سوات کی صورتحال پر لندن میں ایک فکری نشست

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ و ۶ مئی ۲۰۰۹ء

ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست ۲۴ اپریل ۲۰۰۹ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ، جناب کامران رعد اور راقم الحروف نے خطاب کیا اور لندن کے مختلف علاقوں سے علماء کرام اور ارباب دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ آج کی عالمی تہذیبی کشمکش میں علماء کرام کو اپنی ذمہ داری پورے ادراک اور شعور کے ساتھ پوری کرنی چاہیے۔ علماء کا فرض ہے کہ وہ اس تہذیبی اور ثقافتی کشمکش کا مطالعہ کریں اور خود کو دین اسلام کی صحیح ترجمانی اور خدمت کے لیے تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اسلامک فورم گزشتہ بیس برس سے اسی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ اس معاملے میں دینی حلقوں میں بیداری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

راقم الحروف نے پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد، خاص طور پر سوات کے حالات کے بارے میں شرکاء اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔ میں نے عرض کیا کہ سوات پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر واقع ایک ضلع ہے جو پاکستان کے ساتھ الحاق سے قبل ایک مستقل ریاست تھی اور ان سینکڑوں ریاستوں میں شمار ہوتی تھی جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں اندرونی خودمختاری کے ساتھ برطانوی حکومت کا حصہ تھیں لیکن ان کے اندرونی نظام و قوانین الگ الگ تھے۔ چنانچہ سوات میں بھی اسی کے مطابق اسلامی شرعی قوانین نافذ تھے اور وہاں قضا کا شرعی نظام قائم تھا۔ ۱۹۶۹ء میں پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق کے بعد اسے صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں ایک مستقل ضلع کے طور پر شامل کر لیا گیا اور وہاں پاکستان کا عدالتی نظام رائج کر کے شرعی عدالتوں کا نظام ختم کر دیا گیا۔ اس خطہ کے عوام چونکہ قضا کے شرعی نظام کے عادی تھے جس میں مقدمات و تنازعات کے فیصلے مقامی سطح پر کسی خرچے کے بغیر جلد ہو جایا کرتے تھے اس لیے انہیں نیا پیچیدہ عدالتی نظام راس نہ آیا اور انہوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ انہیں وہی پرانا عدالتی نظام واپس کر دیا جائے جس میں سستا اور فوری انصاف مل جایا کرتا تھا اور ان کے عقیدے و ثقافت کے مطابق ہونے کی وجہ سے انہیں فیصلوں پر اطمینان بھی ہوتا تھا۔

۱۹۹۳ء میں اس کے لیے تحریک نفاذ شریعت محمدی کے عنوان سے باقاعدہ عوامی تحریک مولانا صوفی محمد کی قیادت میں چلی اور ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج و مطالبہ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ۱۹۹۴ء میں نفاذ شریعت ریگولیشن کے نام سے ایک قانون نافذ کیا گیا جس کا مقصد سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں کا نظام بحال کرنا بتایا گیا۔ لیکن اس ریگولیشن میں اصطلاحات کی تبدیلی اور الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ دراصل وہی عدالتی نظام باقی رکھا گیا جس سے سوات کے عوام چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس سے عوام کے جذبات اور اشتعال میں اضافہ ہوا اور لوگ پھر تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نام پر سڑکوں پر آگئے۔ یہ تحریک جاری تھی کہ نائن الیون کا سانحہ پیش آیا اور پورے علاقے کی صورتحال بدل گئی۔ اس نئی صورتحال میں ملّا فضل اللہ کی سربراہی میں تحریک طالبان سامنے آئی جس نے سوات میں نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے ہتھیار اٹھا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا۔ ان کے اس طریق کار سے ملک بھر کے علماء کرام نے اختلاف کیا لیکن اصل مطالبہ کی حمایت جاری رکھی کہ سوات کے عوام کو ان کی خواہش اور مطالبے کے مطابق شرعی عدالتوں کا نظام مہیا کیا جائے۔

چنانچہ مولانا صوفی محمد نے، جو نائن الیون کے سانحہ کے بعد سے جیل میں تھے، آٹھ سال کے بعد رہا ہو کر اس بات کے لیے کوشش شروع کر دی کہ تحریک طالبان ہتھیار ڈال کر پر امن ذریعے سے نفاذ شریعت کی تحریک چلائیں اور حکومت ان کے مطالبے کو مان کر اس خطے میں شرعی عدالتیں قائم کرے۔ ان کی جدوجہد کا نتیجہ اس معاہدۂ امن کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کے تحت تحریک طالبان نے مسلح جدوجہد ختم کر دی اور حکومت نے نظام عدل کے عنوان سے ان کا مطالبہ پورا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا صوفی محمد اس معاہدے میں مدعی کے طور پر نہیں بلکہ حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان ایک ثالث کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف کے باوجود ہمارے نزدیک ان کا یہ کردار لائق صد تحسین ہے کہ انہوں نے مسلح جدوجہد کا رخ پر امن تحریک کی طرف موڑ دیا ہے اور حکومت کو اس علاقے میں شرعی عدالتیں قائم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ سوات میں امن قائم ہوا ہے اور خانہ جنگی کی فضا ختم ہو کر معمول کی زندگی بحال ہوئی ہے بلکہ موجودہ سنگین علاقائی صورتحال میں ملکی سالمیت و خودمختاری کو درپیش خطرات میں بھی کمی آئی ہے۔ بلاشبہ اس حوالہ سے مولانا صوفی محمد کا یہ کردار پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پاکستان کے ساتھ الحاق سے قبل صرف سوات میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی ریاست قلات، پنجاب کی ریاست بہاولپور اور سندھ کی ریاست خیرپور میں بھی شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا نظام رائج تھا۔ اس لیے ان علاقوں میں بھی یہ مطالبات اٹھ سکتے ہیں کہ انہیں پیچیدہ عدالتی نظام کی بجائے وہی سابقہ عدالتی نظام واپس کر دیا جائے جو شرعی قوانین کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق سے قبل وہاں موجود تھا اور جس کے تحت عام لوگوں کو ان کے عقیدے و ثقافت کے مطابق فوری اور سستا انصاف مل جاتا تھا۔ جہاں تک پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام کا تعلق ہے یہ بات اب تقریباً طے شدہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ ابھی گزشتہ سال وفاقی وزارت قانون نے تمام صوبوں کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں تجویز پیش کی ہے کہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے ’’نائٹ کورٹس‘‘ کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اس اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف پنجاب میں بارہ لاکھ دیوانی اور آٹھ لاکھ فوجداری کیس زیرسماعت ہیں لیکن پاکستان بار کونسل نے شام کی عدالتوں کی یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔ صحیح بات بھی یہی ہے کہ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ شام کی عدالتیں بنائی جائیں بلکہ مسئلہ کا صحیح حل یہ ہے کہ عوام کو مقامی سطح پر پنچایتی طرز کا عدالتی نظام فراہم کیا جائے جیسا کہ بھارت میں لوکل لیول پر پنچایتی نظام کام کر رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر عدالتی نظام قائم کیا جائے گا تو وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر شرعی نظام ہی ہو سکتا ہے اور وہی کامیاب بھی ہوگا۔ اس لیے مستقبل میں اس کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں کہ اگر حکومت اپنے ملک کے عوام کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے شرعی قوانین اور اسلامی عدالتی نظام کی طرف توجہ دے۔

پاکستان میں شرعی قوانین کا نفاذ صرف ہمارا مطالبہ نہیں بلکہ ملک کے دستور میں بھی اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ پاکستان کے تمام قوانین کو قران و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا حتیٰ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جسٹس جناب اے آر کار نیلیس نے، جو مسیحی تھے، پاکستان میں اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی سطح پر بھی یہ آواز اٹھائی تھی کہ پاکستان میں شرعی قوانین کا نفاذ ضروری ہوگیا ہے اور دنیا کے باقی ممالک کو بھی یہی کرنا ہوگا۔ اب بھی سنجیدہ مسیحی دانشور اس بات کی حمایت کر رہے ہیں جیسا کہ لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی ماہنامہ شاداب کے مارچ ۲۰۰۹ء کے شمارے میں برطانیہ کے شہر ڈنکاسٹر میں مقیم ممتاز مسیحی دانشور جناب ہریش مسیح کا تفصیلی مکتوب شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت کے مطالبے کے مطابق شرعی قوانین کو نافذ کیا جائے۔ چنانچہ پاکستان بھر میں شرعی عدالتی نظام کے قیام کی تحریک اب آگے بڑھے گی البتہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے اور اب بھی یہ پوری کوشش ہوگی کہ یہ تحریک پر امن ہو، دستور و قانون کے دائرے میں ہو اور سیاسی و جمہوری عمل کے ذریعے ہو۔

سوات میں شرعی عدالتوں کے نظام کی مخالفت میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک ملک میں دو قانون کیسے ہو سکتے ہیں؟ میں ان حضرات سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خود امریکہ کی ریاستوں میں ایک دوسرے سے مختلف قوانین نافذ ہیں۔ بعض ریاستوں میں قتل کی سزا ہے بعض میں نہیں ہے، بعض ریاستوں میں ہم جنس پرستی جرم ہے بعض میں نہیں ہے۔ ان دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں برصغیر کی سینکڑوں ریاستوں میں ایک دوسرے سے مختلف قانونی نظام نافذ تھے اور کامیابی کے ساتھ چل رہے تھے۔ آج کے زمینی حقائق میں یہ بات بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے کہ ہانگ کانگ برطانیہ سے الگ ہونے کے بعد چین کا حصہ ہے لیکن اس میں چین کا نظام نافذ نہیں ہے۔ وہاں ’’ون کنٹری ٹو سسٹمز‘‘ کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے اگر امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین ہو سکتے ہیں، چین کا حصہ ہونے کے باوجود ہانگ کانگ کا داخلی نظام الگ ہو سکتا ہے اور برطانوی نوآبادیاتی دور میں سینکڑوں ریاستوں میں مختلف قوانین اور عدالتی نظام ہو سکتے تھے تو اب سوات میں الگ عدالتی نظام پر اعتراض کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ اس لیے اول تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ پورے پاکستان میں شرعی عدالتی نظام رائج کیا جائے لیکن اگر خدانخواستہ سردست ایسا نہیں ہوتا تو سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں الگ عدالتی نظام کے نفاذ پر اعتراض کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔

میں اعتراض کرنے والوں کی توجہ زمینی حقائق کے ایک اور پہلو کی طرف بھی دلانا چاہتا ہوں کہ نجی سطح پر شرعی عدالتوں کا نظام امریکہ میں موجود ہے جہاں علماء کرام خاندانی اور مالیاتی معاملات میں مسلمانوں کے مقدمات و تنازعات کے فیصلے شریعتِ اسلامیہ کے مطابق کرتے ہیں اور امریکہ کا جوڈیشری سسٹم ان عدالتوں اور ان کے فیصلوں کو تسلیم کرتا ہے۔ اسی طرح جنوبی افریقہ اور بھارت میں بھی علماء کرام کی شرعی عدالتیں موجود ہیں اور فیصلے کر رہی ہیں جنہیں وہاں کے عدالتی نظام میں تحفظ حاصل ہے۔ جبکہ برطانیہ میں مسلمانوں کو خاندانی اور مالیاتی معاملات میں شرعی فیصلوں کا حق فراہم کرنے کا مطالبہ مسیحیوں کے بہت بڑے رہنما آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے کیا ہے جو ان کی حق پسندی کی علامت ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ مغرب کی سیکولر قوتوں اور اسلام کے خلاف تہذیبی جنگ لڑنے والی لابیوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں شریعت اسلامیہ کے قوانین کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا، اور اسلامی قوانین کے خلاف میڈیا اور لابنگ کے ذریعے نفرت کی ایک ایسی فضا قائم رکھی جائے گی کہ کہیں بھی مسلمان شرعی قوانین کے نفاذ کا نام نہ لیں۔ لیکن یہ اسلام کی حقانیت کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور میڈیا و لابنگ کی تمام قوتوں کی مخالفت اور کردار کشی کی مسلسل مہم کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کی طرف پیش رفت جاری ہے اور ان شاء اللہ العزیز جاری رہے گی۔ اس لیے علماء کرام اور دینی کارکنوں کو اس مخالفانہ مہم سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، وہ پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور پر امن طریقے سے آگے بڑھتے رہیں۔

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب پوری دنیا میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی مخالفت کر رہا ہے لیکن خود اپنے ہاں مالیات اور بینکنگ میں اسلامی قوانین کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ برطانیہ کے قوانین میں اسلامی بینکنگ سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسلسل ترامیم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ اور فرانس میں ایسے نصف درجن کے لگ بھگ اجتماعات میں شریک ہو چکے ہیں جن میں یہاں کے معاشی ماہرین اسلامی بینکنگ سے واقفیت حاصل کرنے اور اسلامی قوانین کو عالمی بینکنگ کے نظام کا حصہ بنانے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اس لیے کہ وہ مفادات حاصل کر سکیں اور اپنے ڈوبتے ہوئے بینکنگ کے نظام کو سہارا دے سکیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک زندہ نظام کے طور پر آج بھی اپنا وجود اور افادیت تسلیم کرا رہا ہے۔

ورلڈ اسلامک فورم کے میڈیا سیکشن کے انچارج جناب کامران رعد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ اسلامک فورم کے تحت ’’دی میسج‘‘ کے نام سے ایک میڈیا چینل شروع کرنے کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ اردو اور انگریزی زبان میں یہ ویڈیو چینل چند ماہ کے اندر اپنی نشریات کا آغاز کرنے والا ہے جس کا بنیادی موضوع اسلام کی دعوت ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ہمارے دوستوں نے ’’اقراء‘‘ کے نام سے ایک ٹی وی چینل شروع کر دیا ہے۔ ہمارا آپس میں مشاورت و تعاون کا نظام طے ہوگیا ہے، ہم بہت جلد تعلیمی میدان میں ’’اقراء‘‘ کے نام سے اور دعوت کے میدان میں ’’دی میسج‘‘ کے نام سے اپنی نشریات کا آغاز کرنے والے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اجلاس میں ورلڈ اسلامک فورم کے رہنماؤں مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری اور جناب محمد اعظم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ پاکستان کے ممتاز عالم دین مولانا قاری خبیب احمد عمر جہلمی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کی دینی و ملی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی۔

ورلڈ اسلامک فورم کی اس نشست سے ہٹ کر جمہوریت اور سپریم کورٹ کے بارے میں مولانا صوفی محمد کے بیان پر راقم الحروف نے ایک بیان جاری کیا جو لندن کے اردو اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے وہ بھی پیش خدمت ہے۔

’’پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ سوات میں عوام کے مطالبے پر شرعی عدالتوں کے قیام اور اس کے نتیجے میں امن کی بحالی خوش آئند بات ہے لیکن مولانا صوفی محمد کے تمام خیالات اور فتوؤں سے اتفاق ممکن نہیں ہے اس لیے کہ جن بنیادی امور پر پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام متفقہ طور پر فیصلے کر چکے ہیں مولانا صوفی محمد انہیں دوبارہ ری اوپن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز جمعیۃ علماء برطانیہ کے امیر مولانا شمس الحق مشتاق کی رہائش گاہ پر علماء کرام سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ یہ بات قراردادِ مقاصد، علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات کی صورت میں طے شدہ ہے کہ ملک میں حکومت ووٹ کی بنیاد پر بنے گی اور عوام کی نمائندہ ہوگی۔ البتہ حکومت قرآن و سنت کے احکام کی پابند ہوگی او رملک میں شرعی قوانین کا نفاذ اس کی ذمہ داری ہوگی۔ اس دستوری طریق کار کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر سابق چیئرمین اقبال احمد خان مرحوم کے دور میں جو جامع رپورٹ پیش کی تھی اسے اسلامی قانون سازی میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے اجتماعی موقف کی حیثیت حاصل ہے۔

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ علماء کرام کے ان مسلسل اجماعی فیصلوں سے انحراف فکری انتشار کا باعث ہوگا جو خود نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے شدید نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوات، مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں نفاذ شریعت کے اقدامات کی حمایت کی ہے بلکہ پورے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اس کی بنیاد کسی شخصی، طبقاتی یا فرقہ وارانہ سوچ پر نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے متفقہ فیصلوں پر ہے اور ان سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بارے میں مولانا صوفی محمد کے بیانات، وکلاء کو عدالتی نظام سے لاتعلق کرنے کے حوالے سے ان کا موقف، اور جمہوریت اور جمہوری اداروں کے بارے میں ان کے کفر کے فتوے دینی اور علمی حلقوں میں تشویش کا باعث ہیں، مولانا صوفی محمد کو ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات قانون سازی کی نہیں بلکہ اب تک ہونے والے کام پر عملدرآمد کی ہے، اس لیے مولانا صوفی محمد کو قانون سازی کے اصولی مسائل ازسرنو زیربحث لانے کی بجائے ان پر عملدرآمد کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کرنا چاہیے۔‘‘