٹی کا درجہ رکھتی تھی۔

مگر جناب آصف علی زرداری سے ہم پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور اور دستور کی بنیاد پر بات کر سکتے ہیں کہ وہ قومی سیاست میں اسی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم انہیں دستور پاکستان کے حوالے سے کسی کام سے رکنے کا کہہ سکتے ہیں کہ وہ دستور کو نظر انداز کر کے یا اس میں چور دروازہ تلاش کر کے ایوان صدر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ دستور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور اس کے طے کردہ اصولوں کے مطابق صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ ہم انہیں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پالیسیوں اور فیصلوں کے دائرے میں رہنے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی بھٹو مرحوم کی سیاسی فکر، انقلابی سوچ ، اور عوام دوست نعروں کی علمبردار کہلاتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہےکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر ایسی شخصیات اور حلقوں کو دیکھ رہا ہوں جو وطن عزیز کے سیاسی، بین الاقوامی، اور نظریاتی تشخص کے تناظر میں بہت سے غلط کاموں میں رکاوٹ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس لیے اگر کسی دوست کے جناب آصف علی زرداری کے بارے میں ذاتی طور پر تحفظات بھی ہوں تو ان کے گرد ایک ایسا حصار موجود ہے جو ان تحفظات کی تلافی کر سکتا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ ہمیں جناب آصف علی زرداری کی صدارت کے ساتھ اپنے تعلقات کا آغاز محض تحفظات کے اظہار اور تکرار کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اچھی توقعات، اعتماد، اور امید کو اس کا نقطۂ آغاز بنانا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس نئے منتخب اور جائز جمہوری صدر کو دستور پاکستان کے تقاضوں اور عوام کی توقعات کے مطابق اس نازک مرحلے میں ملک و قوم کی بہتر رہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

جناب آصف علی زرداری کو صدارت سنبھالنے کے بعد خودکش حملوں اور پاکستان کی سرحدوں میں بیرونی مداخلت کے واقعات میں اضافے کی جس صورتحال کا سامنا ہے وہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس جنگ کے مذکورہ دونوں فریقوں کا مفاد اور خواہش یہ ہے کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور پاکستان کی نئی منتخب حکومت اپنی پالیسیوں اور فیصلوں میں پاکستانی عوام کے انتخابی فیصلے اور مینڈیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی بنیادی تبدیلی نہ لا سکے۔ اس لیے ایسے واقعات کی کسی بھی فریق کی جانب سے ہر وقت توقع کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس گھمبیر صورتحال میں عوام کی اکثریت کے رجحانات اور مینڈیٹ کی پاسداری کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر کچھ کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں سابق صدر پرویز مشرف نے قومی پالیسیوں پر تمام سیاسی پارٹیوں کی گول میز کانفرنس کی جو تجویز پیش کی تھی اور جو ان کی طرف سے پیش ہونے کی وجہ سے ملک کے سیاسی حلقوں کے لیے قابل قبول نہیں تھی، اس کا اب وقت آگیا ہے۔

پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بیرونی مداخلت کی روک تھام اور داخلی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے خودکش حملوں کا سدباب دونوں امور ہماری قومی ضرورت اور اہم ترین مسائل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی ہمارے سرفہرست قومی مسائل ہیں۔ ہم صدر محترم جناب آصف علی زرداری سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان قومی مسائل پر اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیں گے۔ کیونکہ قوم کے سب حلقوں کے اعتماد کے ساتھ وہ جو بات کہیں گے اور جو قدم اٹھائیں گے اس میں یقیناً زیادہ وزن ہوگا۔ اور قومی اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی حلقے بھی اس کی اہمیت محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔