سہ ماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ جنوری ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
اسلام کی تبلیغ کے لیے عالمگیر نیٹ ورک کی ضرورت

صفر کے پہلے پیر کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا سہ ماہی امتحان ہوتا ہے، یہ ایک دن کا تقریری امتحان ہوتا ہے اور اس سے قبل طلبہ کا دو دن کا تیاری کے لیے تقاضا ہوتا ہے جبکہ امتحان کے بعد تین چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح مجھے اس ہفتہ کے دوران چند روز گھومنے پھرنے کے لیے مل جاتے ہیں اور میں ان سے بھرپور استفادے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہی دنوں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا کراچی میں اجلاس تھا جس کے لیے دعوت نامہ موصول ہو چکا تھا اور برادرم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر بھی تاکید کی تھی لیکن اسی روز مدرسہ کا سہ ماہی امتحان تھا جس میں ناظم تعلیمات اور صدر ممتحن کے طور پر میری حاضری ضروری ہوتی ہے اس لیے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر دی۔

ہفتہ اور اتوار کو میں نے راولپنڈی اور حسن ابدال حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ مولانا قاری سعید الرحمانؒ ہمارے پرانے اور بزرگ دوستوں میں سے تھے اور اکثر معاملات میں ہم باہمی مشاورت سے پروگرام طے کیا کرتے تھے، ان کی وفات کے بعد میں جامعہ اسلامیہ حاضر نہیں ہو سکا تھا جبکہ اس سے قبل میرا معمول رہا ہے کہ راولپنڈی کے کسی بھی سفر میں گنجائش ہونے کی صورت میں وہاں کی حاضری میرے لیے ضروری ہوا کرتی تھی۔ ظہر کی نماز میں نے وہاں پڑھی، قاری صاحبؒ کے فرزند مولانا ڈاکٹر قاری عتیق الرحمان اور جامعہ اسلامیہ کے اساتذہ سے ملاقات اور حسب سابق گپ شپ ہوئی، میرے لیے یہ بات خوشی اور اطمینان کی ہے کہ ہمارے فاضل عزیز قاری عتیق الرحمان صاحب اپنے والد مرحوم کی جگہ پر حسن و خوبی کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد محترم کی روایات اور جدوجہد کے تسلسل کو قائم رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ رات حسبِ سابق ٹیکسلا میں صلاح الدین فاروقی صاحب کے ہاں قیام کیا اور ایک مسجد میں جہاں ان کے بیٹے حافظ محمد معاویہ امامت و تدریس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، عشاء کے بعد درس دیا۔

اتوار کو حسن ابدال میں ’’مرکز حافظ الحدیث حضرت درخواستیؒ‘‘ میں حاضری ہوئی جو حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے جانشین حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی نے جامعہ انوار القرآن کراچی کے تحت حسن ابدال سے پشاور جاتے ہوئے دو کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ کے ساتھ واقع منوں ٹیکسٹائل مل کے پڑوس میں قائم کیا ہے۔ مسجد اور مدرسہ کے کئی کمرے تعمیر ہو چکے ہیں، حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کی تعلیم شروع ہوگئی ہے، ایک سو سے زائد طلبہ رہائش پذیر ہیں اور مولانا صفی اللہ اس کی نگرانی اور انتظام کی ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ میرے لیے اس میں دلچسپی کی ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ مرکز اس علاقے میں جو ہزارہ اور صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع کے درمیان سنگم پر واقع ہے، پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہوگا اور یہاں ’’نفاذ شریعت سیمینار‘‘ کے عنوان سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کے ایک علاقائی اجتماع کا پروگرام زیرغور ہے جو پاکستان شریعت کونسل کی اس علاقہ میں سرگرمیوں کا نقطۂ آغاز ہوگا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

پیر کو سارا دن جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے امتحان میں مصروف رہنے کے بعد نماز عشاء سے قبل لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد پہنچ گیا جہاں عشاء کے بعد ’’تحریک پاکستان میں علماء دیوبند کا کردار‘‘ کے موضوع پر مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ اس مسجد کی ایک مستقل تاریخ ہے، یہ مسجد آسٹریلیا میں رہنے والے لاہور کے ایک تاجر بزرگ حاجی محمد بخشؒ نے علامہ محمد اقبالؒ کے کہنے پر بنائی تھی اور علامہ اقبال مرحوم کا پروگرام تھا کہ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ لاہور تشریف لے آئیں اور وہ دونوں مل کر فقہ اسلامی پر اسی طرز کا کام کریں جیسا کہ اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں فتاوٰی عالمگیری کی صورت میں ہوا تھا۔ اس مرکز کے لیے آسٹریلیا مسجد کے عقب میں ایک الگ عمارت بھی تعمیر کی گئی، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ ڈابھیل جانے سے پہلے لاہور تشریف لائے اور ایک ماہ تک اس مسجد کے خطیب کی حیثیت سے رہے مگر اس پر شرح صدر نہ ہوا اور وہ ڈابھیل تشریف لے گئے، جبکہ ان کی جگہ ان کے خاص شاگرد حضرت مولانا عبد الحنان ہزارویؒ اس مسجد کے ایک عرصہ تک خطیب رہے۔ یہ مسجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں ہے اور ہمارے محترم دوست مولانا عبد الرؤف ملک نے کم بیش ربع صدی تک اس مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیے ہیں۔ مولانا عبد الرؤف ملک جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے ہیں اور متحدہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل چلے آرہے ہیں۔ جامعہ عثمانیہ کے نام سے دینی تعلیم کی ایک درسگاہ کچھ عرصہ سے یہاں کام کر رہی ہے اور درس نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔

گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آسٹریلیا مسجد میں ختم نبوت کے عقیدے اور تحریک کے حوالے سے تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں ساڑھے چار سو کے لگ بھگ حضرات نے شرکت کی۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسن زید مجدہم، مولانا عزیز الرحمان ثانی اور مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اس پروگرام کے نگران تھے، اس کی آخری نشست میں تقسیم اسناد کے لیے مولانا محمد یوسف خان، مفتی محمد حسن اور دیگر بزرگوں کے ساتھ مجھے بھی حاضری اور کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ پیر کو نماز عشاء کے بعد مجھے دوبارہ کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور میں نے تحریک پاکستان کے پس منظر، اس کے مقاصد، اس میں علماء دیوبند کی خدمات اور قیام پاکستان کے بعد اس کے استحکام و سالمیت کے لیے علماء دیوبند کی جدوجہد کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی، اس کے بارے میں دوستوں کا تقاضا ہے کہ اسے قلمبند بھی کیا جائے چنانچہ ارادہ ہے کہ اسے ایک کالم کی صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں۔جامعہ عثمانیہ اور مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل پنجاب کا تقاضا ہے کہ آسٹریلیا مسجد میں اس قسم کی فکری محافل تسلسل کے ساتھ ہوتی رہیں، ان کے ارشاد پر میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اس کی افادیت و ضرورت تو ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔اس نشست سے فارغ ہو کر سیدھا ایئرپورٹ پہنچا اور ۱۰ بجے پی آئی اے کے ذریعے روانہ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے کراچی پہنچ گیا۔

میری سہ ماہی امتحان کی تین چار چھٹیاں کئی برسوں سے کراچی میں گزر رہی ہیں، جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن اور مجلس صوت الاسلام کلفٹن میں کچھ فکری نوعیت کی نشستیں ہو جاتی ہیں۔ اس سال جامعہ انوار القرآن میں روزانہ صبح ۸ بجے سے ۱۲ بجے تک علماء اور طلبہ کے لیے نشستیں رکھی گئی ہیں۔ پہلے روز میں نے اقوام متحدہ کے نظام کار، انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ، اسلام کے فلسفۂ حقوق، مغربی تہذیب و ثقافت کی فکری یلغار اور اس سے متعلقہ امور پر کم و بیش تین گھنٹے مفصل گفتگو کی۔ جبکہ شام کو عصر سے عشاء تک جامع مسجد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کلفٹن میں مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام ان کے یک سالہ تربیت علماء کورس میں تین روز تک گزارشات پیش کرنے کا پروگرام تھا۔

یہاں پہلے روز کی گفتگو میں دعوت و ارشاد کی اہمیت و ضرورت اور اس کے تقاضوں کے حوالے سے گزارشات پیش کیں اور عرض کیا کہ اسلام پوری نسلِ انسانی کا مذہب ہے اور اس کی دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے جسے دنیا کے ہر انسان تک پہنچانا ہم سب مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس وقت دنیا میں موجود مذاہب میں سے پوری نسل انسانی کو اپنے دائرے میں سمیٹنے کے لیے دو مذہبوں کے درمیان عالمی سطح پر مقابلہ جاری ہے۔ ایک طرف مسیحیت ہے جو اصلاً بنی اسرائیل کا مذہب ہونے کے باوجود پوری دنیائے انسانیت کو مسیحی ہونے کی دعوت دے رہی ہے، دنیا کے ہر علاقے میں اس کے مشنری ادارے اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں اور بڑے مسلمان ممالک خصوصاً انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان ان کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ دوسری طرف اسلام ہے جو پوری نسل انسانی کو دعوت دے رہا ہے لیکن ہمارے لیے قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس سطح پر بین الاقوامی میدان میں مسیحی مشنریوں کی سرگرمیاں جاری ہیں اس سطح پر اسلام کی دعوت دینے اور غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کرانے کا کوئی عالمی نظام اور نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ انفرادی سطح پر دنیا کے مختلف حصوں میں افراد اور ادارے کام کر رہے ہیں لیکن غیر مسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور اسے قبول کرنے کی دعوت دینے کا کوئی سسٹم نہیں ہے جو یقیناً ہماری اجتماعی ملی کوتاہیوں میں سے ہے۔

بہرحال کراچی میں مصروفیات کا سلسلہ جاری ہے اور جامعۃ الرشید سمیت دیگر مختلف اداروں میں حاضری کا پروگرام ہے جن کی تفصیلات آئندہ چند کالموں میں قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائیں گی، ان شاء اللہ تعالٰی۔