وقف املاک کا نیا قانون اور اس کا پس منظر

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

مولانا عبد الرشید انصاریؒ پاکستان شریعت کونسل کے بانی راہنماؤں میں سے تھے اور سالہا سال تک انہوں نے راقم الحروف کے ساتھ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر جماعتی خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کے داماد چودھری خالد محمود کامونکی ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،ایک عرصہ تک ملک کے عدالتی نظام میں خدمات سرانجام دینے کے بعد سیشن جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں اور قابل قدر دینی و فکری ذوق کے حامل ہیں۔ میری گزارش پر انہوں نے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ قانونی معاملات میں ہمارے راہنما اور معاون ثابت ہوں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں اسلام آباد کے لیے منظور کیے جانے والے وقف املاک کے قانون کا انہوں نے ناقدانہ جائزہ لیا ہے جسے کالم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

’’FATF سینتیس (۳۷) ممالک ارکان پر مشتمل بین الاقوامی تنظیم ہے اور بھارت اس تنظیم کا چونتیس (۳۴) نمبر پر رکن ہے۔ اس تنظیم کے ظاہری تحریری مقاصد میں یہ شامل ہے کہ وہ ممالک جو منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کو کنٹرول نہیں کر سکتے انہیں بلیک لسٹ یا گرے لسٹ میں شامل کیا جائے اور عالمی منظر نامہ پر ان کے خلاف منفی تاثر کو پھیلایا جائے کہ وہ امن عالم کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں اور ان ممالک کے خلاف بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں سمیت تنظیم کے ارکان ممالک اور بین الاقوامی ادارے مختلف اقدامات کر سکتے ہیں۔ یہ تنظیم اپنے باقاعدہ اجلاسوں میں نظرثانی کرتے ہوئے ممالک کو ان لسٹوں میں شامل یا خارج کرتی ہے جو ممالک اس تنظیم کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہوں مگر AML اور CFT کے حوالہ سے ایکشن پلان بنانے یا نافذ کرنے میں سست ہوں ان کو گرے لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے، ان ممالک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں یعنی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف وغیرہ کی طرف سے مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر خصوصی لسٹ میں درج ممالک سے دباؤ کے تحت مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان بین الاقوامی اداروں کی خواہش اور منشا کے مطابق اپنے ملک میں قانون سازی کریں اور عملی اقدامات اٹھائیں۔

FATF تنظیم بین الاقوامی مجاز اداروں اور خصوصی طور پر مالیاتی اتھارٹیز کو اختیار دیتی ہے کہ لسٹ زدہ ممالک کے تجارتی اداروں کے کوائف بشمول رہائشی و دفتری اور تجارتی حجم و طریقہ کار کو سامنے رکھ کر لین دین کریں اور اس کے مطابق ان کی فرمیں مطلوبہ معلومات کے مطابق تجارتی معاہدات میں شامل ہونے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ اور اگر کسی مرحلہ پر کوئی شک پیدا ہو تو وہ مالیاتی اتھارٹیز کو خبردار کر دیں کہ وہ متعلقہ ممالک اور اداروں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ FATF تنظیم پیرس میں ۱۹۸۹ء میں قائم کی گئی اور امریکہ پر نائن الیون کے حملوں کے بعد خصوصی طور پر اس تنظیم کا دائرہ کار دہشت گردی کی مالی معاونت یا امداد تک پھیلا دیا گیا۔

اس ماحول میں وطن عزیز پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ میں درج کر کے اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کو ہوا دی جا رہی ہے جبکہ خصوصی طور پر یہ بات مدنظر رہنی چاہیے کہ اس تنظیم کے ارکان میں بھارت کی موجودگی ہمارے لیے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔ اس تنظیم کا پاکستان کے بارے میں موقف یہ ہے کہ اس کا موجودہ قانون منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معیار کا نہیں ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے ریزولیوشن کے مطابق ہے۔

اس پس منظر میں آئی ٹی سی وقف املاک ایکٹ ۲۰۲۰ء کو گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کرایا جا سکے۔ اس ایکٹ کو منظور کرانے میں قانون ساز ادارے نے نہایت ہی عجلت سے کام لیا ہے اور طے شدہ پارلیمانی طریقہ کار کو روبہ عمل نہیں لایا گیا۔ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کے اراکین نے طریقہ کار منظوری قانون پر تو اعتراض کیا ہے لیکن اس ایکٹ میں کوئی ترمیم یا تبدیلی تجویز نہیں کی جبکہ کئی اہم معزز اراکین اس اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔

قبل ازیں اوقاف (فیڈرل کنٹرول) ۱۹۷۶ء ایکٹ وطن عزیز پاکستان کے فیڈرل ایریاز پر نافذ تھا جسے موجودہ ایکٹ ۲۰۲۰ء کی رو سے منسوخ کیا گیا ہے۔ موجودہ ایکٹ میں کئی ترامیم کے ذریعے منی لانڈرنگ اور معاونت دہشت گردی کو فوجداری جرائم کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور اس کی دفعہ ۳ کے تحت مجاز اتھارٹی کے زمرہ میں FIA-ANF کے علاوہ NAB اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور FATF کو وقف املاک اسلام آباد کے مالیاتی شعبہ تک رسائی دی گئی ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ ۲۰۲۰ء کی دفعہ ۶ کے تحت FMU (فنانشل مانیٹرنگ یونٹ) کو اختیار دیا گیا ہے کہ ان املاک کے لین دین کی تمام معلومات کو غیر ملکی AML اور مالیاتی ایجنسیوں سے شیئر کر سکے گا اور تعاون بھی کرے گا۔

وقف کی رجسٹریشن ایک خاص ضابطہ کے تحت لازم کی گئی ہے۔ دفعہ ۸ کے تحت چیف ایڈمنسٹریٹر کو اختیار تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وقف کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو اپنے قبضہ میں لے لے۔ نیز تمام تعلیمی، دینی و رفاہی خدمات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے اجازت پیشگی حاصل کرنا لازم ہو گا۔ دفعہ ۱۶ کے تحت حاصل کردہ وقف جائیداد کے بارے میں سکیم بنائی جا سکے گی اور وقف املاک کو چیف ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے تحت وقف کے ذمہ داران، مینیجر، علماء اور خطباء پر لازم ہو گا کہ وہ سیاسی معاملات پر گفتگو نہ کریں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ چیف ایڈمنسٹریٹر کے فیصلوں اور فرائض دہی پر کوئی عدالت حکم امتناعی جاری نہیں کر سکتی۔ اسی طرح اس ایکٹ کی خلاف ورزی پر اڑھائی کروڑ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا بھی منظور کی گئی ہے۔

اس تلخیص کے بعد کئی سوالات ابھرتے ہیں:

  1. کیا کوئی بین الاقوامی دباؤ یا ادارہ وطن عزیز میں من چاہی قانون سازی کروا سکتا ہے؟
  2. کیا ہم آئین ۱۹۷۳ء سے ہٹ کر اسلامی تعلیمات کے برعکس قانون سازی کرنے کے مجاز ہیں؟
  3. کیا ہم بھارتی لابی کے الزامات کو لابنگ اور سفارتی ذرائع سے رد نہیں کر سکتے اور اس کے لیے ملک کے داخلی قوانین میں ردوبدل ضروری ہے؟
  4. کیا ہم وطن عزیز کے مفاد کے مطابق مؤثر طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی یا اس کی معاونت کو ختم نہیں کر سکتے؟
  5. کیا ملک عزیز میں تعلیمی، رفاہی اور دینی کاموں کو با آسانی سرانجام دینا ناممکن تو نہیں بنایا جا رہا؟
  6. کیا سرکاری کنٹرول میں دینی مقاصد کے حامل ادارے اپنا وجود اور کردار قائم رکھ سکیں گے؟
  7. کیا اسلامی نقطہ نظر سے ’’وقف‘‘ کا تصور اور شرعی احکام پر عمل ممکن رہ جائے گا؟
  8. کیا صاحب ثروت لوگ ’’وقف‘‘ قائم کر سکیں گے؟ یا رفاہی مقاصد کے لیے امداد دے سکیں گے؟

ظاہر ہے کہ ان سوالات کا جواب مثبت نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ عالمی تناظر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی یا اس کی معاونت کو روکنا قومی فریضہ ہے اور ہر قسم کے مالی معاملات کو انتہائی شفاف بنایا جانا چاہیے۔ البتہ یہ کام وطن عزیز کے مفاد کو سامنے رکھ کر اور اپنے ملی، مذہبی، تعلیمی اور معاشی تشخص و حیثیت کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے، اور کسی صورت میں بھی اپنے ملک کے داخلی معاملات کو خارجی قوتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ‘‘