ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

قراردادِ مقاصد کی منظوری اور علماء کے ۲۲ دستوری نکات سامنے آنے کے بعد قوم کو یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب نفاذِ اسلام کی طرف عملی پیش رفت ہوگی لیکن خان لیاقت علی خانؒ کی شہادت اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی وفات کے بعد بات آگے نہ بڑھ سکی۔ مسلم لیگ اس کے بعد اقتدار کی کشمکش اور کرسیوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہوگئی اور جمعیۃ علماء اسلام نئی قیادت کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ ۱۹۵۷ء میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی مدظلہ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے آگے بڑھ کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی زمامِ کار کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ اور ۱۹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے جو چیف جسٹس جناب جسٹس تنزیل الرحمان، جناب جسٹس فدا محمد خان اور جناب جسٹس میر ہزار خان پر مشتمل تھا، یہ فیصلہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے کنوینر جناب محمد اسماعیل قریشی اور دیگر تین شہریوں کی درخواست پر صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو

سوال۔ ذکری فتنہ کیا ہے، اس کا آغاز کب ہوا اور اس کا بانی کون تھا؟ جواب۔ ذکری فتنہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا فتنہ ہے، تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل نور محمد اٹکی نامی ایک شخص نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ اس فتنہ کے پیروکار اسلام کے پانچوں بنیادی ارکان کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور تمام اسلامی عبادات کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور نور محمد اٹکی کو نبی، مہدی وغیرہ مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنا خود ساختہ کلمہ ’’لا الہٰ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ‘‘ بنایا ہوا ہے، ان کے نزدیک نماز پڑھنا کفر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ذکری فتنہ ۔ مولانا محمد الیاس سے انٹرویو

۱۵ مئی ۱۹۹۲ء

صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور قرآن و سنت کے احکام کے عملی نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور دستورِ پاکستان میں غیر اسلامی قوانین کے خاتمہ اور اسلامی احکام کی عملداری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن ملک کے معاشی ڈھانچے کو سود کی لعنت سے ابھی تک نجات نہیں دلائی جا سکی جسے قرآن و سنت میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے، جو ایک آئینی ادارہ ہے، ۱۹۸۰ء میں سودی نظام کے خاتمہ اور بلاسود بینکاری کے عملی ڈھانچہ پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

۲۰ مارچ ۱۹۹۲ء

افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

۵ جنوری ۱۹۹۰ء

ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ

روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ

۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء

وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو

وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جس انتہا کو چھو رہی ہے اس نے ملک کے ہر باشعور شہری کو اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ اور نہ صرف ملک کا نظام اس کشمکش کے ہاتھوں تعطل کا شکار ہے بلکہ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کے لیے خطرات کا اظہار بھی اب سنجیدہ زبانوں سے ہو رہا ہے۔ اس افسوسناک کشمکش کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبوں میں برسرِ اقتدار آنے والی مخالف حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو

۸ ستمبر ۱۹۸۹ء

مولانا قاضی عبد اللطیف پر بغاوت کا مقدمہ؟

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ اگست کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ خبر کے مطابق قاضی صاحب موصوف نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کو موجودہ صورتحال میں مداخلت کی دعوت دی تھی جس کا وفاقی حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی عبد اللطیف پر بغاوت کا مقدمہ؟

۲۵ اگست ۱۹۸۹ء

جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مغربی پریس اس تجویز کو اس انداز سے اچھال رہا ہے جیسے یہ خود اس کے اپنے دل کی آواز ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو

۱۱ اگست ۱۹۸۹ء

’’شریعت بل‘‘ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۹ جولائی کی اشاعت کے مطابق سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے ’’شریعت بل‘‘ کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے اور اب اسے چند روز میں سینٹ کے سامنے آخری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ شریعت بل قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے سینٹ میں پیش کیا تھا جس پر سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے غور کیا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں سے تبادلۂ خیالات کے بعد مناسب ترامیم کے ساتھ اس کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

۲۸ جولائی ۱۹۸۹ء

صدر مملکت غلام اسحاق خان سے معذرت کے ساتھ

اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینٹروں کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدرِ مملکت جناب غلام اسحاق خان سے ملاقات کی اور ان سے جہادِ افغانستان کے بارے میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی، سندھ میں اسلحہ بھجوانے کے الزامات اور جنرل فضل حق کو قتل کے کیس میں ملوث کرنے کی مہم کے بارے میں اپنے موقف اور جذبات سے آگاہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر مملکت غلام اسحاق خان سے معذرت کے ساتھ

۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء

مولانا امیر الزمان خانؒ

آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنما او رمدرسہ قاسم العلوم نعمان پورہ ضلع باغ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا امیر الزمان خان گزشتہ روز طویل علالت کے بعد اسلام آباد کے پولی کلینک میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا امیر الزمان خانؒ

۳۰ جون ۱۹۸۹ء

یاسر عرفات اور جہادِ افغانستان

فلسطین کی آزاد حکومت کے سربراہ جناب یاسر عرفات گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرنے کے علاوہ افغان مجاہدین کی آزاد عبوری حکومت کے راہنماؤں سے بھی ملے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ان کا یہ دورہ ان عالمی کوششوں کا ایک حصہ تھا جو افغان مجاہدین کو نجیب انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یاسر عرفات اور جہادِ افغانستان

۳۰ جون ۱۹۸۹ء

متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین

۲ جون ۱۹۸۹ء

مولانا تاج الدین بسمل شہیدؒ

جماعتی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ تحریک آزادی و تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکن اور جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر مولانا تاج الدین بسمل کو عید الفطر کے روز پڈعیدن ضلع نواب شاہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق ضلع گجرات (پنجاب) سے تھا اور کم و بیش چالیس سال سے پڈعیدن میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفٰی میں سرگرم کردار ادا کیا تھا اور متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا تاج الدین بسمل شہیدؒ

۱۹ مئی ۱۹۸۹ء

یہودی لابی کا اسلام

لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یہودی لابی کا اسلام

۵ مئی ۱۹۸۹ء

اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست

یادش بخیر مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اصل مسئلہ عورت کی سربراہی کا نہیں ہے بلکہ موجودہ جمہوری نظام ایک غلاظت ہے جس پر خودبخود مکھی آکر بیٹھے گی۔ اگر تم کہو کہ یہ مکھی غلاظت پر کیوں بیٹھتی ہے تو مکھی نے غلاظت پر بیٹھنا ہے چاہے وہ کسی شکل میں ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست

۲۱ اپریل ۱۹۸۹ء

جہادِ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی سازش

افغان مجاہدین روسی افواج کو سرحدوں سے باہر دھکیلنے کے بعد روسی جارحیت کے بچے کھچے اثرات اور روس کے چھوڑے ہوئے اسلحہ اور اس کے محافظوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں مگر کابل پر افغان مجاہدین کی نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوجانے کا خوف امریکہ، روس، بھارت اور اسرائیل کو مضطرب کیے ہوئے ہے اور عالمی سطح پر یہ سازشیں ہو رہی ہیں کہ افغان مجاہدین کی جدوجہد کو آخری مرحلہ میں سبوتاژ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادِ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی سازش

۳۱ مارچ ۱۹۸۹ء

عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ

عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آچکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی اہل علم و دانش اور اصحاب فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ البتہ اس موقف اور اس کے مطابق علماء کرام کی اجتماعی جدوجہد کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور اعتراضات سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی: علماء کے موقف پر اعتراضات کا تجزیہ

۳۱ مارچ ۱۹۸۹ء

عورت کی حکمرانی اور مولانا فضل الرحمان کا موقف

عورت کی حکمرانی کے بارے میں تمام مکاتب فکر کے جمہور علماء ایک طرف ہیں کہ قرآن و سنت کے صریح احکام اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تواتر عملی کے باعث کسی مسلمان ملک پر عورت کے حکمران بننے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ جبکہ علماء کہلانے والے چند افراد دوسری طرف ہیں جو کسی منطق، استدلال اور جواز کے بغیر سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس پراپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ عورت کے حکمران بن جانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی اور مولانا فضل الرحمان کا موقف

۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء

پیپلز پارٹی اپنے اصل پر

پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران اپنی پالیسیوں کو جس رخ پر چلانے کی کوشش کی ہے اس سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اور ان سیاسی عناصر کی خوش فہمیاں اب ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالہ دور میں پی پی پی کی سیاسی رفاقت کا راستہ اس خیال سے اپنا لیا تھا کہ وہ اس پارٹی کو شاید اپنا مزاج اور فکر تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیپلز پارٹی اپنے اصل پر

۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء

پیپلز پارٹی اپنی اصل پر

پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران اپنی پالیسیوں کو جس رخ پر چلانے کی کوشش کی ہے اس سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان سیاسی عناصر کی خوش فہمیاں بھی اب ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالہ دور میں پی پی کی سیاسی رفاقت کا راستہ اس خیال سے اپنا لیا تھا کہ اس رفاقت کے ذریعہ وہ اس پارٹی کو شاید اپنا مزاج اور فکر تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیپلز پارٹی اپنی اصل پر

مارچ ۱۹۸۹ء ۔ جلد ۳۲ شمارہ ۱۱ و ۱۲

اسلامی جمہوری اتحاد، جمعیۃ کا جماعتی اتحاد اور حلقہ ۹۶

عام انتخابات کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں شدت اور جوش و خروش پیدا ہو رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اپنے نو سالہ سیاسی حلیفوں پر مشتمل ایم آر ڈی کا تیاپانچہ کر کے اکیلی میدانِ انتخاب میں ڈٹی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلامی جمہوری اتحاد ہے جو اسلامی قوانین کی بالادستی، جہادِ افغانستان کی مکمل حمایت اور ایٹمی قوت کے حصول کے عزم کے ساتھ انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کا سامنا کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی جمہوری اتحاد، جمعیۃ کا جماعتی اتحاد اور حلقہ ۹۶

۴ نومبر ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

تحریک پاکستان کے رہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کے فکری جانشین اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلویؒ راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر باسٹھ سال تھی اور وہ تحریک پاکستان کے بزرگ راہنما، مفسر و محدث اور جید عالم دین مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے فرزند ارجمند تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

پیپلز پارٹی کے مستقبل کے عزائم، منشور کے آئینے میں

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو اور شریک چیئرپرسن مسز بے نظیر زرداری نے ۱۳ اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے۔ اخبارات کے مطابق دونوں بیگمات نے اپنے منشور میں اسلام کو دین، جمہوریت کو سیاست، سوشلزم کو معیشت، شہادت کو نصب العین اور عوامی اختیارات کو بنیاد قرار دیا ہے۔ معمولی لفظی ہیرپھیر کے ساتھ یہ وہی الفاظ ہیں جو مسٹر بھٹو نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں کہے تھے اور جن کا عملی مظاہرہ ان کے دورِ اقتدار میں خوب کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیپلز پارٹی کے مستقبل کے عزائم، منشور کے آئینے میں

۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

سیاسی تخریب کاریاں اور نگران حکومتیں

حکمران طبقہ کو سیاست کا شوق ضرور پورا کرنا چاہیے اور ’’ادھار کی وزارتوں‘‘ سے خوب لطف اٹھانا چاہیے مگر عارضی سہاروں کے چھننے کے خوف سے اس طرح کی کارروائیاں کروانا ملک میں نفرت کے جذبات ابھارنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان حالات میں جبکہ سیاسی فضا میں شکوک و شبہات، ابہام اور غیر یقینی کیفیت مسلط ہے، نگران حکمرانوں کو صرف نگران ہی رہنا چاہیے اور سیاسی راہنماؤں کو بھی اپنا فرض پہچاننا چاہیے۔ حالات کو جس رخ پر لے جایا جا رہا ہے یہ کسی بھی ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہو سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی تخریب کاریاں اور نگران حکومتیں

۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، نہ کوئی پیغمبرؑ اس سے محفوظ رہا اور نہ کوئی ولی اور قطب، اس نے آنا ہوتا ہے اور یہ آ کر رہتی ہے۔ یوں تو لاکھوں افراد اس دار فانی سے گزر جاتے ہیں مگر بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک عالم کو یتیم اور بے سہارا کر جاتی ہیں اور ایسی موت کی کسک اور تکلیف صدیوں تک محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ

۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ، اکوڑہ خٹک

غالباً ۳۰ اگست کی صبح کا قصہ ہے راقم الحروف نیویارک کے علاقہ بروک لین میں ضلع گجرات کے ایک دوست جناب محمد دین کے ہاں قیام پذیر تھا۔ صبح نماز سے پہلے کا وقت تھا، میرے ساتھ کمرہ میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی محو خواب تھے۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ گوجرانوالہ میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوں، تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ جناب ظفر علی ڈار میرے کمرہ میں آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ شریعت بل کے محرک مولانا سمیع الحق انتقال کر گئے ہیں۔ میں نے چونک کر پوچھا کہ مولانا سمیع الحق یا مولانا عبد الحق؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں مولانا عبد الحق کا انتقال گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ، اکوڑہ خٹک

۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

مسز بے نظیر زرداری اور علماء کرام / افغان جارحیت اور جنیوا معاہدہ

بدقسمتی سے ہماری سیاست اس وقت مکمل طور پر غیر ملکی حصار میں جکڑی ہوئی ہے۔ بڑے سیاسی راہنما غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ان کے اشارہ ابر پر چلنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ اس تگ و دو میں وہ دینی مسلمات اور صریح احکامات تک کو ہدف تنقید بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ لادین سیاسی نظریات کی حامل تنظیمیں تو ہمیشہ سے اسلامی تعلیمات اور قوانین و ضوابط کی تضحیک کو اپنا بہترین مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسز بے نظیر زرداری اور علماء کرام / افغان جارحیت اور جنیوا معاہدہ

۱۶ ستمبر ۱۹۸۸ء

والدہ ماجدہ کا انتقال

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی اہلیہ محترمہ اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف) کی والدہ مکرمہ کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی اور وہ کچھ عرصہ سے ذیابیطس او رہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ دو ہفتہ سے ان کی طبعیت زیادہ خراب تھی چنانچہ انہیں شیخ زاید ہسپتال لاہور میں داخل کرا دیا گیا مگر وہ تین چار روز بیہوش رہنے کے بعد وفات پا گئیں۔ ان کی نماز جنازہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے پڑھائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر والدہ ماجدہ کا انتقال

۲۹ اگست ۱۹۸۸ء

جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ

سترہ اگست کی شام کو ریڈیو پاکستان کی اس المناک خبر نے پوری قوم کو سکتہ کی کیفیت سے دوچار کر دیا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور کے قریب فضائی حادثہ میں دیگر کئی فوجی افسران کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق متعدد اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ بہاولپور ڈویژن میں فوجی مشقیں دیکھنے کے بعد بہاولپور سے بذریعہ طیارہ اسلام آباد واپس جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ

۱۹ اگست ۱۹۸۸ء

غیر جماعتی انتخابات اور سیاسی جماعتیں

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے عام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کے اعلان سے مایوسی اور تذبذب کی جو فضا ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں پیدا ہوگئی ہے اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی بھرپور شرکت کے امکانات پر شک و شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ بعض حلقے سرے سے عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر جماعتی انتخابات اور سیاسی جماعتیں

۵ اگست ۱۹۸۸ء

قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری / گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کے ڈرامہ کے ساتھ ہی ملک بھر میں مرزا طاہر احمد کے اس کتابچہ کی وسیع پیمانے پر تقسیم و اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ’’مباہلہ‘‘ کا چیلنج دے کر بظاہر اپنی پاک دامنی اور سچائی کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے۔ مباہلہ کا یہ چیلنج لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے مدیر ترجمان اسلام لاہور کو بھی موصول ہوا ہے، اس کا مفصل جواب آئندہ شمارہ میں دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری / گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

۵ اگست ۱۹۸۸ء

جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ علماء پاکستان کے راہنماؤں میں اہم مذاکرات

۱۳ جولائی ۱۹۸۸ء کو شام پانچ بجے دفتر جمعیۃ علماء پاکستان، سکندر روڈ، لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور جمعیۃ علماء پاکستان کے مرکزی راہنماؤں کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ اس گفتگو میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی طرف سے قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق، مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف)، مولانا فداء الرحمان درخواستی اور میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، جبکہ جمعیۃ علماء پاکستان کی طرف سے صدر جمعیۃ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، شاہ فرید الحق، ریٹائرڈ جنرل کے ایم اظہر اور دیگر راہنما شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ علماء پاکستان کے راہنماؤں میں اہم مذاکرات

جولائی ۱۹۸۸ء

مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

جہاں تک مولانا محمد اسلم قریشی کی سلامتی اور واپسی کا تعلق ہے اس پر ہر طبقہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں جو خدشات مسلسل باعث اضطراب بنے ہوئے تھے وہ دور ہوگئے ہیں مگر آئی جی پولیس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ازخود روپوش ہونے، اپنے بارے میں عوامی تحریک کا علم ہونے کے باوجود واپس نہ آنے، ایران کی فوج میں بھرتی ہونے اور اچانک واپس آنے کی جو کہانی بیان کی ہے اسے ملک کے دینی و عوامی حلقوں میں بے یقینی اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

جولائی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۸ و ۲۹

ایم آر ڈی کے بیس نکات اور مولانا فضل الرحمان

روزنامہ جنگ لاہور ۹ جون ۱۹۸۸ء میں صفحۂ اول پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ایم آر ڈی (موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) کے راہنما مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم آر ڈی کے کنوینر مسٹر معراج محمد خان نے ایم آر ڈی کے پروگرام پر مشتمل جن ۲۰ نکات کا اعلان کیا ہے ان کے ساتھ ایک ۲۱ واں نکتہ بھی طے پایا تھا جو ان نکات سے حذف کر دیا گیا ہے اور وہ نکتہ اسلامی نظام کے بارے میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایم آر ڈی کے بیس نکات اور مولانا فضل الرحمان

جون ۱۹۸۸ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

ہم ان سطور میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے زیادہ مسرت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ایسی مؤثر پیش رفت ہو جس سے ملک کے قانونی، عدالتی اور معاشی نظام میں کوئی عملی تبدیلی بھی نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ گیارہ سال سے اس ضمن میں ہونے والے اسلامی اقدامات اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور انہی تجربات کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقے اس نئے او ربظاہر بہت اہم اقدام کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۵

گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری

گلگت میں رمضان المبارک کے آخر میں سنی شیعہ کشیدگی میں جو اچانک اضافہ ہوا تھا وہ بالآخر خونریز فسادات پر منتج ہوا اور سینکڑوں افراد کی جانیں ان فسادات کی نذر ہوگئیں۔ سینکڑوں جانوں کی بھینٹ وصول کرنے والے ان فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب کیا ہیں اور کون عناصر ان کے ذمہ دار ہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ سنی محاذ کا ایک وفد اس ہفتہ کے دوران گلگت جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں حتمی بات اس وفد کی رپورٹ کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۲

اقبالؒ کے نام پر فتنہ خیزی

ماہِ رواں کی اکیس تاریخ کو علامہ محمد اقبال مرحوم کی پچاسویں برسی منائی گئی اور حسب معمول مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس موقع پر لاہور کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند اور سپریم کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے حسب سابق اپنے اس موقف کو علامہ اقبالؒ کے حوالہ سے دہرایا کہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق پورے دین کی نئی تعبیر و تشریح ضروری ہے اور یہ کام اجتہاد کے نام پر پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کے نام پر فتنہ خیزی

۶ مئی ۱۹۸۸ء

کمیونزم نہیں اسلام

کمیونزم ایک انتہا پسندانہ اور منتقمانہ نظام کا نام ہے جو سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مظالم کے ردعمل کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔ محنت کشوں اور چھوٹے طبقوں کی مظلومیت اور بے بسی کو ابھارتے ہوئے اس نظام نے منتقمانہ جذبات اور افکار کو منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ کھیل اسلامی ممالک اور پاکستان میں بھی کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام اپنی تمام تر خرابیوں اور مظالم کے ساتھ آج بھی نافذ ہے اور اس ظالمانہ نظام نے انسانی معاشرت کو طبقات میں تقسیم کر کے انسان پر انسان کی خدائی اور بالادستی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کمیونزم نہیں اسلام

مئی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۱۹ و ۲۰

جنیوا معاہدہ / کویت پر ایران کا حملہ

وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنیوا معاہدہ پر اپنی حکومت کے موقف کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’جنیوا معاہدہ نہ تو بہترین ہے اور نہ ہی جامع۔ تاہم موجودہ حالات کے تحت اس سے بہتر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘ اسی موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ مسٹر زین نورانی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت نئی افغان حکومت میں مجاہدین اور ان کے رفقاء کی بھرپور شرکت کو نہیں روک سکے گی۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۲۱ اپریل ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنیوا معاہدہ / کویت پر ایران کا حملہ

۲۹ اپریل ۱۹۸۸ء

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو مارچ ۱۹۸۸ء کے تیسرے ہفتہ کے دوران افغانستان کے محاذ جنگ پر جانے کا موقع ملا۔ وفد میں جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل مولانا حمید اللہ جان، صوبائی سالار قاری حضرت گل شاکر، گوجرانوالہ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام محمد، ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا عبد الرؤف فاروقی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مدیر سید احمد حسین زید، جامعہ حنفیہ قاسمیہ نارووال کے خطیب مولانا محمد یحییٰ محسن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما چوہدری غلام نبی اور ضلع گجرات سے میرے ایک عزیز عبد الرشید شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوست کے محاذ پر روسی افواج کی مزاحمت ۔ دورۂ افغانستان کی روداد

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

مسلم ممالک اور سودی نظام

صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کراچی میں مؤتمر عالم اسلامی کی نویں بین الاقوامی جنرل اسمبلی کا افتتاح کرتے ہوئے عالم اسلام کے مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا ہے اور اپنے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا بھی اظہار کیا ہے کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ جہاں اسلامی ممالک بھی قرضوں پر سود لیتے ہیں وہاں چین پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں پر کوئی سود نہیں لیتا۔‘‘ (روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک اور سودی نظام

۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ہے جو وطن عزیز میں قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی و راہنمائی میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ جمعیۃ کا تعلق علماء حق کے اس عظیم گروہ سے ہے جس نے برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر برٹش استعمار کے تسلط کے بعد آزادی کی دو سو سالہ جنگ کی قیادت کی اور قربانی و ایثار کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتے ہوئے بالآخر برطانوی سامراج کو اس خطہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۴ مارچ ۱۹۸۸ء

اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے اس پر سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی فل بینچ نے گیارہ روز بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رٹ پٹیشن کے دوران بے نظیر بھٹو کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے راہنما جناب یحییٰ بختیار نے دیگر متعلقہ امور کے علاوہ نظریۂ پاکستان کے حوالہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اپنی پارٹی کا نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جو بلاشبہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی

۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی

جہاں تک سانحۂ مکہ کے بارے میں ایرانی حکومت کے موقف کی وضاحت کا تعلق ہے، ایرانی راہنماؤں کو اس کا پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اس حق کو استعمال کرنے کا جواز رکھتے ہیں۔ لیکن ’’جرم بخشا نہ جائے گا‘‘ کے انتقامی لہجے کے ساتھ ’’حج کی بھرپور تیاری‘‘ اور ’’جلوس نکالنے‘‘ کا الٹی میٹم کسی طرح بھی گزشتہ واقعات کی وضاحت نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ایک کھلی دھمکی ہے جو پاکستان کی سرزمین پر دی گئی ہے۔ پاکستان کے عوام اور دینی حلقے حرمین شریفین کی مقدس سرزمین پر ایرانی عازمین کے سیاسی مظاہروں کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ مکہ اور ایرانی راہنما کی دھمکی

۱۲ فروری ۱۹۸۸ء

ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں ’اسلامی اتحاد کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک اجتماع میں ایران عراق جنگ کے حوالہ سے عراق کو جارح قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کانفرنس کا افتتاح صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا جبکہ مبینہ طور پر اس اجتماع میں ایرانی حکومت کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے مگر دوسرے فریق عراق کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس پس منظر میں جارح قرار دینے کی قرارداد انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی اور جانبدارانہ ہی قرار پا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایران عراق جنگ اور اسلامی اتحاد کانفرنس

فروری ۱۹۸۸ء

بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس‘‘ ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہو رہی ہے اور مرکزی دفتر میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور آزاد قبائل میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے علمبردار پورے جوش و خروش کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ مینارِ پاکستان کا یہ گراؤنڈ وہی تاریخی میدان ہے جس میں ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے پر مشتمل ’’قراردادِ پاکستان‘‘ منظور کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

فروری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۹ و ۱۰

خان عبد الغفار خان مرحوم

خان عبد الغفار خان مرحوم کا شمار برصغیر کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ آزادی کی جرأت مندانہ قیادت کی اور عزم و استقلال کے ساتھ قربانیوں اور مصائب و آلام کے مراحل طے کر تے ہوئے قوم کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے لیے قید و بند کی مسلسل صعوبتیں برداشت کیں اور تخویف و تحریص کے ہر حربہ کو ناکام بناتے ہوئے برٹش استعمار کو بالآخر اس سرزمین سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الغفار خان مرحوم

۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء

علامہ محمد اقبالؒ اور سردار محمد عبد القیوم خان

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ڈاکٹر جاوید اقبال اور سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقاریر کے حوالے سے جس افسوسناک بحث کا آغاز کیا تھا اس کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے اور نوئے وقت اس بحث کو بلاوجہ طول دے کر اس مطالبہ پر اصرار کر رہا ہے کہ سردار محمد عبد القیوم خان اپنی ناروے کی تقریر میں علامہ محمد اقبالؒ کی مبینہ توہین پر معافی مانگیں۔ جبکہ سردار صاحب کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کی توہین نہیں کی بلکہ علامہ اقبالؒ کے نام سے غلط نظریات اور گمراہ کن خیالات پیش کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس پر وہ کسی معذرت کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور سردار محمد عبد القیوم خان

۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء

قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

شیعہ سنی تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستان میں بھی ایک عرصے سے ماتمی جلوسوں اور تقریبات کے حوالہ سے مختلف شہروں میں یہ تنازعہ خونریز فسادات کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پڑوسی ملک ایران میں کامیاب مذہبی انقلاب کے بعد اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنازعہ مذہبی اختلاف کا لبادہ اتار کر اپنے اصل سیاسی روپ میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

جمعیۃ العلماء ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متوازی دھڑے کے ساتھ اختلافات کے خاتمہ اور جماعتی اتحاد کے لیے ایک بار پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس ضمن میں متعدد حضرات نے دونوں جانب سے خلوص کے ساتھ اس نیک مقصد کے لیے محنت کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے!

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقریر کے حوالہ سے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ غیر محتاط ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ علامہ اقبالؒ کے بعض نادان دوستوں کی اس نئی مہم کا فطری ردعمل ہے جو انہوں نے اقبالؒ کو پیغمبر اور فکر اقبالؒ کو وحی کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں شروع کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے!

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

قائم مقام وفاقی محتسب اعلیٰ جناب جسٹس شفیع الرحمان نے اپنے ایک حالیہ مقالہ میں موجودہ قانونی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ ’’قوانین اور طریق کار ایماندار اور بے ایمان دونوں طرح کے افراد پر برابر وزن ڈالتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بے ایمان افراد کو مدد ملتی ہے جبکہ ایماندار افراد کو کنارہ کشی کرنی پڑتی ہے یا مفاہمت کرنی پڑتی ہے یا پھر اس سارے عمل میں ایماندار فرد اپنی ایمان داری سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے‘‘۔ (بحوالہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

مرزا طاہر احمد نے اس مقصد کے لیے لندن کو اپنی عالمی تحریک کا مرکز بنایا لیکن برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی بیداری اور سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے مسلسل انعقاد کی وجہ سے برطانوی رائے عامہ کو اپنے ڈھب پر لانے میں اسے کامیابی نہ ہوئی۔ البتہ جنیوا کے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن سے ایک قرارداد منظور کرانے میں قادیانی گروہ کامیاب ہوگیا جس میں قادیانیوں کے بارے میں مذکورہ آئینی و قانونی اقدامات کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر ان کی واپسی کے لیے زور دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

افغان حریت پسندوں کا جہادِ آزادی: پس منظر، ثمرات اور توقعات

آج سے آٹھ سال قبل جب روس نے افغانستان کو اپنی مسلح فوجی یلغار کا نشانہ بنایا تو روس کی عظیم فوجی قوت، افغانستان میں کمیونسٹ لابی کے مؤثر اور مسلسل ورک، اور دینی حلقوں کے نمایاں خلفشار و انتشار کو دیکھتے ہوئے یہ بات عام طور پر زبانوں پر آگئی تھی کہ اب بخارا، تاشقند اور سمرقند کی طرح افغانستان کا یہ خطہ بھی روس کے زیر تسلط مسلم ریاستوں کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ کیونکہ بظاہر افغانستان میں کوئی ایسی قوت دکھائی نہیں دے رہی تھی جو کمیونسٹ لابی کے تسلط اور روسی افواج کی مداخلت کا سامنا کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان حریت پسندوں کا جہادِ آزادی: پس منظر، ثمرات اور توقعات

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

بلدیاتی انتخابات اور مسلم لیگ

حکومت نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کا اعلان کیا تو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے اسے غیر اصولی فیصلہ قرار دینے کے باوجود میدان کو خالی نہ چھوڑتے ہوئے ان میں حصہ لیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی اپنے کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایات جاری کر دیں جن کے بحمد اللہ تعالیٰ خاطر خواہ اثرات ظاہر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلدیاتی انتخابات اور مسلم لیگ

۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء

قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے

سراغرسانی اور تفتیش کے سرکاری اداروں کا کام صرف سیاست دانوں اور علماء کا پیچھا کرنا نہیں بلکہ وطن دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا تعاقب کرنا اور ان کو بے نقاب کر کے ملک و قوم کو ان سے بچانا بھی ان اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ مندرجہ بالا سنگین امور کے بارے میں صحیح صورتحال کی وضاحت کر کے عوام کو مطمئن کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے

۱۱ دسمبر ۱۹۸۷ء

ایم آر ڈی اور علماء حق

ایم آر ڈی کے حالیہ اجلاس نے ان حلقوں کی خوش فہمی کو ختم کر دیا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ تحریک بحالیٔ جمہوریت کے نام سے متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر آئندہ انتخابات میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ اور کراچی کے اجلاس میں ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے یہ بات اور زیادہ واضح کر دی ہے کہ یہ سیاسی اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایم آر ڈی اور علماء حق

۴ دسمبر ۱۹۸۷ء

ایم آر ڈی اور علماء حق

ایم آر ڈی کے کراچی کے حالیہ اجلاس نے ان حلقوں کی خوش فہمی کو ختم کر دیا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ تحریک بحالیٔ جمہوریت کے نام سے متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر آئندہ انتخابات میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ جبکہ کراچی کے اجلاس کے بعد ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے یہ بات اور زیادہ واضح کر دی ہے کہ یہ اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اور اب اس میں مزید آگے چلنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایم آر ڈی اور علماء حق

دسمبر ۱۹۸۷ء ۔ جلد ۳۰ شمارہ ۴۸

اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

علامہ محمد اقبال مرحوم کو پاکستان کے عوام ایک مخلص قومی مفکر اور راہنما کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جس نے برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمانوں کے ملی جذبات کو ابھارنے اور ان میں عظمت رفتہ کی بحالی کا احساس اجاگر کرنے کے لیے مسلسل محنت کی اور اس خطۂ زمین کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کر کے تحریک پاکستان کی فکری بنیاد رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء

زندہ باد افغان مجاہدین / اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر افغانستان سے روسی افواج کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس دفعہ یہ مطالبہ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ کیا گیا ہے جو یقیناً افغان مجاہدین کی عظیم اصولی اور اخلاقی کامیابی ہے۔ روسی حکومت اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کچھ عرصہ سے جنگ بندی کی یکطرفہ پیشکش اور قومی افغان مصالحت کے عنوان سے سیاسی حربے اختیار کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی کہ روس اپنی افواج واپس بلانے کے لیے تیار ہے لیکن افغان مجاہدین قومی مصالحت کی طرف پیش رفت نہ کر کے روسی افواج کی واپسی میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زندہ باد افغان مجاہدین / اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

امورِ داخلہ کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز نے روزنامہ جنگ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ’’حکومت کے علم میں لایا گیا ہے کہ تخریب کاروں کے ایک گروہ نے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر ملک میں وسیع پیمانے پر فساد بپا کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء) ۔ ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کے پس منظر میں وفاقی وزیر مملکت کا یہ خدشہ اگرچہ کچھ زیادہ خلافِ قیاس نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت کا رویہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟ مکمل تحریر فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

۶ نومبر ۱۹۸۷ء

الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

شام کے مجاہد عالم دین اور اسلامی محاذ شام کے سیکرٹری جنرل الشیخ محمد غیاث ابوالنصر البیانوی گزشتہ دنوں بیالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق حلب کے ایک ممتاز علمی گھرانے سے ہے، ان کے والد محترم الشیخ احمد الدین البیانویؒ اور دادا محترم الشیخ عیسیٰ البیانویؒ اپنے وقت کے ممتاز علماء اور روحانی پیشواؤں میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

بنوری ٹاؤن کا المیہ

گزشتہ ہفتہ کراچی میں اہلِ تشیع کے چہلم کے جلوس کے موقع پر جو کچھ ہوا اس پر پورے ملک میں افسوس اور اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ جیسے عظیم دینی و علمی ادارے پر پولیس اور فوج کی کارروائی سے ایک نوجوان کی شہادت، نصف درجن کے قریب نوجوانوں کے زخمی ہونے اور مسجد کے قالین جل جانے کے سانحہ نے اس کرب و اضطراب کو دوچند کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنوری ٹاؤن کا المیہ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

دوبئی میں ۱۶ اگست کو روزنامہ جنگ کراچی میں یہ افسوسناک خبر پڑھی کہ پاکستان کے معروف دینی راہنما اور خطیب مولانا عبد الشکور دین پوریؒ ۱۴ اگست کو انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کے برادرِ نسبتی تھے اور ملک کے نامور اور صاحب طرز خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اچھا خاصا ذخیرہ انہیں یاد تھا اور اپنے خطابات میں موقع محل کی مناسبت سے ان کا بیان کرتے تھے۔ ان کی تقریر ہم قافیہ اور مترادف الفاظ سے بھرپور ہوتی تھی لیکن لفاظی کے ساتھ ساتھ تقریر میں مواد بھی خاصا ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

مولانا عبد العزیزؒ

مولانا عبد العزیزؒ ایران میں اہل سنت کے سب سے بڑے عالم دین تھے اور متعدد مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے صاحبِ فراش تھے اور اسی سال جنوری میں ایران کے دورہ کے موقع پر مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی اور راقم الحروف نے وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ تہران میں مولانا عبد العزیزؒ سے ملاقات اور ان کی بیمار پرسی کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد العزیزؒ

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

مجھے نیویارک پہنچے آج ساتواں روز ہے۔ محترم مولانا میاں محمد اجمل قادری بھی تین روز قبل یہاں پہنچ چکے ہیں۔ میاں صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے کنیڈا چلے گئے تھے اور ایک ہفتہ تک وہاں مختلف شہروں میں مسلمان راہنماؤں اور شہریوں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ انہوں نے متعدد اجتماعات سے خطاب کیا اور اس کے بعد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن اور ایک اور شہر مشی گن سے ہوتے ہوئے نیویارک پہنچے ہیں اور اب ہم دونوں مل کر اس وسیع و عریض شہر کے مختلف حصوں میں دوستوں سے ملاقاتیں اور اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

ستمبر ۱۹۸۷ء

ارشد پرویز کیس

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں امریکہ کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ عالمی طاقتوں کی اس مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمِ اسلام کو ایٹمی قوت سے بہرحال محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ ایٹمی فولاد کی سمگلنگ کے سلسلہ میں ارشد پرویز کا مبینہ کیس ایک سازش کے تحت کھڑا کیا گیا ہے جس کا مقصد ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلہ میں پاکستان کی جائز کوششوں پر اثر انداز ہونا ہے اور اس دباؤ کو بڑھانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارشد پرویز کیس

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کی وفات

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء کو جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ملک کے معروف خطیب و مقرر، جید عالم دین، اسلامی مشن بہاولپور کے سربراہ جمعیۃ علماء اہل سنت کے امیر اور جمعیۃ علماء اسلام کے معروف راہنما الحاج مولانا عبد الشکور دین پوری راہیٔ ملک عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کی وفات

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

جہادِ افغانستان اور عالمِ اسلام

جہاد اسلام کے بنیادی احکام میں سے ایک حکم ہے جس پر ملت اسلامیہ کی سطوت و شوکت اور غلبہ و اقتدار کا دارومدار ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے جہاد کے احکام و مسائل اسی تفصیل و اہتمام کے ساتھ ذکر فرمائے ہیں جس تفصیل و اہتمام کے ساتھ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر احکام شرعیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرونِ اولیٰ میں اسلام کے احکام کا ذکر جب بھی ہوتا تھا جہاد کا ذکر ان کے ساتھ ہوتا تھا اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد میں فکری یا عملی طور پر کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادِ افغانستان اور عالمِ اسلام

۲۱ اگست ۱۹۸۷ء

کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

کراچی میں بموں کے افسوسناک دھماکوں میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی المناک شہادت کے بعد شمال مغربی سرحد پر واقع قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے اضطراب انگیز سانحہ نے پوری قوم کے دلوں کو کرب و اضطراب کی ناقابل برداشت کیفیت سے دوچار کر دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی لابیاں پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء

اور اب کراچی؟

ملک کے امن و امان اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ کے احساس سے یکسر محروم کر دینے والے ان دھماکوں کے پسِ منظر کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی افغان پالیسی سے لے کر ملک میں نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے کی تیاری تک کی باتیں اس ضمن میں سامنے آرہی ہیں مگر ان تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری اس سلسلہ میں کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب کراچی؟

۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء

شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ روزنامہ مشرق لاہور ۲۷ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے شریعت بل کے بارے میں عوامی رابطہ کے عنوان سے وزراء کے ملک گیر دوروں کا پروگرام طے کیا ہے اور اس پروگرام کی تکمیل تک سینٹ کے اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزراء کے ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔ اس خبر کے حوالہ سے آنجناب کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

۳ جولائی ۱۹۸۷ء

سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

ملک کے دینی و قومی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی رنج و غم کا باعث ہوگی کہ تحریک آزادی کے ممتاز شاعر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق اور دینی قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بزرگ راہنما سائیں محمد حیات پسروری گزشتہ روز طویل علالت کے بعد پسرور میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

جولائی ۱۹۸۷ء

وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خان نے گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم حزب الاحناف کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے کیونکہ شریعت کا نفاذ اس روز سے شروع ہو گیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہر مسلمان کا کام یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق کام کرے اور دوسروں کو بھی تلقین کرے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

۲۶ جون ۱۹۸۷ء

نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

متحدہ شریعت محاذ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ۷ جون ۱۹۸۷ء کو محاذ کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں صبح دس بجے منعقد ہو رہا ہے جس میں ۲۷ رمضان المبارک تک ’’شریعت بل‘‘ منظور نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق حکومت کے خلاف ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا عملی طریقِ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ۶ جون کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں زیربحث آنے والے امور میں بھی اہم ترین مسئلہ راست اقدام کی تحریک کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

۵ جون ۱۹۸۷ء

حافظ جی حضورؒ

بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین حافظ جی حضورؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۹۰ برس سے متجاوز تھی اور وہ آخر دم تک نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ حافظ جی حضورؒ حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کے خلفاء میں سے تھے اور ایک بڑی دینی درسگاہ کے سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ جی حضورؒ

جون ۱۹۸۷ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے وسط میں واقع ڈسکہ ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں زرعی مشینری کے آلات اور لوہے کی الماریوں کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے، اس کے علاوہ یہ شہر ہسپتالوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ اور اس کی شہرت کا ایک اور بھی باعث ہے اور وہ ہے بین الاقوامی شہرت کے قادیانی لیڈر آنجہانی ظفر اللہ خان ڈسکہ کے رہنے والے تھے اور آج بھی ان کا بیشتر خاندان ڈسکہ میں رہائش پذیر ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو قیام پاکستان سے قبل سرکاری حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

۸ مئی ۱۹۸۷ء

جامعہ انوار القرآن، نارتھ کراچی

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کو اللہ رب العزت نے علم حدیث کے خصوصی شغف کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے قیام اور سرپرستی کا جو ذوق عطا فرمایا ہے اس کے مظاہر ملک کے مختلف حصوں میں بے شمار چھوٹے بڑے مدارس کی صورت میں نظر آتے ہیں، جن مدارس کے قیام کی تحریک حضرت درخواستی مدظلہ کی طرف سے ہوئی یا عملی سرپرستی کرتے ہوئے حضرت مدظلہ نے لوگوں کو ان مدارس کی معاونت کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ حضرت مدظلہ کی سرپرستی میں کام کرنے والے دینی مدارس کی تعداد بلاشبہ سینکڑوں سے متجاوز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ انوار القرآن، نارتھ کراچی

۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء

وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو کے نام کھلا خط

باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت جناب محمد خاں جونیجو صاحب، وزیراعظم حکومت پاکستان اسلام آباد۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ قومی اخبارات کی ۱۳ اپریل ۱۹۸۷ء کی اشاعت کے مطابق آنجناب نے اپنے حالیہ دورۂ برطانیہ کے دوران بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سینٹ آف پاکستان میں علماء کے پیش کردہ شریعت بل کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ’’میں شریعت بل کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے ایک فرقہ کی بالادستی قائم ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو کے نام کھلا خط

۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء

’’ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘

گزشتہ سال اکتوبر کے دوران دارالعلوم دیوبند میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں پاکستان سے سرکردہ علماء کرام کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر بعض رکاوٹوں کے باعث بیشتر حضرات شرکت نہ کر سکے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے اس کانفرنس کے لیے مندرجہ بالا عنوان پر مقالہ تحریر فرمایا مگر نہ شرکت فرما سکے اور نہ ہی مقالہ وہاں بھجوانے کا اہتمام ہو سکا۔ چنانچہ یہ مقالہ مکتبہ حنفیہ گوجرانوالہ نے شائع کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘

۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

مولانا فضل رازقؒ

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل رازقؒ

۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ بھی طویل علالت کے بعد چل بسے اور وہاں کا رختِ سفر باندھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ مفتی صاحبؒ کم و بیش دس برس سے فالج، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے اور علالت کے طویل دور سے گزرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کو جناح میموریل ہسپتال گوجرانوالہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات

۳۱ دسمبر ۱۹۸۳ء

شاہ خالد مرحوم

گزشتہ دنوں اسلامی کانفرنس کے سربراہ اور سعودی عرب کے فرمانروا جلالۃ الملک شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ خالد چند سال قبل اپنے مرحوم بھائی شاہ فیصل کی شہادت پر ان کے جانشین بنے تھے اور علالت کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ اپنے شہیدؒ بھائی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور ان کی پالیسیوں پر گامزن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ خالد مرحوم

۲۵ جون ۱۹۸۲ء

حضرت مولانا محمد زکریاؒ

یہ خبر پورے عالم اسلام کے لیے انتہائی صدمہ اور گہرے رنج و غم کا باعث بنی ہے کہ ملت اسلامیہ کے بزرگ رہنما، تبلیغ اسلام کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے سرپرست اعلیٰ، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ ۲۴ مئی کو مدینہ منورہ میں طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد زکریاؒ

۲۸ مئی ۱۹۸۲ء

ارباب سکندر خان خلیل شہید

صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور ملک کے معروف سیاسی رہنما ارباب سکندر خان خلیل گزشتہ روز صبح کے وقت جبکہ وہ معمول کے مطابق سیر کر رہے تھے، قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارباب صاحب مرحوم کا شمار بااصول، معتدل مزاج اور ایثار پیشہ راہنماؤں میں ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارباب سکندر خان خلیل شہید

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس ہو چکا ہے۔ مفتی محمودؒ بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے لیکن ان کی صلاحیتیں اور خوبیاں اس قدر متنوع تھیں کہ ان کے باعث موافق اور مخالف سب حلقوں میں ان کا دلی احترام پایا جاتا تھا اور ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی ان کے علم، تدبر اور حوصلہ کا معترف تھا۔ مرحوم کا نمایاں وصف ٹھوس اور ہمہ گیر علم تھا جو انہوں نے اپنے وقت کے جید علماء اور اساتذہ کی صحبت میں حاصل کیا اور پھر اسے افتاء و تدریس کی برس ہا برس کی علمی و تجرباتی زندگی میں پختہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۱ء

چودھری ظہور الٰہی شہیدؒ

چودھری ظہور الٰہی مرحوم نے پاکستان کی قومی سیاست میں جو سرگرم کردار ادا کیا ہے اور قومی تحریکات میں جس جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوتے رہے ہیں اس کے باعث قومی حلقوں میں ان کی المناک موت اور وحشیانہ فائرنگ کی اس مذموم کاروائی پر گہرے رنج و غم اور شدید غم و غصہ کے جذبات کا مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا شمار ان معدودے چند لیگی راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مخلصانہ روش، تحمل، رواداری اور اجتماعی سوچ کے باعث کم و بیش سبھی محب وطن حلقوں سے احترام اور اعتماد حاصل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چودھری ظہور الٰہی شہیدؒ

۹ اکتوبر ۱۹۸۱ء

مولانا سید امین الحقؒ

مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے تھے اور حضرت لاہوریؒ اور ان کے خانوادہ کے ساتھ مرحوم کا والہانہ تعلق آخر دم تک قائم رہا ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید امین الحقؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ

ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھے کہ وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد شریف جالندھریؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

گزشتہ دنوں ہمیں فرشتہ اجل نے ملک کی دو قیمتی علمی و دینی شخصیتوں سے محروم کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

اہلیہ محترمہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

ماہنامہ البلاغ کراچی کے مطابق حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی اہلیہ محترمہ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحئی صاحب نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں اور علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہلیہ محترمہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

۷ جولائی ۱۹۸۱ء

ضیاء الرحمان شہید

بنگلہ دیش کے صدر جناب ضیاء الرحمان کو گزشتہ دنوں، جب وہ چٹاگانگ کے دورہ پر تھے، فوج کے بعض افسروں کی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ بغاوت، جس کی قیادت میجر جنرل منظور احمد کر رہا تھا، بنگلہ دیش فوج کی مداخلت کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ جنرل منظور احمد خود قتل ہوگیا ہے جبکہ اس کے رفقاء بنگلہ دیش حکومت کی حراست میں ہیں جن پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ضیاء الرحمان شہید

۱۲ جون ۱۹۸۱ء

مولانا محمد صدیق شہیدؒ

ٹیکسلا ضلع راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد صدیق کو گزشتہ دنوں جب وہ تعلیم القرآن ہائی سکول میں بچوں کو پڑھانے کے بعد گھر جا رہے تھے، راستہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد صدیق شہیدؒ

۲۹ مئی ۱۹۸۱ء

مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

قائدِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے ان کی جو امتیازی خصوصیات او رنمایاں پہلو دکھائی دیتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مرحوم نے قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہو کر خود کو اس میں جذب نہیں کر دیا بلکہ وہ اس دھارے کو اپنے عزائم اور مقاصد کی طرف موڑنے میں کامیاب بھی رہے۔ اور اگر آپ آج سے پچیس سال قبل کی قومی سیاست کا آج کی قومی سیاست سے موازنہ کریں گے تو ان نمایاں تبدیلیوں کے پس منظر میں مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد جھلکتی نظر آئے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

۱۷ اپریل ۱۹۸۱ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر تعزیتی قرارداد

مجلس شوریٰ کے اجلاس میں قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے پرنم آنکھوں اور مضطرب دلوں کے ساتھ قائد مرحوم کے مشن پر کاربند رہنے کا عزم کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اس موقع پر انتہائی رقت انگیز فضا میں مندرجہ ذیل قرارداد کے ذریعہ حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کی دینی، سیاسی اور علمی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر تعزیتی قرارداد

۱۹ دسمبر ۱۹۸۰ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۷ نومبر ۱۹۸۰ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۷ نومبر ۱۹۸۰ء

حضرت مولانا محمد حیاتؒ

مولانا محمد حیاتؒ ایک اولوالعزم انسان تھے جنہوں نے علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی پیروی میں علمی محاذ پر قادیانیت کے تعاقب کو اپنا مشن بنایا اور پھر اپنا تمام تر علم و فضل، قوت و توانائی اور صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دیں۔ احرار کی قیادت نے انہیں قادیان میں اپنے مشن کے لیے بھیجا تو ان کی جرأت و استقامت نے ’’فاتح قادیان‘‘ کے خطاب کو ہمیشہ کے لیے ان کے سینے کا تمغہ بنا دیا۔ دیکھنے میں ایک بھولا سا جاٹ مگر عزم و ہمت کا پیکر یہ مرد درویش اپنے وقت کا عظیم مناظر تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد حیاتؒ

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

مولانا عبد الحئیؒ آف بھوئی گاڑ

گزشتہ دنوں مولانا حکیم مفتی عبد الحئی آف بھوئی گاڑ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم کا تعلق قافلہ حق و صداقت سے تھا اور وہ اپنے علاقہ میں حق پرست قافلہ کے باہمت اور جری سالار تھے۔ انہوں نے ہر دینی و قومی تحریک میں قائدانہ حصہ لیا اور صبر و استقلال کی روایات زندہ کیں۔ وہ کفر و الحاد کے ہر وار کے سامنے علاقہ کے عوام کے لیے ڈھال بنے۔ وہ (جسمانی طور پر) معذور تھے لیکن انتخابی و تحریکی مہموں میں جماعتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے میدانی اور پہاڑی راستوں کو اپنے ناتواں قدموں تلے روند ڈالا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الحئیؒ آف بھوئی گاڑ

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

خان محمد کمتر مرحوم

شاعر تنظیم اہل سنت اور مداح صحابہؓ جناب خان محمد کمتر کی وفات بھی اہل حق کے لیے کچھ کم صدمہ کا باعث نہیں۔ مرحوم نے رفض و تشیع کے عروج اور جارحیت کے دور میں مدح صحابہ کرامؓ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور پھر اس مشن میں شب و روز سفر کرتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان محمد کمتر مرحوم

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

مولانا ابوبکر شہیدؒ

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کی وفات کے دوسرے روز ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے یہ روح فرسا خبر نشر کی کہ بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا ابوبکر آف خضدار انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ابوبکر شہیدؒ

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

کمیونزم کا خطرہ اور ہمارا موجودہ نظام

روزنامہ نوائے وقت کی ۱۷ اپریل کی اشاعتِ ملی میں ’’کمیونزم اور سوشلزم کے سبز باغ‘‘ کے عنوان سے منشی عبد الرحمان خان صاحب کا مضمون نظر سے گزرا جس میں بعض باتیں اگرچہ مبالغہ آمیز ہیں، مثلاً مصر کے صدر ناصر مرحوم کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ انہوں نے سوشلزم کے خلاف فتوے دینے سے علماء ازہر کو حکماً روک دیا، جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ناصر مرحوم کے دورِ حکومت میں مصر میں ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ مسلسل خلاف قانون رہی اور روسی وزیراعظم مسٹر خروشچیف اپنے دورۂ مصر کے موقع پر بار بار اصرار کے باوجود ناصر مرحوم کو کمیونسٹ پارٹی پر عائد پابندی ہٹانے پر آمادہ نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کمیونزم کا خطرہ اور ہمارا موجودہ نظام

۹ مئی ۱۹۸۰ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے چھ برس ہوگئے ہیں مگر ان کی متحرک اور جری و جسور شخصیت ابھی تک نگاہوں کے سامنے پھر رہی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی وہ ساتھ بیٹھے کام کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر باہر چلے گئے ہوں۔ دراصل شہیدؒ نے مختصر سی عملی زندگی میں اپنے اکابر احباب اور رفقاء کے دلوں میں جرأت و جسارت اور غیرت و حمیت کے کچھ ایسے نقوش قائم کر دیے ہیں کہ بڑے سے بڑے زخم کو مندمل کر دینے والا مرہم ’’وقت‘‘ بھی ان کی جدائی کے صدمہ کی شدت کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

۲۱ مارچ ۱۹۸۰ء

شہنشاہیت کے خلاف ایرانی عوام کی جدوجہد

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم ہے کہ شاہ ایران کی قائم کردہ متعدد حکومتیں فوجی طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد دستبردار ہو چکی ہیں۔ مگر تحریک کی شدت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور یوں محسوس مکمل تحریر شہنشاہیت کے خلاف ایرانی عوام کی جدوجہد

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

کشمیر کا مسئلہ، بھارتی وزیرخارجہ اٹل بہاری باجپائی کی دھمکی

بھارتی وزیرخارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فضول باتیں کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کے حق خود ارادیت کی بات کر کے آگ سے کھیل رہا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اقوام متحدہ نوآبادیوں کی فہرست سے کشمیر کا نام خارج کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر کا مسئلہ، بھارتی وزیرخارجہ اٹل بہاری باجپائی کی دھمکی

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

برمی مسلمانوں پر مظالم

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برمی مسلمانوں پر مظالم

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

اے ایف پی کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ جولائی میں جنوبی انگلستان کے شہر اولڈم میں پیدا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق انسانی بیضے کی رحم مادر سے باہر پرورش کا یہ تجربہ دو ڈاکٹروں نے انجام دیا ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کا کامیاب تجربہ کرنے والا انسانی ذہن اب نسل انسانی کو مصنوعی نسل کشی کے تجربات سے گزارنے کے درپے ہے اور یہ بات انسانی ذہن کی بوالعجبی کا ایک عجیب و غریب نمونہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

سیاسی جماعتوں کی تعداد میں کمی کی تجویز

اگر ہمارے ہاں سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ آزادانہ طور پر جاری رہتا تو تین چار عام انتخابات کے بعد ملک گیر سطح پر عوام سے منظم رابطہ رکھنے والی تین چار سیاسی جماعتیں خود بخود سامنے آجاتیں اور بے عمل و غیر منظم سیاسی گروپ عملی سیاست سے ’’ناک آؤٹ‘‘ ہو جاتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور چند عہدہ داروں، منشور، دستور، ایک آدھ دفتر اور سیاسی بیانات کی کاغذی دیواروں پر قائم ہونے والی بے شمار پارٹیاں ’’برساتی کھمبیوں‘‘ کی طرح نمودار ہوتی چلی گئیں جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی گروپوں میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی جماعتوں کی تعداد میں کمی کی تجویز

۷ اپریل ۱۹۷۸ء

مجددِ زمان کا فتنہ / اسرائیل کی تازہ جارحیت / اصلاحی کمیٹیاں

کچھ دنوں سے اخبارات میں ’’سحر‘‘ نامی ایک پندرہ روزہ کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں بعض قومی قائدین کی موت اور لاہور سمیت کچھ شہروں کی تباہی کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک ہم اسے مزاحیہ قسم کا کوئی جریدہ سمجھتے رہے ہیں جو اس قسم کی حرکات سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر آج ہی ایک بزرگ کے پاس ’’سحر‘‘ کا تازہ شمارہ دیکھ کر اس کا کچھ دیر مطالعہ کیا تو احساس ہوا کہ یہ کوئی مزاحیہ یا بلیک میلر قسم کا جریدہ نہیں بلکہ ایک مستقل فتنہ کی آبیاری کوشش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجددِ زمان کا فتنہ / اسرائیل کی تازہ جارحیت / اصلاحی کمیٹیاں

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے ۱۳ مارچ ۱۹۷۸ء کو چار برس ہو جائیں گے لیکن ان کی جرأت و استقامت اور عزم و استقلال کے مظاہر ابھی تک نظروں کے سامنے ہیں او ریوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں متحرک ہیں اور سرگرم ہیں کہ جرأت و جسارت کا ہر واقعہ ان کی یاد کو دل میں تازہ کیے دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

افغان صدر محمد داؤد کا دورۂ پاکستان

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان صدر محمد داؤد کا دورۂ پاکستان

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا ابوالکلام آزادؒ پر الزام / نوائے وقت کا طرز عمل/ گھر بیٹھے تنخواہ

لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ابوالکلام آزادؒ پر الزام / نوائے وقت کا طرز عمل/ گھر بیٹھے تنخواہ

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، اور بعض ناعاقبت اندیش پولیس آفیسرز نے تحقیقات کو غلط رخ پر لے جا کر معاملہ کو گول کرنے کی جو مذموم کوشش کی تھی وہ بحمد اللہ ناکام ہوگئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی۔ کچھ عرصہ سے حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جانے کے رجحان نے جو وسعت اور ہمہ گیری پیدا کی ہے اس کے پیش نظر مذکورہ بالا ضابطہ کا اثر سب سے زیادہ شاید پاکستانیوں پر پڑے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

جنرل محمد ضیاء الحق کا عزم اور سول انتظامیہ

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں قومی سیرت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت اسلامی نظام کی ترویج کے ضمن میں ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوگی اور اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ (نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۲ فروری ۱۹۷۸ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل محمد ضیاء الحق کا عزم اور سول انتظامیہ

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

کراچی کا فساد / ریڈیو اور ٹیلی ویژن / حنیف رامےصاحب کی نئی تجویز / پاور لومز کی صنعت

جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کا فساد / ریڈیو اور ٹیلی ویژن / حنیف رامےصاحب کی نئی تجویز / پاور لومز کی صنعت

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

جمعیۃ علماء اسلام حق پرست علماء اور دین دار کارکنوں کی ایسی تنظیم ہے جس کی فکری بنیاد علماء کے شاندار ماضی اور اہل حق کے مجاہدانہ کردار پر ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام اپنی موجودہ ہیئت و حیثیت میں دراصل اسی قافلۂ حق و صداقت اور کاروانِ عزمِ وفا کا ایک حصہ ہے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں فرنگی حکومت و نظام کے خلاف جرأت مندانہ جنگ لڑی، اور اب فرنگی حکومت سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد فرنگی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ و رائج کرنے کی مقدس جدوجہد میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

۳ فروری ۱۹۷۸ء

خان عبد الولی خان اور پنجاب

ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الولی خان اور پنجاب

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین / ایٹمی پلانٹ او رامریکہ / ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ / قبائلی علاقوں سے انصاف

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں۔ پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے بھی ایک بیان میں حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین / ایٹمی پلانٹ او رامریکہ / ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ / قبائلی علاقوں سے انصاف

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

دکانداروں کا قصور؟ / بدحواسی یا کچھ اور؟ / بیرون ملک جانے کا جنون / حلال کی کمائی

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دکانداروں کا قصور؟ / بدحواسی یا کچھ اور؟ / بیرون ملک جانے کا جنون / حلال کی کمائی

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان

پاکستان میں بیلٹ بکس ابھی تک وہ اعتماد کیوں حاصل نہیں کر سکا جو ایک جمہوری ملک میں اسے ملنا چاہیے؟ یہ سوال نزاکت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اہم اور ناگزیر بھی ہے کہ پاکستان میں سیاست و جمہوریت کے مستقبل کا انحصار اس سوال پر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی شعور رکھنے والے ہر شخص کو بیلٹ بکس کے تقدس اور اعتماد کا سوال پریشان کیے ہوئے ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل تجرباتی دور سے گزر رہا ہے اور یہاں جمہوریت کی جڑیں ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیلٹ بکس پر عوامی اعتماد کا فقدان

۲۲ جولائی ۱۹۷۷ء

متحدہ جمہوری محاذ کی دو سالہ جدوجہد

متحدہ جمہوری محاذ کے باعزم رہنما ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں کہ اس دور میں بھی جمہوری اقدار کی سربلندی اور ملکی سالمیت کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ حکمران پارٹی اپنے اقتدار کو مضبوط اور شخصی آمریت کو مستحکم کرنے کی خاطر تمام سیاسی، اخلاقی اور جمہوری حدود و قیود کو خیرباد کہہ چکی ہے۔ محب وطن سیاسی رہنماؤں کے خلاف سرکاری ذرائع ابلاغ کا مکروہ پراپیگنڈا اور پولیس و فیڈرل فورس کے وحشیانہ مظالم ہٹلر اور مسولینی کی روح کو بھی شرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کی دو سالہ جدوجہد

۶ جون ۱۹۷۷ء

مذاکرات کس بات پر؟ / گولی کی زبان / زندہ باد مولانا محمد زکریا / آئین کا تقاضہ / گھر کا بھیدی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مذاکرات اور بات چیت کی دعوت بظاہر بڑی خوشنما ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس مسئلہ پر ہوں گے؟ قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان اصل مابہ النزاع مسئلہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا ہے جو سات مارچ کو منعقد ہوئے اور جن میں اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلیاں ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاکرات کس بات پر؟ / گولی کی زبان / زندہ باد مولانا محمد زکریا / آئین کا تقاضہ / گھر کا بھیدی

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن او رخان عبد القیوم خان

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن او رخان عبد القیوم خان

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

سیدنا ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام وہ ذات گرامی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری کائنات میں افضل ترین مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اور ان کی عظیم قربانیوں اور عزیمت و استقامت کے شاندار مظاہروں کے عوض دنیا بھر کی ایسی امامت بخشی کہ آج دنیا کا کم و بیش ہر الہامی مذہب خود کو حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ یہودی اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کا پیروکار کہتے ہیں، عیسائی اس بات کے اپنے لیے دعوے دار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

۲۶ نومبر ۱۹۷۶ء

آزادیٔ مساجد و مدارس اور علماء کا موقف

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمود ایم این اے نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو راولپنڈی میں وفاق کی مجلس شوریٰ اور دیگر مکاتیب فکر کے ذمہ دار علماء کرام کا ایک مشترکہ کنونشن طلب کیا ہے جس میں مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کو بعض سرکاری اقدامات سے درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے گا اور ان خطرات کے سدباب کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کے بارے میں علماء کرام کے موقف پر ایک سرسری نگاہ ڈال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادیٔ مساجد و مدارس اور علماء کا موقف

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ ان خوش قسمت ترین افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم و فراست کی وافر دولت سے بھی مالا مال کیا تھا۔ ان کا شمار عرب کے ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاویہؓ نہ صرف خود جناب نبی اکرمؐ کے صحابی تھے بلکہ ان کے والد گرامی حضرت ابو سفیانؓ، والدہ محترمہ حضرت ہندہؓ، برادر گرامی حضرت امیر یزیدؓ اور ہمشیرہ محترمہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہؓ کا شمار بھی صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء

عدالتِ شرعیہ کا کنونشن

گزشتہ ہفتہ لاہور کے دینی و سیاسی حلقوں میں خاصی گہماگہمی رہی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تشریف آوری اور ماہنامہ الرشید کے ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ کی افتتاحی تقریب سے اس گہماگہمی کا آغاز ہوا۔ اور جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس اور شرعی عدالتوں کے دو روزہ کنونشن کے بعد قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کی پریس کانفرنس تک یہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے زیراہتمام شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا دو روزہ کنونشن گزشتہ روز مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتِ شرعیہ کا کنونشن

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

عدالتِ شرعیہ کے لیے طریق کار

واضح رہے کہ اہل اسلام و اہل دین، جو اپنے تنازعات اور جھگڑوں کو اسلامی اور شرعی نقطۂ نظر سے طے کرانا چاہتے ہیں، ہر دو فریق اپنی مرضی سے عدالت شرعیہ کو حکم اور ثالت تسلیم کریں گے۔ اور تحریری طور پر حسب ضابطہ ثالثی نامہ شرعی عدالت میں پیش کریں گے جس میں یہ ذکر ہوگا کہ شریعت کا فیصلہ ہمیں بہرصورت منظور رہے گا۔ اس کے بعد شرعی عدالتیں ان تنازعات و مقدمات کو فیصلہ کے لیے قبول کریں گی۔ عدالت شرعیہ کا وجود صرف عامۃ المسلمین کے باہمی اختلافات اور تنازعات کے ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتِ شرعیہ کے لیے طریق کار

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ (۱) کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ (۲) جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

تحریک پاکستان کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کا موقف آج کل پھر صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے جنہیں ’’نیشنلسٹ مسلمانوں‘‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اس لیے سرکردہ نیشنلسٹ مسلم لیڈروں کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر نیشنلسٹ مسلمانوں کا اصل موقف سامنے آسکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

۷ نومبر ۱۹۷۵ء

نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ نظامِ شریعت کنونشن گزشتہ شب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ کنونشن میں پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان اور آزادکشمیر سے کم و بیش دس ہزار مندوبین نے شرکت کی جن میں علماء کرام، وکلاء، طلباء اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ کنونشن کا اعلان ۲۸ و ۲۹ اپریل کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ملتان کے بعد کیا گیا تھا۔ مولانا مفتی محمود نے صوبائی حکومت سے بھی رابطہ قائم کیا مگر آخر وقت تک انتظامیہ نے شیرانوالہ باغ میں کنونشن کے انعقاد کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں مجلس استقبالیہ کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

۳۱ اکتوبر ۱۹۷۵ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹمارہاتھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جارہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطر ہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطر ہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

۲۴ اکتوبر ۱۹۷۵ء

اسلام پر رحم کیجئے

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’چچا سام‘‘ ایک بار پھر اسلام اور سوشلزم کے نام سے پاکستانی قوم کی باہمی کشتی دیکھنے کا خواہشمند ہے کیونکہ پچھلی بار جمعیۃ علماء اسلام کے ارباب بصیرت نے کباب میں ہڈی ڈال دی تھی اور ان کی بروقت مداخلت کی وجہ سے اسلام اور سوشلزم کا دنگل دیکھنے کی خواہش چچا سام پوری نہیں کر سکا تھا۔ وہ دن بھی عجیب تھے، ایک طرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مفاد پرستوں کا طبقہ ’’اسلام پسندی‘‘ کا لیبل لگا کر اپنے مفادات اور اغراض کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام پر رحم کیجئے

۲۶ ستمبر ۱۹۷۵

علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

آج کل ایک گمراہ کن غلطی عام طور پر ہمارے معاشرہ میں پائی جاتی ہے کہ علماء اسلام کو ملکی سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے بلکہ مساجد میں بھی صرف نماز، روزہ اور حج وغیرہ عبادات و اخلاقیات ہی کی بات کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ملکی معاملات پر گفتگو کرنا اور عام لوگوں کے سیاسی مسائل میں دلچسپی لینا علماء کے لیے غیر ضروری بلکہ نامناسب ہے۔ یہ غلط فہمی سامراج اور اس کے آلۂ کار افراد نے اتنے منظم طریقہ سے پھیلائی ہے کہ آج سامراجی نظام اس غلط فہمی کے سہارے مساجد و مدارس دینیہ میں سیاسیات کے تذکرہ کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

راقم الحروف نے علاقہ کے دین دار مسلمانوں خصوصاً علماء کرام کو اس طرف متوجہ کیا کہ انہیں عملی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے کی بجائے اسے اپنانا چاہیے۔ کیونکہ ظلم و جبر کے نظام کی مخالفت اور دین حق کے اعلاء و اجراء کی جدوجہد کرنا علماء کرام کا دینی و ملی فرض ہے اور علماء کرام ہی کی سیاسی قیادت عوام کے مسائل کو مخلصانہ طور پر حل کر سکتی ہے۔ دراصل آزادکشمیر کے علماء کرام نے شروع ہی سے سیاسی مسائل میں عوام کی نمائندگی و رہنمائی کی ہے اور ان کی ایک تنظیم ’’جمعیۃ علماء آزاد کشمیر‘‘ کے نام سے تیس سال سے سیاسی و مذہبی میدان میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

اسلام اور رہبانیت

حضرت ابو امامہ الباہلیؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم کچھ صحابہؓ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ کسی غزوہ پر جا رہے تھے، ہم میں سے ایک شخص نے راستہ میں ایک غار دیکھا جس میں پانی کا چشمہ تھا، اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر نبی اکرمؐ اجازت مرحمت فرما دیں تو میں اپنی باقی عمر اسی غار میں اللہ اللہ کرتے ہوئے گزار دوں۔ یہ سوچ کر حضورؐ سے مشورہ و اجازت لینے کی غرض سے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، آنحضرتؐ نے اس کی خواہش سن کر فرمایا ’’میں یہودیت یا عیسائیت (کی طرح رہبانیت) کی تعلیم دینے کے لیے نہیں مبعوث ہوا۔ میں تو یکسوئی کا سیدھا راستہ لے کر آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور رہبانیت

۱۳ جون ۱۹۷۵ء

سردار عبد القیوم خان کی صدارت سے برطرفی

آزاد کشمیر میں بالآخر وہ سب کچھ ہوگیا جس کی مدت سے توقع کی جا رہی تھی۔ سردار عبد القیوم کی برطرفی آزاد کشمیر کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کے لیے غیر متوقع نہیں تھی۔ سردار صاحب نے اگرچہ موجودہ حکومت کے ساتھ مفاہمت و معاونت کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی جو کشمیر کی مخصوص صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے ناگزیر بھی تھی لیکن اس کے باوجود سردار صاحب کے ساتھ پی پی پی کا نباہ مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اس لیے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا ’’انا ولا غیری‘‘ کا عملی منشور اور سردار صاحب کا دینی مزاج اور حریت پسندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سردار عبد القیوم خان کی صدارت سے برطرفی

۲ مئی ۱۹۷۵ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی خوش قسمت ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کے باعث انہیں عرب ممالک میں اس مشن کی خدمت اور حرمین شریفین کی بار بار زیارت کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس ضمن میں ان کی خدمات وقیع ہیں۔ جن دنوں پاکستان میں تحریک ختم نبوت جاری تھی مولانا موصوف سعودی عرب میں تھے اور تحریک کے عالمی سفیر کے طور پر اس محاذ پر کام کر رہے تھے جس کی اجمالی رپورٹ قارئین ترجمان اسلام میں پڑھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

۲۵ اپریل ۱۹۷۵ء

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو اخبارات میں ڈاکٹر ہنری کسنجر وزیرخارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کا امن مشن اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ صدر انور سادات کا یہ نعرۂ حق بھی منظرِ عام پر آیا کہ اسرائیل نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو جہاد شروع کیا جائے گا، اور عرب وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ خبریں اس امر کا احساس دلانے کو کافی تھیں کہ مشرق میں ’’کچھ‘‘ ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۱۱ اپریل ۱۹۷۵ء

قافلۂ امام ولی اللہ دہلویؒ

تحریک آزادیٔ ہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں ایک عرصہ تک صرف داخلی خودمختاری اور آئینی مراعات کے مطالبات پر اکتفا کیے ہوئے تھیں لیکن بہت جلد ان کو جمعیۃ علماء ہند کی طرح مکمل آزادی کے اسٹیج پر آنا پڑا ۔۔۔ اور پھر جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اگرچہ ولی اللہی پارٹی کے سرکردہ ارکان قیام پاکستان کے مخالف تھے اور جمعیۃ علماء ہند نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی تھی، لیکن اس فیصلہ سے اختلاف کر کے تحریک پاکستان کے کیمپ میں شامل ہونے والے عظیم راہنما علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی ولی اللہی گروہ سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قافلۂ امام ولی اللہ دہلویؒ

۲۸ فروری ۱۹۷۵ء

دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ

لاہور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حکومت نے تمام دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کے مطابق اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب صرف یہ بات فیصلہ طلب ہے کہ قومی تحویل میں لینے کے بعد دینی مدارس کا نظام وفاقی حکومت چلائے گی یا صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب کے اڑھائی سو مدرسے قومیائے جائیں گے اور مدارس کو اول دوم اور سوم تین مدارج میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ

۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء

معجزہ شق القمر

جناب رسول اللہؐ کے پاس مشرکوں کا ایک گروہ آیا جس میں ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد المطلب اور نضر بن حارث بھی تھے، انہوں نے آنحضرتؐ سے کہا کہ اگر آپ واقعی سچے ہیں تو اپنی سچائی کے ثبوت میں چاند دو ٹکڑے کر کے دکھائیں، اس طرح کہ اس کا ایک ٹکڑا قبیس کی پہاڑی پر اور دوسرا ٹکڑا قعیقعان پر ہو۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آؤ گے؟ کہنے لگے ہاں! وہ رات چودھویں تھی اور چاند آسمان پر پورے آب تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معجزہ شق القمر

نا معلوم

کیا قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے؟

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے سرگودھا کے جلسہ عام میں ارشاد فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے اور اس سلسلہ میں اب کچھ کرنا بھی باقی نہیں رہا۔ قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ نے ایک اخباری بیان میں اس دعویٰ کی تردید فرماتے ہوئے کہا ہے کہ اصولی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سوا ابھی تک کوئی عملی کاروائی نہیں کی گئی اور حکومت اس مسئلہ میں مسلسل ٹال مٹول کر رہی ہے۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد سے اب تک کی صورتحال پر غور کیا جائے تو بھٹو صاحب کے اس بے جان دعوے کو جھٹلائے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے؟

۱۹۷۵ء (غالباً)

پارلیمنٹ کا فیصلہ اور قادیانیوں کے عزائم

قادیانیت کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے فیصلہ کو ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک نہ تو اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی قادیانی گروہ نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے گزشتہ دنوں ربوہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آئین میں واضح ممانعت کے باوجود اپنے دادا کی نبوت کا پرچار جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ’’خدا کی بشارتوں‘‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ میں جنوری تک اس فیصلہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کا فیصلہ اور قادیانیوں کے عزائم

۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات، آخر کب تک؟

پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے بعد ہنگامی حالات میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی۔ اس سے قبل قائد حزب اختلاف خان عبد الولی خان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات کو باقی رکھنے کا اقدام عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ خان صاحب نے کہا کہ ۱۹۷۱ء میں پاک بھارت جنگ کی بناء پر ملک میں ہنگامی صورتحال کا اعلان ہوا تھا اور یہ صورتحال اب تک برقرار رکھی جا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کے تحت حالات کو معمول پر لانے کی راہ اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات، آخر کب تک؟

۳۰ اگست ۱۹۷۴ء

امریکی صدر رچرڈ نکسن سے استعفیٰ کا مطالبہ

واٹر گیٹ اسکینڈل کے سلسلہ میں غلط بیانی کے اعتراف کے ساتھ ہی امریکہ کے صدر نکسن کو امریکہ کے قومی حلقوں حتیٰ کہ خود اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے استعفیٰ کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق اب مسٹر نکسن کے لیے استعفیٰ کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کا قصور یہ ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے کچھ ذمہ دار شہریوں کے فون خفیہ طور پر ٹیپ کیے گئے، بات عدالت تک پہنچی تو عدالت کے مطالبہ کے باوجود نکسن نے ٹییپ عدالت کے حوالے کرنے اور اپنی پوزیشن صاف کرنے میں تامل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی صدر رچرڈ نکسن سے استعفیٰ کا مطالبہ

۹ اگست ۱۹۷۴ء

متحدہ جمہوری محاذ کی تنظیم نو

متحدہ جمہوری محاذ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ماتحت شاخوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ۲۰ اگست تک ضلع اور شہر کی سطح پر تنظیم نو مکمل کر لیں تاکہ محاذ نئے سرے سے اپنی جدوجہد کو منظم کر سکے۔ متحدہ جمہوری محاذ موجودہ حکومت کے واضح غیر آئینی، آمرانہ اور جمہوریت کش اقدامات کے پیش نظر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قائم ہوا تھا اور اب تک اپنی بساط کے مطابق اس میدان میں مصروف جہد و عمل ہے۔ محاذ کے قیام سے جہاں اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی حد تک فکری و عملی یک جہتی کے فروغ میں مدد ملی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کی تنظیم نو

۹ اگست ۱۹۷۴ء

مسئلہ قادیانیت ۔ وزیراعظم بھٹو کا اعلان اور تشدد کی صورتحال

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ قادیانیت ۔ وزیراعظم بھٹو کا اعلان اور تشدد کی صورتحال

۹ اگست ۱۹۷۴ء

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

ملک کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس حضرت مولانا الحاج محمد ادریس کاندھلویؒ ۲۸ جولائی ۱۹۷۴ء بروز اتوار صبح ۵ بجے انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم ایک عظیم مدرس، یگانہ روز خطیب، قابل صد فخر محدث و مفسر اور ایک مایہ ناز مصنف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

۲ اگست ۱۹۷۴ء

آزاد کشمیر، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور یہ تجویز عملاً مسئلہ کشمیر کو دفن کر دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ بھٹو صاحب نے آزادکشمیر کو صوبہ بنانے سے تو اجتناب کیا لیکن آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام اور ’’بالاتر کشمیر کونسل‘‘ پر مشتمل نیا آئینی فارمولا پیش کر کے مذکورہ مقاصد کے لیے نئی راہ اختیار کر لی۔ اس فارمولے کے نتائج و ثمرات رفتہ رفتہ واضح ہوتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزاد کشمیر، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

جنرل یحییٰ خان کی حراست کا خاتمہ

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل یحییٰ خان کی حراست کا خاتمہ

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

خان عبد الولی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور افغانستان

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی افواج کے اجتماع کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد جناب عبد الولی خان کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے وہی باتیں دہرائی ہیں جو وہ اور ان کے پیشرو حکمران اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں، لیکن موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر بھٹو صاحب کی یہ نئی مہم اپنے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ پر غوروخوض کی دعوت دیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الولی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور افغانستان

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

قبرص کا بحران

قبرص بحیرہ روم کا ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں یونانی عیسائی اور ترک مسلمان آباد ہیں۔ عیسائی اکثریت میں ہیں،مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے درمیان چپقلش مدت سے چلی آرہی ہے۔ ۱۹۶۰ء میں برطانیہ کے قبضہ سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد پادری میکاریوس کی صدارت میں آزاد حکومت قائم ہوئی اور آئین میں مسلمانوں کو نائب صدر کے عہدہ کے علاوہ پارلیمنٹ میں ۳۰ فیصد نمائندگی، سول اور فوجی ملازمتوں میں ۴۰ فیصد حصہ اور خارجی و اقتصادی امور میں حق استرداد دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قبرص کا بحران

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

قادیانی مسئلہ ۔ وزیراعظم بھٹو کی تقریر اور مولانا مفتی محمود کے ارشادات

جمعیۃ مولانا مفتی محمود نے اخباری کانفرنس میں مجلس عمل کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ وزیراعظم بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اس سلسلہ میں سواد اعظم کے دوسرے مطالبات تسلیم کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں، وہ اس مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کر کے سرد خانہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مجلس عمل کے مطالبات بالکل واضح ہیں، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قومی اسمبلی سے فیصلہ لینا ضروری ہے لیکن وزیراعظم اپنے منصب کی حیثیت سے ربوہ کو کھلا شہر قرار دے سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ ۔ وزیراعظم بھٹو کی تقریر اور مولانا مفتی محمود کے ارشادات

۲۱ جون ۱۹۷۴ء

مسئلہ قادیانیت، دینی جماعتوں کے مطالبات

۹ جون کو مدرسہ قاسم العلوم اندرون شیرانوالہ گیٹ لاہور میں علماء کرام، مشائخ عظام اور سیاسی راہنماؤں کے مشترکہ کنونشن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ (۱) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، (۲) کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے، (۳) ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر مسلمانوں کو وہاں بسنے کی جازت دی جائے، (۴) واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں مرزا ناصر احمد اور دیگر ذمہ دار افراد کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ کنونشن میں ان مطالبات کے لیے پر امن تحریک چلانے کی غرض سے ’’آل پارٹیز ختم نبوت ایکشن کمیٹی‘‘ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ قادیانیت، دینی جماعتوں کے مطالبات

۱۴ جون ۱۹۷۴ء

مسلم ممالک کی مشترکہ اسلحہ سازی

موجودہ دور میں اسلحہ سازی کی صنعت نے جو ترقی کی ہے اور اس پر بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کے باعث دنیا کے چھوٹے ممالک مصائب و مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں، اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ عالم اسلام اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دفاعی سائنس میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور مسلم ممالک اسلحہ کے معاملہ میں دوسروں کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔ اس لیے کہ اسلحہ کے معاملہ میں عالم اسلام کے احتیاج اور بے بسی کی وجہ سے بیشتر مواقع پر مسلم ممالک کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک کی مشترکہ اسلحہ سازی

۳۱ مئی ۱۹۷۴ء

ہفت روزہ نصرت کا شمارہ / سرحد و بلوچستان کے عوام

ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ لاہور جو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے کی زیرادارت سوشلزم کی منادی کیا کرتا تھا، آج کل رامے صاحب کی سرکاری مصروفیات کے باعث ایک اور صاحب کی ادارت میں عریانی کو سندِ جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ’’نصرت‘‘ کے ۱۲ مئی کے شمارہ میں سیدنا حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی بالکل عریاں تصاویر کی اشاعت اور ایک غیر معروف مسلم ریاست عجمان کی ڈاک ٹکٹوں کے حوالے سے عریانی کے جواز پر بحث اس قدر حیا سوز ہے کہ ارباب ’’نصرت‘‘ کی شرم و حیا کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہفت روزہ نصرت کا شمارہ / سرحد و بلوچستان کے عوام

۳۱ مئی ۱۹۷۴ء

بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

(۱) چودھویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ نے، جس کا نام رینچن یا رام چندر بتایا جاتا ہے، ایک عرب مسافر سید بلبل شاہؒ کی نماز اور تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنا اسلامی نام صدر الدینؒ رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کی۔ اس طرح کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا۔ (۲) پندرہویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کو سلطان زین العابدینؒ جیسا نیک دل، رعایا پرور اور علم دوست بادشاہ نصیب ہوا جس نے عدل، تدبر، رحم دلی اور اسلامی اخوت و مساوات کے جذبہ سے ریاست میں اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

سید شمس الدین شہیدؒ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فورٹ سنڈیمن (ژوب) کے ضمنی الیکشن میں سرکاری مداخلت ترک نہ کی گئی تو یہ انتخابات منعقد نہیں ہو سکیں گے۔ ادھر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جنرل سنیٹر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے بھی انتباہ کیا ہے کہ انتخاب میں دھاندلیوں کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا اور دھاندلیوں کے ذریعہ سرکاری امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سید شمس الدین شہیدؒ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب

۱۷ مئی ۱۹۷۴ء

جمعیۃ طلباء اسلام جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی خدمت میں!

جمعیۃ طلباء اسلام جموں و کشمیر کے زیر اہتمام ۲۶ و ۲۷ مئی کو باغ ضلع پونچھ میں طلبہ کا ایک عظیم الشان کنونشن منعقد ہو رہا ہے جس میں آزاد کشمیر کے دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ شریک ہوں گے۔ آزادکشمیر کے علماء کرام کے علاوہ قائد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا مفتی محمود صاحب بھی اس میں شرکت فرمائیں گے۔ یہ کنونشن آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے اور جمعیۃ طلباء اسلام کے باہمت نوجوانوں نے یہ ذمہ داری قبول کر کے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے اثرات آزاد کشمیر کی تاریخ میں دور رس اور وقیع ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ طلباء اسلام جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی خدمت میں!

۳ مئی ۱۹۷۴ء

قصہ حضرت الامیر کی گرفتاری کا

۲۸ اپریل کو روزنامہ جنگ راولپنڈی نے خبر دی کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم امیر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو نوشہرہ ضلع پشاور پولیس نے تحفظ امن عامہ کی دفعہ ۱۶ کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہ خبر موصول ہو چکی تھی کہ حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدظلہ، مولانا سمیع الحق اور دیگر سیاسی کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری مذکورہ دفعہ کے تحت جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسی روز خانپور فون پر رابطہ قائم کیا گیا تو معوم ہوا کہ حضرت الامیر مدظلہ گھر میں تشریف فرما ہیں اور گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قصہ حضرت الامیر کی گرفتاری کا

۳ مئی ۱۹۷۴ء

بھٹو صاحب کا ’’اعلان بلوچستان‘‘

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۳ اپریل کو بالآخر وہ اعلان کر ہی دیا جس کا قوم کو گزشتہ پون سال سے انتظار کرایا جا رہا تھا اور جس کے بارے میں وسیع پراپیگنڈا کے ذریعہ اس قدر سسپنس پیدا کر دیا گیا تھا کہ (ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقوں کے سوا) اعلانِ تاشقند کی طرح اعلانِ بلوچستان بھی عوام کی توجہات کا مرکز اور اخبارات و رسائل میں موضوع بحث بن چکا تھا۔ اور خود وزیراعظم نے اس کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس اعلان سے تمام حلقے مطمئن ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھٹو صاحب کا ’’اعلان بلوچستان‘‘

۱۹ اپریل ۱۹۷۴ء

بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما جناب احمد نواز بگتی گزشتہ روز لاہور تشریف لائے اور پارٹی ورکروں کے اجتماع سے خطاب کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے سیاسی حل کے بارے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے متوقع اعلان، بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور مسئلہ بلوچستان کے صحیح حل کے سلسلہ میں چند فکر انگیز باتیں کی ہیں۔ بلوچستان کی نازک صورتحال اور وزیراعظم بھٹو کے متوقع اعلان کے پیش نظر بگتی صاحب کے ان خیالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان کے خطاب اور انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

۵ اپریل ۱۹۷۴ء

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

۴ اپریل ۱۹۷۴ء

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

جمعرات ۱۴ مارچ کی صبح کو ملک بھر میں یہ خبر انتہائی غم کے ساتھ سنی گئی کہ گزشتہ روز کوئٹہ فورٹ سنڈیمن روڈ پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام عالم با عمل، عظیم سیاسی راہنما، بلوچستان جمعیۃ کے امیر، صوبائی متحدہ جمہوری محاذ کے نائب صدر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا سید محمد شمس الدین شہید کر دیے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس اندوہناک سانحہ نے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ مولانا سید شمس الدین جمعیۃ علماء اسلام کے مقتدر راہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

۲۲ مارچ ۱۹۷۴ء

بلوچستان کی صورتحال، میاں محمد حسن شاہ کی باتیں

مارچ کا قصہ ہے کہ راقم الحروف کو علامہ محمد احمد صاحب لدھیانوی جنرل سیکرٹری متحدہ جمہوری محاذ گوجرانوالہ، قاری محمد یوسف عثمانی صاحب نائب امیر جمعیۃ شہر گوجرانوالہ، اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب مبلغ جمعیۃ ضلع گوجرانوالہ کی معیت میں جمعیۃ کے علاقائی تربیتی کنونشن کے لیے فیصلز ہوٹل جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے ہال کی بکنگ کی غرض سے ہوٹل جانے کا اتفاق ہوا۔ ہوٹل کے صدر دروازے پر سیاہ رنگ کی کار اور اس پر قومی پرچم دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید اندر کوئی عوامی وزیر ہوٹل کو شرف قدوم سے نوازنے تشریف لائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کی صورتحال، میاں محمد حسن شاہ کی باتیں

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

بلوچستان، ایک لمحہ فکریہ

گورنر بلوچستان خان احمد یار خان نے فرمایا ہے کہ وزیراعظم بھٹو بے پناہ مصروفیات کے باعث وعدہ کے مطابق ۲۵ فروری کو بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں کسی فیصلہ کا اعلان نہیں کر سکے، اب وہ یکم اپریل تک یہ اعلان کر دیں گے۔ گورنر نے یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف مقدمات سابق گورنر اکبر بگتی کی سفارش پر قائم کیے گئے تھے۔ ادھر سابق گورنر اکبر بگتی نے کہا ہے کہ نیپ لیڈروں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے تھے تاکہ ان کی نشستیں خالی قرار دے کر ان کی جگہ پیپلز پارٹی کے ارکان کو صوبائی اسمبلی کے لیے ’’منتخب‘‘ کرایا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان، ایک لمحہ فکریہ

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

مسلم سربراہ کانفرنس لاہور کا اختتام

مسلم سربراہوں کی سہ روزہ لاہور کانفرنس متعدد کھلے اور بند اجلاسوں، طویل بحث و تمحیص اور قائدین کی تقاریر کے بعد قراردادوں، فیصلوں اور اعلانِ لاہور کے اجراء کے ساتھ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوگئی۔ ’’لاہور کانفرنس‘‘ کے بارے میں جن توقعات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے وہ کہاں تک پوری ہوئی ہیں، اس کا اندازہ کانفرنس کے اعلانات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ تمام مسلم راہنماؤں نے اخوت و محبت کے ماحول میں عالم اسلام کے مسائل کا جائزہ لیا، ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کی اور باہمی ارتباط کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم سربراہ کانفرنس لاہور کا اختتام

یکم مارچ ۱۹۷۴ء

مسئلہ کشمیر اور مسلم سربراہ کانفرنس لاہور

قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے سکھر میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ مسلم سربراہ کانفرنس میں عالم اسلام کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر بھی غور کیا جائے۔ ادھر معروف کشمیری راہنما میر واعظ مولانا محمد فاروق نے بھی کانفرنس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسلسل کشیدگی کا باعث چلا آرہا ہے اور دو سے زائد بڑی جنگوں کا محرک بن چکا ہے۔ اور اس سے نہ صرف برصغیر اور ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور مسلم سربراہ کانفرنس لاہور

۱۵ فروری ۱۹۷۴ء

تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ روز لاہور میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب انکشاف فرمایا ہے کہ ’’پاکستان مذہبی ملک نہیں ہے‘‘ اور یہ کہ ’’کسی ملک کے سیکولر ہونے سے اس کے اسلامی مزاج میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ (روزنامہ مشرق لاہور ۔ یکم فروری ۱۹۷۴ء)۔ خدا جانے مذہب کے نام سے بھٹو صاحب کی اس جھجھک کا پس منظر کیا ہے، حالانکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان مذہب کے نام پر لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

۸ فروری ۱۹۷۴ء

مسلم سربراہ کانفرنس لاہور سازشوں کے گرداب میں!

مسلم سربراہ کانفرنس لاہور کے بارے میں اپنے جذبات، تاثرات اور توقعات کا اظہار ہم گزشتہ اشاعت میں کر چکے ہیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ یہ گزارشات عالم اسلام کے قائدین تک پہنچیں اور مسلم سربراہ کانفرنس اسلام کی سربلندی و نفاذ اور عالم اسلام کے اتحاد و ترقی کے لیے صحیح طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کر سکے۔ اس وقت ہم کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں کچھ امور کی طرف حکومت کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اعزاز اسلامیان پاکستان کے لیے باعث صد افتخار ہے کہ اس عظیم کانفرنس کی میزبانی کا شرف پاکستان کو حاصل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم سربراہ کانفرنس لاہور سازشوں کے گرداب میں!

یکم فروری ۱۹۷۴ء

لاہور میں مسلم سربراہ کانفرنس کا انعقاد

آئندہ ماہ لاہور میں مسلم ممالک کے سربراہوں کی تاریخی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے جس کی تیاریاں پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری ہیں اور اسلامی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری جنرل جناب حسن التہامی گزشتہ روز کانفرنس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران مسلم سربراہ کانفرنس کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس کے بعد عالم اسلام کی شیرازہ بندی بین الاقوامی تعلقات میں مؤثر کردار ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور میں مسلم سربراہ کانفرنس کا انعقاد

۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء

وزیراعظم بھٹو کا اعتراف اور جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے عید الاضحیٰ سے چند روز قبل ایک غیر ملکی جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کافی عرصہ سے غیر ملکی مداخلت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور خصوصاً بلوچستان غیر ملکی سازشوں اور مداخلت کی زد میں ہے۔ اس سے قبل بھٹو صاحب نے متعدد بار اس مداخلت کے وجود سے انکار کیا ہے بلکہ ایک بار تو یہاں تک فرمایا کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا قصہ ہم صرف اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ مگر اب ان کے اس اعتراف کے بعد یہ امر شک و شبہ سے بالاتر ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی عناصر نے سازشوں کے جال پھیلا رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم بھٹو کا اعتراف اور جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ

۱۸ جنوری ۱۹۷۴ء

بھٹو حکومت کے دو سال

حکمران پارٹی نے اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر ۲۰ دسمبر کو ’’یوم محاسبہ‘‘ کے نام سے سالگرہ منائی ہے۔ اس روز اخبارات و جرائد نے خاص نمبر شائع کیے، ریڈیو و ٹی وی سے خصوصی پروگرام نشر کیے گئے، نیشنل سنٹرز میں اجتماعات ہوئے اور خود وزیراعظم نے راولپنڈی میں ایک بڑا جلسۂ عام منعقد کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے کثیر تعداد میں حکمران پارٹی کے کارکن شریک ہوئے۔ اگرچہ یہ سارے انتظامات دو سالہ کارکردگی کے محاسبہ کے عنوان سے کیے گئے تھے لیکن حسب توقع ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رسمی صدا کے سوا اس نقارخانے میں کچھ بھی سنائی نہیں دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھٹو حکومت کے دو سال

۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء

مذاکرات کا جال اور وعدے، بھٹو صاحب کی سیاسی تکنیک

گزشتہ دنوں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود سے قومی اسمبلی کے چیمبر میں چالیس منٹ تک بات چیت کی جس میں وزیرقانون پیرزادہ بھی شریک ہوئے۔ اس گفتگو کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں مگر دوسرے روز متحدہ جمہوری محاذ کی قرارداد منظر عام پر آئی جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک حکومت ’’مری مذاکرات‘‘ میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کرتی اس سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ اس قرارداد سے مترشح ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب نے مفتی صاحب سے ملاقات کے دوران اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جسے محاذ نے مسترد کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاکرات کا جال اور وعدے، بھٹو صاحب کی سیاسی تکنیک

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

کیا بلوچستان یونہی جلتا رہے گا؟

بلوچستان پاکستان کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں کے عوام کو فرنگی سے آزادی ملنے کے بعد بھی سنگینوں کے منحوس سائے سے نجات نہیں مل سکی اور قیام پاکستان کے چھبیس سال بعد بھی وہ اپنے حقوق، آزادی اور تحفظ کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اس بدنصیب خطہ کو رسمی آزادی ملنے کے ربع صدی بعد سیاسی حقوق ملے اور وہاں کے عوام کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی قیادت اور حکومت آزادی کے ساتھ اپنے ووٹوں کے ذریعہ منتخب کر سکتے ہیں۔ مگر جب بلوچستان کے عوام نے رائے دہی کا جمہوری حق استعمال کیا اور اپنے نمائندے منتخب کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا بلوچستان یونہی جلتا رہے گا؟

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

اسلام کا سیاسی نظام ۔ مولانا مفتی محمود کا موقف اور پریس کی رپورٹنگ

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے گزشتہ روز گکھڑ میں اخباری نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی مسائل پر سیرحاصل تبصرہ کیا جس کی مفصل رپورٹ قارئین آئندہ شمارہ میں ہمارے وقائع نگار خصوصی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں گے۔ اس موقع پر مولانا مفتی محمود نے قومی پریس پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر فرمایا اور اخبار نویسوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے صحیح رپورٹنگ کیا کریں اور محض حکومت کو خوش کرنے کے لیے سیاسی قائدین کے بیانات کو توڑ موڑ کر نہ پیش کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا سیاسی نظام ۔ مولانا مفتی محمود کا موقف اور پریس کی رپورٹنگ

۷ دسمبر ۱۹۷۳ء

تیل، ایک کارگر ہتھیار

سعودی عرب کے شاہ فیصل نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقے خالی نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کو خود ارادیت کا حق نہیں دیا جاتا، سعودی عرب تیل کے ہتھیار سے مؤثر طور پر کام لینے، مصری مفادات کو تقویت پہنچانے اور عرب اتحاد کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے عرب ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے تیل کی سپلائی بحال نہ کی تو انہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تیل، ایک کارگر ہتھیار

۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء

وطن دشمن تنظیموں پر پابندی کا آرڈیننس

صدر مملکت جناب فضل الٰہی چوہدری نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی تنظیموں پر پابندی لگا سکتی ہے اور افراد کو سزا دے سکتی ہے۔ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں کے ضمن میں: ایک سے زائد قومیتوں کے پرچار، فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے، علاقائی سالمیت اور خودمختاری میں رخنہ ڈالنے، لسانی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے، اور ملک کے کسی حصہ کی علیحدگی کی کوششوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وطن دشمن تنظیموں پر پابندی کا آرڈیننس

۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء

صدر انور سادات کے خلاف مہم

قارئین کو یاد ہوگا جب مصر کے مرحوم صدر جمال عبد الناصر عرب عوام کے اتحاد کی مہم اور سامراجی مفادات کی بیخ کنی کے مشن میں مصروف تھے، جنیوا میں بیٹھ کر اسلام کی ’’خدمت‘‘ کرنے والے ایک صاحب، جو اب پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، کاغذات کا پلندہ اٹھائے یہ ثابت کرتے پھر رہے تھے کہ جمال عبد الناصر یہودیوں کا ایجنٹ ہے، اس نے اسلام کے خلاف سازشیں کی ہیں اور قرآن کریم کی توہین کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر علماء حق کی جرأت مندانہ للکار اور پاکستان کے عرب دوست عوام کی بیداری کے باعث اس جھوٹے پراپیگنڈا کے تاروپود بکھر کر رہ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر انور سادات کے خلاف مہم

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

مولانا سید محمد شمس الدین کے ساتھ ایک نشست

برادرِ مکرم حضرت مولانا سید محمد شمس الدین صاحب امیر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان و ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی میرے ساتھی اور دوست ہیں۔ دورۂ حدیث میں ہم اکٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزم و استقامت کے میدان میں جو سبقت عطا فرمائی ہے وہ موصوف کے میرے جیسے ساتھیوں کے لیے قابل فخر بھی ہے اور قابل رشک بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزم و ہمت میں برکت دیں۔ مولانا گزشتہ دنوں گوجرانوالہ تشریف لائے تو ایک مختصر محفل میں تعارف و خیالات کی رپورٹ قلمبند ہوگئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین کے ساتھ ایک نشست

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے متحدہ جمہوری محاذ کے راہنما اور قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی کو اس الزام میں گرفتار کر لیا ہے کہ وہ بلوچستان میں شر پسندوں کو اسلحہ سپلائی کر رہے ہیں۔ اور ان کے ایک معتمد چوہدری محمد شریف کو بلوچستان میں اسلحہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ جام غلام قادر کے بیان کے مطابق چوہدری محمد شفیع کو کوہلو سے بالا ڈھکہ (بلوچستان) اسلحہ لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا (امروز ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء)۔ مگر چوہدری صاحب کے فرزند محمد اکرم نے لاہور میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو غلط قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

سرحد کے وزیراعلیٰ جناب عنایت اللہ گنڈاپور کو جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ٹکایا گیا ہے وہ کچھ عجیب سے احساس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ جس مسند پر وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو دیکھ چکے ہیں اس پر خود بیٹھتے ہوئے انہیں اردگرد خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اور شاید اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے وہ ’’مفتی صاحب کی بدعنوانیوں کے قرطاس ابیض‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس قرطاس ابیض کا ڈھنڈورا کئی ماہ سے اس انداز سے پیٹا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

۱۲ اکتوبر ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کی پیش قدمی

گورنر پنجاب نے متحدہ جمہوری محاذ کی ۲۴ روزہ کامیاب تحریک کے بعد دفعہ ۱۴۴ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دوران محاذ کے کارکنوں کو جن حالات میں جدوجہد جاری رکھنا پڑی ان پر ذرا سرسری نظر ڈال لیجئے: ریڈیو اور ٹی وی نے محاذ کے راہنماؤں کی کردارکشی اور کارکنوں کی تذلیل کی مہم مسلسل جاری رکھی۔ پریس ٹرسٹ کے اخبارات نے حق نمک ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سرکاری پارٹی کے کارکنوں نے محاذ کے جلسوں اور جلوسوں میں دل کھول کر غنڈہ گردی کی۔ محاذ میں شامل جماعتوں کے چیدہ چیدہ راہنماؤں کو گرفتار کر کے تحریک کو روکنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کی پیش قدمی

۲۱ ستمبر ۱۹۷۳ء

زندہ باد مولانا شمس الدین

خدا خوش رکھے جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے جواں سال سربراہ برادرِ مکرم مولانا سید شمس الدین کو کہ انہوں نے اس نازک دور میں اسلاف کی عظیم روایات کی پاسداری کا مقدس فریضہ سرانجام دیا جبکہ بڑے بڑے ’’پیرانِ پارسا‘‘ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو چکے ہیں، اور زر و سیم کی دلربائی اور ہوس اقتدار کی حدت کے سامنے ’’زہد و ورع‘‘ کے پرانے اور زنگ آلود قفل بھی پگھل کر رہ گئے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ دباؤ اور لالچ کا وہ کونسا حربہ ہے جو اس مردِ قلندر کو پھسلانے کے لیے آزمایا نہیں گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زندہ باد مولانا شمس الدین

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

متحدہ جمہوری محاذ کی طرف سے حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف سول نافرمانیوں کی تحریک پر ارباب اقتدار اور ان کے ہمنوا سخت جزبز ہیں اور عوام کی توجہ اپوزیشن کی تحریک سے ہٹانے کے لیے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یک طرفہ اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ محاذ میں شامل جماعت اسلامی نے بھی سول نافرمانی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس سہارے کو غنیمت جانا ہے حالانکہ اس سارے افسانے کی حققیت مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ جمہوری محاذ کو یک طرفہ نصیحت

۳۱ اگست ۱۹۷۳ء

جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

یہ ہے ایک جھلک اس پارٹی کے کارناموں کی جو عوامی جمہوریت کے نام پر انتخابات لڑ کے برسرِ اقتدار آئی ہے اور جس کے منشور کے سرورق پر یہ درج ہے کہ ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘۔ صدر مملکت نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی حکومت کی ایک سالہ کارگزاری کی رپورٹ پیش کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ صدر صاحب اس میں یہ تفصیل بھی عوام کو بتاتے کہ اس سال پولیس کے تشدد سے کتنے شہری ہلاک ہوئے، کتنے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کتنے لیڈر گرفتار ہوئے، متحدہ جمہوری محاذ کے کتنے جلسوں کو درہم برہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوری حکومت کی ’’ایک سالہ کارگزاری‘‘

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

صوبوں کو لڑانے کی سازش

اخبارات نے ایک خبر رساں ایجنسی کے حوالہ سے بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ جناب خیر بخش مری سے منسوب یہ خبر بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے کہ انہوں نے ہفتۂ جمہوریت کے دوران بلوچستان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے اور انہیں ڈاکو اور غاصب قرار دیا ہے۔ اس خبر سے ٹرسٹ کے اخبارات نے نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پراپیگنڈہ کے لیے خوب فائدہ اٹھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبوں کو لڑانے کی سازش

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور دیگر گوناگوں خصوصیات کے باعث کافی عرصہ سے اندرونی و بیرونی سازشوں کی مذموم مساعی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور آج بھی سازشی قوتیں تمام وسائل کے ساتھ بلوچستان کے امن کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو قادیانی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے محرکات میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

پارٹی وفاداری کا مسئلہ

وفاقی وزیر سیاسی امور جناب غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایک بیان میں ان حضرات کی صفائی پیش کرنے کی سعی فرمائی ہے جنہیں لیلائے اقتدار سے ہمکنار ہونے کی ہوس نے اپنی پارٹیوں کے دستور و منشور اور ووٹروں کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کو پارٹی بدلنے کا حق ہے اور اگر کوئی شخص پارٹی کی پالیسی سے متفق نہ ہو اور دوسری پارٹی میں چلا جائے تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ جتوئی صاحب کے اس بیان کا حاصل مغالطہ آفرینی کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی وفاداری کا مسئلہ

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور خورشید المشائخ حضرت مولانا پیر خورشید احمدؒ کے وصال کے کچھ وقفہ بعد ہی شیر سرحد، مجاہد ملت اور بطل حریت حضرت مولانا سید گل بادشاہ ؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ اس قافلۂ حریت کی باقیات صالحات میں سے تھے جس نے لہو کے چراغ جلا کر اس ملک میں آزادی اور مذہب کے متوالوں کو شعور کی روشنی بخشی اور اپنا سب کچھ لٹا کر قوم کی متاع مذہب و حریت کو لٹنے سے بچایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

اور اب بناسپتی گھی!

اشیاء خوردنی کی کمر توڑ گرانی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ غریب عوام بلکہ متوسط طبقہ بھی اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بازار سے جس چیز کا بھاؤ پوچھو اس کا نرخ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور ہر شخص پریشان ہے کہ آخر گرانی کا یہ ڈنڈا کب تک قوم کی پیٹھ پر برستا رہے گا۔ پہلے چینی غریب عوام کے اعصاب پر سوار رہی اور ابھی تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو سکا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ جب ہم باہر سے چینی منگواتے تھے تو سستی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب بناسپتی گھی!

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

صدارتی کابینہ نے ایک اجلاس میں ریڈ کراس سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے انجمن ہلال احمر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی حلقوں میں اس مناسب فیصلہ کو سراہا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کی طرف سے قیام پاکستان کے بعد ہی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں فرنگی ا قتدار و تسلط کے دور کی تمام یادگاروں اور نشانات کو مٹا دیا جائے اور اسلامی قانون و سیاست، اخلاق و معاشرت، اقتصاد و معیشت، تہذیب و تمدن اور روایات و اقدار کو فروغ دیا جائے۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا مطمح نظر بھی یہی تھا اور قیام پاکستان کا بنیادی محرک بھی یہی سوال بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘

گورنر بلوچستان جناب نواب محمد اکبر خان بگٹی اپنے تمام تر دعاویٰ کے باوجود صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں کر سکے اور گورنر کو براہ راست بجٹ کی منظوری کا اختیار دینے کے لیے صدر محترم کو عبوری آئین میں ترمیم کرنا پڑی۔ اس طرح نواب صاحب نے ’’خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘‘ کے مصداق اسے ’’تاریخی میزانیہ‘‘ کا خطاب بھی مرحمت فرما دیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ میزانیہ یقیناً ’’تاریخی‘‘ ہے کہ صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں اس کا اجلاس بلائے بغیر گورنر صاحب نے از خود بجٹ پیش کیا اور از خود اس کی منظوری بھی دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کا ’’تاریخی میزانیہ‘‘

۶ جولائی ۱۹۷۳ء

مری میں صدر بھٹو کے ساتھ جاری مذاکرات

ملک کے اہم قومی مسائل کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی اس وقت ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل ہے۔ بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اہم مسائل طے کرتے وقت جمہوری اصولوں کا دامن نہ چھوڑے، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر افہام و تفہیم کے ساتھ قومی مسائل کا حل تلاش کرے، اور سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیا جائے۔ کیونکہ اگر سیاسی مسائل کے حل کے لیے غیر جمہوری ذرائع اختیار کیے جائیں تو نتیجہ انتشار، باہمی بد اعتمادی اور بے یقینی کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مری میں صدر بھٹو کے ساتھ جاری مذاکرات

۶ جولائی ۱۹۷۳ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اس کے تقاضے

قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ نے جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ضلعی عہدہ داروں کے اجلاس اور بعد ازاں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کی تنظیم نو کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ آج کے دور میں دین اسلام کی سربلندی اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے سیاسی قوت کا حصول ضروری ہے۔ حضرت مفتی صاحب کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے اس لیے کہ آج کی دنیا سیاست کی دنیا ہے اور سیاسی قوت ہی آج دنیا سے اپنی بات منوا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اس کے تقاضے

۲۹ جون ۱۹۷۳ء

اشتراکیت نہیں، اسلام

پنجاب کے وزیر خزانہ جناب محمد حنیف رامے نے صوبائی اسمبلی میں سمال انڈسٹریز کارپوریشن بل پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان کے حالات کا اولین تقاضا ہے کہ ہم سودی نظام سے نجات حاصل کریں۔ اور حکومت سود سے پاک اقتصادی نظام رائج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر موجودہ سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام میں سود سے چھٹکارا ممکن نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ معاشی نظام سے گلوخلاصی کرا کے اشتراکی نظام رائج کیا جائے۔ حنیف رامے صاحب نے اس سلسلہ میں کارل مارکس فریڈرک، اینگلز اور لینن کے حوالہ سے اشتراکیت کا ذکر کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اشتراکیت نہیں، اسلام

۲۲ جون ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

۱۱ جون کو صبح ابھی اسباق سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ لاہور دفتر سے فون پر یہ روح فرسا خبر ملی کہ شہنشاہِ اقلیمِ مناظرہ اور مجاہدِ جلیل حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جہانِ فانی سے رخصت ہو کر رب حقیقی سے جا ملے ہیں۔ زبان سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا۔ جنازہ کے بارہ میں اطلاع ملی کہ صبح ۹ بجے دہلی دروازہ لاہور میں ادا ہوگا۔ اطلاع اور جنازہ کے درمیان بس اتنا ہی وقفہ تھا کہ بمشکل گوجرانوالہ سے لاہور پہنچا جا سکتا تھا، مگر احباب کو مطلع کرتے کرتے تاخیر ہوگئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

۲۲ جون ۱۹۷۳ء

انتظامیہ کو سیاسی جنگ میں فریق نہ بنائیے!

انتظامیہ کا کام ہوتا ہے کہ ملک میں قانون و آئین کی بالادستی کا تحفظ کرے، امن و امان بحال رکھے اور غیرجانبداری کے ساتھ نظم و نسق چلائے۔ اس فرض کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ ملک میں سیاسی وفاداریوں سے لاتعلق ہو کر اپنے کام سے کام رکھے اور جہاں کوئی بات اسے قانون کے خلاف نظر آئے، اس کے خلاف بلاجھجھک کاروائی کرے۔ جن جمہوری ممالک میں انتظامیہ اپنے فرائض کو سیاسی عمل سے الگ تھلگ رکھتی ہے وہاں سیاسی عمل بھی جمہوری اقدار کا حامل ہے اور انتظامیہ کو فرائض کی کماحقہ ادائیگی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتظامیہ کو سیاسی جنگ میں فریق نہ بنائیے!

۱۵ جون ۱۹۷۳ء

لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

ملتان اور لاہور میں متحدہ جمہوری محاذ کے عام جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے وہ تشدد اور فسطائیت کی دنیا میں نئے نہیں۔ قافلۂ جمہوریت کو اس سے قبل بھی امتحان و آزمائش کے اس موڑ سے بارہا گزرنا پڑا اور اب بھی یہ راہ متحدہ جمہوری محاذ کے رہنماؤں کے لیے جانی پہچانی گزرگاہ ہے۔ دراصل لیاقت باغ کے خونی المیہ کے بعد سے ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ حکمران طبقہ نے اصول، شرافت اور جمہوری عمل کی بساط لپیٹ دی ہے اور اب وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے عوام کو اعتماد میں لے کر سیاسی جنگ لڑنے کی بجائے بندوق کی نالی پر بھروسہ کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

۸ جون ۱۹۷۳ء

خان عبد القیوم خان کا طرزِ سیاست

یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبد القیوم خان کو وزیرداخلہ بنایا ہی اس لیے ہے کہ وہ ملک کی جمہوری قوتوں اور عوامی صوبائی حکومتوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل سازشیں کرتے رہیں۔ حتیٰ کہ جب سندھ کے لسانی فسادات پورے عروج پر تھے، لسانی عصبیت کا جنون مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا گلا کٹوانے میں مصروف تھا اور پورا سندھ خون میں نہایا ہوا تھا، خان موصوف سندھ میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے سرحد کی جمہوری حکومت کے خلاف تقریروں اور الزام تراشی میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد القیوم خان کا طرزِ سیاست

یکم جون ۱۹۷۳ء

سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ سیاسی مسائل اور عوام کے جائز تقاضوں کو جمہوری اور سیاسی بنیادوں پر طے کرنے کی بجائے تشدد کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ وہ بزعم خویش یہ سمجھتے رہے ہیں کہ اقتدار کی قوت اور کرسی کا دبدبہ آج کے جمہوری دور میں بھی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مگر ربع صدی کے تجربہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ تشدد کے ذریعہ سیاسی اور جمہوری مسائل کو حل کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں سب سے پہلے جس جمہوری، عوامی اور دینی تحریک کو تشدد کے ذریعہ دبایا گیا وہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی مسائل کو سیاسی بنیادوں پر طے کیجئے

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

نظریہ پاکستان کے محافظ / جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار / مہنگائی

صوبہ سرحد میں غیر جمہوری طور پر اقلیتی گروپ کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا تو یار لوگوں نے کہا کہ اب صوبہ میں نظریہ پاکستان کے علمبرداروں کی حکومت قائم ہوگئی ہے، ملک اور نظریہ پاکستان کو اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔ مگر نظریہ پاکستان کے ان علمبرداروں نے کرسی پر بیٹھتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں: قومی لباس کو سرکاری لباس قرار دینے کے بارہ میں مولانا مفتی محمود کے تاریخی فیصلہ کی تنسیخ، سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے اساتذہ مقرر کرنے کے فیصلہ کی واپسی، اور ہوٹلوں میں شراب کے پرمٹ جاری کرنے اور شراب کے بار کھولنے کے فیصلے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریہ پاکستان کے محافظ / جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار / مہنگائی

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

مسئلہ ارتداد اور الحاج ممتاز احمد فاروقی کا موقف

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے ۲ فروری ۱۹۷۳ء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنی نشری تقریر اور انٹرویو میں مستقل آئین کے مسودہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ مسودہ آئین میں مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت دی گئی ہے، حالانکہ اسلام میں کسی بھی مسلمان کو اسلام چھوڑنے کا حق نہیں ہے اور مرتد کی شرعی سزا قتل ہے۔ اس پر محترم الحاج ممتاز احمد فاروقی نے نوائے وقت (۱۳ فروری) میں مطبوعہ ایک مضمون میں مفتی صاحب کے اس موقف پر اعتراض کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ارتداد اور الحاج ممتاز احمد فاروقی کا موقف

یکم مارچ ۱۹۷۳ء

واپڈا میں غبن / چینی کا بحران / صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری/ مفرور ملزموں کی گرفتاری

صوبائی وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واپڈا کے ریکارڈ میں ستائیس کروڑ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، یہ رقم قومی کاموں پر لگانے کی بجائے خردبرد کر لی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ انکشاف کوئی نیا نہیں، اس سے قبل بھی واپڈا اور دیگر قومی اداروں میں اس قسم کے غبن ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہر بار بڑے شدومد کے ساتھ تحقیقات کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر واپڈا میں غبن / چینی کا بحران / صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری/ مفرور ملزموں کی گرفتاری

۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

علماء آزاد کشمیر اور عملی سیاست

جمعیۃ علماء آزاد کشمیر کی طرف سے شائع شدہ ایک اشتہار کے مطابق ۵ و ۶ اگست ۱۹۷۱ء کو راولاکوٹ آزاد کشمیر میں کشمیری علماء کا ایک نمائندہ کنونشن منعقد ہوگا جس میں جمعیۃ علماء آزاد کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی۔ علماء کشمیر کا یہ اقدام بروقت، مستحسن اور ناگزیر ہے۔ اور ہم اس موقع پر علماء کرام کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے چند ضروری گزارشات پیش خدمت کر رہے ہیں جو ہمارے نقطۂ نظر سے کنونشن میں شرکت کرنے والے علماء کرام کے پیش نظر رہنی ضروری ہیں۔ امید ہے کہ علماء آزاد کشمیر ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء آزاد کشمیر اور عملی سیاست

۶ جولائی ۱۹۷۱ء

پنجاب میں زمینوں کی تقسیم / طلباء کے حلیے / مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام / شراب خانہ خراب

پنجاب میں سرکاری زمینوں کی تقسیم کا کام شروع ہو گیا ہے اور ہر جگہ پر اس سلسلہ میں کمیٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں جو اس سلسلہ میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی اور اراضی کی تقسیم کی نگرانی کریں گی۔ ہر کمیٹی دس افراد پر مشتمل ہے جس میں زمینداروں، کاشتکاروں، ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کا یہ اقدام انقلابی اور ہدیۂ صد ہزار تبریک و تحسین کا مستحق ہے کہ اس نے بے زمین کاشتکاروں میں سرکاری اراضی کی تقسیم کا فیصلہ کر کے ایک دیرینہ عوامی مطالبہ اور خواہش کی تکمیل کی طرف جرأت مندانہ قدم بڑھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پنجاب میں زمینوں کی تقسیم / طلباء کے حلیے / مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام / شراب خانہ خراب

۲۵ جون ۱۹۷۱ء

آزاد کشمیر سازشوں کی زد میں

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آزادکشمیر میں دین دشمن عناصر پوری طرح منظم اور اپنی ملحدانہ تحریک میں پوری طرح سرگرم عمل ہیں اور انہوں نے طے کر لیا ہے کہ اسلامی نظام کے سلسلہ میں سردار عبد القیوم صاحب کے پروگرام کو پوری طرح سبوتاژ کر دیا جائے۔ یہ صورتحال خاصی پریشان کن ہے اور آزادکشمیر کے غیور علماء کو گہرے غور و فکر اور سنجیدہ اقدامات کی دعوت دے رہی ہے۔ ہم علماء آزادکشمیر سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ دین دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے سردار عبد القیوم صاحب کی اسلامی اصلاحات کو پوری طرح کامیاب بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزاد کشمیر سازشوں کی زد میں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

مزارعین سے سیاسی انتقام / سامان تعیش کی درآمد / غیر منصفانہ اقتصادی نظام / پولیس تشدد / اساتذہ کی خالی آسامیاں

حالیہ انتخابات میں ناکامی کے بعد بڑے بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں نے مزارعین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وسیع سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس ظلم و ستم کو روکنے کے لیے پنجاب کی حکومت نے اور غالباً سندھ کی حکومت نے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن صوبہ سرحد میں غریب مزارعین کو ظالم خوانین کے پنجہ سے نجات دلانے اور ان شکست خوردہ خوانین کے انتقام سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جن کا سلسلہ ظلم و ستم اور جابرانہ تسلط بہت سخت اور ناقابل برداشت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مزارعین سے سیاسی انتقام / سامان تعیش کی درآمد / غیر منصفانہ اقتصادی نظام / پولیس تشدد / اساتذہ کی خالی آسامیاں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

اساتذہ کی حق تلفی / سکولوں کی بوسیدہ عمارتیں / ناقص چاولوں کی سپلائی / نبوت کا دعویدار / قمار بازی

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کی ضلع میانوالی شاخ نے ایک قرارداد میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں جن محکموں کے ملازمین کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے ان میں سب کو ان کی ڈیوٹیوں کے معاوضے وصول ہو چکے ہیں لیکن اساتذہ ابھی تک اس حق سے محروم ہیں۔ یہ بات انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے، اساتذہ کو ان کی تدریسی خدمات کے پہلے ہی کون سے لمبے چوڑے معاوضے ملتے ہیں جو ان کی اضافی ڈیوٹیز کے معاوضوں کو بھی روک لیا گیا ہے۔ عام انتخابات کو مکمل ہوئے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور معاوضوں میں اتنی تاخیر بلاشبہ اساتذہ کی حق تلفی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اساتذہ کی حق تلفی / سکولوں کی بوسیدہ عمارتیں / ناقص چاولوں کی سپلائی / نبوت کا دعویدار / قمار بازی

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء

پولیس کی کارکردگی، ایک تجویز

پنجاب پولیس کے افسر اعلیٰ جناب انور آفریدی نے پولیس کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض خامیوں کے ضمن میں پولیس کمیشن کی سفارشات کا ذکر کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محکمانہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ جہاں تک پولیس کی کارکردگی پر لوگوں کے شبہات اور اعتراضات کا تعلق ہے انہیں یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بعض باتیں یقیناً ایسی ہیں جو پولیس کے کردار کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیتی ہیں اور خصوصاً کچھ آفیسرز کا رعونت آمیز رویہ، جس کا اعتراف خود جناب آفریدی نے بھی کیا ہے، پولیس کی کارکردگی کے بہتر ہونے میں رکاوٹ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پولیس کی کارکردگی، ایک تجویز

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء

مرزا مظفر احمد کی ’’خدمات‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد کے بارے میں عوامی حلقہ میں کبھی اس بات میں شک نہیں رہا کہ وہ انہی خطوط پر کام کر رہے ہیں جو مرزائی گروہ کے لیے برطانوی سامراج نے وضع کیے تھے۔ نہ صرف ایم ایم احمد بلکہ اس ٹولہ سے متعلق دوسرے افسران بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر برطانوی سامراج کے خودکاشتہ پودے قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد کے مشن کی تکمیل میں سرگرم ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں عوامی تحریک کا مقصد یہی تھا کہ کسی طرح قوم ان ’’پیران تسمہ پا‘‘ سے نجات حاصل کر لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا مظفر احمد کی ’’خدمات‘‘

۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء

پاکستان میں امریکی سفیر جوزف ایس فارلینڈ کی سرگرمیاں

پاکستان میں پہلے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوتے ہی امریکہ بہادر نے جب سی آئی اے کے مشہور و معروف کارندے اور انڈونیشیا میں خانہ جنگی کرانے والے سورما مسٹر جوزف ایس فارلینڈ کو پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو تاڑنے والی نگاہوں نے اسی وقت دیکھ لیا تھا کہ یہ حضرت آگے چل کر کیا گل کھلائیں گے۔ اسی لیے جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں نے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ مسٹر فارلینڈ کو واپس بھیج دیا جائے ورنہ یہ صاحب ملک و ملت کے لیے خطرہ بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں امریکی سفیر جوزف ایس فارلینڈ کی سرگرمیاں

۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء

آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ رفتہ رفتہ مفہوم و مطلب کے لباس سے عاری ہو کر روز مرہ کے تکیہ کلام کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر شریعت کے نفاذ کا تعلق اس حقیقت کے لفظی تکرار کے ساتھ ہوتا تو پاکستان اس وقت دنیا کی مثالی اور معیاری اسلامی سلطنت کا روپ دھار چکا ہوتا۔ لیکن کہیں نعروں اور جملوں کے بار بار تکرار سے بھی کسی قوم کی تقدیر بدلتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تئیس سالوں سے نعروں اور لفظوں کے بے مقصد تکرار کا یہ کھیل پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

۲۱ اگست ۱۹۷۰ء

قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے حق پرست اکابر شروع سے ہی اس دستور کو غیر اسلامی سمجھتے اور قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور ان کا جو آج موقف ہے وہی ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء سے قبل تھا۔ چنانچہ جمعیۃ کے آرگن سہ روزہ ترجمان اسلام کے مارشل لاء ۱۹۵۸ء سے قبل کے چند پرچوں سے بعض اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام نہ صرف یہ کہ ۱۹۵۶ء کے دستور کو غیر اسلامی سمجھتی تھی بلکہ جمعیۃ کی جدوجہد کا محور ہی اس دستور کو تبدیل کر کے خالص شرعی آئین نافذ کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء

اہل علم کو ایک اللہ والے کی نصیحت

امام دارمیؒ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت زید العمٰیؒ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بعض فقہاء کرام کو یہ نصیحت فرمائی کہ اے صاحب علم! اپنے علم پر عمل کرو اور اپنی ضرورت سے زائد جو مال ہو وہ اللہ کی راہ میں دے دو۔ لیکن ضرورت سے زائد بات کو اپنے پاس روک رکھو، بات وہی کرو جو تمہیں تمہارے رب کے پاس نفع دے۔ اے صاحب علم! جو کچھ تم جانتے ہو اگر اس پر عمل نہیں کرو گے تو جب تم اپنے رب سے ملو گے تو تمہارے لیے کوئی عذر اور حجت نہیں ہوگی۔ تمہارا علم کے مطابق عمل نہ کرنا تمہارے اوپر عذر اور حجت کو قطع کر دے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہل علم کو ایک اللہ والے کی نصیحت

۲۵ اکتوبر ۱۹۶۸ء

گوجرانوالہ کے اخبار نویس دوستوں سے

اخبار نویسی اور رپورٹنگ کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی جائے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے نظریات و خیالات کو بلاکم و کاس عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ لیکن معلوم نہیں ہمارے ہاں اخبار نویسی کا معیار کیا سمجھ لیا گیا ہے کہ جو چیز مخصوص گروہی اغراض کے مطابق ہو اسے قومی پریس میں جگہ دے دی جاتی ہے اور جس چیز کو اخبار نویسوں کی گروہی اغراض گوارا نہ کرتی ہوں وہ خود کتنی ہی اہمیت کی حامل ہو، ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ کے اخبار نویس دوستوں سے

۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء