تحریکِ آزادی اور علماء حق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اپریل ۱۹۸۲ء

پاکستان بنانے میں علماء کا کردار

علماء کرام نے بنیادی طور پر پاکستان بنانے کے لیے مندرجہ ذیل شعبوں میں کام کیا:

  • برصغیر کے مسلمانوں میں دینی افکار و نظریات اور اقدار و روایات کو اصلی صورت میں زندہ رکھا اور یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دینی اقدار و روایات ہی تحریکِ پاکستان کی کامیابی اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی والہانہ عقیدت کا باعث بنیں۔
  • انگریزی حکومت کے خلاف جدوجہدِ آزادی کی قیادت، فرنگی راج کے خلاف شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فتویٰ جہاد، بالاکوٹ میں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی شہادت، ۱۸۵۷ء کا معرکۂ حریت، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی تحریک ریشمی رومال، تحریکِ خلافت، تحریکِ ترکِ موالات، تحریکِ ہجرتِ افغانستان، فرنگی فوج میں بھرتی ہونے کی حرمت کا فتویٰ، اور آزادیٔ کامل کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا نمایاں کردار اس کی مختلف کڑیاں ہیں۔
  • تحریکِ پاکستان کو حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمدؒ عثمانی، حضرت مولانا ظفر احمدؒ عثمانی اور دیگر سربرآوردہ علماء کرام کی تائید و حمایت حاصل رہی۔ حکیم الامت تھانویؒ کی حمایت اور سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم میں حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی اور حضرت مولانا ظفر احمدؒ عثمانی کی خدمات کا اعتراف خود بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اس وقت کے قومی پریس میں واضح طور پر کیا۔ اور ان کی خدمات کے عملی اعتراف کے طور پر پاکستان کا جھنڈا کراچی میں علامہ شبیر احمدؒ عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمدؒ عثمانی کے ہاتھوں سب سے پہلے لہرایا گیا۔

جمعیۃ علماء کا قیام باضابطہ طور پر ۲۸ دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں معرضِ عمل میں آیا۔ اس کا قیام دراصل تحریک ولی اللہی کو اس وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق ازسرنو منظم کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ اس جگہ تحریک ولی اللہی کے مختلف ادوار کا ذکر ضروری ہے تاکہ جمعیۃ علماء ہند کے قیام کا بنیادی مقصد سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔

سب سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے برصغیر میں مغلوں کا زوال اور مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ کو ہندوستان پر حملہ کرنے اور مرہٹوں کا زور توڑنے کی دعوت دی۔ چنانچہ انہوں نے ہندوستان کے اہلِ حق کی معاونت سے پانی پت کے تاریخی میدان میں مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دے کر ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے ساتھ ہی امام ولی اللہؒ نے آنے والے خطرات کو بھانپ کر اسلام کے اقتصادی، سیاسی اور معاشی نظریاتی کی وضاحت کی اور انقلابِ فرانس سے پچاس سال قبل اور کارل مارکس کی پیدائش سے سو سال قبل انسان کے جمہوری و اقتصادی حقوق قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما کر ایک فکری و عملی جماعت کی بنیاد رکھ دی، جس جماعت نے برصغیر میں ان مقاصد کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں:

  1. جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے برصغیر کو اپنے تسلط میں لے کر فرنگی قوانین کے اجراء کا اعلان کیا تو حضرت شاہ ولی اللہؒ کے جانشین اور تحریک ولی اللہی کے سربراہ شاہ عبد العزیزؒ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر فرنگی کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور اس کے لیے باقاعدہ جماعت کو عملی طور پر تیار کیا۔
  2. حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے سید احمد شہیدؒ کے ساتھ مل کر جہاد کا آغاز تحریک ولی اللہی کے سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق پشاور کے علاقہ سے کیا۔ تحریک ولی اللہی کی فوج راجھستان، سندھ اور بلوچستان سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچی اور اس علاقہ کو اپنی تحویل میں لے کر تحریک ولی اللہی کے پروگرام کے مطابق اس صوبہ میں، جس کی سرحدیں آزاد کشمیر کے پہاڑوں سے خوشاب کی پہاڑیوں تک وسیع تھیں، قرآن و سنت کا نظام نافذ کیا۔ سید احمد شہیدؒ نے امیر المومنین کی حیثیت سے چھ ماہ اس خطہ پر حکومت کی لیکن پنجاب کی سکھ حکومت نے اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے انگریز کی مدد سے سازشوں کے جال بچھا دیے چنانچہ شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سید احمد شہیدؒ ۶ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ میں شیرسنگھ کی فوج اور اس کی پشت پر فرنگی ڈپلومیسی کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرما گئے۔
  3. اس کے بعد ولی اللہی تحریک نے جدوجہد کو نئے سرے سے منظم کیا جس کے نتیجے میں ۱۸۵۷ء کا عظیم الشان معرکۂ حریت برپا ہوا۔ اس معرکۂ حریت میں دہلی کے محاذ کے سپہ سالار جنرل بخت خان روہیلاؒ نے سید احمد شہیدؒ کے خلیفہ مولوی سرفراز علیؒ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی تھی۔ اور شاملی کے محاذ پر حضرت شاہ ولی اللہؒ کے خاندان کے علمی و روحانی فرزند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حافظ ضامن شہیدؒ اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے جہاد کی کمان سنبھالی تھی۔ مگر اپنوں کی غداری کی وجہ سے یہ منصوبہ کامیابی کی آخری حد تک پہنچتے پہنچتے ناکام ہوگیا۔
  4. ۱۸۵۷ء کے جہاد کی وقتی ناکامی، ہزاروں علماء کی شہادت، فرنگی کی طرف سے ہزاروں دینی مدارس کے خاتمہ اور ہندوستان کے سادہ لوح مسلمانوں پر یورپی عیسائی پادریوں کی یکطرفہ فکری یلغار کے بعد تحریک ولی اللہی نے دینی علوم کو زندہ رکھنے کے لیے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور امدادِ باہمی کی بنیاد پر اس عظیم تعلیمی تحریک کا آغاز کیا، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اس کے بانی ہیں۔ جبکہ عیسائی پادریوں کی فکری یلغار کو مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ، مولانا شرف الحق دہلویؒ اور ان کے رفقاء نے روکا اور اس طرح فرنگی کے فکری و علمی حملہ کو ناکام بنا دیا۔
  5. دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے والے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے اپنے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور دیگر تلامذہ کے ساتھ جمعیۃ الانصار قائم کی جس کا بنیادی مقصد علماء کو انگریز کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کرنا تھا۔ خود حضرت شیخ الہندؒ نے ترکی، افغانستان اور حجاز کی حکومتوں کی مدد سے آزادیٔ وطن کی تحریک کا خاکہ تیار کیا جس کے تحت ترکی کی فوج نے افغانستان کے راستہ سے ہندوستان پر حملہ کرنا تھا اور تحریک ولی اللہی نے ملک کے اندر علمِ جہاد و حریت بلند کر کے فرنگی اقتدار کا تختہ الٹنا تھا۔ لیکن تحریک کی دستاویزات قبل از وقت انگریز کے ہاتھ لگ گئیں جس کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا ورنہ خود انگریز کے بقول فرنگی کو سمندر بھی پناہ نہ دیتا۔ چنانچہ شیخ الہندؒ کو ان کے رفقاء مولانا سید احمدؒ مدنی اور مولانا عزیر گل مدظلہ اور دیگر احباب سمیت جزیرہ مالٹا میں نظر بند کر دیا گیا۔
  6. اس منصوبہ میں شرکت کے جرم میں افغانستان کو بھی فرنگی کے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ افغانستان کو فرنگی تسلط سے بچانے اور تحریک آزادی کے لیے پناہ گزین کیمپ کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے تحریک ولی اللہی کے رہنما مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے کابل میں بیٹھ کر فرنگی کے خلاف افغانستان کی مسلح جنگ کی رہنمائی کی جس کے نتیجے میں افغانستان پر جنگی اقتدار قائم نہ ہو سکا۔ غالباً دنیا کا واحد ملک افغانستان ہے جو فرنگی تسلط سے محفوظ رہا، اس کی مفصل رپورٹ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے رفیق ظفر حسین ایبک نے اپنی آپ بیتی مطبوعہ قومی کتب خانہ لاہور میں درج کی ہے۔

ان مراحل سے گزر جانے کے بعد جب آئینی جدوجہد کا مرحلہ پیش آیا تو جمعیۃ علماء ہند کی بنیاد رکھی گئی۔

جمعیۃ کا پہلا اجلاس اور دستور و منشور

جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس ۲۸ دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی میزبانی میں مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ کی زیرصدارت منعقد ہوا، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کو جمعیۃ کا صدر اور مولانا احمد سعید دہلویؒ کو ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس اجلاس کی آخری نشست کی صدارت مولانا مفتی کفایت اللہؒ نے کی۔ ’’مسلمانوں کا روشن مستقبل‘‘ کے مصنف جناب مولانا طفیل احمد علیگ مرحوم نے جمعیۃ کی روداد کے حوالہ سے جمعیۃ کے قیام کے مقاصد پر مندرجہ ذیل روشنی ڈالی:

’’۲۲ نومبر ۱۹۱۹ء کو جب دہلی میں خلافت کانفرنس کا پہلا اجلاس اس غرض سے منعقد کیا گیا کہ اتحادیوں سے عموماً اور حکومت برطانیہ سے خصوصاً ان وعدوں کے ایفا کا مطالبہ کیا جائے جو مسلمانوں سے جنگ عمومی کے وقت کیے گئے تھے تو خلافت کے اس جلسہ میں علماء نے اس امر کی ضرورت محسوس کی کہ ان علماء کرام کو ایک رابطہ میں منسلک کیا جائے جن کی اجتماعی قوت کو ۱۸۵۷ء کے انقلاب میں بالکل منتشر کر دیا گیا تھا۔‘‘

ہندوستان کی سیاست محض چاپلوسی اور خوشامد اور اظہارِ وفاداری تک محدود ہو چکی تھی۔ گویا کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا سیاستدان وہ سمجھا جاتا تھا جو حکومتِ متسلطہ کا سب سے بڑا وفادار ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ علماء مذہب جو طبعاً خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر ہیں اور جو بڑے بڑے جابر بادشاہوں کے مقابلہ میں اعلاء کلمۃ الحق کے حاوی رہے ہیں اس سیاست سے علیحدہ ہو کر گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ لہٰذا ۱۸۵۷ء میں علماء حق کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک کیا گیا اور جس بے دردی کے ساتھ بے شمار علماء ہند کو پھانسی اور جلاوطنی کی وحشیانہ سزائیں دی گئی تھیں اس کا مقتضٰی قدرتاً یہ تھا کہ علماء کو مجبورًا گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرنی پڑی۔ چونکہ مسلمانوں کی سیاست نے ۱۹۱۹ء میں پھر پلٹا کھایا اور خوشامد و تملق کی پالیسی تبدیل ہوئی تو علماء امت نے دوبارہ سیاسی میدانِ عمل میں قدم رکھا اور جمعیۃ علماء ہند کا قیام کیا گیا۔

جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا اجلاس

جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا اجلاس ۱۹، ۲۰، ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو دہلی میں زیرصدارت حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ منعقد ہوا جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ بھی شریک ہوئے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے تاریخی خطبہ میں، جو آپ کا آخری خطبہ تھا، اسلامیانِ ہند کو آئندہ لائحہ عمل کے لیے واضح ہدایات دیں۔ اہم ترین ارشادات درج ذیل ہیں:

  1. تحفظِ ملت اور تحفظِ خلافت کے خالص اسلامی مطالبہ میں اگر برادرانِ وطن ہمدردی اور اعانت کریں تو جائز ہے اور وہ مستحقِ شکریہ ہیں۔
  2. اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن انگریز ہے جس سے ترکِ موالات فرض ہے۔
  3. استخلاصِ وطن کے لیے برادرانِ وطن سے اشتراکِ عمل جائز ہے مگر اس طرح کہ مذہبی حقوق میں رخنہ واقع نہ ہو۔
  4. اگر موجودہ زمانہ میں توپ، بندوق، ہوائی جہاز کا استعمال مدافعتِ اعداء کے لیے جائز ہو سکتا ہے (باوجودیکہ قرونِ اولیٰ میں یہ چیزیں نہ تھیں) تو مظاہروں اور قومی اتحادوں اور متفقہ مطالبوں کے جواز میں تامل نہ ہوگا۔

اس تاریخی اجلاس میں مندرجہ ذیل تجاویز منظور کر کے جمعیۃ علماء ہند نے اپنے آئندہ لائحۂ عمل کی وضاحت کر دی:

  1. مسلمانوں کو احکامِ شرعی کی تعمیل کی طرف متوجہ کیا جائے۔
  2. حکومت سے ترکِ موالات کر کے خطابات، عہدے، ممبری، کونسل، ملازمت، فوج اور سرکاری تعلیم کو چھوڑا جائے۔
  3. انگلستان کا تجارتی مقاطعہ کیا جائے۔
  4. عدالتوں میں مقدمات کی پیروی ترک کی جائے۔
  5. برادرانِ وطن کے تحریکِ خلافت میں شریک ہونے کو بنظرِ اطمینان دیکھا جائے اور ان سے خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
  6. قومی بیت المال اور شعبہ تبلیغ قائم کیے جائیں۔
  7. قومی درسگاہیں سرکاری امداد لینا بند کر دیں۔
  8. اسی اجلاس میں انگریزی فوج میں بھرتی ہونے کو حرام قرار دیا گیا اور پانچ سو علماء کا متفقہ فتویٰ شائع کیا گیا کہ سرکاری فوج میں بھرتی ہونا حرام ہے۔ یہ فتویٰ ضبط کر لیا گیا اور اس فتویٰ کی بنا پر مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، مولانا محمد علی جوہرؒ اور دیگر زعماء پر بغاوت کا تاریخی مقدمہ چلایا گیا۔

تیسرا اجلاس

۱۹ نومبر ۱۹۲۱ء کو لاہور میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں طے ہوا کہ ولایتی کپڑے کا بائیکاٹ کیا جائے۔ نیز گزشتہ اجلاس میں فوج اور پولیس کی ملازمت کو ممنوع قرار دینے اور پانچ سو علماء کی طرف سے اس کے حرام ہونے کے فتویٰ کی حکومت کی طرف سے ضبطی پر احتجاج کرتے ہوئے اس فتویٰ کا دوبارہ اعلان کیا گیا۔

چوتھا اجلاس

۲۴ دسمبر ۱۹۲۲ء کو گیا میں زیرصدارت مولانا حبیب الرحمانؒ دیوبندی منعقد ہوا۔

پانچواں اجلاس

۳۱ دسمبر ۱۹۲۳ کو کناڈا میں حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ جزیرۃ العرب کی آزادی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

چھٹا اجلاس

۱۱ تا ۱۶ جنوری ۱۹۲۵ میں مراد آباد میں حضرت مولانا سید محمد سجادؒ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

ساتواں اجلاس

اس لحاظ سے نمایاں اور تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ اس اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے فرنگی سے ہندوستان کو مکمل طور پر آزاد کر دینے اور ہند چھوڑ کر چلے جانے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ کانگریس اور مسلم لیگ سمیت دوسری تمام جماعتیں ابھی آزادیٔ کامل کے مطالبہ کے اسٹیج پر نہیں پہنچی تھیں۔ یہ تاریخ ساز اجلاس ۱۴ مارچ ۱۹۲۶ء کو کلکتہ میں علامہ سید سلیمان ندویؒ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں آزادیٔ کامل کا مندرجہ ذیل تاریخی ریزرویشن منظور کیا گیا:

’’چونکہ برادرانِ وطن کے مخالفانہ طرزِ عمل سے منافرت کی خلیج وسیع ہو رہی ہے اس لیے مسلمان اپنی تنظیم کر کے اپنے بل پر ملک کو آزاد کرائیں۔ البتہ جو غیرمسلم حضرات اس بارے میں اتحادِ عمل کرنا چاہیں ان کے ساتھ اتحادِ عمل کیا جائے۔ اس کے لیے عملی کام یہ ہیں:

  • مسلم قوم عموماً اور علماء بالخصوص سیاسی امور میں غوروخوض اور تبلیغ کیا کریں۔
  • آزادیٔ ہند کے فریضہ ہونے کے مذہبی، مالی، ملکی وجوہ اسباب کو نہایت غوروخوض سے دریافت کریں اور لوگوں کو سمجھائیں۔ دیگر مذہبی امور کی اشاعت کی طرح اس کو بھی ضروری سمجھیں۔ آزادی اور دیگر حقوق کے سلب ہونے کی مضرتوں اور مفاسد کی اشاعت نہایت پر امن طریقہ سے کر کے ہر مسلمان کو زندہ کریں۔
  • قومی اخبارات اور رسائل کا، جو آزادی پر روشنی ڈالتے ہیں، مطالعہ کیا کریں۔
  • اور مسلمانوں سے افلاس دور کرنے کی کوشش کریں۔

آٹھواں اجلاس

۲ تا ۵ دسمبر ۱۹۲۷ء کو پشاور میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آزادی کا مطالبہ دہرانے کے ساتھ مسٹر محمد علی جناح کے چودہ نکاتی فارمولا کی تائید کی گئی۔

نواں اجلاس

۳ تا ۶ مئی ۱۹۳۰ء کو شاہ معین الدین اجمیریؒ کی زیرصدارت امروہہ میں منعقد ہوا جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ چونکہ کانگریس نے آزادیٔ کامل کے مطالبہ کا اعلان کر دیا ہے اس لیے جمعیۃ علماء ہند اس کے ساتھ اشتراکِ عمل کرے گی۔

دسواں اجلاس

۳۱ مارچ و یکم اپریل ۱۹۳۱ء کو کراچی میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اس کے بعد مسلسل جدوجہد اور قائدین کے بار بار جیل جانے کی وجہ سے آٹھ سال تک سالانہ اجلاس نہ ہو سکا۔

گیارہواں اجلاس

۳ تا ۶ مارچ ۱۹۳۹ء کو مولانا عبد الحقؒ مدنی کی صدارت میں بمقام دہلی منعقد ہوا جس میں ایک بار پھر کانگریس کے ساتھ آزادیٔ وطن کی خاطر اشتراکِ عمل کا اعلان کیا گیا۔

بارہواں اجلاس

۷ تا ۹ جون ۱۹۴۰ء کو جونپور میں زیرصدارت حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی منعقد ہوا جس میں آپ نے پاکستان کی تجویز کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند کی رائے کا مندرجہ ذیل الفاظ میں اظہار فرمایا:

’’اس زمانہ میں پاکستان کی تحریکِ زبان زد عوام ہے۔ اگر اس کا مطلب اسلامی حکومت علی منہاج النبوۃ (جس میں تمام احکام اسلامی حدود و قصاص جاری ہوں) مسلم اکثریت والے صوبوں میں قائم کرنا ہے تو ماشاء اللہ نہایت مبارک اسکیم ہے، کوئی بھی مسلمان اس میں گفتگو نہیں کر سکتا، مگر بحالات موجودہ یہ چیز متصور الوقوع نہیں۔ اور اگر اس کا مقصد انگریز حکومت کے ماتحت کوئی ایسی حکومت قائم کرنا ہے جسے مسلم حکومت کا نام دیا جا سکے تو میرے نزدیک یہ اسکیم محض بزدلانہ و سفیہانہ ہے۔‘‘

۲۰، ۲۱، ۲۲ مارچ ۱۹۴۲ء کو لاہور میں حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء ہند نے برصغیر کی تمام مسلم جماعتوں کو ان الفاظ کے ساتھ اتحاد و اشتراکِ عمل کی دعوت دی:

’’ہندوستان کی آزادی کے متعلق سر اسٹیفورڈ کرپس برطانوی حکومت کا کوئی نظریہ لائے ہیں۔ معلوم نہیں وہ نظریہ کیا ہے اس کے متعلق اظہارِ رائے کا کوئی موقع نہیں۔ تاہم یہ امر یقینی ہے کہ برطانوی حکومت نے اس کام کا بہترین وقت اپنی ناعاقبت اندیشی اور مغرورانہ بے پروائی سے ضائع کر دیا۔ اندیشہ ہے کہ موجودہ نازک لمحات میں کوئی ایسی تجویز بھی جو اگر بروقت ہوتی تو مناسب سمجھی جاتی لیکن بعد از وقت کی مشہو رمثل کے مصداق نہ بن جائے ۔۔۔۔ تاہم ان نازک لمحات میں ہندوستانیوں کے فرائض بہت اہم ہوگئے ہیں۔ جمعیۃ علماء تمام مسلمانانِ ہند اور مسلم اداروں کو پرزور توجہ دلاتی ہے کہ اس وقت تمام مسلم ادارے اور جماعتیں اشتراکِ عمل سے کام لیں اور پورے غوروفکر اور تبادلۂ خیالات کے بعد کسی متحدہ فیصلہ پر سب متفق ہو جائیں۔‘‘

اسی اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند نے آزادیٔ ہند کے لیے مندرجہ ذیل فارمولا منظور کیا:

’’جمعیۃ علماء بارہا اس امر کا اعلان کر چکی ہے کہ اس کا نصب العین کامل آزادی ہے۔ اس پر تمام مسلمانانِ ہند متفق ہیں اور اسی کو اپنے لیے ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں۔ جمعیۃ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وطنی آزادی میں مسلمان آزاد ہوں گے، ان کا مذہب آزاد ہوگا اور مسلم کلچر اور تہذیب و ثقافت آزاد ہوگی۔ وہ کسی ایسے آئین کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جس کی بنیاد ایسی آزادی پر نہ رکھی گئی ہو۔ جمعیۃ علماء ہند ہندوستان میں صوبوں کی کامل خودمختاری اور آزادی کی زبردست حامی ہے جس میں غیر مصرحہ اختیارات بھی صوبوں کے ہاتھ میں ہوں اور مرکز کو صرف وہی اختیارات ملیں جو تمام صوبے متفقہ طور پر مرکز کے حوالہ کریں اور جن کا تعلق تمام صوبوں سے یکساں ہو۔ جمعیۃ علماء ہند کے نزدیک ہندوستان کے آزاد صوبوں کا سیاسی وفاق ضروری اور مفید ہے۔ مگر وفاق اور ایسی مرکزیت جس میں اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت کی مالک نو کروڑ نفوس پر مشتمل مسلمان قوم کسی عددی اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو ایک لمحہ کے لیے بھی گوارا نہ ہوگی۔ یعنی مرکز کی تشکیل ایسے اصول پر ہونی ضروری ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی، سیاسی اور تہذیبی آزادی کی طرف سے مطمئن ہوں۔‘‘

چودھواں اجلاس

۴ تا ۷ مئی ۱۹۴۵ء کو جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس سہارنپور میں زیرصدارت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی منعقد ہوا جس میں آزادیٔ کامل کے بارے میں سابقہ فارمولا کی مندرجہ ذیل تشریح منظور کی گئی:

’’اگرچہ اس تجویز میں بیان کردہ اصول اور ان کا مقصد واضح ہے کہ جمعیۃ علماء مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی اور تہذیبی آزادی کو کسی حال میں چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے، وہ بے شک ہندوستان میں وفاقی حکومت اور ایک مرکز کو پسند کرتی ہے کیونکہ اس کے خیال میں مجموعہ ہندوستان کی وفاقی حکومت کا قیام اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ صوبوں کے لیے حق خودارادیت تسلیم کر لیا جاوے اور وفاق کی تشکیل اس طرح ہو کہ مرکز کی غیر مسلم اکثریت مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی، تہذیبی حقوق پر اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر تعدی نہ کر سکے۔ مرکز کی ایسی تشکیل جس میں اکثریت کی تعدی کا خوف نہ رہے باہمی افہام و تفہیم سے مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کسی صورت پر، یا ان کے علاوہ کسی اور تجویز پر ہو، جو مسلم و غیر مسلم جماعتوں کے اتفاق سے طے ہو جائے، ممکن ہے۔

  1. مثلاً مرکزی ایوان میں ممبروں کی تعداد کا تناسب یہ ہو: ہندو ۴۵، مسلمان ۴۵، دیگر اقلیتیں ۱۰
  2. مرکزی حکومت میں کسی بل یا تجویز کو مسلم ارکان کی دو تہائی اکثریت اپنے مذہب یا اپنی سیاسی آزادی یا اپنی تہذیب و ثقافت پر مخالفانہ اثر انداز قرار دے تو وہ بل یا تجویز ایوان میں پیش یا پاس نہ ہو سکے گا۔
  3. ایک ایسا سپریم کورٹ قائم کیا جائے جس میں مسلم و غیر مسلم ججوں کی تعداد مساوی ہو اور جس کے ججوں کا تقرر مسلم و غیر مسلم صوبوں کے مساوی تعداد کے ارکان کمیٹی کرے۔ یہ سپریم کورٹ مرکز و صوبوں کے درمیان تنازعات، یا صوبوں کے باہمی تنازعات، یا ملک کی قوموں کے تنازعات کے آخری فیصلے کرے گا۔ نیز تجویز نمبر ۲ کے ماتحت اگر کسی بل کے مسلمانوں کے خلاف ہونے یا نہ ہونے میں مرکز کی اکثریت مسلم ارکان کی دو تہائی اکثریت کے فیصلہ سے اختلاف کرے تو اس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے کرایا جائے گا۔
  4. یا کوئی اور تجویز جسے فریقین باہمی اتفاق سے طے کر لیں۔‘‘

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام دہلی میں جلسۂ عام

۲۶ اپریل ۱۹۴۷ء کو اردو پارک دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کی زیرصدارت ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ حسام الدینؒ، مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ، مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ اس عظیم جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے احرار رہنما امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

’’حضرات! آج میں نے کوئی تقریر نہیں کرنی بلکہ چند حقائق ہیں جنہیں بلاتمہید کہنا چاہتا ہوں۔ اس وقت آئینی و غیر آئینی دنیا میں، خواہ دنیا کے اس علاقے کا تعلق ایشیا سے ہو یا یورپ سے، اس وقت جو بحث چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ آیا ہندوستان میں ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں کر دیا جائے، قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق سے طلوع ہوگا۔ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہوگا جو دس کروڑ مسلمانان ہند کے ذہنوں میں اس وقت موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ کل کیا ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ بات جھگڑے کی نہیں، بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔ سمجھا دو، مان لوں گا۔ لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد اور بنیادی فرق ہے۔

اگر آج کوئی مجھے اس بات کا یقین دلا دے کہ کل کو ہندوستان کے کسی قصبہ کی کسی گلی، کسی شہر کے کسی کوچہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔ لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من لاش پر اور چھ فٹ کے قد پر اسلامی قوانین کو نافذ نہیں کر سکتے، جن کا اٹھنا بیٹھنا، جن کا سونا، جن کا جاگنا، جن کی وضع قطع، جن کا رہن سہن، بول چال، زبان و تہذیب، کھانا پینا، لباس وغیرہ غرضیکہ کوئی چیز بھی اسلام کے مطابق نہ ہو، وہ دس کروڑ کی انسانی آبادی کے ایک قطعہ زمین پر اسلامی قوانین کس طرح نافذ کر سکتے ہیں؟ یہ ایک فریب ہے اور میں یہ فریب کھانے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

ادھر مشرقی پاکستان ہوگا ادھر مغربی پاکستان ہوگا، درمیان میں ۴۰ کروڑ متعصب ہندو کی آبادی ہوگی جس پر اس کی اپنی حکومت ہوگی اور وہ حکومت لالوں کی ہوگی۔ کون لالے؟ لالے دولت والے، لالے ہاتھیوں والے، عیار لالے، مکار لالے۔ ہندو اپنی مکاری و عیاری سے پاکستان کو ہمیشہ تنگ کرتا رہے گا، اسے کمزور بنانے کی ہر کوشش کرے گا، اس تقسیم کی بدولت آپ کے دریاؤں کا پانی روک دیا جائے گا، آپ کی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور آپ کی حالت یہ ہوگی کہ بوقت ضرورت مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کی، اور مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کی کوئی سی مدد کرنے سے قاصر ہوگا۔

اندرونی طور پر پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہوگی اور یہ خاندان زمینداروں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے خاندان ہوں گے۔ انگریز کے پروردہ، فرنگی سامراج کے خود کاشتہ پودے، سروں، نوابوں اور جاگیرداروں کے خاندان ہوں گے جو اپنی من مانی کارروائیوں سے محب وطن اور غریب عوام الناس کو پریشان کر کے رکھ دیں گے۔ غریب کی زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی، ان کی لوٹ کھسوٹ سے پاکستان کے عوام، کسان اور مزدور نان شبینہ کو ترس جائیں گے۔ امیر دن بدن امیر تر ہوتا چلا جائے گا اور غریب غریب تر۔ مسلم لیگ اور کانگریس! دونوں سنو!

امیر جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے

یاد رکھو! اگر آج تم باہم مل بیٹھ کر کوئی معاملہ بھی طے کر لیتے تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوتا۔ تم الگ رہ کر بھی باہم شیر و شکر رہ سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنے تنازعہ کا انصاف فرنگی سے مانگا اور وہ تم دونوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والا فساد ضرور پیدا کر کے جائے گا جس سے تم دونوں قیامت تک چین سے نہ بیٹھ سکو گے اور آئندہ بھی تمہارا آپس کا کوئی سا تنازعہ باہمی گفتگو سے کبھی طے نہیں ہو سکے گا۔ آج انگریز کے فیصلہ سے تم تلواروں اور لاٹھیوں سے لڑو گے، تمہاری اس نادانی اور من مانی سے اس برصغیر میں انسانیت کی جو تباہی ہوگی، عورت کی جو بے حرمتی ہوگی، اخلاق و شرافت کی تمام قدریں جس طرح پامال ہوں گی تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں وحشت و درندگی کا دور دورہ ہوگا، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو جائے گا، انسانیت و شرافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا، نہ کسی کی عزت محفوظ ہوگی، نہ جان نہ مال اور نہ ایمان اور اس سب کا ذمہ دار کون ہوگا؟ تم دونوں!‘‘ (منقول از روزنامہ الجمعیۃ دہلی ۲۸ اپریل ۱۹۴۶ بحوالہ نوادرات امیر شریعت۔ مطبوعہ مکتبہ نشریات اہل سنت مدرسہ مفتاح العلوم محلہ ملتانی والا، بیرون چونگی نمبر ۳ کہروڑ پکا ضلع ملتان)

آل انڈیا نیشنل کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ۱۵ اپریل ۱۹۴۶ء کو ایک بیان جاری کیا جسے انہوں نے تصنیف ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ یہ بیان پاکستان کے بارے میں مولانا آزادؒ کے موقف کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

’’میں نے مسلم لیگ کی پاکستان اسکیم پر ہر ممکن نقطۂ نگاہ سے غور کیا ہے، ایک ہندوستانی کی حیثیت پورے ہندوستان سے متعلق اس کی پیچیدگیوں کا میں نے جائزہ لیا ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت پر پڑنے والے اور اس کے ممکنہ اثرات کا میں نے تجزیہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تمام پہلوؤں پر میں نے بہت کچھ غور کیا اور اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ پورے ہندوستان کے لیے اس اسکیم کے جو بھی نقصان ہیں وہ اپنی جگہ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ تجویز سخت تباہ کن ہوگی اور اس سے ان کی کوئی مشکل حل ہونے کی بجائے مزید مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

اول تو مجوزہ لفظ ہی میرے نزدیک اسلامی تصورات کے خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین میرے لیے مسجد بنا دی ہے‘‘۔ روئے زمین کو پاک اور ناپاک کے درمیان تقسیم کرنا ہی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کی یہ اسکیم ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے شکست کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۹ کروڑ سے زائد ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی اور معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں پالیسی اور نظم و نسق کے تمام معاملات پر فیصلہ کن اثر ڈالنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مزید برآں کئی صوبوں میں مسلمانوں کو مکمل اکثریت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کی اسکیم کے ذریعہ ان کی یہ ساری قوت و صلاحیت تقسیم ہو کر ضائع ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں ایک مسلمان کی حیثیت سے ایک لمحہ کے لیے بھی میں اپنا یہ حق نہیں چھوڑ سکتا کہ پورا ہندوستان میرا ہے اور اس کی سیاسی و اقتصادی زندگی میں میری شرکت ناگزیر ہے۔ میرے نزدیک یہ بدترین بزدلی کا نشان ہے کہ میں اپنی میراث پدری سے دستبردار ہو کر ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر قناعت کر لوں۔

میں اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر کے تنہا مسلم مفاد کے نقطۂ نظر سے بھی غور کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اگر پاکستان کی اسکیم کو کسی طور پر بھی مسلمانوں کے لیے مفید ثابت کر دیا جائے تو میں اسے قبول کرلوں گا اور دوسروں سے اسے منوانے پر اپنا پورا زور صرف کر ڈالوں گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اسکیم سے مسلمانوں کے جماعتی اور ملی مفاد کو ذرہ بھی فائدہ نہیں پہنچتا اور ان کا کوئی اندیشہ بھی دور نہیں ہو سکتا۔

اب ذرا جذبات سے بالاتر ہو کر اس کے ممکنہ نتائج پر غور کریں کہ جب پاکستان بن جائے گا تو کیا ہوگا؟

ہندوستان دو ریاستوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ ایک ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی، دوسری میں ہندو اکثریت۔ ہندو اکثریت کے علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہوگی اور وہ بہت چھوٹی چھوٹی اقلیتوں کی صورت میں پورے ملک میں بکھر کر رہ جائیں گے۔ یعنی آج کل کے مقابلہ میں وہ ہندو اکثریت کے صوبوں میں اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے۔ جہاں ان کے گھر بار اور بود و باش ایک ہزار سال سے چلی آرہی ہے اور جہاں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کے مشہور اور بڑے بڑے مراکز تعمیر کیے ہیں۔ ہندو اکثریت کے علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کو ایک دن اس اچانک صورتحال سے سابقہ پیش آئے گا کہ ایک صبح آنکھ کھلتے ہی وہ اپنے آپ کو اپنے گھر اور وطن میں ہی پردیسی اور اجنبی پائیں گے۔ صنعتی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پس ماندہ ہوں گے اور ایک ایسی حکومت کے رحم و کرم پر ہوں گے جو خالص ہندو راج بن گئی ہوگی۔ پاکستان میں خواہ مسلمانوں کی مکمل اکثریت کی حکومت ہی کیوں نہ قائم ہو جائے اس سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کا مسئلہ ہرگز حل نہ ہو سکے گا۔

دو ریاستیں ایک دوسرے کے مدمقابل بن کر ایک دوسرے کی اقلیتوں کا مسئلہ حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں آسکتیں۔ اس سے صرف یرغمال اور انتقام کا راستہ کھلے گا۔ عالمی معاملات میں بھی پاکستان کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کر پائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں جو فارمولا میں نے پیش کیا ہے اور جسے کانگریس سے منظور کرانے میں کامیاب ہوا ہوں اس میں پاکستان کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور وہ ان نقائص سے پاک ہے جو اس اسکیم میں پائے جاتے ہیں۔

دراصل پاکستان کی اسکیم اس خوف کا نتیجہ ہے کہ ہندو مرکز میں اکثریت میں ہوں گے اور مسلم اکثریت کے صوبوں میں ان کی مداخلت ممکن ہے۔ میرے پیش کردہ فارمولے سے جسے کانگریس منظور کر چکی ہے اس خوف کا ازالہ اس طرح ہو جاتا ہے کہ تمام صوبائی وحدتیں مکمل خودمختار ہوں گی۔ مرکزی اختیارات کی دو فہرستیں ہوں گی، ایک لازمی اور دوسری اختیاری۔ مرکز کے پاس صرف وہ چند اختیارات ہوں گے جنہیں صوبے مرکز کو تفویض کریں گے، باقی اختیارات صوبوں کے سپرد ہوں گے۔ مسلم اکثریت کے صوبے اپنی صوابدید کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کرنے میں آزاد ہوں گے اور مرکز کو سپرد کردہ معاملات پر بھی اپنا اثر ڈالنے کا حق رکھیں گے۔ بہرحال کابینہ مشن اور کانگریس دونوں ہی سے میں نے اپنی وفاقی تجویز منظور کرائی جس کی رو سے تمام صوبے مکمل طور پر خودمختار قرار دیے گئے تھے اور صوبوں کی طرف سے صرف ۳ امور مرکز کو تفویض کیے جانے تھے۔ دفاع، امور خارجہ اور رسل و رسائل‘‘۔

مولانا آزادؒ نے بنگلہ دیش کے بارے میں کیا کہا تھا؟ اخبار وطن دہلی مارچ ۱۹۴۸ء کے مطابق مولانا ابوالکلام آزادؒ نے یوپی سے پاکستان جانے والے مسلمانوں کے گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا

’’آپ مادر وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں، آپ نے سوچا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جداگانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسانا نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کا مذہبی مخالف تو ہو سکتا ہے، قومی اور وطنی مخالف نہیں۔ آپ اس صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اور وطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ جائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہو جائیں گے‘‘۔

۲۳ مارچ ۱۹۴۲ء کو دہلی دروازہ لاہور کے بیرونی باغ میں جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے مشترکہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا:

’’سوال یہ ہے کہ بحیثیت ایک ہندوستانی مسلمان کے ہمیں مستقبل کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ میں آنے والے زمانے کو کمزوری و تذبذب سے نہیں دیکھتا بلکہ عزم و ہمت او رحوصلہ سے دیکھ رہا ہوں۔ جو قوم اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہو اس کو تحفظات نہیں بچا سکتے۔ مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے۔ اگر دس کروڑ کی بجائے مسلمان دس لاکھ بھی ہوتے اور ان کے دل میں یہ خیال ہوتا کہ وہ مرنے کے لیے نہیں زندہ رہنے کے لیے ہیں تو کوئی قوم ان کو نہیں مٹا سکتی۔

ہندوستان میں آباد اتنی بڑی تعداد کو اقلیت قرار دینا اور ان کے لیے اقلیتی حقوق اور اقلیتی علیحدگی کا مطالبہ کرنا نہ صرف بزدلی ہے بلکہ ان کے شاندار مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ میرے نزدیک ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت اقلیت کی نہیں بلکہ دوسری بڑی اکثریت کی ہے۔

پس میری جگہ تذبذب اور کمزوری نہیں بلکہ یقین اور ایمان کی ہے۔ لیکن اگر اتنی بڑی تعداد یعنی دس کروڑ کے ہوتے ہوئے بھی تم یہ خیال کرتے ہو کہ فنا ہو جاؤ گے، مٹ جاؤ گے تو اس کا کیا علاج، کہ دس کروڑ لاشوں کو کوئی تحفظ اور کوئی دستور نہیں بچا سکتا‘‘۔ (بحوالہ ’’مولانا آزاد نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بارے میں کیا کہا تھا‘‘ تالیف ڈاکٹر احمد حسین کمال مطبوعہ جمعیۃ اکادمی سی ۱۵۳ کورنگی ۶ کراچی ۳)

جمعیۃ کے مرکزی اور صوبائی دفاتر کئی جگہ تھے۔ مرکزی دفتر دہلی میں تھا جو آج بھی ہندوستان کی جمعیۃ کا صدر دفتر ہے اور قوم کی اصلاح میں مصروف عمل ہے۔ صوبائی دفاتر صوبوں کے صدر مقامات میں ہی ہو سکتے ہیں۔

دیوبند اور علی گڑھ کا اختلاف

علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان مرحوم اور دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایک ہی استاد حضرت مولانا مملوک علیؒ کے شاگرد تھے لیکن دونوں کے خیالات و افکار اور کردار و عمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سرسید احمد خان مرحوم اور مولانا قاسم نانوتویؒ کے درمیان یا دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ تحریک کے درمیان فرق کو مختلف پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، ان کے رفقاء اور دارالعلوم دیوبند اور اس کے اعضاء و ارکان نے انگریزی حکومت کے خلاف تحریک کی ہمیشہ قیادت کی ہے اور ہر معرکۂ جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں۔ جبکہ سرسید احمد خان اور مجموعی طور پر علی گڑھ تحریک کا رویہ انگریز حکومت کے ساتھ مفاہمت اور معاونت کا رہا ہے۔ حتیٰ کہ جب جنگ لڑی جا رہی تھی سر سید احمد خان کی ہمدردیاں اور خدمات فرنگی حکومت کو حاصل تھیں اور انہوں نے انگریز حکومت کے ایک ڈپٹی کلکٹر کی حیثیت سے انقلاب ۱۸۵۷ء کو ناکام بنانے کی پوری سعی کی۔ خود ان کی تحریر کردہ کتاب ’’سرکشی ضلع بجنور‘‘ جو ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے دوران ان کی روزانہ ڈائری پر مشتمل ہے ان کے اس طرزعمل پر شاہد عدل ہے۔
  2. مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء دارالعلوم دیوبند اور اس کے اکابر و اصاغر نے اسلام کے عقائد اور قرآن و حدیث کی تشریحات کے ضمن میں حضرات صحابہ کرامؓ، حضرات ائمہ کرام سلف صالحین اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور قرآن و حدیث کی جو تشریح و تفسیر بزرگانِ امت سے اجماعی طور پر نقل ہوتی چلی آئی ہے اس میں ردوبدل قبول نہیں کیا۔ جبکہ سرسید احمد خان نے اسلام کے بنیادی عقائد اور قرآن و حدیث کی اجماعی تشریحات سے انحراف کی راہ نکالی اور قرآن و حدیث کی ہر وہ بات جو ان کی عقل کے ترازو پر پورا نہیں اتر سکی اس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ مثلاً حضرات انبیاء کرامؑ کے معجزات کا انکار، فرشتوں کا انکار، حضرت جبرائیلؑ کے وجود کا انکار، آسمانوں کے وجود کا انکار، جنت و دوزخ کا انکار، قبلۂ رخ ہو کر نماز پڑھنے کو خدا کا حکم ماننے سے انکار، سود کی بہت سی قسموں کو حلال قرار دینا، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار، بدر کے میدان میں فرشتوں کے نازل ہونے سے انکار، نبی اکرمؐ کی معراج جسمانی کا انکار اور دیگر ایسے بنیادی عقائد سے انکار کرنا جن کا ثبوت قرآن مجید اور احادیث کی قطعی نصوص سے ملتا ہے اور جن پر پوری امت کا چودہ سو سال سے اجماع و اتفاق چلا آرہا ہے۔
  3. حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانویؒ نے تتمہ امداد الفتاوٰی ص ۲۶۴ تا ۲۷۴ میں سر سید احمد خان کے ان عقائد و خیالات کا نقشہ ان کی کتابوں کے حولے سے تحریر فرمایا ہے۔ تفسیر حقانی کے مصنف مولانا عبد الحقؒ حقانی نے تفسیر کے مقدمہ میں اور علامہ سید سلیمان ندویؒ نے حیاتِ شبلیؒ میں سر سید احمد خان کے ان عقائد پر تفصیلی بحث کی ہے۔

  4. قومی زندگی میں دیوبند کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ انگریز کے ساتھ کلی طور پر ترکِ موالات کیا جائے، اس کی تہذیب و ثقافت، تعلیم و قانون، ملازمت، معاشرت اور تجارت غرضیکہ کسی بھی معاملہ میں اس سے تعاون نہ کیا جائے۔ دیوبند کی نظر میں انگریز اپنی تعلیم اور تہذیب کے ذریعے مسلمان قوم کو دین اسلام سے دور ہٹانا چاہتا تھا اور ان کو فکری و عملی طور پر ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتا تھا، اس لیے دیوبند نے بجا طور پر پوری سختی کے ساتھ انگریزی تعلیم و تہذیب کو قبول کرنے سے مسلمانوں کو روکا۔ جبکہ سر سید احمد خان دین کی اجماعی تشریح سے انحراف کے بعد نئی تہذیب کو اپنانے، انگریزی تعلیم حاصل کرنے اور انگریز کی ملازمت اختیار کرنے کے سب سے بڑے داعی تھے ان کے خیال میں مسلمان کی ترقی اس بات میں تھی کہ وہ حکمران گروہ کے کلچر اور زبان و تعلیم کو قبول کر کے پوری طرح ان میں گھل مل جائے ۔۔۔۔۔ گویا دیوبند کے نقطۂ نظر میں اپنے عقائد و روایات پر سختی کے ساتھ کاربند رہنے اور فرنگی کی کسی بھی چیز کو قبول نہ کرنے میں مسلمان کی غیرت اور ان کا روشن مستقبل پنہاں تھا۔ اور علی گڑھ کو یہ روشن مستقبل فرنگی کے ساتھ تعاون کرنے اور اس کی ملازمت اختیار کرنے اور اسلام کے اجماعی عقائد سے انحراف کرنے میں نظر آرہا تھا۔

مولانا آزادؒ کا جمعیۃ میں کردار

مولانا ابوالکلام آزادؒ جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے ہیں اور جمعیۃ کے بعض اجلاسوں کی صدارت بھی انہوں نے فرمائی ہے اور جمعیۃ کے اہم فیصلوں میں ان کی گرامی قدر رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔

قائد اعظم محمد علی جناح اور جمعیۃ

قائد اعظم مرحوم کبھی جمعیۃ علماء ہند میں شامل نہیں رہے۔ ۱۹۳۴ء/ ۱۹۳۵ء کے انتخابات میں جمعیۃ علماء ہند اور مسلم لیگ کے درمیان انتخابی معاہدہ ہوا تھا اور انتخاب میں مشترکہ طور پر حصہ لیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اس کی تفصیل مولانا طفیل احمد علیگ کی کتاب ’’مسلمانوں کا روشن مستقبل‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

جمعیۃ کانگریس تعلق کی نوعیت

جمعیۃ علماء ہند نے آزادیٔ وطن کی خاطر کانگریس کے ساتھ تعاون کی پالیسی اختیار کی تھی۔ جمعیۃ کے متعدد ارکان کانگریس کے بھی رکن رہے ہیں۔ جمعیۃ کے صدر حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی بھی کانگریس کے رکن رہے ہیں اور کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ جمعیۃ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ غرضیکہ آزادیٔ وطن کی خاطر دونوں جماعتوں نے شانہ بشانہ کام کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کا مسلم لیگ سے تعلق

جمعیۃ علماء ہند اور مسلم لیگ کے درمیان جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ۱۹۳۴ء میں باہمی تعاون کا معاہدہ ہوا تھا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں کی راہِ عمل ایک دوسرے سے مختلف رہی۔

دارالعلوم دیوبند اور تاریخِ برصغیر

دارالعلوم دیوبند اس دور میں قائم ہوا تھا جبکہ:

  • علماء کرام کی موجودہ کھیپ کی اکثریت ۱۸۵۷ء کے انقلاب کی نذر ہو چکی تھی۔
  • دینی مدارس کو فرنگی حکمتِ عملی کے تحت ختم کر دیا گیا تھا۔
  • عالمِ اسباب میں قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی حفاظت و ترویج کا کوئی بندوبست نظر نہیں آتا تھا۔

لیکن دارالعلوم دیوبند نے اس پرآشوب دور میں اپنے فرائض کو کماحقہ سرانجام دیا، اس نے:

  • مساجد و مدارس کو تازہ بتازہ علماء کی کھیپ مہیا کر کے مسجد و مدرسہ کے نظام کو معطل ہونے سے بچایا۔
  • تحریکِ حریت کو شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مفتی اعظم کفایت اللہؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی، حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ، حضرت مولانا احمد سعید اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی جیسے سیاسی قائد، علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ جیسے محدث اور حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ جیسے ولیٔ کامل مہیا کیے جنہوں نے سیاسی، علمی، فکری، روحانی اور عملی محاذوں پر فرنگی حکمتِ عملی کو شکست دی۔
  • اسلامی اقدار و روایات، کلچر و ثقافت اور تہذیب و تمدن کا تحفظ کیا۔ جس کے نتیجہ میں آج برصغیر کے ممالک اسلامی تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے دنیا بھر میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔
  • اسلام کے بنیادی عقائد قرآن و حدیث کی اجماعی تشریحات اور ملتِ اسلامیہ کی راسخ الاعتقادی کا تحفظ کیا اور انحراف و الحاد کے فتنوں کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ گویا مختصر الفاظ میں دارالعلوم دیوبند نے برصغیر پاک و ہند کو اسپین بننے سے بچا لیا۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا جمعیۃ میں کردار

حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ کے والد محترم اور میرے داداپیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ جمعیۃ الانصار کے پلیٹ فارم سے کیا تھا اور آپ ولی اللہی تحریک کے اس شعبہ کے اہم رکن تھے۔ آپؒ نے دہلی میں کچھ عرصہ امام ولی اللہ کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن کریم کی تعلیم بھی دی۔ بعد میں آپ کو ایک جگہ نظربند کر دیا گیا اور اس کے بعد مستقل طور پر آپ کی نظر بندی لاہور میں ہوگئی۔ یہاں آپ نے ایک چھوٹی سی مسجد میں قرآن کریم کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا، رفتہ رفتہ آپ کا کام ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ آپ نے انجمن خدام الدین کی بنیاد رکھی جو آج تک دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہے۔ اس انجمن کے تحت ہفت روزہ خدام الدین شائع ہوتا ہے۔ آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ اور اس پر حواشی لکھے جن پر تمام مکاتب فکر کے علماء کی تصدیقات ہیں۔ آپ بنیادی طور پر سیاست کی بجائے علم و فکر اور تبلیغ و اصلاح کے میدان کے آدمی تھے اور آپ نے ان شعبوں میں ولی اللہی مشن کی خوب خدمت کی۔ اس کے باوجود آپ کی عقیدت و محبت اور وفاداری کا محور جمعیۃ علماء ہند کے اکابر خصوصاً حضرت شیخ مولانا سید حسینؒ احمد مدنی کی ذات گرامی تھی۔