ارباب سکندر خان خلیل شہید

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور ملک کے معروف سیاسی رہنما ارباب سکندر خان خلیل گزشتہ روز صبح کے وقت جبکہ وہ معمول کے مطابق سیر کر رہے تھے، قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارباب صاحب مرحوم کا شمار بااصول، معتدل مزاج اور ایثار پیشہ راہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا، بعد میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور اپنے تدبر اور خلوص کی بدولت پارٹی کے مرکزی قائدین میں شمار ہونے لگے۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد جب صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مشترکہ وزارتیں قائم ہوئیں اور ارباب سکندر خان خلیل کو سرحد کا گورنر مقرر کیا گیا تو صوبہ کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے سادگی، تواضع اور ایثار کا جو مظاہرہ کیا اس نے پہلے زمانوں کی یاد تازہ کر دی۔ قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اس دور میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے اور ہم نے حضرت مفتی صاحبؒ کو ارباب صاحب مرحوم کی تعریف میں ہمیشہ رطب اللسان پایا۔ یہ ارباب صاحب کی سادگی اور اصول پرستی کی ایک زریں مثال ہے کہ جب انہیں گورنر کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا تو وہ حکم وصول کرتے ہی اپنا سامان، جو صرف ایک سوٹ کیس پر مشتمل تھا، اٹھا کر گورنر ہاؤس سے نکل آئے اور سیدھے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں حضرت مفتی صاحبؒ کے پاس پہنچ گئے۔ حتیٰ کہ صبح کا ناشتہ بھی مفتی صاحبؒ کے پاس کیا اور پوچھنے پر کہا کہ جب میں گورنر ہی نہ رہا تو گورنر ہاؤس کا ناشتہ کیوں کرتا۔ گورنری کے دور میں مرحوم پروٹوکول کے آداب اور حفاظتی انتظامات کو ملحوظ رکھے بغیر پشاور اور دوسرے شہروں میں گھومتے اور لوگوں کے احوال معلوم کرتے۔

ارباب سکندر خان خلیل مرحوم کی سیاسی سوچ اور فکر سے بے شمار لوگوں کو اختلاف رہا ہوگا لیکن ان کا خلوص، دیانت، شرافت، سادگی اور حب الوطنی ہر طبقہ میں مسلم رہی ہے اور اسی وجہ سے ملک کے تقریباً سبھی حلقوں میں ان کے لیے احترام کے جذبات پائے جاتے تھے۔ اور اگر قتل کے اس افسوسناک سانحہ کو مرحوم کے ذاتی اوصاف اور کردار کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ان کی موت سے سب سے زیادہ نقصان اصولِ سیاست اور خلوص و ایثار کی روایات کو پہنچا ہے۔ آج کے دور میں اس کردار، حوصلہ اور خلوص کے حامل افراد کا جو تناسب معاشرہ بالخصوص قومی سیاست میں ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارباب صاحب مرحوم کی موت پر ہر محب وطن شہری نے دلی صدمہ محسوس کیا ہے۔

اس موقع پر ہم قتل کے محرکات اور پس منظر کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ جب تک صحیح صورتحال سامنے نہ آئے کوئی بات کہنا مناسب نہ ہوگی، لیکن لیاقت علی خان مرحوم، ڈاکٹر خان صاحب مرحوم، خواجہ محمد رفیق مرحوم، ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم، مولانا سید شمس الدین مرحوم، عبد الصمد اچکزئی مرحوم اور چوہدری ظہور الٰہی مرحوم ہمارے معروف اور مقتدر سیاسی راہنما تھے جو دن دیہاڑے قتل ہوئے مگر ہم ان کے قاتلوں اور قتل کے پشت پناہوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ اگر سیاسی قتل گول ہوجانے کی روایت ہمارے ہاں قائم نہ ہوتی تو یقیناً آج تشدد اور تخریب کاری کے رجحانات اس قدر فروغ حاصل نہ کر پاتے۔

ارباب سکندر خان خلیل کا قتل سیاسی ہے یا نہیں، یہ بات وقت بتائے گا لیکن یہ ایک معروف محب وطن اور ایثار پیشہ سیاسی راہنما کا قتل ضرور ہے اور قانون کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس المناک قتل کے محرکات و عوامل کو بے نقاب کریں اور قتل کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے قاتلوں کو بلاتاخیر کیفرِ کردار تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔ ہم ارباب سکندر خان خلیل کی قومی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب الزت مرحوم کی نیکیوں کو قبول فرمائیں، غلطیوں سے درگزر فرمائیں اور جنت الفردوس میں جگہ مرحمت فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔