اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
یکم فروری ۱۹۹۹ء

مولانا زاہد الراشدی کا سالہا سال سے معمول ہے کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو نماز فجر کے بعد جامعہ قاسمیہ (قاسم ٹاؤن، گوجرانوالہ) میں قرآن کریم کا درس دیتے ہیں، اس سال کے درس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ (ادارہ الشریعہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی۔

اہل کتاب میں سے یہود کا کہنا یہ تھا کہ وہ خدا کے پیارے ہیں۔ پہلے انہوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں، پھر آہستہ آہستہ اس بات پر آگئے کہ ’’نحن ابناء اللہ واحباءہ‘‘ کہ ہم خود خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم انبیاء کرامؑ کی اولاد ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم نہیں بھیجیں گے اور اگر کوئی ضابطہ پورا کرنے کے لیے بھیجا بھی گیا تو گنتی کے چند دن ہم جہنم میں رہیں گے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں چلے جائیں گے۔ انہیں اس بات پر گھمنڈ تھا کہ وہ انبیاء کرامؑ کی اولاد ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو کہا جاتا ہے جن کی نسل میں بڑی تعداد میں پیغمبر آئے اور چار بڑی آسمانی کتابوں میں سے تین یعنی تورات، زبور اور انجیل بھی انہی کی اولاد میں نازل ہوئیں۔ اس لیے بنی اسرائیل اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے کہ اس بڑی نسبت کی وجہ سے وہ جہنم سے بچ جائیں گے اور انہیں بداعمالیوں کی کوئی بڑی سزا نہیں بھگتنا پڑے گی۔

دوسری طرف عیسائیوں نے کفارے کا عقیدہ اختیار کر لیا کہ ہر انسانی پیدائشی گنہگار ہے اس لیے وہ نہ تو گناہ سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی اس سے پاک ہو سکتا ہے، البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے بقول سولی پر چڑھ گئے اور نے اس طرح نسلِ انسانی کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ اب جو شخص صلیب کے سائے میں آجائے گا یعنی عیسائی ہو جائے گا وہ اس کفارہ میں شمولیت کا مستحق ہوگا اور اس کی برکت سے گناہوں سے پاک ہو جائے گا، اور جو شخص اس دائرہ میں نہیں آئے گا جیسا گنہگار پیدا ہوا ہے ویسا ہی گنہگار مر جائے گا اور اسے گناہوں سے کسی صورت میں نجات حاصل نہیں ہوگی۔ اب انہیں دیکھئے کہ انہوں نے اپنے گناہوں کے عوض اللہ تعالیٰ کے معصوم پیغمبر حضرت عیسٰیؑ کو بزعم خود سولی پر چڑھا دیا کہ گناہ یہ کریں اور سزا حضرت عیسٰی بھگتیں۔ ویسے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سولی پر چڑھنے کا عقیدہ عیسائیوں کا ہے ہمارا نہیں ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ نہ سولی چڑھے ہیں اور نہ اب تک ان پر موت وارد ہوئی ہے، وہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لیے گئے تھے، اب بھی زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ مگر عیسائیوں کے عقیدے کی داد دیں کہ اپنے گناہوں کی سزا پیغمبر کو دے رہے ہیں اور انہیں سولی پر چڑھا کر خوش ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔

تیسری طرف مشرکین مکہ کو اس بات کا یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے۔ وہ بار بار پوچھتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے، خاک میں مل جائیں گے، راکھ بن جائیں گے تو پھر دوبارہ کیسے اٹھائے جائیں گے؟ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے متعدد مقامات پر مشرکین کے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ جس ذات نے تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اور پانی کے ایک قطرے سے تمہارا وجود بنایا ہے بلکہ عدم سے وجود میں لایا ہے اس کے لیے دوبارہ اٹھانا مشکل نہیں ہے، جو پہلے پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی تمہارے بکھرے ہوئے اجزا کو مجتمع کر کے زندگی دے سکتا ہے، حتیٰ کہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ’’افعیینا بالخلق الاول‘‘ کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں؟ تو مشرکین کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس لیے زندگی یہی دنیا کی زندگی ہے اس میں جو کچھ کر سکتے ہو کر لو۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے ان تینوں فلسفوں کو رد کیا ہے اور بتایا ہے کہ نہ کسی نسبت کی وجہ سے گناہوں سے چھٹکارا ملے گا، نہ کی دوسرے کا کوئی کفارہ کام آئے گا اور نہ ہی موت کی وجہ سے کوئی انسان اپنی بداعمالیوں کی سزا سے بچ سکے گا۔ بلکہ ہر شخص کو اپنے اعمال کی جزا اور سزا کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا اور جس شخص نے بھی کوئی برا کام کیا اسے اس کا بدلہ مل کر رہے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنی پھوپھی حضرت صفیہؓ، اپنے چچا حضرت عباسؓ اور اپنی سب سے لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس خیال میں نہ رہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق داری ہے لہٰذا کچھ نہیں کہا جائےگا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کام آئے گی اس لیے ایسے اعمال کرتے رہنا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث بنتے ہیں۔ اب ظاہر بات ہے کہ جب جناب رسول اللہ کی تعلق داری کام نہیں آئے گی تو اس دنیا میں اس سے بڑی اور کونسی نسبت ہے جس کے بارے میں انسان خوش فہمی کا شکار ہو کہ اس نسبت کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔

یہاں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اعمال کی سزا و جزا کے بارے میں یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین مکہ کے ان عقائد اور فلسفوں پر اس لحاظ سے بھی نظر ڈال لیجئے کہ یہ تینوں فلسفے انسانی معاشرہ میں جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک فلسفہ بھی ایسا نہیں ہے جو انسانی سوسائٹی کو جرم اور گناہ سے پاک کرنے کی ترغیب دیتا ہو اور انسان کو گناہ اور جرم سے روکتا ہو۔ جب ایک شخص کا عقیدہ یہ بن جائے کہ وہ نبیوں کی اولاد ہے اور یہ نسبت اسے جنت میں لے جائے گی اور اسے اپنے گناہوں کی کوئی بڑی سزا نہیں بھگتنا پڑے گی تو وہ گناہ سے کیونکر باز آئے گا؟ اس کے لیے تو گناہ سرے سے گناہ ہی نہیں رہے گا اور وہ پوری بے فکری کے ساتھ اپنی بے لگام خواہشات کی تکمیل کرتا رہے گا۔ اسی طرح جب کسی شخص کا عقیدہ یہ ہو جائے کہ وہ جو گناہ بھی کرے گا حضرت عیسٰی علیہ السلام اس کی طرف سے کفارہ دے گئے ہیں او روہ اس کفارے کی وجہ سے ہر گناہ سے پاک ہو جاے گا۔ تو اس شخص کو گناہ اور جرم سے کون سی قوت روکے گی؟ بلکہ وہ تو بے دھڑک ہو کر بڑے سے بڑا گناہ اور بڑے سے بڑا جرم کر گزرے گا اور پھر صلیب گلے میں لٹکا کر مطمئن ہو جائے گا کہ میں اس کی وجہ سے اپنے جرم اور کفارہ کی سزا سے محفوظ ہوگیا ہوں۔ اسی طرح جو شخص سرے سے سزا و جزا کے عقیدہ کو ہی نہیں مانتا اور اس کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ یہی دنیا سب کچھ ہے اس کے بعد کچھ نہیں ہے تو وہ اس دنیا میں زندگی کی بہتر سے بہتر سہولتیں حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرے گا اور حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے کون سے فرق کا وہ لحاظ کرے گا؟

اس لیے اسلام کا عقیدہ ہی صرف ایسا عقیدہ ہے جو انسان کے دل میں نہ صرف خدا کا خوف پیدا کرتا ہے بلکہ اپنے اعمال کی جوابدہی اور حساب کتاب کے لیے انسان کو ذہنی طور پر تیار کرتا ہے جس کی وجہ سے حلال و حرام کا فرق ذہن میں ابھرتا ہے اور انسان جائز و ناجائز کے کسی دائرے کو قبول کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اور یہی ایک قوت ہے جو اس دنیا میں انسانی معاشرے کو جرائم اور گناہوں سے پاک کر سکتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کر لیجئے کہ یہ آیت جب نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ ’’من یعمل سوءًا یجز بہ‘‘ جس نے بھی کوئی برا عمل کیا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو حضرات صحابہ کرامؓ پریشان ہوگئے حتیٰ کہ حضرت صدیق اکبر فرماتے ہیں کہ مجھ پر یہ آیت سن کر ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے میری کمر ٹوٹ گئی ہو۔ مسند احمدؒ کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے میری اس پریشانی اور اضطراب کو بھانپ لیا اور دریافت فرمایا کہ ’’مالک یا ابابکر‘‘ ابوبکر! آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے جو آیت کریمہ سنائی ہے اس کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ جب ہر عمل کا بدلہ ضرور دیا جائے گا تو تھوڑی بہت غلطیاں تو ہر انسان سے ہوتی رہتی ہیں، پھ ہم میں سے کون بچ سکے گا؟ اس پر آنحضرتؐ نے یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ کو تسلی دی کہ ہر عمل کا بدلہ آخرت میں ضروری نہیں ہے بلکہ کچھ اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور مومن کو اس دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے خواہ وہ ذہنی اذیت ہو، مالی پریشانی ہو یا بدنی تکلیف ہو حتیٰ کہ اس کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے تو یہ اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔

تو حضراتِ محترم! یہ ہے اس آیت کریمہ کا مختصر مفہوم جو میں نے عرض کیا ہے، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اعمال کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: