’’جنگجو اسلام‘‘ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ دسمبر ۱۹۹۹ء

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عوام کی ۸۲ فیصد اکثریت شریعت اسلامیہ کے قانون کو ملکی قانون کا درجہ دینے کے حق میں ہے۔ ایک قومی روزنامہ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ فوجی انقلاب سے تین ماہ قبل ایک پاکستانی ادارہ کے ذریعے کراچی، سکھر، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں سروے کا اہتمام کرایا۔ رائے عامہ کا سروے کرنے والے اس ادارے نے جو اعداد و شمار مرتب کیے انہیں امریکی ڈیپارٹمنٹ نے ۲۲ اکتوبر کو رپورٹ کی صورت میں شائع کیا ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ

  • ۸۶ فیصد پاکستانی عام زندگی میں اسلامی اقدار کے لیے زیادہ بڑا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
  • ۸۲ فیصد پاکستانی شریعت کے قانون کو ملکی قانون کا درجہ دینے کے حق میں ہیں۔
  • رپورٹ کے مطابق سروے کے بعض حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی عمومی طور پر اسلام کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں بھی چوکنے ہیں، ان میں ۴۸ فیصد کا کہنا ہے کہ اگر مذہبی رہنما سیاست میں ملوث ہوئے تو اس سے ان کے عقائد بھی خراب ہوں گے۔
  • ۴۱ فیصد کا خیال ہے کہ مذہب ایک شخص کا ذاتی عقیدہ ہے اور اسے سرکاری پالیسی سے الگ تھلگ رہنا چاہیے۔
  • اکثریت اس بارے میں نابلد ہے کہ آیا جمہوریت اسلامی طرز حکمرانی سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
  • ۴۰ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے کلیدی عہدے غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں نہیں ملنا چاہئیں۔
  • ۵۱ فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ذرائع ابلاغ کو صرف اسلامی اقدار سے ہم آہنگ مواد پیش کرنا چاہیے۔
  • پاکستانیوں کی اکثریت مغرب میں استعمال ہونے والی ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ کی اصطلاح سے واقف نہیں ہے۔
  • ۴۸ فیصد پاکستانی اسلام کے دفاع میں تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔
  • ۴۰ فیصد پاکستانی اسلامی جنگجوؤں کو پاکستان کے لیے ایک خطرہ گردانتے ہیں۔

اگرچہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس رپورٹ میں بعض تضادات ہیں، مثلاً جب ملک کے ۸۲ فیصد شہری شریعت کے قانون کو ملکی قانون کا درجہ دینے کے حق میں ہیں تو پھر مذہب کو سرکاری پالیسی سے الگ تھلگ رکھنے کے خواہشمند حضرات کا تناسب ۴۱ فیصید نہیں بلکہ ۱۸ فیصد رہ جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر اعداد و شمار کو بھی چیک کیا جا سکتا ہے تاہم مجموعی طور پر رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت اسلامی شریعت کو ملک کے قانون کا درجہ دینا چاہتی ہے اور عام زندگی میں اسلامی اقدار کے زیادہ کردار کی خواہشمند ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے عوام نے اسلامی نظام کے نفاذ کے جس جذبہ کے ساتھ الگ ملک کے قیام کی تحریک اب سے پون صدی قبل چلائی تھی اور پاکستان کے نام سے الگ ملک حاصل کیا تھا، وہ جذبہ قیام پاکستان کو نصف صدی گزر جانے اور ایک نسل کی جگہ دوسری نسل کے آگے آجانے کے باوجود ابھی تک ماند نہیں پڑا۔ اور پچھلی نسل کی طرح آج کی نسل بھی پاکستان کے قیام کا مقصد اور بنیاد اسلام ہی کو سمجھتی ہے اور معاشرہ میں اسلامی احکام و اقدار کی عملداری اور نفاذ کی خواہش مند ہے۔

البتہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس سروے رپورٹ کا یہ حصہ قابل توجہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت نفاذ شریعت کی حامی ہے مگر جنگجو اسلام کو پسند نہیں کرتی۔ ’’جنگجو اسلام‘‘ سے مراد وہ دینی تحریکات اور ان کا یہ دن بدن واضح ہوتا ہوا رجحان ہے جو جمہوری ذرائع سے نفاذ اسلام کا راستہ مسدود پاتے ہوئے انقلاب اور تشدد کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ اور یوں لگتا ہے کہ امریکی رپورٹ کا اصل مقصد بھی اسی رجحان کی نشاندہی اور عوام کی اکثریت کے حوالہ سے اس رجحان کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ مگر امریکی دانشور جنگجو اسلام کی بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں کہ نفاذِ اسلام کی تحریکات اگر جمہوری جدوجہد کے تجربہ میں ناکامی کے بعد جدوجہد کے متبادل ذرائع کے بارے میں سوچ رہی ہیں تو اس کی ذمہ داری جمہوری عمل کو بلاجواز کنٹرول کرنے والی ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو گزشتہ نصف صدی سے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں عوامی خواہشات کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے جمہوری عمل کو عوامی خواہشات کے بروئے کار لانے کی بجائے انہیں دبانے اور روکے رکھنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں چند عملی مثالوں کو سامنے رکھ لیا جائے تو بات کو سمجھنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔

پاکستان کے عوام اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہشمند ہیں مگر امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت مختلف قوتوں کی طرف سے پاکستانی حکومت پر مسلسل دباؤ موجود ہے کہ ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ لایا جائے۔ ایک موقع پر پاکستان کی پارلیمنٹ نے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا بل منظور کیا تو اسے ’’سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے کے متاثر نہ ہونے‘‘ کی شرط کے ساتھ مشروط کر کے غیر موثر بنانے میں سب سے زیادہ متحرک کردار اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ادا کیا۔

الجزائر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے علمبردار ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ نے الیکشن میں بھارتی اکثریت حاصل کی مگر اسے فوج کے ذریعے کچل دیا گیا اور فوج کی اس کارروائی کو امریکہ سمیت تمام مغربی ملکوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ترکی میں نجم الدین اربکان کی منتخب حکومت اور رفاہ پارٹی کو فوجی طاقت کے بل پر صرف اس لیے ختم کر دیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر ملک میں اسلامی اقدار کی بحالی کے لیے کوشاں تھی اور عالمی قوتیں وہاں بھی عوامی رائے اور ووٹ کے تقدس کا ساتھ دینے کی بجائے جبر کی پشت پناہ بنی ہوئی ہیں۔

سعودی عرب سمیت خلیج کی ریاستوں میں عوام کو ووٹ کا حق صرف اس لیے نہیں دیا جا رہا کہ اس طرح وہاں اسلامی نظام کا مکمل نفاذ عمل میں آجائے گا جو نہ صرف امریکی مفادات اور اسرائیل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں اسلامی تحریکات کی کامیابی کا پہلا زینہ ثابت ہوگا۔

اس لیے اگر کچھ ممالک میں اسلامی تحریکات نے نفاذِ اسلام کے لیے جمہوری عمل کا راستہ بند دیکھ کر عوامی رجحانات اور خواہشات کی تکمیل میں تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے، یا بعض ممالک کی تحریکات ایسا سوچ رہی ہیں تو انہیں اس مقام تک لے جانے والا خود امریکہ ہے جس نے ان ممالک کے عوام کی اکثریت اور ان کے جذبات و رجحانات کا احترام نہیں کیا اور اپنے مفادات کی خاطر جمہوری عمل پر ان کا اعتماد ختم کرنے کی سازش کی ہے۔ کیونکہ شاید امریکہ یہ سمجھ چکا ہے کہ مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے جمہوری عمل کی ’’پچ‘‘ پر کھیلنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے اور اسی لیے وہ ایک سازش او رمنصوبے کے تحت اسلامی تحریکات کو تشدد کے راستے پر لانا چاہتا ہے تاکہ اپنی مرضی کے میدان میں سازگار پچ پر ان تحریکات کو ناک آؤٹ کر سکے۔

اس لیے ہم امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بزرجمہروں سے عرض کریں گے کہ وہ جسے ’’جنگجو اسلام‘‘ قرار دے رہے ہیں اس کی ’’جنگجوئیت‘‘ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ خود امریکی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ اور یہ اسلام اور عالم اسلام کے بارے میں امریکی رویے کا ناگزیر ردعمل ہے جس کا سامنا کرنے میں امریکی حکمرانوں اور دانشوروں کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔