موجودہ صورتحال میں افغان طالبان کا موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ انصاف، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جون ۲۰۱۸ء

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو نے گزشتہ دنوں سینٹ کی خارجہ امور سے متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کا بنیادی نکتہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات پر لانے کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔ اور اس سلسلہ میں ان کے بقول افغان طالبان کی صفوں میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کی ضرورت ہے جو امن مذاکرات میں شرکت کر سکے۔

افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوشش اور انہیں بہرصورت مذاکرات کی میز پر لانے کی اس مہم سے اتنی بات تو واضح ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عسکری میدان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور اب وہ مذاکرات کی میز پر طالبان کو اپنے ایجنڈے میں سیٹ کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے وہ تو اچھی بات ہے کہ ایسے معاملات کا فیصلہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے لیکن اس کے لیے طالبان پر ہر ممکن دباؤ ڈالنے کے ساتھ ان کی صفوں میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کی بات عجیب ہے۔ گویا امریکہ بہادر مذاکرات کی میز پر طالبان کی نمائندگی کے لیے ایسے لوگوں کو لانے کا خواہشمند ہے جو اس کے مطلب کے ہوں اور اس کے ایجنڈے کو مذاکرات کے فیصلوں کی شکل دینے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ جبکہ ہماری معلومات کے مطابق طالبان کی صفوں میں ایسی ’’درست قیادت‘‘ کو صرف شناخت نہیں کیا جا رہا بلکہ ایسی قیادت تیار کرنے کی کوششیں بھی ایک عرصہ سے جاری ہیں جو کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کی کوئی توقع نظر آتی ہے۔

انہی میں سے ایک کوشش یہ ہے کہ عالم اسلام کے کچھ مذہبی حلقوں اور علماء سے یہ کہلوایا جائے کہ افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں وہ شریعت اسلامیہ کا تقاضا نہیں ہے بلکہ ان کے خیال میں ’’شریعت‘‘ کا حکم یا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے اور وہ مذاکرات کی میز پر جو ایجنڈا بھی پیش کریں اسے ان کی مہربانی سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔ اس حوالہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں ’’علماء کانفرنسوں‘‘ کا ایک جال بچھایا جا رہا ہے جن میں سے ایک کانفرنس انڈونیشیا میں ہو چکی ہے اور اس کی خبریں پریس کی زینت بن چکی ہیں۔ اس حوالہ سے افغان طالبان کی ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کی طرف سے دنیا بھر کے علماء اسلام کے نام ایک خط بھجوایا گیا ہے جو ان کے موقف کی وضاحت کرتا ہے مگر عالمی اور علاقائی میڈیا افغان طالبان کے خلاف ہمہ نوع خبروں اور تبصروں کی یلغار کے ماحول میں ان کے موقف کو تھوڑی سی جگہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ حالانکہ یہ ہر لحاظ سے ان کا جائز اور مسلمہ حق ہے کہ ان کے موقف کو ان کی زبان میں سامنے لایا جائے اور انہیں یکطرفہ میڈیا یلغار کے ماحول سے نکالا جائے۔ اس خیال سے ہم ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کے اس مکتوب کو اپنے کالم کا حصہ بنا رہے ہیں تاکہ دنیا کو یہ معلوم ہو کہ وہ اپنے بارے میں خود کیا کہتے ہیں۔

’’قابل قدر علمائے کرام و مشائخ عظام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے امید ہے آپ صحت و عافیت کے ساتھ ہوں گے۔ ہم امارت اسلامی افغانستان کے منسوبین و متعلقین اور تمام افغان عوام کی نمائندگی کے ساتھ نیک تمنائیں اور اسلامی اخوت کی محبتیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ افغانستان گزشتہ سترہ سال سے وقت کے سب سے بڑے طاغوت امریکہ کی جارحیت کا شکار ہے۔ امریکہ چاہتا ہے افغانستان اس کی ایک مقبوضہ ریاست بن جائے، وہ یہاں عسکری مراکز اور انٹیلی جنس اڈے قائم کرے تاکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع اسلامی دنیا کے اہم ترین خطے ’’افغانستان‘‘ کی اسٹریٹیجک حیثیت استعمال کر کے عالم اسلام کو کمزور اور ختم کرنے کی سازشیں کر سکے۔ اگر امریکہ افغانستان سے متعلق اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے پاکستان، ہندوستان، وسطی ایشیا اور عرب ممالک میں بھی اسلامی فکر، مدارس دینیہ، علمائے کرام اور دین دار مسلمانوں کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ مذکورہ ممالک کی مسلم آبادی بھی مغربی شیطانی دسیسہ کاریوں کا ہدف بنے گی، لادینیت اور گمراہی زور پکڑے گی، مغرب کی حمایت و تعاون سے سیکولر طبقہ او رفساق و فجار مضبوط ہوں گے، امت مسلمہ کے زوال کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔ ماضی قریب کے عظیم مفکرین علامہ اقبال، شکیب ارسلان اور دیگر نے افغانستان کو ایشیا اور اسلامی دنیا کا ’’دل‘‘ قرار دیا ہے، اگر خدانخواستہ امریکہ مسلم دنیا کا دل اجاڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس طرح امت مسلمہ اور دینی سلسلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسلام کے سچے پیروکاروں کے خلاف موجود خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

تاریخ کے اس خطرناک موڑ پر نجات کا راستہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف امارت اسلامیہ افغانستان کی جہادی صف کو مضبوط کیا جائے، اسے جانی، مالی، اخلاقی او رروحانی تعاون اور حمایت بہم پہنچائی جائے۔ للہ الحمد! امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ۱۷ سال تک ۴۸ کفریہ جارح قوتوں کے خلاف استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اب بھی برطانیہ اور سوویت یونین کی طرح امریکی جارحیت کو شکست دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں امریکہ افغانستان میں کامیاب ہونے کے لیے سترہ سالہ دور میں اپنی تمام تر عسکری طاقت آزما چکا ہے۔ وہ اپنے اسلحہ گودام کے تمام تر خطرناک ہتھیار استعمال کر چکا ہے۔ ہر طرح کی حکمت عملیاں بروئے کار لا چکا ہے۔ جب کہ کامیابی کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔ گزشتہ سال اسلام و عالم اسلام کے سخت دشمن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے لیے اپنی نئی حکمت عملی سامنے لائی۔ ٹرمپ کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر افغانستان میں امریکی درندہ صفت فوج کے سربراہ جنرل نیکولسن نے ۱۸ مارچ ۲۰۱۸ء کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا:

’’امریکہ اس سال طالبان (امارت اسلامیہ) پر مختلف طریقوں سے دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہم طالبان پر عسکری، سیاسی، حتیٰ کہ مذہبی دباؤ بھی ڈالیں گے تاکہ وہ جنگ سے دستبردار ہو جائیں۔ مذہبی دباؤ سے میرا مطلب یہ ہے کہ افغانستان، پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کے مسلم علماء کی کانفرنسز منعقد کی جائیں گی، ان کانفرنسوں میں طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کر کے ان کے جہاد کی شرعی حیثیت کو اسلامی نکتہ نگاہ سے چیلنج کیا جائے گا۔‘‘

اب جب کہ ان کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عنقریب کابل، اسلام آباد اور سعودیہ میں بھی ایسے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، ہم علمائے کرام اور مشائخ عظام سے یہ درخواست اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جیسی کانفرنسوں میں شرکت محض سے بھی احتراز کیا جائے۔ کیوں کہ سمجھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ اس کانفرنس کا موضوع اور عنوان دینی ہے، اس میں عالم اسلام کے مسائل پر بھی بات کی جاتی ہے، اسے مسلم علماء کی مجلس قرار دیا جاتا ہے، مگر اس کا ہدف اور مقصد غلط ہے۔ اس کا اصل محرک اسلام کا شدید مخالف امریکہ ہے۔ وہ چاہتا ہے ان کانفرنسوں کے ذریعے افغانستان میں جاری جہاد کو کمزور کیا جا سکے۔

دوسری بات یہ ہے کہ علمائے کرام اس طرح کی کانفرنسوں میں جس نیت سے بھی شریک ہوں ، جس مجبوری کی وجہ سے بھی شرکت کریں، دشمن بہرحال آپ کی وہاں شرکت محض سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔ ایسے اجتماعات میں علمائے کرام جتنی بھی حق بات کہہ لیں، دشمن اسے کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن کانفرنس کی انہی باتوں کو اچھال کر پروپیگنڈا کرے گا جو اس کے حق میں ہوں گی۔ آپ نے دیکھ لیا کہ انڈونیشیا کانفرنس میں کچھ شیوخ کرام نے کتنی اچھی اور معقول باتیں کہیں مگر میڈیا نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی۔ حتیٰ کہ ان پر سرسری تبصرے سے بھی گریز کیا گیا۔ صرف وہی کچھ میڈیا اسکرین پر نمایاں کیا جو امریکی مفاد میں تھا۔ حتیٰ کہ بعد ازاں علماء کو بدنام کرنے کے لیے یہ بات بھی پھیلائی گئی کہ کابل انتظامیہ اور انڈونیشیا حکومت نے علماء کو ڈالروں کے پیکٹ دیے تھے۔ یعنی امریکہ ہر حال میں اپنے شیطانی مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کی کانفرنسوں میں شرکت علماء کرام کی معاشرتی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے علماء، طلباء، عام مسلمان اور مجاہدین کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے جن قابل قدر علمائے عظام نے ساری زندگی مدرسہ و مسجد کے استغناء میں گزار دی ہے جو کہ للہ فی اللہ امت مسلمہ کے شان دار مستقبل کے لیے ایک عظیم دینی خدمت ہے، ایسی مجالس میں شرکت سے ان کی سالہا سال کی محنت و مشقت سے قائم ہونے والا شخصی و دینی وقار ضائع ہو کر رہ جاتا ہے، ان کی شخصیت کا احترام کمزور ہو جاتا ہے، نتیجۃً عوام میں ان کا تعارف، حکومتی اور درباری ملا والا بن جاتا ہے۔ ہماری نظر میں اسلام، مسلمانوں اور خود علمائے کرام کی عزت و توقیر اور خیر و بھلائی اس میں ہے کہ ایسی مجالس سے گریز کیا جائے تاکہ اسلام دشمن قوتیں انہیں اپنے شیطانی اہداف کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ اللہ رب العزت ہم اور آپ سب کو دشمن کی دسیسہ کاریوں سے محفوظ فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امارت اسلامیہ افغانستان‘‘

درجہ بندی: