سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد کے اثرات و نتائج جوں جوں سامنے آرہے ہیں ان کے اسباب و عوامل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہی کر دیا تھا، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

  • لال مسجد جامعہ حفصہ میں انتہائی غیر انسانی، افسوسناک، ظالمانہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ انتظامیہ کے اس غیر قانونی ایکشن کے نتیجے میں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، سینکڑوں انسانی جانوں کو جن میں لڑکے ، لڑکیاں اور بڑی عمر کے افراد بھی شامل ہیں، بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے اور کسی بھی حال میں قانون سے ہٹ کر اسے اس کی زندگی یا آزادی سے محروم نہ کیا جائے۔
  • قانون کی رو سے قرآن مجید کی بے حرمتی ایک جرم ہے جیسا کہ سیکشن ۲۹۵ بی میں درج ہے ’’آپریشن سائیلنس‘‘ کرنے والے افراد کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے حرمتی نے پوری قوم کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور جس طریقے سے لاشوں کو ٹھکانے لگایا گیا اور انہیں مسخ کیا گیا ہے اس نے بھی ہر شہری کو مضطرب کر دیا ہے۔
  • جامعہ حفصہ کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے کے بعد ارباب حل و عقد قتل کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو چھپانے اور موقع سے غائب کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح منہدم عمارت کی جگہ پر موجود ملبے کو وہاں سے ہٹانے اور موجود شواہد کو مسخ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
  • ان امور کے ذمہ دار افراد کی یہ کاروائی قانون کے عمل کو خراب کرنے اور انسانی حقوق میں مداخلت کے مترادف ہے اس لیے مؤدبانہ درخواست کی جاتی ہے کہ درج ذیل افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے:
    1. جنرل پرویز مشرف چیف آف آرمی اسٹاف،
    2. وزیر داخلہ،
    3. کور کمانڈر ہیڈ کوارٹر ایکس کورز راولپنڈی،
    4. چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد۔
  • مسمار کی جانے والی عمارت کو جوں کا توں رہنے دیا جائے اور جب تک کہ باقاعدہ تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی، نہ تو ملبے میں موجود شواہد کو مسخ کیا جائے اور نہ اسے وہاں سے ہٹایا جائے۔
  • ذمہ داران کے خلاف سیکشن ۲۹۵ بی کے تحت قرآن مجید کی دانستہ توہین اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے کے فوج داری مقدمات درج کیے جائیں۔
  • سرنڈر کرنے کے بعد گرفتار کیے جانے والے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
  • انتظامیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ تمام گمشدہ افراد سے متعلق معلومات مہیا کرے۔

ان سطور کی اشاعت تک یہ رٹ سماعت کے لیے منظور کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ سامنے آچکا ہوگا اس لیے اس کے بارے میں ہم کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تاہم اس سے سانحہ کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے موقف اور اس کی آئندہ عدالتی جدوجہد کا ایک رخ ضرور سامنے آجاتا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ رٹ سماعت کے لیے منظور ہوگئی تو اس سلسلہ کے بہت سے حقائق بے نقاب ہونے کے ساتھ ساتھ اس المناک سانحہ کے ذمہ دار حضرات کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے علاوہ دیگر دینی و سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر قانون دان حلقوں سے ہم اس مرحلہ میں یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور سانحہ لال مسجد کے اسباب و عوامل کو بے نقاب کرنے، اس کے ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے اور دینی جدوجہد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کریں۔