شمالی علاقہ جات کے زلزلے اور امدادی صورتحال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ فروری ۲۰۰۳ء
اصل عنوان: 
زلزلہ زدگان ۔ فوری توجہ کی ضرورت

شمالی علاقہ جات جن کا صدر مقام گلگت ہے، سیاسی اور جغرافیائی دونوں حوالوں سے پاکستان کا حساس ترین خطہ ہے اور ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں کی اس پر نظر ہے۔ شمالی علاقہ جات کا ضلع دیامر اس لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کارگل کی طرف جانے والی شاہراہ اس علاقہ سے گزرتی ہے اور چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر دنیا کا وسیع میدان دیوسائی بھی اسی ضلع میں واقع ہے جسے حاصل کرنے کے لیے مغربی قوتیں کافی عرصہ سے بے چین ہیں۔ اس لیے کہ اس بلند ترین میدان کو مرکز بنا کر چین، بھارت، افغانستان، روس اور پاکستان کو با آسانی واچ کیا جا سکتا ہے۔

شمالی علاقہ جات میں رہنے والوں کی مذہبی تقسیم عجیب سی ہے۔ اہل تشیع کے تین فرقے آغا خانی، اثنا عشری اور نور بخشی اس خطہ میں آباد ہیں، انہیں اکٹھا شمار کیا جائے تو مجموعی طور پر ان کی اکثریت بنتی ہے۔ اسی حوالے سے شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا مستقل اور الگ صوبہ بنانے کے مطالبات ہوتے رہتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی نقشوں اور دستاویزات کے مطابق یہ علاقہ متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے رائے شماری کے ذریعہ عوام کی مرضی کے مطابق ہونا باقی ہے اور اس تنازعہ کے مستقل حل تک پاکستان نے عارضی طور پر اس خطہ کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ جناب محمد خان جونیجو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اسے پاکستان کا صوبہ بنانے کے منصوبہ پر کام شروع ہوگیا تھا مگر کشمیری راہنماؤں کے شدید احتجاج پر یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ کشمیری لیڈروں کا موقف یہ تھا کہ بین الاقوامی دستاویزات کی رو سے یہ کشمیر کا حصہ ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ علاقہ ہے۔ اس لیے اگر اسے پاکستان کا صوبہ بنا لیا گیا تو مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا صوبہ بنانے کا جو اعلان کر رکھا ہے اسے جواز فراہم ہو جائے گا۔

پاکستان، بھارت، چین، روس اور افغانستان کی سرحدات کے درمیان گھرا ہوا شمالی علاقہ جات کا یہ خطہ اسی وجہ سے مسلسل بین الاقوامی سازشوں کی زد میں ہے اور این جی اوز کا ایک وسیع نیٹ ورک اس علاقہ میں اپنا جال پھیلائے ہوئے ہے جس کی طرف دینی حلقے وقتاً فوقتاً ملک کے محب وطن حلقوں کو توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں سے ضلع دیامر اہل سنت کی اکثریت کا ضلع ہے اور شاہراہ ریشم پر واقع ہونے کی وجہ سے اس ضلع کے عوام اپنے مطالبات منوانے کے لیے شاہراہ ریشم کو بلاک کر دینے کا ہتھیار وقتاً فوقتاً استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مگر گزشتہ چند ماہ سے یہ ضلع قدرتی آفات کی زد میں ہے اور نومبر ۲۰۰۲ء کے آغاز سے شروع ہونے والے مسلسل زلزلوں نے ضلع دیامر کے علاقہ استور کے عوام کو بے گھر بلکہ دربدر کر دیا ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے میں ایک زلزلہ آیا جس میں مٹھاٹ اور رائے کوٹ کے دو گاؤں مکمل تباہ ہوگئے، دس افراد جاں بحق ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور ہزاروں بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے۔ پاک آرمی لوگوں کی مدد کو پہنچی اور این جی اوز نے بھی اپنا اپنا محاذ سنبھالا مگر ماہرین ارضیات نے یہ بتا کر لوگوں کو خوفزدہ کر دیا کہ اس خطہ میں ابھی اور زلزلے آنے کا قوی امکان ہے اس لیے عوام نے حکومت سے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ انہیں دوبارہ اسی علاقہ میں آباد کرنے کی بجائے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جائے۔

حکومتی حلقے عوام کو تسلیاں دیتے رہے لیکن ماہرین ارضیات کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور ۲۱ نومبر کو پہلے سے زیادہ شدید زلزلہ آیا جس میں پانچ گاؤں ڈوٹیاں، ڈشکن، مشکن، تربینگ اور ہرچو تباہی کی زد میں آئے۔ بیس افراد جاں بحق ہوئے، سات ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، بیشتر مکانات رہائش کے قابل نہ رہے اور زمین میں دراڑیں پڑ گئیں۔ پاک آرمی، این جی اوز، حکومتی حلقوں اور ان کے ساتھ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ امدادی کاموں کے لیے آگے بڑھے مگر تباہی کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہونے کی وجہ سے عوام کی مشکلات کا خاطر خواہ حل نہیں ہوا بلکہ ان کی پریشانیوں اور شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔زلزلہ سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ

  1. ایک تو شمالی علاقہ جات کی مقامی انتظامیہ مبینہ طور پر مسلکی عصبیت کی وجہ سے ضلع دیامر کے عوام کی مشکلات کے حل میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لے رہی اور دوسرے نمبر پر باہر سے جو امداد آرہی ہے وہ متاثرہ لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی۔
  2. غیر ملکی این جی اوز نے شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ کو متاثرہ عوام تک پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر پندرہ کروڑ اور حکومت پاکستان نے بارہ کروڑ روپے فراہم کیے ہیں لیکن متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان تک نہیں پہنچی بلکہ راستہ میں ہی کہیں غائب ہوگئی ہے۔
  3. متاثرین کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خیمے اور کمبل جو ان کے لیے آئے تھے وہ راستے میں رہ گئے ہیں اور انہیں بہت تھوڑی تعداد میں گھٹیا قسم کے ٹاٹ کے کمبل تھما دیے گئے ہیں۔
  4. متاثرین کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ حکومتی کارندے متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں، چند لوگوں کو تھوڑا سا امدادی سامان دے کر ٹی وی کی کوریج حاصل کرتے ہیں اور فوٹو کھنچوانے کے بعد واپس لوٹ جاتے ہیں۔
  5. مگر اس سب کچھ سے قطع نظر زیادہ پریشانی اور الجھن کی بات یہ ہے کہ ماہرین ارضیات اس خطہ میں مزید شدید زلزلوں کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس خطہ کی آبادی کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے لیکن حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔

روزنامہ جنگ نے ۲۱ جنوری کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی علاقوں میں مزید تباہ کن زلزلوں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ زلزلے نہ آنے اور جھٹکے بند ہوجانے سے متعلق حکومتی ماہرین کی رپورٹ درست نہیں ہے بلکہ غیر ملکی ماہرین کی تحقیق و تصدیق کے نتیجے میں یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ نانگا پربت کے آس پاس علاقوں میں میلوں رقبے پر پھیلے ہوئے ’’رائے کوٹ فالٹ‘‘ کے اندر زیر زمین ایک خطرناک لاوے آتش فشاں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے اس علاقے میں جاری زیرزمین دھماکوں کی خوفناک آوازیں، حالیہ تباہ کن زلزلے اور اب تک جاری مسلسل جھٹکے اسی لاوے کے ارتعاش کا نتیجہ ہیں اور ایک بڑے آتش فشاں کی موجودگی کی واضح علامات ہیں۔

شمالی علاقوں کے ممتاز ماہر ارضیات فقیر شاہ نے جنگ کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ میں نے صرف غیر ملکی ماہرین کی رپورٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود بھی حالیہ زلزلوں سے قبل اور زلزلوں کے بعد ’’رائیکوٹ فالٹ‘‘ پر مکمل تحقیق کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس حوالے سے غیرملکی ماہرین کی طرف سے کی گئی تحقیقی رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آتش فشاں کے مکمل طور پر پھٹنے کے نتیجے میں کسی بھی وقت ایک شدید اور تباہ کن زلزلہ آسکتا ہے جس سے تمام شمالی علاقے بالعموم اور رائیکوٹ فالٹ بالخصوص بری طرح متاثر ہوں گے، کئی دیہات اور قصبات صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے اور پہاڑوں کی ہیئت تبدیل ہو جائے گی۔

غیر ملکی اور ملکی ماہرین ارضیات کی ان رپورٹوں اور چیخ و پکار کے باوجود حکومتی حلقوں میں سرد مہری کی سی کیفیت طاری ہے اور نہ صرف یہ کہ خطرہ کے علاقہ سے آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کا کوئی پروگرام سامنے نہیں آرہا بلکہ اب تک متاثر ہونے والے خاندانوں اور افراد کی امداد اور انہیں آباد کرنے کے پروگرام میں بھی کوئی سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ جس کی وجہ غلط یا صحیح طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ ضلع دیامر کے عوام سے مسلکی تعصب کی وجہ سے بے اعتنائی برت رہی ہے۔ اور حکومت پاکستان بھی چونکہ انتظامیہ کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہی اپنی پالیسی اور پروگرام طے کرتی ہے اس لیے ناردرن ایریا ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ’’سب اچھا‘‘ کی روایتی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے بھی اس معاملہ میں سنجیدہ دلچسپی لینا چھوڑ رکھی ہے۔ حتی کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے متاثرہ علاقوں کے دورے کا پروگرام بنایا مگر وہ مسلسل مؤخر ہوتا جا رہا ہے۔

زلزلہ زدہ علاقے کے متاثرین کو پاکستان کے دینی راہنماؤں اور سیاسی قائدین سے بھی شکایت ہے کہ ان کے حالات او رمشکلات کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی، ان کے بقول صرف آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد عبد القیوم خان نے ان کی بات کو توجہ سے سنا اور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اخباری بیانات کے ذریعہ بلکہ خود وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی سے ملاقات کر کے انہیں شمالی علاقوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلائی۔ جبکہ ان کے علاوہ کسی اور معروف دینی یا سیاسی لیڈر کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

مجھے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں دو روزہ قیام کے دوران شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے پاکستان شریعت کونسل کے رہنما مفتی سیف الدین اور دیگر متاثرہ افراد سے ملاقات کر کے ان سے حالات معلوم کرنے کا موقع ملا۔ مفتی صاحب کا اپنا گاؤں اس زلزلہ میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور ان کی خاندانی جائیداد اور مکان بھی زلزلہ کی نذر ہوگئے ہیں۔ مفتی سیف الدین اسلام آباد میں جی الیون کی مسجد سیدنا ابوبکر صدیق کے خطیب ہیں اور متاثرہ عوام کی بحالی، امداد اور محفوظ مقامات تک ان کی منتقلی کی طرف حکومتی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلہ کا شکار ہونے والے عوام کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ

  • ان کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے بس کا کرایہ تک نہیں ہے،
  • اکثر لوگوں نے ۱۲ منفی سینٹی گریڈ تک کی سردی خیموں اور عام کپڑوں میں گزاری ہے، بہت سے لوگ شدید سردی کی وجہ سے بیمار پڑ گئے ہیں،
  • دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے چھت ان کے لیے مسئلہ بن گئی ہے،
  • اور اس پر مزید زلزلوں اور تباہی کی پیشگوئیوں اور وقفہ وقفہ سے رونما ہونے والے مسلسل جھٹکوں نے ان کا سکون برباد کر دیا ہے۔

مفتی سیف الدین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی ان کے مسئلہ کو خود براہ راست ڈیل کریں، انہیں بے رحم اور متعصب بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں، صدر اور وزیراعظم خود متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے غریب اور مظلوم عوام کو حوصلہ دلائیں، متاثرین کے لیے مخصوص کی جانے والی رقم کم ہے اس میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم متاثرین تک ضرور پہنچے۔ جن علاقوں میں ماہرین ارضیات مزید زلزلوں اور آتش فشاں لاوا پھٹنے کی پیشگوئی کر رہے ہیں ان علاقوں کی آبادی کو بلاتاخیر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جائے اور کسی بڑی تباہی سے قبل صورتحال کو سنبھالنے کی بروقت تدبیر کی جائے۔

شمالی علاقہ جات کے زلزلہ زدہ عوام کی تباہ حالی کا ایک ہلکا سا نقشہ پیش خدمت ہے۔ یہ حکومت اور سیاسی و دینی رہنماؤں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کی توجہ کا مستحق ہے اور ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے ہم میں سے ہر شخص کو اس سلسلہ میں دلچسپی لینی چاہیے اور جو شخص جس درجہ اور انداز میں اپنے بھائیوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے کچھ کر سکتا ہے اسے اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔