ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی۔

یہ بات اس سے قبل بھی عرض کر چکا ہوں کہ بحمد اللہ تعالیٰ گزشتہ نصف صدی سے میں تدریس، تحریر اور تقریر کے تینوں شعبوں میں دینی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف عمل ہوں مگر اب عمر کے اس حصہ میں مختلف مصروفیات اور جسمانی عوارض کے باعث تینوں کاموں کو ایک ساتھ جاری رکھنا میرے بس میں نہیں رہا اور مجھے ان میں سے کسی ایک مصروفیت سے بہرحال دست کش ہونا ہے۔ اس لیے خاصی سوچ بچار کے بعد سلسلہ تعلیم کے دوران جلسوں اور تقریری پروگراموں کا سلسلہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ اس میں ’’ولی فیھا مآرب أخریٰ‘‘ کا دامن تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے لیکن توکلاً علی اللہ اسی میں خیر سمجھتے ہوئے یہ طے کر لیا ہے کہ اسباق کے دوران شہر سے باہر کسی پروگرام کے لیے نہیں جاؤں گا۔ البتہ جمعرات کو اس ترتیب کے ساتھ پروگرام بن سکتا ہے کہ اسباق کے بعد گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر رات نصف شب تک واپسی ہو جائے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے احباب سے معذرت خواہ ہوں بلکہ اگر کسی جگہ میں نے اس سے قبل کوئی وعدہ کر رکھا ہے تو وہ بھی منسوخ سمجھا جائے۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران لاہور، ساہیوال اور دیپال پور کے بعض پروگراموں میں حاضری ہوئی، میرے عزیز بھتیجے ارسلان خان بن مولانا قاری عزیز الرحمان خان شاہد اور مولانا قاری محمد رمضان آف ملتان روڈ لاہور کے فرزند حافظ محمد عثمان رفیق سفر تھے۔ ۴ جولائی کو واپڈا ٹاؤن لاہور کے جامعہ بیت النور ٹرسٹ میں اساتذہ کی ایک نشست میں تدریسی اور تعلیمی تقاضوں پر گفتگو کی۔ مولانا مفتی اویس عبد الستار اور ان کے باذوق رفقاء کی ٹیم جامعہ بیت النور کے تحت معہد الحسنؓ کے نام سے بنین کے لیے جبکہ معہد ام سلمہؓ کے نام سے بنات کے لیے تعلیمی اور تربیتی کاموں میں سالہا سال سے سرگرم عمل ہے اور ان کے ذوق و محنت میں مسلسل اضافہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

اس کے بعد جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں حاضری ہوئی، مولانا شاہد عمران عارفی ملک کے معروف و مقبول نعت خوان ہیں، جامعہ رشیدیہ میں مدرس ہیں اور تدریس کا بھی عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک ’’سہ روزہ‘‘ کے لیے پابند کر رکھا تھا جو ۴ جولائی کی ظہر سے ۶ جولائی کی عصر تک جاری رہا۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال ملک کے معروف دینی اداروں میں سے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ملک میں دیوبندی مسلک کے تعارف، تحفظ اور فروغ کے لیے جن اداروں نے سب سے زیادہ محنت کی ہے ان میں جامعہ رشیدیہ سرفہرست ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہؒ اور حضرت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدیؒ کے جہد و عمل اور تقویٰ و للٰہیت کے اثرات اور ان کی یاد اب بھی تازہ ہے جو نئی نسل کی راہنمائی کا باعث ہے۔ جبکہ ایک بڑے بحران سے گزرنے کے بعد اس کی نشاۃ ثانیہ کا کام مولانا کلیم اللہ رشیدی، مولانا قاری سعید احمد اور ان کے رفقاء کی سرکردگی میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

جامعہ رشیدیہ میں اساتذہ اور شہر کے علماء کرام کے لیے دو نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا جن میں انسانی حقوق کے جدید فلسفہ کے حوالہ سے اسلامی احکام و قوانین کے بارے میں سامنے آنے والے سوالات و اشکالات پر میں نے تفصیلی گفتگو کی۔ جبکہ اسی موقع پر جامعہ رشیدیہ کے قدیمی فضلاء کا اجتماع بھی تھا جس کی ایک نشست میں عصر حاضر میں دینی جدوجہد کے تقاضوں پر شرکاء کو میں نے اپنے احساسات اور تجربات و مشاہدات سے آگاہ کیا۔

فرید ٹاؤن ساہیوال میں مولانا مفتی ساجد الرحیم نے جامعۃ الحسن کے نام سے علماء و فضلاء کی تعلیم و تربیت کا ادارہ قائم کر رکھا ہے جہاں وہ افتاء کا کورس کراتے ہیں اور فضلاء درس نظامی کو آج کے دور میں دینی راہنمائی اور فتویٰ نویسی کی ضروریات سے روشناس کراتے ہیں۔ خود انہوں نے جامعہ فاروقیہ کراچی اور جامعہ دارالعلوم کراچی سے تعلیم پائی ہے اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں وقت گزارا ہے۔ چنانچہ وہ ان تینوں متنوع اور عمدہ ذوقوں کا خوبصورت پیکیج ہیں۔ ان کے ہاں نماز فجر کے بعد عمومی درس کی سعادت حاصل ہوئی اور تخصص کی کلاس میں داخلہ کے لیے آنے والے علماء کرام کے ساتھ نشست میں فقہ و افتاء کے عصری تقاضوں اور ضروریات پر کچھ گزارشات پیش کیں۔

اس طرح ہمارا یہ تعلیمی سہ روزہ تکمیل کو پہنچا جبکہ اس دوران دیپال پور کے قریب ایک بستی اسلام پورہ میں متعدد طلبہ اور طالبات کا قرآن کریم مکمل ہونے پر تقسیم انعامات کی تقریب میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔

ہمارے ہاں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کا باقاعدہ آغاز ۱۸ شوال کو ہوتا ہے اس لیے تعطیلات کے باقی ایام مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ سفر میں ہی گزریں گے اور پلندری، دھیر کوٹ، جگلڑی، اسلام آباد اور ملہو والی کے بعض پروگراموں میں حاضری کے بعد حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہو کر ہماری واپسی ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں عموماً قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے علاوہ بخاری شریف کی ایک جلد، طحاوی شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے اسباق میرے ذمہ ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ دورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ہفتہ وار محاضرات کا سلسلہ بھی ہوتا ہے جن کے موضوعات میں انسانی حقوق کے مروجہ فلسفہ کا اسلامی احکام و قوانین کی روشنی میں تقابلی جائزہ اور معاصر ادیان و مذاہب کے تعارف کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کو ان کے ساتھ درپیش معاملات شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ اس سال میں نے جامعہ فتحیہ لاہور میں ہر اتوار کو ظہر سے مغرب تک ہفتہ وار حاضری کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں بخاری شریف کی کتاب الفتن و کتاب الاحکام اور حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کی تدریس کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء