نسلِ انسانی کی ضروریات اور امام ابوحنیفہؒ کے افکار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ جنوری ۲۰۱۲ء

۲۲ جنوری اتوار کو شادمان میرج ہال گوجرانوالہ میں اتحاد اہل سنت پاکستان کے زیر اہتمام ’’امام ابوحنیفہؒ سیمینار‘‘ ہوا جس میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا محمد الیاس گھمن، الحاج سید سلمان گیلانی، مولانا مقصود حنفی، مفتی محمد نعمان، قاری محمد ریاض جھنگوی اور دیگر علماء کرام کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا جس کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ اتحاد اہل سنت پاکستان اور مولانا محمد الیاس گھمن کا شکر گزار ہوں کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کی یاد میں وقتاً فوقتاً اجتماعات منعقد کرتے رہتے ہیں جن میں مجھے بھی حضرت امام ابوحنیفہؒ کی حیات مبارکہ اور علمی و دینی خدمات کے کسی نہ کسی عنوان پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اتحاد اہل سنت کے اسلام آباد کے سیمینار میں حضرت امام اعظم کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی تھیں، لاہور کے سیمینار میں حضرت امام صاحب کی فقہی خدمات اور قانون سازی کے بارے میں عظیم جدوجہد پر کچھ عرض کیا تھا، جبکہ آج کے اس سیمینار میں ’’عقائد اہل سنت کی تعبیر اور وضاحت‘‘ کے بارے میں چند گزارشات کرنا چاہ رہا ہوں۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ جس طرح فقہ و احکام میں ہمارے امام ہیں اسی طرح عقائد اور ان کی تعبیرات میں بھی انہیں امام کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز عقائد اہل سنت کی وضاحت اور مناظروں سے کیا تھا اور ان کے مختلف مناظروں کا تذکرہ تاریخ و سوانح کی کتابوں میں ملتا ہے۔ مگر اس سے پہلے یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ فقہ کو علم کلام اور دوسرے علوم سے الگ کر کے صرف احکام و معاملات کے دائرے میں محدود کر دینے کی بات امام صاحبؒ کے دور میں نہیں تھی، یہ تقسیم بعد میں ہوئی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فقہ کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس میں احکام و معاملات کے ساتھ ساتھ عقائد اور اصلاحِ نفس بھی شامل ہے اور اس دور میں عقائد و تعبیرات اور تصوف و اخلاق کے مسائل بھی فقہ ہی کے شعبے شمار ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کا جو رسالہ معروف و مشہور ہے اس کا نام ’’الفقہ الاکبر‘‘ ہے جس کی شرح معروف حنفی محدث و فقیہ حضرت ملا علی قاری نے فرمائی ہے اور جس کا اردو ترجمہ ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے کیا تھا جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے ’’البیان الازہر‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے اور اس پر حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے تفصیلی پیش لفظ لکھا ہے۔ الفقہ الاکبر کا اطلاق اس دور میں فقہ العقائد پر ہوتا تھا جبکہ علم الاحکام والمعاملات اور وجدانیات یعنی تصوف و اخلاق بھی فقہ کے شعبے تھے اور ہمارے تعلیمی نظام کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔

آج ہمیں دینی مدارس کے ماحول کے بارے میں جن مسائل کا سامنا ہے اور فکری و اخلاقی تربیت کے حوالے سے جو خلا محسوس ہو رہا ہے اس کا اب عام طور پر تذکرہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم تو ہوتی ہے مگر تربیت نہیں ہوتی۔ اسے ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان الفاظ کے ساتھ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ہم اپنے مدارس میں دین پڑھاتے ہیں، سکھاتے نہیں‘‘۔ تربیت کے فقدان میں دونوں باتیں شمار ہوتی ہیں: فکری و اعتقادی تربیت اور علمی و اخلاقی تربیت۔ ان دونوں کی کمی ہمارے ماحول میں شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔ میری طالبعلمانہ رائے میں اس کا حل یہ ہے کہ ہم علوم کی تقسیم سے پہلے کی طرح حضرت امام ابوحنیفہؒ کی طرف سے کی گئی فقہ کی اس تعریف کی طرف واپس چلے جائیں جس میں عقائد اور اصلاح نفس کے مضامین بھی فقہ کا حصہ سمجھے جاتے تھے اور ان دونوں مضامین کو اپنے نصاب کا حصہ بنائیں۔ بالخصوص عقائد کے باب میں جس طرح حضرت امام اعظمؒ نے اپنے دور کے اعتقادی فتنوں اور مسائل کو سامنے رکھ کر متوازن عقائد پیش کیے تھے اسی طرح آج کے اعتقادی فتنوں اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے متوازن عقائد اپنے طلبہ کو سبقاً سبقاً پڑھائیں اور ان کی دینی و اخلاقی اصلاح کا اہتمام کریں۔ نیز اپنے دور کے فکری، اخلاقی و اعتقادی فتنوں سے آگاہی کو تعلیمی نظام میں شامل کریں۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اپنا علمی و استدلالی دائرہ یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ کوئی بھی مسئلہ پہلے قرآن کریم سے لیتے ہیں، پھر حدیث و سنت سے رجوع کرتے ہیں، اس کے بعد صحابہ کرامؓ کے اقوال سے استفادہ کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کے اقوال و آثار سے خروج نہیں کرتے۔ میرے خیال میں یہ دائرہ صرف احکام و معاملات کی فقہ میں نہیں بلکہ عقائد و کلام اور تصوف و اخلاق کا بھی یہی دائرہ ہے۔ اور آج بھی یہی معیار ہے کہ عقائد اور ان کی جو تعبیرات ان تینوں اصولوں کے دائرے میں ہیں وہ صحیح ہیں اور اہل سنت کی ترجمانی کرتی ہیں، اور جو عقائد یا تعبیرات ان سے ہٹ کر ہیں وہ اہل سنت کی تعبیرات نہیں ہیں۔ اسی طرح تصوف و سلوک کے جو طریقے اور روایات ان تینوں اصولوں کے مطابق ہیں وہ درست ہیں، اور جو ان اصولوں سے باہر ہیں ان کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حضرت امام اعظمؒ نے جس دور میں عقائد اہل سنت کی تشریح کی ہے اس کا عمومی تناظر یہ تھا کہ معتزلہ، خوارج، روافض اور دیگر اعتقادی فتنے سامنے آچکے تھے اور ایک طرف عقل پرستی جبکہ دوسری طرف ظاہر پرستی نے عام ذہنوں میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ حضرت امام صاحبؒ نے ان دونوں کے درمیان توازن و اعتدال کی راہ دکھائی اور عقل و قیاس کے صحیح اور معتدل استعمال کے ساتھ نصوص قطعیہ کی بنیادوں کو قائم رکھا۔ انہوں نے بنیاد نصوص پر رکھی اور نصوص میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور صحابہ کرامؓ کے آثار و تعامل تینوں کو شامل کیا کہ اہل سنت کا طرۂ امتیاز یہی ہے کہ وہ قرآن کریم اور سنت نبوی کے ساتھ ساتھ آثار صحابہ کرام کو بھی استدلال و استنباط کی بنیاد تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ حضرت امام صاحبؒ نے عقل کی نفی نہیں کی اور نہ ہی اس کے جائز استعمال سے گریز کیا ہے، انہوں نے عقل کو استعمال کیا مگر اس کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوئے۔ کیونکہ عقل کا صحیح استعمال یہی ہے کہ اس سے استفادہ کیا جائے اور نصوص کے فہم کے لیے استعمال کیا جائے لیکن اسے بنیاد نہ بنایا جائے اور اپنے اوپر مسلط نہ کر لیا جائے۔ یہی حال ظاہر پرستی کا ہے، آیت و حدیث کے ظاہری مفہوم کو ہی مدار بنایا جائے لیکن اگر کسی آیت یا حدیث کے صحیح فہم کے لیے یا آیات و احادیث کے ظاہری تعارض کو رفع کرنے کے لیے عقل فائدہ دیتی ہے اور اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس کی نفی نہ کی جائے بلکہ اس سے استفادہ کیا جائے۔

حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فقہ کے تمام شعبوں میں اسی اعتدال و توازن کو قائم رکھا ہے اور وحی و عقل کا ایسا حسین امتزاج قائم کیا ہے کہ تیرہ سو سال سے امت اس سے اجتماعی طور پر مستفید ہو رہی ہے۔ وحی اور عقل کے اس متوازن امتزاج کو میں ان الفاظ سے تعبیر کیا کرتا ہوں کہ عقل کو استعمال کیا جائے لیکن اس کے ہاتھوں استعمال نہ ہوا جائے۔ عقل اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اور انسان کا خاصہ ہے، اللہ تعالٰی کی اس عظیم نعمت کا مقصد یہی ہے کہ ہم جائز دائروں میں اسے استعمال کریں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی اسی خصوصیت و امتیاز کی وجہ سے جہاں اسلامی قانون اور احکام و معاملات میں ان کی فقہ کو عروج حاصل ہوا اور فقہ حنفی نے کم و بیش ایک ہزار برس تک دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں حکمرانی کی وہاں عقائد کے باب میں بھی امام صاحبؒ کے متوازن ذوق و اسلوب کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہی ہے، اس کی دو مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں:

  • ایک یہ کہ حنفی فقہ کے معروف ترجمان حضرت امام ابوجعفر طحاویؒ کی کتاب ’’العقیدہ الطحاویہ‘‘ کو آج بھی اہل سنت کے عقائد کے سب سے زیادہ مستند مجموعے کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ حنفیوں کے ہاں تو یہ پڑھایا ہی جاتا ہے، سلفیوں کے مدارس میں بھی یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے اور اسے اہل سنت کے عقائد کا صحیح ترجمان سمجھا جاتا ہے۔
  • اور دوسری یہ کہ مشرقی ممالک انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ میں جہاں امام شافعیؒ کے پیروکاروں کی غالب اکثریت ہے، وہاں عقائد کے باب میں فقیہ ابو اللیث سمرقندیؒ کی کتاب ’’العقیدہ‘‘ عام طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ معروف حنفی فقیہ ہیں اور امام طحاویؒ کی طرح احناف کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔

میرے خیال میں یہ بات اس لیے ہے کہ فقہ و احکام کے ساتھ ساتھ عقائد اور ان کی تعبیرات میں بھی حضرت امام صاحب کی تعلیمات اور فکر و فلسفہ متوازن اور معتدل ہے جس کی بنیاد پر اسلام کے عقائد و احکام کو سمجھنا آسان ہے اور اس پر عمل کرنا ہر دور کے حالات میں سہل ہے۔

میں عام طور پر علماء کرام اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ سے عرض کیا کرتا ہوں کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حالات زندگی، خدمات، جدوجہد اور علمی و دینی تگ و تاز کے وسیع تر مطالعہ کی ضرورت ہے۔ اور خاص طور پر آج کے عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے امت مسلمہ بلکہ نسل انسانی کی ضروریات و مشکلات کے حل کے لیے حضرت امام ابوحنیفہؒ کے افکار و تعلیمات سے استفادہ بہت زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے کہ تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ امام ابوحنیفہ ماضی کی طرح مستقبل کے بھی بڑے امام ہیں اور ان کی فقہ میں مستقبل کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، خدا کرے کہ ہم وقت کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔