شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
محرم الحرام اور شہداء کی یاد

نئے ہجری سال کے آغاز پر پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا، خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ (ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج یکم محرم الحرام ہے جو نئے ہجری سال کا پہلا دن ہے۔ ہجری سن کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ہوتا ہے یعنی آنحضرتؐ نے مکہ مکرمہ سے جس سال مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تھی وہاں سے ہجری سن شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ سن چودہ سو بیس کا مطلب یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہجرت کو چودہ سو انیس سال پورے ہو چکے ہیں اور بیسواں سال شروع ہے۔ ہجری نبویؐ سے اسلامی سن کے آغاز کا حکم سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے دیا تھا اور اس کے بعد سے ہماری اسلامی تاریخ اسی حساب سے چلی آرہی ہے۔

دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں۔ جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے۔ مروجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے اور ۱۹۹۹ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں اور ان کی عمر اب دو ہزار سال کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ دنیا میں اوقات اور ایام کے تعین کے لیے سورج اور چاند دونوں کی گردش کا حساب چلتا ہے۔ البتہ سورج کی گردش والا سال چاند کی گردش والے سال سے چند دن بڑا ہوتا ہے اور گرمی سردی کے موسم بھی اس کے ساتھ چلتے ہیں، اس لیے چاند کی گردش والا سال موسم کے حساب سے بدلتا رہتا ہے۔

اسلام میں سورج اور چاند دونوں کی گردش کا اعتبار ہے اور شرعی احکام اور عبادات میں دونوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ دنوں اور مہینوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ اوقات کا تعین سورج کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ پانچ وقت کی نماز کے اوقات سورج کی گردش کے ساتھ طے پاتے ہیں، فجر کی نماز طلوعِ شمس سے پہلے، ظہر کی نماز زوال کے بعد، عصر کی غروب سے پہلے، مغرب کی غروب کے بعد، اور عشاء کی نماز شفق کے خاتمہ پر پڑھی جاتی ہے اور ان سب اوقات کا تعین سورج کی گردش کے ساتھ ہے۔ البتہ رمضان المبارک، عیدین، ۱۰ محرم، حج کے ایام اور دیگر دنوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے۔ اب روزے میں دیکھ لیجئے، روزہ کے دنوں کا تعین چاند کے حساب سے کریں گے مگر روزے کے اوقات کا حساب سورج کے ساتھ ہوتا ہے۔ سحری کا وقت سورج طلوع ہونے سے تھوڑا عرصہ پہلے تک ہے اور افطاری کا وقت سورج غروب ہونے پر ہوتا ہے۔ اس طرح حج کے دنوں کا تعین تو قمری اعتبار سے ہوگا مگر حج کے ارکان و افعال کا وقت سورج کے حساب سے طے پائے گا کہ عرفات کب جانا ہے، مزدلفہ کب جانا ہے، رمی کب کرنی ہے، یہ سب معاملات سورج کی گردش کے ساتھ طے ہوتے ہیں۔

الغرض شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند دونوں کی گردش کا لحاظ رکھا گیا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ دِنوں کی تعیین چاند کے ساتھ جبکہ اوقات کی تعیین سورج کے ساتھ ہوگی چنانچہ ہماری تمام عبادات و احکام اس حساب سے چلتے ہیں۔ اس فرق میں کیا حکمت ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مثلاً رمضان کا تعین اگر سورج کی گردش کے حساب سے طے کیا جائے تو جو مہینہ بھی طے پائے گا وہ ایک ہی موسم میں ہمیشہ آئے گا اور مختلف موسموں کے روزوں کا لطف نصیب نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر اکتوبر کا مہینہ روزوں کے لیے مخصوص ہوتا تو وہ ہر سال اسی موسم میں آتا۔ جبکہ قمری حساب سے رمضان المبارک کے تعین سے یہ تنوع حاصل ہوتا ہے کہ مختلف موسموں کے روزے مل جاتے ہیں اور ایک مسلمان بالغ ہونے کے بعد پچاس برس کی عمر تک سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے، ٹھنڈے بھی، درمیانے بھی اور گرم بھی اور اس طرح تنوع قائم رہتا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن دنوں ہمارے ہاں جولائی اور اگست کے روزے تھے، قومی اخبارات میں ایک صاحب کی طرف سے تجویز چھپی کہ جون جولائی کے روزے بھٹی پر کام کرنے والے مزدور اور کھیتی میں محنت کرنے والے کاشتکار کے لیے بہت مشکل ہیں اس لیے علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ ’’اجتہاد‘‘ کر کے رمضان المبارک کو کسی مناسب موسم کے ساتھ مخصوص کر دیں۔ ان صاحب کی تجویز یہ تھی کہ فروری کے مہینہ کو رمضان المبارک قرار دے دیا جائے اور یکم مارچ کو عید الفطر کے لیے مقرر کر دیا جائے اس طرح نہ صرف روزے مناسب موسم میں مخصوص ہو جائیں گے بلکہ عید کا جھگڑا بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ میں نے اس زمانے میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس غریب کو اپنی تجویز کا تیسرا فائدہ یاد نہیں رہا کہ تیسویں روزے سے ہمیشہ کے لیے چھٹی مل جائے گی اور ۲۹ واں روزہ بھی چار سال کے بعد آئے گا۔

ہمارے ہاں اس بات کو لوگوں نے اجتہاد سمجھ رکھا ہے کہ دین کے جس مسئلہ پر عمل میں کچھ مشکل محسوس ہو اس میں اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق ردوبدل کر لیا جائے۔ حالانکہ یہ اجتہاد نہیں، خالص الحاد ہے۔ اور پہلی امتوں نے اسی طرح آسمانی مذاہب کا حلیہ بگاڑا تھا۔ جیسا کہ حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ نے تفسیرِ مظہری میں روایات نقل کی ہیں کہ بنی اسرائیل میں رمضان المبارک ہی کے روزے فرض تھے جو قمری سن کا مہینہ ہے اور موسم کے حساب سے مختلف موسموں میں گردش کرتا رہتا ہے۔ اس زمانے میں بھی جون اور جولائی کے روزے لوگوں کو گراں گزرے تھے اور انہوں نے اپنے علمائے کرام سے گزارش کی تھی کہ وہ انہیں شدید گرمی کے روزوں سے نجات دلائیں۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام ہماری طرح کے ’’ضدی اور ہٹ دھرم‘‘ نہیں تھے بلکہ ’’عوام دوست اور روشن خیال‘‘ تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے عوام کی بات مان لی اور رمضان المبارک کے روزوں کو سردی کے موسم میں مخصوص کر دیا۔ البتہ تھوڑی سی شرم و حیا موجود تھی اس لیے تیس روزوں کے اٹھائیس نہیں کیے بلکہ یہ طے کیا کہ تیس روزے تو پورے رکھیں گے اور یہ جو گڑبڑ ہم کر رہے ہیں اس کے کفارے کے طور پر دس روزے مزید بھی رکھا کریں گے۔ چنانچہ مذہبی عیسائیوں کو دیکھ لیں کہ وہ مارچ اپریل کے دوران چالیس روزے رکھتے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے بنی اسرائیل کی روایات کے حوالہ سے اس کا یہ پس منظر بیان کیا ہے۔

الغرض بات یہ عرض کر رہا تھا کہ اسلام میں حسابات و معاملات طے کرنے اور عبادات کی ادائیگی کے لیے سورج اور چاند دونوں کی گردش کا اعتبار کیا گیا ہے اور اس فرق کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ مہینوں اور دنوں کا تعین چاند کے حساب سے ہوگا جبکہ اوقات سورج کی گردش کے ساتھ طے پائیں گے اور اس میں حکمت بھی ہے کہ روزہ اور حج میں مختلف موسموں کا تنوع قائم رہتا ہے۔ یہاں دو مسئلے بھی عرض کر دینا مناسب سمجھتا ہوں:

  1. ایک یہ کہ چاند کی گردش میں چونکہ کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اس لیے چاند کے طلوع وغیرہ کا حساب رکھنا فرض کفایہ ہے اور ہر علاقہ کے کچھ لوگوں کو اس کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے، جس طرح ہمارے ہاں رؤیت ہلال کمیٹی ہے جس میں سرکردہ علمائے کرام اس کا حساب رکھتے ہیں اور چاند دیکھ کر اس کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی اہتمام بھی کسی علاقہ میں نہ ہو تو وہاں کے سب مسلمان گنہگار ہوں گے۔
  2. دوسرا مسئلہ زکوٰۃ کے حوالہ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں عام طور پر کاروبار وغیرہ کے حسابات جنوری فروری کے شمسی سال کے مطابق رکھے جاتے ہیں اور چونکہ سرکاری محکموں کے ساتھ سابقہ درپیش ہوتا ہے اس لیے حسابات میں شمسی سال کا لحاظ رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے ادا کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص شمسی سن یعنی جنوری فروری کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرے گا تو تیس پینتیس سال کے عرصہ میں اس کی ایک سال کی زکوٰۃ ماری جائے گی کیونکہ اتنے عرصہ میں قمری سال کی گنتی شمسی سالوں سے ایک سال بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے ادا کی جائے۔

حضراتِ محترم! یہ چند گزارشات ہجری سن کے آغاز کی مناسبت سے عرض کی ہیں۔ اس کے علاوہ محرم الحرام کے ساتھ کچھ تاریخی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنہوں نے ہجرت سے اسلامی سن کے آغاز کا حکم دیا تھا ان کی شہادت یکم محرم کو ہوئی۔ اور بخاری شریف کی روایت کے مطابق فرعون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات دس محرم کو حاصل ہوئی تھی جب فرعون اپنے لشکر سمیت بحیرہ قلزم میں غرق ہوگیا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ہمراہ سمندر عبور کر گئے تھے۔ اس مناسبت سے مدینہ منورہ کے یہودی دس محرم کو شکرانے کا روزہ رکھا کرتے تھے اور جناب نبی اکرمؐ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ البتہ آخری سال یعنی ۱۰ ہجری کو فرمایا کہ یہودیوں کے ساتھ اس روزے میں فرق رکھنا چاہیے اس لیے آئندہ سال دس محرم کے ساتھ ایک اور روزہ ملاؤں گا۔ چنانچہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے مگر تنہا اس دن کا روزہ رکھنے کی بجائے اس کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ملا لینا چاہیے۔

عاشورا کے بارے میں بعض تاریخی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ۱۰ محرم کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کنارے لگی تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوئی تھی، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے اپنے پیٹ سے اگل کر پانی سے باہر ڈال دیا تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی وغیر ذالک۔ اگر یہ روایات درست ہوں تو کوئی انکار نہیں ہے اور درست نہ ہوں تو کوئی اصرار بھی نہیں ہے مگر بنی اسرائیل والی روایت تو بخاری شریف میں ہے۔ اس کے علاوہ دس محرم کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ اور نواسے حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا جنہیں خاندان نبوت کے دیگر معصوم افراد سمیت اس روز کربلا کے میدان میں مظلومیت کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ امام حسینؓ سمیت خانوادۂ نبوت کے افراد کی یہ مظلومانہ شہادت ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے اور مختلف گروہ اس کی یاد اپنے اپنے انداز سے مناتے ہیں۔

ہمارے نزدیک دن منانے اور اس طرح کی دیگر رسموں کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے البتہ بزرگوں کو یاد کرنا، ان کی خدمات کا تذکرہ کرنا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا ان بزرگوں کا ہم پر حق ہے جو ہمیں ہر وقت ادا کرتے رہنا چاہیے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہوں یا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہوں، ان کی اصل یاد یہ ہے کہ ان کی قربانیوں اور خدمات کو یاد کیا جائے، ان کے مشن اور جدوجہد کا ادراک حاصل کیا جائے، ان کے نقش قدم پر چلنے کے عزم کو دہرایا جائے اور ان کے اسوہ و سیرت پر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: