حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ جون ۲۰۰۷ء

جمعرات ۲۸ جون کے اخبارات میں یہ خبر نظروں سے گزری کہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد زمان اچکزئی کا کراچی میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب ہمارے پرانے جماعتی رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی معیت میں کام کیا اور دینی سیاست کے محاذ پر اہم خدمات سرانجام دیں۔ میرا ان سے تعارف سب سے پہلے حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کے ذریعے ہوا جو میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے، ۱۹۷۰ء میں ہم دونوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورٔ حدیث کیا تھا۔ مولانا سید شمس الدین کا تعلق ژوب بلوچستان سے تھا اور ان کے والد محترم مولانا سید محمد زاہدؒ ژوب کے بزرگ علماء میں سے تھے۔ سید شمس الدین شہیدؒ کے ساتھ میری تعلیمی رفاقت صرف ایک سال رہی جو زندگی بھر کی رفاقت کا ذریعہ بن گئی۔ ان کا جماعتی ذوق زمانۂ طالب علمی سے ہی مضبوط تھا، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ سے تلمذ کا شرف حاصل تھا اور ان کے بہت زیادہ عقیدت مند تھے۔ دورۂ حدیث سے جس سال فارغ ہوئے اسی سال عام انتخابات ہونے والے تھے، جاتے ہی علاقہ کے بڑے سردار تیمور شاہ جوگیزئی کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرا دیے اور بائیسکلوں پر انتخابی مہم چلا کر جمعیۃ علماء اسلام کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے، اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر چنے گئے اور جماعتی انتخابات میں انہیں جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کا امیر چن لیا گیا۔ ان کے ساتھ حاجی محمد زمان خان اچکزئی جمعیۃ کے صوبائی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور مولانا سید شمس الدینؒ کی شہادت تک وہ ان کے ساتھ اسی منصب پر جماعتی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

بلوچستان میں جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے اور اسے ایک عوامی جماعت بنانے میں حاجی محمد زمان خان اچکزئی کا متحرک کردار رہا۔ وہ اچکزئی قبیلہ کے بڑے لوگوں میں سے تھے اور قبائلی رقابتوں کا بھی مسلسل شکار تھے۔ وہ دبنگ اور صاف گو آدمی تھے، جماعتی اجلاسوں میں ان کے ساتھ میری نوک جھونک ہوتی رہی لیکن صاف دل آدمی تھے اور بڑی محبت اور احترام کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ۱۹۷۷ء کے انتخابات کے بعد پاکستان قومی اتحاد نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کا مارشل لاء آگیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے نفاذ کےبعد اپنی پہلی نشری تقریر میں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے عزم کا اظہار کیا تو پاکستان قومی اتحاد نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کی کابینہ میں پاکستان قومی اتحاد کے نمائندے باقاعدہ طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر اس امر کا ذکر شاید نامناسب نہ ہو کہ جنرل ضیاء کی حکومت میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا تو میری رائے حکومت میں شامل ہونے کے خلاف تھی جس پر حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف مدظلہ آف کلاچی کے ساتھ شوریٰ کے اجلاس میں میرا طویل مباحثہ ہوا اور جب شوریٰ نے حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا تو میں نے باقاعدہ اختلافی نوٹ لکھا جو اب بھی کارروائی کے ریکارڈ میں موجود ہوگا۔

بہرحال اس فیصلے کے نتیجے میں جب جمعیۃ علماء اسلام پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ جنرل محمد ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہوئی تو جمعیۃ کی طرف سے تین نمائندے دیے گئے جن میں حاجی محمد زمان خان اچکزئی بھی تھے۔ ان کے ساتھ سکھر سے میر صبح صادق کھوسو اور بٹگرام ہزارہ سے حاجی فقیر محمد خان وفاقی کابینہ کے وزیر بنے۔ میر صبح صادق کھوسو وزیر صحت تھے، حاجی فقیر محمد خان امور کشمیر کے وزیر تھے اور حاجی محمد زمان خان اچکزئی کو بلدیات کی وزارت دی گئی۔ حاجی محمد زمان خان اچکزئی باقاعدہ ایک عوامی وزیر ثابت ہوئے، وہ جہاں جاتے عوام میں گھل مل جاتے، جماعتی کارکنوں کے ہجوم میں رہتے اور جماعتی کاموں کو ترجیح دیتے۔

وفاقی کابینہ میں پاکستان قومی اتحاد کی شمولیت دو طرفہ سیاسی ضروریات کے لیے تھی اور وزیروں کے پاس اسی قدر اختیارات ہوتے تھے جن سے اصل حکمرانوں کی ترجیحات متاثر نہ ہوں۔ اب چونکہ خاصا وقت گزر گیا ہے اس لیے اس انکشاف میں شاید کچھ زیادہ حرج کی بات نہیں ہے جس سے پاکستان قومی اتحاد کے وزراء کے اختیارات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک روز میں وفاقی وزیر امور کشمیر حاجی فقیر محمد خان کے ہاں اسلام آباد میں ان کی سرکاری قیام گاہ میں رات کے لیے ٹھہرا۔ صبح کو ان کے ساتھ ناشتے کی میز پر تھا کہ سات بجے کی خبروں میں ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی کہ آزاد کشمیر کی حکومت کو برطرف کر کے بریگیڈیئر محمد حیات خان کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ میں نے حیرت سے حاجی صاحب کی طرف دیکھا کہ رات ہم اکٹھے تھے، آپ نے اس اہم خبر کا مجھ سے تذکرہ نہیں کیا۔ حاجی صاحب نے کہا کہ بخدا میں نے بھی یہ خبر ابھی ریڈیو سے ہی سنی ہے۔

فوجی حکمرانوں کے دور میں سیاسی وزراء کا ہمیشہ یہی حال ہوتا ہے لیکن اس فضا میں بھی حاجی محمد زمان اچکزئی مرحوم ہمارے تینوں وزیروں میں تگڑے وزیر ثابت ہوئے اور وہ کچھ نہ کچھ دھکا کر لیتے تھے۔ وہ ہمیشہ سرگرم عمل رہتے اور مجھ سے مسلسل شاکی رہتے۔ میں ان دنوں جمعیۃ علماء اسلام کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھا۔ ایک روز جمعیۃ کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں مجھ پر برس پڑے کہ میں اتنا کام کرتا ہوں مگر آپ میری سرگرمیوں کی اخبارات میں اشاعت کا اہتمام نہیں کرتے۔ میں نے عرض کیا کہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا سیکرٹری اطلاعات ہوں وزارت بلدیات کا نہیں، آپ کو حکومت نے محکمانہ طور پر پی آر اور پریس سیکرٹری مہیا کر رکھے ہیں آپ کی سرگرمیوں کی اشاعت ان کی ذمہ داری ہے میری نہیں۔ ہماری اس طرح کی نوک جھونک سے مولانا مفتی محمودؒ بہت محظوظ ہوتے بلکہ بسا اوقات حاجی صاحب کا جلال دیکھنے کے لیے خود کوئی بات چھیڑ دیتے اور پھر میری طرف دیکھ کر مسکراتے رہتے۔

حاجی صاحب مرحوم دلچسپ آدمی تھے۔ ایک بار ایک نالے کی کھدائی کے افتتاح کے لیے انہیں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، انہوں نے افتتاح کے لیے کدال پکڑ کر کھدائی کا آغاز کیا تو ان کے ساتھ کچھ اعلیٰ افسروں نے بھی کدالیں پکڑ لیں۔ ایسے مواقع پر عموماً ایسا ہوتا ہے کہ مہمانِ خصوصی اور اس کے ساتھ دو چار افسران رسمی طور پر دو چار ضربیں لگاتے ہیں، فوٹو کھنچواتے ہیں اور کام مکمل ہو جاتا ہے۔ مگر حاجی محمد زمان خان اچکزئی خود زمیندار آدمی تھے انہوں نے جو کدال چلانا شروع کی تو چلاتے ہی چلے گئے، ساتھ کے دوسرے افسران کو بھی ساتھ دینا پڑ گیا کہ وزیر صاحب ہاتھ سے کدال چھوڑیں تو انہیں بھی کدال ہاتھ سے رکھنے کا موقع ملے۔ مگر وزیر صاحب نے پندرہ بیس منٹ کی مسلسل کھدائی سے ان افسران کو پسینے میں شرابور کر دیا۔ بعد میں ایک موقع پر مجھ سے خود کہنے لگے کہ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تاکہ ان افسران کو پتہ چلے کہ جب ایک عام مزدور کام کرتا ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام دو حصوں درخواستی گروپ اور فضل الرحمان گروپ میں تقسیم ہوئی تو ہمارے جماعتی کیمپ الگ الگ ہوگئے۔ وہ فضل الرحمان گروپ کے ذمہ دار حضرات میں سے تھے اور میرا شمار درخواستی گروپ کے متحرک عہدہ داروں میں ہوتا تھا۔ مگر باہمی گروپ بندی اور جماعتی اختلافات کے باوجود ہمارے تعلقات کی گرم جوشی میں کوئی فرق نہ آیا۔ جب ملتے اسی طرح نوک جھونک اور شکوؤں کا تبادلہ ہوتا، جملے کسے جاتے اور دل لگی کا مظاہرہ ہوتا۔ وہ پشین کے علاقہ گلستان کے رہنے والے تھے لیکن قبائلی کشمکش کے باعث کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ چند سال قبل کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی، خاصے کمزور ہوگئے تھے اور حالات کی نامساعدت سے دل گرفتہ تھے۔ اس سال میں سوچ رہا تھا کہ مدرسہ کے سالانہ امتحان کے بعد ایک دو روز کے لیے کراچی جاؤں گا تو ان سے ملاقات کی کوئی صورت نکالوں گا مگر آج ان کے انتقال کی خبر اخبارات میں نظر آگئی، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا الہ العالمین۔