پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۱۹۹۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اجتماعی ورد کی فضا میں اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ اس خطہ کے مسلمان الگ قوم کی حیثیت سے اپنے دینی، تہذیبی اور فکری اثاثہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔ لیکن تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دستور میں ریاست کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام دینے اور چند جزوی اقدامات کے سوا اس مقصد کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جبکہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے لاکھوں شہداء کی ارواح ہنوز اپنی قربانیوں کے ثمر آور ہونے کی خوشخبری کی منتظر ہیں۔

ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی حیثیت سے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی تشکیل کا تقاضا یہ تھا کہ فرنگی استعمار نے نوآبادیاتی مقاصد کے لیے اس خطہ میں جو سیاسی، قانونی، معاشرتی اور معاشی نظام مسلط کیا تھا اس پر نظرثانی کر کے اسے اسلام کے سنہری اور ابدی اصولوں کی بنیاد پر ازسرنو منظم و مرتب کیا جاتا۔ اور سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی شکست کے اس دور میں ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کر کے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا کی ایک فلاحی اور عادلانہ نظام کی طرف راہنمائی کی جاتی۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا اور پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کا خواب تعبیر کی منزل سے کوسوں دور دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان کے عوام اسلام کے ساتھ سچی اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں اور یہاں کے دینی حلقوں کی جڑیں عوام میں مضبوط اور گہری ہیں لیکن اس کے باوجود نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کا مقصد تشنۂ تکمیل کیوں ہے؟ یہ سوال گہرے تجزیہ اور غور و فکر کا متقاضی ہے اور پاکستان کے دینی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے اس کی روشنی میں اپنے کردار اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں اور روایتی طریق کار پر اڑے رہنے کی بجائے اجتہادی اور انقلابی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نفاذِ اسلام اور غلبۂ شریعت کی جدوجہد میں اپنے کردار کا ازسرنو تعین کریں۔

یہ درست ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کی باگ ڈور ایسے طبقہ کے ہاتھ میں آئی جو فکری اور عملی طور پر اسلامی نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھا اور اس کی تعلیم و تربیت نوآبادیاتی دور میں بدیشی آقاؤں کے مسلط کردہ تربیتی نظام کے تحت اور اسی کے مخصوص مقاصد کے لیے ہوئی تھی، اس لیے اس طبقہ سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کی توقع ہی عبث ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ ایک نظام کی تبدیلی اور دوسرے نظام کے عملی نفاذ کے لیے جس اجتماعی فکری کام کی ضرورت تھی اس کا ہمارے ہاں فقدان رہا ہے۔ ہماری دینی تعلیم گاہوں میں اسلام کو ایک نظام کی حیثیت سے نہیں پڑھایا گیا اور اسلامی نظام کو عملاً چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد کار کی فراہمی کی طرف کوئی شعوری توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لیے کیے گئے چند جزوی اقدامات بھی عملدرآمد کی کسوٹی پر پورے نہیں اتر سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے سب سے مؤثر تین طبقوں سرمایہ دار، جاگیردار اور نوکر شاہی کے مفادات اسلامی نظام سے متصادم ہیں اس لیے ان کی اجتماعی قوت نفاذِ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جس کی موجودگی میں ملک کے اجتماعی نظام کی تبدیلی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ نفاذِ اسلام کی راہ میں ان تینوں بڑی رکاوٹوں کے وجود اور اس کے تسلسل کا سب سے بڑا سبب دینی حلقوں کی بے تدبیری، باہمی عدم ارتباط اور حقیقی مسائل سے بیگانگی کا طرزِ عمل ہے جس نے ان رکاوٹوں کے شجر خبیثہ کی مسلسل ۴۲ سال تک آبیاری کر کے اسے تن آور درخت بنا دیا ہے۔

پاکستان اہل السنۃ والجماعۃ کی غالب اکثریت کا ملک ہے، اہل السنۃ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے اکابر علماء نے تحریک پاکستان میں قائدانہ حصہ لیا ہے اور ایک پلیٹ فارم پر تشکیلِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اگر یہ تینوں مکاتبِ فکر قیام پاکستان کے بعد بھی اجتماعیت اور اشتراکِ عمل کے جذبہ کو برقرار رکھتے ہوئے:

  • مشترکہ سیاسی دباؤ منظم کر کے نفاذِ اسلام کی راہ میں حائل طبقوں کا جرأت کے ساتھ سامنا کرتے،
  • دینی درسگاہوں میں اسلام کو ایک اجتماعی نظام کی حیثیت سے پڑھا کر نفاذِ اسلام کے لیے افرادِ کار کی کھیپ تیار کرتے،
  • اسلام دشمن لابیوں کی طرف سے اسلامی نظام کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرتے،
  • اور باہمی اعتماد و اشتراک اور تعاون کے ساتھ قوم کو ایک مشترکہ نظریاتی قیادت فراہم کرتے

تو مذکورہ بالا رکاوٹوں میں سے کوئی ایک رکاوٹ بھی ان کی اجتماعی قوت کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ لیکن بدقسمتی سے دینی حلقے ایسا نہیں کر سکے بلکہ انہیں منصوبہ اور سازش کے تحت باہمی اختلافات و تعصبات کی ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا گیا کہ گروہی تشخص اور انا کے سوا دین و دنیا کا کوئی اجتماعی مسئلہ ان کے ادراک و شعور کے دائرہ میں جگہ نہ پا سکا اور فرقہ وارانہ اختلافات میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا ذوق ہی دینی جدوجہد کی معراج بن گیا۔ یہ دینی حلقوں کی بے توجہی، بے تدبیری، عدم ارتباط اور حقیقی مسائل سے اعراض ہی کے ثمرات ہیں کہ:

  • معاشرہ بے حیائی، بے پردگی اور مغرب زدہ معاشرت کی آماجگاہ بن گیا ہے،
  • قرآن و سنت اور چودہ سو سالہ اجماعی تعامل کے برعکس عورت کی حکمرانی مسلّط ہوگئی ہے،
  • قومی پریس میں قرآن و سنت کے صریح احکام کے خلاف بیانات چھپ رہے ہیں،
  • قرآنی احکام کو نام نہاد انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے اجتہاد کے نام پر قرآنی احکام کو مغربی ذوق کے مطابق تبدیل کرنے کی تجاویز کھلم کھل سامنے آرہی ہیں،
  • اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ دینی تشخص کی حامل سیاسی جماعتیں بھی اسلامی نظام کی بات غیر اسلامی نظاموں کی اصطلاحات اور حوالوں سے کرنے پر مجبور ہیں۔

حالات کے اس حد تک بگڑ جانے میں اگر ذمہ داری کا تعین کیا جائے تو دینی حلقے اس میں سرفہرست ہیں اور جب تک اس ذمہ داری کا ادراک اور احساس اذہان و قلوب میں اجاگر نہیں ہوتا اس وقت تک اصلاحِ احوال کی کوئی صورت بھی ممکن اور قابلِ عمل نہیں ہے۔ پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کی راہ میں حائل مذکورہ رکاوٹیں آج بھی لاعلاج نہیں ہیں اور ان کی قوت آج بھی دینی حلقوں کی اجتماعی قوت کے سامنے ناقابل شکست نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر کے علماء کرام گروہی تشخصات اور تعصبات کے دائرہ سے نکل کر باہمی اشتراکِ عمل کو فروغ دیں اور ایک ایسا فکری، علمی اور دینی پلیٹ فارم قائم کریں جو ان مسائل کے ادراک اور تجزیہ کے ساتھ ساتھ اجتماعی فکری راہنمائی اور مذہبی و عوامی حلقوں کی ذہن سازی کا کردار ادا کر سکے۔ اس پلیٹ فارم کا عملی سیاسی گروہ بندی سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ خالص دینی اور علمی بنیاد پر اجتماعی مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے قوم کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ علماء کرام اس نوعیت کا پلیٹ فارم قائم کر کے جب عملاً آپس میں مل بیٹھیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ قوم کو فکری انتشار اور سیاسی انارکی کی اس دلدل سے نکالنے کی کوئی راہ تلاش نہ کر سکیں جس نے اس وقت قوم کے ہر ذی شعور فرد کو پریشانی اور اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔