مسجد حرام میں شیخ عبد الرحمان السدیس کا فکر انگیز خطبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

۱۷ ستمبر ۲۰۰۴ء کو جمعۃ المبارک کی نماز مسجد حرام میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، جدہ میں مقیم میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد بھی ہمراہ تھے۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ مسجد میں داخل ہوئے تو نمازیوں کے ہجوم کے باعث مسجد اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ دامنی کی شکایت کر رہی تھی۔ ہر طرف سے لوگ امڈے چلے آرہے تھے حالانکہ نہ حج کا موقع تھا اور نہ ہی رمضان المبارک کا۔ یعنی معروف معنوں میں سیزن نہیں تھا مگر اس کے باوجود نمازیوں کا ہجوم دیدنی تھا۔ یہ منظر دیکھ کر میرا ذہن قرآن کریم کی ان آیات کی طرف متوجہ ہوگیا جن میں یہ تذکرہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ ان بے آب و گیاہ بے آباد اور خشک پہاڑیوں میں آپ لوگوں کو حج کے لیے پکاریں، آپ کی پکار پر ہر طرف سے انسان بیت اللہ کی زیارت و طواف کے لیے آئیں گے۔ تب سے دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ آرہے ہیں اور آتے چلے جائیں گے حتیٰ کہ جب اس گھر میں لوگوں کی آمد و رفت رک جائے گی تو پھر قیامت قائم ہوگی۔

جمعۃ المبارک کا خطبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمان السدیس نے ارشاد فرمایا۔ بڑا فکر انگیز خطبہ تھا اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی حالت اور اسے درپیش مسائل کا اس میں نہ صرف تذکرہ تھا بلکہ ان مسائل کے حوالے سے امت کی راہنمائی کا بھی اس میں سامان موجود تھا۔ انہوں نے فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کے میدان میں امت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا اور کہا کہ مغربی فکر و ثقافت نے جس انداز میں مسلم معاشرہ میں دراندازی شروع کر رکھی ہے علماء کرام اور اساتذہ کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور امت کے عقیدہ و ثقافت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں جو ادارے اور جماعتیں دینی بیداری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ مسلم دنیا میں قرآن و سنت کی بنیاد پر باہمی احتساب کا نظام قائم ہو اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضہ کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

شیخ سدیس نے کہا کہ فکر و عقیدہ ہی کسی قوم کی اصل اساس ہوتی ہے اور ہماری اسی اساس پر آج دشمن حملہ آور ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اسلامی عقیدہ و ثقافت کے خلاف منفی اور معاندانہ مہم میں مصروف ہیں اور مسلم امہ کو اس کے عقیدہ و ثقافت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ عقیدہ و ثقافت کی جنگ ہے جس کے لیے مسلم ذرائع ابلاغ، علماء کرام اور اساتذہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو مرد اور عورتیں استاد کے منصب پر فائز ہیں نئی نسل کی فکری تربیت اور ذہن سازی ان کی ذمہ داری ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ نئی نسل کو اسلامی فکر و عقیدہ سے آگاہ کریں اور اسلامی اخلاق و اقدار سے روشناس کرائیں کیونکہ اسی صورت میں ہم فکری اور ثقافتی جنگ میں اپنا دفاع اور تحفظ کر سکتے ہیں۔

امام محترم نے مسلم معاشرہ میں پائی جانے والی مبینہ انتہا پسندی کا بھی ذکر کیا اور اسے ہدف تنقید بناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ موجودہ صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کا صحیح راستہ یہ نہیں ہے کہ مسلم نوجوان اپنے حکمرانوں کی تکفیر شروع کر دیں یا اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنے لگ جائیں بلکہ اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ معاشرہ میں دینی بیداری پیدا کریں، فکری شعور اجاگر کریں اور حکمت عملی کے ساتھ دین کی دعوت دیں۔

امام صاحب یہ فرما رہے تھے اور میرا ذہن یہ سوچ رہا تھا کہ ڈاکٹر سدیس محترم کا ارشاد بجا ہے اور اس وقت مسلم معاشرہ میں کام کرنے کی صحیح شکل یہی ہے مگر اے کاش! امام حرم ان اسباب کی طرف بھی ہلکا پھلکا سا اشارہ کر دیتے جو مسلم نوجوانوں کو اس رویہ اور طرزعمل کی طرف دھکیل رہے ہیں جسے انتہا پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ ہوا اپنی فطری رفتار سے چل رہی ہو تو اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے اس کی رفتار کم نہیں ہوا کرتی بلکہ تیز ہو جایا کرتی ہے۔ ہوا کی راہ میں جتنی رکاوٹیں بڑھتی جائیں گی اس کی تیزی اور تندی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور بہتے پانی کی کیفیت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم امہ جس یلغار کی زد میں ہے اور سیاست و معیشت، عسکریت، وسائل و اسباب، صنعت و حرفت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پسپائی او ربے بسی کے بعد اب اس کے فکر و عقیدہ اور ثقافت کے آخری مورچہ اور آخری دفاعی لائن پر جو فیصلہ کن حملہ ہو چکا ہے اس کا مقابلہ کرنے اور اس جنگ میں اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرنے میں دینی تحریکات اور پرجوش مسلم نوجوانوں کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور یہ رکاوٹیں دشمن کی طرف سے کم اور مسلم حکمرانوں کی طرف سے زیادہ ہیں۔ مسلم ممالک کی اکثر و بیشتر حکومتوں کی پالیسیوں کا وزن اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرنے والوں کے پلڑے میں نہیں ہے بلکہ بہت سی مسلم حکومتوں کے وسائل اور صلاحیتیں حملہ آوروں کے حق میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال میں اگر کچھ باغیرت نوجوان یا حلقے ردعمل میں اعتدال کی بعض حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو ان کے طرزعمل سے اختلاف کے باوجود ہمارے نزدیک اس کی ساری ذمہ داری صرف ان پر عائد نہیں ہوتی۔

خیر بات امام محترم کے خطبہ کی ہو رہی تھی کہ انہوں نے موجودہ عالمی فکری و تہذیبی کشمکش کا اپنے خطبہ میں ذکر کیا اور مسلمانوں کو اس سلسلہ میں ان کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی۔ سچی بات یہ ہے کہ مسجد حرام میں حرمین شریفین کے ایک محترم و مکرم امام سے خطبہ جمعۃ المبارک میں امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر گفتگو سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اس خوشگوار تبدیلی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ورنہ حرمین شریفین حاضری کے موقع پر حرمین کے محترم و معزز ائمہ سے امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر گفتگو سننے کی حسرت ہی دل میں رہ جاتی تھی۔

نماز جمعۃ المبارک کی ادائیگی کے بعد ہم باب العمرہ کے باہر پہنچے کہ حضرت مولانا محمد مکی حجازی مدظلہ کے ساتھ ملاقات تھی اور وہ ہمارے انتظار میں تھے۔ مولانا ہمیں اپنے ہمراہ گھر لے گئے جہاں مولانا سعید احمد عنایت اللہ بھی تشریف لے آئے، کھانا اکٹھے کھایا اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی، پاکستان کے حالات اور برطانیہ میں تحفظ ختم نبوت کے کام کے سلسلہ میں متعدد امور پر تبادلۂ خیالات ہوا، وہاں سے فارغ ہو کر جدہ واپسی ہوئی۔

جدہ میں ایک بزرگ محدث حضرت الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبی دامت برکاتہم مقیم ہیں جن کی عمر اس وقت ایک سو پندرہ برس بتائی جاتی ہے اور انہیں اب سے پون صدی قبل کے کبار محدثین سے تلمذ اور روایت حدیث کا شرف حاصل ہے۔ میں نے جدہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے قاری محمد رفیق صاحب سے عرض کیا تھا کہ ان سے رابطہ قائم کر کے ملاقات کا وقت لے لیں۔ قاری صاحب محترم نے اس کا اہتمام کر رکھا تھا چنانچہ مغرب کے بعد ان کی خدمت میں حاضری دی۔ انہوں نے بے حد شفقت فرمائی، ایک حدیث سنا کر اور چند نصائح فرما کر شرف تلمذ سے نوازا اور اپنی تمام اسناد کے ساتھ روایتِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر اس بات کا تذکرہ شاید نامناسب نہ ہو کہ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ اپنے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم، عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی دامت برکاتہم، حضرت مولانا جمال احمد مظاہری دامت برکاتہم اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے علاوہ مسند العصر حضرت الاستاذ الشیخ محمد یاسین الفادانی المکی الشافعیؒ اور الاستاذ المحقق المحدث عبد الفتاح ابوغدہؒ سے باقاعدہ ملاقات و زیارت کے ساتھ تلمذ و اجازت کا شرف حاصل ہے۔ اور اب اس کے ساتھ الاستاذ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبی دامت فیوضہم سے تلمذ و اجازت کی سعادت بھی حاصل ہوگئی ہے فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

عشاء کے بعد صاحبزادہ مولانا قاری عبد الباسط صاحب کے ہفتہ وار درسِ قرآن کریم کے حلقہ میں حاضری ہوئی، فہمِ قرآنِ کریم کا ذوق اور ماحول دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اور قاری صاحب موصوف کی مسلسل محنت پر ان کے لیے دل سے بے ساختہ دعائیں نکلیں۔ ان کے ارشاد پر فہمِ قرآنِ کریم کی اہمیت اور تقاضوں پر کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ آج ہفتہ کو بعد نماز عشاء قاری محمد رفیق صاحب محترم نے علماء کرام کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کر رکھا ہے۔ کل اتوار کو لندن روانہ ہو جاؤں گا جہاں سے دس رمضان المبارک تک گوجرانوالہ واپسی ہوگی اور ہو سکتا ہے اس دوران ہفتہ دس دن کے لیے امریکہ کے صدارتی الیکشن کی انتخابی مہم کا نظارہ کرنے بھی چلا جاؤں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

درجہ بندی: