مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۱۹۹۷ء

سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی گزشتہ روز لاہور سیشن کورٹ کے احاطہ میں بم کے خوفناک دھماکہ میں جام شہادت نوش کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے نائب مولانا اعظم طارق کے ہمراہ ایک مقدمہ کی پیشی کے سلسلہ میں سیشن کورٹ میں موجود تھے کہ اچانک بم کا دھماکہ ہوا جس میں مولانا ضیاء الرحمان فاروقی سمیت دو درجن سے زائد افراد جاں بحق جبکہ مولانا اعظم طارق سمیت ایک سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے۔

مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ کا تعلق سمندری ضلع فیصل آباد سے تھا اور وہ مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا محمد علی جانبازؒ کے فرزند تھے۔ انہوں نے دینی تعلیم میں سند فراغت دارالعلوم کبیروالہ سے حاصل کی جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ وہ ایک عرصہ تک جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے جبکہ سپاہ صحابہؓ قائم ہونے پر اس کے بانی مولانا حق نواز جھنگویؒ کے ساتھ شریک ہوگئے اور ان کی شہادت کے بعد ان کی جگہ سپاہ صحابہ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ چن لیے گئے۔

فاروقی شہیدؒ بے باک خطیب، سرگرم کارکن اور ممتاز مصنف تھے۔ انہوں نے تحریر و تقریر کے ذریعہ ملک میں نفاذ اسلام، تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس صحابہؓ کی جدوجہد میں مسلسل اور سرگرم کردار ادا کیا اور متعدد بار قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے۔ حتیٰ کہ شہادت کے وقت بھی وہ زیرحراست تھے اور عدالت میں پیشی کے لیے انہیں مولانا اعظم طارق کے ہمراہ جیل سے لایا گیا تھا۔ ہم اس جانکاہ صدمہ میں مولانا فاروقی شہیدؒ اور دیگر شہداء کے خاندانوں کے ساتھ شریک غم ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں اور زخمیوں کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

اس کے ساتھ ہی ہم ملک بھر میں سنی شیعہ تصادم کے بڑھتے ہوئے رجحانات، بم دھماکوں، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں فائرنگ کے واقعات اور دونوں طرف سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں جس سے ملک کا ہر باشعور شہری پریشان اور مضطرب ہے اور مذہبی امن مسلسل خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسلح تصادم اور روز افزوں کشیدگی کے حقیقی اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کی ٹھوس جدوجہد ضروری ہے اور حکومت کو اس بارے میں کسی قسم کی مصلحت اندیشی اور غفلت سے کام لینے کی بجائے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن عامہ کی خاطر ہنگامی بنیادوں پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس سلسلہ میں ہماری تجویز یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیشن مقرر کیا جائے جس میں حکومت اور فریقین کے ذمہ دار نمائندے شامل ہوں۔ یہ کمیشن ملک میں سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کرے جن پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرایا جائے۔

ہمیں امید ہے کہ حکومت اس تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی اور فرقہ وارانہ امن بحال کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں مزید کوتاہی روا نہیں رکھے گی۔