درس نظامی کے بارے میں امریکی دانشور کے خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اپریل ۲۰۰۱ء

گزشتہ دنوں امریکی دانشور پروفیسر جان وال برج کے لیکچر کے کچھ اقتباسات لاہور کے ایک قومی اخبار میں نظر سے گزرے جس میں انہوں نے ’’درس نظامی‘‘ کے نصاب و نظام کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ پروفیسر موصوف کے بارے میں اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسلام اور دیگر مشرقی علوم کے معروف سکالر ہیں اور انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں ’’اقبال میموریل لیکچر ۲۰۰۱ء‘‘ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس خطاب کا اہتمام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی نے کیا تھا اور تقریب کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔

رپورٹ کے مطابق پروفیسر جان وال برج نے کہا کہ

  • اسلام اتحاد اور قانون کا مذہب ہے اور اسلامی معاشرہ میں درس نظامی کا روایتی نظام ختم ہونے سے اسلامی تعلیمات کو نقصان اور اسلام میں اختلافات کے خاتمہ کے ماحول کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
  • نوآبادیاتی نظام، جدیدیت اور سیکولرازم کے نظاموں نے اسلامی تعلیمات کے پرانے نظام ’’درس نظامی‘‘ کو ختم کر دیا ہے جس سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی قانون کی تحقیق کے حوالہ سے حوصلہ شکنی ہوئی ہے جبکہ اسلامی معاشروں کو درس نظامی کے پرانے اور فعال نظام کی ضرورت ہے، اسی نظام سے اسلامی معاشروں میں اختلافات کے خاتمے میں مدد ملتی تھی اور معاشرے میں برداشت عام ہوتی تھی۔
  • جدیدیت پسند اور بنیاد پرست دونوں مسلمان گروپ درس نظامی کے فعال کردار کے خاتمہ پر خاموش ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر اسلام کی تشریح اپنے حوالہ سے کر رہے ہیں۔
  • درس نظامی کی روایت اس وقت صرف مصر، ایران اور عراق میں باقی ہے باقی مسلم دنیا سے یہ روایت ختم ہوگئی ہے حتیٰ کہ مصر میں بنیاد پرست اور لبرل مسلمان دونوں ’’الازہر‘‘ کی روایت کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
  • انڈونیشیا جیسے اسلامی ملک کے سرکاری اسلامی مدرسوں میں اجتہاد کے نام پر حکومتی پالیسیوں کو درست قرار دیا جا رہا ہے۔
  • مسلمانوں کی اکثریت اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات تسلیم کرتی ہے، ان کے نزدیک اسلامی معاشروں میں سیاست، معیشت اور سماج کو اسلام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
  • اسلام نے اسلامی معاشروں کے قیام پر براہ راست اثر ڈالا ہے، لہٰذا یہ قدرتی امر ہے کہ مسلمان اپنے تمام مسائل کا حل اسلام میں تلاش کریں۔
  • پاکستان میں درس نظامی سے دوری دکھائی دیتی ہے، اسکولوں میں پڑھائی جانے والی اسلامیات میں درس نظامی کی روایت کا ذکر تک نہیں۔

پروفیسر جان وال برج کے مکمل لیکچر تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی اور ان کے جو خیالات اخباری رپورٹ کے ذریعے سامنے آئے ہیں وہ ہم نے نقل کر دیے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت مغربی دانشگاہوں میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے کس سطح پر تحقیق و مطالعہ کا عمل جاری ہے اور مغرب کے دانشور اس بارے میں کس انداز سے سوچ رہے ہیں۔ پروفیسر برج نے درس نظامی کے حوالہ سے جس نظام تعلیم کا ذکر کیا ہے اس سے مراد اصل میں قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور ان سے متعلقہ علوم پر مشتمل نصاب تعلیم ہے جو دنیائے اسلام پر مغربی استعمار کے تسلط سے قبل کم و بیش تمام مسلمان ملکوں میں رائج تھا۔ مگر مغرب کے استعماری ملکوں نے اپنے اپنے مقبوضہ مسلم ملکوں میں اس نظام تعلیم کا خاتمہ کر کے انگریزی زبان اور اس کے متعلقات کی ترویج کا بیڑا اٹھایا جس کی طرف پروفیسر موصوف نے اشارہ کیا ہے۔ اور جس کے نتیجے میں آج دنیا کے اکثر مسلمان ملکوں میں اقتدار کے سرچشموں پر وہ کلاس قابض ہے جس کے بارے میں جنوبی ایشیا میں انگریزی نظام تعلیم کی ترویج کرنے والے برطانوی ماہر تعلیم لارڈ میکالے نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اس نظام کے تربیت یافتہ افراد رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی اور فکر و مذاق کے اعتبار سے انگریز ہوں گے۔

ہمیں امریکی دانشور کے تجزیہ کے اس حصہ سے اتفاق ہے کہ مسلمان معاشرہ کا قیام ہی اسلامی تعلیمات کے نتیجے میں ہوا ہے اس لیے اس کے بقاء و تحفظ کا مدار بھی اسلامی تعلیمات پر ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کی بنیاد درس نظامی کے روایتی نظام پر ہے اس لیے مسلمان ممالک کو جلد یا بدیر اسی کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ مگر پروفیسر جان وال برج نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی طرف سے درس نظامی سے بے اعتنائی کا جو شکوہ کیا ہے اس سے ہمیں اتفاق نہیں ہے اور ہمارے نزدیک ان کے اس تاثر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس خطہ میں ان کی رسائی ریاستی تعلیمی اداروں اور سرکاری رپورٹوں تک محدود ہے۔ ورنہ اگر وہ اس ماحول سے باہر نکل کر جنوبی ایشیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں بلکہ لاکھوں مدارس پر نظر ڈالیں جو قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم سے لے کر قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مختلف شعبوں میں تخصص تک کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں تو انہیں اس بات کا شکوہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ پاکستان میں درس نظامی سے دوری دکھائی دیتی ہے۔ اور اگر وہ درس نظامی کے فعال کردار کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو وہ بھی انہیں امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کی صورت میں زندہ حقیقت کے طور پر دکھائی دے گا جو اسی درس نظامی کا ثمر ہے۔

یہ بات درست ہے کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں درس نظامی کا نظام باقی نہیں رہا اور اگر کہیں ہے تو وہ فعال اور موثر نہیں ہے جس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ درس نظامی کا نظام باقی رکھنے کے خواہش مند حضرات بعض ممالک میں خود کو سرکاری نظام کی آمیزش سے نہیں بچا سکے جس کے نتیجے میں ’’الازہر‘‘ جیسے قدیم ترین اور روایتی ادارہ کی روایت پر بھی پروفیسر جان وال برج کو شکوک و شبہات کے سائے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جنوبی ایشیا کے درویش صفت علماء نے کسی دور میں سرکاری سسٹم کی آمیزش کو قبول نہیں کیا اور تمام سہولتوں اور پیشکشوں کو مسترد کر کے آج بھی اپنے فقر و درویشی کو برقرار رکھ کر سرکاری گرانٹوں کی بجائے عام مسلمانوں کے دیے ہوئے چندوں اور قربانی کی کھالوں پر قناعت کرتے ہوئے درس نظامی کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہم پروفیسر جان وال برج کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ درس نظامی مغرب کی تمام تر مخالفانہ کوششوں کے باوجود نہ صرف زندہ ہے بلکہ فعال بھی ہے اور یہی نظام دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا علمبردار ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔