جبری شادیاں اور برطانیہ کی مسلم کمیونٹی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۹۹ء

ان دنوں برطانیہ میں جبری شادیوں پر بحث کا بازار گرم ہے اور مختلف عدالتوں میں مقدمات کے ساتھ ساتھ اخبارات و جرائد اور محافل و مجالس میں بھی گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ مغرب میں لڑکا اور لڑکی اپنا شریک حیات چننے میں آزاد ہیں اور اس میں ماں باپ کا کوئی اہم رول نہیں ہوتا جبکہ ہمارے ہاں رشتے کا چناؤ اور شادی کا اہتمام عام طور پر ماں باپ کرتے ہیں اس لیے ان روایات کا ٹکراؤ مغرب میں رہنے والے مسلمان خاندانوں کے لیے لاینحل مسئلہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے اور پرورش پانے والے لڑکے اور لڑکیاں اپنا شریک حیات خود چننے کا اختیار حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں بسا اوقات مذہب کی قید بھی باقی نہیں رہتی، اس لیے اسلامی اور مشرقی روایات کے حامل خاندانوں کے لیے اس صورتحال کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اس کا حل زبردستی کی صورت میں کرنا چاہتے ہیں جس میں حکومتی ادارے مداخلت کرتے ہیں اور ماں ماپ کا ساتھ دینے کے بجائے لڑکی اور لڑکے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جس سے ماں باپ اکثر و بیشتر بے بسی کی تصویر بن کر رہ جاتے ہیں۔

جہاں تک رشتے کے چناؤ اور شادی کے اہتمام کا تعلق ہے اسلام اس میں بالغ لڑکے اور لڑکی کی رائے کا حق تسلیم کرتا ہے اور ماں باپ کو جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن اس سلسلہ میں چند اصولوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلام مرد اور عورت میں خفیہ تعلقات کی سرے سے نفی کرتا ہے اور قرآن کریم نے ’’ولا متخذات اخدان‘‘ کہہ کر لڑکے اور لڑکی کے درمیان خفیہ مراسم کو حرام کاری قرار دیا ہے۔ ہاں اس سے ہٹ کر لڑکا یا لڑکی نکاح کے لیے کسی پسند کا اظہار کرتے ہیں تو دونوں کے مسلمان ہونے کی صورت میں اسلام نے اس کا احترام کیا ہے۔ چنانچہ ابن ماجہ میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ اس کی کفالت میں ایک یتیم لڑکی ہے جس کے لیے شادی کے دو پیغام آئے ہیں۔ ایک خواہش مند مالدار ہے اور دوسرا تنگ دست غریب ہے۔ اس نے کہا کہ ہم اس کا نکاح مالدار شخص سے کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ لڑکی غریب شخص کو پسند کرتی ہے۔ اس پر جناب نبی کریمؐ نے فرمایا ’’لم یرللمتحابین بین مثل النکاح‘‘ کہ محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ گویا نبی اکرمؐ نے اس ارشاد گرامی کے ساتھ لڑکی کی پسند کے احترام کی ہدایت فرمائی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جناب رسول اکرمؐ نے ’’کفو‘‘ کے حوالہ سے لڑکی کے لیے ماں باپ اور خاندان کی عزت و وقار کا لحاظ رکھنے کو بھی ضروری قرار دیا ہے اور اس طرح ماں باپ کے وقار و عزت اور لڑکی اور لڑکے کی آزادی اور پسند کے درمیان ایک توازن قائم کر دیا ہے۔

چنانچہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی تحقیق کے مطابق اس سلسلہ میں امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہ ہے کہ بالغہ و عاقلہ لڑکی پر اس کے باپ کو کسی رشتہ اور نکاح کے لیے جبر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے لیکن لڑکی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی جگہ شادی کرے جو اس کے ماں باپ اور خاندان کے لیے معاشرتی طور پر باعث عار ہو اور وہ اس میں اس سوسائٹی کی معروف اقدار و روایات کے حوالے سے خفت محسوس کریں۔

یہ تو ایک مسئلہ کی اصولی حیثیت ہے مگر یہاں صورت حال اس سے مختلف ہے اور ایسی شادیوں کو بھی جبری قرار دیا جانے لگا ہے جو ماں باپ نے لڑکیوں کو اعتماد میں لے کر کیں۔ ان لڑکیوں نے اس وقت اسے قبول کر لیا لیکن بعد میں کسی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا تو لڑکی نے یہ موقف اختیار کر لیا کہ اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی اس لیے اسے جبری شادی قرار دے کر منسوخ کیا جائے۔ حالانکہ اس سلسلہ میں اسلام کا واضح اصول ہے کہ اگر لڑکی کو ماں باپ کے طے کیے ہوئے رشتہ پر اعتراض ہے تو بالغ ہونے کی صورت میں اسے اس وقت اس رشتہ کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اگر اس نے یہ حق استعمال نہیں کیا اور اس سے دستبردار ہو کر شادی کو عملاً قبول کرلیا تو اب وہ نکاح شرعاً منعقد ہو گیا ہے اور اس کے بعد اسے دوبارہ یہ اختیار واپس نہیں ملے گا۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں لندن کے ایک اخبار نے گلاسکو کے ایک پرانے کیس کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق نسرین اکمل نامی لڑکی کا نکاح اس کے ماں باپ نے پاکستان جا کر کیا، اس کے بعد اس کا خاوند برطانیہ آیا اور وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہے حتیٰ کہ ان کے تین بچے ہوئے اور تین بچوں کی ولادت کے بعد میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوگیا جس پر نسرین اکمل نے عدالت میں دعوٰی دائر کر دیا کہ چونکہ اس کی شادی اس کی رائے کے خلاف ہوئی تھی اس لیے اسے’’جبری شادی‘‘ قراردے کر منسوخ کیا جائے۔ چنانچہ برطانوی عدالت نے اس کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے شادی کو سرے سے منسوخ قرار دے دیا جس سے اس کے تین بچوں کی ولدیت بھی قانونی طور پر ختم ہوگئی۔ رپورٹ میں اس خاتون کا بیان شامل ہے جس میں اس نے اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ اس واقعہ کو سات سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مسلم کمیونٹی میں اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، اس کے بچوں کو حرامی کہا جاتا ہے اور وہ خوف و ہراس کی فضامیں زندگی بسر کر رہی ہے اس لیے وہ کسی ایسے علاقہ میں منتقل ہونا چاہتی ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو۔

یہ صرف ایک کیس کا مسئلہ نہیں، اس قسم کے بہت سے واقعات اس سوسائٹی میں بکھرے پڑے ہیں اور مسلمان خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس مسئلہ کے حل کے لیے دو باتوں کااہتمام ضروری ہے۔ ایک اس بات کا کہ مسلمان خاندان اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت اور انہیں اسلامی معاشرت کے ساتھ ذہنی طور پر منسلک رکھنے کے لیے ابتداء سے توجہ دیں، ان کی ذہن سازی اور تربیت کا اہتمام کریں اور انہیں اسلامی کلچر اور روایات سے روشناس کرائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں کی مسلم کمیونٹی اپنے کلچر کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد کرے، خاندانی نظام اور پرسنل لاز میں جداگانہ قوانین اور سسٹم کے حصول کے لیے مسلمان منظم ہو کر آواز اٹھائیں۔ اپنے کلچر اور شخصی قوانین کا تحفظ ہر مذہب کے پیروکاروں کاحق ہے، اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شخصی قوانین اور خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائے اور دستور پاکستان میں اس کا یہ حق باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے تو برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کا بھی یہ حق ہے کہ انہیں خاندانی زندگی میں اپنے مذہب کے شخصی قوانین پر عمل کرنے کے لیے عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کے لیے جداگانہ عدالتی سسٹم مہیا کیا جائے تاکہ وہ نکاح طلاق اور وراثت کے خاندانی معاملات میں اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرسکیں۔ اس کے لیے اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کے جدہ سیکرٹریٹ اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کی وزارت ہائے مذہبی امور کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ برطانوی حکومت کو اس کے لیے با ضابطہ طور پر تجاویز بھجوائیں اور یہاں رہنے والے مسلمانوں کے کلچر اور خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔