روزنامہ اسلام، لاہور

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

اسلام آباد میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کا دھرنا گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہے اور حکومت دھرنے والوں کے مطالبات کو منظور کیے بغیر دھرنا ختم کرانے کے تمام حربوں میں ابھی تک ناکام ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو دھرنا ہر حالت میں ختم کرانے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی ہے۔ دھرنے کے مختلف مراحل کے مشاہدہ بلکہ ایک لحاظ سے ذاتی شرکت کے حوالہ سے کچھ گزارشات گزشتہ ایک کالم میں کر چکا ہوں - - - مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

۲۲ نومبر ۲۰۱۷ء

مذاہب اور ان کے عبادت خانے

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمد اللہ نے گزشتہ روز سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ایم حمزہ اور دیگر سینیٹرز کے ایک وفد کے ہمراہ ننکانہ صاحب میں سکھوں کے گوردوارے کا دورہ کیا اور سکھ راہنماؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا۔ سینٹ کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی تو دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، ان سے رابطہ رکھے اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاہب اور ان کے عبادت خانے

۱۸ نومبر ۲۰۱۷ء

عقیدۂ ختم نبوت کی بعض قانونی شقوں میں ردوبدل کا مسئلہ

مولانا مفتی منیب الرحمان نے ایک حالیہ بیان میں تحریک ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ہے جو کم و بیش سبھی قابل اتفاق ہے مگر ان میں سے تین امور کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا: (۱) عقیدۂ ختم نبوت سے متعلقہ بعض قانونی شقوں میں حالیہ ردوبدل کی ذمہ داری پوری پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے اور اس کی اصلاح کے لیے پارلیمنٹ کے اندر منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ (۲) پارلیمنٹ نے ایک نئی ترمیم کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی جو سعی کی ہے اس سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا جبکہ اصلاحی عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت کی بعض قانونی شقوں میں ردوبدل کا مسئلہ

۱۵ نومبر ۲۰۱۷ء

سعودی عرب کا تاریخی پس منظر اور حالیہ شاہی کشمکش

’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ میں اس وقت جو صورتحال ہے اسکے بارے میں حرمین شریفین سے عقیدت اور اسکی وجہ سے سعودی عرب سے محبت رکھنے والا دنیا کر ہر مسلمان پریشان بلکہ مضطرب ہے۔ کرپشن کے خاتمہ کے عنوان سے شاہی خاندان میں باہمی کشمکش، گرفتاریوں، کم از کم ایک شہزادہ کے شہید ہو جانے اور متعدد سرکردہ علماء کرام کے زیر حراست ہونے کی خبریں اس پریشانی اور اضطراب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ مگر اس حوالہ سے کچھ عرض کرنے سے قبل سعودی سلطنت کے قیام اور اسکے پس منظر کے بارے میں چند زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب کا تاریخی پس منظر اور حالیہ شاہی کشمکش

۱۲ نومبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند پہلو اور علامہ محمد اقبالؒ کا مکتوب

ملک کے انتخابی قوانین میں ترامیم کا بل پاس ہونے پر اس میں ختم نبوت سے متعلق مختلف دستوری و قانونی شقوں کے متاثر ہونے کی بحث چھڑی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور سوشل میڈیا میں بھی خاصی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہوگیا تو حکومت نے عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کرنے کا بل اسمبلی میں پاس کر لیا۔ مگر دفعہ ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں مطالبہ جاری ہے اور حکومتی حلقے یقین دلا رہے ہیں کہ ان کو بھی عوامی مطالبہ کے مطابق صحیح پوزیشن میں لایا جائے گا۔ اس حوالہ سے اپنے احساسات کو تین چار حوالوں سے عرض کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند پہلو اور علامہ محمد اقبالؒ کا مکتوب

۸ نومبر ۲۰۱۷ء

حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادی اصول اور عصر حاضر

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر امت مسلمہ کی قیامت تک کی راہنمائی کے لیے جو اصول ارشاد فرمائے تھے اور ہدایات دی تھیں انہیں محدثین کرامؒ نے بڑے اہتمام اور تگ و دو کے ساتھ تاریخ و حدیث کے ریکارڈ میں محفوظ کر دیا ہے۔ اس موقع پر جناب سرور کائناتؐ نے یہ بات بطور خاص فرمائی تھی کہ تم لوگ میری جو باتیں سن رہے ہو انہیں آگے پہنچاتے رہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا ’’رب مبلغ اوعی لہ من سامع‘‘ کہ جس شخص کو بات پہنچائی جائے وہ بسا اوقات سننے والے سے زیادہ بات کو سمجھتا ہے اور یاد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادی اصول اور عصر حاضر

۳ نومبر ۲۰۱۷ء

ایماندار افسران کی تلاش

آج ایک قومی اخبار کے گوجرانوالہ ایڈیشن میں مقامی صفحہ کی اس بڑی سرخی نے بار بار اپنی طرف متوجہ کیا کہ ’’ایماندار ایس ایچ اوز کی تلاش، ریجن بھر کے پولیس انسپکٹروں کے کوائف طلب‘‘۔ ہمارے موجودہ معاشرتی ماحول میں یہ کوئی بہت بڑی خبر نہیں ہے کیونکہ صرف پولیس نہیں بلکہ کم و بیش ہر شعبہ اور ادارہ میں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے کہ ایماندار افراد تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اس پر اسلامی تاریخ کے دو حوالے ذہن میں آگئے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایماندار افسران کی تلاش

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۷ء

انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی اصلاحات کے بل میں قادیانیوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی خفیہ ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں نیا ترمیمی بل طے ہو جانے اور حکومتی حلقوں کی طرف سے متعدد وضاحتوں کے باوجود مطلع صاف نہیں ہو رہا اور شکوک و شبہات کا ماحول بدستور موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ کیا اس قسم کی فضا قائم کرنے کا مقصد کسی اور خفیہ کام سے توجہ ہٹانا تو نہیں ہے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ قوم کو ایک طرف الجھا کر پس منظر میں دوسرے کام سر انجام دیے جاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ء

اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیے گئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی پر مشتمل اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے انکوائری کے دوران بہت سے دیگر قومی اور دینی مسائل کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کے خدوخال کو بھی موضوع بحث بنایا تھا اور سرکردہ علماء کرام سے اس سلسلہ میں متنوع سوالات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس وقت ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح کی عدلیہ کا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے بارے میں تصور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

پارلیمنٹ میں راجہ محمد ظفر الحق، مولانا فضل الرحمان، کیپٹن صفدر، شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، میر ظفر اللہ جمالی، چودھری پرویز الٰہی، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر حافظ حمد اللہ اور مختلف جماعتوں کے دیگر سرکردہ حضرات کو ایک صف میں دیکھ کر 1974ء کا وہ منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے آگیا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمد مرحوم، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، حاجی مولا بخش سومرو مرحوم، مولانا عبد الحقؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا کوثر نیازیؒ، مولانا محمد ذاکرؒ اور دیگر قائدین نے متفقہ طور پر اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت اور قومی وحدت کا منظر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

5 اکتوبر کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کی جگہ وفاق کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس موقع پر ملک بھر سے دینی مدارس کے سرکردہ حضرات جمع ہو رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کرام اور دینی مدارس کی وحدت و مرکزیت، تعلیمی ترقی اور علمی وقار کی علامت ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی شاندار روایات اور تسلسل کے مطابق ملک و قوم اور دین و مسلک کی خدمات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

۵ اکتوبر ۲۰۱۷ء

جنرل باجوہ اور بلوچستان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پونے دو سو کے لگ بھگ طلبہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں تلقین کی ہے کہ وہ مختلف بیرونی ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں اور وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ بلوچستان کے شہریوں اور نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل باجوہ اور بلوچستان

۳۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

ماہ ستمبر کے دوران ملک بھر میں جہاں وطن عزیز کے جغرافیائی دفاع و استحکام کے حوالہ سے مختلف تقریبات اور پروگراموں کا اہتمام ہوا وہاں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے بھی ملک کے نظریاتی دفاع و استحکام کے فروغ کے موضوع پر متنوع تقریبات منعقد کی گئیں۔ 6 ستمبر کو 1965ء کی جنگ کی یاد میں ’’یوم دفاع‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ 7 ستمبر کو ’’یوم فضائیہ‘‘ کے علاوہ ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس روز 1974ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی دستوری فیصلہ کیا تھا۔ مجھے اس حوالہ سے دو تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

۲۶ ستمبر ۲۰۱۷ء

ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ اللہ تعالیٰ سود کے ذریعہ رقم کو بے برکت اور ڈی ویلیو کر دیتے ہیں جبکہ صدقہ کی صورت میں رقم کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے برکتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: مثلاً مال کسی نقصان میں ضائع ہو جائے، بے مقصد کاموں پر خرچ ہو جائے، یا وہ کام جو کم مال خرچ کرنے سے ہو سکتے ہوں ان پر زیادہ مال خرچ ہو جائے وغیرہ۔ یوں سمجھ لیں کہ بے برکتی ہماری مصنوعی کرنسی کی طرح ہے کہ گنتی بڑھتی جاتی ہے مگر افادیت اور قدر مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ء

اراکان اور کشمیر میں مماثلت

میانمار (برما) کی حکمران پارٹی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے کہ روہنگیا (اراکان) اور کشمیر کے تنازعات ملتے جلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح بھارت کو کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا ہے اسی طرح ہمیں بھی روہنگیا میں مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہے۔ آنگ سان سوچی نے تو یہ بات بھارتی حکمرانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کی ہے جو ایک مفروضہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان اور کشمیر میں مماثلت

۱۲ ستمبر ۲۰۱۷ء

’’اسلامائزیشن‘‘ کو درپیش خطرات اور آل پارٹیز کانفرنسیں

بہت سے اہم قومی و بین الاقوامی معاملات کچھ نہ کچھ کہنے کا تقاضہ کر رہے ہیں مگر ’’اسلامائزیشن‘‘ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور اسی حوالہ سے گزشتہ ہفتہ کے دوران مختلف مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں کے قومی سطح پر دو تین مشترکہ اجتماعات ہوئے ہیں جن کے فیصلوں کو ریکارڈ میں لانا ضروری ہے، چنانچہ ان اجتماعات کی اجمالی رپورٹنگ اس کالم میں شامل کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’اسلامائزیشن‘‘ کو درپیش خطرات اور آل پارٹیز کانفرنسیں

یکم ستمبر ۲۰۱۷ء

قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم جناب جسٹس دوست محمد خان نے لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

۲۷ اگست ۲۰۱۷ء

نیا سرکاری جال اور دینی حلقوں کا ردعمل

دستور پاکستان ایک بار پھر زیربحث ہے اور ’’خود بدلتے نہیں آئین کو بدل دیتے ہیں‘‘ کے مصداق دستور کی وہ دفعات جو ہماری سیاسی قیادت کے گروہی مفادات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، انہیں بدل دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ جبکہ دستور میں ترمیم و تبدیلی کی جب بھی کسی حوالہ سے بات ہوتی ہے، وہ عالمی اور قومی سیکولر عناصر بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو دستور کی اسلامی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیا سرکاری جال اور دینی حلقوں کا ردعمل

۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت

اس سال بھی یوم آزادی کے حوالہ سے دینی مدارس میں تقریبات کا سلسلہ رہا اور تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے مختلف مراحل کا ان تقریبات میں تذکرہ ہوا۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا محمد فیاض خان سواتی نے اس سلسلہ میں عمومی معاشرتی مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تبصرے میں اس خدشہ کا بجا طور پر اظہار کیا ہے کہ اگر ان تقریبات کو ایک مناسب دائرے میں کنٹرول نہ کیا گیا تو بہت سی غیر متعلقہ سرگرمیوں کے ان کے ساتھ شامل ہونے سے مستقبل میں بعض مسائل بھی کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت

۲۲ اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری اقدامات

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ میں پیشگوئی کے طور پر اپنی امت کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ تم بھی یہود و نصارٰی کے نقش قدم پر چلو گے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں یا کریں گے تم اس سے بالشت بھر بھی پیچھے نہیں رہو گے۔ چنانچہ یہی کچھ ہو رہا ہے، مغربی اقوام جو کچھ کرتی ہیں وہی کچھ کرنا ہمارے ہاں معاشرتی فریضہ قرار پا جاتا ہے اور مغرب کی بالادستی میں چلنے والے ادارے جو کہہ دیتے ہیں اس پر عملدرآمد ہماری ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس تعمیل حکم میں ہم معاشرتی ضروریات اور زمینی حقائق تک کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری اقدامات

۱۹ اگست ۲۰۱۷ء

عید الاضحیٰ کے موقع پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی اپیل

چودہ اگست کو اہل پاکستان نے اور پندرہ اگست کو انڈیا کے باشندوں نے یوم آزادی منایا کہ اس دن انہیں فرنگی استعمار سے آزادی ملی تھی۔ مگر اسی خطہ کے دو کونوں کے لاکھوں عوام ابھی آزادی کو ترس رہے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر کے باشندوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا جو ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے۔ جبکہ اراکان (برما) کے باشندوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں بھی پاکستان کا حصہ بنایا جائے اور اس کے بعد سے وہ مسلسل اس معصوم خواہش کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عید الاضحیٰ کے موقع پر برما کے مظلوم مسلمانوں کی اپیل

۱۷ اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کی مہم

8 اگست منگل کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ضلع بھر کے دیوبندی علماء اور سرگرم کارکنوں کا بھرپور کنونشن ہوا جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ مجددیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم نے کی۔ کنونشن سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اور دیگر سرکردہ زعماء نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کو غیر مؤثر بنانے کی مہم

۱۱ اگست ۲۰۱۷ء

چینی زبان کی آمد

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چینی زبان کی آمد

۳ اگست ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہنما، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے سابق امیر اور ریاستی اسمبلی کے سابق رکن شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کے ساتھ راقم الحروف نے گزشتہ صدی عیسوی کے آخری سال جولائی کے دوران پلندری حاضر ہو کر جہادِ کشمیر میں علماء کرام کے کردار اور شرعی قاضیوں کے مذکورہ نظام کے پس منظر کے حوالہ سے ایک انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے ان معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ یہ انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا تھا، موجودہ حالات میں اس کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کے نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

عام طور پر ایک مغالطہ پایا جاتا ہے کہ درس نظامی کا یہ نصاب بغداد کے ملا نظام الدین طوسیؒ کا مرتب کردہ ہے جو وہاں کے مدرسہ نظامیہ میں رائج رہا، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ دراصل لکھنو کے ملا نظام الدین سہالویؒ کا مرتب کردہ نصاب ہے جو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کے معاصر تھے۔درس نظامی کے نصاب میں اس وقت کی دینی اور قومی ضروریات کے حوالہ سے تمام ضروری دینی و عصری علوم و فنون شامل تھے جن کی ایک چھت کے نیچے تعلیم دی جاتی تھی۔ ملک کے تمام لوگ حتٰی کہ غیر مسلم بھی یہی نصاب پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کا پس منظر

۲۸ جولائی ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

آزاد کشمیر کے چند سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی ہے کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر میں سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم کی حکومتوں کے دور میں حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ اور دیگر اکابر علماء کرام کی مساعی سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقدمات کی سماعت کے لیے جج اور قاضی کے اشتراک سے دو رکنی عدالت کا جو نظام شروع ہوا تھا، اور جس سے لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق طے ہونے کا سلسلہ چلا آرہا ہے، اسے ختم کرنے اور ہائی کورٹ کی سطح پر قائم شرعی عدالت کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر بعض اقدامات عمل میں آچکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کورٹ آزاد کشمیر کے اختیارات اور حالیہ صدارتی آرڈیننس

۲۴ جولائی ۲۰۱۷ء

ملی و ملکی حالات اور پاکستان شریعت کونسل کا سالانہ اجلاس

مرکزی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ مولانا عبدا لرؤف فاروقی، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبد الخالق، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا عبد الرزاق، مفتی محمد نعمان احمد، قاری محمد نعیم سعدی، قاری عبید اللہ عامر، جناب صلاح الدین فاروقی، پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی و ملکی حالات اور پاکستان شریعت کونسل کا سالانہ اجلاس

۲۱ جولائی ۲۰۱۷ء

سالانہ تعطیلات ۱۴۳۸ھ کا آخری سفر

ظہر کی نماز ہم نے ملہو والی میں پڑھی جو حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور حضرت مولانا نور محمدؒ کے حوالہ سے دینی حلقوں میں ایک تعلیمی اور تحریکی مرکز کے طور پر تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وہاں تعلیمی مرکز بھی ہے۔ مجھے جماعت اسلامی کے حلقہ کے ایک دینی مدرسہ میں ’’وحدت امت کے تقاضوں‘‘ پر گفتگو کرنا تھی۔ اس علاقہ کی مسلکی فضا کے پیش نظر میں وحدت امت پر گفتگو کے لیے تمہید سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں پروگرام تھا اس میں داخل ہوتے ہوئے نظر گیٹ پر لکھے ہوئے ’’مسجد ذوالنورین‘‘ پر پڑ گئی اور مجھے عنوان مل گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سالانہ تعطیلات ۱۴۳۸ھ کا آخری سفر

۱۸ جولائی ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ’’قومی سلامتی کونسل‘‘ نے ۱۹۹۱ء کے دوران عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے حوالہ سے ایک منصوبہ طے کیا تھا جو وائس آف امریکہ سے نشر ہوا اور روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۵ جولائی ۱۹۹۲ء کو اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ربع صدی کے بعد اسے ارباب فکر و دانش کی خدمت میں اس گزارش کے ساتھ ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے کہ اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کی اب تک کی صورتحال کیا ہے اور اس وقت ہم کس مرحلہ سے گزر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی

۱۳ جولائی ۲۰۱۷ء

ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدۂ عمرانی کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

یکم جولائی ۲۰۱۷ء

سوشل میڈیا میں زیر بحث چند سوالات کا مختصر جائزہ

رمضان المبارک کے دوران مختلف سوالات سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے جن میں سے بعض کے بارے میں راقم الحروف سے بھی کچھ دوستوں نے پوچھا، ان کے حوالہ سے جو گزارشات پیش کی گئیں ان کا ضروری خلاصہ نظر ثانی کے بعد قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوشل میڈیا میں زیر بحث چند سوالات کا مختصر جائزہ

۲۶ جون ۲۰۱۷ء

’’ریاست مدینہ‘‘ کا سماجی و تاریخی پس منظر

یہاں ایک تاریخی سوال سامنے آتا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ تو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے قریشیوں کے بے پناہ مظالم سے تنگ آکر پناہ لینے کے لیے یثرب کی طرف آئے تھے، یہ آتے ہی ریاست و حکومت کی صورت کیسے بن گئی؟ اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے ہجرت نبویؐ کے مقاصد اور اس کے ساتھ اس دور کے سماجی تناظر پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس وقت کے آثار و روایات کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہجرت کا مقصد صرف کفار مکہ کے مظالم سے نجات اور پناہ کی جگہ حاصل کرنا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ریاست مدینہ‘‘ کا سماجی و تاریخی پس منظر

۲۴ جون ۲۰۱۷ء

’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی سیاست اور رانا نذر الرحمان مرحوم

گزشتہ دنوں رانا نذر الرحمان بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آج کی نسل ان سے متعارف نہیں ہے لیکن جن لوگوں نے انہیں کوچۂ سیاست میں چلتے پھرتے دیکھا ہے ان کے لیے وہ بھولنے والی شخصیت نہیں ہے۔ میں نے تو ان کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے، باہمی محاذ آرائی کا بھی اور پھر رفاقت اور دوستی کا بھی۔ جب عملی سیاست میں سرگرم ہوا تو صدر محمد ایوب خان مرحوم کا آخری دور تھا، ان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت سے استعفیٰ دے کر ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کے نعرے پر جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بگل بجا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’لیفٹ رائٹ‘‘ کی سیاست اور رانا نذر الرحمان مرحوم

۲۴ جون ۲۰۱۷ء

’’ ایک سو اَسی نفلوں سے جیت‘‘

مجھے کھیلوں سے اس حد تک کبھی دلچسپی نہیں رہی جو معمولات اور ضروری کاموں پر اثر انداز ہو مگر بہرحال کچھ نہ کچھ تعلق ضرور چلا آرہا ہے۔ لڑکپن کے دور میں گکھڑ میں میرے ہم عمر دوستوں نے کرکٹ کی دو ٹیمیں بنا رکھی تھیں یونین کلب اور آزاد کلب کے نام سے۔ ان میں سے ایک کے کپتان محمد یونس بھٹی اب مرحوم ہو چکے ہیں جبکہ دوسری ٹیم کے کپتان محمد عبد اللہ خالد بقید حیات ہیں۔ دونوں میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور خالد صاحب کی صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ ایک سو اَسی نفلوں سے جیت‘‘

۲۰ جون ۲۰۱۷ء

امریکہ بنام امریکہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تین امریکی ریاستوں کے جذبات اور اپیل کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی عوام بالخصوص وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو وہ تبدیلیاں ہضم نہیں ہو رہیں جو امریکہ کے موجودہ عالمی کردار کے تسلسل کی وجہ سے سامنے آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل واشنگٹن نے آزادی کےبعد امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکی حکومت کو تلقین کی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور خود کو امریکہ کے قومی معاملات تک محدود رکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ بنام امریکہ

۱۷ جون ۲۰۱۷ء

مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

۱۵ جون ۲۰۱۷ء

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز`

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز`

۱۲ جون ۲۰۱۷ء

انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحات

ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے طور پر ہم بھی انقلابِ ایران کا خیرمقدم کرنے والوں میں شامل تھے اور ہم نے یہ توقع وابستہ کر لی تھی کہ ایران کا کامیاب اور بھرپور مذہبی انقلاب عالم اسلام کی ان مذہبی قوتوں اور تحریکوں کا معاون بنے گا جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی حتیٰ کہ خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلامی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے ’’فقہ جعفریہ‘‘ کے نفاذ کی تحریک کے عنوان سے پریشان کن مسائل کھڑے کر دیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحات

۹ جون ۲۰۱۷ء

’’تجدید‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں بنیادی فرق

تجدید اور مجدد کی اصطلاح تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی سے لی گئی ہے جس میں یہ پیش گوئی فرمائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے آغاز پر ایک مجدد بھیجے گا جو دین کی تجدید کرے گا۔ جبکہ تجدید کا معنٰی علماء امت کے ہاں یہ معروف چلا آرہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی اور افراد کے اعمال و اقدار میں غیر محسوس طریقہ سے کچھ اضافے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس طرح کھیت اور باغ میں کچھ خودرو پود پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں وقفہ وقفہ سے تلف کر کے چھانٹی کر دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’تجدید‘‘ اور ’’تجدد‘‘ میں بنیادی فرق

۶ جون ۲۰۱۷ء

تقابلِ ادیان و مسالک ۔ تقاضے اور آداب

ہمارے ہاں ’’تقابلِ ادیان‘‘ کے عنوان سے مختلف مدارس اور مراکز میں کورسز ہوتے ہیں جن میں ادیان و مذاہب کے درمیان چند اعتقادی اختلافات پر مباحثہ و مناظرہ کی تربیت دی جاتی ہے جو اپنے مقاصد کے اعتبار سے انتہائی ضروری ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں ہے۔ مگر میری طالب علمانہ رائے میں یہ اس وسیع تر موضوع کے لحاظ سے انتہائی محدود اور جزوی سا دائرہ ہے جبکہ اس عنوان پر اس سے کہیں زیادہ وسیع تناظر میں گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقابل سے پہلے تعارف ضروری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تقابلِ ادیان و مسالک ۔ تقاضے اور آداب

۴ جون ۲۰۱۷ء

ریاست، حکومت اور مذہب کا باہمی تعلق

قرآن و سنت کی معاشرتی تعلیمات، اسلامی تاریخ کے دور نبویؐ اور خلافت راشدہ کے نظام سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے جدید تعلیم یافتہ دوستوں کا ایک حلقہ مسلسل غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ یورپ کے قرون مظلمہ (تاریک صدیوں) کی طرح ہمارا ماضی بھی بے علمی، جہالت اور ظلم و جبر سے عبارت تھا اور انقلابِ فرانس نے مغربی معاشرہ کی طرح ہمیں بھی پہلی بار اس دور سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اور اس کے فلسفہ و نظام کا طوق ہر وقت گردن میں پہنے رہنے میں عافیت محسوس کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ریاست، حکومت اور مذہب کا باہمی تعلق

۳۰ مئی ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم اور لفظوں کی میناکاری

لفظوں کی میناکاری کے ذریعے قرآنی اصطلاحات کے اجماعی مفہوم کو مشکوک کرنے کی مہم کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ ان دنوں خود مجھے اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے ایک میسج میں بتایا کہ وزیرآباد کے کوئی بزرگ ’’ربوٰا‘‘ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں، میں نے انہیں آپ کا فون نمبر دے دیا ہے وہ آپ سے اس سلسلہ میں ملیں گے۔ ایک روز کے بعد ان صاحب کا فون آگیا، وہ ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم اور لفظوں کی میناکاری

۲۷ مئی ۲۰۱۷ء

اسلامی قوانین کے تحفظ پر قومی سیمینار

کانفرنس میں درج ذیل اعلامیہ منظور کیا گیا۔ ’’وطن عزیز پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کے خلاف ایک منظم منصوبہ کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ اس کام میں بعض ملکی اداروں اور تنظیموں سے بھی سوئے استفادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مختلف اسلامی شقوں کو بے اثر کرنے کے لیے اب تک کئی ایک اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مشال خان کے بہیمانہ قتل کے بعد سے توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے اور قرارداد مقاصد کو پاکستان کے آئین سے نکالنے کے حوالے سے ملکی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی قوانین کے تحفظ پر قومی سیمینار

۲۴ مئی ۲۰۱۷ء

غیر سودی بینکاری کا فروغ اور ہماری ذمہ داریاں

رسک کم اور نفع زیادہ کی بنیاد پر کی جانے والی غیر سودی بینکاری کو کیا اسلامی بینکاری قرار دیا جا سکتا ہے؟ مجھے اس میں تامل ہے اس لیے کہ اسلامی معیشت کی بنیاد عقیدہ، اخلاقیات اور سوسائٹی کے وسیع تر سماجی مفادات پر ہے جبکہ مغرب کی یہ غیر سودی بینکاری محض مالیاتی مفادات کا پس منظر رکھتی ہے۔ اسلام میں مفادات کا حصول ثانوی درجہ رکھتا ہے جبکہ عقیدہ و اخلاق کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کی مجموعی دیانت اور وسیع تر سماجی مفاد کا تحفظ اسلام کے مقاصد میں اولین حیثیت کا حامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر سودی بینکاری کا فروغ اور ہماری ذمہ داریاں

۲۱ مئی ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم

کسی بھی زبان کے کسی بھی لفظ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کا ایک تو لغوی ور وضعی معنٰی ہوتا ہے جس کے لیے وہ وضع کیا جاتا ہے اور ابتداء میں بولا جاتا ہے، پھر جب وہ لفظ عام استعمال کے ذریعہ کسی مخصوص معنٰی پر زیادہ بولا جانے لگے یا کسی شعبہ میں اسے کسی خاص مفہوم کے لیے مخصوص کر لیا جائے تو وہ اس کا اصطلاحی معنٰی کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ لفظ اس سے مختلف کسی مطلب کے لیے استعمال ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا مصداق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم

۱۸ مئی ۲۰۱۷ء

سانحۂ مستونگ

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ مستونگ

۱۴ مئی ۲۰۱۷ء

فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت

گزشتہ دو تین روز وفاقی دارالحکومت اور اس کے اردگرد گزارنے کا موقع ملا۔ باگڑیاں گکھڑ کے مدرسہ کے استاد مولانا محمد جاوید اور ان کے ساتھی محمد عمران رفیق سفر تھے۔ ہماری بڑی ہمشیرہ محترمہ اچھڑیاں ہزارہ سے آنکھوں کے آپریشن کے لیے چھوٹی ہشیرہ کے پاس جھلم آئی ہوئی ہیں جہاں ان کی بیمار پرسی اور دونوں بہنوں سے ملاقات کی۔ ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ جھلم کے مہتمم مولانا حافظ محمد ابوبکر صدیق حال ہی میں برطانیہ کے سفر سے واپس آئے ہیں، ان سے وہاں کے حالات معلوم کیے اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت

۱۱ مئی ۲۰۱۷ء

مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالم‘‘ پر ایک نظر

کہا جاتا ہے کہ عباسی دور کے ایک معروف خطیب سحبان بن وائل اپنی زبان کی لکنت کی وجہ سے بعض حروف روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے تھے لیکن جب وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے مگر ان کے خطاب میں وہ حروف نہیں ہوتے تھے اور ایسے حروف کو استعمال میں لائے بغیر وہ اپنا مافی الضمیر پوری مہارت اور اعتماد کے ساتھ بیان کر دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی خطابت و فصاحت ضرب المثل بن گئی تھی اور بڑے بڑے فصیح اللسان خطباء کو اپنے وقت کا سحبان کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالم‘‘ پر ایک نظر

۶ مئی ۲۰۱۷ء

جامعہ فتحیہ لاہور میں ’’احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ کا پروگرام

بتایا جاتا ہے کہ 1857ء کے ہنگاموں کے بعد جب دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا تو لاہور میں سب سے پہلے نیلا گنبد میں رحیم بخش مرحوم نامی تاجر کی مساعی سے ’’مدرسہ رحیمیہ‘‘ قائم ہوا تھا اور پھرا نجمن حنفیہ اور انجمن حمایت اسلام کے تحت مختلف مدارس کا آغاز ہوا۔ اسی دوران اچھرہ میں وہاں کے ایک مخیر بزرگ میاں امام الدینؒ (وفات 1906ء) نے اپنے لائق فرزند حافظ فتح محمدؒ کے لیے 1875ء میں ’’مدرسہ فتحیہ‘‘ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ فتحیہ لاہور میں ’’احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ کا پروگرام

۵ مئی ۲۰۱۷ء

مروجہ سودی نظام اور ربع صدی قبل کی صورتحال

سودی نظام کے خاتمہ کی بحث ابھی تک جاری ہے اور وفاقی شرعی عدالت حالات کے مختلف ہونے کے بہانے سودی نظام کے خاتمہ کے مقدمہ کو غیر متعینہ عرصہ کے لیے ملتوی کر چکی ہے۔ مگر اس حوالہ سے اب سے ربع صدی قبل کی صورتحال میں اس وقت کے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب غلام اسحاق خان مرحوم کے نام ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیے جو راقم الحروف نے انہیں ’’کھلے خط‘‘ کی صورت میں ارسال کیا تھا۔ یہ خط ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور 20 مارچ 1992ء کے شمارہ میں شائع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مروجہ سودی نظام اور ربع صدی قبل کی صورتحال

۲ مئی ۲۰۱۷ء

بین الاقوامی علماء کانفرنس قاھرہ ۱۹۶۵ء سے مولانا مفتی محمودؒ کا خطاب

گزشتہ روز ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی پرانی فائیلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر قائد جمعیۃ علماء اسلام مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا ایک اہم خطاب نظر سے گزرا جو انہوں نے مئی ۱۹۶۵ء کے دوران قاہرہ میں ’’مجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کی سالانہ کانفرنس میں ارشا د فرمایا تھا۔ حکومت مصر کے زیراہتمام منعقد ہونے والی علماء اسلام کی اس بین الاقوامی کانفرنس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی علماء کانفرنس قاھرہ ۱۹۶۵ء سے مولانا مفتی محمودؒ کا خطاب

۲۹ اپریل ۲۰۱۷ء

سودی نظام کا شکنجہ اور ’’عذر لنگ‘‘

وفاقی شرعی عدالت نے گزشتہ دنوں سودی نظام کے بارے میں مقدمہ کی سماعت یہ کہہ کر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے کہ جب سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت حالات آج سے مختلف تھے، جبکہ آج کے حالات میں سود، ربوٰا اور انٹرسٹ کی کوئی متعینہ تعریف اور ان کے درمیان فرق واضح نہیں ہے اس لیے ان حالات میں مقدمہ کی سماعت کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں اہل دین اور اہل علم کی طرف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان شریعت کونسل نے بھی گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک مشاورت کا اہتمام کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا شکنجہ اور ’’عذر لنگ‘‘

۲۰ اپریل ۲۰۱۷ء

’’بیانیہ بیانیہ‘‘ کا کھیل

ہمارے بہت سے دانشور کچھ عرصہ سے باقی سارے کام چھوڑ کر ’’بیانیہ بیانیہ‘‘ کھیلنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ میڈیا کے مختلف شعبوں میں بیانیہ، جوابی بیانیہ، قومی بیانیہ، ریاستی بیانیہ، دینی بیانیہ، متبادل بیانیہ جیسے متنوع عنوانات کے ساتھ بحث و مباحثہ کی گرم بازاری ہے اور ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ہم اس ’’فری اسٹائل کبڈی میچ‘‘ کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اس ’’بیانیہ‘‘ کی غرض کیا ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’بیانیہ بیانیہ‘‘ کا کھیل

۱۶ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ کے صد سالہ عالمی اجتماع کی کامیابی پر مبارکباد

شیخ الہندؒ کی راہنمائی میں ایک صدی قبل کے دینی راہنماؤں نے آزادی و خودمختاری اور نفاذِ اسلام کے دو بنیادی اہداف کے لیے تحریک کا جو نیا رخ طے کیا تھا، اس کی بنیاد میں (۱) عدم تشدد پر مبنی پر امن سیاسی جدوجہد (۲) غیر مسلم باشندگان وطن کی اس تحریک میں شرکت (۳) جدید تعلیم یافتہ حضرات کو اس کی قیادت کے لیے آگے لانا (۴) اور تمام مذہبی مکاتب فکر کو اس تحریک کا عملی حصہ بنانا شامل تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے حالیہ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کو دیکھ کر یہ اطمینان بخش اندازہ ہوتا ہے کہ دینی جدوجہد کے یہ اہداف اور دائرے نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ کے صد سالہ عالمی اجتماع کی کامیابی پر مبارکباد

۱۳ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

جمعیۃ علماء ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام منعقدہ سہ روزہ اجلاس میں امام المحدثین علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے تاریخی خطبۂ صدارت میں جمعیۃ کی آٹھ سالہ کارکردگی، مقاصد اور عزائم کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش فرمایا تھا۔ یہ خطبۂ صدارت ایک وقیع فکری و علمی دستاویز ہے جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

۷ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ العلماء اسلام کے صد سالہ عالمی اجتماع کے موقع پر چند گزارشات

’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے حوالہ سے ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایک عرصہ کے بعد جمعیۃ کی قیادت اور کارکن ہر سطح پر متحرک نظر آرہے ہیں جو میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے یقیناً خوشی اور حوصلہ کی بات ہے۔ اس موقع پر مختلف امور کو سامنے رکھتے ہوئے دو تین گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے، ہو سکتا ہے کسی حد تک فائدہ دے جائیں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر خلافت سنبھالی تھی، اس سے قبل حضرات صحابہ کرامؓ کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہو چکی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ العلماء اسلام کے صد سالہ عالمی اجتماع کے موقع پر چند گزارشات

۵ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماع

پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام علماء حق کی خدمات کے حوالہ سے صد سالہ عالمی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں تیاریاں جاری ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کی ہر سطح کی قیادت اور کارکن اس کیلئے متحرک نظر آرہے ہیں۔ تیاریوں کے حوالہ سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بہت بڑا اجتماع ہوگا جو ملک کی دینی جدوجہد اور قومی سیاست میں ایک نئی ہلچل اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ’’صد سالہ‘‘ کے لفظ کے بارے میں بعض دوستوں کو الجھن ہو رہی ہے جسکے باعث جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء اسلام کی تاریخ اور ان کے باہمی تعلق کی بحث چل پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماع

یکم اپریل ۲۰۱۷ء

’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘

یہ بات اس حد تک درست ہے کہ اسلام کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور اس دین نے قیامت تک باقی اور محفوظ رہنا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمارے عقیدے و ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کریم مکمل اور محفوظ حالت میں رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور اس کی تعبیر و تشریح میں جناب نبی اکرمؐ کی حدیث و سنت کا تسلسل بھی قائم رہے گا۔ حتیٰ کہ اسلامی سوسائٹی کی عملی اور آئیڈیل شکل بھی صحابہ کرامؓ کی معاشرتی زندگی کی صورت میں تاریخ کے ریکارڈ کا بدستور حصہ رہے گی۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اور دین کو کسی حوالہ سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘

۲۹ مارچ ۲۰۱۷ء

یوم پاکستان ۲۰۱۷ء

حتیٰ کہ اب یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا جا رہا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگانے میں اور پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین نافذ کرنے کے اعلان میں تحریک پاکستان کی قیادت سنجیدہ نہیں تھی بلکہ صرف وقتی سیاست کی خاطر ایسا کیا گیا تھا۔ اگرچہ درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے ارشادات اور سابق وزیراعظم خان محمد لیاقت خان شہید کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد مقاصد اس خیال کی نفی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم پاکستان ۲۰۱۷ء

۲۵ مارچ ۲۰۱۷ء

اہانتِ رسولؐ پر ایک صحابیؓ کا طرز عمل

صحابیٔ رسولؐ حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ جہاد کے ایک سفر میں وہ آنحضرتؐ کے ساتھ تھے اور عبد اللہ بن ابی بھی چند ساتھیوں کے ساتھ شریک تھا۔ ایک مقام پر مہاجرینؓ اور انصارؓ کے چند لوگوں میں کسی بات پر تنازعہ ہوگیا جس پر عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ مہاجرین جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہوئے ہیں ان کا معاملہ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے انصار مدینہ ان مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کا سلسلہ روک دینا چاہیے تاکہ یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہانتِ رسولؐ پر ایک صحابیؓ کا طرز عمل

۱۹ مارچ ۲۰۱۷ء

وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

۱۷ مارچ ۲۰۱۷ء

انسدادِ سود قومی کنونشن

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی زیرصدارت منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حامد میر، مولانا اشرف علی، جناب عبد اللہ گل، اعجاز احمد چودھری، مفتی محمد سعید خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم خان اور جناب اسد اللہ بھٹو کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، جماعت الدعوہ پاکستان، پاکستان عوامی تحریک، وفاق العلماء الشیعہ اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہنما شامل ہیں۔ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا اعلامیہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسدادِ سود قومی کنونشن

۱۵ مارچ ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء اسلام کا تعارف ، مولانا مفتی محمودؒ کے قلم سے

اپریل کے پہلے عشرہ کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’عالمی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ وطن عزیز کی موجودہ عمومی صورتحال خاص طور پر ملک کے نظریاتی تشخص، اسلامی تہذیب و معاشرت اور دستور و قانون کی اسلامی دفعات کے خلاف بین الاقوامی اور ملکی سیکولر لابیاں جس طرح ہر سطح پر متحرک ہیں اس کے پیش نظر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا یہ اجتماع، بلکہ کسی بھی دینی حوالہ سے اس نوعیت کے عوامی اجتماعات قومی اور ملی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کا تعارف ، مولانا مفتی محمودؒ کے قلم سے

۱۲ مارچ ۲۰۱۷ء

صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

۹ مارچ ۲۰۱۷ء

’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

۳ مارچ ۲۰۱۷ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں سیمینار

میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں سیمینار

یکم مارچ ۲۰۱۷ء

سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

دینی طبقات کی بے بسی یہ ہے کہ وہ عملی طور پر صرف مطالبات ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتنی پارلیمانی قوت ہوتی ہے کہ وہ جمہوری ذرائع سے اپنے مطالبات کو عملی جامہ پہنا سکیں، اور نہ ہی ملک کے دیگر ریاستی اداروں میں ان کی کوئی نمائندگی نظر آتی ہے کہ وہ منظور شدہ قوانین کو حقیقی معنوں میں نافذ کروا سکیں۔ بہرحال حسب صورتحال دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے دوٹوک مطالبہ کریں کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے اپنی دستوری ذمہ داری کو فوری طور پر پورا کرے۔ اس مطالبہ کو مؤثر بنانے کے لیے دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

۱۸ فروری ۲۰۱۷ء

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے مطالبات

اصل ضرورت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴، اور ۱۹۸۴ء کی طرز کی ہمہ گیر تحریک کا ماحول پیدا کرنے کی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب صورتحال خاصی مختلف ہو چکی ہے۔ مذکورہ تحریکات میں ذرائع ابلاغ بالخصوص اخبارات کی مجموعی حمایت تحریک ختم نبوت کو حاصل ہوتی تھی، اب میڈیا کی عمومی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی اور میڈیا کے اہم مراکز خود ان مطالبات کے خلاف فریق کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ماضی کی ان تحریکات کے دوران ملک کے اندر بیرونی سرمائے اورا یجنڈے کے تحت کام کرنے والی سینکڑوں این جی اوز اس طرح متحرک نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے مطالبات

۱۴ فروری ۲۰۱۷ء

قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

اپنی نوعیت کے لحاظ سے بلاشبہ یہ بل تاریخی نوعیت کا ہے جس کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے ایک عرصہ سے تقاضہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت ملک بھر میں ہر سطح کی عدالتوں میں مقدمات کی جو بھرمار ہے اور جس طرح کوئی تنازع اپنے حل کے لیے سالہا سال تک عدالتوں کی فائلوں میں دبا رہتا ہے اس کے پیش نظر یہ مصالحتی او رپنچایتی سسٹم ایک اہم قومی ضرور ت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نچلی سطح پر عام نوعیت کے تنازعات کے تصفیہ کے لیے اس قسم کے سسٹم موجود ہیں جن کو دستوری اور قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

۸ فروری ۲۰۱۷ء

مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

ان سب شعبوں میں گزشتہ سات عشروں کی صورتحال پر نظر ڈال لیں آپ کو تبدیلی کے مطالبات نظر آئیں گے، اصلاح و تجاویز کی فائلیں ادھر سے ادھر گھومتی دکھائی دیں گی، بیانات اور تجزیوں کا وسیع تناظر سامنے آئے گا، وعدوں اور تسلیوں کے سبز باغ آپ کی نگاہوں کے سامنے رہیں گے، احتجاج و اضطراب کی لہریں بھی مسلسل موجود ملیں گی لیکن کیا مجال ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کسی شعبہ میں کوئی عملی تبدیلی دیکھنے میں آجائے۔ ہم ستر سال کے بعد بھی کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو ہم اس سے بھی پیچھے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

۴ فروری ۲۰۱۷ء

راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر

موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے طلبہ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنے علم کو پختہ کریں اور تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں۔ اس لیے کہ علمی استعداد اور صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر آج کے فکری اور علمی فتنوں کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ جبکہ ادھورا علم اور ناقص استعداد خود فتنوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے ’’ملاّ‘‘ بننے کی کوشش کریں اور ’’نیم ملاّ‘‘ نہ بنیں کیونکہ نیم ملا ہمیشہ ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر

۲۵ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ

گزشتہ دو روز سے صدمہ در صدمہ در صدمہ کی کیفیت میں ہوں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی وفات پر صدمہ کے اظہار کے لیے حواس کو مجتمع کر رہا تھا کہ مدینہ منورہ سے استاذِ محترم حضرت قاری محمد انورؒ کی وفات کی خبر نے دوہرے صدمے سے دوچار کر دیا ۔ اور ابھی اس کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش میں تھا کہ جنوبی افریقہ سے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی اچانک وفات کی خبر آگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تینوں بزرگوں کا تذکرہ خاصی تفصیل کا متقاضی ہے مگر سرِدست ابتدائی تاثرات ہی پیش کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ

۱۸ جنوری ۲۰۱۷ء

تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

آج کی اس تقریب کا عنوان ’’تجدیدِ عہد اور دفاعِ وطن‘‘ ہے مگر میں اس میں ایک لفظی ترمیم کر کے اسے ’’تجدیدِ عہد برائے دفاعِ وطن‘‘ کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا اور اپنے ان عزیز نوجوانوں کو جو اسلام، وطن اور قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں، وطنِ عزیز پاکستان کے حوالہ سے چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وطنِ عزیز پاکستان اس وقت ہم سے جن باتوں کا تقاضہ کر رہا ہے اسے سامنے رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ وطنِ عزیز کا پہلا تقاضہ پاکستان کی تکمیل ہے، جغرافیائی تکمیل بھی، نظریاتی تکمیل بھی اور معاشی تکمیل بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

۱۶ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

حضرت تھانویؒ کو 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور برطانوی استعمار کے مکمل تسلط کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کا نقشہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد اس خطہ کے مسلمان اپنا سب کچھ کھو کر نئے سرے سے معاشرتی زندگی کا آغاز کر رہے تھے۔ صدیوں اس خطہ پر حکومت کرنے کے بعد مسلمانوں کا سیاسی نظام ختم ہو چکا تھا، عدالتی اور انتظامی سسٹم ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، عسکری قوت اور شان و شوکت سے وہ محروم ہو چکے تھے، اور ان کا علمی و تہذیبی ڈھانچہ بھی شکست و ریخت سے دوچار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

۱۱ جنوری ۲۰۱۷ء

ناظم اعلیٰ وفاق المدارس پر عدمِ اعتماد کی مہم

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی مبینہ الزامات و اعتراضات سے برأت اور اکابر کی طرف سے ان پر اعتماد کے اظہار سے ملک بھر کے سنجیدہ علمی، مسلکی اور دینی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ وہ مہم دم توڑ گئی ہے جو قاری صاحب محترم کے خلاف نہیں بلکہ وفاق المدارس کے خلاف تھی اور اس کی ڈوریاں خداجانے کہاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک بھر کے دیوبندی حلقوں، مراکز، مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کی وحدت و مرکزیت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ناظم اعلیٰ وفاق المدارس پر عدمِ اعتماد کی مہم

۷ جنوری ۲۰۱۷ء

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

اسلامی علوم کے ان شعبوں میں علمی و فکری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ جو بات خوشی اور اطمینان کا باعث بن رہی ہے، یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فضلاء میں میل جول بڑھ رہا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے اور ان کا اہتمام کرنے والے اساتذہ و طلبہ میں دونوں طرف کے فضلاء شریک ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز میں دینی مدارس کے فضلاء کی تعداد روز افزوں ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ و فضلاء کی دلچسپی اس میں مسلسل بڑھ رہی ہے جو ہمارے پرانے خواب کی تعبیر ہے کہ قدیم و جدید علوم کے ماہرین یکجا بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

۳ و ۴ جنوری ۲۰۱۷ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی ایک داستان

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان اس خارجہ پالیسی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ جبکہ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو اس مہارت کے ساتھ اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ میں پھنسایا گیا کہ ان کے تمام تر خلوص و دیانت کے باوجود ایک تلخ سوال ان کی سیاسی بصیرت و فراست کے اس باب کا ہمیشہ کے لیے عنوان بن گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب انہیں امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی تو انہوں نے یہ دونوں دعوتیں قبول کر کے توازن قائم رکھنے کی بجائے صرف امریکہ کی دعوت قبول کر کے اپنے ملک کو امریکی کیمپ کے ساتھ وابستہ کیوں کر لیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی ایک داستان

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

قرآن کریم کا پیغام فطری جبکہ اسلوب فصاحت و بلاغت کے کمال کا تھا، اس لیے مخالفین کو اس کا اثر کم کرنے کے لیے طعن و تشنیع اور کردار کشی کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ کبھی مجنون کہتے، کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی کاہن کے طعنے کا سہارا لیتے۔ ایک مرحلہ میں قریشی سردار نضر بن حارث کو قرآن کریم کے مقابلہ میں محفلیں بپا کرنے کی سوجھی تو اس نے ناچ گانے، موسیقی اور قصے کہانیوں کو ذریعہ بنایا جس کا ذکر قرآن کریم نے لھو الحدیث کے عنوان سے کیا ہے اور لیضل عن سبیل اللە کے ارشاد کے ساتھ گمراہی پھیلانے کا اہم سبب قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

۱۵ دسمبر ۲۰۱۶ء

فرزندِ جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام

مولانا مسرور نواز جھنگوی کی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان دونوں اچھی اور حوصلہ افزا خبریں ہیں جن پر دینی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جھنگ کی صورتحال میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاجا رہا ہے۔ ہمارے جذبات بھی اس حوالہ سے یہی ہیں اور ہم اپنے عزیز محترم مولانا مسرور نواز کو مبارک باد دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ موصوف کے ساتھ کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کے والد محترم حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ ایک عرصہ تک ملاقاتیں اور دینی جدوجہد میں رفاقت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرزندِ جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام

۹ دسمبر ۲۰۱۶ء

وطنِ عزیز کے کلیدی مناصب اور مذہبی طبقات کے خدشات

جنرل قمر جاوید باجوہ کی آرمی چیف کے طور پر تقرری کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں سے فون آنا شروع ہوگئے جو ان کا گکھڑ کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے تھے۔ چونکہ میرا آبائی قصبہ بھی گکھڑ ہے اس لیے بعض دوستوں نے مبارکباد دی جبکہ بعض حضرات نے اس شبہ اور تشویش کا اظہار کیا کہ کہیں وہ قادیانی تو نہیں ہیں؟ مجھے یہ بات پہلی بار اسی موقع پر معلوم ہوئی کہ جنرل موصوف کا تعلق میرے آبائی شہر سے ہے، ان سے تو ذاتی تعارف نہیں ہے لیکن گکھڑ کی باجوہ فیملی کو جانتا ہوں جس کے بعض حضرات ہمارے ساتھی اور دوست بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وطنِ عزیز کے کلیدی مناصب اور مذہبی طبقات کے خدشات

نامعلوم

اکبر بادشاہ کا دینِ الٰہی اور حضرت مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد، آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

حضرت مجدد الفؒ ثانی کی حیات د خدمات کے بارے میں ارباب فکر و دانش اس محفل میں اظہار خیال کر رہے ہیں جو حضرت مجددؒ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے ہوگی، میں ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مجددؒ نے اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دین الٰہی‘‘ کو اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ دین الٰہی کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں حضرت مجددؒ کی جدوجہد کیا تھی؟ اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کے خدوخال اور حدود اربعہ کے بارے میں تاریخ بہت کچھ بتاتی ہے جسے میں چار دائروں یا مراحل میں تقسیم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکبر بادشاہ کا دینِ الٰہی اور حضرت مجدد الفؒ ثانی کی جدوجہد، آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

۲۸ نومبر ۲۰۱۶ء

مولانا مفتی محمد عیسٰی گورمانی اور دیگر مرحومین

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی، گوجرانوالہ۔ حضرت مولانا محمد یعقوبؒ ربانی، فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ۔ مولانا محمد اسماعیل محمدیؒ، رانا ٹاؤن، شیخوپورہ۔ مولانا غلام رسول شوقؒ، کوٹلہ، ضلع گجرات۔ مولانا عبد الرؤفؒ، تھب، باغ، آزاد کشمیر۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمد عیسٰی گورمانی اور دیگر مرحومین

۲۷ نومبر ۲۰۱۶ء

پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی خدمت میں یکم اگست 2016ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے میں نے ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے۔ ’’گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز اور جمعۃ المبارک جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ مسجد اب بھی بارونق و آباد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

۲۲ نومبر ۲۰۱۶ء

مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کا فلسفہ و فکر

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کا فلسفہ و فکر

۱۹ نومبر ۲۰۱۶ء

تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس

ہمیں اپنے بزرگوں سے صحیح استفادہ کے لیے اس نفسیات اور مزاج کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اکابر کی زندگیوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا چاہیے جن کا تعلق امت کی اجتماعی راہنمائی سے ہے اور جن سے نئی نسل کو اس کی تربیت و اصلاح کے لیے آگاہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جدوجہد، افکار و تعلیمات اور حوصلہ و کردار کے بارے میں چند گزارشات اس موقع پر میں نے پیش کیں جس کی کچھ تفصیل ایک مستقل کالم کی صورت میں سامنے لانے کا ارادہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس

۱۵ نومبر ۲۰۱۶ء

مذہبی منافرت کا سدباب ۔ قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

اجلاس کے دوران دینی مدارس کے نصابات کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور ارکان نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں: (۱) نصاب تعلیم کا جائزہ صرف دینی مدارس کے حوالہ سے کافی نہیں بلکہ ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر اس وقت رائج تمام نصابوں کا دو حوالوں سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ درجنوں قسم کے الگ الگ نصابات ملک میں جاری ہیں جن کے اہداف اور نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور معاشرہ میں ذہنی اور تہذیبی خلفشار کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی منافرت کا سدباب ۔ قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

۱۲ نومبر ۲۰۱۶ء

نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودات

میں نے عرض کیا کہ نفاذ شریعت کے حوالہ سے پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا ہوم ورک اور فائل ورک اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت ہو تو ہمارا یہ ہوم ورک اس کے لیے بنیادی اور اصولی راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان کے دور حکومت میں مجھے قندھار جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے ان کے ذمہ داران کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان میں اب تک ہونے والے ہوم ورک سے استفادہ کریں اور اسے سامنے رکھ کر افغانستان کے ماحول اور ضروریات کے دائرے میں اسلامائزیشن کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودات

۸ نومبر ۲۰۱۶ء

عالمی معاہدات اور طیب اردگان کی صدائے احتجاج

کم و بیش نصف صدی قبل انڈونیشیا کے صدر عبد الرحیم احمد سوئیکارنو نے بغاوت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی تھی مگر کسی طرف سے بھی حمایت نہ پا کر ’’پہلی تنخواہ پر گزارہ‘‘ کرنے میں ہی عافیت محسوس کی تھی۔ اس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد مغرب کے اس معاہداتی جبر اور اقوام متحدہ کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف اپنے دور حکومت میں آواز بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ دیکھ کر خاموش ہوگئے۔ اب ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان اس میدان میں آئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے اس کھلی دھاندلی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی معاہدات اور طیب اردگان کی صدائے احتجاج

۴ نومبر ۲۰۱۶ء

ہزارہ کا سفر اور صفہ اکیڈمی مانسہرہ کا منصوبہ

صفہ اکیڈمی کا یہ طریق کار مجھے بہت پسند آیا بلکہ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کی ایک پرانی تجویز یاد آگئی کہ بڑے دینی مدارس کو اپنی اقامت گاہوں میں ایسے بچوں کے لیے بھی کمرے تعمیر کرنے چاہئیں جن کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی توفیق نہ رکھتے ہوں۔ وہ تعلیم تو سکولوں اور کالجوں میں حاصل کریں مگر دینی ماحول اور اخراجات کی کفالت ساتھ ساتھ ضروری دینی تعلیم کا ان کے لیے انتظام کر دیا جائے۔ یوں وہ قومی زندگی کے جس شعبے میں جائیں گے ایک فرض شناس مسلمان کے طور پر جائیں گے اور اپنے مدرسہ و مسلک کے نمائندہ بھی ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہزارہ کا سفر اور صفہ اکیڈمی مانسہرہ کا منصوبہ

یکم نومبر ۲۰۱۶ء

ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۰۱۶ء

چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس 27و 28 اکتوبر کو منعقد ہو رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ راہنما اس سے خطاب کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کو ایک عرصہ تک اس کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے بلکہ یہ سعادت اس دور میں بھی حاصل رہی ہے جب یہ کانفرنس چنیوٹ کے میونسپل ہال میں منعقد ہوا کرتی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سے محروم ہوں جس کی وجہ چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا وہ حکم نامہ ہے جو چند دیگر علماء کرام سمیت مجھ پر ہر ایسے اجتماع سے قبل لاگو ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۰۱۶ء

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں یہ معلوم کر کے بھی ان کے ساتھ طبعی مناسبت محسوس ہوئی کہ وہ اپنے شیخ مکرم حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی طرح درس نظامی کے مروجہ نصاب کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں تھے اور نصابی کتابوں کے انتخاب میں ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا ذوق رکھتے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے اس حوالہ سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھ کر میرا ذوق بھی یہی چلا آرہا ہے کہ نصابی کتب کے انتخاب میں کسی ایک فہرست پر جمے رہنے کی بجائے ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی مشکلات اور اساتذہ و طلبہ کا عزم

اب سے ڈیڑھ سو برس قبل جب دینی مدارس کے قافلہ کا سفر شروع ہوا تو تاریخ کے سامنے یہ منظر تھا کہ متحدہ ہندوستان 1857ء کی جنگ آزادی میں اہل وطن کی ناکامی بلکہ خانماں بربادی کے زخموں سے چور ہے ، خاص طور پر مسلمانوں کا ملی وجود اپنی تہذیبی روایات و اقدار اور دینی تشخص کے تحفظ و بقا کے لیے کسی اجتماعی جدوجہد کی سکت کھو چکا ہے۔ بیرونی استعمار کے ہاتھوں اپنے تعلیمی، سیاسی، معاشی، انتظامی، معاشرتی و ثقافتی تشخص اور ملی اداروں سے محروم ہو کر اس خطہ کے مسلمان پھر سے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر کھڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی مشکلات اور اساتذہ و طلبہ کا عزم

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۶ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال ۔ ترکی اور خلیجی تعاون کونسل کی کوشش

اس زمینی حقیقت سے کسی صاحب شعور کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات موجود ہیں وہ اصولی اور بنیادی ہیں اور صدیوں سے چلے آرہے ہیں، نہ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے، نہ دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے کو مغلوب کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے۔ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرتے ہوئے باہمی معاملات کو ازسرنو طے کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے جس کے لیے آبادی کے تناسب اور دیگر مسلمہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی توازن کا صحیح راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ کی صورتحال ۔ ترکی اور خلیجی تعاون کونسل کی کوشش

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

مولانا مفتی محمودؒ کا طرز استدلال

اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو استدلال کی جو قوت و صلاحیت عطا فرمائی تھی اس کا اعتراف سب حلقوں میں کیا جاتا تھا۔ ہمارے ایک مرحوم و مخدوم بزرگ کہا کرتے تھے کہ مفتی صاحبؒ سامنے نظر آنے والے لکڑی کے ستون کو دلائل کے ساتھ سونے کا ستون ثابت کرنا چاہیں تو دیکھنے والا شخص ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ سیاسی، علمی، اور فکری سب قسم کے معاملات میں مفتی صاحبؒ کی اس خداداد صلاحیت کا ہم نے یکساں اظہار ہوتے دیکھا ہے۔ چنانچہ اس موقع پر خود ان کی زبان سے براہ راست سنی ہوئی بعض باتیں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کا طرز استدلال

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء

دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۲)

جناب رسول اللہؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ایک ریاست کا ماحول بنا تو آنحضرتؐ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مدینہ منورہ اور اردگرد کے سب قبائل کو جمع کر کے مشترکہ حکومتی نظام کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدہ کا اہتمام فرمایا۔ ’’میثاق مدینہ‘‘ میں سب نے مل کر طے کیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں اس کے دفاع کی ذمہ داری سب پر ہوگی اور مسلمان و کافر مل کر اس وطن کا تحفظ کریں گے۔ اس طرح آپؐ نے یہ اصول دیا کہ وطن کا دفاع سب اہل وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۲)

۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سالانہ اجلاس

ملی یکجہتی کونسل کا قیام اب سے دو عشرے قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ مولانا شاہ احمدؒ نورانیؒ، مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمدؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، اور دیگر زعماء اس میں سرگرم عمل تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سپاہ صحابہؓ اور تحریک جعفریہ آمنے سامنے تھیں، سنی شیعہ کشیدگی قتل و غارت کے عروج کے دور سے گزر رہی تھی اور دونوں طرف کی بہت سی قیمتی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں۔ اس پس منظر میں ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ اس کشیدگی کو کنٹرول کیا جائے اور فرقہ وارانہ تصادم کو مزید آگے بڑھنے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سالانہ اجلاس

۲ اکتوبر ۲۰۱۶ء

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں ان اقدامات کو دینی مدارس کے خلاف امتیازی اور جانبدارانہ پالیسی کا مظہر قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب ملک بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کے ہر شعبہ میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور انہیں تسلیم کیا جا رہا ہے تو صرف دینی مدارس کو پرائیویٹ سیکٹر سے نکال کر وزارت تعلیم کے انتظام میں دینے کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح ملک بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حسابات کی چیکنگ کا جو نظام موجود ہے اس سے ہٹ کر دینی مدارس کے معاملات کو خفیہ اداروں کے سپرد کردینے کا کیا جواز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

۲۴ ستمبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

اگر حکومت خود بھی دینی تعلیم نہ دے اور جو ادارے یہ تعلیم دے رہے ہیں ان کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے یا مداخلت کر کے ان میں اپنا مشکوک ایجنڈا شامل کرتی رہے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ بتدریج دینی تعلیم کو ہی ختم کردینا چاہتی ہے۔ اور ماضی میں جامعہ عباسیہ بہاولپور اور جامعہ عثمانیہ طرز کے بیسیوں مدارس کے حوالے سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ دینی مدارس کے بارے میں اس قسم کی کوئی پالیسی جب بھی سامنے آتی ہے تو پہلا تاثر یہی ابھرتا ہے کہ یہ اقدامات دینی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ دینی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

۲۰ ستمبر ۲۰۱۶ء

میسج ٹی وی عکاظ کے میلے میں

میسج ٹی وی کے دفتر میں حاضری ہوئی تو کامران رعد صاحب اپنی رفقاء بھائی فاروق صاحب، عبد المتین صاحب، ڈاکٹر محمد الیاس صاحب (اسلام آباد)، حافظ محمد بلال فاروقی، اور دیگر ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ حج بیت اللہ کی میدان عرفات سے براہ راست نشریات کا سلسلہ جاری تھا اور امیر حج کا خطبہ شروع ہونے والا تھا جو گزشتہ تین عشروں سے سعودی عرب کے مفتی اعظم ارشاد فرما رہے ہیں۔ مگر اس دفعہ ان کی علالت کی وجہ سے امام حرمین فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میسج ٹی وی عکاظ کے میلے میں

۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

قادیانی اقلیت کے حقوق اور ان کی آبادی کا تناسب

قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی سرحدی تقسیم کے موقع پر ضلع گورداس پور میں قادیانی حضرات نے اپنی آبادی کو خود ہی مسلمانوں سے الگ شمار کروایا تھا اس لیے انہیں اس بات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی آبادی کو الگ طور پر شمار کیا جائے۔ جبکہ یہ بات دستور پاکستان کے مطابق ان کے حقوق اور معاشرتی حیثیت کے صحیح طے ہونے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں قادیانیوں کے سیاسی، شہری، انسانی، اور معاشرتی حقوق سے کوئی انکار نہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کو تسلیم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی اقلیت کے حقوق اور ان کی آبادی کا تناسب

۱۳ ستمبر ۲۰۱۶ء

دستور پاکستان کی بالادستی اور قادیانی ڈھنڈورا

1974ء کی منتخب پارلیمنٹ کے سامنے یہ مسئلہ ’’استفتاء‘‘ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا کہ وہ یہ فیصلہ دے کہ قادیانی مسلمان ہیں یا کافر؟ بلکہ اسمبلی کے سامنے ’’دستوری بل‘‘ رکھا گیا تھا کہ قادیانیوں کو پوری ملت اسلامیہ غیر مسلم قرار دے چکی ہے اس لیے پارلیمنٹ بھی دستور و قانون کے دائرے میں اس فیصلہ کو تسلیم کرے اور اس کے مطابق قادیانیوں کو ملک میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رکھنے کی بجائے غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کرے۔ یہ استفتاء نہیں تھا بلکہ قادیانیوں کے معاشرتی اسٹیٹس کو مسلمانوں سے الگ کرنے کا دستوری بل تھا اور پارلیمنٹ نے یہی فیصلہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان کی بالادستی اور قادیانی ڈھنڈورا

۱۰ ستمبر ۲۰۱۶ء

دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۱)

نامور مؤرخ و محدث امام ابن سعدؒ کی تحقیق کے مطابق جناب رسول اللہؐ نے مدینہ منورہ کی دس سالہ زندگی میں ستائیس کے لگ بھگ غزوات میں خود شرکت فرمائی۔ ان میں اقدامی جنگیں بھی تھیں اور دفاعی جنگیں بھی شامل تھیں۔ مثلاً (۱) بدر (۲) خیبر (۳) بنو مصطلق اور (۴) فتح مکہ کی جنگیں اقدامی تھیں کہ آنحضرتؐ ان جنگوں میں دشمن پر خود حملہ آور ہوئے تھے۔ جبکہ (۱) احد (۲) احزاب اور (۳) تبوک کی جنگیں دفاعی تھیں کہ حملہ آور دشمنوں سے مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے حضورؐ میدان جنگ میں آئے تھے اور دشمنوں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۱)

۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

دور نبویؐ میں اسلامی ریاست کا نقشہ

جناب نبی اکرمؐ کی ہجرت سے قبل یثرب کے علاقہ میں ریاست کا ماحول بن چکا تھا اور اس خطہ میں قبائلی معاشرہ کو ایک باقاعدہ ریاست و حکومت کی شکل دینے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق انصار مدینہ کے قبیلہ بنو خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے آنحضرتؐ کو بتایا کہ آپؐ کی تشریف آوری سے پہلے اس بحیرہ کے لوگوں نے باقاعدہ حکومت کے قیام کا فیصلہ کر کے عبد اللہ بن أبی کو اس کا سربراہ منتخب کر لیا تھا اور صرف تاج پوشی کا مرحلہ باقی رہ گیا تھا کہ آپ یعنی جناب نبی اکرمؐ تشریف لے آئے جس سے عبد اللہ بن أبی کی بادشاہی کا خواب بکھر گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور نبویؐ میں اسلامی ریاست کا نقشہ

۲ ستمبر ۲۰۱۶ء

قرآن کریم اور سماج (۲)

حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدؐ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے ہزاروں انبیاء کرامؑ کی تعلیمات پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ سماجی ارتقاء اور معاشرتی ترقی کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا تھا اور انہوں نے سوسائٹی کے اجتماعی فیصلوں اور طرز عمل کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا تھا؟ اسے ہم قرآن کریم کے حوالہ سے دیکھیں تو کچھ اس طرح کا نقشہ سامنے آتا ہے کہ حضرت آدمؑ کے بعد انسانی سوسائٹی نے جو ترقی کی تھی اور اس دوران جو سماجی ارتقاء عمل میں آیا تھا، حضرت نوحؑ نے اسے من و عن قبول نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور سماج (۲)

۲۸ اگست ۲۰۱۶ء

قرآن کریم اور سماج (۱)

ایک فاضل دوست نے شکوہ کیا ہے کہ جب ہم سماجی مطالعہ اور معاشرتی ارتقاء کی بات کرتے ہیں تو کچھ لوگ قرآن کریم کی آیات پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ محترم دانشور کے ایک حالیہ کالم میں یہ بات پڑھ کر بے حد تعجب ہوا اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا قرآن کریم اور سماجی مطالعہ ایک دوسرے سے ایسے لاتعلق ہیں کہ سماج کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کو (نعوذ باللہ) لپیٹ کر ایک طرف رکھ دینا چاہیے؟ اور کیا ہماری دانش خدانخواستہ اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ سوسائٹی اور سماج کے معاملات کو دیکھتے ہوئے قرآن کریم کا حوالہ بھی اسے اجنبیت کی فضا میں لے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور سماج (۱)

۲۶ اگست ۲۰۱۶ء

دینی اداروں میں یوم آزادی کی تقریبات

قیام پاکستان کے فورًا بعد اس کی مخالفت کرنے والے سرکردہ علماء کرام بالخصوص ان کے دو بڑے راہ نماؤں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرف سے واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ یہ اختلاف پاکستان کے قیام سے پہلے تھا جبکہ پاکستان بن جانے کے بعد یہ اختلاف باقی نہیں رہا۔ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی نے تو یہاں تک فرما دیا تھا کہ مسجد تعمیر ہونے سے پہلے اس کے نقشہ اور سائز کے بارے میں اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو وہ جیسے بھی بنے مسجد ہی ہوتی ہے اور اس کا احترام سب کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اداروں میں یوم آزادی کی تقریبات

۲۳ اگست ۲۰۱۶ء

قاری ملک عبد الواحدؒ

قرآن کریم کی تلاوت کا خاص ذوق رکھتے تھے اور عالم اسلام کے معروف قاری الشیخ عبد الباسط عبد الصمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے لہجے میں قرآن کریم پڑھتے تو عجیب سماں باندھ دیتے تھے۔ اپنے بزرگوں کی گفتگو کی نقل اتارنے میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ ، حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ ، اور مولانا عبد الرحمن جامیؒ کی تقریروں کے حافظ تھے اور دوستوں کی فرمائش پر انہی کے لہجے میں سنایا کرتے تھے۔ وہ اگر سامنے موجود نہ ہوتے تو اچھے خاصے سمجھدار حضرات بھی مغالطہ میں پڑ جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری ملک عبد الواحدؒ

۱۸ اگست ۲۰۱۶ء

برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ جس آزادی کا اعلان 14 اگست 1947ء کو کیا گیا تھا وہ آج کے دور میں کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اس لیے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

۱۲ اگست ۲۰۱۶ء

امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کے خیالات

نیوٹ گنگرچ کے اس بیان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ڈپلومیسی کا لحاظ کیے بغیر اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دو تین چار باتیں واضح طور پر کہہ دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ مغربی تہذیب کو اس وقت حالت جنگ کا سامنا ہے، دوسری یہ کہ اسلامی شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی، تیسری یہ کہ شریعت کے قوانین پر یقین رکھنے والے مسلمان مغرب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں، اور چوتھی بات یہ کہ مغرب جس روشن خیالی کی بات کرتا ہے اس کا مطلب شریعت کے احکام و قوانین سے دستبرداری ہے اور جس سے کم پر مغرب راضی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ کے خیالات

۶ اگست ۲۰۱۶ء

مولانا حافظ عبد الرحمنؒ

حافظ عبد الرحمنؒ کے اخلاص اور قائم کردہ مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعلیمی شہرت اطراف میں تھوڑے ہی عرصہ میں اتنی زیادہ ہوگئی کہ مختلف علاقوں کے دیندار حضرات نے مسجد و مدرسہ کے لیے اپنی جائیدادیں دینا شروع کر دیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرب و جوار اکبر آباد، پکی کوٹلی، فتح گڑھ اور غوثپورہ میں تعلیم الاسلام جامع مسجد نور کے نام سے مرکزی مدرسہ کی برانچیں قائم ہوگئیں اور تدریس قرآن کی برکات دور دور تک پھیلیں۔ سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ وغیرہ کے مختلف علاقہ جات سے ہزاروں طلباء نے حافظ صاحبؒ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ عبد الرحمنؒ

۲ اگست ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

یہ چند ضروریات بالکل عام سطح کی ہیں جن کا ماحول عملاً موجود ہے اور جن کا تقاضہ ملک بھر میں عام طور پر مسلسل جاری رہتا ہے۔ اگر ملک کے دستوری تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کے مطابق انتظامی و عدالتی نظام کو بھی قومی اور معاشرتی ضرورت سمجھ لیا جائے تو ان ضروریات کا دائرہ بہت پھیل جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف ان معاشرتی دینی ضروریات کو دیکھ لیں اور دوسری طرف ریاستی تعلیمی نظام پر نظر ڈال لیں کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور ہمارے معاشرے کی دینی ضروریات

۲۷ جولائی ۲۰۱۶ء

انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے

اجتماع میں مسلسل پانچ روز تک روحانی تربیتی محافل ہوتی رہیں، ذکر الٰہی، درود شریف اور مراقبہ کے روحانی اعمال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر انجمن خدام الدین کے مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالہ سے حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کا تحریر فرمودہ ایک مضمون تقسیم کیا گیا۔ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ میرے شیخ و مرشد تھے اور میں انہی کے حوالہ سے راشدی کہلاتا ہوں۔ اس لیے برکت کی خاطر ان کی تحریر کو من و عن اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔ حضرت شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے

۲۴ جولائی ۲۰۱۶ء

ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء

تین دن مغربی روٹ پر

ہمارے سفر کی اصل منزل چودھواں ہی تھی کہ برادرم مولانا عبد القیوم حقانی کے ارشاد پر دارالعلوم عربیہ حنفیہ کے سالانہ جلسہ میں حاضری کا وعدہ کر رکھا تھا جو ہمارے بزرگوں مولانا مفتی عطاء محمدؒ ، مولانا عبد المنانؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، اور قاری محمد رفیقؒ کی یادگار ہے۔ اور یہ ادارہ مولانا مفتی محمد یونس کی محنت و کاوش سے بنین و بنات دونوں شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ دستار بندی کے ساتھ ساتھ بخاری شریف کے افتتاحی سبق کا پروگرام بھی تھا۔ فیصل آباد کے مولانا اصغر علی نے یہ فریضہ سر انجام دیا اور اس سے دارالعلوم مذکور میں پہلی بار دورۂ حدیث کا آغاز ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین دن مغربی روٹ پر

۱۶ جولائی ۲۰۱۶ء

عبد الستار ایدھی مرحوم

عبد الستار ایدھی مرحوم کی زندگی سماجی خدمت سے عبارت تھی۔ خدمت، خدمت اور خدمت ان کا واحد مقصد تھا۔ وہ اسی کے لیے جیے اور اسی راہ میں چلتے چلتے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ نہ تو پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے تھے اور نہ ہی مال و دولت میں ایک عام شخص سے زیادہ کوئی مقام رکھتے تھے۔ انہیں ان کی داڑھی اور سادگی کے باعث مولانا ایدھی کہہ دیا جاتا تھا لیکن وہ نماز روزے کی واجبی تعلیم سے زیادہ دین کا علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں اس کا دعویٰ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عبد الستار ایدھی مرحوم

۱۲ جولائی ۲۰۱۶ء

شخصیت پر نام کے اثرات !

جہاز کی کپتان محترمہ کیپٹن عائشہ رابعہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جہاز اتارنے کے لیے لاہور کا موسم سازگار نہیں ہے اس لیے اگر مناسب موقع نہ ملا تو ہم کراچی واپس چلے جائیں گے۔ میں پہلے ہی اپنے طے شدہ شیڈول سے لیٹ ہوگیا تھا، جبکہ میرے لیے طے شدہ پروگرام میں گڑبڑ سب سے مشکل مسئلہ ہوتی ہے، اس لیے پریشانی ہوئی کہ ایک دن اور لیٹ ہو جاؤں گا۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ کیپٹن عورت ذات ہے شاید رسک نہ لے۔ پھر خیال آیا کہ نام عائشہ ہے ممکن ہے ہمت کر ہی لے۔ اسی شش و پنج میں کم و بیش نصف گھنٹہ تک جہاز فضا میں بادلوں کے اوپر چکر کاٹتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شخصیت پر نام کے اثرات !

۵ جولائی ۲۰۱۶ء

ٹی وی پروگراموں کے طے شدہ اہداف

ہمارے بہت سے اینکرز کی یہ پالیسی اور طریق کار ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو بات کہنے کا موقع دینے کی بجائے ان سے اپنی بات کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور خاص طور پر مذہبی راہ نماؤں کے بارے میں تو یہ بات طے شدہ ہے کہ مذہب کی نمائندگی کے لیے چن چن کر ایسے حضرات کو سامنے لایا جاتا ہے اور ان سے بعض باتیں حیلے بہانے سے اس انداز سے کہلوائی جاتی ہیں کہ مذہب کے نام پر کوئی ڈھنگ کی بات پیش نہ ہو سکے۔اور جو بات بھی ہو وہ مذہب اور مذہبی اقدار پر عوامی یقین و اعتماد کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ٹی وی پروگراموں کے طے شدہ اہداف

یکم جولائی ۲۰۱۶ء

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر

کہا جاتا ہے کہ یورپین یونین سے علیحدگی کو برطانوی عوام برطانیہ کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کے قوانین اور معاہدات کی وجہ سے برطانیہ کی اپنی خودمختاری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے لیے اپنے بہت سے قوانین پر چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ چنانچہ برطانوی عوام اپنے ملکی قوانین و نظام پر ایسے بین الاقوامی معاہدات کی بالادستی کو پسند نہیں کرتے اور آزادی و خودمختاری کا ماحول بحال کرنے کے لیے اس کے دائرے سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر

۲۹ جون ۲۰۱۶ء

کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

میں دلائل کی بحث میں پڑے بغیر تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لینا چاہوں گا کہ جب اسلامی ریاست وجود میں آئی تو وہ کن اصولوں پر قائم ہوئی تھی اور اس قسم کے مسائل کو اس نے کس طریقہ سے ڈیل کیا تھا۔ یہ بات تاریخی طور پر مسلمہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جزیرۃ العرب کسی ریاستی وجود اور باقاعدہ حکومت سے آشنا نہیں تھا۔ لیکن جناب رسول اللہؐ نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو پورا جزیرۃ العرب ایک باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اس میں ایک منظم حکومت تشکیل پا چکی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

۲۴ جون ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کی تعلیم لازم کرنے کا مستحسن حکومتی فیصلہ

قرآن کریم ہماری زندگی، ایمان اور نجات کی بنیاد ہے جس کی تعلیم ایمان کا تقاضہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی ناگزیر ضرورت بھی ہے اور ہمارے بہت سے قومی اور معاشرتی مسائل کا حل اس سے وابستہ ہے۔ یہ کام قیام پاکستان کے بعد ہی ہوجانا چاہیے تھا اور 1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد تو اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ لیکن مختلف اندرونی و بیرونی عوامل کے باعث یہ مبارک کام مسلسل ٹال مٹول کا شکار ہوتا رہا اور اب اس طرف حکومت نے سنجیدہ توجہ کا عندیہ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی تعلیم لازم کرنے کا مستحسن حکومتی فیصلہ

۲۰ جون ۲۰۱۶ء

پاکستانی میڈیا یا لندن کا ہائیڈ پارک؟

کہا جا رہا ہے کہ ایسا ماحول جان بوجھ کر ریٹنگ میں اضافے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے مگر مجھے اس سے زیادہ اس کی پشت پر خفیہ ہاتھوں کی یہ پلاننگ دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان میں سیاست اور مذہب دونوں کے ماحول کو ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری کر دیا جائے اور باہمی نفرت و بے اعتمادی کے ایسے بیج اس معاشرے میں بو دیے جائیں کہ مذہب اور سیاست کے دو مقدس الفاظ نعوذ باللہ گالی بن کر رہ جائیں۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی منیب الرحمن کے بقول رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کو بھی اسی قسم کی میڈیائی خرافات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستانی میڈیا یا لندن کا ہائیڈ پارک؟

۱۶ جون ۲۰۱۶ء

نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

یہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے اجتہادی فیصلوں میں سے ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کے مشورہ سے طے کیا کہ مسجد نبویؐ میں نماز تراویح باجماعت پڑھی جائے گی اور سب لوگ اکٹھے ایک ہی امام کے پیچھے پڑھیں گے۔ حضرت ابی بن کعبؓ اس دور میں سب سے بڑے قاری تھے جنہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے أقرأ کا خطاب دیا تھا کہ یہ میرے ساتھیوں میں سب سے اچھا قاری ہے۔ حضرت عمرؓ نے انہی کو حکم دیا کہ وہ بیس تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائیں اور رمضان المبارک کے دوران کم از کم ایک بار قرآن کریم ضرور سنا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نماز تراویح پر شکوک و شبہات کیوں؟

۱۳ جون ۲۰۱۶ء

عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ پر ہے لیکن تاریخی تناظر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن کے آنے سے مذہب تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت یہ ہے کہ ایک شخص نے نئی نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا جسے قبول کرنے سے امت مسلمہ نے مجموعی طور پر انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اور اس پر ایمان لانے والے پہلے مذہب کا حصہ رہنے کی بجائے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے، اور ان کا مذہب ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر متعارف ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

۹ و ۱۰ جون ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

میرے مخدوم و محترم بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ پرانے اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے، گوجرانوالہ کی قدیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم تھے۔ والد بزرگوار حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور میں نے والد محترمؒ کو ان کا بے حد احترام کرتے ہوئے اور ان سے مختلف امور میں ہمیشہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک مسلسل تیرہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت میں ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

۴ جون ۲۰۱۶ء

نمازوں کے یکساں اوقات اور رؤیت ہلال کے مسئلے

مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے لیے بازار بند کرانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے اوقات میں گھنٹوں کی گنجائش دی ہے کہ اس دوران کسی وقت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے تو اس گنجائش کو محدود کر کے لوگوں کو ایک ہی وقت میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرنا شریعت کا تقاضہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقہ کی مساجد میں نمازوں کے اوقات میں باہمی مشورہ کے ساتھ فرق رکھا ہوا ہے تاکہ دکاندار حضرات باری باری کسی نہ کسی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نمازوں کے یکساں اوقات اور رؤیت ہلال کے مسئلے

۴ جون ۲۰۱۶ء

حفظ و تلاوت قرآن کریم اور عام مسلمان

دنیا میں بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت قرآن کریم کے کروڑوں حفاظ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کا اعجاز ہے لیکن ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن کریم یاد ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس کا تھوڑا سا اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھے، بچے کو کم سے کم کتنا قرآن کریم یاد کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان پانچ نمازوں کی رکعتوں کو شمار کرلیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کتنی رکعتوں میں قرآن کریم پڑھنا لازمی ہے اور اس سلسلہ میں حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفظ و تلاوت قرآن کریم اور عام مسلمان

۲ جون ۲۰۱۶ء

ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

افغان طالبان افغانستان کی مکمل خودمختاری کے ساتھ جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کے عزم پر بدستور قائم ہیں۔ یہ دونوں باتیں نئے عالمی امریکی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ عالمی حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست نہ صرف دنیا میں استعماری عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں خودمختاری اور اسلامیت کے جذبات کے فروغ کا ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔ اسی لیے عسکری کاروائی کے ذریعہ افغان طالبان کی حکومت کو ختم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

۲۶ مئی ۲۰۱۶ء

دینی تحریکات کی ناکامی کا ایک سبب

میں نے دوستوں کے ساتھ اہم نکات پر گفتگو میں عرض کیا کہ خاندانی نظام کی شرعی بنیادوں کے تحفظ کی جدوجہد میں ہم مرحلہ وار پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس پسپائی کو روکنے کی مجھے اب بھی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی ۔ ۔ ۔ کسی عوامی تحریک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ’’پن‘‘ نکال دینے کا یہ نسخہ اس قدر کارگر ثابت ہوا کہ اس کے بعد بھی مختلف مراحل میں اسے کامیابی کے ساتھ دہرایا جا چکا ہے۔ جبکہ ایک غریب و بے نوا کارکن کے طور پر مجھے اب بھی اسی کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تحریکات کی ناکامی کا ایک سبب

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو گزشتہ روز پھانسی دے دی گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا قصور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ متحدہ پاکستان کے دور میں انہوں نے قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل کی جدوجہد میں حصہ لیا اور وطن عزیز میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا مطالبہ کرتے رہے۔ پاکستان کی سالمیت و وحدت کے خلاف بھارتی دخل اندازی سامنے آئی تو وہ اپنے ملک اور اس کے دستور کی حمایت و دفاع اور وحدت و خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد کا حصہ بنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

نفاذ شریعت کے لیے علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

زمینی حقیقت یہ ہے کہ مولوی دینی علوم اور شریعت کے قوانین کا علم تو رکھتا ہے مگر مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم اس کے پاس نہیں ہے۔ جبکہ وکیل مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم و تجربہ تو رکھتا ہے مگر شریعت کے قوانین و احکام اس کے علم کے دائرہ میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ مولوی اور وکیل دونوں مل کر اس ذمہ داری کو قبول کریں اور اس کے لیے کام کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے ملک میں دستور اور قانون و شریعت میں سے کسی کی حکمرانی ابھی تک عملاً قائم نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کے لیے علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

۸ مئی ۲۰۱۶ء

قانون اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ

حضرت علیؓ کا یہ ارشاد ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب ملعون ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ میں انہیں زخمی کر دیا تو وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ جبکہ ابن ملجم پکڑا جا چکا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس حال میں بھی اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو تلقین کی کہ اسے کچھ کہنا نہیں اور نہ ہی کوئی اذیت دینی ہے اس لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو یہ فیصلہ میں خود کروں گا کہ اسے معاف کرنا ہے یا سزا دینی ہے۔ لیکن اگر میں ان زخموں میں شہید ہوگیا تو پھر تمہیں اس سے قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قانون اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ

۵ مئی ۲۰۱۶ء

مذہبی اقدار کی طرف واپسی کا سفر

موجودہ صدی کو عام طور پر مذہب کی طرف واپسی کی صدی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دو صدیاں انسانی سوسائٹی نے وحی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف میں گزاری ہیں اور اس کے تلخ معاشرتی نتائج و ثمرات کا سامنا کرتے ہوئے اب اہل دانش سوسائٹی میں مذہبی اقدار و روایات کی واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ دو ماہ قبل امریکہ کی ہنٹنگٹن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر پاکستان تشریف لائے، وہ اہل سنت کے معروف متکلم اور عقائد کے امام ابومنصور ماتریدیؒ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی اقدار کی طرف واپسی کا سفر

۲۷ اپریل ۲۰۱۶ء

سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑا حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

۲۱ اپریل ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچویؒ

حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ نکتہ رس مدرس اور نکتہ شناس دانشور تھے۔ زندگی بھر درس و تدریس، افتاء و ارشاد اور تربیت و سلوک کے ماحول میں گزری۔ لیکن ملکی و قومی معاملات اور دینی تحریکات کے متنوع تقاضوں پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ صاحب مطالعہ اور تجزیہ و تبصرہ کے عمدہ ذوق سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ قاضی صاحب مرحوم کو بعض امور میں اختلاف بھی تھا۔ خاص طور پر وہ پاکستان کی اسمبلیوں میں غیر مسلموں کی نمائندگی کے حق میں نہیں تھے اور اس پر مستقل موقف اور دلائل رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچویؒ

۱۸ اپریل ۲۰۱۶ء

نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

ملک میں اسلامی نظام کی عملداری خواہ نفاذ اسلام کے عنوان سے ہو، نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ ہو، یا نظام مصطفٰیؐ کے ٹائٹل سے ہو، یہ صرف دینی جماعتوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ضرورت ہے۔ اور اسے دینی جماعتوں کے کسی متفقہ مطالبہ سے زیادہ ایک قومی تقاضے اور ملی آواز کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ نفاذ اسلام کی بات ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی زبان پر رہی ہے، لیاقت علی خان مرحوم اس کے علمبردار رہے ہیں، سردار عبد الرب نشتر مرحوم یہ بات کہتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

۹ اپریل ۲۰۱۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

قرآن کریم نے قتال کا لفظ تو ہتھیار کی جنگ کے لیے ہی استعمال کیا ہے مگر جہاد کے لفظ میں عموم ہے۔ قرآن کریم نے جہاد بالنفس کے ساتھ جہاد بالمال کا ذکر کیا ہے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد باللسان کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا ہے۔ بلکہ غزوۂ احزاب کے بعد حضورؐ نے واضح اعلان فرمایا تھا کہ اب قریش ہمارے مقابلہ میں ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے بلکہ زبان کی جنگ لڑیں گے اور شعر و خطابت کے میدان میں جوہر دکھائیں گے۔ چنانچہ آپؐ کے ارشاد پر صحابہ کرامؓ میں سے نامور خطباء اور شعراء نے جہاد باللسان کا یہ معرکہ سر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

۵ اپریل ۲۰۱۶ء

قرآن کریم اور پاکستان کا تعلق

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد اپنی بیسیوں تقاریر و بیانات میں اس کا اظہار کیا۔ بلکہ ایک موقع پر قائد اعظمؒ سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا دستور ہمارے پاس پہلے سے قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے اور وہی ہمارے دستور و قانون کی بنیاد ہوگا۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قرآن کریم جس طرح چودہ سو سال قبل سیاسی و معاشرتی حوالہ سے قابل عمل تھا اسی طرح وہ آج بھی قابل عمل ہے اور ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم اور پاکستان کا تعلق

۳۱ مارچ ۲۰۱۶ء

پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

جہاں تک اردو زبان کی دفتری اور عدالتی شعبوں میں ترویج و تنفیذ کا معاملہ ہے، اور قومی اداروں میں اردو کے عملی فروغ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کا تعلق ہے، ان پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ ماحول سرکاری حلقوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظریۂ پاکستان کی پہلی اساس یعنی مسلم تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری اساس یعنی اردو زبان بھی ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سائے میں قومی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحتوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء

نئے تعلیمی نظام کی ضرورت

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘ یہ پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نئے تعلیمی نظام کی ضرورت

۲۰ مارچ ۲۰۱۶ء

تسلیمہ نسرین کا نیا مشورہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تسلیمہ نسرین کا نیا مشورہ!

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناًخوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

غازی ممتاز قادریؒ شہید

ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غازی ممتاز قادریؒ شہید

۴ مارچ ۲۰۱۶ء

اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

یکم مارچ ۲۰۱۶ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

یہ اجتماع اس عزم کا ایک بار پھر اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے، دستور کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے اور پاکستانی قوم کو اسلامی و مشرقی ثقافتی اقدار و روایات کے ماحول سے نکال کر مغربی و ہندووانہ ثقافت کو فروغ دینے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے عقائد و اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے اسلام کے معاشرتی کردار کے خلاف عالمی و ملکی سیکولر لابیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

۲۷ فروری ۲۰۱۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارھویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جارہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جارہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

۲۵ فروری ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کے مروجہ نسخوں پر بحث

مصحف عثمانی کے دو نمونے عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے مروجہ نسخوں پر بحث

۲۰ فروری ۲۰۱۶ء

جمعیۃ علماء اسلام

جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے 1962ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام

۱۸ فروری ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

اور اب دینی سرگرمیوں پر پابندی !

ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی جدوجہد میں حکومت سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ لیکن دینی حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اس سلسلہ میں وہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یوں نظر آتا ہے کہ اس ایکشن پلان کا بڑا ہدف دینی جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ اور اس کے لیے قانونی و غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن میں تعاون کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جا رہا اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب دینی سرگرمیوں پر پابندی !

۱۲ فروری ۲۰۱۶ء

سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

سعودی عرب اور ایران کی یہ کشمکش مسلسل آگے بڑھ رہی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عرب اسرائیل تنازعہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی صورت حال اس سے قبل بھی سنی شیعہ کشمکش اور باہمی خونریزی کے تلخ مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس لیے واقفان حال کو اس کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات و خدشات نے بے چین و مضطرب کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

۹ فروری ۲۰۱۶ء

کشمیر کا مسئلہ

وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، یہ پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر کا مسئلہ

۵ فروری ۲۰۱۶ء

توہین رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی؟

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی، البتہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالتؐ کے قانون پر نظر ثانی؟

۳۱ جنوری ۲۰۱۶

اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کار کی ضرورت

ایک عجیب سی صورت حال اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ ملک میں شرعی نظام کا نفاذ صرف ہمارا مطالبہ ہی نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ لیکن انتظامیہ، عدلیہ، معیشت اور دیگر شعبوں کے لیے اس کے مطابق رجال کار کی فراہمی کا کوئی نظام کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ نہ ریاستی تعلیمی ادارے اسے اپنے اہداف میں شامل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی دینی مدارس کے موجودہ نصاب و نظام میں اس کی کوئی گنجائش دکھائی دے رہی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری انہی دو اداروں میں سے کوئی قبول کرے گا تو بات آگے بڑھے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کار کی ضرورت

۲۹ جنوری ۲۰۱۶ء

امریکی غلامی کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاد افغانستان میں فریق بن کر غلطی کی تھی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر بھی غلطی کی ہے، آئندہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی عرب ایران کشمکش کے تناظر میں کہی ہے۔ جہاں تک اپنی غلطیوں کو محسوس کرنے، ان کا اعتراف کرنے اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کے عزم کا تعلق ہے، خواجہ صاحب کا یہ ارشاد خوش آئند ہے اور قومی سیاست میں اچھی پیش رفت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی غلامی کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

۲۳ جنوری ۲۰۱۶ء

حالیہ اقدامات اور علماء کی فکرمندی

اس بات پر فکرمندی اور تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ ملک میں دینی اقدار و روایات کو کمزور کرنے، نافذ شدہ چند اسلامی قوانین و ضوابط کو غیر مؤثر بنانے، اور لادینی فلسفہ وثقافت کو ترویج دینے کی کوششوں میں جو تیزی اور وسعت دیکھنے میں آرہی ہے، دینی حلقوں میں بے توجہی، بے حسی اور ہر قسم کے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے کا رجحان اس سے کہیں زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بالخصوص قومی سیاست میں دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والی قیادت کی قناعت پسندی ایک طرح کا روگ سا بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالیہ اقدامات اور علماء کی فکرمندی

۲۰ جنوری ۲۰۱۶ء

قادیانیوں کا ایک مغالطہ

قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت محمد رسول اللہؐ کی پیروی میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مگر یہ بات محض ایک مغالطہ ہے اور میں جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہؐ کے دور میں تین بندوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یمامہ کے مسیلمہ کذاب، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، یمن کے اسود عنسی، جبکہ ایک خاتون سجاح بھی نبوت کی دعوے دار تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کا ایک مغالطہ

۱۵ جنوری ۲۰۱۶ء

حکمت عملی کا جہاد

یہ بات غور طلب ہے کہ منافقین کے خلاف کون سا جہاد ہوا؟ اس لیے کہ دس سالہ مدنی دور میں منافقوں کے خلاف ایک بار بھی ہتھیار نہیں اٹھایا گیا۔ وہ مدینہ منورہ میں رہے اور سارے معاملات میں شریک رہے، شرارتیں بھی کرتے رہے اور بڑے بڑے فتنے انہوں نے کھڑے کیے مگر ایک بار بھی ان کے خلاف تلوار استعمال نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض سرکردہ منافقوں کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر جناب سرور کائنات ؐ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکمت عملی کا جہاد

۱۲ جنوری ۲۰۱۶ء

داعش کا خطرہ

گزشتہ دنوں سعودی عرب کی قیادت میں 34 مسلمان ملکوں کا عسکری اتحاد قائم کرنے کا اعلان ہوا ہے جن میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے جبکہ عراق، ایران اور شام اس کا حصہ نہیں ہیں، سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض اس فوجی اتحاد کا ہیڈ کوارٹر ہوگا اور ا س کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا اور داعش کے خطرے سے نمٹنا بیان کیا گیا ہے، پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے پہلے رد عمل میں اس سلسلہ میں بے خبری کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ تفصیلات معلوم ہونے کے بعد ہی اس کے بارے میں کوئی حتمی بات کہی جا سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر داعش کا خطرہ

۸ جنوری ۲۰۱۶ء

’’لا الٰہ‘‘ کے ساتھ ’’الا اللہ‘‘ کی ضرورت

سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے اور ان خوارج کی ہی ایک شکل ہے جنہوں نے قرن اول میں اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر کے ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔ شیخ محترم نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد داعش کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے یا نہیں یہ ایک بحث طلب بات ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ داعش نے طور طریقے وہی اختیار کر رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’لا الٰہ‘‘ کے ساتھ ’’الا اللہ‘‘ کی ضرورت

۳۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

قرآن کریم کے قدیم نسخے

برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری میں قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے اوراق کی دریافت نے علم و تحقیق کی دنیا کو دل چسپی کا ایک اور میدان فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اوراق قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کے ہیں اور ان کی تحریر کا دور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کا دور سمجھا جا رہا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو یہ مقدس اوراق مصحف قرآنی کے اس نسخے کے ہو سکتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم پر جناب نبی اکرم ﷺ کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاریؓ نے مرتب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے قدیم نسخے

۲۸ دسمبر ۲۰۱۵ء

رسول اکرمؐ کی معاشرتی اصلاحات

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت اور عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے ایمانی تقاضوں میں سے ہے، اور ہر مسلمان کسی نہ کسی انداز میں اس کا اظہار ضرور کرتا رہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب رسول اللہؐ کی بعثت کن مقاصد کے لیے ہوئی تھی؟ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے انسانی معاشرہ کو خیر کے کن کاموں کی تلقین کی تھی، شر کے کن کاموں سے روکا تھا، اور بھرپور محنت کے ساتھ انسانی سوسائٹی کو کن تبدیلیوں اور اصلاحات سے روشناس کرایا تھا جن کی وجہ سے انہیں پیغمبر انقلاب کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رسول اکرمؐ کی معاشرتی اصلاحات

۲۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

مدارس کے متعلق وزراء کے حوصلہ افزا تاثرات

وفاقی وزیر مذہبی امور اوقاف و حج سردار محمد یوسف نے اس موقع پر مختلف قومی مسائل پر اظہار خیال کیا اور بطور خاص مدارس دینیہ کے حوالہ سے حوصلہ افزا گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس کو خواہ مخواہ دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے حالانکہ دینی مدارس دہشت گردی کی جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اگر مدارس میں پڑھنے والے کچھ لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے والے بہت سے حضرات بھی دہشت گردی کے اس عمل کا حصہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس کے متعلق وزراء کے حوصلہ افزا تاثرات

۲۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

مسلم ممالک کا فوجی اتحاد

گزشتہ دنوں سعودی عرب نے 34 اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے مختلف گروپوں کی کاروائیوں کا انسداد بتایا گیا ہے۔ اس اتحاد کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہوگا اور اس میں شامل ممالک میں پاکستان کا نام بھی موجود ہے جبکہ ایران، عراق اور شام اس کا حصہ نہیں ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کی تفصیلات سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے اصولی طور پر اس کا خیر مقدم کیا ہے مگر شمولیت کے بارے میں کہا ہے کہ تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک کا فوجی اتحاد

۱۸ دسمبر ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری کی عالمی مقبولیت

ایک قومی اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ روس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی دمتری سویولوو نے ایک قانون منظوری کے لیے پیش کیا ہے کہ روس میں بغیر سود اسلامی بینکاری کی اجازت دی جائے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے دمتری سویولوو اسمبلی میں ایک اور مسودہ قانون بھی پیش کر چکے ہیں جس میں اسلامی اصول کی بنیاد پر لیزنگ میں رکاوٹ ڈالے جانے کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر سودی بینکاری کی عالمی مقبولیت

۱۵ دسمبر ۲۰۱۵ء

تکفیر کا فتنہ اور موجودہ عالمی مخمصہ

گزشتہ دنوں جامعۃ الازہر کے سربراہ فضیلۃ الدکتور احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے ایک قومی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ شام اور عراق سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تنظیم داعش کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جامعۃ الازہر کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جو فرشتوں، الہامی کتابوں بشمول قرآن پاک سے انکار کرے وہ ایمان سے خارج سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تکفیر کا فتنہ اور موجودہ عالمی مخمصہ

۱۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

خطیب العصر حضرت مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے دور کے چند بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں کی فضاؤں میں اپنی خطابت کا جادو جگایا اور لاکھوں مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ان کی خطابت میں حسن قرأت، ترنم، معلومات، مشن اور جذبہ و جوش کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا تھا ، اور وہ واضح فکری اہداف رکھتے تھے جن کے لیے وہ زندگی بھر سرگرم عمل رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

۱۰ دسمبر ۲۰۱۵ء

عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۵ء

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے زیر اہتمام کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس اتوار کو 2 بجے اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے مہتمم مولانا ماجد مسعود اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے صدر الشیخ احسان ھندوکس نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۵ء

۵ دسمبر ۲۰۱۵ء

آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

میں کانفرنس کے معزز شرکاء کو اس بات پر غور کی دعوت دوں گا کہ ان میں سے کون سے مسائل ہیں جو مذہب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کسی حد تک مذہب کا کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن باقی سب مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں یکطرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اپنے ایجنڈے کو متوازن اور بیلنس بنانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

اشتیاق احمد مرحوم

اشتیاق احمد مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں، دو تین بار کی ملاقات یاد ہے اور چند مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر بچوں کے لیے لکھا ہے اور جب ان کی تصانیف اور مضامین کی شہرت ہوئی میں بچپن کی حدود سے بہت آگے جا چکا تھا۔ البتہ ان کے فن کی اہمیت و ضرورت سے ضرور آشنا رہا اور اسی وجہ سے ان سے محبت و انس کا تعلق رہا۔ وہ بنیادی طور پر جاسوسی ادب کے دائرے کے ادیب تھے اور جاسوسی ادب سے ایک دور میں میرا بہت زیادہ رشتہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اشتیاق احمد مرحوم

۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

اسلام اور سائنس

اسلام اور سائنس کے موضوع پر گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں، ان میں سے صرف ایک پہلو پر عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا اسلام اور سائنس آپس میں متصادم ہیں؟ کیونکہ عموماً‌ یہ بات دنیا میں کہی جاتی ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ان کے درمیان بُعد اور منافاۃ ہے۔ میں آج کی گفتگو میں اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔ سب سے پہلے اس بات پر غور فرمائیں کہ مذہب اور سائنس کے باہم مخالف اور متصادم ہونے کا جو تاثر عام طور پر پایا جاتا ہے اس کے بڑے اسباب دو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور سائنس

۲۸ نومبر ۲۰۱۵ء

عالمی بین المذاہب کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۵ء

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک بڑی علامت ’’یتقارب الزمان‘‘ بیان فرمائی ہے جس کا ترجمہ زمانے کا ایک دوسرے کے قریب ہونا ہے۔ جبکہ محاورے میں اس کا مفہوم یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے‘‘۔ آج کا دور اس کا مصداق دکھائی دیتا ہے کہ جدید مواصلاتی نظام اور سہولتوں نے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کو اس طرح ایک دوسرے سے پیوست کر دیا ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ آنًا فانًا دنیا بھر میں نہ صرف پھیل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی بین المذاہب کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۵ء

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

دیوبندی بریلوی اختلافات ۔ افہام و تفہیم کی ضرورت

مولانا مفتی سعید احمد اسعد بریلوی مکتب فکر کے معروف بزرگ مولانا مفتی محمد امین کے فرزند اور جامعہ امینیہ شیخ کالونی کے مہتمم ہیں۔ مسلکی اختلافات پر ایک بڑے مناظر کی شہرت رکھتے ہیں اور معروف خطباء میں شمار ہوتے ہیں۔ حافظ ریاض احمد قادری، مولانا قاری لائق علی اور سید ذکر اللہ الحسنی کے ہمراہ جامعہ امینیہ میں حاضری ہوئی۔ مفتی صاحب موصوف نے عزت و توقیر سے نوازا اور ملاقات کا مقصد یہ بتایا کہ وہ ایک عرصہ سے اس سوچ میں ہیں کہ دیوبندی بریلوی تفریق اور اختلافات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبندی بریلوی اختلافات ۔ افہام و تفہیم کی ضرورت

۲۳ نومبر ۲۰۱۵ء

تین معاصر بزرگوں کے تصنیفی کارنامے

حضرت مولانا سمیع الحق سے ملاقات بلکہ طویل نشست ہوئی، حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے علاوہ متعدد ملکی و قومی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوا اور مولانا سمیع الحق کی تصنیفی سرگرمیوں اور مساعی سے آگاہی حاصل کی۔ میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ اپنے تین معاصر بزرگوں کی محنت دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے بلکہ رشک ہوتا ہے کہ وہ تحریری محاذ پر مستند معلومات اور تاریخ کا ایک بڑا ذخیرہ مرتب کر کے نئی نسل کے حوالے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین معاصر بزرگوں کے تصنیفی کارنامے

۲۲ نومبر ۲۰۱۵ء

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس ۔ حالات حاضرہ کا جائزہ

اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک کو دھیرے دھیرے سیکولر ازم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی مہم ہر سطح پر جاری ہے۔ مگر دینی و علمی حلقوں میں بیداری دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ دستور پاکستان میں وطن عزیز کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اسلامی اقدار و روایات کی ترویج کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جو اکیسویں آئینی ترامیم کے حوالہ سے سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس ۔ حالات حاضرہ کا جائزہ

نا معلوم

سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۵ء

گزشتہ روز جمعرات کو رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے سالانہ عالمی اجتماع کے دوسرے مرحلہ کے آغاز میں کچھ دیر کے لیے حاضری کا اتفاق ہوا۔ یہ میرا کم وبیش ہر سال کا معمول ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے حاضر ہوتا ہوں، ایک دو نمازوں میں شریک ہوتا ہوں اور ایک دو بزرگوں کے بیانات سن کر واپسی کر لیتا ہوں جس سے اس خیر کے کام میں تھوڑی سی شرکت ہو جاتی ہے، کچھ دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور دعوت و اصلاح کا اجتماعی عمل دیکھ کر ایمان کو تازگی میسر آجاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۵ء

۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء

دینی جدوجہد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم

ملی یک جہتی کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ان دنوں مختلف دینی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور دینی جماعتوں کی سربراہی کانفرنس کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ملی مجلس شرعی پاکستان نے بھی چند دنوں سے اسی مقصد کے لیے سرگرمیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ 18 اکتوبر کو ہمدرد ہال لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہ نماؤں کا ایک بھرپور نمائندہ اجتماع ہوا تھا جس میں ملی یک جہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی جدوجہد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم

۶ نومبر ۲۰۱۵ء

مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ

جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ

۳ نومبر ۲۰۱۵ء

توبہ، اصلاح، تلافی

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق پر حملہ کے موقع پر وہاں ناجائز کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی رپورٹ غلط تھی اور انہیں عراق پر حملہ کے نتیجے میں داعش کے منظم ہو جانے کا اندازہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ٹونی بلیئر عراق پر امریکی اتحاد کے حملہ کے قائدین میں سے تھے اور انہوں نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور نائب صدر ڈک چینی کا ساتھ دے کر نہ صرف اس حملہ میں برطانوی فوجوں کو شریک کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توبہ، اصلاح، تلافی

یکم نومبر ۲۰۱۵ء

تحریک انسداد سود کا اجلاس

26 اکتوبر کو تحریک انسداد سود پاکستان کی دعوت پر گڑھی شاہو لاہور میں تنظیم اسلامی پاکستان کے دفتر میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا نماز ظہر کے بعد دو بجے مشترکہ مشاورتی اجلاس تھا۔ صبح نماز فجر کے وقت اطلاع ملی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہ نما حافظ محمد ثاقب کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ 2 بجے شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ میں ادا کی جانی تھی۔ حافظ صاحب مرحوم ہمارے بہت پرانے اور بزرگ ساتھی تھے۔ میں 1962ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخل ہوا تو اسی سال تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے حافظ محمد ثاقبؒ کے ساتھ رفاقت کا آغاز ہوگیا، اور مکمل تحریر تحریک انسداد سود کا اجلاس

۲۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

مولانا عبد اللطیف انورؒ

شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد اللطیف انورؒ

۲۶ اکتوبر ۲۰۱۵ء

اقوام متحدہ اور عالم اسلام

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ اور عالم اسلام

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۵ء

اللہ پوچھے گا!

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے رخصت ہوتے ہوئے قومی زبان اردو کے متعلق تاریخی فیصلہ صادر کر کے ایک کریڈٹ اپنے نام تاریخ میں محفوظ کر لیا تھا، جبکہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے بھی جاتے ہوئے سودی نظام کے خلاف حافظ عاکف سعید کی رٹ مسترد کر کے اور متنازعہ ریمارکس دے کر ایک ’’کریڈٹ‘‘ اپنے نام ریکارڈ کرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر فرمایا کہ سودی نظام ختم کرانا سپریم کورٹ کا کام نہیں او رنہ ہی وہ سپریم کورٹ میں مدرسہ کھول کر کے سود کے حرام ہونے کی تعلیم دے سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اللہ پوچھے گا!

۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء

سرزمین جہلم کے بزرگ

10 اکتوبر کو ڈومیلی ضلع جھلم کی ایک با مقصد تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ ڈومیلی کا نام زبان پر آتے ہی حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ کا سراپا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جنہوں نے اس علاقہ میں توحید و سنت کے فروغ اور رفض و بدعت کے تعاقب میں مسلسل جدوجہد کی۔ اور آج ان کی اس جدوجہد کے آثار پورے خطے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے شاگرد اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ سے روحانی سلوک و تربیت کا تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرزمین جہلم کے بزرگ

۱۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء

مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ

وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور حالات یوں بھی بدل جاتے ہیں، اس کے بارے میں سن تو بہت کچھ رکھا تھا مگر رفتار زمانہ نے عمل و تجربہ کی دنیا میں احساس دلایا تو اس کا صحیح اندازہ ہوا۔ ابھی کل کی بات ہے کہ قومی سیاست میں مولانا مفتی محمودؒ کی شب و روز سرگرمیاں اور ان کی حکمت و تدبر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ شریک کار تھے۔ مگر آج جب وقت کا حساب لگایا تو زمانے کی بے رحم رفتار نے بتایا کہ 14 اکتوبر کو انہیں ہم سے رخصت ہوئے پینتیس برس ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء

حج کے انتظامات کے متعلق کچھ تجاویز

حج کا سفر صبر و مشقت کا سفر ہوتا ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی بقدر مشقت بتایا گیا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں شکوہ و شکایت کا کوئی موقع و محل نہیں بنتا۔ البتہ جن امور کا تعلق اجتماعی نظم سے ہے ان کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات منطقی اور اصولی ہے کہ حج کے انتظامات کرنے والی اتھارٹی اپنے فقہی مسلک اور ترجیحات کے مطابق ہی انتظامات کرے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حج کے انتظامات کے متعلق کچھ تجاویز

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۵ء

منٰی کا سانحہ ۲۰۱۵ء

منیٰ میں ہمارے خیمے مسجد خیف کے ساتھ اور جمرات کے قریب تھے، یہاں بھی قیام و طعام کی اچھی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ جس روز منیٰ کا سانحہ پیش آیا ہم صبح صبح رمی سے فارغ ہو کر خیموں میں آچکے تھے۔ رات سفر میں گزری تھی اور رمی جمرات بھی مشقت کا مرحلہ تھا اس لیے میں واپس پہنچ کر خیمہ میں سو گیا۔ دو تین گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی تو ساتھیوں نے سانحہ کے بارے میں بتایا، سینکڑوں کی تعداد میں شہادتوں کی خبروں نے پریشان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منٰی کا سانحہ ۲۰۱۵ء

۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

حج ۲۰۱۵ء کا شاہی مہمان

اس مرتبہ عید الاضحی کی تعطیلات بحمد اللہ تعالیٰ حرمین شریفین اور مشاعر مقدسہ کی فضاؤں میں گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ دو ہفتے قبل اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانہ کی طرف سے پیغام ملا کہ اس سال خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کی میزبانی میں حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں آپ کا نام بھی شامل ہے، اس لیے پاسپورٹ بھجوا دیجیے۔ یہ پیشکش ایسی تھی کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حج ۲۰۱۵ء کا شاہی مہمان

۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء

اسلام قبول کرنے والوں کے مسائل

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں اچھی خاصی تعداد میں رہتی ہیں اور انہیں دستور کے مطابق شہری حقوق حاصل ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے اندر تبلیغ کرنے اور انہیں غیر مسلم بنانے کے مواقع بھی انہیں میسر ہیں جن سے مسیحی اقلیت کے مشنری ادارے اور قادیانی مبلغین سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ مسیحی مشنریوں کی طرح غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے کوئی منظم کام قومی سطح پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر اس قسم کی کوئی تحریک پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام قبول کرنے والوں کے مسائل

۲۲ ستمبر ۲۰۱۵ء

حالات حاضرہ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

اجلاس میں آئینی ترمیم کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ آئینی ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے جن بنیادی اصولوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ان میں دستور کی اسلامی دفعات اور ملک کا نظریاتی تشخص شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا یہ اختیار تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ دستور کی ان دفعات میں ترامیم کر سکتی ہے جن کا تعلق نظریہ پاکستان، ملک کے اسلامی تشخص اور اسلامی قوانین کی عملداری سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

۱۸ ستمبر ۲۰۱۵ء

قدیم اور جدید تعلیم

قرآن کریم حادث کے مقابلہ میں بلاشبہ قدیم ہے اور وہ ہمارا اعتقادی مسئلہ ہے، لیکن جدید کے مقابلے میں قرآن کریم یا حدیث و سنت کو قدیم قرار دینا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ یہ پرانے علوم ہیں جن کا زمانہ گزر چکا ہے اور آج ان کی جگہ نئے علوم و فنون نے لے لی ہے۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ قرآن و سنت قیامت تک کے لیے ہیں اور ماضی کی طرح حال کا زمانہ، بلکہ آنے والا مستقبل بھی قرآن و سنت کے دائرہ کار میں شامل ہے، اور قرآن کریم کی ٹرم قیامت تک باقی رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قدیم اور جدید تعلیم

نا معلوم

اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم

ملک میں اردو زبان کو سرکاری، دفتری اور عدالتی شعبوں میں عملاً رائج کرنے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے پر اگر خلوص دل سے عمل کا اہتمام ہوگیا تو ہمارے بہت سے معاشرتی، فکری اور تہذیبی مسائل بحمد اللہ تعالیٰ از خود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ جبکہ آنے والی نسلیں یقیناً عدالت عظمیٰ کی شکر گزار ہوں گی اور اس کے معزز ججوں کو دعائیں دیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ ایک ماہ سے بھی کم چیف جسٹس رہے لیکن جاتے جاتے یہ تاریخی فیصلہ سنا کر اپنا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک قابل احترام جج کے طور پر محفوظ کرا گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم

۱۵ ستمبر ۲۰۱۵ء

خواتین کی دینی تعلیم

قرآن کریم کی کسی آیت کی جو تشریح کسی صحابیؓ نے کی ہے اس کا بھی وہی مقام ہے اور جو تفسیر کسی صحابیہؓ سے مروی ہے وہ بھی وہی درجہ رکھتی ہے۔ حدیث کی روایت میں جو درجہ مرد صحابہؓ کی روایت کا ہے وہی درجہ خاتون صحابیاتؓ کی روایت کا بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ گھر کے اندر اور خاندانی نظام کے حوالہ سے صحابیاتؓ بالخصوص امہات المومنین کی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی طرح فقہی مسائل اور فتاویٰ میں بھی امہات المومنین سے رجوع کیا جاتا تھا اور ان کے فتویٰ کو تسلیم کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خواتین کی دینی تعلیم

نا معلوم

گوجرانوالہ سے حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں میری معلومات کے مطابق تین بزرگ ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے ایک کی میں نے زیارت کی ہے۔ تحصیل وزیر آباد کے گاؤں دلاور چیمہ کے ایک بزرگ حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ کا شمار حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں ہوتا ہے اور وہ اپنی تصنیفی خدمات کے حوالہ سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔ حنفی فقہ کے مطابق اردو زبان میں نماز کے احکام و مسائل پر ان کی کتاب ’’الصلوٰۃ عماد الدین‘‘ نے خاصی شہرت و قبولیت حاصل کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ سے حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ

نا معلوم

سنی شیعہ تصادم روکنے کی ضرورت

مشرق وسطیٰ ہو یا پاکستان، ہم کسی بھی جگہ سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور اس کے فروغ کے حق میں نہیں ہیں اور پہلے کی طرح اب بھی دل سے چاہتے ہیں کہ اس کی شدت اور سنگینی میں کمی لائی جائے اور اس ماحول کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے جو سنی شیعہ کشیدگی کے باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے قبل موجود تھا کہ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ قومی مسائل میں ایک دوسرے سے تعاون کیا جاتا تھا، اختلافات کو دلیل اور مناظرہ کے دائرے میں محدود رکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ تصادم روکنے کی ضرورت

۱۱ ستمبر ۲۰۱۵ء

یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران جہاں 6 تاریخ کو یوم دفاع پاکستان اور 7 ستمبر کو یوم فضائیہ منایا جاتا ہے، وہاں 7 ستمبر کو ہی ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ بھی منایا جاتا ہے۔ اس روز 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے بارے میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے موقف کو دستوری شکل دیتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر کیا تھا۔ اس سال بھی ملک بھر میں تقریبات اور ریلیوں کا ان تینوں حوالوں سے اہتمام کیا گیا اور قوم کے ہر طبقہ نے پاکستان کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات

۹ ستمبر ۲۰۱۵ء

میری صحافتی زندگی

صحافتی زندگی میں میری باضابطہ انٹری ستمبر 1965ء میں ہوئی جب میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ 6 ستمبر کو جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی صبح نماز کے وقت گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی جس میں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوگئے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی دوسری جانب اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ بھارتی طیارے کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ میں نے اس واقعہ پر ایک فیچر لکھا جو روزنامہ وفاق لاہور میں شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میری صحافتی زندگی

۳ ستمبر ۲۰۱۵ء

واجد شمس الحسن کی تقریر

لاہور ہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر اپنی اس تقریر کی وضاحت کریں جو انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں قادیانیوں کے سالانہ عالمی اجتماع میں کی ہے، جس میں انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی غلطی قرار دیتے ہوئے قادیانیوں کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر واجد شمس الحسن کی تقریر

۱ ستمبر ۲۰۱۵ء

بین الاقوامی قوانین اور اسلام

معاہدہ شخصی ہو، گروہی ہو یا بین الاقوامی ہو، اصول ہر جگہ ایک ہی ہے کہ ہمیں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد سے پہلے اسلام کے اس واضح اور صریح حکم پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہم اپنے مسلمان ہونے اور پاکستان کے اسلامی جمہوریہ ہونے کے تقاضوں سے وفا نہیں کر سکیں گے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے گرد بین الاقوامی معاہدات کا جال جس طرح بن دیا گیا ہے، ان معاہدات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات سے پہلے ہمیں اس جال اور اس کے پیچھے بیٹھے شکاریوں پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی قوانین اور اسلام

۲۸ اگست ۲۰۱۵ء

بخاری شریف بطور نظام حیات

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بخاری شریف بطور نظام حیات

۲۵ اگست ۲۰۱۵ء

جنرل حمید گل مرحوم

جنرل حمید گل مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تاریخی جدوجہد اور تگ و دو کے اثرات ایک عرصہ تک تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔ ان کا تعلق پاک فوج سے تھا اور ان کا نام جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور جنرل اختر عبد الرحمن مرحوم کے ساتھ جہادِ افغانستان کے منصوبہ سازوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ جہاد افغانستان جس نے تاریخ کا رخ موٹ دیا اور جس کے مثبت و منفی دونوں قسم کے اثرات سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے یا انہیں بھگت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل حمید گل مرحوم

۲۲ اگست ۲۰۱۵ء

کیا اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم نہیں؟

انگریزوں کے آنے کے بعد عالمی صورت حال میں یہ تبدیلی آچکی تھی کہ پہلے حکومتوں کا قیام طاقت کے زور پر ہوتا تھا۔ انگلستان میں بھی بادشاہت کا قیام طاقت کے بل پر ہوا تھا، برصغیر پر بھی انگریزوں نے قوت و طاقت سے قبضہ کیا تھا، جبکہ اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی اقلیت ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا پر ایک ہزار سال تک طاقت کے ذریعہ حکومت کی تھی۔ مگر اب عالمی صورت حال میں یہ رجحان بڑھنے لگا کہ حکومت و ریاست کا قیام طاقت سے نہیں بلکہ ووٹ کی بنیاد پر اکثریت کی رائے سے ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم نہیں؟

۱۷ اگست ۲۰۱۵ء

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے علاقے میں حکومت خود مسلمانوں کی ہونی چاہیے اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مطابق ملک کا نظام تشکیل پانا چاہیے۔ یہ اسلام کے تقاضوں میں سے ہے، جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ اور ماضی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی قائم ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قیام پاکستان کا بنیادی مقصد

۱۴ اگست ۲۰۱۵ء

مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ کا انتقال علمی و دینی حلقوں کے لیے غم و صدمہ کا باعث ہے اور بلاشبہ ہم ایک مخلص بزرگ اور مدبر راہ نما سے محروم ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی نجم الدین کلاچویؒ اپنے دور کے بڑے علماء کرام میں سے تھے اور علمی و دینی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے فتاوٰی ’’نجم الفتاوٰی‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہیں اور علماء کرام کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا اہم ذریعہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ

۱۳ اگست ۲۰۱۵ء

مولانا ضیاء القاسمیؒ ۔ چند یادیں

ایک بار استاد محترم قاری انور صاحب نے ہم چند شاگردوں کو اپنے گھر بلا کر ٹیپ ریکارڈر سے ایک تقریر سنوائی اور مجھے کہا کہ تم بھی اس طرح تقریر کیا کرو۔ یہ تقریر حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کی تھی جو میں نے زندگی میں پہلی بار سنی اور اچھی لگی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ ان کے بڑے بھائی ہیں اور ان سے بھی اچھی تقریر کرتے ہیں۔ تو انہیں دیکھنے اور سننے کا شوق پیدا ہوا۔ اب یاد نہیں کہ قاسمی صاحبؒ کی پہلی تقریر کہاں سنی مگر یہ حقیقت ہے کہ زندگی میں ان کی اتنی تقریریں سنیں کہ شمار کرنا مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ضیاء القاسمیؒ ۔ چند یادیں

۸ اگست ۲۰۱۵ء

مدارس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

تیسری بات یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ تربیت اور تجربے کی مشق بھی کرتے رہیں۔ سکول و کالج میں سائنس پڑھاتے ہوئے جہاں لیکچر میں تھیوری پڑھائی جاتی ہے وہاں لیبارٹری میں پریکٹیکل بھی کرایا جاتا ہے۔ ہم سبق میں تھیوری تو پڑھتے ہیں مگر عملی زندگی میں اس کے پریکٹیکل کی مشق نہیں کرتے۔ مثلاً قدوری یا فقہ کی کسی کتاب میں نماز کی ترتیب اور آداب تو پڑھ لیتے ہیں مگر اپنی نماز میں اس کا اہتمام کرنے کی فکر نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

۵ اگست ۲۰۱۵ء

ملا محمد عمر مجاہدؒ

ملا محمد عمرؒ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد میں شریک رہے ہیں، اس میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی۔ لیکن وہ گمنامی کے اندھیروں میں اس وقت ایک چمکدار ستارے کی مانند نمودار ہوئے جب سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان بین الاقوامی طاقتوں کی طے شدہ پالیسی کے مطابق ایک نئی اور وسیع تر خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا۔ کابل پر قبضے کی بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین اور تحلیل شدہ سابقہ سرکاری افغان فوج کے مختلف گروپ افغانستان کے بہت سے علاقوں میں باہم برسر پیکار تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملا محمد عمر مجاہدؒ

یکم اگست ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں مسلکی کشمکش

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان سالہا سال سے جاری کشمکش بلکہ خانہ جنگی کے بارے میں جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ سنی شیعہ کشمکش نہیں ہے یا اسے سنی شیعہ کشمکش کا عنوان نہیں دینا چاہیے تو دل کی بات یہ ہے کہ خود میرا بھی جی چاہتا ہے کہ یہی بات کہوں اور مسلسل کہتا چلا جاؤں۔ لیکن معروضی حال کو دیکھتا ہوں تو کھلی آنکھوں سے نظر آنے والا منظر اس معصوم سی خواہش کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں مسلکی کشمکش

۳۱ جولائی ۲۰۱۵ء

بیرونی مداخلت پر مالدیپ کی مذمت

اے پی پی کی ایک خبر کے مطابق مالدیپ کے صدر عبد اللہ یامین نے ملکی معاملات میں مغربی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔ مالدیپ کے پچاسویں یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر عبد اللہ نے ترقی یافتہ ممالک پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جزیرے پر اپنے قوانین اور معیارات مسلط کر رکھے ہیں۔ کچھ ممالک اور عالمی ادارے مالدیپ کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تقریب میں ہمسایہ ملک سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا بھی موجود تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرونی مداخلت پر مالدیپ کی مذمت

۲۹ جولائی ۲۰۱۵ء

ایران کے جوہری معاہدے کا جائزہ

بڑی طاقتیں کہلانے والے چھ ملکوں کے ساتھ ایران کا ایٹمی معاہدہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث ہے اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ معاہدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ان چھ ملکوں نے ایران کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو دس سال تک ایٹم بم بنانے کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا۔ اور اس سلسلہ میں عالمی سطح پر نگرانی کرنے والے اداروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران کے جوہری معاہدے کا جائزہ

۲۷ جولائی ۲۰۱۵ء

مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوم

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا آغاز 1952ء میں ہوا تھا جب چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اس کی بنیاد رکھی۔ تھوڑے عرصہ کے بعد حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ساتھ شامل ہوگئے۔ اہل علم اور اہل خیر میں سے بہت سے سرکردہ حضرات ان کے شریک کار بنے اور یہ قافلہ چلتے چلتے ایک ایسے علمی، مسلکی اور فکری مرکز کی صورت اختیار کر گیا جس کا تعارف اور فیض صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوم

۲۳ جولائی ۲۰۱۵ء

فضلائے مدارس کے روزگار کا مسئلہ

عید الفطر کی تعطیلات ختم ہوتے ہی دینی مدارس میں تعلیمی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز تک داخلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات نئے سال کی تعلیمی ترجیحات طے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ سال فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے لیے نئی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے روزگار اور مختلف قومی شعبوں میں دینی خدمات کے حوالہ سے ذہن سازی اور منصوبہ بندی ہماری ترجیحات میں عمومی طور پر شامل نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فضلائے مدارس کے روزگار کا مسئلہ

نا معلوم

مسئلہ قومی زبان اردو کا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے جناب اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی درخواست پر وفاقی حکومت سے اردو زبان کو تدریسی نصاب اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنے کے بارے میں 18 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ اردو زبان کو سکولوں و کالجوں میں تدریسی نصاب کا حصہ بنانے اور تمام عدالتی کاروائی کو اردو زبان میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ قومی زبان اردو کا

۱۸ جولائی ۲۰۱۵ء

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک دور مری میں مکمل ہوگیا ہے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ دونوں وفد اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کا کردار اس میں واضح ہے کہ یہ مذاکرات مری میں ہوئے ہیں اور اس سے قبل پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کابل کے ساتھ مسلسل روابط بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے ایک عرصہ سے تگ و دو کی جا رہی تھی اور امید و بیم کے کئی مراحل درمیان میں آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

۱۶ جولائی ۲۰۱۵ء

سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم

یہ خبر دل کو غم و اندوہ کی گہرائیوں میں لے گئی ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہ نما اور پاکستان کی قومی سیاست کے ایک اہم نظریاتی کردار سردار محمد عبد القیوم خان طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سردار صاحب کے ساتھ میرا بہت قریبی تعلق رہا ہے اور میں ان کی تحریکی اور سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کے مختلف مراحل کا عینی گواہ ہوں، بلکہ بعض مراحل میں شریک کار بھی رہا ہوں۔ میں نے پہلی بار انہیں کم و بیش نصف صدی قبل اس وقت دیکھا جب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم

۱۲ جولائی ۲۰۱۵ء

مری میں علمی و فکری نشستیں

گزشتہ دنوں دورۂ تفسیر کی پوری کلاس کے ساتھ چار روز مری میں گزارنے کا موقع ملا۔ جون کے آغاز میں جامعہ فاروق اعظمؓ مری کے سالانہ جلسہ میں حاضری ہوئی تو جامعہ کے مہتمم مولانا قاری سیف اللہ سیفی نے تقاضہ کیا کہ رمضان المبارک کے کچھ ایام ان کے پاس مری میں گزاروں۔ میں نے عذر کیا کہ ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کی چالیس روزہ کلاس ہوتی ہے جو وسط رمضان تک جاری رہتی ہے، جبکہ آخری عشرہ کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مری میں علمی و فکری نشستیں

۹ جولائی ۲۰۱۵ء

اسلام میں عورتوں کے حقوق

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔ اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں (۱) اسقاط حمل (۲) کارو کاری (۳) نو عمری کی شادی اور (۴) چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں عورتوں کے حقوق

۶ جولائی ۲۰۱۵ء

دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ

دینی مدارس کو این جی اوز کا ہی ایک وسیع نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے اس لیے کہ ہزاروں دینی مدارس ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور طالبات کو نہ صرف مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ رہائش، خوراک اور علاج وغیرہ کی سہولتیں بھی انہیں بلا معاوضہ مہیا کی جا رہی ہیں۔ اس تعلیم میں قرآن و حدیث اور دیگر دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک تک عصری تعلیم اور کمپیوٹر ٹریننگ بھی شامل ہے۔ اصحاب ثروت اپنی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات وغیرہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو مستحق طلبہ اور طالبات پر خرچ کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور عدالت عظمیٰ

۴ جولائی ۲۰۱۵ء

نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

ہار کی واپسی کی خبر جن تفصیلات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھتے ہوئے ہمیں دور نبویؐ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک صاحب کو کسی علاقہ سے زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا۔ اس دور میں تحصیلدار اور محصولات وصول کرنے والے کے لیے ’’عامل‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے واپس آئے تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں وصول شدہ اموال پیش کیے مگر ایک گٹھڑی علیحدہ رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

۲ جولائی ۲۰۱۵ء

تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے دائرے

میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے دائرے

۲۷ جون ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

۲۰ جون ۲۰۱۵ء

غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

بلاشبہ ساری این جی اوز ایسی نہیں ہیں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز موجود ہیں جو انسانی فلاح و بہبود، معاشرتی ترقی، سماجی اصلاح اور خدمت خلق کے مختلف دائروں میں مثبت اور مفید خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جب سے استعماری قوتوں نے سماجی بہبود اور خدمت انسانیت کے مقدس عنوانات کو اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کے لیے ذریعہ بنانے کی ریت ڈالی ہے، ’’این جی او‘‘ کی اصطلاح ہی جاسوسی، تہذیبی خلفشار، اور سیاسی افراتفری کے فروغ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

۱۷ جون ۲۰۱۵ء

وہی شکستہ سے جام اب بھی!

عام طور پر حکومتی جماعتیں اور ارکان اسمبلی بجٹ کی تحسین کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور اراکان اسمبلی کی طرف سے اعتراضات سامنے آتے ہیں اور ردّ و مدّح کا شور بپا ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہونے لگ جاتا ہے جو وزرائے خزانہ کی طرف سے ایوانوں میں پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ البتہ عوام کو وقتی طور پر پڑھنے اور سننے کی حد تک تسلی کی کچھ ایسی باتیں ضرور مل جاتی ہیں جن میں ان کے معاشی مسائل اور مالی مشکلات کا تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وہی شکستہ سے جام اب بھی!

۱۴ جون ۲۰۱۵ء

اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے حوالہ سے دنیا بھر میں اضطراب بڑھ رہا ہے اور مختلف ممالک میں اس کا عملی اظہار بھی ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اس پر بحث جاری ہے اور متعدد مسلم ممالک کے ادارے اور تحریکات اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی اس سلسلہ میں عملی اقدامات کا عندیہ دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اراکانی مسلمانوں کا مسئلہ عالمی فورم پر اٹھانے اور وہاں کے مہاجر مسلمانوں کو پاکستان میں پناہ دینے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

۱۰ جون ۲۰۱۵ء

قادیانیت کا رد اور تعاقب

فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیت کا رد اور تعاقب

۶ جون ۲۰۱۵ء

ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل نو کے موقع پر یہ دعوت دی گئی کہ ملک بھر میں ایسے اصحاب و دانش سے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کے لیے علمی و فکری جدوجہد کے خواہشمند ہیں، وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک کار ہوں۔ اجلاس میں یہ وضاحت بھی دہرائی گئی کہ کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت میں کام کرنے والے حضرات علمی و فکری جدوجہد کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

۳ جون ۲۰۱۵ء

دینی موضوعات پر تعلیمی وتربیتی کورسز

دورۂ تفسیر قرآن کریم کے علاوہ مختلف مقامات پر میراث، صرف و نحو، منطق، اصول فقہ اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین ان تعطیلات کے دوران اپنے اپنے فنون میں مختصر دورانیے کے کورسز کراتے ہیں جو بہت مفید اور ضروری ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے کورسز کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے، جس میں ہمارے فاضل دوست مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی شبانہ روز محنت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ سب کورسز ہماری اجتماعی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی موضوعات پر تعلیمی وتربیتی کورسز

۲۹ مئی ۲۰۱۵ء

بدمست ہاتھی اور چڑے کی پھررر

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ منفرد مزاج کے بزرگ تھے۔ مشکل بات کو سادہ انداز میں بیان کرنے کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ عام طور پر چھوٹی چھوٹی مثالوں اور کہاوتوں کے ذریعہ بات سمجھاتے تھے اور واقعی سمجھا دیا کرتے تھے۔ میں نے جن بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا اور استفادہ کیا ہے ان میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ ہمیشہ تلقین فرمایا کرتے تھے کہ بات سادہ لہجے میں کہو، آسان الفاظ میں کہو، اور علم و خطابت کا رعب جمانے کی بجائے اصل بات سمجھانے کی کوشش کیا کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بدمست ہاتھی اور چڑے کی پھررر

۲۶ مئی ۲۰۱۵ء

امام بخاریؒ کا ذوق اور ان کی عظمت

امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذھلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشا پور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذھلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام بخاریؒ کا ذوق اور ان کی عظمت

نا معلوم

دینی مدارس کے متعلق پرویز رشید کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب نے کسی محفل میں مساجد و مدارس کے حوالہ سے گزشتہ دنوں جو گفتگو کی ہے اور اس کے جو حصے منظر عام پر آئے ہیں، ان سے ان کی فکری برادری کے بارے میں کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے کہ وہ دانش وروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کا کام دینی حلقوں، اداروں اور مراکز کے بارے میں تخیلات و تصورات کی دنیا میں قائم ہونے والے مفروضوں کی جگالی کرتے رہنا ہے۔ اس جگالی کا منظر تقریباً نصف صدی سے ہم بھی مسلسل دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے متعلق پرویز رشید کے خیالات

۱۲ مئی ۲۰۱۵ء

اندرون سندھ کا سفر

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اندرون سندھ کا سفر

۹ مئی ۲۰۱۵ء

کراچی میں تین دن

تین دن کراچی میں گزار کر آج ۵ مئی کو سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کے لئے روانہ ہورہا ہوں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی تھی۔ ۲ مئی کو جامعہ اسلامیہ کی تقریب ہوئی جو نماز مغرب کے بعد شروع ہوکر کم و بیش نصف شب تک جاری رہی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد آف کندیاں شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ مولانا عبدالقیوم حقانی اور راقم الحروف نے تفصیلی خطابات کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی میں تین دن

۶ مئی ۲۰۱۵ء

حفظ حدیث کا ذوق

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفظ حدیث کا ذوق

۱ مئی ۲۰۱۵ء

قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث

۱۸ اپریل ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

۱۵ اپریل ۲۰۱۵ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

۱۲ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف اسلام آباد تشریف لائے اور وزیر اعظم پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے یمن کے بحران پر گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران امت مسلمہ کی وحدت کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر یمن کے تنازعہ کے سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور ترک حکمرانوں کے ساتھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

۱۰ اپریل ۲۰۱۵ء

نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں

کچھ عرصہ سے نوجوان علماء کی سرگرمیوں میں ایک خوشگوار تبدیلی سامنے آرہی ہے جس کا ذکر وقتاً فوقتاً اس کالم میں کرتا رہتا ہوں اور خاص طور پر میرے لیے اس میں اطمینان کے دو تین پہلو نمایاں ہیں: ایک یہ کہ دینی مدارس کے نئے فضلاء اور نوجوان علماء کرام میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے اور فارغ نہ بیٹھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔ دوسرا یہ کہ سرگرمیوں کا رخ امت کے اجتماعی مسائل و ضروریات کی طرف مڑ رہا ہے جو اس سے بھی اچھی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوجوان علماء کی مثبت سرگرمیاں

۸ اپریل ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان، تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کردہ اس بیان کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کا کوئی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ اس کے مضمرات و نتائج پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ قیام پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب کا تحفظ، اسلامی احکام و قوانین کے مطابق معاشرہ کی تشکیل اور امت مسلمہ کے دینی و نظریاتی تشخص کا اظہار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان، تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

۴ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

حرمین شریفین کے گرد حصار

مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالات پر مسلسل نظر رکھنے والوں کے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے، بلکہ ہم ایک عرصہ سے وقتاً فوقتاً اس طرف توجہ دلاتے آرہے ہیں کہ ایسا کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کو جس طرح حکومت وقت کے خلاف کھڑا کیا گیا ہے وہ سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہے، لیکن یہ سال دو سال کا قصہ نہیں بلکہ اس کی پشت پر کم و بیش چار عشروں کی تاریخ ہے اور ایک مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ بھرپور پلاننگ نے حالات کو یہ رخ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حرمین شریفین کے گرد حصار

۳۱ مارچ ۲۰۱۵ء

سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

۲۸ مارچ ۲۰۱۵ء

تمغۂ امتیاز

گزشتہ ۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تمغۂ امتیاز

۲۶ مارچ ۲۰۱۵ء

مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

۲۴ مارچ ۲۰۱۵ء

نکاح کی تقریب مسجد میں!

نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نکاح کی تقریب مسجد میں!

۲۲ مارچ ۲۰۱۵ء

چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس

چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس

۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء

ایران کا علاقائی تشخص

یہ چار خبریں ہیں جو صرف تین روز کے اندر مختلف اخبارات میں شائع ہوئی ہیں لیکن اپنے اندر معانی، سوالات اور خدشات و امکانات کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہیں جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے ہر ایک مستقل گفتگو اور بحث وتجزیہ کا متقاضی ہے۔ مگر سرِ دست ان کی تفصیلات میں جانے کی بجائے ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے علماء کرام، راہ نماؤں اور دانش وروں کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنے کی جسارت پر اکتفاء کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے لیے اس ساری صورت حال میں کچھ سوچنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران کا علاقائی تشخص

۱۶ مارچ ۲۰۱۵ء

مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے

آراء و افکار کا تنوع اور خیالات و تاثرات کا اختلاف سیاست میں بھی ہے، تہذیب و ثقافت میں بھی ہے، معیشت و تجارت میں بھی ہے، طب و حکمت میں بھی ہے، اور مذہب میں بھی ہے۔ اس لیے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ انسانی عقل و دانش کے مسلسل استعمال کی علامت ہے۔ البتہ اختلاف کا اظہار جب اپنی جائز حدود کو کراس کرنے لگتا ہے تو وہ تنازعہ اور جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رواداری اور ہم آہنگی کے باب میں یہی نکتہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے

۱۴ مارچ ۲۰۱۵ء

اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں اسلامک تھنک ٹینک کی سرگرمیوں کے حوالہ سے دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کا ذکر ہے جس سے خطاب کرنے والوں میں جناب سرتاج عزیز، جناب مشاہد حسین سید اور جناب نیر حسین بخاری شامل ہیں، جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامک تھنک ٹینک کے ذمہ دار حضرات نے اپنے فورم کا نام تبدل کر کے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک اس فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

۱۱ مارچ ۲۰۱۵ء

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن خلدونؒ ، رازیؒ ، ماوردیؒ اور ابن حزمؒ کے بنانے سے دینی اصطلاحات نہیں بنتیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے بنانے سے بنتی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ اگر کوئی دینی اصطلاح مذکورہ بالا بزرگوں سے نہیں بنتیں تو خود غامدی صاحب کی ان اصطلاحات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

۶ مارچ ۲۰۱۵ء

ششماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ششماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران حسب سابق چند روز کراچی میں گزارنے کا موقع ملا اور دو تین دن لاہور کی مصروفیات میں گزر گئے۔ 22 تا 25 فروری پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں مختلف عنوانات پر مسلسل فکری نشستوں کے لیے پابند کر رکھا تھا۔ چار روز کے دوران کم و بیش سات نشستوں میں متعدد عنوانات پر گفتگو ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ششماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

۴ مارچ ۲۰۱۵ء

اکیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات

اکیسویں آئینی ترمیم کے بارے میں قوم کے دو بڑے طبقوں کے تحفظات اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ وکلاء برادری نے بعض حوالوں سے اکیسویں آئینی ترمیم کو ملکی دستور کے بنیادی ڈھانچے اور جمہوری و شہری حقوق کے منافی قرار دیا ہے اور اس پر اپنے تحفظات کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ جبکہ دینی جماعتوں نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں کو صرف مذہبی حوالہ سے ہونے والی دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت تک محدود کرنے کو مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات

یکم مارچ ۲۰۱۵ء

قرآن کریم ماضی کی کتاب نہیں!

قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور حفظ و تلاوت کا سلسلہ دنیا بھر میں تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے دائرے کو سمیٹنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی، جو بلاشبہ قرآن کریم کا اعجاز ہے۔ لیکن اس سے عالمی استعماری حلقے اس مغالطہ کا شکار ہوگئے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور قراءت و تلاوت کا یہ سلسلہ دینی مدارس کی وجہ سے باقی ہے۔ اس لیے وہ دینی مدارس کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور دینی مدارس کا کردار محدود کرنے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم ماضی کی کتاب نہیں!

۲۴ فروری ۲۰۱۵ء

خواتین اور وراثت

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی روایت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں ایک ٹکہ بھی نہیں دیا جاتا، انہیں ڈرا دھمکا کر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے۔ زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت بچانے کے لیے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دیے ہیں اس سے کوئی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، وقت آگیا ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خواتین اور وراثت

نا معلوم

مجلس علماء اسلام پاکستان کا اجلاس

ملک میں نفاذ شریعت کی بات ہو یا سیکولر قوتوں کی ہمہ جہت یلغار کے مقابلہ کا مسئلہ ہو، نہ صرف پارلیمانی اور انتخابی سیاست کے ذریعہ اس جدوجہد میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہتھیار اٹھانا اس مسئلہ کا حل ہے۔ ہماری اصل ضرورت اور ہماری جدوجہد کا اصل میدان پر امن اور عدم تشدد پر مبنی عوامی جدوجہد ہے، اور دستور و قانون کے دائرہ میں پر جوش احتجاجی سیاست ہے۔ اس کے بغیر نہ ہم کوئی پیش رفت کر سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس علماء اسلام پاکستان کا اجلاس

۲۱ فروری ۲۰۱۵ء

تحفظ ناموس رسالت ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور

فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے بعد سے تحفظ ناموس رسالتؐ کے مسئلہ نے جو صورت اختیار کر لی ہے اس کے پیش نظر یہ کانفرنس بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ بعض راہ نماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ یہ کانفرنس شروع میں ہی ہو جانی چاہیے تھی مگر تاخیر کے ساتھ انعقاد پذیر ہونے کے باوجود اس کی اہمیت و ضرورت بدستور قائم ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ ملک کی دینی و قومی جماعتوں نے اپنی اپنی سطح پر اس سلسلہ میں اپنے جذبات کا مسلسل اظہار کیا ہے اور ملک بھر میں عوامی ریلیاں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ناموس رسالت ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور

۲۰ فروری ۲۰۱۵ء

عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہ

عالم اسلام میں باہمی تکفیر اور اس کی بنیاد پر قتل و قتال کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ شروع دور سے ہی چلی آرہی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کرنے والے خوارج نے تکفیر کو ہی اپنے امتیاز و تشخص کی علامت بنایا تھا اور چاروں طرف قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا تھا۔ وہ نہ صرف حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان مصالحت کے لیے حکم اور ثالث کے تقرر کے فیصلے کو کفر قرار دیتے تھے بلکہ کبیرہ گناہ کے مرتکب عام مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کو بھی ضروری سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہ

۱۷ فروری ۲۰۱۵ء

حضورؐ کا منافقین کے ساتھ طرز عمل

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضورؐ کا منافقین کے ساتھ طرز عمل

۱۵ فروری ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان اور اس کا رد عمل

مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، فورتھ شیڈول کا ایک نیا نیٹ ورک وجود میں آگیا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں، لاؤڈ اسپیکر کی خلاف ورزی کے الزام میں سرسری مقدمات چل رہے ہیں، سزائیں دی جا رہی ہیں، مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتارے جا رہے ہیں اور دینی ماحول میں خوف و ہراس کی ایک عجیب سے فضا ابھر رہی ہے۔ اس صورت حال سے دیوبندی علماء کرام اور مساجد و مراکز سب سے زیادہ متاثر ہیں اس لیے فطری طور پر کارکنوں کی نظریں مجلس علماء اسلام پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی ایکشن پلان اور اس کا رد عمل

۱۲ فروری ۲۰۱۵ء

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

غامدی صاحب اور ان کے حلقہ سے مباحثہ و مکالمہ کے لیے مسائل و احکام سے پہلے ان کے اصول و مسلمات کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ امت کے اجماعی تعامل اور جمہور اہل علم کے مسلمات کو کراس کر کے اصول و مسلمات کی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ وقت کا ضیاع اور بے جا تکلف ہونے کے ساتھ استشراق کے عنوان سے مغرب کی اس علمی و فکری تحریک کی آبیاری کا باعث بھی بنتی ہے جو وہ تین صدیوں سے اسلام کے ساتھ امت مسلمہ کے اجتماعی اور معاشرتی تعلق کو کمزور کرنے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

۷، ۸، ۹ فروری ۲۰۱۵ء

مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

۴ فروری ۲۰۱۵ء

دو محقق علماء کی وفات

مولانا نور محمد تونسویؒ مطالعہ و تحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور مسلکی دائرہ میں مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور استدلال و توضیح ان کا خاص ذوق تھا۔ مختلف موضوعات پر ان کی تحقیقی کاوشیں مضامین و رسائل کی صورت میں ان کا ذخیرہ آخرت ہیں ۔ ۔ ۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند روز قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو محقق علماء کی وفات

۲ فروری ۲۰۱۵ء

تبدیلی کا نعرہ اور دینی مدارس

اعجاز چودھری صاحب نے اس کنونشن کا مقصد یہ بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف علماء کرام سے راہ نمائی حاصل کرنا چاہتی ہے اس لیے سرکردہ علماء کرام کو اس اجتماع میں شرکت کی زحمت دی گئی ہے۔ چنانچہ ایک طالب علم کے طور پر میں بھی حاضر ہوا ہوں اور محترم عمران خان صاحب کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جب ملک کے نظام میں تبدیلی کی کوئی بات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبدیلی کا نعرہ اور دینی مدارس

۳۱ جنوری ۲۰۱۵ء

تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل نے تین طلاقیں اکٹھی دینے کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے جس پر بعض حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس پر بحث و تمحیص ہو رہی ہے۔ یہ تجویز دراصل مشرف حکومت کے دوران حدود آرڈیننس میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے کی جانے والی ترامیم کے موقع پر سرکردہ علماء کرام کی ایک کمیٹی کی طرف سے ستمبر 2006ء کے دوران سامنے آئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین طلاقوں کو تعزیری جرم قرار دینے کی سفارش

۲۹ جنوری ۲۰۱۵ء

شاہ عبد اللہ مرحوم

شاہ عبد اللہؒ کم و بیش نصف صدی سے سعودی عرب کے حکومتی نظام کا اہم حصہ چلے آرہے تھے اور شاہ فہدؒ کی وفات کے بعد انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کے طور پر منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے عالم اسلام کی وحدت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دینی حلقوں کی معاونت کے لیے اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خصوصی محنت کی ہے اور بہت سے حوالوں سے انہیں ایک بیدار مغز اور ترقی پسند حکمران کے طور پر عالمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ عبد اللہ مرحوم

۲۷ جنوری ۲۰۱۵ء

ہم آہنگی کی حکمت عملی ۔ ماضی اور حال کے تجربات کی روشنی میں

پاکستان میں ہم آہنگی اور کشمکش کے اسباب میں چار امور خصوصی توجہ کے طلب گار ہیں۔ ہمارا اجتماعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ دو باتیں ہمارے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور رواداری کا سبب بنتی ہیں، جبکہ دو باتیں انتشار و افتراق اور کشمکش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کے تناظر میں بات کروں گا کہ جب بھی ہم نے کسی مشترکہ قومی یا دینی مسئلہ کے لیے جدوجہد کی ہے ہمارے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوا ہے اور تمام مذہبی مکاتب فکر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر آگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہم آہنگی کی حکمت عملی ۔ ماضی اور حال کے تجربات کی روشنی میں

۲۴ جنوری ۲۰۱۵ء

حضورؐ بطور سیاست دان

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی سب سے بڑی صاحب کمالات شخصیت ہیں اور آپؐ کو کمال کی ہر صفت عروج کے اعلیٰ ترین درجہ پر عطا ہوئی ہے۔ آپؐ سب سے بڑے رسول و نبی، سب سے بڑے قانون دان، سب سے بڑے جرنیل، سب سے اعلیٰ حکمران اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر مستقل کام کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں سیرت نبویؐ کے ان پہلوؤں پر سب سے کم کام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضورؐ بطور سیاست دان

۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء

حالات کا اتار چڑھاؤ اور سیرت نبویؐ سے رہنمائی

حالات کے اتار چڑھاؤ سے یقیناً پریشانی ہوتی ہے لیکن یہ اتار چڑھاؤ تاریخ کا ناگزیر حصہ ہے اور اہل حق کے سفر کے سنگ میل ہی مسائل و مشکلات اور مصائب و آلام ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے اور میں اس سلسلہ میں دور نبویؐ کے دو تین واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ ایسے حالات میں ہمیں کیسے کام کرنا چاہیے؟ جناب نبی اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے تو ظاہری کیفیت یہ تھی کہ چھپتے چھپاتے مدینہ منورہ پہنچنے کی کوشش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات کا اتار چڑھاؤ اور سیرت نبویؐ سے رہنمائی

۱۹ جنوری ۲۰۱۵ء

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت

پورا عالم اسلام متفق ہے اور دیگر مذاہب بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین و تحقیر سنگین ترین جرم ہے۔ اس لیے کہ اس میں مذہبی پیشواؤں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں، جس سے اس جرم کی سنگینی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور قرآن و سنت، بائبل اور وید سمیت تمام مسلمہ مذہبی کتابوں میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت

۱۷ جنوری ۲۰۱۵ء

’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ حرام سے بچنا شرعی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی ضرورت بھی ہے کہ سود اور حرام کے دیگر کاروباروں کی وجہ سے معاشرتی بے سکونی، بے برکتی اور نحوست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ہم عام طور پر دعائیں قبول نہ ہونے کی جو شکایت کرتے رہتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام خوری کو قرار دیا ہے۔ اور برکت و سکون کے مسلسل کم ہونے کا باعث بھی حلال و حرام میں فرق نہ کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت

۱۴ جنوری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس ایک بار پھر موضوع بحث

دینی مدرسہ ایک بار پھر عالمی اور ملکی ماحول میں مختلف سطحوں پر موضوع بحث ہے، اور اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گفتگو ہو رہی ہے۔ 16 دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد اس بحث میں شدت آگئی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی قومی پالیسی سامنے آنے کے بعد دہشت گردی کے ساتھ مدرسہ کے مبینہ تعلق کو اجاگر کرنے میں بہت سی سیکولر لابیاں اور حلقے از سرِ نو متحرک ہوگئے ہیں۔ چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ معروضی صورت حال میں اس مسئلہ کے ضروری پہلوؤں پر ایک بار نظر ڈال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ایک بار پھر موضوع بحث

۱۱ جنوری ۲۰۱۵ء

مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلے

صوت الاسلام کی یہ مہم در اصل کئی سالوں سے جاری ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ میں خطابت کے عصری تقاضوں کا ذوق بیدار کیا جائے اور انہیں بیان و خطابت کی فنی ضروریات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے اسلوب اور معروضی حالات و مسائل کے ادراک کی طرف متوجہ کیا جائے، تاکہ وہ اسلام کی دعوت و دفاع اور معاشرہ کی اصلاح و تنظیم کے لیے زیادہ بہتر خدمات سر انجام دے سکیں۔ اس مقصد کے لیے مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام خطابت کا ایک سالہ تربیتی کورس بھی جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلے

۱۰ جنوری ۲۰۱۵ء

سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر

4-3 دسمبر کو سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کے سفر کے دوران دو بزرگوں کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری کا موقع ملا۔ جوہر آباد میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک پرانے بزرگ حکیم علی احمد خان صاحب کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا تھا۔ نوے برس سے زیادہ عمر پائی ہے، ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ کے ضلعی امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر

۸ جنوری ۲۰۱۵ء

سیرت طیبہ اور امن عامہ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، معاشرہ میں منافرت اور فساد کو پھیلنے سے روکا ہے، اور عام لوگوں کے امن کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات و احساسات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بننے والی باتوں کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ نفی فرمائی ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔ اس حوالہ سے بیسیوں واقعات میں سے ایک دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیرت طیبہ اور امن عامہ

۳ جنوری ۲۰۱۵ء

حضرت مولانا محمد نافعؒ

علمی دنیا انہیں اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی ترجمان اور صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کے تحفظ کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ وہ امام اہل السنۃ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اس علمی قافلہ کے ایک فرد تھے جنہوں نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کے فروغ و تحفظ اور حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی حیات و خدمات کی اشاعت اور ان کے بارے میں معاندین کی طرف سے مختلف ادوار میں پھیلائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے جواب و دفاع میں مسلسل جدوجہد کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد نافعؒ

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز

جامعۃ الرشید کراچی کے قائم کردہ علمی و فکری فورم ’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ (CPRD) نے 31 دسمبر کو اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس روز سنٹر کے مرکز اسلام آباد میں سی پی آر ڈی کے ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس مولانا مفتی عبد الرحیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی منیب الرحمن، جنرل (ر) حمید گل، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، سینیٹر طلحہ محمود، جناب ڈاکٹر انعام الرحمن، جناب ایاز وزیر، ڈاکٹر محسن نقوی، مولانا سید عدنان کاکاخیل، چودھری عبد الجبار اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ ۲۰۱۴ء

16 دسمبر کے سانحۂ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتیں اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی بلکہ درندگی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور میڈیا کے بہت سے مراکز نے اس دن سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اس کے اسباب و اثرات کے حوالہ سے مضامین اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا، مگر پشاور کے اس المناک سانحہ نے قوم کے غم کو ہلکا کرنے کی بجائے ایک اور قومی سانحہ کے صدمہ سے اسے دو چار کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ ۲۰۱۴ء

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کا دورہ

ورلڈ اسلامک فورم لندن کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری گزشتہ دو ہفتہ سے پاکستان میں ہیں اور مختلف شہروں میں احباب سے ملاقاتوں کے علاوہ فکری و نظریاتی محافل میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان آتے ہیں جامعہ مدنیہ لاہور ان کی قیام گاہ ہوتا ہے۔ اس بار بھی یہ روایت برقرار ہے البتہ ملتان، چیچہ وطنی، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے علاوہ اسلام آباد میں بھی متعدد محافل میں انہوں نے خطاب کیا ہے۔ جبکہ ایک آدھ روز میں وہ واپس روانہ ہونے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کا دورہ

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس

9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مجلس علماء اسلام پاکستان کی سپریم کونسل کے منعقدہ اجلاس میں اکثر جماعتوں کے صف اول کے راہ نما شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ ان میں سے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے خطابات چونکہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس

۱۵ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

ابن امیر شریعتؒ مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی دعوت پر ان کی شبانہ روز مساعی کے نتیجہ میں 18 نومبر کو اسلام آباد میں اہل السنۃ والجماعۃ دیوبندی مکتب فکر کی کم و بیش سب جماعتوں، حلقوں اور بڑے مراکز کے سربراہوں اور نمائندوں نے جمع ہو کر جو مشترکہ فورم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس نے 9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں منعقدہ اجلاس میں ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ اتحاد کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا قتل اور کیپٹن صفدر کے خیالات

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کے المناک قتل کا درد ملک بھر کے بیشتر حلقوں میں یکساں طور پر محسوس کیا گیا ہے، اور ہر سطح پر اس کا اظہار ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کے متعدد معزز ارکان نے یکم دسمبر کو ایوان میں اس المناک سانحہ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا، جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے داماد اور مانسہرہ سے قومی اسمبلی کے رکن کیپٹن صفدر نے اس دکھ کو جس انداز میں پیش کیا ہے اس میں اس سلسلہ میں قومی اضطراب کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا قتل اور کیپٹن صفدر کے خیالات

۶ دسمبر ۲۰۱۴ء

حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم

صبح نماز کے لیے نیند سے بیدار ہوا تو موبائل فون پر پہلا میسج یہ پڑھنے کو ملا کہ ہمارے پرانے دوست اور ساتھی حافظ خلیل الرحمن ضیاء کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حافظ صاحب گوجرانوالہ کے معروف صحافی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے بلکہ میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم مولانا نور الدین رحمہ اللہ تعالیٰ گوجرانوالہ کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہیں پورے علاقے میں ولی سمجھا جاتا تھا۔ حافظ خلیل الرحمن ضیاء درس نظامی کی تعلیم سے میرے ساتھ فارغ ہوئے اور صحافت سے منسلک ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیخ الازہر کے نام مکتوب

عالم اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ میں ۳،۴ دسمبر کو ’’مواجھۃ التطرف والارھاب‘‘ (دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ) کے عنوان پر دو روزہ عالمی کانفرنس ہوئی ۔ ۔ ۔ جامعہ کے سربراہ شیخ الازہر معالی الدکتور الشیخ احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے راقم الحروف کو بھی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، مگر بعض وجوہ کے باعث میں سفر کا پروگرام نہیں بنا سکا، البتہ شیخ الازہر محترم کے نام ایک عریضہ میں اس موضوع کے حوالہ سے اپنے تاثرات و احساسات انہیں بھجوا دیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الازہر کے نام مکتوب

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ

جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو صبح نماز فجر کے دوران نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ اور بیدار مغز راہ نماؤں میں سے تھے۔ سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے ہیں۔ ملک کے معروف خطباء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا علی محمد حقانی رحمہ اللہ تعالیٰ کا لاڑکانہ میں دو دائی روڈ پر جامعہ صدیق اکبرؓ کے نام سے مدرسہ تھا اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ حضرات میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے مینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں منعقدہ جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں سودی نظام کے خلاف جنگ، جاگیرداری نظام کے خاتمے اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کے لیے جدوجہد کو اپنی آئندہ حکمت عملی اور جماعتی کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ باتیں ملک کی اکثر دینی اور محب وطن سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں میں شامل چلی آ رہی ہیں۔ اگر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر پیش کیے جانے والے انتخابی منشوروں کا جائزہ لیا جائے تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

۲۳ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

سیکولر حلقوں کی یہ محنت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو کمزور کرنے کے حوالہ سے بھی ہے، اور جو قوانین شرعی حوالہ سے موجود ہیں ان پر عملدرآمد میں ہر سطح پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالہ سے بھی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت بلکہ نفاذِ اسلام کی عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا اہم ترین مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی کا ہے کہ ہمارے قومی معاملات میں مغربی اور علاقائی حکومتوں کی مداخلت بڑھتے بڑھتے اب تسلط کے درجہ تک جا پہنچی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

۱۸ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۴ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے علامہ اقبالؒ آڈیٹوریم میں اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ادارہ تحقیقات اسلامی نے ’’پاکستان میں مطالعۂ قرآن کی صورت حال‘‘ کے موضوع پر 11،12، 13 نومبر کو تین روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی دس کے لگ بھگ نشستوں میں مختلف ارباب علم و دانش نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس، تحقیق و مطالعہ اور فہم قرآن کی اہمیت و ضرورت کے بیسیوں پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۴ء

۱۵ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

کوٹ رادھا کش کا سانحہ ۲۰۱۴ء

اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا، پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے، اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کوٹ رادھا کش کا سانحہ ۲۰۱۴ء

۱۲ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

بیس سال قبل اس وقت کے حالات کے تناظر میں سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل پر راقم الحروف نے ایک مضمون لکھا تھا جو ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے دسمبر 1994ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا ، اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد نے بھی اسے شائع کیا تھا۔ دو عشرے گزر جانے کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس لیے اسے دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

۹ نومبر ۲۰۱۴ء

سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۴ء

دعوت و تبلیغ کی اس محنت کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانا ہے تاکہ مسلم معاشروں میں دین کے اثرات عام ہوں اور ایسا ماحول پیدا ہو جو غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ اور راغب ہونے کے ذریعہ بن سکے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ دین کی طرف واپسی، معاشرہ میں دینی ماحول کا فروغ اور خاص طور پر مسجد کے کردار کا دوبارہ زندہ ہونا، نہ صرف یہ کہ ہم مسلمانوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ آج کی دکھوں اور مصیبتوں میں سسکتی ہوئی انسانیت کی ضرورت بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۴ء

۸ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا سعید احمد عنایت اللہ سے ملاقات

26 اکتوبر کو سیالکوٹ چھاؤنی میں سیرت اسٹڈی سنٹر کے ایک پروگرام میں حاضری ہوئی تو وہاں ہمارے محترم دوست جناب محمد اعجاز رتو نے بتایا کہ مولانا سعید احمد عنایت اللہ صاحب مکہ مکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور وہ ان سے مل کر آرہے ہیں۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور ان سے عرض کیا کہ پروگرام کے بعد میں بھی مولانا موصوف سے ملنا چاہوں گا۔ انہوں نے رابطہ کیا تو ملاقات کا وقت طے ہوگیا اور ہم اس کے مطابق عصر کے وقت ان کے گاؤں میں حاضر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سعید احمد عنایت اللہ سے ملاقات

۶ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام اور مغرب کی کشمکش

’’اسلام اور مغرب کی کشمکش‘‘ کا عنوان بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ مغرب بحیثیت مغرب اسلام دشمن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب میں آباد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مغرب کی غیر مسلم آبادی میں ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے، اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو کلیتاً‌ استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور مغرب کی کشمکش

یکم نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خد و خال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

1973ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ’’سنی مطالبات‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پیش کی گئی تھی جس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مفتی محمد حسین نعیمیؒ ، مولانا عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید حامد میاںؒ ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، مولانا اجمل خانؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا تاج محمودؒ ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سمیت تمام سنی مکاتب فکر کے ایک ہزار کے لگ بھگ علماء کرام نے دستخط کیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

۲۳ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

موجودہ ملکی صورت حال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم مشاورتی اجلاس 14 اکتوبر کو جامع مسجد عثمان غنیؓ بلند مارکیٹ اسلام آباد میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ مذہبی صورت حال بالخصوص دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے معاملات اور مولانا مفتی محمد امان اللہ کی المناک شہادت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء اجلاس نے مختلف خیالات و جذبات کا اظہار کیا، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ ملکی صورت حال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دیوبند کی بانی شخصیات

دیوبندی مکتب فکر کا تذکرہ کیا جائے تو تین شخصیتوں کا نام سب سے پہلے سامنے آتا ہے۔ اور تاریخ انہی تین بزرگوں کو دیوبندیت کا نقطہ آغاز بتاتی ہے۔ امام الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو دیوبندیت کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے دیوبندیت کے علمی، فکری اور مسلکی تشخص کی ابتداء ہوتی ہے۔ اور یہ تین شخصیات دیوبندی مکتب فکر کی اساس اور بنیاد سمجھی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبند کی بانی شخصیات

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا فضل الرحمن خلیل

امریکہ بہادر نے مولانا فضل الرحمن خلیل کو بھی دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور ان پر مختلف النوع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ اس میں اس قدر تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ کیونکہ مولانا فضل الرحمن خلیل اپنے طالب علمی سے ہی جس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث دیکھے جا رہے ہیں ان کے پیش نظر یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمن خلیل اگر مجھے ترجمانی کا موقع دیں تو میں ایک شعر کے اس مصرعہ پر اکتفا کروں گا کہ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمن خلیل

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دولت فاطمیہ

حضرت امام جعفر صادقؒ کی وفات کے بعد اہل تشیع دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ نے ان کے فرزند امام موسیٰ کاظمؒ کو ان کے جانشین کے طور پر امام تسلیم کر لیا۔ اس اکثریتی گروہ نے امام موسیٰ کاظمؒ کے بعد بارہویں امام تک امام حاضر، اور پھر بارہویں امام کے غائب ہو جانے پر ’’امام غائب‘‘ کی مسلسل امامت کے ساتھ اثنا عشریہ کا عنوان اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے امام جعفر صادقؒ کے بڑے بیٹے امام اسماعیلؒ کو، جو اُن کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے، ان کا جانشین قرار دیتے ہوئے ان کے فرزند محمدؒ (امام جعفر صادقؒ کے پوتے) کو اپنا امام بنا لیا۔ یہ گروہ اسماعیلی کہلاتا ہے جو آج تک امام حاضر کے تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دولت فاطمیہ

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء

شرح صحیح مسلم شریف

اس وقت میرے سامنے مولانا حقانی کی تالیف کردہ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ کی پانچ ضخیم جلدیں ڈیسک پر پڑی ہیں جو آغاز سے کتاب الایمان تک ہیں۔ اور ان کی سرسری ورق گردانی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ امام مسلمؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کو حدیث کی کتابوں میں امام بخاریؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بعد سب سے نمایاں حیثیت اور درجہ حاصل ہے۔ اور بخاری شریف کی مجموعی فوقیت کے باوجود مسلم شریف کو بعض حوالوں سے اس پر ترجیح حاصل ہے جس کا مختلف محدثین نے ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرح صحیح مسلم شریف

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

آزاد کشمیر اور راولپنڈی میں ملاقاتیں

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میر پور آزاد کشمیر میں تھا۔ جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبد الخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورہ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی۔ پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ اسلامیہ کے مہتمم حاجی بوستان صاحب اور شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزاد کشمیر اور راولپنڈی میں ملاقاتیں

۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

خوشی اور غم

صدارتی ایوارڈز کی اس فہرست میں ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب بھی شامل تھے اور ان کی شہادت کا غم تمغۂ امتیاز ملنے کی خوشی پر ہزاروں گنا بھاری ہے۔ اس لیے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ مجھے کوئی مبارک باد دینے کی بجائے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے لیے دعا کریں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم مذہبی جذبات کے شرمناک استعمال کے خوگر حضرات کو ہدایت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوشی اور غم

۲۷ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ٹارگٹ کلنگ کا عذاب

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے پوتے اور مولانا اشرف علی کے فرزند مولانا مفتی امان اللہ کی المناک شہادت نے پچھلے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ دارالعلوم تعلیم القرآن کے المناک سانحہ کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ دارالعلوم کے نائب مہتمم سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چند روز قبل جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کے داماد مولانا مسعود بیگ اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ٹارگٹ کلنگ کا عذاب

۲۳ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انسداد سود کا اجلاس

اجلاس میں ملک کی موجودہ عمومی صورت حال اور انسداد سود مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ سود کی لعنت کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور وفاقی شرعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پرائیویٹ سود کے مسلسل پھیلاؤ کے نقصانات کی طرف رائے عامہ کو توجہ دلاتے ہوئے علماء کرام، دینی کارکنوں اور مراکز کو اس سلسلہ میں جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک انسداد سود کا اجلاس

۱۵ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی

آج صرف اس نوجوان کی بات کرنا چاہتا ہوں جو ہتھیار بکف ہے اور اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی، اسلام کے غلبہ، کفر و طاغوت کے خاتمہ اور قرآن و سنت کی روشنی میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے دنیا کے مختلف محاذوں پر صف آرا ہے۔ وہ فلسطین میں بھی ہے، عراق و شام میں بھی ہے، افغانستان میں بھی ہے، کشمیر میں بھی ہے، نائجیریا اور صومالیہ میں بھی ہے، شیشان و ترکستان میں بھی ہے، اور فلپائن و اراکان میں بھی ہے۔ اسے مجاہد کی فریاد کا عنوان دیں یا دہشت گرد کا مقدمہ کہہ لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی

۱۵ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام آباد کے گرد و نواح میں سرگرمیاں

گزشتہ ماہ کے آخری دو روز اسلام آباد کے اردگرد گزرے۔ اسلام آباد کے بہت سے دوستوں کے تقاضے دھرنوں کی وجہ سے مؤخر ہوتے جا رہے ہیں۔ البتہ قرب و جوار کے کئی پروگراموں میں شرکت ہوگئی۔ 30 اگست کو عصر کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات جناب محمد اقبال اعوان صاحب نے ٹیکسلا کے جماعتی ہیڈ کوارٹر میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں علاقہ بھر کے علماء کرام اور جماعتی کارکن شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد کے گرد و نواح میں سرگرمیاں

۱۱ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران ملک بھر میں دو حوالوں سے تقریبات ہوتی ہیں۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کا آغاز اس عشرہ میں ہوا تھا اور ملک کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں جس پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ 1974ء میں 7 ستمبر کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ صادر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

۶ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے مقاصد

’’رائٹر‘‘ نے اسلام آباد کے دھرنوں کے آغاز میں ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ اس ساری مہم کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرائم منسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان فرق کے احساس کو باقی رکھا جائے جو بعض حلقوں کے خیال میں مدّھم پڑنے لگا ہے۔ یہ مقصد پورا ہوا ہے یا نہیں اس کا اندازہ موجودہ منظر تبدیل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مگر گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قوم کے سامنے حقائق کا جو منظر نامہ پیش کیا ہے وہ نیا نہ ہونے کے باوجود نیا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے مقاصد

۴ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے، ماضی کی روشنی میں

آرمی چیف کی مداخلت سے دھرنوں کے معاملات کچھ صحیح سمت بڑھتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ مجھے ان دوستوں سے اتفاق ہے جن کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حل کرنا ہی بہتر تھا اور فوج کو زحمت نہیں دینا چاہیے تھی، مگر جس طرح کا ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف کی دل چسپی پر بہرحال اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں یا فریقین میں بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی اس انتہا کا لازمی نتیجہ ہے جو سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے، ماضی کی روشنی میں

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت

۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو مذاکرات ہوئے، ان میں حکومتی ٹیم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا کوثر نیازی مرحوم، اور جناب عبد الحفیظ پیرزادہ پر مشتمل تھی۔ جبکہ اپوزیشن یعنی پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمودؒ ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ اور پروفیسر عبد الغفورؒ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے پیرزادہ صاحب کے علاوہ سب وفات پا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائیں اور پیر زادہ صاحب محترم کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء

مولانا مفتی عبد الشکورؒ

باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا عبد الشکور کشمیری گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علاقہ تھب سے تھا اور بزرگ عالم دین حضرت مفتی عبد المتین فاضل دیوبند کے متعلقین میں سے تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے، والد محترم حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے۔ اور جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الفقہ والافتاء کرنے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سالہا سال تک تدریس و افتاء کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی عبد الشکورؒ

۲۷ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

جمہوریت کا جمہوریت سے ٹکراؤ

اسلام آباد کے بعد جکارتہ بھی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور ہارنے والوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دارالحکومت پر دھاوا بول کر کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ جکارتہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کا دارالحکومت ہے اور وہاں بھی احتجاجی سیاست نے اسلام آباد جیسا منظر قائم کر دیا ہے۔ جکارتہ کی صورتحال کیا ہے؟ اس کی تفصیلات تو چند روز تک واضح ہوں گی، مگر اسلام آباد کی صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوریت کا جمہوریت سے ٹکراؤ

۲۳ اگست ۲۰۱۴ء

اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں

اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی اس کے نتائج کا منتظر ہوں اور مسلسل دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ملک و قوم کو کسی نقصان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو واضح ہوگا کہ کون کون کہاں کہاں اور کس کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ فسوف ترٰی اذا انکشف الغبار، افرس تحت رجلک ام حمار یعنی عن قریب جب دھند چھٹ جائے گی تو تم خود دیکھ لو گے کہ تمہارے پاؤں کے نیچے گھوڑا ہے یا گدھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں

۱۹ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

آزادی مارچ اور انقلاب مارچ

ہمارے خیال میں ان تحریکات کا باعث یا بہانہ بننے والے دو مسئلے ہیں جو اہم قومی مسائل میں سے ہیں، اور جو ہر دور میں قومی سیاسی راہ نماؤں کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ملک کے عمومی نظام کا ہے جو نو آبادیاتی دور کی یادگار ہے اور جس نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھانے اور ان میں اضافہ کرتے چلے جانے کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت ’’فک کل نظام‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادی مارچ اور انقلاب مارچ

۱۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

۷ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

گوجرانوالہ شہر کے حیدری روڈ پر رمضان المبارک کی ۲۹ (انتیسویں) شب کو رونما ہونے والے سانحہ کے بارے میں ملک کے مختلف حصوں سے احباب تفصیلات دریافت کر رہے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں طرح طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں میسر معلومات سے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔ حیدری روڈ پر قادیانیوں کے پندرہ بیس خاندان ایک عرصہ سے رہائش پذیر ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مجید نظامی مرحوم

میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دور میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی خطابت و صحافت کا پر جوش سامع و قاری رہا ہوں اور مطالعہ کا ذوق پیدا ہوتے ہی نوائے وقت اور ہفت روزہ چٹان میرے مطالعہ کا ناگزیر حصہ بن گئے تھے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کی حمید نظامی مرحوم کے ساتھ دوستی بھی تھی اور بعض مسائل میں اختلاف کا اظہار بھی بے تکلفانہ انداز میں ہو جاتا تھا۔ نظامی برادران کے ساتھ میرا تعلق بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔ مجید نظامی مرحوم، بڑے نظامی صاحب کی وفات کے بعد لندن سے لاہور منتقل ہوئے اور نوائے وقت کی ادارت سنبھالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجید نظامی مرحوم

۲۹ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا محمد عالمؒ

شیخو پورہ میں حضرت مولانا محمد عالم صاحبؒ کا انتقال دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، وہ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بالاکوٹ سے تھا۔ پہلے ضلع شیخوپورہ کے دیہاتی علاقہ میں دینی تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دیتے رہے جبکہ 1974ء میں شہر میں انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا جو شرق پور روڈ پر ایک وسیع خطہ زمین اور کئی بلاکوں پر مشتمل عمارت میں واقع ہے، اور ضلع شیخوپورہ کا مرکزی دینی مدرسہ شمار ہوتا ہے۔ مکمل تحریر مولانا محمد عالمؒ

۲۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

ضلع گوجرانوالہ میں منڈھیالہ تیگہ کے قریب بلال پور میں ہمارے پرانے دوست اور ساتھی مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق مری سے تھا۔ ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبدا لحمید سواتیؒ قیام پاکستان سے قبل مری کی ایک مسجد میں کچھ عرصہ خطیب رہے ہیں، مولانا محمد عبد اللہؒ کے والد حاجی محمد سلیم مرحوم اس مسجد کے منتظم تھے۔ وہاں سے تعلق قائم ہوا تو سلسلۂ محبت دراز ہوتا چلا گیا۔ مولانا محمد عبد اللہؒ نے 1970ء کے دوران جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

۲۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

طبیب کسی بھی طریق علاج سے تعلق رکھتا ہو، مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ضرور چیک کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسے بیماری کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس بیماری کا سبب کیا ہے۔ بیماری اور اس کے سبب کا تعین کیے بغیر کوئی معالج کسی مریض کے علاج کا آغاز نہیں کرتا۔ پھر وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ سبب کے سدّباب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ بسا اوقات سبب سے پیچھا چھڑانے کو بیماری کے علاج سے بھی مقدم کرتا ہے، اس لیے کہ جب تک سبب کا خاتمہ نہ ہو کسی بیماری کے علاج کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں، وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

۱۷ جولائی ۲۰۱۴ء

حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

۱۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

قرآن کریم کے حقوق

8 ،9، 10 جولائی کو دنیا ٹی وی کے سحری و افطاری کے پانچ نشریاتی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا جنہیں جناب انیق احمد بڑے ذوق و مہارت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ پہلے پروگرام میں مولانا اسعد تھانوی، مولانا شجاع الملک اور مولانا قاری اکبر مالکی کے ساتھ رفاقت رہی۔ موضوعِ گفتگو عمومی طور پر ’’قرآن کریم کے حقوق‘‘ تھا جبکہ سورۃ الانبیاء کی آیت 10 کا یہ جملہ بطور خاص زیر بحث آیا کتاباً فیہ ذکرکم۔ کم و بیش تین گھنٹے پر مشتمل اس پروگرام میں بیسیوں نکات پر بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے حقوق

۱۲ جولائی ۲۰۱۴ء

ہماری کمزوریاں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے!

ایک قومی اخبار نے یہ دلچسپ خبر شائع کی ہے کہ سلطنت آف اومان کے وزیر خارجہ کی اہلیہ نے، جو شہزادی نورا کہلاتی ہیں، لندن کے ایک جوا خانے میں بیس لاکھ پونڈ ہار کر عدالت میں جوا خانے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کے کارندوں نے جان بوجھ کر شہزدی نورا کو ہرانے کی پلاننگ کی۔ محترمہ نے عدالت میں کیس پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ شام کے وقت جوا خانے پہنچی تو کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی مگر اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمین نے اسے کھیلنے پر آمادہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہماری کمزوریاں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے!

۸ جولائی ۲۰۱۴ء

اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

۳ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

رمضان المبارک اور قرآن کریم

عالم اسلام میں رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان عبادات کے نئے ذوق و شوق کے ساتھ رمضان المبارک کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اسی میں لیلۃ القدر بھی ہے، اس رات کو ایک مہینے سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا، جو اگرچہ عملاً جناب نبی اکرم ﷺ پر مسلسل ۲۳ سال تک نازل ہوتا رہا مگر لوح محفوظ سے آسمانی دنیا تک منتقل کرنے کا حکم اس رات میں دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان المبارک اور قرآن کریم

۳۰ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی تحریکات کی کامیابی اور ناکامی

مختلف دینی تحریکات میں محنت اور قربانیوں کے باوجود ہم کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ تو کیا یہ کہہ کر آگے بڑھ جانا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یونہی منظور تھا اور ہمیں نیت اور محنت کا ثواب تو مل ہی جائے گا، یا اس ناکامی کے اسباب کی نشاندہی کرنا اور ان کے ازالہ کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یونہی منظور تھا اور یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مقصد کے حصول میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود خلوص نیت اور محنت و قربانی کا ثواب بہرحال ملتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تحریکات کی کامیابی اور ناکامی

۲۸ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

الرحمت ٹرسٹ ہاسپٹل، کامونکی، گوجرانوالہ

جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ کے قیام کے بعد سے ایک ڈسپنسری ہفتہ وار ترتیب سے قائم چلی آرہی ہے کہ لاہور سے ڈاکٹر آصف اور کامونکی سے ڈاکٹر محمود الحسن ہر بدھ کو اس ڈسپنسری میں پابندی سے آتے رہے ہیں اور علاقہ بھر سے سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجہ کی فری سہولت ملتی رہی ہے۔ جبکہ اب اسے باقاعدہ ہسپتال کی شکل دے دی گئی ہے اور اس کے لیے بلڈنگ تیار ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نے اسے مکمل ہسپتال کے طور پر چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایک باوقار تقریب میں دعا کے ساتھ اس کا افتتاح ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الرحمت ٹرسٹ ہاسپٹل، کامونکی، گوجرانوالہ

نا معلوم

ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

۱۷ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

بین الاقوامی تعلقات و معاملات

اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے اور اقوام متحدہ اور اس کے ساتھ دیگر عالمی ادارے ان بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس لیے ہماری آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں رائج الوقت بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لیا جائے اور اسلامی تعلیمات و احکام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کر کے ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی تعلقات و معاملات

۱۱ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار

مغربی دنیا کی مذہب کے معاشرتی کردار سے دست برداری کو دو صدیاں بیت گئی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی مذہب وہاں کے اعلیٰ حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کا احساس ابھی تک دلوں اور دماغوں سے کھرچا نہیں جا سکا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سپریم کورٹ میں یہ کیس آیا کہ دعا مذہب کی علامت ہے اس لیے ریاستی اداروں کے اجلاسوں کا آغاز یا اختتام دعا پر نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار

۷ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام

غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے معاشی نظام کی بنیاد مغرب کے معاشی فلسفہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو جنگوں اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے ملک کے معاشی ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے معاشی نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام

۴ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر

خاصے عرصے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا مگر تین دن میں ساری کسر نکل گئی۔ ڈی جی خان روڈ پر بستی ملانہ کے ایک نوجوان مولوی محمد یوسف ثانی اس سال جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث میں شریک تھے اور گزشتہ جمعہ کو جامعہ میں ان کی دستار بندی دوسرے فضلاء کے ساتھ ہو چکی تھی۔ مگر ان کا تقاضہ تھا کہ ان کے گاؤں میں برادری کی موجودگی میں بھی ان کی دستار بندی ہو۔ شاگرد بیٹوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی بات ماننا پڑتی ہے، اس لیے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر

۳۱ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں

شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں۔ اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قراء کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں

۲۴ مئی ۲۰۱۴ء

طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔ اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقاء کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

۱۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نعت رسولؐ کے آداب

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہم اپنی نسبت کے اظہار اور شناخت کے لیے کرتے ہیں کہ اس سے انسانی سوسائٹی کی رنگا رنگ تقسیم میں ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے اظہار کے بعد مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم یہ تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اکثر زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ ذکر کرنا نہیں پڑتا بلکہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ محبت اپنا اظہار خود کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نعت رسولؐ کے آداب

۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

معاشرے کے خصوصی افراد

اعضاء کی صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن عزم و حوصلہ اور قوت ارادی ان سے بھی بڑی نعمتیں ہیں جنہیں کام میں لا کر جسمانی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انسان بہت کمزور بھی ہے اور انسان بہت طاقت ور بھی ہے۔ اگر اس کے عزم و حوصلہ کا رخ کمزوری کی طرف ہے تو اس سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔ اور اگر اس کی قوت ارادی عزم و ہمت کی طرف متوجہ ہے تو اس سے زیادہ طاقت ور بھی کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزم و حوصلہ کی صورت میں بہت بڑی قوت عطا فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرے کے خصوصی افراد

۲ مئی ۲۰۱۴ء

قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد اس خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا روپ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر ایک عرصہ سے دھار رکھا ہے۔ اور جس کے ذریعہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بین الاقوامی اداروں کی توجہ اور ان سے مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ورنہ ملک کی کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت اس قسم کا سروے کر کے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

۲۸ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ایک محقق اور نکتہ رس مفتی کے طور پر ملک بھر میں تعارف رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے یہ سطور تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ کہ رات کے پچھلے پہر خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے جن کے بارے میں مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

۲۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی تقریبات میں شرکت

مدارس میں اسباق کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے اور بخاری شریف سمیت مختلف بڑی کتابوں کے اختتامی اسباق کے حوالہ سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ میرا ذوق شروع سے چلا آرہا ہے کہ ان تقریبات اور اپنے اسفار کے بارے میں قارئین کو مختصرًا آگاہ کرتا رہتا ہوں جس کے بارے میں دل چسپ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہو۔ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس اور مراکز کے بارے میں ہمیں اس سے معلومات ملتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تقریبات میں شرکت

۲۳ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا حکیم محمد یاسینؒ

مولانا حکیم محمد یاسین صاحبؒ ہمارے پرانے اور بزرگ ساتھی تھے، طویل عرصہ سے جماعتی رفاقت چلی آرہی تھی اور مختلف دینی تحریکات میں ساتھ رہا، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔جھنگ صدر کے محلہ مومن پورہ کی مسجد اشرفیہ نہ صرف ان کی مسلکی، دینی اور تحریکی سرگرمیوں کا مرکز تھی بلکہ اسے جھنگ کے اہم تحریکی اور جماعتی مرکز کا مقام حاصل تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد شاگرد تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم محمد یاسینؒ

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

اہل السنۃ والجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے انتخابی معرکہ بالآخر جیت لیا ہے اور انتخابی عذر داری میں ان کے مخالف امیدوار کو نا اہل قرار دے کر مجاز اتھارٹی نے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔ جھنگ کا ضلع دینی راہ نماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے ایک اہم میدان رہا ہے۔ مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، مولانا حق نواز جھنگویؒ ، مولانا بشیر احمد خاکیؒ ، مولانا ایثار القاسمیؒ ، مولانا محمد اعظم طارقؒ اسی ضلع سے الیکشن لڑتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ

۱۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اقبالؒ کا پاکستان

علامہ محمد اقبالؒ نے کہا تھا کہ پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی نئی ریاست میں نفاذِ اسلام پارلیمنٹ کے ذریعہ ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان کرتے ہوئے منتخب پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی حدود میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ ملک کے دینی حلقوں نے اجتماعی طور پر اقبالؒ کے اس تصور کو قبول کر لیا مگر اقبالؒ کے پاکستان کا نعرہ لگانے والے بہت سے لوگ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دینے کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی کہہ کر پاکستان کے دستور کی اس نظریاتی اساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کا پاکستان

۱۱ اپریل ۲۰۱۴ء

سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا قیام

جامعۃ الرشید ایک بار پھر سبقت لے گیا ہے کہ اس نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے تحقیق اور مکالمہ کی اہم ملی و قومی ضرورت کے لیے قومی سطح پر ایک نیا فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور ’’نیشنل سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ’’تھنک ٹینک‘‘ کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ۳ اپریل کو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں اس فکری و علمی فورم کا افتتاحی پروگرام علمی و فکری دنیا میں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا تھا جس نے مستقبل کے لیے امید کی نئی کرن روشن کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا قیام

۶ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش

مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کا واقعاتی تناظر یہ ہے کہ شام میں اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ زیادہ تر سنی شیعہ کشیدگی کا پس منظر رکھتی ہے۔ کویت میں گزشتہ انتخابات میں سنی شیعہ بنیادوں پر پارلیمنٹ میں جو تناسب سامنے آیا اور پھر حکومتی سطح پر جو اقدامات دکھائی دیے وہ اس کشیدگی کی موجودگی اور کویت کی قومی سیاست میں اس کی اثر خیزی کی غمازی کرتے ہیں۔ عراق کو سنی شیعہ بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دینے کی تجویزیں بین الاقوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش

نا معلوم

اجتماعات مدارس

گزشتہ دنوں مختلف شہروں میں دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے پوتے مولانا عبید اللہ ازھر نے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ کے نام سے روحانی مرکز آباد کر رکھا ہے جہاں حضرت بہلویؒ کے معتقدین اور منتسبین کی آمد و رفت کی رونق قائم رہتی ہے اور ذکر و اذکار کے معمولات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مولانا موصوف کے ارشاد پر 20 مارچ کو خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں حاضری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتماعات مدارس

۲۶ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی مدارس کا کردار اور تحفظات

جب سے دینی مدارس قائم ہیں ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی جاری ہے جو ظاہر ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس لیے کہ دینی مدارس جس ایجنڈے پر مصروفِ کار ہیں وہ آج کی ان قوتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے جو عالمی اور علاقائی سطح پر تسلط رکھتی ہیں۔ اور وہ دینی مدارس کے کام کو اس تسلط کے باقی رہنے میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ دینی مدارس اپنے قیام سے اب تک ایک ہی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہیں کہ انسانی سوسائٹی کا تعلق وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ جڑا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا کردار اور تحفظات

۱۹ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

علماء کرام کی تربیت

سب سے پہلے تو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ ’’تربیت علماء کورس‘‘ کا عنوان بہت اہم ہے جو احساس دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو علماء کرام کہلاتے اور سمجھے جاتے ہیں انہیں بھی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم علماء کرام اب مزید تعلیم اور تربیت سے بے نیاز ہیں اور سند فراغت حاصل ہوتے ہی ہم ’’خدائی فوجدار‘‘ بن کر لوگوں پر مسلّط ہونے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم و تربیت تو زندگی بھر ساتھ چلتی ہے اور انسان موت تک طالب علم ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی تربیت

۱۳ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام پر بحث

4 مارچ کو قومی اسمبلی میں سودی نظام کے حوالہ سے بحث ہوئی اور مختلف ارکان نے اس سلسلہ میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہ بحث صاحبزادہ محمد یعقوب کی پیش کردہ اس قرارداد کے ضمن میں ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں صاحبزادہ طارق اللہ، شیر اکبر خان، عائشہ سید، جمشید دستی، قیصر احمد شیخ، قاری محمد یوسف، علی محمد خان اور نعیمہ کشور خان شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام پر بحث

۸ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

فقہ حنفی پر ایک نظر

فقہ حنفی نے عالم اسلام میں طویل عرصہ تک حکومت کی ہے اور وہ عباسی خلافت اور عثمانی خلافت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں مغل حکومت کا بھی مدّتوں قانون و دستور رہی ہے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ ان کی علمی و فقہی کاوشوں کو امت مسلمہ میں سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اور صدیوں تک کئی حکومتوں کا دستور و قانون رہنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں میں بھی اس کے پیروکاروں کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے جو آج بھی اپنا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فقہ حنفی پر ایک نظر

۶ مارچ ۲۰۱۴ء

لاہور کی تقریبات میں شرکت

قادیانی پاکستان میں ہمیشہ غیر مسلم ہی شمار ہوں گے اور عالمی سطح پر وہ جس قدر چاہے لابنگ کر لیں پاکستان میں وہ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ اور مسلمان کے عنوان کے ساتھ معاشرتی حیثیت حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ وہ یا تو باطل عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو ایک حقیقت واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، اس کے سوا قادیانیوں کے لیے کوئی آپشن باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور کی تقریبات میں شرکت

۴ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

۲۸ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

۲۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ: ’’میں نہایت اشتیاق کے ساتھ آپ کی ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت موجود بینکنگ نظام کو اسلامی معاشی اور معاشرتی افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی و کوشش کو دیکھنا چاہوں گا۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے کچھ ناقابل حل مسائل پیدا کیے ہیں اور بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے تباہی سے بچا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

۲۰ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں شرکت

جامعہ کراچی کی سیرت چیئر نے صوبائی وزارت مذہبی امور اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے 12-13 فروری کو دو روزہ عالمی سیرت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں پاکستان، عراق، بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ سے ممتاز اصحابِ دانش نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کا عمومی عنوان ’’سیرت نبویؐ اور عصر حاضر‘‘ تھا۔ اس عنوان کے تحت مقررین نے اپنے اپنے ذوق اور خیال کے مطابق سرور کائنات ﷺ کے حضور خراج عقیدت پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں شرکت

۱۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس

جب حالات بہتر ہوئے اور بیت المال میں مختلف انواع کے اموال جمع ہونے شروع ہوگئے تو آنحضرتؐ نے ایک ایسا نظام بنا دیا کہ اگر کسی کو ضرورت کی کوئی چیز درکار ہوتی جسے وہ خود مہیا نہ کر پاتا تو حضورؐ سے درخواست کرتا، اور اس کی ضرورت پوری کر دی جاتی۔ جناب نبی اکرمؐ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی ضرورت مند آتا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو اگر اپنے پاس کچھ موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ کسی ساتھی سے کہہ کر دلوا دیتے، اور بسا اوقات قرض لے کر بھی اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس

۱۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ

دستور کے حوالہ سے اہلِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ

۱۰ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس

اجلاس میں سودی نظام کے سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت نظر ثانی کی اپیل کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے سوال نامہ کا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب بھجوانے کے لیے کام جاری ہے اور مختلف مسوّدات پر سرکردہ علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور حتمی جواب کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس

۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

راولپنڈی میں ایک دن

گزشتہ روز مولانا محمد ادریس اور حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ راجہ بازار راولپنڈی میں دارالعلوم تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرا تو دل سے اک ہوک سی اٹھی اور اس علمی و دینی مرکز کے بارے میں ماضی کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس سے قبل ظہر کے بعد ایف ٹین ٹو اسلام آباد کی مسجد امیر حمزہؓ میں علماء کرام کی ایک فکری نشست تھی، اس مسجد میں مولانا محمد ادریس اور ان کے رفقاء نے منفرد نوعیت کا دینی مدرسہ ’’کلیۃ الدراسات الدینیۃ‘‘ کے نام سے قائم کر رکھا ہے جس میں سرکاری ملازمین تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر راولپنڈی میں ایک دن

یکم فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں

27-26 جنوری کو لاہور اور کراچی میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ 26 جنوری کو ظہر کے بعد ہمدرد سنٹر لاہور میں ضیاء الامت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’مذہبی رواداری اور تعلیمات نبویؐ‘‘ کے موضوع پر سیمینار تھا جس کی صدارت وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات نے کی۔ اور پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ کاظم رضا اور دیگر راہ نماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں

۲۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

عربی زبان، ہماری قومی ضرورت

عربی زبان قرآن و سنت کی زبان ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسے وہ درجہ نہیں دیا جا رہا ہے جو اس کا حق ہونے کے ساتھ مسلم سوسائٹی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ حتیٰ کہ دینی مدارس میں بھی عربی زبان صرف کتاب فہمی تک محدود ہے اور کتاب فہمی کا دائرہ بھی سمٹ سمٹا کر صرف درس و تدریس کے دائرے میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔ معاصر عربی ادب، بول چال، میڈیا اور خطابت و صحافت کے میدان ہماری دسترس سے ابھی تک باہر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عربی زبان، ہماری قومی ضرورت

نا معلوم

ڈیرہ غازی خان کا سفر

16-15 جنوری کو لیہّ، کوٹ ادو، جتوئی اور ڈیرہ غازی خان کے سفر کا اتفاق ہوا۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم حافظ محمد عثمان میرے ہمراہ تھے، وہ دار العلوم کراچی کے فاضل اور جتوئی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ لیہّ میں جمعیۃ علماء اسلام نے ایک شادی ہال میں ’’شیخ الہندؒ سیمینار‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا اور ان کا تقاضہ تھا کہ حالیہ سفر دیوبند اور ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کے کچھ احوال ان کو سناؤں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کی تفصیلات اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈیرہ غازی خان کا سفر

۱۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی

چنیوٹ اور سرگودھا کے اضلاع میں میرے ساتھ متعدد بار یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کسی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتا ہوں تو پابندی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سرگودھا شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے سرگودھا پہنچ چکا تھا اور مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں تھوڑی دیر کے لیے رکا ہوا تھا کہ وہیں پیغام آگیا کہ ضلعی پولیس نے چند مقررین کے خطابات سے منع کر دیا ہے جس میں میرا نام بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی

۱۵ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کی محافل کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس حوالہ سے جلسوں میں حاضری کے مسلسل تقاضے رہتے ہیں۔ مگر اسباق کی وجہ سے سب دوستوں کی فرمائش پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں

۱۱ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں

حضرت مولانا محمد میاں المعروف منصور انصاریؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے تھے۔ انہوں نے مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ آزادیٔ ہند کی تحریک میں ان کے دست راست کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ کابل چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے تحریکی جدوجہد کے تانے بانے بُنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں

۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد اور مولانا سمیع الحق

اگلے روز نئے سال کے پہلے دن کی اخبار میں یہ خبر پڑھ کر اس امید کے بر آنے کی کچھ آس لگ گئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعیۃ علماء اسلام (س) پاکستان کے امیر مولانا سمیع الحق سے تفصیلی ملاقات کر کے طالبان کے ساتھ مجوّزہ مذاکرات کے بارے میں ان سے گفتگو کی ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور مذاکرات کی طرف پیش رفت میں کردار ادا کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد اور مولانا سمیع الحق

۴ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں

بھارت سے واپس آئے ہوئے دو ہفتے گزرنے کو ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی تک دیوبند اور دہلی کے ماحول میں ہوں۔ کچھ تو اپنا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ ’’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘‘ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوستوں کا حال یہ ہے کہ جہاں جاتا ہوں اسی داستانِ محبت کو دہرانے کا تقاضہ ہو جاتا ہے۔ اپنے علمی، فکری اور روحانی مرکز کے ساتھ دیوبندیوں کی عقیدت و محبت کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے! 18 دسمبر بدھ کو واپسی پر واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی پہلا فون گوجرانوالہ سے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کا آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں

۲ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

عالم اسلام کے لیے سیکولر قوتوں کا پیغام!

بنگلہ دیش میں ملّا عبد القادر شہیدؒ کی پھانسی اور مصر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ بظاہر دو الگ الگ ملکوں کے واقعات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک ہی روح کار فرما ہے اور وہ ایسی جانی پہچانی قوت ہے جو اپنے اظہار کے لیے موقع و محل کے مطابق روپ بدلتی رہتی ہے۔ لادینیت بلکہ مذہبی دشمنی نے سوسائٹی سے مذہب کو بے دخل کرنے اور آسمانی تعلیمات پر مبنی اقدار و روایات کی بجائے انسانی خواہشات کی بالادستی کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ دو صدیوں میں کتنے پینترے بدلے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام کے لیے سیکولر قوتوں کا پیغام!

یکم جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دہلی میں تین روزہ قیام ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دو روز دیوبند میں قیام اور کانفرنس کی چار نشستوں میں شرکت کے بعد ہفتہ کی شام کو ہم دہلی پہنچے، جمعیۃ علماء ہند ہماری میزبان اور داعی تھی، کچھ حضرات کا قیام جمعیۃ کے دفتر میں رہا اور باقی دوستوں کو ترکمان گیٹ کے قریب دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ 15 دسمبر کا دن رام لیلا میدان میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی عمومی نشست میں گزر گیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے اڑھائی بجے تک مسلسل جاری رہی اور بھارت کے طول و عرض سے ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے اس میں شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہلی میں تین روزہ قیام ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۲۷ دسمبر ۲۰۱۳ء

شہداء کا مشن جاری رکھنے کی ضرورت

اس موقع پر میں نے گزارش کی کہ شہداء راولپنڈی اور مولانا شمس الرحمن معاویہؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کی قربانیاں جس مقصد کے لیے ہوئی ہیں اس پر توجہ دی جائے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی محنت کی جائے۔ میں نے عرض کیا کہ سنی شیعہ کشیدگی کا دائرہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے اور اس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے حل کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے، میرے خیال میں پاکستان میں سنی شیعہ تنازعات کے اسباب بنیادی طور پر تین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شہداء کا مشن جاری رکھنے کی ضرورت

۲۶ دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا علاء الدینؒ

ہم لوگ دہلی میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالیٰ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ اسی جگہ مجھے وفد میں شامل مولانا حافظ عبد القیوم نعمانی نے بتایا کہ استاذ علاء الدین صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، انہیں ٹیلی فون رابطہ کے ذریعہ یہ خبر ملی تھی۔ خبر سن کر سب احباب غم زدہ ہوگئے اور زبانوں سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ رراجعون جاری ہوا۔ حضرت مولانا علاء الدینؒ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے، سو سال کے لگ بھگ عمر پائی ہے اور ساری زندگی دینی علوم کی تعلیم و تدریس میں گزاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا علاء الدینؒ

۲۶ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نہ صرف اپنے وقت کے عظیم محدث اور صوفی تھے بلکہ تحریک آزادی کے بہت بڑے مجاہد بھی تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی مدبرانہ قیادت کی ہے اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کو آزادی کی جدوجہد میں راہ نمائی فراہم کی ہے۔ انہوں نے آزادی اور فروغ اسلام کے لیے جدوجہد کے جن خطوط کی طرف امت مسلمہ کی راہ نمائی فرمائی تھی انہیں آج پھر سے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور شیخ الہندؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس میں ہمیں اس کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام

۲۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے علماء کرام کے خطابات

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کے علاوہ ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے تفصیلی گفتگو کی۔ انہیں پوری کانفرنس میں ’’مہمان خصوصی‘‘ کی حیثیت حاصل تھی اور حالات حاضرہ کے تناظر میں ان کی گفتگو بہت فکر انگیز تھی۔ ہر طبقہ کے لوگوں نے ان کے خیالات کو توجہ کے ساتھ سنا اور انڈیا کے بہت سے اخبارات نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا۔ ان کی گفتگو کا زیادہ تر ہدف امن کے قیام کے لیے خلافت کے نظام کی ضرورت اور افادیت کی وضاحت تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے علماء کرام کے خطابات

۲۳ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے مولانا سید عثمان منصور پوری کے خطابات

’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اظہار خیال کیا اور رام لیلا میدان کے کھلے جلسے میں خطبۂ صدارت بھی پیش فرمایا۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کی گفتگو سب سے زیادہ فکر انگیز تھی۔ انہوں نے اپنے مختلف خطابات میں نہ صرف علماء کرام کو حضرت شیخ الہندؒ کے مشن اور پروگرام سے متعارف کرایا بلکہ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ الہندؒ اور دیگر بزرگوں کا صرف تذکرہ کافی نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے مولانا سید عثمان منصور پوری کے خطابات

۲۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء کا متفقہ اعلامیہ

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند ایجوکیشنل ٹرسٹ کے عنوان سے 15-14-13 دسمبر 2013ء کو دیوبند اور دہلی میں ’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی زیر قیادت برطانوی استعمار کے خلاف منظم کی جانے والی عظیم جدوجہد ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کو ایک صدی مکمل ہو جانے پر صد سالہ تقریبات کے حوالہ سے منعقد کی گئی اور اس میں بھارت کے طول و عرض سے شریک ہونے والے سرکردہ علماء کرام اور عوامی قافلوں کے علاوہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء کا متفقہ اعلامیہ

۲۱ دسمبر ۲۰۱۳ء

سرہند شریف، سہارنپور، دیوبند ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

بدھ کو امرتسر اور لدھیانہ سے ہوتے ہوئے ہم رات چندی گڑھ پہنچے تھے، جمعرات کو صبح وہاں سے سرہند شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قبر پر حاضری کا پروگرام تھا مگر اس سے قبل چندی گڑھ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر مغلیہ دور سے چلے آنے والے ایک باغ میں جانا ہوا۔ پنجور گارڈن کے نام سے یہ باغ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے اور دور دراز سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ نے یہ باغ بنوایا تھا، قریب میں پنجور نامی بستی ہے جس کے حوالے سے یہ معروف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرہند شریف، سہارنپور، دیوبند ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

لدھیانہ اور چندی گڑھ میں ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

دیوبند اور دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے 11 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم واہگہ بارڈر کراس کر کے بارہ بجے کے لگ بھگ انڈیا میں داخل ہوئے تو پروگرام یہ بنا کہ ظہر کی نماز امرتسر کی مسجد خیر دین میں ادا کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نماؤں نے جو دہلی اور دیوبند سے تشریف لائے ہوئے تھے اور امرتسر کے بس ٹرمینل پر پاکستان کے قافلہ کا انتظار کر رہے تھے، استقبال اور خیر مقدم کے مرحلہ سے فارغ ہوتے ہی تقاضہ کیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لدھیانہ اور چندی گڑھ میں ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

دیوبند کا سفر ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

جنوبی افریقہ جاتے ہوئے آخری وقت مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ دیوبند اور دہلی میں 13، 14 اور 15 دسمبر کو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں جن میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا ایک بھرپور وفد جا رہا ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اس وفد میں میرا نام بھی شامل کر رکھا ہے۔ میں نے اس کرم فرمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا، لیکن اس وقت میں ویزے کے لیے پاسپورٹ ان کے سپرد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس لیے واپسی پر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دیوبند کا سفر ۔ (دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء)

۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا شمس الرحمن معاویہ شہیدؒ

جنوبی افریقہ سے واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر اترتے ہی موبائیل فون آن کیا تو پہلا میسج مولانا شمس الرحمن معاویہؒ کی شہادت کے بارے میں تھا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جوھانسبرگ سے میں اور صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اکٹھے جدہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے عمرہ کے لیے ٹرانزٹ ویزا حاصل کر رکھا تھا اس لیے وہ وہیں رک گئے جبکہ میں نے رات جدہ ایئر پورٹ پر گزاری اور دوسرے دن شام کو لاہو رپہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا شمس الرحمن معاویہ شہیدؒ

۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے 29 نومبر تا 1دسمبر کو کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں تحریری خطبۂ صدارت پڑھنے کے علاوہ اپنے خطاب کے دوران کچھ دیگر اہم امور کی طرف بھی علماء کرام کو توجہ دلائی جس کا مختصرًا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی مختلف جماعتوں، حلقوں اور اداروں کے درمیان مشاورت و رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں

۱۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ

جوہانسبرگ میں مولانا محمد ابراہیم پانڈور کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ نشست کی باتیں ادھوری رہ گئی تھیں، ان کا مکمل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا نعمانی کی اس بات کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ بڑے بزرگوں کے جانے پر بعد والے لوگوں میں ان کی خصوصیات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس پر مولانا مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر دور کے لیے اس کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق صلاحیتوں کے ساتھ لوگوں کو کھڑا کرتا ہے اور چونکہ دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے اس لیے یہ تسلسل بھی باقی رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ

۳ دسمبر ۲۰۱۳ء

ساؤتھ افریقہ کا سفر (۲۰۱۳ء)

سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ گزشتہ دو روز سے جنوبی افریقہ میں ہوں، وفد میں بیس کے لگ بھگ علماء کرام شامل ہیں ۔ ۔ ۔ کیپ ٹاؤن میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دامت برکاتہم کی راہ نمائی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں شرکت کے لیے ہماری حاضری ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ رات ہی دہلی سے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم کی قیادت میں علماء کرام کا ایک وفد پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ساؤتھ افریقہ کا سفر (۲۰۱۳ء)

یکم دسمبر ۲۰۱۳ء

سنی شیعہ جھگڑوں کی وجوہات

ملک کے کسی حصے میں سنی شیعہ تنازعہ عام طور پر دو میں سے کسی ایک مسئلہ پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ شخصیت پر تبرّا کے عنوان سے توہین کی جاتی ہے جو اہل سنت کے کسی فرد کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ دوسرا سبب ماتمی جلوس ہے کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ایک فریق کے نزدیک بالفرض عبادت ہو تب بھی یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہوتی کہ دوسرا فریق جو غالب اکثریت بھی رکھتا ہے اس کے دروازہ پر یہ عبادت ادا کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ جھگڑوں کی وجوہات

۲۶ نومبر ۲۰۱۳ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی گزشتہ دو روز سے فیصل آباد میں ہیں۔ 19 نومبر کو انہوں نے کونسل کے قریب قریب کے سرکردہ حضرات کو ہنگامی طور پر موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے فیصل آباد طلب کر لیا اور ڈجکوٹ روڈ پر قرآن سنٹر اور مسجد مبارک میں مشاورت کی مختلف نشستیں ہوئیں۔ امیر محترم نے مشاورتی نشست کی صدارت کی اور اس کے بعد وہاں جمع ہو جانے والے علماء کرام اور دیگر حضرات سے خطاب بھی کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

۲۳ نومبر ۲۰۱۳ء

راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ملک کے اہم ترین علمی اداروں اور دینی مراکزمیں سے ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ جاریہ اور ان کی یادگار ہے۔ اس کے بارے میں موبائل فون کے پے در پے اضطراب انگیز پیغامات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہے تھے، جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

۱۹ نومبر ۲۰۱۳ء

خلافت کا قیام، کس کی ذمہ داری؟

اس پہلو پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ بحیثیت نبی اور رسول جناب نبی اکرمؐ کی دیگر ذمہ داریاں بھی اسی طرح امت کو منتقل ہوگئی ہیں جس طرح دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری امت کے ذمہ آگئی ہے۔ ان ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری امت مسلمہ کی اجتماعی قیادت اور مسلم سوسائٹی میں اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسولؐ کی تعلیمات و احکامات کا عملی نفاذ ہے۔ حضرات انبیاء کرامؑ نے لوگوں کو صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت نہیں دی بلکہ اس دعوت کے ذریعہ کلمہ پڑھنے والوں کا باہمی نظم قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت کا قیام، کس کی ذمہ داری؟

نا معلوم

مولانا سعد صاحب کا فکر انگیز بیان

مولانا سعد صاحب تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس دہلویؒ کے پڑپوتے ہیں اور چند سال قبل یہیں رائے ونڈ میں ان سے ملاقات ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہندوستان میں تعلیم کے دوران صرف ’’فضائل اعمال‘‘ نہیں پڑھی جاتی بلکہ اس کے ساتھ ’’منتخب احادیث‘‘ بھی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ امیر التبلیغ مولانا محمد یوسف دہلویؒ کا مرتب کردہ یہ مجموعہ ایمان، اعمال صالحہ، عبادات، معاملات، حلال و حرام، اخلاقیات اور باہمی حقوق کے بارے میں رسالت مآب ﷺ کے گراں قدر فرمودات پر مشتمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سعد صاحب کا فکر انگیز بیان

۱۰ نومبر ۲۰۱۳ء

تحریک انسداد سود پاکستان

مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانش وروں نے پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل فورم قائم کر لیا ہے اور نومبر کے تیسرے عشرہ سے عوامی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت میں بینک انٹرسٹ کو ربا (سود) قرار دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے کیس کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس کیس میں جو حضرات یا ادارے دینی حلقوں کی طرف سے فریق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک انسداد سود پاکستان

۵ نومبر ۲۰۱۳ء

دعوت دین کے عصری مسائل، تقاضے اور اہداف

دنیا بھر کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے مسیحی مشنریوں کی طرز پر مسلمانوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ حالانکہ سات ارب کی انسانی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد پونے دو ارب بیان کی جاتی ہے۔ اور سوا پانچ ارب انسان اس بات کے انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی اسلام کی دعوت دے، انہیں جناب نبی اکرم ﷺ سے متعارف کرائے اور ان تک قرآن کریم کی تعلیمات پہنچانے کا اہتمام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری بہرحال ہم مسلمانوں کی ہی بنتی ہے، اس کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دعوت دین کے عصری مسائل، تقاضے اور اہداف

۴ نومبر ۲۰۱۳ء

سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا سوال نامہ

وفاقی شرعی عدالت نے اب سے دس برس قبل بینک انٹرسٹ کو رِبٰوا (سود) قرار دے کر ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو ختم کرنے اور متبادل نظام و قوانین تجویز کر کے انہیں نافذ کرنے کا حکومت کو آرڈر جاری کیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ میں اپیل دائر کی گئی تو اس نے بھی چند جزوی ترامیم کے ساتھ اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ مگر جب اس کے بارے میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی تو فیصلہ صادر کرنے والے جج صاحبان فارغ ہو چکے تھے اور نئے ججوں پر مشتمل شریعت اپلیٹ بینچ نے فیصلے کی سماعت میں چند فنی کمزوریوں کا حوالہ دے کر اس کی از سرِ نو سماعت کا حکم صادر فرما دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا سوال نامہ

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے!

پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر ’’انجمن اقوام‘‘ کے نام سے ایک عالمی فورم قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ممالک و اقوام کے درمیان تصادم کو روکنا اور ملکوں اور قوموں کے تنازعات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرانے کے لیے عالمی سطح پر پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں نے ’’انجمن اقوام‘‘ کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی تو ’’اقوام متحدہ‘‘ کے عنوان سے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ وجود میں آیا ، اور اس کا بنیادی مقصد بھی یہی قرار دیا گیا کہ ممالک و اقوام کے درمیان جھگڑوں اور تنازعات کو جنگوں کی بجائے مصالحت کی میز پر حل کرانے کا راستہ ہموار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے!

۲۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء

تبلیغی جماعت کے ساتھ تین دن

گوجرانوالہ کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کا سالہا سال سے معمول ہے کہ عید الاضحی کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگاتے ہیں اور مجھے بھی ان کے ساتھ شریک ہونے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس سال چالیس کے لگ بھگ علماء کرام اور ان کے رفقاء کی جماعت تھی جس کی تشکیل منڈی بہاء الدین کی مرکزی جامع مسجد میں ہوئی اور ہم بحمد اللہ تعالیٰ جمعۃ المبارک کی شام سے اتوار کو شام تک وہاں مصروف عمل رہے۔ جلیل ٹاؤن کے مفتی محمد رضوان جماعت کے امیر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی جماعت کے ساتھ تین دن

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا عبد المتینؒ

مولانا عبد المتینؒ گوجرخان میں حیات سر روڈ کی جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کے نصف صدی سے زیادہ عرصہ خطیب رہے ہیں۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بٹگرام سے تھا۔ 1938ء میں ولادت ہوئی، مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں حضرت مولانا رسول خانؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ سے تلمذ کا شرف حاصل کر کے دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور 1958ء میں حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ نے انہیں گوجر خان بھیج دیا جہاں انہوں نے حیات سر روڈ کی مسجد میں ڈیرہ لگایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المتینؒ

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا قاری محمد عبد اللہؒ

مولانا قاری محمد عبد اللہؒ کا تعلق مشرقی پنجاب کے علاقہ گڑ گاؤں سے تھا، گوجرانوالہ میں سیٹلائٹ ٹاؤن کی مرکزی جامع مسجد کے امام و مدرس تھے اور کم و بیش نصف صدی تک انہوں نے یہ خدمت سر انجام دی ہے۔ اس مسجد میں سہارنپور سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک بزرگ مولانا قاری محمد طلحہ قدوسی گنگوہیؒ اور مولانا قاری محمد عبد اللہؒ کی طویل رفاقت شہر کی دینی و تعلیمی جدوجہد کا ایک اہم باب ہے۔ ان کے ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ شاگرد ملک کے مختلف حصوں میں قرآن کریم کی تدریس کی خدمات میں مگن ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری محمد عبد اللہؒ

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

انتخابی سیاست اور نفاذ اسلام

نفاذ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے۔ البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک، اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ اس سے ہٹ کر صرف انتخابات اور نارمل سیاسی جدوجہد پر اکتفاء کرتے چلے جانا محض خوش فہمی بلکہ خود فریبی کہلائے گا اور اس فریب کے دائرے سے ہماری دینی جماعتیں جس قدر جلد باہر نکل آئیں وہ ان کے لیے اور ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابی سیاست اور نفاذ اسلام

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی جدوجہد

قومی اسمبلی میں مسلمانوں کے اس اجتماعی مطالبہ کا ذکر ہوا تو بھٹو مرحوم نے کمال دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ عنوان سے پیش کرنے کی بجائے قوم کی اجتماعی سوچ کا رُخ دیا۔ اور قائد حزب اختلاف کے مشورہ سے طے کیا کہ قومی اسمبلی کے پورے ایوان کو خصوصی کمیٹی کا عنوان دے کر اس فورم پر قادیانی امت کے دونوں گروہوں کے قائدین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے، اور ملک کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو کمیٹی کی طرف سے کیس پیش کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی جدوجہد

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء

تحریک طالبان اور دستور پاکستان

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک طالبان اور دستور پاکستان

۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

ڈاکٹر عامر الزمالی کی کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو مختلف اصحابِ علم کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر محمد مشتاق احمد نے انتہائی مہارت اور ذوق کے ساتھ اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور آج کے دور کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے جس پر وہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ بین الاقوامی قوانین و معاہدات کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مطالعہ اور مطابقت و اختلاف کے پہلوؤں کی نشاندہی ہماری اس دور کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

۲ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا دورہ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی گزشتہ دنوں گجرات اور گوجرانوالہ کے دو روزہ دورے پر تشریف لائے اور مختلف محافل میں متعدد موضوعات پر اظہار خیال فرمایا۔ ان کی تشریف آوری جمعیۃ علماء اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کی دعوت پر 21 ستمبر کو نور ریسٹورنٹ پنجن کسانہ میں منعقد ہونے والی سالانہ ’’ورثائے نبوت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے تھی۔ یہ جمعیۃ ضلع گجرات کے نوجوان علماء کرام اور فضلائے دینی مدارس کی تنظیم ہے جو باہمی رابطہ و تعاون، مختلف دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کی حوصلہ افزائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا دورہ

۳۰ ستمبر ۲۰۱۳ء

سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

سانحہ پشاور پر احتجاج و اضطراب کا سلسلہ جاری ہے اور مسیحی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی اس المناک کاروائی کے خلاف ردِ عمل قومی احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔ گزشتہ شب جیو ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر صاحب کے ساتھ شرکت کا موقع ملا تو میں نے بشپ آف پشاور سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ صرف مسیحی کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس ظلم و تشدد پر پوری قوم آپ کے ساتھ شریکِ غم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

سمندری کا سفر

خاصے عرصے کے بعد سمندری جانے کا اتفاق ہوا۔ حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں مسلسل سرگرم عمل رہتے تھے۔ گھنٹہ گھر چوک کے پاس ایک مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ مجھے اس دور میں ان کی خدمت میں وہاں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے، اس کے بعد ان کے فرزند مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سمندری کا سفر

۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

ضلع گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور مختلف دینی تحریکات کے سرگرم راہ نما حضرت مولانا محمد اقبال نعمانیؒ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کا دو روز قبل علی پور چٹھہ میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کمالیہ سے تھا اور جامعہ خیر المدارس ملتان کے فضلاء میں سے تھے۔ کم و بیش نصف صدی قبل علی پور چٹھہ کی مرکزی جامع مسجد کی خطابت کے منصب پر فائز ہوئے اور آخری عمر میں شدید علالت اور معذوری تک اس حیثیت سے علاقہ کے عوام کی دینی اور مسلکی راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ مکمل تحریر مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اہم امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشاورتی اجلاس 12 ستمبر کو طلب کیا جو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس سے صدرِ اجلاس اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا قاضی محمد رویس ایوبی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مفتی محمد سیف الدین گلگتی، صلاح الدین فاروقی، ڈاکٹر شاہ نواز اعوان، حافظ سید علی محی الدین، مولانا سید حبیب اللہ شاہ حقانی اور دیگر حضرات نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

۱۸ ستمبر ۲۰۱۳ء

مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کی گرفتاری

پولیس حکام نے کہا کہ پچھلے دنوں چلاس میں شہید ہونے والے ایس پی ہلال خان شہیدؒ اور ان کے دیگر رفقاء کے قتل کے کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں انہیں مدرسہ انوار العلوم کے کچھ طلبہ پر شک ہے اس لیے چلاس اور گلگت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو وہ تفتیش کے لیے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ اس پر گلگت وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو الگ کر دیا گیا اور وہ اس علاقہ کے 22 طلبہ کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ ان میں سے جو طلبہ ملوث پائے گئے انہیں متعلقہ پولیس کے حوالہ کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کی گرفتاری

۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

عشرۂ ختم نبوت ۲۰۱۳ء

یکم دس ستمبر ملک کے دینی حلقوں نے ’’عشرۂ ختم نبوت‘‘ منایا۔ اس کا مقصد سات ستمبر 1974ء کے اس فیصلے کی یاد تازہ کرنا تھا جس میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا دستوری درجہ دے کر گزشتہ کم و بیش ایک صدی سے چلے آنے والے مسئلے کو حل کر دیا تھا۔ اگر قادیانی گروہ بھی اس متفقہ قومی فیصلے کو قبول کر لیتا تو یہ مسئلہ فی الواقع حل ہو چکا ہوتا اور جس طرح ملک کی دوسری اقلیتیں اپنی اپنی قانونی حیثیت کے مطابق ملک کی آبادی کا حصہ اور نظم و نسق میں شریک ہیں اسی طرح قادیانی گروہ بھی قومی دھارے میں شریک ہو جاتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عشرۂ ختم نبوت ۲۰۱۳ء

۱۳ ستمبر ۲۰۱۳

مولانا انیس الرحمن اطہر قریشیؒ

مولانا حاجی انیس الرحمن قریشیؒ جامعہ مدنیہ لاہور کے فاضل اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے شاگرد تھے۔ زندگی بھر اپنے والد مرحوم کے مشن کے فروغ میں مصروف رہے اور اپنے بھائی مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے دست و بازو اور پشتیبان رہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے کم و بیش چودہ برس مدینہ منورہ میں قیام کے شرف سے نوازا، اس دوران میں بھی کئی بار ان کا مہمان رہا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے مدنی مسجد میں امامت و خطابت کے ساتھ ’’مدرسۃ السکینۃ للبنات‘‘ کا انتظام چلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا انیس الرحمن اطہر قریشیؒ

۱۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے جب 1917ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی تو ان کی حیثیت ایک نظر بند کی تھی۔ تحریک آزادی کے نامور راہ نما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا شاگرد اور مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تربیت یافتہ عالم دین اور رفیق کار ہونے کی وجہ سے انہیں اس ضمانت پر لاہور کی حدود میں پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ انگریز سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی تحریک ریشمی رومال کی خفیہ تگ و دو کا راز کھل جانے کے باعث وقتی طور پر ایسی سرگرمیوں کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

نا معلوم

سزائے موت ختم کرنے کی مہم

ثناء نیوز کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب مشیر عالم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماتحت عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے قید کے قیدیوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔ کراچی کے نجی سکول کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ اعلیٰ اور ماتحت عدالتیں اپنی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش صحیح خطوط پر ہو تو ملزمان سزا سے نہیں بچ سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت ختم کرنے کی مہم

۵ ستمبر ۲۰۱۳ء

ملکی دفاع کے تقاضے اور قادیانی گروہ کی ہٹ دھرمی

قادیانی دنیا کے سامنے یہ واویلا کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انہیں مذہبی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ درحقیقت خود قادیانیوں نے اپنے لیے وہ حقوق تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے جو ملک کے دستور میں ان کے لیے طے شدہ ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان میں قادیانیوں کے شہری حقوق کے حوالہ سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان کی حکومت یا عوام پر نہیں بلکہ خود قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے، اور جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالم اسلام اور پاکستانی قوم کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے صورت حال میں تبدیلی ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی دفاع کے تقاضے اور قادیانی گروہ کی ہٹ دھرمی

یکم ستمبر ۲۰۱۳ء

اسلام آباد میں چند روز

گزشتہ ہفتے کے دوران تین چار روز کے لیے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، مختلف تقاضے جمع ہو گئے تھے جو اسباق کے آغاز سے قبل نمٹانا ضروری تھے، اس لیے ان سب کے لیے اکٹھی ترتیب بن گئی۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے چند فضلاء نے حضرت مولانا سمیع الحق کے معاون خصوصی مولانا محمد اسرار حقانی کی سرکردگی میں ایک علمی و فکری فورم ’’انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور‘‘ کے عنوان سے قائم کیا ہے جس کے تحت وہ مختلف علمی و فکری شعبوں میں کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد میں چند روز

۲۸ اگست ۲۰۱۳ء

مسلم دنیا میں جمہوریت کا کھیل

ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردگان نے انقرہ میں اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر میں فوجی بغاوت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے اور ہمارے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب جمہوریت کی نئی تعریف کی کوششوں میں مصروف ہے اس لیے اگر اخوان المسلمون نے انتخابات جیت بھی لیے تو وہ برسرِ اقتدار نہیں آئے گی کیونکہ حالیہ اقدامات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جمہوریت بیلٹ بکس کا نام نہیں ہے اور آج کے دانش ور یہی رائے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم دنیا میں جمہوریت کا کھیل

۲۴ اگست ۲۰۱۳ء

چند قابل تعارف کتابیں

بہت سے اصحاب قلم اپنی تصانیف بھجواتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی کالم میں ان کا تذکرہ ہو جائے لیکن عملاً یہ بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ ہر کتاب کو پڑھنے اور پھر اس کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے ذہنی یکسوئی کے ساتھ جو وقت درکار ہوتا ہے وہ میرے لیے اب حسرت ہی کا درجہ رکھتا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اس کالم کا یہ موضوع نہیں ہے، کیونکہ اگر ہر کتاب پر کچھ نہ کچھ تبصرہ اور اس کے تذکرہ کا معمول بنا لیا جائے تو یہ کالم اسی کام کے لیے مختص ہو کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند قابل تعارف کتابیں

۲۱ اگست ۲۰۱۳ء

مصر، آل سعود اور ائمہ حرمین

مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی حکمرانوں کی سیاسی و اخلاقی تائید کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی صورت میں ان کی مالی امداد کر کے سعودی حکومت نے اپنے بارے میں بہت سے سوالات کھڑے کر لیے ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن آج کی نسل کے لیے ضرور نئے ہیں اور اپنے ماضی سے بے خبری کے باعث علم و دانش کا سطحی اور معروضی ماحول حیرت اورشش و پنج کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مصر، آل سعود اور ائمہ حرمین

۱۷ اگست ۲۰۱۳ء

برطانوی اسکولوں میں بچیوں کے اسکرٹ پہننے پر پابندی

اے پی پی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ میں 6 اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لندن کے علاقے ورسسٹر شائر کے ایک مڈل سکول نے 9 سال تک کی عمر کی طالبات پر سکرٹ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق واک ورڈ چرچ آف انگلینڈ مڈل سکول کا موقف ہے کہ طالبات نے بہت ہی چھوٹے سکرٹ پہننا شروع کر دیے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوری میں پابندی لگائی ہے۔ سکول انتظامیہ نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ ستمبر سے ٹراؤزر اور واجبی سا بلاؤزر پہننے کی بجائے یونیفارم کا ٹاپ زیب تن کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانوی اسکولوں میں بچیوں کے اسکرٹ پہننے پر پابندی

۸ اگست ۲۰۱۳ء

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے عام انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کر سکے گی۔ روزنامہ پاکستان میں 2 اگست کو آئی این پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عدالت میں درخواست کی گئی تھی کہ چونکہ جماعت اسلامی کے منشور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا ذکر کیا گیا ہے جو ریاست کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے، اس لیے جماعت اسلامی کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

۴ اگست ۲۰۱۳ء

اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو 15 مئی 1948ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

افغان طالبان کی سرگرمیاں

افغان طالبان اور امریکہ کے مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کی حالت میں ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ جناب سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے اور ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار سرِدست صرف اتنا ہے کہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے حالیہ دوؤہ کابل کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال کرانے میں مدد دے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان کی سرگرمیاں

۲۳ جولائی ۲۰۱۳ء

ملالہ اور ملالئے

اقوام متحدہ نے گزشتہ دنوں ’’ملالہ ڈے‘‘ منایا اور مختلف ممالک میں اس حوالہ سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ خود ملالہ یوسف زئی نے بھی ایک بڑی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ نوجوانوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی جگہ قلم اور کتاب پکڑانا چاہتی ہیں۔ یہ خواہش بہت معصوم سی ہے اور ملالہ جیسی بھولی بھالی بچیوں کی زبانوں پر ہی آسکتی ہے، جبکہ مغرب اس بچی کی معصومیت اور اس کی معصوم خواہش کو ایکسپلائیٹ کر کے جو فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور کر رہا ہے، محاورے کی زبان میں اس کی ملالہ یوسف زئی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملالہ اور ملالئے

۲۱ جولائی ۲۰۱۳ء

سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے خلاف خونی آپریشن کی ذمہ داری بہرحال جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہی کے حکم پر یہ المناک خونریز کاروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے دیگر افراد کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی اہلیہ محترمہؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشیدؒ جام شہادت نوش کر گئے تھے اور پورا ملک صدمہ اور رنج و غم میں ڈوب گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

۱۷ جولائی ۲۰۱۳ء

منقبت صحابہؓ پر ایک قابل قدر کاوش

ہمارے ایک فاضل دوست مولانا ثناء اللہ سعد بھی اسی بحرِ دخار کے غوطہ زن ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کی مختلف تحقیقی کاوشیں ہماری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی ہزاروں آیات کریمہ میں مختلف حوالوں سے حضرات صحابہ کرامؓ کے تذکرہ کو موضوع بحث بنایا ہے اور ’’اصحاب النبی الکریم فی آیات القرآن الحکیم‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی ہے جو تین جلدوں میں ہے اور دو ہزار سے زائد صفحات کو محیط ہے۔ انہوں نے ترتیب کے ساتھ قرآن کریم کی کم و بیش سب سورتوں کو سامنے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منقبت صحابہؓ پر ایک قابل قدر کاوش

۳ جولائی ۲۰۱۳ء

قطر میں افغان طالبان کا دفتر

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے۔ کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قطر میں افغان طالبان کا دفتر

۲۸ جون ۲۰۱۳ء

کراچی میں مصروفیت کا ایک دن

۲۳ جون کا دن کراچی میں گزرا اور خاصا مصروف گزرا۔ مولانا جمیل الرحمن فاروقی اور مولانا مفتی حماد اللہ وحید کے ہمراہ جامعہ اشرف المدارس میں حاضری دی۔ شیخ العلماء حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات پر ان کے فرزند و جانشین مولانا حکیم محمد مظہر اور دیگر حضرات سے تعزیت کی اور حضرتؒ قبر پر فاتحہ خوانی اور دعا کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حکیم صاحبؒ ہمارے دور کے اکابر صوفیاء کرام اور بزرگان دین میں سے تھے۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی جوت جگانا ان کا زندگی بھر کا مشن تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی میں مصروفیت کا ایک دن

۲۶ جون ۲۰۱۳ء

مظفر آباد میں ایک دن

مقامی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری کہ دو روز قبل مظفر آباد میں توہین رسالتؐ کے ایک مبینہ واقعہ پر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا ہے اور مقامی علماء کرام نے اس فساد کو رکوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس پر پریس نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ ایک چینی کمپنی کے چینی ملازم نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اس کا سامان جب کمرے سے نکالا جا رہا تھا تو قرآن کریم کا ایک نسخہ زمین پر گر گیا جس پر کچھ لوگوں نے اردگرد سے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر جمع کر لیا کہ قرآن کریم کی توہین کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مظفر آباد میں ایک دن

۲۴ مئی ۲۰۱۳ء

مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

عام انتخابات کے نتائج ہماری خواہشات کے خلاف ضرور ہیں مگر توقعات کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی قوتیں متحد ہو کر الیکشن لڑیں اور پارلیمنٹ میں اتنی قوت ضرور حاصل کر لیں کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی اور بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکہ صرف اس لیے کہ دینی قوتیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

۱۶ مئی ۲۰۱۳ء

۲۰۱۳ء کے انتخابات ۔ خواہشات اور توقعات

مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں گھوم پھر کر ان امیدواروں کے درمیان مفاہمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہم مسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے تین بزرگوں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کی طرف سے اس سلسلہ میں مشترکہ دردمندانہ اپیل مسلسل شائع ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۲۰۱۳ء کے انتخابات ۔ خواہشات اور توقعات

۱۰ مئی ۲۰۱۳ء

نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار

نصاب تعلیم کے حوالے سے ایک دائرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے؟ اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار

۴ مئی ۲۰۱۳ء

۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی مشترکہ اپیل روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں مسلسل شائع ہو رہی ہے جس میں عام انتخابات کے موقع پر دینی جماعتوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے فقدان اور الگ الگ انتخابی مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم اتنا تو کر لیا جائے کہ جن حلقوں میں دینی جماعتوں کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں ان حلقوں میں ان کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار

۳ مئی ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق فتنوں کے ہجوم اور یلغار کے دور میں دو آدمی اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک وہ شخص جو شہری آبادی سے الگ تھلگ دور دراز علاقے میں بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں زندگی گزار دے، اور دوسرا وہ شخص جو گھوڑے کی لگام پکڑے دین کے دشمنوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار رہے۔ چنانچہ فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہنا، ان کے مقابلہ اور سدّباب کے ساتھ اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

۲۶ اپریل ۲۰۱۳ء

وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء

وفاق المدارس کی پچاس سالہ تعلیمی و علمی خدمات کے حوالہ سے مارچ 2014ء کی 21، 22 اور 23تاریخ کو اسلام آباد میں ایک عالمی اجتماع منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس اجتماع میں وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء، قراء اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی۔ ملک کی سرکردہ علمی شخصیات کے علاوہ امام کعبہ، شیخ الازہر اور مہتمم دار العلوم دیوبند سمیت دنیا بھر کی ممتاز دینی و علمی شخصیات خطاب کریں گی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اس میں متوقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء

۲۰ اپریل ۲۰۱۳ء

انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل

ملک کے دیگر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی پاکستان شریعت کونسل کے فورم پر قومی سیاست میں شریک مذہبی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ متحدہ محاذ بنا کر اس الیکشن میں مشترکہ طور پر شریک ہوں یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو جانے کے امکانات کو کم سے کم کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کریں مگر یہ گزارش لائق التفات نہیں سمجھی گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی راستے جدا جدا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل

۱۷ اپریل ۲۰۱۳ء

میٹرو بس لاہور کا ایک سفر

گوجرانوالہ سے ویگن پر شاہدرہ پہنچا اور وہاں سے میٹرو بس کے اسٹیشن سے سوار ہونے کی ترتیب بنائی، اکیلا ہی سفر کر رہا تھا جیسا کہ میرا عام معمول ہے، میٹرو اسٹیشن پر مسافروں کی لمبی لائن دیکھ کر کچھ الجھن سی ہوئی مگر برقی سیڑھی کو عبور کر کے لائن میں لگنے کا حوصلہ کر ہی لیا۔ مجھے لائن میں کھڑا دیکھ کر عملے کا ایک نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ آپ لائن میں کھڑے نہ ہوں آگے سیدھے کاؤنٹر پر چلے جائیں، آپ کو براہ راست ٹکٹ مل جائے گا۔ میں ساری لائن کراس کر کے کھڑکی کے پاس پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میٹرو بس لاہور کا ایک سفر

۱۵ اپریل ۲۰۱۳ء

نظریۂ پاکستان کیا ہے؟

نظریۂ پاکستان کے خلاف کالم لکھنے پر ملک کے معروف صحافی ایاز میر کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد سیکولر اخبار نویسوں کے ہاتھ میں نظریہ پاکستان کے بارے میں اپنے منفی جذبات کا اظہار کرنے کا ایک اور موقع آگیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں پوری مستعدی دکھا رہے ہیں۔ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا جا رہا ہے کہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کیا ہے؟ اور اس کی تعبیر و تشریح کیا ہے؟ یہ بات ایسے لہجے میں کہی جا رہی ہے جیسے ان دوستوں کو سرے سے نظریۂ پاکستان کے بارے میں کچھ علم ہی نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریۂ پاکستان کیا ہے؟

۹ اپریل ۲۰۱۳ء

نجم سیٹھی اور اسلامی نظریہ سے وفادای کا حلف

نجم سیٹھی کا نام نگران وزیر اعلیٰ کے لیے کچھ اس طرح غیر متوقع طور پر سامنے آیا اور بظاہر ایک پلاننگ کے ساتھ طے بھی پا گیا کہ ہم لوگ سوچتے ہی رہ گئے، ورنہ اس پر اسی لہجے میں بات ہو سکتی تھی جس طرح ملک کے نگران وزیر اعظم اور پھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام سامنے آنے پر دینی حلقوں کی طرف سے بروقت سامنے آگئی تھی اور موثر ثابت ہوئی تھی۔ اس لیے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی اپنے افکار و نظریات اور سیاسی کردار کے حوالہ سے ایک ہی کیمپ اور گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نجم سیٹھی اور اسلامی نظریہ سے وفادای کا حلف

۵ اپریل ۲۰۱۳ء

اسلام زندہ باد کانفرنس ۲۰۱۳ء کا احوال

لوگ مقررین کی تقریریں سن رہے تھے اور میں ذہن میں نصف صدی قبل کی یادیں تازہ کر رہا تھا جب اسی لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام کی کانفرنسیں ’’آئین شریعت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ ۱۹۶۷ء، ۱۹۶۸ء، ۱۹۶۹ء کے دور کی بات ہے اور ہماری کانفرنسیں اس زمانے میں دہلی دروازہ، موچی دروازہ اور مستی گیٹ کے باہر باغات میں ہوتی تھیں۔ ان کانفرنسوں سے وقتاً فوقتاً آغا شورش کاشمیریؒ ، سردار محمد عبد القیوم خان اور مولانا کوثر نیازی مرحوم نے بھی خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام زندہ باد کانفرنس ۲۰۱۳ء کا احوال

۲ اپریل ۲۰۱۳ء

کراچی کی سرگرمیاں

کراچی میں حاضری کے آخری دن کا بیشتر حصہ جامعۃ الرشید میں گزرا اور حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم سے ان کے والد محترمؒ کی وفات پر تعزیت کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی دو نشستوں میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا موضوع قیامِ پاکستان کے بعد کی دینی تحریکات تھا، ایک نشست میں نفاذِ اسلام کی دستوری جدوجہد کے بارے میں گزارشات پیش کیں اور دوسری نشست میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں دستوری اور قانونی پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے سیکولر حلقوں اور بیوروکریسی کی سازشوں اور چالوں پر ایک نظر ڈالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کی سرگرمیاں

۳۱ مارچ ۲۰۱۳ء

نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام

جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے میں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی سابقہ جدوجہد اور مساعی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اس وقت ملک کے ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کرپشن سے نجات حاصل کی جائے اور انتخابات کے ذریعہ ایسی قیادت سامنے لائی جائے جو کرپشن سے پاک ہو اور ملک کو کرپشن سے نجات دلا سکے۔ میں نے عرض کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں کرپشن کے حوالہ سے تین بڑی بڑی فہرستیں قوم کے سامنے آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام

۲۹ مارچ ۲۰۱۳ء

تذکرہ تحریکات آزادی

ہمارے فاضل دوست مولانا شفیع اللہ چترالی نے ’’تذکرہ تحریکات آزادی‘‘ کے عنوان سے آزادی کی مختلف تحریکات کے تعارف پر مشتمل ایک جامع کتاب مرتب کی ہے جس میں انہوں نے بہت سی طویل کتابوں میں بکھری ہوئی معلومات کو اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ میرے خیال میں ان کی یہ کتاب دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے بھی اپنے اکابر کی قومی و ملی جدوجہد سے واقفیت کے حوالہ سے بہترین گائیڈ اور راہنما ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تذکرہ تحریکات آزادی

۱۴ مارچ ۲۰۱۳

ہماری دینی تحریکات کی ناکامی کے اسباب

ہماری دینی تحریکات اس وقت مدّو جزر کے جس دور سے گزر رہی ہیں، ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہ رہا ہے، لیکن اس سے پہلے ربع صدی قبل کے ایک قومی کنونشن کی رپورٹ اور اٹھارہ سال قبل کے ایک بین الاقوامی سیمینار کی رپورٹ قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔ اس گزارش کے ساتھ کہ ان دونوں رپورٹوں کو توجہ کے ساتھ ملاحظہ فرمایا جائے تا کہ جو معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں ان کا پس منظر سب کے سامنے ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہماری دینی تحریکات کی ناکامی کے اسباب

۷ مارچ ۲۰۱۳ء

لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت

گزشتہ روز لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ (۱) باغ جناح کی ’’قائد اعظم لائبریری‘‘ میں ’’آنحضرت ﷺ بحیثیت حکمران‘‘ کے موضوع پر سیرت کانفرنس تھی۔ (۲) ظہر کے بعد ایوان اقبالؒ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام ’’سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ میں حاضری دی۔ (۳) اسی روز شام کو نماز مغرب کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مسجد خضراء میں چند احباب کو موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے دعوت دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت

۲۸ فروری ۲۰۱۳ء

بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشمکش

شیخ الازھر کا شمار عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیات میں ہوتا ہے اور ’’الامام الاکبر‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ اس منصب پر سرکردہ اصحابِ علم و فضل وقتاً فوقتاً فائز ہوتے آرہے ہیں، ان کی علمی و دینی رائے اور فتویٰ کو نہ صرف مصر میں بلکہ عالمِ اسلام اور خاص طور پر عرب دنیا میں اہمیت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مصر اور عالم اسلام کے مختلف مسائل پر وقیع رائے کا اظہار ان کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے، ان دنوں اس منصب پر فضیلۃ الدکتور احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ فائز ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشمکش

۲۳ فروری ۲۰۱۳ء

مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

۲۲ فروری ۲۰۱۳ء

گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع

محمد خان جونیجو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کا دور تھا، پرنس عبد الکریم آغا خان کی آمد و رفت گلگت بلتستان کے علاقے میں معمول سے بڑھ گئی تھی، اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ بنانے کی باتیں اخبارات میں آنا شروع ہوئیں تو باخبر حلقوں میں تشویش پیدا ہونے لگی، اتنے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وزیر اعظم جونیجو مرحوم گلگت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس موقع پر گلگت بلتستان اور سکردو پر مشتمل شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا مستقل صوبہ بنانے کا اعلان متوقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع

۱۳ فروری ۲۰۱۳ء

حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ

۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اوربہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ

۱۰ فروری ۲۰۱۳ء

حضورؐ کی مجلسی زندگی

جناب نبی اکرم ﷺ کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضورؐ کی مجلسی زندگی

۶ فروری ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت

یہ مسئلہ امت میں چودہ سو سال سے متفقہ چلا آرہا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں، اور اس کی تشریح خود حضورؐ نے فرما دی ہے کہ ان کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ جبکہ نبی اکرمؐ نے اس کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی فرما دی تھی کہ جھوٹے مدعیان نبوت بڑی تعداد میں ظاہر ہوں گے جو دجال اور کذاب ہوں گے۔ امت مسلمہ کا عقیدۂ ختم نبوت پر اسی تشریح کے مطابق ایمان و عقیدہ چلا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عقیدۂ ختم نبوت اور قومی وحدت

۳ فروری ۲۰۱۳ء

عدلِ اجتماعی کا تصور تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں

عام طور پر ایک حکومت اور ریاست کی ذمہ داری میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، امن کی فراہمی، انصاف کے قیام اور ان کے حقوق کی پاسداری کو شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے حکومت و ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اور بات کا اضافہ کیا کہ وہ شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی اور سوسائٹی کے نادار، بے سہارا اور معذور لوگوں کی کفالت کی بھی ذمہ دار ہے۔اسی کو آج کی دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدلِ اجتماعی کا تصور تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں

۳۱ جنوری ۲۰۱۳ء

امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہ نمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہ نمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوتی ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے، لیکن ان میں سے چند بڑے بڑے مسائل کا ذکر مناسب سمجھتا ہوں تاکہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوۂ نبویؐ

۲۵ جنوری ۲۰۱۳ء

قاضی حسین احمدؒ

قاضی صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا، ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہ نماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا، یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی ﷺ کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاضی حسین احمدؒ

۱۳ جنوری ۲۰۱۳ء

اسلام کا نظام خلافت

سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر آپؐ کے بعد سیاسی نظام کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ چنانچہ مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی جناب نبی اکرمؐ نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا وستکون بعدی خلفاء البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو اس سیاسی نظام کو سنبھالیں گے۔ اس طرح آپؐ نے خلافت کو امت مسلمہ کے سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام خلافت

۶ تا ۱۱ جنوری ۲۰۱۳ء

مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا، انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

۲ جنوری ۲۰۱۳ء

’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا جائزہ

جدہ میں مقیم پاکستانی علماء کرام اور قراء کرام نے کچھ عرصہ سے باہمی مشاور ت کا ہلکا پھلکا سا نظم قائم کر رکھا ہے، وقتاً فوقتاً جمع ہوتے ہیں، دینی اور مسلکی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مشورہ کے ساتھ اپنی حکمت عملی اور پروگرام طے کرتے ہیں۔ میں نے حاضری کی دعوت قبول کر لی اور علماء کرام، قراء کرام اور احباب کے ساتھ اجتماعی ملاقات میں شمولیت کا موقع مل گیا۔ اجلاس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے دعوتی نصاب ’’فضائل اعمال‘‘ پر مختلف حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بھی زیر بحث آئے اور ان کے جواب کی حکمت عملی پر غور ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا جائزہ

۲۴ جولائی ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحقؒ کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ

۷ مئی ۲۰۱۲ء

مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے اہتمام وتدریس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف عوامی محاذ کی عملی قیادت کررہے ہیں جس میں انہیں ملک کے طول وعرض میں مسلسل عوامی جلسوں اور دوروں کا سامنا ہے، جبکہ قلمی محاذ پر رائے عامہ کی راہ نمائی اور دینی جدوجہد کی تاریخ کو نئی نسل کے لیے محفوظ کرنے میں بھی وہ اسی درجہ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ اور خود اپنے نام مشاہیر کے خطوط کو آٹھ ضخیم جلدوں میں جمع کرکے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق

۷ مئی ۲۰۱۲ء

محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم

محمد ظہیر میر جمعیۃ طلباء اسلام میں درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب تک جا پہنچے۔ یہ وہ دور تھا جب جے ٹی آئی پورے ملک میں متحرک تھی اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اس کے سینکڑوں یونٹ قائم تھے جو فعال بھی تھے اور ملک بھر میں اس کا نیٹ ورک ہر سطح پر کام کر رہا تھا۔ میں خود جے ٹی آئی کے ابتدائی ارکان میں سے ہوں اور ایک عرصہ تک اس کا متحرک رکن رہا ہوں مگر اب یہ نام زبان پر آتے ہی حسرت کی کیفیت دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم

۲ مارچ ۲۰۱۲ء

پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

پیر صاحب آف پگارا اپنے ماضی کے حوالے سے بہت شاندار تاریخ رکھتے ہیں مگر وہ خود چونکہ مغربی ماحول کے تربیت یافتہ تھے اس لیے ان پر ان کے ماضی کا رنگ غالب نہ آسکا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستان کے استحکام اور سندھ میں قوم پرستوں کے علیحدگی پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سندھ میں جب بھی لسانی حوالے سے یا قوم پرستی کے عنوان سے کوئی مسئلہ کھڑا ہوا پیر صاحب آف پگارا پاکستان اور وفاق کی علامت کے طور پر سامنے آئے۔ ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے وہ ہمیشہ محب وطن پاکستانیوں کی ڈھارس ثابت ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

۱۳ جنوری ۲۰۱۲ء

شیطان کا پچھتاوا

حافظ ابن حجر المکی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابلیس نے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ملاقات کے موقع پر گزارش کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس کی قبولیت کی سفارش کر دیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابلیس سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آدمؑ کی قبر کو سجدہ کر دے تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ابلیس کو یہ بات بتائی تو وہ غصے میں آگیا اور کہا کہ میں نے زندہ آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا تو اب اس کی قبر کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتا ہوں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیطان کا پچھتاوا

۱۷نومبر ۲۰۱۱ء

مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

آج کا کالم دو محترم دوستوں اور بزرگ علمائے کرام کے حوالے سے ہے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے اور ہمارے دینی و علمی حلقوں میں ان کی جدائی کا صدمہ مسلسل محسوس کیا جا رہا ہے۔ مولانا میاں عبد الرحمٰن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علمائے اسلام کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱ء

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کا نام پہلی بار افغانستان کی پہاڑیوں میں جہادِ افغانستان کے دوران سنا جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد اور سوشلسٹ نظریات کے تسلط کے خلاف افغانستان کے مختلف حصوں میں علماء کرام اور مجاہدینِ آزادی نے علمِ جہاد بلند کیا اور افغانستان کی آزادی کی بحالی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے میدانِ کارزار میں سرگرم ہوگئے۔ ابتداء میں یہ مجاہدین کسمپرسی کے عالم میں لڑتے رہے حتیٰ کہ پرانی بندوقوں اور بوسیدہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بوتلوں میں صابن اور پٹرول بھر کر ان دستی بموں کے ساتھ روسی ٹینکوں کا مقابلہ کرتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

۶ مئی ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی کا وجود اس لحاظ سے بھی آج کے دور میں بسا غنیمت تھا کہ مختلف مسالک اور طبقات کے لوگ ان کے پاس بے تکلف آجایا کرتے تھے اور ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔ وہ بھی بلا لحاظ مسلک و مشرب سب کو اپنی محبت و شفقت سے نوازتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جوں جوں ہماری ’’قوت ہاضمہ‘‘ کمزور ہوتی جا رہی ہے، اس سطح کے بزرگوں کا دائرہ بھی سمٹ رہا ہے اور ہمارے حلقے میں اب ایسا کوئی بزرگ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جس کے پاس بلا لحاظ مسلک و مشرب او ربلا لحاظ طبقہ سب لوگ کسی حجاب کے بغیر آسکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

عید الفطر کی رات جن چند دوستوں کو عید مبارک کہنے اور حال احوال معلوم کرنے کے لیے فون کیا ان میں برادرم مولانا سعید یوسف خان بھی تھے، انہیں فون کرنے کا ایک مقصد حضرت الشیخ مولانا محمد یوسف خان کی خیریت دریافت کرنا تھا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے باقی ماندہ چند گنے چنے شاگردوں میں سے تھے اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ مولانا سعید نے بتایا کہ حضرت کی صحت معمول کے مطابق ہے، وہ بخیریت ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے روزے بھی سارے رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

میں گزشتہ روز امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے قاری محمد ہاشم صاحب کے گھر میں قیام پذیر تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کرایا۔ خبروں میں ایک تعزیتی بیان نے چونکا دیا جس میں مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچیؒ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ میرے لیے یہ خبر اچانک تھی، بہت صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی چند روز قبل ان کے بھتیجے مولانا قاضی عبد الحلیم کا انتقال ہوا تھا تو میں بیرون ملک سفر کی تیاری میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ واپسی پر رمضان المبارک کے بعد کلاچی حاضری دوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

۵ اگست ۲۰۱۰ء

حضرت خواجہ خان محمدؒ

پہلی اور آخری ملاقات کے دوران نصف صدی کے لگ بھگ کا عرصہ ہے اور اس عرصہ میں حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ملاقاتوں کے وسیع سلسلہ کو اگر تین ہندسوں میں بھی بیان کروں تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ پاکستان میں اور بیرون ملک ان کی خدمت میں حاضریوں اور ان کی دعاؤں و شفقتوں سے فیض یاب ہونے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام کی مرکزی قیادت میں شامل تھے اور ایک عرصہ تک نائب امیر رہے۔ میں نے بھی کم و بیش ربع صدی کا عرصہ جمعیۃ علمائے اسلام میں ایک متحرک کارکن کے طور پر گزارا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت خواجہ خان محمدؒ

۷ مئی ۲۰۱۰ء

قاری عبد الحلیمؒ

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کے والد محترم قاری عبد الحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا تھا اور میں کراچی حاضری کے موقع پر ان کے پاس تعزیت کے لیے جانا چاہتا تھا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے سفر پر تھا اور ابھی تک جامعہ بنوریہ نہیں جا سکا اس لیے اکٹھے چلتے ہیں۔ چنانچہ مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف اکٹھے جامعہ بنوریہ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری عبد الحلیمؒ

۳۰ جنوری ۲۰۱۰ء

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے بھتیجے اور حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کے فرزند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ پاکستان تشریف لائے اور فیصل آباد میں آباد ہوگئے۔ گورونانک پورہ فیصل آباد میں مدرسہ اشرف المدارس جو ایک دور میں ملک کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا، مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کا قائم کردہ ہے۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ گڑھی حبیب اللہ سے تھا اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بسر ہوا۔ اپنے اساتذہ میں ضلع اٹک کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا نور محمدؒ آف ملہوالی کا نام کثرت سے لیا کرتے تھے، انہی سے حضرت مولانا نور محمدؒ کا نام بار بار سن کر میرے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ سے میرا پہلا تعارف گکھڑ میں ہوا جہاں ان کا ننھیال ہے۔ ان کے نانا مرحوم حضرت حافظ احمد حسن لدھیانویؒ میرے اساتذہ میں سے ہیں اور مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ میرے حفظ قرآن کریم کے استاذ حضرت قاری محمد انور مدظلہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا گنگوہیؒ کی رہائش لاہور میں تھی اور وہ چوبرجی کے قریب پونچھ ہاؤس کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات سرانجام د یتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

17 اگست کو صبح ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد واشنگٹن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مولانا قاری محمد الیاس نے اطلاع دی کہ علامہ علی شیر حیدریؒ کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مسجد میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جنگ اخبار دیکھ کر آئے تھے جس کی اس دن پہلی خبر یہی تھی۔ واشنگٹن پہنچ کر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی تفصیلات معلوم کیں، بے حد صدمہ ہوا۔ وہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور اہل سنت کے عقائد و حقوق کے دفاع کے محاذ کے ایک اہم راہنما تھے جن کی پوری زندگی اسی مشن میں گزری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

۲۸ اگست ۲۰۰۹ء

مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

مولانا قاری سعید الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے علمی، مسلکی اور تحریکی ذوق سے بہرہ ور فرمایا تھا اور راولپنڈی صدر میں کشمیر روڈ پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کو ان حوالوں سے مرکزیت کا مقام حاصل تھا۔ ایک دور میں شیخ الحدیثؒ حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک راولپنڈی تشریف لانے پر ان کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی فرودگاہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا بلکہ حضرت بنوریؒ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو ان کی پہلی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ میں ہی ادا کی گئی جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

۱۲ جولائی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا کہ وہ دور طالب علمی میں سالہا سال تک مجلس احرار اسلام کے رضاکار رہے اور تحریک آزادی میں اس پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے۔ ان کی اس دور کی دو یادگاریں ہمارے گھر میں ایک عرصہ تک موجود رہی ہیں، ایک لوہے کا سرخ ٹوپ جو وہ پریڈ کے وقت پہنا کرتے تھے اور دوسری کلہاڑی۔ لوہے کا سرخ ٹوپ تو اب موجود نہیں ہے لیکن ان کی کلہاڑی اب بھی موجود ہے اور ان کے احراری ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اسی دوران وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارکن بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

۲۷ جون ۲۰۰۹ء

مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت

میں ابھی تک اس گومگو کی کیفیت میں ہوں کہ مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کے حوالے سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کس کا ذکر پہلے کروں۔ اول الذکر پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہوئے ہیں اور ثانی الذکر کو ایک خودکش بمبار نے ان کی قیمتی جان سے محروم کر دیا ہے۔ دونوں کا تعلق دینی مدارس سے تھا اور دونوں دینی تعلیم کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت کر رہے تھے۔ مولانا محمد امین اورکزئی ہنگو میں جامعہ یوسفیہ کے استاذ تھے جبکہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت

۲۰ جون ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے فون آرہے ہیں۔ جن کو موقع ملتا ہے وہ زحمت فرما کر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے ساتھ غم و صدمہ کا اظہار کرتے ہیں۔ میں اپنے سب بھائیوں اور بہنوں اور دیگر اہل خاندان کی طرف سے ان تمام دوستوں، احباب، بزرگوں، اور ہمدردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کسی بھی ذریعہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور حضرت والد محترمؒ کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا و آخرت میں اس کا اجر جزیل دیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ

۱۵ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانامحمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر سلسلۂ تعزیت

بھارت سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے فرزند مولانا محمد طلحہ اور لکھنؤ سے مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا یحییٰ نعمانی مدیر الفرقان کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانیہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد یعقوب القاسمی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا محمد قاسم، شیخ عبد الواحد، مولانا محمد اشرف قریشی، حافظ ضیاء المحسن طیب اور دیگر علماء نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ مختلف شہروں میں مساجد و مدارس میں حضرت شیخ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانامحمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر سلسلۂ تعزیت

۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا سفر آخرت

حضرت والد صاحبؒ کی وفات کے روز ہم سب گکھڑ میں جمع ہوئے تو جنازے کے لیے موزوں وقت اور تدفین کے مقام کے بارے میں باہمی مشورہ ہوا۔ گکھڑ میں سب سے بڑا گراؤنڈ ڈی سی ہائی اسکول کا ہے، ہم نے صبح اسے ایک بار دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نماز جنازہ ادا کر سکیں گے۔ ہمارا خیال اسی کے لگ بھگ تھا مگر شام کو جنازے کے وقت دیکھا تو ہمارا اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ گراؤنڈ اس قدر بھر گیا تھا کہ اندر مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ جبکہ باہر جی ٹی روڈ اور اس کے ساتھ ملحقہ دو سڑکوں پر عوام کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا سفر آخرت

۹ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گزشتہ آٹھ نو برس سے صاحب فراش تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی یادداشت آخر وقت تک قائم رہی اور علمی دلچسپی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ نظر کمزور ہوگئی تھی اور کسی کو دیکھ کر نہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف کرانے پر ساری باتیں ان کو یاد آجاتیں اور پھر وہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ مجھے جمعہ کے دن شام کو تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا موقع ملتا، جب طبیعت کچھ بحال ہوتی تو کسی نہ کسی کتاب سے کچھ سنانے کی فرمائش کرتے اور احادیث کی کسی کتاب سے میں انہیں چند احادیث سنا دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

۶ مئی ۲۰۰۹ء

مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی

مولانا سید امیر حسینؒ گیلانی اس وقت پاکستان میں موجود چند گنے چنے فضلائے دیوبند میں سے تھے اور ان کے ساتھ جماعتی زندگی میں میرا طویل رفاقت کا دور گزرا ہے۔ ان کا تعلق مہاجرین کشمیر سے تھا اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد گوجرانوالہ میں رہتے تھے اس لیے ان کا گوجرانوالہ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ انہوں نے جماعتی اور تحریکی زندگی کا آغاز 1953ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا اور وہ ملاقاتوں میں اس دور کے حالات اور اپنی سرگرمیاں بتایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی

۱۳ اپریل ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

ہمیں خاندانی طور پر گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا کہ میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے بزرگ اور مخدوم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند تھے اور حضرت کی وفات کے بعد گزشتہ گیارہ برس سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم اور جامع مسجد گنبد والی کے خطیب کی حیثیت سے ان کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میری چھوٹی بہن ان کی اہلیہ ہیں جو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام للبنات جہلم میں گزشتہ ربع صدی سے تدریس کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

۹ مارچ ۲۰۰۹ء

حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

حضرت ابراہیمؑ کا بنیادی پیغام توحید ہی ہے لیکن ان کا یہ امتیاز بھی ہے کہ ان کی توحید صرف فکری اور قولی نہیں بلکہ عملی اور فعلی بھی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے بت پرستی کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کھلم کھلا پوری قوم کو بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی بندگی کرنے کی تلقین کی اور بت پرستی کے خلاف عملی کاروائی بھی کی۔ اور جہاں حضرت ابراہیمؑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے ہیں وہاں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذات گرامی اور شخصیت کو اسلام کا راستہ روکنے کے لیے بطور شیلٹر بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

۷ دسمبر ۲۰۰۸ء

مولانا عبد المجید انورؒ، مولانا عبد الحقؒ، حاجی جمال دینؒ

آج کا کالم چند تعزیتوں کے حوالے سے ہے۔ حضرت مولانا عبد المجید انور ہمارے محترم بزرگ دوستوں میں سے تھے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک زمانے میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو پاکستان میں دیوبندی مسلک کے رشیدی ذوق کے ترجمان ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ اور ان کے بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی نے اس ذوق کی آبیاری کی اور ملک میں دیوبند مسلک کے تعارف اور ترجمانی کے لیے زندگی بھر محنت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید انورؒ، مولانا عبد الحقؒ، حاجی جمال دینؒ

۳ جولائی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

27 اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے نومنتخب سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے فون پر اطلاع دی کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ان سے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا کہ سردست یہی خبر آئی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ رحلت فرما گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

۱۸ مئی ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوگئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملک بھر میں ان کا سوگ منایا جا رہا ہے اور ہر طبقہ کے افراد ان کے اس المناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس سوگ میں شریک ہیں۔ حکومت نے قومی سطح پر تین دن او رپاکستان پیپلز پارٹی نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دوران احتجاجی مظاہروں، تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانی کی محافل کے ساتھ ساتھ کاروباری زندگی تین روز سے تا دمِ تحریر معطل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

۲۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کا شمار حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے، انہوں نے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے زیرسایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر ان کی سرپرستی میں ان کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک قرآن و حدیث کا درس دیا۔ وہ حضرت درخواستیؒ کے نواسے تھے، ان کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے اور ان کی علمی روایات کے امین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

۱۰ ستمبر ۲۰۰۷ء

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ کی وفات کی خبر مجھے پاکستان ہی میں مل گئی تھی اور میرے سعودی عرب کے سفر کے پروگرام میں ان کے تلامذہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔ شیخ ناخبیؒ میرے حدیث کے شیوخِ اجازت میں سے ہیں اور اپنے دور کے امت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے تھے۔ تین سال قبل جدہ کے ایک سفر کے موقع پر ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی اور انہوں نے حدیث مسلسل بالاولیۃ سنا کر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت اور اس کے ساتھ اہم نصائح سے نوازا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ

۹ ستمبر ۲۰۰۷ء

حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

جمعرات ۲۸ جون کے اخبارات میں یہ خبر نظروں سے گزری کہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد زمان اچکزئی کا کراچی میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب ہمارے پرانے جماعتی رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی معیت میں کام کیا اور دینی سیاست کے محاذ پر اہم خدمات سرانجام دیں۔ میرا ان سے تعارف سب سے پہلے حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کے ذریعے ہوا جو میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے، ۱۹۷۰ء میں ہم دونوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورٔ حدیث کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

۳۰ جون ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالم دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک واحسان کی تربیت حاصل کی اور اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد وہدایت کا راستہ دکھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ

شیخ الحدیث مولانا حافظ نذیر احمدؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، ملک کے معروف مدرسہ جامعہ ربانیہ اڈہ پھلور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے بعد گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آنکھوں سے نابینا تھے لیکن ان کے دل کی بینائی نے پورے علاقے کو حق کی راہ پر لگا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا عبد الرؤفؒ

مولانا عبد الرؤف آزاد کشمیر میں بیس بگلہ کے مقام پر دارالعلوم فیض القرآن کے مہتمم تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ ان کے والد محترم مولانا عبد الغنیؒ کا شمار آزاد کشمیر کے بڑے علماء کرام میں ہوتا تھا اور میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الرؤفؒ

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا محمد طیبؒ ہارونی

مولانا محمد طیبؒ ہارونی ہارون آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے اور نظریاتی ساتھیوں میں سے تھے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرہ میں جن علماء کرام اور کارکنوں نے جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر شبانہ روز کام کیا اور اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے صرف کر دیں ان میں ایک اہم نام مولانا طیبؒ ہارونی کا بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد طیبؒ ہارونی

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا نصیب علی شاہ الہاشمیؒ

مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا موصوف بنوں سے قومی اسمبل کے رکن تھے، بنوں میں ایک بڑے تعلیمی و تحقیقی ادارے ’’المرکز الاسلامی‘‘ کے بانی و مہتمم تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے ساتھیوں میں سے تھے۔ ہمارا ان سے تعلق جمعیۃ طلباء اسلام کے دور میں ہوا اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں یہ رفاقت قائم رہی۔ وہ درہ پیزو کے معروف دینی مدرسہ جامعہ حلیمیہ سے وابستہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا نصیب علی شاہ الہاشمیؒ

۳ فروری ۲۰۰۷ء

مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، وہ بیک وقت ایک کامیاب سیاستدان ہونے کے ساتھ محدث، فقیہ، خطیب، پارلیمنٹیرین، شب زندہ دار اور عارف باللہ تھے۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز عطا فرمایا تھا کہ وہ جس مسند پر بھی بیٹھے اپنے معاصرین سے ممتاز نظر آئے۔ انہوں نے مدت العمر جامعہ قاسم العلوم ملتان میں حدیث و فقہ اور منقولات و معقولات کے متنوع علوم کی تدریس کی اور مسند افتاء پر ہزاروں فتاویٰ جاری کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات

۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء

مولانا روشن دینؒ، مولوی عبد الکریمؒ

عید الفطر سے ایک روز قبل ہمارے ایک پرانے بزرگ مولانا روشن دین صاحب ٹیکسلا میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے دور میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل اور پھر امیر رہے۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا ۔۔۔۔ اس سے دو روز قبل ستائیسویں شب کو ہمارے ایک اور پرانے جماعتی ساتھی مولوی عبد الکریم کا مریدکے میں انتقال ہوا مگر بے حد خواہش کے باوجود ان کے جنازہ میں بھی حاضری نہ ہو سکی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جمعیۃ علمائے اسلام کے پرانے کارکنوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا روشن دینؒ، مولوی عبد الکریمؒ

۲ نومبر ۲۰۰۶ء

مولانا مفتی عبد الستارؒ

حضرت مولانا مفتی عبد الستارؒ سمندری، فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں علم دین کے حصول کا شوق ڈالا تو خاندانی ماحول اور روایات کے علی الرغم گھر سے دینی تعلیم کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ذہانت اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرما رکھی تھی اس کے ساتھ شوق اور محنت کا جوڑ ہوا تو توفیقِ خداوندی نے چند سالوں میں رسمی اور دینی تعلیم کے حصول کے مراحل طے کرا کے جامعہ خیر المدارس ملتان کے دارالافتاء تک پہنچا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی عبد الستارؒ

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

مولوی محمد یونس خالصؒ

مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حالات کے اتار چڑھاؤ کا کرشمہ ہے کہ ان کی وفات کی یہ خبر پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات کے ایک کونے میں جگہ پا سکی۔ ورنہ اگر زمانہ ناقدری کا خوگر نہ ہوتا اور لوگوں میں محسن کشی اور احسان ناشناسی اس قدر غلبہ نہ پا چکی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے قومی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں مولوی محمد یونس خالص کا تذکرہ پاکستان کے ایک محسن کے طور پر کیا جاتا بلکہ امریکہ اور مغرب کا میڈیا بھی ان کا تذکرہ اس طور پر کرتا کہ افغانستان کا وہ عظیم رہنما دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولوی محمد یونس خالصؒ

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

علامہ صاحب کے ساتھ میری جماعتی اور تحریکی رفاقت کا دورانیہ کم و بیش اڑتیس سال کے عرصہ کو محیط ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ضلع گوجرانوالہ کی دینی اور قومی سیاست میں علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا احمد سعید ہزاروی، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، مولانا علی احمد جامیؒ اور راقم الحروف جمعیۃ علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ہم مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی ٹیم شمار ہوتے تھے اور یہ ٹیم ان کی سرپرستی اور قیادت میں دینی و قومی سیاست میں ضلع کی سطح پر ایک بھرپور کردار کی حامل رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

۵ مئی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

آزادیٔ ہند کے عظیم مجاہد مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں شیر گڑھ مردان میں منعقد ہونے والا آج کا سیمینار اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نئی نسل کو ان عظیم اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں سے واقف کرانے کی ایک کوشش ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلسل جنگ لڑی اور جن کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ آج یہ خطہ اسلامی روایات اور دینی حمیت کے امین کی حیثیت سے پورے عالم اسلام میں نمایاں نظر آرہا ہے اور جسے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عزیر گلؒ

۲۳ اپریل ۲۰۰۶ء

حاجی غلام دستگیر مرحوم

ڈاکٹر حاجی غلام دستگیر مرحوم شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلفاء میں سے تھے۔ انارکلی لاہور سے باہر مسلم مسجد کے نیچے ’’لاہور میڈیسن‘‘ کے نام سے ان کی دکان ہوا کرتی تھی جس میں ان کے ساتھی ان کے بھائی حاجی غلام سبحانی صاحب تھے جو کچھ عرصہ قبل حجازِ مقدس منتقل ہوگئے ہیں۔ لوئر مال روڈ پر ایم اے او کالج کے قریب حاجی غلام دستگیر مرحوم کی رہائش تھی جو ایک زمانے میں قومی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ حاجی صاحب کا گھر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا مہمان خانہ ہوا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حاجی غلام دستگیر مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے فیض یافتہ تھے اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی کے رفقاء میں سے تھے۔ پاکستان میں علماء دیوبند کے مسلک اور تعارف کو فروغ دینے میں جامعہ رشیدیہ اور اس کے دورِ اول کے بزرگوں کا جو کردار رہا ہے وہ بجائے خود دینی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے پڑھنے اور طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق عطا کیا تھا، دینی لٹریچر کی عمدہ طباعت و اشاعت میں خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا علی احمد جامیؒ

مولانا علی احمد جامیؒ کھیالی گوجرانوالہ کے رہائشی تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے طالب علمی کے دور سے میرے ساتھی تھے۔ انہوں نے ساری زندگی دینی جدوجہد میں گزاری، جمعیۃ علمائے اسلام (س) کے ضلعی امیر تھے، اور اب صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی نے صوبائی امارت کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا مگر مسلسل علالت کی وجہ سے وہ کسی عملی ذمہ داری کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ متحدہ مجلس عمل ضلع گوجرانوالہ کے صدر رہے اور تحریک ختم نبوت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا علی احمد جامیؒ

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک سو روپے ماہانہ وظیفے پر مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کیا اور غالباً ایک سو روپے کی مالیت کا ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر انہیں دیا گیا جس پر انہوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیۃ کو منظم کیا۔ پھر انہیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اس حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم شہر میں ہوتے تو میرا دفتر ہی ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ ان کی جیب میں خرچ کے لیے پیسے نہ ہوتے تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا جتنے پیسے نکلتے ہم آدھے آدھے تقسیم کر لیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

یکم جنوری ۲۰۰۶ء

Pages