قرآنِ کریم

قرآن کریم اور سماجی تبدیلیاں

اس سال ہماری گفتگو کا موضوع ’’قرآن کریم اور انسانی سماج‘‘ ہے جس کے ایک حصہ پر ۳ رمضان المبارک کی نشست میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں کہ اس وقت کے انسانی سماج کے لیڈروں نے بجا طور پر یہ بات سمجھ لی تھی کہ قرآن کریم سماج کے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہا ہے اس لیے انہوں نے ہر ممکن مزاحمت کی اور اس مزاحمت کی مختلف صورتوں اور مراحل کا ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور سماجی تبدیلیاں

۱۲ جون ۲۰۱۸ء

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

۲۲ مئی ۲۰۱۸ء

آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش

سورۃ المائدہ آیت ۴۴ تا آیت ۵۰ میں اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد اور تسلسل بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پھر انجیل نازل کی اور اس کے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس کتاب کے مطابق کیا کریں، اس دوران زبور نازل ہوئی اور حضرت داؤدؑ کو بھی اللہ رب العزت نے یہی حکم دیا کہ وہ لوگوں کے معاملات اور تنازعات کا کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش

۱۹ اپریل ۲۰۱۸ء

فہم قرآن کا صحیح راستہ

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے ذوق کے مطابق اعمالِ خیر میں مصروف ہیں۔ روزے کے بعد اس ماہ مبارک کی سب سے بڑی مصروفیت قرآن کریم کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ کلام پاک اس مہینہ میں نازل ہوا تھا اور اسی میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، تلاوت اور سماعت کے ساتھ ساتھ فہم قرآن کریم کے ذوق میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے مختلف حلقے لگتے ہیں، اخبارات و جرائد میں مضامین کی اشاعت ہوتی ہے جبکہ سوشل میڈیا نے اس کے دائرہ کو بہت زیادہ تنوع کے ساتھ وسیع کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فہم قرآن کا صحیح راستہ

جولائی ۲۰۱۷ء

قرآنِ کریم اور سماج باہم لازم و ملزوم ہیں

حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدؐ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے ہزاروں انبیاء کرامؑ کی تعلیمات پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ سماجی ارتقاء اور معاشرتی ترقی کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا تھا اور انہوں نے سوسائٹی کے اجتماعی فیصلوں اور طرز عمل کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا تھا؟ اسے ہم قرآن کریم کے حوالہ سے دیکھیں تو کچھ اس طرح کا نقشہ سامنے آتا ہے کہ حضرت آدمؑ کے بعد انسانی سوسائٹی نے جو ترقی کی تھی اور اس دوران جو سماجی ارتقاء عمل میں آیا تھا، حضرت نوحؑ نے اسے من و عن قبول نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآنِ کریم اور سماج باہم لازم و ملزوم ہیں

۲۸ اگست ۲۰۱۶ء

کیا قرآن کریم اور سماج کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے؟

ایک فاضل دوست نے شکوہ کیا ہے کہ جب ہم سماجی مطالعہ اور معاشرتی ارتقاء کی بات کرتے ہیں تو کچھ لوگ قرآن کریم کی آیات پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ محترم دانشور کے ایک حالیہ کالم میں یہ بات پڑھ کر بے حد تعجب ہوا اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا قرآن کریم اور سماجی مطالعہ ایک دوسرے سے ایسے لاتعلق ہیں کہ سماج کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کو (نعوذ باللہ) لپیٹ کر ایک طرف رکھ دینا چاہیے؟ اور کیا ہماری دانش خدانخواستہ اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ سوسائٹی اور سماج کے معاملات کو دیکھتے ہوئے قرآن کریم کا حوالہ بھی اسے اجنبیت کی فضا میں لے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا قرآن کریم اور سماج کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے؟

۲۶ اگست ۲۰۱۶ء

کیا قرآن کریم صرف پڑھ لینا کافی ہے؟

دنیا میں بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت قرآن کریم کے کروڑوں حفاظ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کا اعجاز ہے لیکن ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن کریم یاد ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس کا تھوڑا سا اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھے، بچے کو کم سے کم کتنا قرآن کریم یاد کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان پانچ نمازوں کی رکعتوں کو شمار کرلیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کتنی رکعتوں میں قرآن کریم پڑھنا لازمی ہے اور اس سلسلہ میں حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا قرآن کریم صرف پڑھ لینا کافی ہے؟

۲ جون ۲۰۱۶ء

قرآنِ کریم کے مروجہ نسخے اور ایک نئی بحث

مصحف عثمانی کے دو نمونے عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآنِ کریم کے مروجہ نسخے اور ایک نئی بحث

۲۰ فروری ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کے قدیم نسخے

برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے اوراق کی دریافت نے علم و تحقیق کی دنیا کو دلچسپی کا ایک اور میدان فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اوراق قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے ہیں اور ان کی تحریر کا دور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کا دور سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو یہ مقدس اوراق مصحف قرآنی کے اس نسخے کے ہو سکتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم پر جناب نبی اکرم ﷺ کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاریؓ نے مرتب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے قدیم نسخے

۲۸ دسمبر ۲۰۱۵ء

قرآن کریم صرف ماضی کی کتاب نہیں!

قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور حفظ و تلاوت کا سلسلہ دنیا بھر میں تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے دائرے کو سمیٹنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی، جو بلاشبہ قرآن کریم کا اعجاز ہے۔ لیکن اس سے عالمی استعماری حلقے اس مغالطہ کا شکار ہوگئے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور قراءت و تلاوت کا یہ سلسلہ دینی مدارس کی وجہ سے باقی ہے۔ اس لیے وہ دینی مدارس کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور دینی مدارس کا کردار محدود کرنے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم صرف ماضی کی کتاب نہیں!

۲۴ فروری ۲۰۱۵ء

قرآن کریم کے حقوق

8 ،9، 10 جولائی کو دنیا ٹی وی کے سحری و افطاری کے پانچ نشریاتی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا جنہیں جناب انیق احمد بڑے ذوق و مہارت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ پہلے پروگرام میں مولانا اسعد تھانوی، مولانا شجاع الملک اور مولانا قاری اکبر مالکی کے ساتھ رفاقت رہی۔ موضوعِ گفتگو عمومی طور پر ’’قرآن کریم کے حقوق‘‘ تھا جبکہ سورۃ الانبیاء کی آیت 10 کا یہ جملہ بطور خاص زیر بحث آیا کتاباً فیہ ذکرکم۔ کم و بیش تین گھنٹے پر مشتمل اس پروگرام میں بیسیوں نکات پر بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے حقوق

۱۲ جولائی ۲۰۱۴ء

رمضان المبارک اور قرآن کریم

عالم اسلام میں رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان عبادات کے نئے ذوق و شوق کے ساتھ رمضان المبارک کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اسی میں لیلۃ القدر بھی ہے، اس رات کو ایک مہینے سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا، جو اگرچہ عملاً جناب نبی اکرم ﷺ پر مسلسل ۲۳ سال تک نازل ہوتا رہا مگر لوح محفوظ سے آسمانی دنیا تک منتقل کرنے کا حکم اس رات میں دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان المبارک اور قرآن کریم

۳۰ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

حفاظ قرآن کریم کی خدمت میں !

جناب نبی اکرمؐ نے مختلف احادیث مبارکہ میں بیسیوں اعزازات و امتیازات کا تذکرہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن قرآن کریم کے حافظوں کو عطا ہوں گے۔ ان میں سے ایک کا تذکرہ کروں گا کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حافظ قرآن کریم کو اپنی برادری اور خاندان کے دس افراد کی سفارش کا حق دیں گے جو اس کی سفارش پر جنت میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اعزازات کا احادیث مبارکہ میں ذکر ہے لیکن آنحضرتؐ نے یہ اعزازات اور امتیازات ہر حافظ کے لیے بیان نہیں کیے بلکہ اس کی شرائط بھی بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفاظ قرآن کریم کی خدمت میں !

مارچ ۲۰۱۳ء

تسخیرِ کائنات اور قرآنِ کریم

مریخ تک رسائی بلاشبہ انسانی تاریخ کا اہم واقعہ اور سائنس کی غیر معمولی پیش رفت ہے جس پر امریکی سائنسدان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مجھے ہیوسٹن میں واقع ناسا ہیڈکوارٹر میں عام وزیٹر کے طور پر ایک سے زیادہ مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا ہے اور چاند پر اترنے والی خلائی گاڑی اپالو میں بیٹھنے کا موقع بھی ملا ہے جو عام نمائش کے لیے وہاں رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ ناسا ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ کے سامنے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے قاری مطیع الرحمان مرحوم کے قائم کردہ حفظ قرآن کریم کے مدرسہ میں بھی حاضری ہوئی جو پہلے کرائے کی ایک بلڈنگ میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تسخیرِ کائنات اور قرآنِ کریم

۱۸ اگست ۲۰۱۲ء

قرآن و سنت، باہمی ربط

حدیث گفتگو کوکہتے ہیں اور سنت طریقے کو۔محدثین کی اصطلاح میں حدیث اور سنت میں فرق بھی ہے اور یہ دونوں مترادف بھی ہیں۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کانام حدیث ہے اور عمل کانام سنت ہے۔ محدثین نے یہ بھی کہا ہے کہ حدیث وہ ہے جو ایک آدھ مرتبہ بیان ہوئی جبکہ سنت وہ ہے جو معمول یا قانون کادرجہ اختیار کر گئی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آپؐ کی ساری زندگی کے ارشادات حدیث ہیں، جبکہ جن ضوابط اور قوانین پر آپؐ رخصت ہوئے یعنی آپؐ کی زندگی کے جو آخری اقوال و اعمال ہیں وہ سنت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن و سنت، باہمی ربط

۲۰۱۱ء

قرآن کریم کی بعض آیات سمجھنے میں اشکال

آج کی گفتگو کا عنوان یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کی سنت اور حضورؐ کے ارشادات قرآن کریم کی تشریح ہے۔ چنانچہ تابعین یعنی خیر القرون اور قرون اولیٰ کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ انہی کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا تھا اور وہ اس کے پس منظر اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور اس کی زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی بعض آیات سمجھنے میں اشکال

۲۰۱۱ء

قرآن و سنت کی عملداری، کس کی ذمہ داری؟

محترم غلام جیلانی خان نے قرآن کریم کے حوالے سے بہت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ملا صاحبان اپنے بیانات اور خطبات میں سورہ الانعام کی آیت ۱۵۱ تا ۱۵۳ کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو صرف برتھ کنٹرول سے متعلقہ حکم کا تذکرہ کرتے ہیں مگر وہ ۹ احکام جو ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں انہیں بیان نہیں کرتے۔ یہ احکام (۱) شرک (۲) ماں باپ کی فرمانبرداری (۳) فاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل سے ممانعت (۴) بے حیائی سے بچنے کی تلقین (۵) کسی انسان کے ناحق قتل کی حرمت (۶) یتیم کے مال کے قریب نہ جانا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن و سنت کی عملداری، کس کی ذمہ داری؟

۶ فروری ۲۰۱۱ء

گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی دو آیات پڑھی ہیں جو بیسویں پارے کی آخری آیات ہیں اور ان میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہی کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، حالانکہ بیسیوں کھلے معجزات کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رکھا تھا مگر اس کے باوجود ان کا معجزات اور نشانیوں کے لیے مطالبہ جاری رہتا تھا اور وہ اپنی طرف سے طے کر کے کہا کرتے تھے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں وہ دکھائی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

۹ اگست ۲۰۱۰ء

مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، وہ بیک وقت ایک کامیاب سیاستدان ہونے کے ساتھ محدث، فقیہ، خطیب، پارلیمنٹیرین، شب زندہ دار اور عارف باللہ تھے۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز عطا فرمایا تھا کہ وہ جس مسند پر بھی بیٹھے اپنے معاصرین سے ممتاز نظر آئے۔ انہوں نے مدت العمر جامعہ قاسم العلوم ملتان میں حدیث و فقہ اور منقولات و معقولات کے متنوع علوم کی تدریس کی اور مسند افتاء پر ہزاروں فتاویٰ جاری کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات

۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء

قرآن کریم اور نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی عقیدت

سعودی عرب کا رسم الخط اور انداز تحریر جنوبی ایشیا سے مختلف ہے۔ قرآن کریم کے متن میں تو کسی جگہ کوئی فرق نہیں اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بعض سورتوں کے ناموں اور بعض الفاظ کے طرز تحریر میں فرق ہے جس سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کی طرز پر طبع شدہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقت پیش آتی ہے۔ چنانچہ حرمین شریفین یعنی مسجد حرام اور مسجد نبویؐ میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام لوگوں کو تلاوت کے لیے دونوں طرز کے نسخے الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی عقیدت

۲۰ فروری ۲۰۰۶ء

فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے۔ جب یہ بات بطور عقیدہ ہمارے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پیغام کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور پیغام بھیجنے والے کے مقصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ پیغام کسی دوست کا ہو، دفتری خط ہو، عدالتی سمن ہو، کاروباری لیٹر ہو حتیٰ کہ کسی دشمن کا پیغام بھی ہو تو منطقی طور پر اسے وصول کرنے والے کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے پڑھے اور سمجھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۲ اپریل کو جب عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے سیمینار میں شرکت کے لیے عصر سے قبل فیصل مسجد اسلام آباد پہنچا سیمینار کے بارے میں پتہ چلا کہ اس کی آخری نشست مغرب کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہو رہی ہے اس لیے اب وہاں جانا ہوگا۔ البتہ فیصل مسجد کی ایک دیوار پر بینر دیکھنے میں آیا جس کے مطابق اس سے اگلے روز یعنی ۲۳ اپریل کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے اسی مقام پر قرآن کریم کے نادر نسخوں کی نمائش کا آغاز ہو رہا تھا اور اس کا افتتاح صدر جنرل پرویز مشرف نے کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۹ اپریل ۲۰۰۳ء

حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

حضرت سرفراز خان صفدرؒ کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے درس قرآن کریم کے چار الگ الگ حلقے رہے ہیں۔ ایک درس بالکل عوامی سطح کا تھا جو صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ دوسرا حلقہ گورنمنٹ نارمل سکول گکھڑ میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تھا جو سالہا سال جاری رہا۔ تیسرا حلقہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں متوسط اور منتہی درجہ کے طلبہ کے لیے ہوتا تھا اور دوسال میں مکمل ہوتا تھا۔ جبکہ چوتھا مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۷۶ء کے بعد شعبان اور رمضان کی تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر کی طرز پر تھا جو پچیس برس تک پابندی سے ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت سرفراز خان صفدرؒ کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز

اگست ۲۰۰۲ء

اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے اسباب خود پیدا کرتا ہے

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ قابل ذکر باب یہ ہے کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے والد محترم شیخ حبیب اللہ مرحوم نے، جو گکھڑ کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے، اسی مسجد میں مولانا سراج الدین احمدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسی زمانہ میں گکھڑ کے قریب دو بستیوں ترگڑی اور تلونڈی کھجور والی کے دو اور غیر مسلم بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک کا نام شیخ عبد الرحیمؒ ہے جو ضلع گوجرانوالہ کے معروف صنعتکار الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم (راہوالی گتہ مل والے) کے والد محترم تھے، وہ ترگڑی کے رہنے والے تھے اور ہندو تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے اسباب خود پیدا کرتا ہے

۱۷ مارچ ۲۰۰۲ء

قرآنِ کریم اور ماضی کا سبق

سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عظیم سانحہ کے بارے میں جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں قائم کیے گئے کمیشن کی مبینہ رپورٹ بھارت کے کسی اخبار میں شائع ہوئی اور اس کے بعد پاکستان میں اس کی باضابطہ اشاعت کے مطالبہ نے زور پکڑا تو چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے یہ کہہ کر اس سے دامن چھڑا لیا کہ یہ پرانی بات ہو چکی ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کو بھول جائیں اور پچھلے واقعات کی کرید میں پڑنے کی بجائے مستقبل کی فکر کریں۔ ہمارے خیال میں جنرل صاحب کا یہ مشورہ قرین انصاف نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآنِ کریم اور ماضی کا سبق

۲۶ ستمبر ۲۰۰۰ء

قرآن کریم اور نو مسلم خواتین

’’نومسلم خواتین کی آپ بیتیاں‘‘ محترمہ نگہت عائشہ نے ترتیب دی ہے اور اس میں مختلف ممالک کی ستر نو مسلم خواتین کی آپ بیتیاں شامل کی گئی ہیں۔ پونے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب ندوۃ المعارف ۱۳ کبیر اسٹریٹ اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے اور اس میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ایک سفرنامے کو بطور دیباچہ شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے لندن کے معروف روزنامہ لندن ٹائمز کی ۹ نومبر ۱۹۹۳ء کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر ماضی قریب میں مسلمان ہونے والی بعض نومسلم خواتین کے تاثرات بیان کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور نو مسلم خواتین

۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

سورۃ الفرقان کی آیت ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جناب نبی کریمؐ کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست کا ذکر فرمایا ہے کہ اس روز جبکہ ظالم و فاسق لوگ اپنی بداعمالیوں پر حسرت اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دانتوں میں چبائیں گے اور اپنی اس کوتاہی کا حسرت کے ساتھ تذکرہ کریں گے کہ اے کاش! ہم نے رسول اکرمؐ کی راہ اختیار کی ہوتی اور فلاں فلاں کے نقش قدم پر نہ چلے ہوتے۔ اس روز آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ’’اے میرے رب! میری اس قوم نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

۱۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم کا معجزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے سورۃ العنکبوت کی دو آیات تلاوت کی ہیں جو اکیسویں پارے کے پہلے رکوع کی آخری آیتیں ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ مشرکین مکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر و بیشتر نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو سینکڑوں معجزات عطا فرمائے ہیں جن میں سے بعض معجزات ایسے ہیں جو مشرکین کی فرمائش پر دیے گئے اور ایسے معجزات بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی فرمائش کے بغیر اپنی حکمت سے عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کا معجزہ

۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء

وحی کی ضرورت اور اس کی حقیقت و ماہیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور عزیز طلبہ! حضرت مولانا قاری سعید الرحمان صاحب نے مجھے اور آپ دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان مدظلہ کے خطاب کے بعد اور شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدظلہ کے خطاب سے پہلے مجھے حکم دیا ہے کہ بخاری شریف کے سبق کے افتتاح کی اس تقریب میں آپ حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان دو بزرگوں کے درمیان مجھ جیسا طالب علم کیا بات کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وحی کی ضرورت اور اس کی حقیقت و ماہیت

اپریل ۱۹۹۹ء