الباعث الحثیث فی اختصار علوم الحدیث / خارجی فتنہ / انوار السنن فی رد خصمۃ الزمن / سنن الھدٰی فی رد اللعب والھوٰی / بشریت و رسالت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ مئی ۱۹۸۷ء

حافظ ابن کثیرؒ کا نامِ نامی علمی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آٹھویں صدی کے اس جلیل القدر محدث و مفسر نے قرآنِ کریم کی مستند و معتمد تفسیر کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث کے مختلف پہلوؤں پر جو تحقیقی کام کیا ہے اسے علمی حلقوں میں سند و اعتماد کا درجہ حاصل ہے۔ زیرنظر کتاب علمِ اصولِ حدیث میں ان کی ایک قابلِ قدر تصنیف ہے جس میں حافظ ابن کثیرؒ نے علومِ حدیث میں حافظ ابن الصلاحؒ، امام ابو عبد اللہ الحاکم اور امام بیہقیؒ کی تصانیف کا خلاصہ اپنی ترتیب کے ساتھ تحریر کیا ہے اور علمِ اصولِ حدیث کے کم و بیش تمام اہم پہلوؤں کو اس انداز سے بیان کر دیا ہے کہ علومِ حدیث کے بنیادی تعارف و واقفیت کے لیے طلبہ اور علماء کو مطولات کی طرف رجوع کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

مدنی کتب خانہ، مدنی منزل آر ۷۹۹ سیکٹر ۱۶ اے گلشن اسلام بفر زون کراچی ۳۶ نے یہ کتاب شائع کی ہے۔ کتاب بڑے سائز کے ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت ۲۵ روپے درج ہے۔

خارجی فتنہ (دو حصے)

تالیف: مولانا قاضی مظہر حسین۔ شائع کردہ: تحریکِ خدام اہل سنت۔ صفحات: جلد اول ۶۲۴، جلد دوم ۸۶۰۔ کتابت و طباعت معیاری۔ قیمت: حصہ اول پچیس روپے (مجلد)، حصہ دوم (مجلد) انتالیس روپے۔

جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے جواب میں جن سرکردہ علماء کرام نے قلم اٹھایا اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں اٹھائے گئے اعتراضات کا علمی و تحقیقی انداز میں رد کیا ان میں ندوۃ العلماء لکھنو کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسحاق سندیلوی بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے مخصوص علمی اور تحقیقی انداز میں اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی۔ مگر حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب امیر تحریک خدامِ اہل سنت پاکستان نے مولانا سندیلوی کے بعض مضامین کی گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان میں وہ مخصوص اعتدال و توازن نہیں ہے جو آئمہ اہلِ سنت طرۂ امتیاز ہے بلکہ خارجیت کی جھلک اس میں نظر آتی ہے۔ مولانا سندیلوی نے مولانا قاضی مظہر حسین کے اعتراضات کے جواب میں اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کی جس سے قاضی صاحب مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے ’’خارجی فتنہ‘‘ کے عنوان سے دو ضخیم جلدوں میں یہ کتاب تصنیف فرمائی ہے۔

جلد اول میں مشاجراتِ صحابہؓ کے حوالہ سے آئمہ اہلِ سنت کے متوازن اور معتدل مسلک کی وضاحت ہے جبکہ دوسری جلد میں فسقِ یزید پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ مولانا قاضی مظہر حسین کو مسلک اہل السنۃ کے دفاع اور تحفظ کے ساتھ جو خصوصی شغف ہے زیرِ نظر کتاب اسی شغف اور ذوق کی آئینہ دار ہے اور مصنف موصوف نے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے جس قدر محنت کی ہے کتاب کے حوالہ جات او رمباحث سے اس کا جا بجا اظہار ہوتا ہے۔ اہلِ علم کے لیے یہ کتاب گراں قدر معلومات کا ذخیرہ ہے۔

انوار السنن فی رد خصمۃ الزمن

تالیف: مولانا حکیم سید علی شاہ۔ ملنے کا پتہ: شیخ عبد الرحمان سابق ٹیچر ڈومیلی ضلع جہلم۔ صفحات: ۱۴۰ (مجلد)۔ قیمت: ۱۵ روپے۔

حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ آف ڈومیلی ضلع جہلم کا انتقال ابھی کچھ عرصہ قبل ہوا ہے۔ آپ حضرت مفتیٔ اعظم مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ اور حکیم محمد اجمل خانؒ کے تلامذہ میں سے تھے اور حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے ساتھ بیعت و ارشاد کا تعلق تھا۔ ایک عرصہ تک اپنے علاقہ بلکہ ملک کے طول و عرض میں توحید و سنت کا پرچار اور رسوم و بدعات کی تردید و خاتمہ کے لیے جدوجہد میں مصروف رہے ہیں۔ زیرِ نظر کتابچہ بھی ان کی اسی پاکیزہ مہم کا حصہ ہے جس میں انہوں نے جنازہ کے بعد دعا، بلند آواز سے ذکر، ماتم کی صف بچھانے، عید کی نماز کے بعد دعا اور اسقاط و حیلہ جیسے مسائل پر قلم اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ ان کا رد کیا ہے۔ اندازِ بیان مصلحانہ اور منطقی ہے اور رسوم و بدعات کی تردید میں مؤثر اور عام فہم ہے۔

سنن الھدیٰ فی رد اللعب والھویٰ

یہ بھی حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ کا رسالہ ہے جس میں انہوں نے نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ناچ گانے اور دیگر فواحش کے نقصانات کا ذکر کیا ہے اور اپنے مخصوص حکیمانہ انداز میں دینی احکام کی پیروی اور محرمات و فواحش سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔

کتاب چونسٹھ صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت درج نہیں ہے۔

بشریت و رسالت

تالیف: سید محمد انور جیلانی۔ صفحات: ۶۸۔ ملنے کا پتہ: (۱) طیب کتب خانہ، اردو بازار، لاہور۔ (۲) پوسٹ بکس ۲۹۸، گوجرانوالہ۔ کتابت و طباعت عمدہ۔ قیمت: ساڑھے سات روپے۔

حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا مسئلہ ایک عرصہ سے ہمارے معاشرہ میں فرقہ وارانہ کشمکش کے اہم موضوعات میں شامل ہے اور ملک کے تین بڑے مکاتب فکر دیوبند، بریلوی اور اہلِ حدیث علماء کرام کی طرف سے اس موضوع پر متعدد کتابوں کے علاوہ خطباء کرام اور واعظین کے لیے بھی یہ موضوع خاصی دلچسپی اور کشش کا باعث ہے۔

سید محمد انور جیلانی صاحب نے بھی اس عنوان کو اپنی تحقیق و گفتگو کا عنوان بنایا ہے مگر اس انداز سے کہ مختلف فرقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کی بجائے یہ کاوش ان کے نقطۂ نظر میں قرب اور یک جہتی کا ذریعہ بنے۔ اور اس کوشش میں وہ اس حد تک ضرور کامیاب رہے ہیں کہ مولانا محمد سرفراز خان صفدر، مولانا محمد اجمل خان، مولانا عبد الرحمان اشرفی، مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا سید محمود احمد رضوی، ڈاکٹر محمد طاہر القادری، مولانا محمد عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابوبکر غزنوی اور مولانا محمد اعظم نے یکساں طور پر اس مضمون کو پسند کیا ہے اور ان حضرات کی تقاریظ کتابچہ کے آغاز میں شاملِ اشاعت ہیں۔