افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ جنوری ۲۰۱۲ء
اصل عنوان: 
طالبان، ایک حقیقت

طویل عرصہ سے اس خبر کا انتظار تھا جو آج پڑھنے کو ملی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان قطر میں اپنا سیاسی دفتر قائم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے نمائندے قطر پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر فوج کشی کے بعد جب طالبان حکومت کا جبر کے ذریعے خاتمہ کر دیا تھا تو لندن سے ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی نے اپنے درد بھرے مضمون میں دکھ کا اظہار فرمایا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔ ہم نے ایک مضمون میں ان سے گزارش کی تھی کہ ’’سب کچھ ختم ہوگیا‘‘ کا تاثر درست نہیں ہے بلکہ ہمارے خیال میں تو کھیل اب شروع ہوا ہے جس کے آخری نتیجے کے لیے آپ بزرگوں کو کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ہم نے اس عرصہ کے بارے میں بھی اپنے اندازے کا ذکر کیا تھا کہ کم از کم سات آٹھ سال کا عرصہ اس کھیل کے لیے درکار ہوگا اس کے بعد آپ اگر یہ بات کہہ سکیں کہ ’’سب کچھ ختم ہوگیا‘‘ تو شاید ہم بھی آپ کی بات سننے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ ہمارے اندازے سے بات کچھ لمبی ہوگئی ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ’’پاکستانی طالبان‘‘ نے جذباتیت اور جلدبازی کا مظاہرہ کر کے نہ صرف ’’افغان طالبان‘‘ کے لیے مشکلات پیدا کیں بلکہ اپنی جدوجہد کو بھی کنفیوژن اور الجھنوں کی نذر کر دیا۔ ورنہ الگ الگ محاذ کھڑے کرنے کی بجائے ساری قوت افغان طالبان کی سپورٹ میں حکمت عملی اور تدبر کے ساتھ صرف ہوتی تو ہمارا پہلا اندازہ شاید غلط ثابت نہ ہوتا اور ’’سیاسی مذاکرات‘‘ کی خبر ہمیں چار پانچ سال پہلے ہی پڑھنے کو مل جاتی۔

میں نے اپنی زندگی کا پہلا سیاسی جلسہ ۱۹۶۲ء میں صدر ایوب خان مرحوم کی طرف سے سیاسی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد گوجرانوالہ میں سنا تھا۔ میرا طالب علمی کا دور تھا اور یہ جلسہ میاں افتخار الدین مرحوم کی یاد میں تعزیتی جلسے کے طور پر ہوا تھا، مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ نے اس کی صدارت کی تھی اور اس کے مقررین میں شیخ حسام الدین مرحوم اور آغا شورش کاشمیری مرحوم شامل تھے۔ آغا شورش کاشمیری جلسے کے آخری مقرر تھے اور انہوں نے صدر ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز اس جملے سے کیا تھا کہ ’’وہ اتنا عرصہ صدر ایوب بنے بیٹھے رہے اور ہم صبرِ ایوب بنے بیٹھے رہے‘‘۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کا یہ خطیبانہ جملہ ابھی تک کانوں میں گونج رہا ہے اور نائن الیون کے بعد افغانستان کے بعد امریکی اتحاد کی یلغار کے بعد سے ہماری کیفیت بھی کم و بیش یہی چلی آرہی ہے کہ ’’ہم صبرِ ایوب بنے بیٹھے رہے‘‘۔

ہمیں یہ تو بہرحال یقین تھا کہ افغانستان پر یہ فوج کشی کبھی کامیاب نہیں ہوگی اس لیے کہ افراد اور گروہوں کو طاقت کے زور پر شکست دی جا سکتی ہے مگر قوموں کو شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اور افغانستان میں طالبان کے بارے میں دنیا کو یہی مغالطہ رہا ہے کہ یہ کوئی گروہ ہے جو اپنی بات پر اڑ گیا ہے اور اسے سزا دے کر اپنی بات منوائی جا سکتی ہے۔ مگر بڑی طاقتوں کو یہ بات سمجھنے میں ایک عشرہ صرف کرنا پڑا کہ طالبان کسی گروہ کا نام نہیں بلکہ افغان قوم کی ملی غیرت و حمیت اور اسلام و شریعت کے ساتھ افغانوں کی والہانہ وابستگی نے طالبان کا عنوان اختیار کر رکھا ہے۔ بہرحال ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق قطر میں طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی ابتدا ہو رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ (افغان) طالبان کا وجود عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ان کے کردار کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے۔

افغان طالبان کے پس منظر کے بارے میں جو حضرات زیادہ واقف نہیں ان کے لیے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے بعد مجاہدین کے مختلف گروپوں نے اپنے وطن کی آزادی اور اپنے دینی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے جہاد کا علم بلند کیا تھا اور انہیں اس میں سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ لڑنے والی عالمی قوتوں کی حمایت حاصل ہوگئی تھی۔ اس جہاد میں افغانستان کے علاوہ پاکستان اور دوسرے ممالک سے بھی ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اس جہاد کے نتیجے میں روسی افواج نے افغانستان چھوڑ دیا لیکن ان کے جانے کے بعد اس جہاد کے فوائد مغربی قوتوں نے اپنے دامن میں ڈال کر مجاہدین کے مختلف گروپوں کو آپس میں لڑنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا اور افغانستان احمد شاہ مسعود مرحوم، انجینئر حکمت یار اور دوسرے گروہوں کے درمیان خانہ جنگی کا میدان بن گیا۔ اس خانہ جنگی میں افغانستان کی تباہی اور جہاد افغانستان کے منطقی نتائج کو ڈوبتا دیکھ کر مختلف جہادی گروپوں کے مخلص نوجوان قندھار کے ملا محمد عمر کی قیادت میں میدان میں آئے اور انہوں نے افغانستان کو امن فراہم کرنے اور اسلامی شریعت کے نفاذ کو اپنا مشن قرار دے کر اپنی فوج منظم کر کے رفتہ رفتہ افغانستان کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا اور ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کے نام سے اپنی حکومت قائم کر لی۔

اس کے ساتھ ہی جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے عرب مجاہدین نے الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کی قیادت میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجوں اور مغربی ممالک کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور افغانستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔ اس پر مغربی ملکوں کو اعتراض ہوا اور طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عرب مجاہدین کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اعلان کریں اور اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دیں۔ اسی دوران نائن الیون کا افسوسناک سانحہ رونما ہوا جس کی ذمہ داری عرب مجاہدین پر ڈال دی گئی اور اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ طالبان حکومت نے اس یکطرفہ مطالبہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عالمی سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا اہتمام کیا جائے، اس کے بغیر وہ اسامہ بن لادن کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ اس کے بعد اقوامِ متحدہ سے رجوع کر کے دہشت گردی کی کوئی تعریف اور مصداق طے کیے بغیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ قائم کر کے افغانستان پر فوج کشی کر دی گئی اور طالبان قندھار کا اقتدار چھوڑ کر محاذ جنگ پر چلے گئے۔

تب سے افغانستان میں جنگ جاری ہے اور ایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی طالبان کو نہ تو شکست دی جا سکی ہے اور نہ ہی ان کے ایجنڈے اور عزم میں کوئی تبدیلی لائی جا سکی ہے۔ ابھی چند روز قبل کسی امریکی تھنک ٹینک کے حوالے سے ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان میں شائع ہوئی ہے کہ افغان طالبان کو اس بات پر آمادہ نہیں کیا جا سکا کہ وہ افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے ’’سخت قوانین‘‘ کے نفاذ کا ارادہ ترک کر دیں اور اس بات کو بعض امریکی دانشوروں کے ہاں افغانستان میں امریکی افواج کی جنگ کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

بہرحال یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی اور جوں جوں مذاکرات آگے بڑھیں گے بہت سے نئے اور پرانے پہلو بے نقاب ہوتے رہیں گے۔ ہم سرِدست طویل انتظار کے بعد سامنے آنے والی اس خبر پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور اس پر طالبان کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں کہ اس نے بالآخر زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ مذاکرات جلد شروع ہوں اور کامیابی سے ہمکنار ہو کر افغانستان پوری دنیا کے لیے امن کی نوید ثابت ہو، آمین یا رب العالمین۔