حضرت مولانا قاضی عبداللطیفؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے، لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ہمیشہ جمعیۃ علماءاسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیۃ کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ علماء میں ایسے افراد بہت کم ہیں جو آج کے قانون اور بیوروکریسی کی اصطلاحات اور زبان کو سمجھ سکیں۔ قاضی صاحبؒ کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ آج کے قانون، بیوروکریسی اور سرکاری ڈرافٹس وغیرہ کی زبان سمجھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ۱۹۸۵ء میں جب شریعت بل اسمبلی میں پیش ہوا تو اس کو منظور کروانے میں جن لوگوں نے علمی جنگ لڑی، ان میں قاضی عبداللطیفؒ اور جسٹس افضل چیمہ سرفہرست ہیں۔ ایک موقع پر جناب وسیم سجاد نے کہا کہ قرآن کریم قانون کی نہیں، اخلاقیات کی کتاب ہے۔ قاضی صاحبؒ نے ان کے ساتھ تین گھنٹے مذاکرات کیے اور لاجواب کر دیا۔

۱۹۷۵ء اور ۱۹۸۰ء کے درمیان حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے چار نائبین سمجھے جاتے تھے: مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا غلامؒ ربانی، قاضی عبداللطیفؒ اور چوتھا میں فقیر تھا۔ حضرت قاضی صاحبؒ نے آج سے چار سال پہلے کسی ملاقات میں فرمایا تھا کہ ان قبائل کو سنبھالو۔ گویا آج قبائل اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا انہوں نے کافی عرصہ پہلے ادراک کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مساعی کو اپنی جناب میں قبول فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ الشریعہ ۔ اکتوبر ۲۰۱۰ء)

ظہر سے قبل ہم کلاچی پہنچے۔ حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب دامت برکاتہم کی زیادت کی اور ان سے ان کے بھائی مولانا قاضی عبد اللطیفؒ اور بیٹے مولانا قاضی عبد الحلیمؒ کی وفات پر تعزیت کی۔ مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کے ساتھ میری طویل جماعتی رفاقت رہی ہے۔ مگر یہ بات یہاں آ کر مختلف واقعات کو کریدتے ہوئے معلوم ہوئی کہ وہ بھی دار العلوم دیوبند میں میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ دورۂ حدیث میں شریک تھے اور کرک بنوں کے مولانا صدر الشہید نے بھی ان کے ساتھ ہی دورۂ حدیث کیا تھا۔

علاقے میں اس خاندان کی علمی وجاہت اور مرجعیت معروف ہے اور فقر و درویشی کی روایت بھی قائم ہے۔ سادہ سی مسجد کے ساتھ کچے مکانات ان کا مسکن ہیں اور پورا خاندان قناعت اور درویشی کے ماحول میں دینی خدمات میں مصروف ہے۔ مولانا قاضی عبد اللطیفؒ چھ سال تک سینیٹر رہے ہیں، جنرل محمد ضیا ءالحق مرحوم کے قریبی رفقاءمیں شمار ہوتے تھے اور صوبہ خیبر پختون خواہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے دوران صوبائی متحدہ مجلس عمل کے صدر تھے، مگر ان کی رہائش گاہ وہی سادہ سی تھی جو ان مراحل سے گزرنے سے پہلے ہوا کرتی تھی۔ ہم ان کے حجرے میں، جو ان کی لائبریری بھی تھی اور نشست گاہ بھی، بیٹھے ہوئے تھے اور میری نظریں بار بار ان کی کچی دیواروں اور کانوں کی چھت کا طواف کر رہی تھیں کہ کیا پاکستان میں کسی سینیٹر کا چوکیدار بھی اس قسم کے مکان میں رہتا ہوگا؟

(روزنامہ اسلام)