وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء

ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے۔ مذکورہ قوانین کے سامنے آتے ہی ہم نے عرض کر دیا تھا کہ ۱۸۵۷ء کے بعد نوآبادیاتی برطانوی حکومت نے اوقاف کے جو قوانین نافذ کیے تھے اور جن کے نتیجے میں مالیاتی ذرائع سے محروم ہو کر ہزاروں دینی مدارس خودبخود بند ہو گئے تھے، اپنی ساخت اور طریق کار کے حوالہ سے یہ قوانین بھی انہی کا تسلسل معلوم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ قوانین ۱۸۶۰ء اوقاف میں ترامیم کے عنوان سے پاس کیے گئے ہیں البتہ تب برطانوی حکومت نے مذہبی آزادی کے عنوان سے عبادت اور عبادت گاہوں کو جو تحفظ دیا تھا اور جس کے لیے سرسید احمد خان مرحوم اور ان کے رفقاء نے خاصی محنت کی تھی، وہ تحفظات حالیہ ترامیم کے ذریعے ختم کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے مسلّمہ اصولوں کو کراس کرتے ہوئے عبادت گاہوں اور تعلیم گاہوں کو فیٹف اور آئی ایم ایف کی براہ راست نگرانی میں دے دیا گیا ہے جو غلامی ہی کی ایک صورت ہے اور قومی خودمختاری کے لیے مستقل چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس سلسلہ میں تمام دینی مکاتب فکر کا متفکر اور متحرک ہونا فطری بات ہے چنانچہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے مشترکہ اجتماعات کر کے اپنے موقف اور تحفظات کا اظہار کر دیا ہے، جبکہ دینی مدارس کے مشترکہ فورم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘ کا موقف اور اعلان بھی سامنے آ گیا ہے، البتہ چونکہ دینی مدارس کے تمام وفاقوں کا دائرہ کار صرف مدارس تک محدود ہے اور ملک بھر کی لاکھوں مساجد اور عمومی اوقاف ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں اس لیے بہت سے معاملات ابھی تشنہ اور توجہ طلب ہیں۔

اس پس منظر میں ضلع سیالکوٹ کی معروف نقشبندی خانقاہ علی پور شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر سید منور حسین جماعتی اور اہل سنت بریلوی مکتب فکر کے ممتاز راہنما سردار محمد خان لغاری نے راقم الحروف سے رابطہ کیا تو مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سلیم، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، قاری محمد عثمان رمضان اور حافظ امجد محمود معاویہ کے ہمراہ میں نے ان سے ملاقات کی جس میں باہمی مشورہ کے ساتھ پہلے مرحلہ میں آگاہی اور بیداری کی مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا جس کا آغاز ۲۴ مارچ کو ڈسکہ میں منعقدہ ’’علماء و مشائخ کنونشن‘‘ کے ذریعے ہو گیا ہے۔ اس کنونشن میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام و مشائخ عظام نے شریک ہو کر اس مہم میں شمولیت کا اظہار کیا ہے۔ مجھے بھی مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا حافظ امجد محمود معاویہ کے ہمراہ اس کنونشن میں شرکت اور کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ جبکہ اسی روز شام کو لاہور میں تمام دینی مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس راقم الحروف کی صدارت میں ہوا جس کی رپورٹ مجلس کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کے قلم سے پیش کی جا رہی ہے۔ اسی دوران اہل تشیع کے معروف مرکز جامعۃ العروۃ الوثقٰی لاہور کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کے نمائندوں علامہ ذوالفقار علی اور حاجی عابد حسین نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کر کے وقف قوانین کے بارے میں اسلام آباد کے علماء کرام کے متفقہ موقف کی حمایت و تعاون کا اظہار کیا اور جدوجہد میں بھرپور شرکت کا یقین دلایا۔

’’دینی مکاتب فکر کی مشترکہ علمی مجلس ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کا ایک اجلاس ۲۴ مارچ ۲۰۲۱ء کو سہ پہر تین بجے جامع مسجد خیر الدین جوہر ٹاؤن لاہور میں مجلس کے صدر جناب مولانا زاہد الراشدی کی زیرصدارت ہوا۔

مجلس کے علماء کرام نے مرکزی اور صوبائی حکومت کے پاس کردہ نئے اوقاف ایکٹ کا جائزہ لیا جس میں مدارس، مساجد، ہسپتالوں بلکہ ہر قسم کے رفاہی اداروں، کار خیر اور فی سبیل اللہ کیے جانے والے کاموں کے لیے قائم کردہ اوقاف (وقف / ٹرسٹ‘‘ کے خلاف شدت پر مبنی قوانین بنائے گئے ہیں، جن میں اوقاف چلانے والوں اور ان کو عطیات دینے والوں کے خلاف معمولی باتوں پر قید، بھاری جرمانے اور اوقاف پر قبضے کے ضوابط طے کیے گئے ہیں۔ مجلس کے علماء کرام نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پہلے مرکزی حکومت نے (FATF) کے مطالبے پر علماء اور عوام سے مشورہ کیے بغیر عجلت میں اسلام آباد کے لیے اوقاف بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس کرایا، اور اب اسی انداز میں صوبائی اسمبلیوں سے بھی پاس کرا لیا گیا ہے، اور مدارس و مساجد سے اس پر عملدرآمد کرانے کے لیے حکومتی مشینری حرکت میں آ چکی ہے، اور مدارس و مساجد چلانے والوں کو تنگ کیا جا رہا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان قوانین پر فوری عملدرآمد کیا جائے ورنہ سخت ایکشن لیا جائے گا۔

مجلس کے علماء کرام نے محسوس کیا کہ مدارس اور مساجد چلانے والے علماء کرام کی بہت بڑی اکثریت کو ابھی تک ان قوانین سے آگاہی نہیں ہے اور وہ حکومتی شکنجہ کسنے کی وجہ سے پریشان اور اضطراب کا شکار ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ علماء کرام اور خطیبوں و اماموں میں آگاہی پیدا کی جائے، اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ بجائے فیٹف کی ہر بات ماننے اور مغربی قوتوں کے دباؤ کے آگے جھک جانے کے انہیں آگاہ کرے کہ مسلم معاشرے میں اوقاف معاشرتی فلاح و بہبود کے ادارے ہوتے ہیں جو فی سبیل اللہ کام کرتے ہیں۔ دینی مدارس ایک طرح کی این جی او ہیں جو عوام کو مفت مذہبی اور عصری تعلیم مہیا کرتے ہیں اور مساجد اللہ کے گھر اور عبادت گاہیں ہیں اور ان کا کوئی تعلق دہشت گردی کی فنڈنگ سے نہیں ہے۔

اس غرض سے علماء کرام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک ’’تحفظ مدارس و مساجد کنونشن‘‘ ۱۰ اپریل کو لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ علماء کرام میں ان قوانین کے حوالے سے آگاہی پیدا ہو اور وہ متحد ہو کر کوئی متفقہ موقف طے کر کے اس پر عمل کر سکیں۔

مجلس میں متحدہ علماء کونسل کے مولانا عبد الرؤف ملک، پاکستان شریعت کونسل کے قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا عبد الرؤف فاروقی، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر حافظ ساجد انور، جامعہ اشرفیہ کے مولانا مجیب الرحمان انقلابی، مولانا عثمان رمضان، جامعہ فتحیہ کے مولانا عبد اللہ مدنی، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا حافظ محمد نعمان، جامعہ اسلامیہ کے ڈاکٹر علی اکبر الازہری، مولانا محمد عمران طحاوی، مولانا امجد معاویہ، مولانا عبد الشکور، مولانا محمد اسلم ندیم اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔‘‘

ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، دینی کارکنوں اور راہنماؤں سے گزارش ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں اور (۱) قومی خودمختاری (۲) مذہبی آزادی (۳) تہذیبی شناخت اور (۴) مسلّمہ انسانی شہری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں شریک ہوں تاکہ ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ہو سکیں۔