جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳ جولائی ۲۰۰۲ء

دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی ایٹ کا سربراہی اجلاس گزشتہ روز کینیڈا میں ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر نے بھی شرکت کی اور روس کو جی ایٹ کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بیس ارب ڈالر جبکہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو ختم کر کے کشمیر میں در اندازی کا سلسلہ مستقل طور پر روکنے کا اہتمام کرے، جبکہ بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحد سے فوجیں پیچھے ہٹا کر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی فضا ہموا کرے۔

جی ایٹ کے اجلاس کے موقع پر کانفرنس روم سے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جی ایٹ کے ایجنڈے کے خلاف مسلسل مظاہرے کیے۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں تصاویر شائع ہوتی رہیں جن کے مطابق مظاہرین نے ایک مرحلہ میں زمین پر مردوں کی شکل میں لیٹ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جس کا مقصد غالباً یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے خیال میں جی ایٹ کے ممالک جس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں وہ غریب اقوام، ممالک اور عام انسانی آبادی کے لیے موت کا پیغام ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلہ میں مظاہرین نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر جی ایٹ کے پروگرام کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔

جی ایٹ جسے اب روس کی باقاعدہ شمولیت کے بعد عددی لحاظ سے جی نائن ہوجانا چاہیے، عالمگیریت کو فروغ دینے اور پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ نظام وضع کرنے کے عنوان سے قائم ہوا ہے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ صنعتی ترقی، عالمی سطح پر مالیاتی مفادات میں اشتراک، مواصلات کے جدید ترین وسائل کی ہر سطح پر فراہمی اور مختلف تہذیبوں کے اختلاط سے جو انٹرنیشنل سوسائٹی جنم لے رہی ہے اور ایک عالمگیری برادری تشکیل پا رہی ہے اس کی قیادت ان ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھ میں رہنی چاہیے۔ اور چونکہ سائنسی اور صنعتی ترقی کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے اور دنیا کے سیاسی ماحول پر بالادستی کے ساتھ ساتھ عسکری قوت میں ان کی برتری بھی تسلیم شدہ ہے اس لیے نئی گلوبل سوسائٹی کی تہذیبی قیادت ان ہی کا حق ہے اور وہی نئے دور کے صحیح حکمران ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس میں مغربی ممالک کے ساتھ جاپان اور اب روس بھی شامل ہوگیا ہے اور انہیں اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور دیگر عالمی اداروں کا تعاون حاصل ہے بلکہ یہ ادارے انہی بڑے صنعتی ممالک کے عملی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ چونکہ طاقت ان کے پاس ہے اور کسی بھی جگہ طاقت کے اندھا دھند استعمال میں ان کے لیے کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اس لیے باقی ساری دنیا چپ سادھے ہوئے ہے اور دنیا کے امیر اور غریب ممالک و اقوام کے درمیان اس وقت عملاً وہ کیفیت نظر آرہی ہے جس کا اظہار ایک عام سی کہاوت میں کیا جاتا ہے۔ کسی نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اگر تم جنگل میں جا رہے ہو اور بالکل نہتے ہو اور سامنے سے اچانک ایک شیر آجائے تو تم کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا کہ پھر میں نے کیا کرنا ہے، جو کچھ کرنا ہے شیر نے ہی کرنا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں جنگل کی فضا ہے، غریب اور مظلوم اقوام نہتے انسانوں کی طرح جنگل کے بادشاہ اور اس کے حواریوں کے سامنے کھڑی تھر تھر کانپ رہی ہیں اور شیر بادشاہ کمال مہربانی سے ان سے دریافت فرما رہے ہیں کہ انہیں شکار کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے اور وہ ’’شیر گروپ‘‘ کا لقمہ تر بننے کے لیے کون سا فارمولا اور طریق کار پسند کریں گے؟ جی ایٹ کے سربراہوں کے اجلاس کے موقع پر کانفرنس ہال سے باہر مظاہرہ کرنے والے زندہ لوگ بڑے باہمت ہیں کہ انہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ حوصلہ کر لیا ہے کہ جی ایٹ، ڈبلیو ٹی او، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ہر غیر معمولی اجلاس کے موقع پر اس قسم کے کچھ دیوانے جمع ہو جاتے ہیں جو علامتی طور پر اپنے جذبات کا اظہار کر کے دنیا کو اس طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ جی ایٹ کا اصل ایجنڈا دنیا کو ایک مشترکہ نظام اور عالمگیر سوسائٹی فراہم کرنا نہیں بلکہ دنیا کے یہ امیر ترین ممالک عالمگیریت کے نام پر دنیا بھر کے وسائل اور دولت پر قبضہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہر قسم کی اخلاقی، نظریاتی اور انسانی اقدار کو خیرباد کہتے ہوئے انہوں نے دنیا پر حکومت کرنے اور دنیا کی ساری دولت اور وسائل پر قبضہ جمانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ جی ایٹ کے پروگرام سے غریب ممالک اور اقوام اپنے رہے سہے وسائل اور دولت سے بھی محروم ہو جائیں گے، ان کا تشخص ختم ہو جائے گا، ان کی روایات اور اقدار پامال ہو جائیں گی، ان کی علاقائی اور داخلی خودمختاری کا جھٹکا ہو جائے گا اور وہ سب کے سب آٹھ دس بڑے چودھریوں کے باج گزار اور کمی بن کر رہ جائیں گے۔ اس لیے دنیا کے باضمیر لوگوں کو عالمگیریت کے اس نام نہاد پروگرام کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے، اس فراڈ کو بے نقاب کرنے کے لیے اہل دانش کو آگے آنا چاہیے اور غریب و مظلوم اقوام و ممالک کو فدویانہ انداز میں ’’شیر گروپ‘‘ کا شکار بننے کی بجائے اپنے بچاؤ کے لیے کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں ضرور مارنے چاہئیں۔

ایک عالمگیریت کا نقشہ یہ ہے جس میں ایک طرف طاقت کا نشہ ہے اور دوسری طرف بے بسی اور لاچارگی ہے۔ اور قطار میں کھڑے غریب اقوام و ممالک میں سے کسی کو بولنے کا حوصلہ صرف اس لیے نہیں ہو رہا کہ کہیں اس طرح پہلا لقمہ وہ نہ بن جائے۔ لیکن عالمگیریت کا ایک منظر دنیا اس سے قبل بھی دیکھ چکی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں اور قریشیوں سے خطاب کرنے کی بجائے پوری نسل انسانی کو مخاطب بنایا اور ممالک و اقوام کے دائروں سے بالاتر ہو کر عالمی انسانی برادری کے لیے ایک عقیدہ، ایک نظام اور ایک حکومت کا اعلان کر کے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں اپنے گلوبل پروگرام کے خدوخال واضح کر دیے۔ جس کی بنیاد پر عرب و عجم کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی اور اسلام نے سرزمین حجاز سے باہر پاؤں پھیلانے شروع کر دیے حتیٰ کہ جب پورے تیرہ سو برس کے بعد ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اس میں یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بیسیوں ممالک و اقوام ایک نطام کے تحت مشترکہ زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن اس عالمگیریت کی بنیاد استحصال پر نہیں تھی، لوگوں کے علاقوں اور زمینوں پر قبضہ جمانے پر نہیں تھی، ممالک و اقوام کو ان کے وسائل سے محروم کرنے پر نہیں تھی، اور دھونس و جبر کے ذریعے انہیں بے بسی او رلاچاری کی تصویر بنا دینے پر نہیں تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اسلامی سلطنت میں توسیع کے اسی دور میں ایک علاقہ (مصر) پر مسلمانوں کا لشکر قابض ہوا اور ضابطے کے مطابق غیر مسلم آبادی کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کے تحفظ کے انتظامات کے لیے ان سے ٹیکس (جزیہ) وصول کر لیا۔ لیکن چند دنوں کے بعد اسلامی لشکر کو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے علاقہ خالی کرنا پڑا تو امیر لشکر حضرت عمرو بن العاصؓ نے غیر مسلم آبادی کے ذمہ دار حضرات کو بلا کر کہا کہ ہم نے تمہاری حفاظت کی ذمہ داری کے عوض یہ ٹیکس تم سے وصول کیا تھا مگر اب ہم واپس جا رہے ہیں اور تمہاری حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر پائیں گے جس کی وجہ سے اس رقم پر اب ہمارا کوئی حق نہیں رہا اور اس لیے جزیہ کی یہ رقم ہم تمہیں واپس کر رہے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ اس علاقہ کی پوری غیر مسلم آبادی اور اسلامی لشکر کو الوداع کہنے کے لیے گھروں سے باہر آگئی تھی، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر یہ دعا تھی کہ خدا تمہیں پھر واپس لائے۔

عالمگیریت کا ایک منظر یہ تھا اور دوسرا منظر آج ہمارے سامنے یہ ہے کہ ٹیکس اور جرمانہ کی رقم نہیں بلکہ باقاعدہ سودے میں خریدے ہوئے ایف سولہ طیاروں کی رقم ہے جس کا باقاعدہ سودا ہوا ہے، معاہدہ طے پایا ہے اور رقم ادا کی گئی ہے۔ مگر نہ طیارے دیے جا رہے ہیں اور نہ ہی رقم واپس کی جا رہی ہے بلکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ہم طاقتور ہیں، چونکہ ہمارے سامنے بولنے کی کسی میں سکت نہیں ہے اور چونکہ ہم میں کمزوروں کو مارنے اور ان کا تیاپانچا کرنے کی صلاحیت ہے اس لیے ہم یہ رقم واپس کریں گے اور نہ ہی طیارے دیں گے۔

عالمگیریت کا اصل علمبردار اسلام ہے جبکہ عالمگیریت ہی کے دعوے کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کے لیے جی ایٹ کے ممالک بھی آگے بڑھ رہے ہیں، مگر فرق واضح ہے اور شاید اسی فرق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے جی ایٹ نے طے کر رکھا ہے کہ دنیا کے کسی خطہ میں اسلام کے نظام کو قائم نہیں ہونے دینا۔ کیونکہ اگر انصاف، دیانت اور خدا خوفی کی آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر عالمگیریت کا کوئی عملی نقشہ دنیا کے سامنے آگیا تو جی ایٹ کا یہ فراڈ نہیں چل سکے گا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو کچلنے اور کسی جگہ بھی کسی قیمت پر اسلامی قوانین کی عملدرآمد قائم نہ ہونے دینے کا جی ایٹ کا عزم اسی خوف کا آئینہ دار ہے اور کینیڈا میں ہونے والے جی ایٹ کے حالیہ سربراہی اجلاس کا یہ فیصلہ بھی اس کی انہی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے کہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر اور دہشت گردی کے نام پر مخالفین کو کچلنے کے لیے بیس ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

درجہ بندی: