خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۱۸ء

آج ۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم اس سے قبل اس کالم میں مذکورہ کانفرنس کے اعلامیہ کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کا موقف بھی شائع کر چکے ہیں اور آج سعودی عرب کے محترم فرمانروا کے ارشادات کی روشنی میں انہی کی خدمت میں کچھ مؤدبانہ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

عزت مآب شاہ سلیمان بن عبد العزیز عالم اسلام کی محترم ترین شخصیت ہیں اور ان کے نام کے ساتھ خادم الحرمین شریفین کا عنوان دیکھتے ہی ہر مسلمان کا سرِ نیاز خودبخود جھک جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ افغانستان میں امن کی خواہش ان سے زیادہ کسے ہو سکتی ہے یا کسے ہونی چاہیے؟ مگر ہم بڑے ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ازراہ کرم اس سلسلہ میں ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے موقف پر بھی ایک نظر ڈالنے کی زحمت فرمائی جائے تو مسئلہ کا حل جلد از جلد نکالنے میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔

افغان طالبان کا موقف یہ ہے کہ ان کی جنگ افغانستان کے کسی طبقہ سے نہیں بلکہ وہ امریکی اتحاد کی افغانستان میں داخل ہونے والی فوجوں کے خلاف اپنے وطن کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی تشخص کے لیے اسی طرح لڑ رہے ہیں جس طرح انہوں نے سوویت یونین کے عسکری تسلط کے خلاف جنگ ’’جہاد افغانستان‘‘ کے عنوان سے لڑی تھی اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب نے بھی انہیں سپورٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کابل کی موجودہ حکومت کا اپنا کوئی مستقل وجود نہیں ہے بلکہ وہ بیرونی عسکری قوت کے سہارے قائم ہے اور تمام تر عسکری و مالی امداد کے باوجود اسے افغانستان کے تیس فیصد رقبہ سے زیادہ پر کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ اس لیے وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن کابل کی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ وہ اصل فریق یعنی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور ان مذاکرات کی پہلی شرط افغانستان سے امریکی اتحاد کی فوجوں کا انخلا ہوگا۔

جبکہ دوسری طرف امریکی حکومت کا موقف اس حوالہ سے کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل چند باتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اسی سال مارچ کے دوران افغانستان میں امریکی فوجوں کے سربراہ جنرل نیکلسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہم طالبان پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس کے لیے مختلف ممالک میں علماء کرام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں تاکہ طالبان پر مذہبی حوالہ سے بھی دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس کے بعد جون کے دوران امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بھی امریکی سینٹ کی خارجہ امور سے متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہی بات کہی تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ طالبان میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ جبکہ ابھی ماہ رواں کی ۹ تاریخ کو امریکی وزیرخارجہ نے کابل کے ہنگامی دورہ کے موقع پر یہ فرمایا ہے کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے لیکن طالبان امریکی انخلا کا انتظار چھوڑ دیں۔

اس تناظر میں مسلم حکمرانوں کو اپنے دباؤ کا رخ صرف طالبان کی طرف رکھنے کی بجائے دوسرے فریق یعنی امریکی اتحاد سے بھی بات کرنا ہوگی کہ وہ افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے بارے میں ہٹ دھرمی چھوڑ کر اصل فریقین کے درمیان بامقصد اور باوقار مذاکرات کی صورت نکالے ورنہ خالی پانی بلوہتے رہنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ امریکہ بہادر کو یہ بات یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اس نے ویتنام کی جنگ میں ۱۹۶۱ء سے ۱۹۷۵ء تک پینتالیس ہزار سے زیادہ امریکی شہریوں کی جانوں کی قربانی کے بعد وہاں کے جنگجوؤں ’’ویت کانگ‘‘ سے براہ راست مذاکرات فوجوں کے انخلا کی شرط پر ہی کیے تھے۔ اور فوجیں نکالنے کے بعد ۱۹۹۷ء میں ویتنام کو جنگی نقصانات کی تلافی کے لیے ۱۴۶ ملین ڈالر کی رقم بھی فراہم کی تھی۔ افغانستان کی یہ جنگ اس سے مختلف نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی یکطرفہ الگ معیار قائم کر کے امن قائم نہیں کیا جا سکے گا۔

امریکی قیادت کو ایک اور بات بھی یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی موجودگی پر اصرار کے ماحول میں کیے جانے والے معاہدات دیرپا نہیں ہوتے جس کی واضح مثال اب سے ایک صدی قبل ترکی کے ساتھ طے پانے والا ’’معاہدہ لوزان‘‘ ہے جس میں ترکی سے (۱) خلافت کے خاتمہ (۲) شریعت کی منسوخی (۳) اور ترکی سے باہر خلافت کے زیر حکومت رہنے والے علاقوں سے دستبرداری کی شرائط غیر ملکی فوجوں کے زیر سایہ لکھوائی گئی تھیں۔ مگر ترک عوام نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے صرف تین عشروں کے وقفہ سے اسلامی اقدار و روایات کی طرف واپسی کا سفر عدنان میندریس شہیدؒ کے دور میں شروع کر دیا تھا جو اب تک نہ صرف جاری ہے بلکہ مسلسل پیشرفت کر رہا ہے اور حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد ترکی اس حوالہ سے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر ہماری شروع سے یہ رائے رہی ہے کہ یہ معاہدہ جبری تھا اور ’’گن پوائنٹ‘‘ پر کرایا گیا تھا مگر اب ترکی کے صدر حافظ رجب طیب اردگان نے بھی گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’’معاہدہ لوزان‘‘ ترک قوم کی رائے لیے بغیر جبرًا مسلط کیا گیا تھا۔

ہم عزت مآب شاہ سلیمان بن عبد العزیز کی خدمت میں بصد ادب و احترام یہ گزارش کریں گے کہ وہ امریکہ بہادر سے بھی بات کریں اور عالم اسلام کے دیگر حکمرانوں کو ساتھ لے کر معروضی حقائق اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کی طرف سنجیدہ پیشرفت کریں۔ ہم جیسے خدام ان کے لیے دعاگو ہوں گے اور جہاں تک ہمارے بس میں ہوا تعاون و خدمت سے بھی گریز نہیں کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ شاہ سلیمان مسلم دنیا کے لیے بزرگ باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ڈرتے ڈرتے ہم ان کی خدمت میں اپنی اس عرضداشت کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کیا اب ’’معاہدہ لوزان‘‘ کی طرح مشرق وسطیٰ میں مغربی طاقتوں کے ساتھ ایک صدی قبل کیے جانے والے دیگر معاہدات پر بھی نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے؟ ہمارے خیال میں یہ امت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر یہ درخواست ہم خادم الحرمین الشریفین کے سوا اور کس سے کر سکتے ہیں؟

درجہ بندی: