اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۵ء

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین جناب محمد میاں سومرو نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۷ء کے بعد تیار ہونے والی رپورٹوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ اس کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ رولنگ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق نمٹاتے ہوئے دی۔ اس تحریک کے محرک نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور محمد اعجاز الحق نے وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں سینٹ سے یہ کہا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ۲۰۰۳ء کی رپورٹیں ایوان میں پیش کر دی گئی ہیں، یہ بیان حقائق کے منافی ہے جس سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے لہٰذا تحریک استحقاق کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور محمد اعجاز الحق نے وضاحت کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۶ء تک کی تمام عبوری اور حتمی رپورٹیں ۱۹۹۷ء میں پیش کر دی گئی تھیں، اس کے بعد رپورٹیں ایوان میں پیش کرنا آئینی تقاضہ نہیں ہے۔

چیئرمین سینٹ کی مذکورہ بالا رولنگ اور وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے قیام سے اب تک اسلامی قوانین کی تدوین و تشریح اور ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جو مسلسل کام کیا ہے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل وقیع علمی رپورٹیں تیار کی ہیں، ان کا مصرف صرف یہ ہے کہ انہیں قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوا دیا جائے تاکہ ارکان ان سے استفادہ کر سکیں۔ ہمارے خیال میں ایسی بات نہیں ہے اس لیے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دیتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل اس مقصد کے لیے قائم کی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری رپورٹیں پیش کرے اور قانون کے مسودات تیار کرے تاکہ انہیں وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کرکے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے اور ملک کے مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کی دستوری ضمانت کی تکمیل کی طرف پیشرفت کی جائے۔

ہم چیئرمین سینٹ اور وفاقی وزیر مذہبی امور دونوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ اس سلسلہ میں دستور پاکستان کی منشا اور اس کے صریح وعدوں کا ادراک حاصل کریں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مذکورہ رپورٹوں کو محض لائبریری کی زینت بنانے کی بجائے انہیں قانون سازی کے لیے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کرنے کا اہتمام کریں تاکہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے دستوری وعدے کی تکمیل کی راہ ہموار ہو۔