جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اپریل ۲۰۰۱ء

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے گزشتہ روز تہران میں پاکستانی رہنماؤں محترم قاضی حسین احمد، جناب وسیم احمد سجاد اور جناب الٰہی بخش سومرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر اگر الیکشن میں منتخب ہو جائیں تو وہ انہیں امیر المؤمنین تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملا محمد عمر کو ایک خط میں فارمولا پیش کیا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کریں جس میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی جائے اور تمام اضلاع کے نمائندوں پر مشاورتی کونسل قائم کی جائے جو الیکشن کرائے۔ روزنامہ اوصاف کی رپورٹ کے مطابق جناب حکمت یار نے یہ بھی بتایا کہ ان کے خیال میں طالبان حکومت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی کیونکہ روس نے یورپی یونین کی مدد سے بیس ہزار افراد پر مشتمل فوج تیار کر لی ہے جو طالبان پر حملہ کرنے والی ہے، اس دوران طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں اندرونی شورشیں بھی ہوں گی جن کی وجہ سے طالبان حکومت کا باقی رہنا مشکل ہو جائے گا۔

انجینئر گلبدین حکمت یار افغانستان کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے افغانستان پر روسی استعمار کے تسلط کے خلاف جرأت مندانہ جنگ لڑی اور میدان جنگ میں روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی روسی جارحیت کو بے نقاب کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کیا۔ وہ حزب اسلامی افغانستان کے ایک مؤثر دھڑے کے سربراہ تھے یہی وجہ ہے کہ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جب افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں پر مشتمل مشترکہ حکومت تشکیل دی گئی تو انہیں اس کا وزیراعظم منتخب کیا گیا ۔ اس مشترکہ حکومت میں پروفیسر برہان الدین کو صدر، جناب حکمت یار کو وزیراعظم اور کمانڈر احمد شاہ مسعود کو وزیردفاع مقرر کیا گیا تھا لیکن یہ ٹیم مل جل کر ملک کے نظام کو نہ سنبھال سکی اور گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی شخصی مخاصمت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ مجاہدین کی حکومت مسلسل عدم استحکام کا شکار رہی بلکہ کابل جو گزشتہ جنگ کے دوران محفوظ رہ گیا تھا ان دونوں رہنماؤں کی اقتدار کی جنگ میں اس کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ربانی، حکمت یار اور مسعود پر مشتمل ٹیم میں انڈر اسٹینڈنگ ہوتی او ریہ تینوں رہنما باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ ملک کا نظام سنبھالتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ:

  • افغانستان کو ایک مستحکم حکومت نصیب ہوتی،
  • مجاہدین کے باقی تمام گروپوں کے لیے ان کے ساتھ چلنے اور ان سے تعاون کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہتا،
  • روس اور مجاہدین کی جنگ میں محفوظ رہنے والے کابل کی تباہی نہ ہوتی،
  • اور طالبان ملیشیا کا سرے سے کوئی وجود نہ ہوتا۔

لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی باہمی آویزش اور ایک دوسرے کو اقتدار میں غیر مؤثر بنانے کی کشمکش نے افغانستان کو روسی فوجوں کی واپسی کے بعد خوفناک خانہ جنگی سے دوچار کردیا۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں انارکی پھیلی اور اس کے ردعمل میں طالبان ملیشیا نے جنم لیا جس نے تمام گروپوں کو ایک طرف کرتے ہوئے افغانستان میں خانہ جنگی ختم کر کے امن قائم کیا اور کابل، جلال آباد، مزار شریف، قندھار اور دیگر شہروں میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا جہادی لیڈروں کو میدان سے باہر کر دیا۔

آج امریکہ، بھارت، اسرائیل، روس اور یورپی یونین کو طالبان حکومت سے جہاں یہ تکلیف ہے کہ طالبان اسلام کے بارے میں بے لچک رویہ رکھتے ہیں اور انہوں نے کتابوں میں جس اسلام کو پڑھ رکھا ہے اسے کسی ردوبدل کے بغیر نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہاں اس کے ساتھ یہ بات بھی مغربی ممالک کے لیے تکلیف دہ ہے کہ طالبان کے آنے سے افغانستان کے بیشتر علاقے میں ایک گروپ کی حکومت قائم ہوگئی ہے جو اگر افغانستان کے باقی حصے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو یہ پورے افغانستان پر ون پارٹی گورنمنٹ ہوگی جس کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے مغرب اور اقوام متحدہ کو بہرحال اس کی ترجیحات اور موقف کا احترام کرنا ہوگا۔ اور حکومت میں مختلف گروپوں کی شمولیت کی صورت میں ان کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھانے اور بارگیننگ میں اپنے مفادات کے لیے راستے نکالنے کی سہولت مغربی ملکوں کو حاصل نہیں رہے گی۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ، امریکہ، روس اور دیگر عالمی طاقتیں مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ وسیع البنیاد حکومت یا عوامی انتخابات کے عنوان سے مختلف گروپوں کو کسی نہ کسی طرح افغانستان کی حکومت میں شامل کرا دیا جائے تاکہ انہیں اپنے مفادات کا کھیل کھیلنے کے لیے اپنی مرضی کا وسیع میدان مل سکے۔ لیکن طالبان حکومت اس چال کو پوری طرح سمجھ رہی ہے اور مغربی ملکوں کو کوئی راستہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

جہاں تک ایک اسلامی حکومت اور امارت شرعیہ کے لیے عوامی اتحاد کے حامل ہونے کی بات ہے ہم اسے ضرری سمجھتے ہیں اور ہمارا موقف بھی یہ ہے کہ اسلامی حکومت اور خلافت عوام کے اعتماد کے ساتھ ہی قائم ہو سکتی ہے جس کی واحد صورت اس دور میں الیکشن ہے۔ لیکن الیکشن کے لیے فضا کا سازگار ہونا اور کسی مناسب فریم ورک کا ہونا بھی ضروری ہے جس کے لیے افغانستان کے موجودہ حالات بالکل سازگار نہیں ہیں:

  • افغان عوام مختلف ملکوں میں بکھرے پڑے ہیں،
  • افغانستان کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے،
  • انہیں امریکہ، روس، بھارت اور یورپی یونین کی پشت پناہی سے جاری شمال کی جنگ کا سامنا ہے،
  • اور انہیں مختلف لابیوں اور قوتوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں اور مداخلت کی صورتحال درپیش ہے۔

ان حالات میں یہ کہنا کہ وہ پہلے الیکشن کرائیں اور اس کے بعد جناب حکمت یار ان کی حکومت کو تسلیم کریں گے دراصل طالبان حکومت کو یورپی یونین، امریکہ اور روس کے ایجنڈے کے سامنے سپرانداز ہونے کا مشورہ دینا ہے۔

پھر یہ مسئلہ بھی قابل غور ہے کہ افغانستان سے روسی فوجوں کے چلے جانے اور افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں کی مشترکہ حکومت قائم ہوجانے کے بعد کابل اور افغانستان کو جس خانہ جنگی سے دوچار ہونا پڑا اور جو خوفناک تباہی پھیلی اس کے اصل فریق جناب حکمت یار اور احمد شاہ مسعود تھے اور ان کی باہمی اقتدار اور بالادستی کی جنگ میں جو خونریزی اور قتل و غارت ہوئی اس کی ذمہ داری میں یہ دونوں برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی خانہ جنگی کے ردعمل میں ابھرنے والی طالبان ملیشیا ان میں سے ایک کے خلاف تو برسرپیکار رہے اور دوسرے کے سر پر فکری قیادت اور رہنمائی کا تاج سجا دے۔

چنانچہ ہم بڑے ادب کے ساتھ جناب حکمت یار سے عرض کرنا چاہیں گے کہ ان کی اس حالیہ گفتگو نے بات واضح کر دی ہے کہ مقاصد اور نتائج کے حوالہ سے ان کی اور احمد شاہ مسعود کی جدوجہد میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ جو مقاصد احمد شاہ مسعود عسکری قوت کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں بالکل وہی مقاصد اور نتائج جناب حکمت یار سفارتی جنگ کے ذریعے حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے نزدیک طالبان حکومت کے ساتھ ہمدردی یہ نہیں ہے کہ انہیں افراتفری کی اس فضا میں الیکشن کی راہ پر ڈال کر افغان عوام کو ایک نئے فکری انتشار سے دوچار کر دیا جائے اور افغان معاشرے میں مغربی حکومتوں اور لابیوں کی مداخلت کی راہیں تلاش کی جائیں۔ بلکہ افغان عوام اور ان کی اسلامی حکومت کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ:

  • طالبان حکومت کو تسلیم کیا جائے، اسے مستحکم کرنے میں تعاون کیا جائے اور اس کے خلاف مغرب کے ایجنڈے اور عزائم کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا جائے۔
  • ایسے حالات پیدا کرنے میں ان کا ساتھ دیا جائے کہ وہ پورے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا اہتمام کریں، ایک اسلامی حکومت کا دستور تشکیل دیں، حکومتی ڈھانچے اور نظام کے خدوخال طے کریں، اور اس کی روشنی میں عام انتخابات کرا کے عوامی اعتماد کی حامل حکومت کے قیام کی راہ ہموار کریں۔

باقی رہی بات روس اور یوپی یونین کی مدد سے بیس ہزار فوج کی تیاری اور طالبان حکومت کے خلاف اس کے حملہ آور ہونے کے پروگرام کی تو ہمارے نزدیک یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو افغان عوام کا مزید کوئی امتحان مقصود نہیں ہے اور وہ طالبان حکومت سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں تو طالبان اس مرحلہ سے بھی سرخروئی کے ساتھ گزر جائیں گے اور امریکہ، روس اور یورپی یونین کا یہ گٹھ جوڑ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ لیکن اگر خدانخواستہ ان کے لیے کربلا اور بالاکوٹ جیسے مراحل تقدیر نے طے کر رکھے ہیں تو نظریاتی تحریکوں کو ان مراحل سے بھی بسا اوقات گزرنا پڑ جاتا ہے اور ہم جناب حکمت یار اور ان کی طرح روس، امریکہ اور یورپی یونین سے امیدیں وابستہ کرلینے والے حضرات سے بڑے ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہیں گے کہ بالا کوٹ میں سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء کے ذبح ہو جانے سے برصغیر پر فرنگی حکمرانوں کے تسلط کو جواز فراہم نہیں ہوگیا تھا اور نہ ہی ان شہداء کی جدوجہد کو منزل تک پہنچنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک سکی تھی۔