ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ

صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی عقیدت و احترام کا ناگزیر تقاضہ

خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات مکرمات بھی پوری امت کی عقیدت و ادب کا مرکز ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن کے ساتھ عقیدت و ادب ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ان میں سے چونکہ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے فطری اور طبعی طور پر محبت و انس زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۰ء

کرونا بحران ۔ خدائی تنبیہ کی ایک صورت

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں انسانی سوسائٹی پر اپنے عذاب کی مختلف صورتیں، سطحیں اور دائرے بیان فرمائے ہیں، ان میں سب سے بڑا عذاب آخرت کا عذاب اور قبر کا عذاب ہے جس سے تعوذ اور پناہ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔ مگر دنیا میں بھی عذاب کے مختلف پہلو اور صورتیں قرآن کریم میں مذکور ہیں جن کا مقصد تنبیہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس تنبیہ اور وارننگ کے بعد لوگ توبہ کر لیں اور اپنے گناہوں اور نافرمانی سے باز آجائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۰ء

اجتماعی و دینی معاملات میں راہنمائی کا فورم

آزمائش اور ابتلا کے دور میں جس طرح کسی انسان کی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں، اسی طرح سماج اور سوسائٹی کی اجتماعی خوبیاں اور کمزوریاں بھی مصیبت اور آزمائش کے زمانے میں زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ مثلاً مسلمان امت اور پاکستانی قوم کی ایک بڑی خوبی انسانی ہمدردی اور کمزور طبقات و افراد کی مدد کرنا ہے، جس کا اظہار عام ماحول میں جاری رہتا ہے، مگر کرونا وائرس کی عالمی آزمائش کے اس دور میں بھی اس کی جھلک دکھائی دے رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں غریب اور نادار طبقات و افراد کی ضروریات اور مجبوریوں کا احساس ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۰ء

حج فارم میں ختم نبوت کا خانہ

حج کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کے خانے کے حوالہ سے اس وقت ملک میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پریس ریلیز درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۰ء

پاپائے روم کی ایک اچھی اپیل کی حمایت

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۵ نومبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔ پوپ فرانسیس نے ایٹم بم ہائیووسنٹر پارک (وہ مقام جہاں پر ایٹم بم گرایا گیا تھا) خطاب کرتے ہوئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے خاتمے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا میں ایک قابل نفرت تفریق پائی جاتی ہے جس میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعہ تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۹ء

کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۹ء

برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر ایک بات عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور کبھی کبھار نجی محافل میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے مگر اب اس احساس میں قارئین کو شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے، وہ یہ کہ ہر استعمار کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اپنا انداز ہوتا ہے، ہم نے برطانوی استعمار کے تحت دو صدیاں گزاری ہیں، ایک صدی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماتحتی میں اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ تاج برطانیہ کی غلامی میں گزار کر ۱۹۴۷ء سے آزاد قوم کی تختی اپنے سینے پر لٹکائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۱۹ء

قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خلاف بل

کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ایک بل پیش کیا جو مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ کے بعد کسی وقت بھی وہ اسمبلی میں زیر بحث آسکتا ہے، سودی نظام کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ سے ملک میں مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری ہے: دستور پاکستان میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سودی نظام ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے، عدالت عظمیٰ ملک میں رائج سودی قوانین کو خلافِ دستور قرار دیتے ہوئے حکومت کو انہیں ختم کرنے کی ہدایت کر چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۹ء

کیا سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے؟

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۱ جون ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں ایک رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک پاکستانیوں کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۹ء

حجاب پر پابندی ثقافتی جنگ کا ایک مورچہ

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مئی ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرمائیں: ’’فرانس مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی سے متعلق اقدامات میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا، فرانس کی سینٹ نے بچوں کو سکول لانے والی ماں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی کا قانون منظور کر لیا، فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسترد ہونے والے بل کو سینٹ نے ۱۸۶ ووٹوں سے پاس کیا جب کہ بِل کی مخالفت میں ۱۰۰ ووٹ پڑے، ۱۵۹ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے آنے والی خواتین کے اسکارف پر پابندی سے متعلق بل دائیں بازو کی اسلام مخالف ری پبلکنز پارٹی نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۹ء

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

جب عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجایا گیا تھا اور تین درجن کے لگ بھگ ممالک یہ ڈھول بجاتے ہوئے میدان جنگ میں کود پڑے تھے تو یہ سوال عالمی سطح پر اٹھایا گیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی کوئی تعریف طے کر لی جائے تاکہ غیر متعلقہ اور بے گناہ افراد و طبقات اس کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ بین الاقوامی برادری مظلوم اقوام کی آزادی کا حق تسلیم کرتی آرہی ہے اور معاندانہ ریاستی جبر کے خلاف جائز حد تک مزاحمت کے حق کو بھی روا سمجھا جاتا ہے، جبکہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں اس کا کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۹ء

جمعہ کی تعطیل اور نماز جمعہ کا وقفہ

جمعہ کے روز ہفتہ وار تعطیل کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور دینی حلقوں کا ایک عرصہ سے مطالبہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے روز کی جائے جو فضیلت کا دن ہے اور نماز جمعہ اور خطبہ و خطاب وغیرہ اہتمام کے ساتھ پڑھنے اور سننے کے لیے بھی اس سے آسانی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس سلسلہ میں قومی حلقوں میں بحث چلی تو بعض حضرات نے سوال اٹھایا کہ کیا جمعہ کے روز چھٹی کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۹ء

سانحہ ساہیوال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

سانحۂ ساہیوال کے بعد جس سوال نے قوم کو سب سے زیادہ پریشان کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اہل کاروں کو یہ کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں مشکوک سمجھ کر دہشت گرد قرار دیں اور پھر اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔ جو لوگ اس سانحہ میں فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں ان میں سے ایک فیملی کو ابتدائی تحقیقات میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور ذیشان کے بارے میں ابھی تک صرف شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، اس کے دہشت گرد ہونے کا کوئی ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیا جا سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی

ایک عرصہ سے کان جو خبر سننے کے لیے ترس رہے تھے آج اس کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے پروگرام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آدھی امریکی فوج پہلے مرحلہ میں واپس جائے گی اور باقی نصف فوج کی واپسی کا بھی جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۲ دسمبر کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں جو رائٹرز اور اے ایف پی کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

انبیاء کرامؑ کی دعوت کے مختلف مناہج

اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، نبی اور رسول کا بنیادی منصب داعی کا ہے کہ وہ نسل انسانی کے کس حصہ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کی طرف دعوت دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس بندگی کو شرک سے محفوظ رکھنا سب سے پہلی دعوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے اس کے نبی اور رسول کی اطاعت اس دعوت کا دوسرا حصہ ہے جبکہ اس دنیا کو عارضی زندگی سمجھتے ہوئے آخرت کی اصل اور ابدی زندگی کی تیاری کرنا جو انسان کی اصل ذمہ داری ہے اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا دعوت کا تیسرا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۸ء

چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے گزشتہ دنوں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اور ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد سو فیصد درست ہے اور ملک و قوم کے دستور و قانون کے ساتھ ساتھ اس کی وحدت و استحکام کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر ہم اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۸ء

دینی جدوجہد کا نیا دور اور اس کے تقاضے

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور اہم ملکی امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ محترم سید سلمان گیلانی، عزیزم حافظ محمد خزیمہ خان سواتی، جناب بلال میر اور حافظ شاہد میر بھی شریک محفل تھے۔ ملک کی عمومی صورتحال کے تناظر میں دینی جد و جہد کے اہم پہلو زیر بحث آئے جن میں نئی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کا عوامی ردعمل سامنے رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

ریاست مدینہ کی منزل اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات

۲۵ جولائی کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے اور وزیر اعظم کے طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو ملک کا نیا حکمران منتخب کر لیا گیا ہے، جو کرپشن سے پاک پاکستان اور ریاست مدینہ طرز کی رفاہی ریاست کے عزم و اعلان کے ساتھ اپنی حکومت کا آغاز کر رہے ہیں۔ انتخابات میں جو کچھ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و اعتراضات کا جو بازار گرم گیا، پھر اپوزیشن کی کم و بیش سبھی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے اپنے تحفظات و خدشات کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۸ء

عام انتخابات اور دینی حلقے

ماہِ رواں پاکستان میں عام انتخابات کا مہینہ ہے، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ۲۵ جولائی کو ملک بھر میں عوام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کریں گے اور اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیاں اگلے پانچ سال کے لیے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیں گی۔ انتخابات کا انعقاد وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے جس کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد سے قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان کے طے کردہ اس اصول پر ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے جو قرآن و سنت کی راہنمائی کے پابند ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۸ء

امریکی سفارت خانہ کی القدس منتقلی اور فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد

امریکہ نے بالآخر بیت المقدس شہر میں اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے تشدد کی تازہ ترین کارروائی بھی اسی روز ہوئی ہے جس دن یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی باقاعدہ منتقلی ہوئی کہ اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقدام پر احتجاج کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بیت المقدس شہر خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہے اور اس کی مستقل حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، مگر امریکہ نے بین الاقوامی فیصلوں اور عالمی رائے عامہ کو مسترد کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

پرنس ہیری اور مکھی

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ مئی کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’لندن (این این آئی) پرنس چارلس کی ۷۰ ویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کے دوران ایک مکھی پرنس ہیری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی نظر آئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری تقریری کرنے ڈائس پر آئے تو بھن بھن کرتی ایک مکھی نے تقریر کرتے ہوئے شہزادے کو مشکل میں ڈال دیا جس کے باعث ان کا تقریر سے دھیان ہٹ گیا۔ تقریر کے دوران پرنس ہیری اگلا جملہ غلط بول گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۸ء

چینی زبان کا فروغ اور پاکستانی زبان و ثقافت کا تحفظ

روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۸ء

مارچ میں ’’سہ روزۂ ختم نبوت‘‘

’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کا سب سے بڑا محاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ’’مجلس احرار اسلام پاکستان‘‘ اور ’’انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ‘‘ پوری دل جمعی کے ساتھ اس محاذ پر مسلسل سرگرم عمل ہیں، جبکہ مختلف مذہبی مکاتبِ فکر کی متعدد دیگر جماعتیں بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کی جدوجہد مسلمانوں کے تمام حلقوں اور طبقات کی مشترکہ محنت سے جاری ہے اور اس کے لیے جو بھی کسی دائرہ میں کام کر رہا ہے لائق تحسین ہے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۸ء

بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۸ء

پسند کی شادیاں اور طلاق کی شرح

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۱ نومبر ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’پسند کی شادیاں کرنے والی پندرہ سو لڑکیوں نے شادی کے ایک برس بعد ہی طلاقیں لے لیں۔ قانونی ماہرین نے پسند کی شادیوں کو معاشرے کے لیے بوجھ قرار دے دیا ہے۔ رواں برس میں جنوری سے نومبر تک لاہور کی سول عدالتوں نے دو ہزار خواتین کو طلاق کے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جن میں پندرہ سو خواتین پسند کی شادیاں کرنے والی شامل ہیں۔ ان عدالتوں نے یہ سرٹیفکیٹس یکم جنوری سے یکم نومبر کے درمیانی عرصہ کے دوران جاری کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۷ء

قادیانی مسئلہ پر قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ بل میں قادیانیوں سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے انکشاف نے ملک بھر میں اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی، چنانچہ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونے پر قومی اسمبلی نے ترامیم کا قادیانیوں سے متعلقہ حصہ واپس لے کر سابقہ پوزیشن بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں شکوک و شبہات اور بے چینی کا ماحول موجود ہے اور مختلف دینی و قانونی حلقوں کی طرف سے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۷ء

اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاقیں دینے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت ہند سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس دوران قانون سازی کرے۔ یہ مسئلہ کافی عرصہ سے بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور ہم اس سے قبل ان صفحات میں اس پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور اب اس کا ذکر کرنے کا مقصد دینی و علمی حلقوں کو اس طرف ایک بار پھر توجہ دلانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۷ء

آزاد کشمیر میں شرعی عدالتوں کے نظام کا تحفظ ضروری ہے

۱۰ جولائی کو پلندری جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان کے بیٹے کا ولیمہ تھا، اس موقع پر آزاد کشمیر کے بعض سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی کہ ریاست آزاد و جموں کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر ججز اور قاضی صاحبان پر مشتمل جو دو رکنی عدالتیں کام کر رہی ہیں، ان کی بساط دھیرے دھیرے لپیٹی جا رہی ہے اور ہائیکورٹ کی سطح پر جو شرعی عدالت مصروف عمل ہے اس کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس سامنے آچکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۷ء

فہم قرآن کا صحیح راستہ

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے ذوق کے مطابق اعمالِ خیر میں مصروف ہیں۔ روزے کے بعد اس ماہ مبارک کی سب سے بڑی مصروفیت قرآن کریم کے حوالہ سے ہوتی ہے۔ کلام پاک اس مہینہ میں نازل ہوا تھا اور اسی میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، تلاوت اور سماعت کے ساتھ ساتھ فہم قرآن کریم کے ذوق میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے مختلف حلقے لگتے ہیں، اخبارات و جرائد میں مضامین کی اشاعت ہوتی ہے جبکہ سوشل میڈیا نے اس کے دائرہ کو بہت زیادہ تنوع کے ساتھ وسیع کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۷ء

بھارتی سپریم کورٹ میں تین طلاقوں کا مسئلہ

بھارتی سپریم کورٹ میں اس وقت ’’تین طلاقوں ‘‘ کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ تین طلاقوں کو جرم قرار دے دیا جائے اور انہیں قانونی طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ تمام مسلم مکاتب فکر کی مشترکہ نمائندہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے موقف کا دفاع کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں دونوں طرف کے موقف کا خلاصہ دو خبروں کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں جو چیف جسٹس جے ایس کیبر کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۷ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ توجہ درکار ہے

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے بارے میں زیر سماعت مقدمہ کو غیر متعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور چیف جسٹس صاحب نے اس کے ساتھ یہ ریمارکس دیے ہیں کہ جس دور میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات مختلف تھے اس لیے ان حالات میں نافذ کیے گئے قوانین و احکام کو آج کے دور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مقدمہ کے التوا کے اسباب میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نے ’’ربٰوا‘‘ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ مروّجہ سود سے مختلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۷ء

تحفظ ناموس رسالتؐ اور مسلم ممالک کے سفراء کا عزم

سادہ سا سوال ہے کہ ایک عام شہری کی عزت کو تو دنیا کے ہر ملک میں قانونی تحفظ حاصل ہے اور ہتک عزت کے ساتھ ساتھ ازالۂ حیثیت عرفی کے معاملہ میں دنیا کے ہر ملک کا قانون اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور دادرسی کا حق دیتا ہے مگر مذہبی شخصیات اور دنیا کی مسلمہ دینی ہستیوں کے لیے یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ بلکہ جن ممالک میں مذہب اور مقدس شخصیات کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں انہیں آزادیٔ رائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر ان سے ایسے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۷ء

عربی زبان کی تعلیم اور ہمارے قومی ادارے

روزنامہ اسلام لاہور میں ۱۷ فروری ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے ارکان نے ’’عربی بل ۲۰۱۵ء‘‘ کو بطور لازمی تعلیم پڑھانے پر بحث کے دوران اسے بطور مضمون نصاب میں شامل نہ کرنے کی وجہ کو دہشت گردی کا سبب قرار دیا۔ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب ہونے والی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے پیش کردہ بل کو ان کی غیر موجودگی میں ہی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۷ء

آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات اور حکومت کی خاموشی

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد منعقد یکم فروری ۲۰۱۷ء نے حکومت کے سامنے چھ نکاتی مطالبہ پیش کر کے اسے ایک ماہ کے اندر منظور کرنے کے لیے کہا تھا اور قبول نہ کیے جانے کی صورت میں عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک کے متعدد شہروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نگرانی میں مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے مشترکہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان اجتماعات کے ساتھ ساتھ خطبات جمعۃ المبارک میں بھی یہ مطالبات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۱۷ء

تحفظ ناموس رسالتؐ قانون اور سینٹ آف پاکستان

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اس قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کی روک تھام کے عنوان سے اس کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔ اس لیے مختلف مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کے مشترکہ عملی فورم ’’ملّی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے اس کے متعلقہ ضروری پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا ہے اور مجلس کے مرکزی راہ نماؤں کی طرف سے جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے ، ایک جائزہ رپورٹ سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی کو محترم سنیٹرفرحت اللہ بابر کی وساطت سے بھجوائی ہے جو قارئین کے مطالعہ کیلئے پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۷ء

وطنِ عزیز پاکستان کی خصوصیات اور انہیں درپیش خطرات

پاکستان جب ۱۹۴۷ء کے دوران دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے طور پر نمودار ہوا تو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا گیا کہ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں نے جذباتیت کا اظہار کر کے اسلام کے نام پر ایک الگ ملک کے قیام کا مقصد تو حاصل کر لیا ہے مگر اسے ایک مستحکم نظریاتی ریاست بنانے کے مراحل شاید وہ نہیں طے کر پائیں گے اور بھارت کے اردگرد موجود دیگر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی طرح یہ ملک بھی اسی طرز کی ایک ریاست کی صورت اختیار کر جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

دینی مدارس اور وفاقی وزیر داخلہ کی خوش آئند باتیں

دستور کی بالادستی کے نام پر ووٹ لینے والے حکمران بھی دستور کی اسلامی دفعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اس عالمی سیکولر ایجنڈے کے لیے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں جس کے بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی بنیادوں کو خدانخواستہ سرے سے ختم کر دیا جائے یا کم از کم انہیں غیر موثر بنا دیا جائے، اور پاکستان میں دین کی سربلندی اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور افراد کو مسلسل خوف و ہراس کے ماحول میں رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟

دینی مدارس کا نظام ایک بار پھر ریاستی اداروں کے دباؤ کی زد میں ہے اور یہ کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئی ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اپنے آزادانہ کردار سے دستبردار ہو کر خود کو بیوروکریسی کے حوالہ کر دیں۔ چنانچہ روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے بعد وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۶ء

ہمارے عدالتی نظام کا ماحول

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے یہ ریمارکس دیے ہیں کہ ’’پنجاب دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ڈکیتی کے کے مبینہ ملزم کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فاضل جج نے کہا کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ 1925ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک انگریز جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کے نزعی بیان پر یقین نہ کیا کریں یہ مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا خطہ ہے جہاں نزعی بیان میں دشمنی کا حساب برابر کیا جاتا ہے اور خاندان کے خاندان کو نامزد کر دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۶ء

اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش ۔ نیوٹ کنگرچ کے خیالات

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۶ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کا مذہبی تشخص

روزنامہ انصاف لاہور کی ایک خبر کے مطابق یورپی ریاست سلواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے کہا ہے کہ سلواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، مسلمانوں کی یورپ میں آمد خطے کے لیے نقصان دہ ہے، وہ سلواکیہ میں ایک بھی مسلمان کو برداشت نہیں کر سکتے، اور یہ کہ دیگر مغربی ممالک کی طرح مسلمان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینا ان کی مجبوری نہیں ہے۔ رابرٹ فیکو یکم جولائی سے یورپی یونین کے صدر کا منصب سنبھالنے والے ہیں، اس لیے ایسے موقع پر ان کا مسلمانوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کے آئندہ عزائم اور پالیسیوں کی بھی غمازی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۶ء

شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناًبہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اور اگر ان کے اتفاق رائے کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی تو وہ مذاہب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوگی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں میں کام ہو رہا ہے اور مختلف سطحوں پر اس حوالہ سے کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۶ء

شیخ الازہر اور پاپائے روم کی ملاقات

روزنامہ انصاف لاہور ۲۵ مئی ۲۰۱۶ء کی ایک خبر کے مطابق جامعۃ الأزہر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے گزشتہ روز ویٹی کن سٹی میں پاپائے روم پوپ فرانسِس سے ملاقات کی ہے اور دونوں راہنماؤں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔ الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسِس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناً بہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۶ء

مذہب و ثقافت کی عالمی کشمکش اور چین کے صدر محترم

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کی مذہبی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اقدار کو چینی ثقافت اور کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنائیں، چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیجنگ میں پارٹی کے مذہب کے بارے میں خدوخال بتاتے ہوئے کہی، صدر شی نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی خدا سے زیادہ اہم ہے، مذہبی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے وابستہ رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

۳ اپریل ۲۰۱۶ء کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین لاکھوں کی تعداد میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے جمع ہو کر ملکی صورتحال اور دینی مدارس کی معاشرتی جدوجہد کے حوالہ سے اپنے موقف اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار کر رہے ہیں جو بلاشبہ اہل حق کی جدوجہد اور تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ آج دینی مدارس کی یہ محنت اپنے علمی و فکری ماحول اور دینی و تہذیبی اثرات و نتائج کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سطح پر بحث و گفتگو کا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۶ء

سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

روزنامہ جنگ کراچی ۲۲ فروری ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے، تمام حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشترکہ رائے سے موت کی سزا کو ختم کر دیں، کیونکہ اس طرح حکومتیں کسی انسان کی ہلاکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ نے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا بھر کے مسیحیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ موت کی سزا کے خاتمہ کے لیے اپنی کوشش شروع کر دیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۶ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

اسلام مخالف مہم اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ تعالیٰ سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دو اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جس کی طرف نہ صرف رابطہ عالم اسلامی بلکہ عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں اور علمی و دینی مراکز کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایک بات یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے اور صدر محترم کے نزدیک رابطہ عالم اسلامی اس کے لیے موزوں فورم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۵ء

امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردارکشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے کی مہم

روزنامہ اوصاف لاہور نے ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء کی ایک خبر میں بتایا ہے کہ: ’’پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سور کے گوشت اور دیگر حصوں کو ۱۰۰ سے زائد کھانے والی اشیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کو مسلمان بھی انجانے میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے علماء کرام عوام میں حلال و حرام کے استعمال کے حوالہ سے شعور پیدا کریں کہ صرف گوشت ہی حلال اور حرام نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

اردو زبان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ماہ سے بھی کم مدت تک چیف جسٹس رہنے والے فاضل جج محترم جسٹس جواد ایس خواجہ گزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ہیں مگر ریٹائر منٹ سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آئندہ نسلیں یقیناً انہیں دعائیں دیتی رہیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے بارے میں یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران نہ کوئی سرکاری پلاٹ لیا اور نہ ہی امتیازی پروٹوکول اور مراعات سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۸ اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا، وزارت قانون نے نظام انصاف کو مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اصلاحات پر مبنی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعظم نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۵ء

ایران کا ایٹمی سمجھوتہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل

ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک کے ایٹمی سمجھوتے پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایران میں اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے جشن کا سماں ہے، اقتصادی پابندیوں کے ختم ہو جانے پر ہر طرف خوشی منائی جا رہی ہے اور اسے ایران کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ معروضی صورتحال میں ہمیں بھی اس سے اختلاف نہیں ہے مگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو اسے حالات کے جبر اور طاقت کی حکمرانی کے روایتی طریقِ کار کی ایک بار پھر توثیق کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

اراکانی مسلمانوں کی حالت زار

میانمار (برما) میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اس کے بارے میں دو تازہ رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں۔ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ جون ۲۰۱۵ء کو اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین آفس کے حوالہ سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’میانمار کی مغربی ریاست راکھینی (اراکان) میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تباہ حال پانچ لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہے، ان افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان لوگوں میں سے ۴ لاکھ ۱۶ ہزار سے زیادہ کی تعداد کو مدد کی شدید ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

اردو زبان اور حکومتی رویہ

ان دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو زبان کے بارے میں حکومتی رویہ پر بحث جاری ہے اور فاضل جج صاحبان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حوالہ سے اپنی دستوری ذمہ داریاں پوری کرے۔ اس ضمن میں روزنامہ اوصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء کو ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے حوالہ سے شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ ’’دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے اردو دوسری بڑی زبان بن چکی ہے جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید کی ایک تقریر کے کچھ اقتباسات ان دنوں قومی پریس میں زیر بحث ہیں جو انہوں نے گزشتہ دنوں آرٹس کونسل کراچی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی ہے اور جس میں انہوں نے دینی مدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ہماری نفسیات کا حصہ ہے کہ بچوں کو بھی علم سے محروم رکھو اور بڑوں کو بھی علم سے محروم رکھو، اب کتاب تو وجود میں آچکی، اسکول تو وجود میں آچکے، جب پاکستان بنتا ہے، یہ انگریز کا تحفہ ہے، اس کو بند نہیں کیا جا سکتا، اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

یمن کا تنازعہ اور عالمِ اسلام کی ذمہ داری

یمن کا تنازعہ رفتہ رفتہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو اس خاص رُخ کی طرف لے جا رہا ہے جس کی نشاندہی ہم ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں کہ اس خطہ میں ایران اور سعودی عرب کی کشمکش نے سنی شیعہ کشیدگی کو خانہ جنگی کا مستقل محاذ بنا دیا ہے اور دن بدن اس کے دائرے میں وسعت دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے اصلاً تو امریکی استعمار، اسرائیل اور ان کے ہمنوا عالمی حلقے ہیں جن کی دلچسپی شروع سے اس بات میں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عرب اور مسلمان ممالک کے درمیان کوئی ایسی وحدت اور اشتراکِ عمل وجود میں نہ آ سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۵ء

دہشت گردی کے اصل مراکز

نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے میں جو اسلحہ پکڑا گیا ہے اور جس طرح درجنوں مقدمات میں مطلوب مجرم حراست میں لیے گئے ہیں اس سے دینی حلقوں کا یہ موقف ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ یہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اور مختلف حوالوں سے موجود ہے۔ اس لیے اس کے لیے دینی حلقوں اور مدارس کو مطعون کرنا اور ان کے خلاف کردار کشی اور منافرت کی مہم کو آگے بڑھانا نہ صرف یہ کہ درست نہیں ہے بلکہ ملک و قوم کے مفاد میں بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں تحفظات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’قومی ایکشن پلان‘‘ پر عملدرآمد جاری ہے، فوجی عدالتیں تشکیل پا گئی ہیں اور ملک بھر میں گرفتاریوں، سزاؤں اور پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اس قومی عزم کی حمایت کی ہے بلکہ وہ اس میں بھرپور تعاون بھی کر رہی ہیں مگر اس سلسلہ میں بعض حلقوں کی طرف سے تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جن پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

ووٹ کا حق اور روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی

روزنامہ اسلام لاہور ۱۳ فروری ۲۰۱۵ء کی ایک خبر کے مطابق برما کے روہنگیا مسلمانوں کو چند روز تک ہونے والے ایک ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور بودھوں کے ایک مظاہرہ کے بعد میانمار (برما) کے وزیر اعظم تھین سین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روہنگیا مسلمان ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

دینی مدارس ایک بار پھر بین الاقوامی اور قومی سطح پر اعتراضات اور تنقید کے ساتھ ساتھ قومی پالیسی کے تحت بعض متوقع اہم اقدامات کا ہدف ہیں اور میڈیا اور لابنگ کے محاذ پر سیکولر لابیاں اس صورتحال کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کرنے میں پوری چابکدستی کے ساتھ مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

فرانسیسی جریدہ میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت کے بعد جہاں مغربی ممالک کے حکمران آزادئ رائے کے نام پر اس گستاخانہ طرز عمل کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں وہاں مسیحی دنیا کے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسِس نے یہ بیان دے کر معقولیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور توہین کا آزادئ رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

نفاذِ شریعت کے نام پر تشدد روا نہیں ہے

۱۶ دسمبر کو پشاور کے ایک سکول میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر، جن میں غالب اکثریت بچوں کی ہے، ملک کا ہر شخص سوگوار ہے اور اس دہشت ناک سانحہ نے نہ صرف بہت سے پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیکولرازم کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا کو ایک بار پھر عالمی سطح پر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں کردارکشی کی مہم کو نئے سرے سے منظم کرے اور دینی حلقوں کو بدنام کرنے کے لیے اور زیادہ سرگرم عمل ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۵ء

علماء دیوبند کی سپریم کونسل کا قیام

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند اور مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی تحریک پر ۱۸ نومبر کو اسلام آباد میں مسلک علماء دیوبند سے تعلق رکھنے والی بہت سی جماعتوں کے راہنماؤں اور دیگر شخصیات کا قومی سطح پر ایک مشترکہ اجتماع ہوا جس میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا حافظ حسین احمد، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اشرف علی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۱۹ نومبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ: پاکستان میں اسلامک بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا ماننا ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی بینکوں میں سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کے گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میرپور آزاد کشمیر میں تھا جہاں جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبدالخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

مسیحی دنیا میں قدیم و جدید کی کشمکش

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’ویٹیکن سٹی (اے پی اے) دو ہفتوں تک جاری رہنے والا کیتھولک مسیحیوں کے سینئر مذہبی اکابرین کا خصوصی اجلاس طلاق اور ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ نہیں دے پایا، اس صورتحال کو پوپ فرانسِس کے لیے دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن سٹی میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی کیتھولک مشائخ سالانہ کانفرنس (SYNOD) کسی بڑے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

قصاص کے قانون پر عملداری کے حوالہ سے افسوسناک صورتحال

روزنامہ پاکستان لاہور میں یکم ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے تھانہ واہ کینٹ کے ایک مقدمہ قتل میں مجرم ثابت ہونے والے قیدی شعیب سرور کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں اور سزائے موت کو روکنے کے حوالہ سے حکومتی اختیار کو ختم کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے ۲۲ جولائی ۱۹۹۸ء کو شعیب سرور کو اویس نواز کا قاتل قرار دے کر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۴ء

نظام کی تبدیلی ایک ناگزیر قومی ضرورت

قادری صاحب کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسے مکمل طور پر تبدیل کر کے انقلاب لایا جائے جو کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، اس لیے موجودہ حکومت پوری کی پوری مستعفی ہو جائے۔ جبکہ عمران خان صاحب یہ کہتے ہیں کہ انتخابی نظام دھاندلیوں کے سدّباب میں ناکام رہا ہے اور گزشتہ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اس لیے وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں اور الیکشن کے پورے نظام پر نظر ثانی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۴ء

اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور فلسطین پر اس کے قبضہ کا پس منظر

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور زمینی فوجوں کی کاروائیاں مسلسل جاری ہیں، سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، مکانات جل گئے ہیں اور ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، مگر عالمِ اسلام پر سکوت مرگ طاری ہے اور خاص طور پر مسلم حکمران بے حسی اور بے بسی کی عبرتناک تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جب سے وجود میں آیا ہے اس کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف جبر و تشدد اور ظلم و استبداد کا یہ عمل مسلسل جاری ہے، لاکھوں فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۴ء

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال اور حضرت شیخ الہندؒ کی سوچ

شام میں ایک عرصہ سے جاری سنی شیعہ کشمکش میں، جو رفتہ رفتہ شدید عسکری تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے، اب عراق بھی شامل ہو گیا ہے اور آئی ایس آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا) کے مسلح لشکر کی عراق میں مسلسل پیش قدمی نے ایک بار پھر عالمی قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے امریکہ سے تعاون کی درخواست کی ہے اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق کی تقسیم اور عراق و شام سمیت پورے خطے میں از سرِ نو جغرافیائی رد و بدل کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۴ء

طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور تربیتی کورسز / وراثت کے کیس کا ۹۰ سال کے بعد فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۱۴ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب نے ملک میں طلاق کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا ہے جن میں لوگوں کو خاندانی طور پر بہتر زندگی گزارنے اور طلاق سے بچنے کی تربیت دی جائے گی۔ خبر کے مطابق اس قسم کے کورسز کا اہتمام ملائیشیا میں بھی کیا گیا ہے۔ اسلام نے خاندانی زندگی کے جو اصول و ضوابط اور احکام و قوانین بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں طلاق ’’ابغض المباحات‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۴ء

مغربی دنیا اور آسمانی تعلیمات

جب سے مغربی دنیا کے ذہنوں میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزادی اور عورت و مرد میں مساوات کا سودا سمایا ہے، عجیب و غریب قسم کے لطیفے سننے اور پڑھنے میں آرہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکی سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی ایک رٹ کی خبر اخبارات کی زینت بنی تھی کہ جب مرد اور عورت میں مکمل مساوات ہے اور کسی کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے تو جب گاڈ (اللہ) کے حوالہ سے کوئی بات کہی جاتی ہے تو مذکر کا صیغہ بولا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے اور مؤنث کا صیغہ نہیں بولا جاتا کہ گاڈ کہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۴ء

خواتین کی نسل کشی اور نسوانیت کشی

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۲ اپریل ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تنظیم خواتین کو نسلی امتیاز کی بنیاد پر درپیش مسائل اور منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ’’جینڈر سائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ (Gendercide Awareness Project) کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس تنظیم کی بانی اور چیئر پرسن بیورلی ہل (Beverley Hill) نے کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سب سے آگے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۴ء

عربی زبان اور سرکاری سکول

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مارچ کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عربی کی تعلیم کو میٹرک تک لازمی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اسے جلد نصاب میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر الشیخ عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر کی رہائش گا ہ پر قرآن کریم حفظ کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب قریبی دوست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۴ء

قومی سلامتی پالیسی اور مدارس

دینی مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے ایجنڈے کا وقتاً فوقتاً حکومتی پالیسیوں کے ذریعہ اظہار ہوتا رہتا ہے اور مدارس کی کردار کشی کی مہم کے ساتھ ساتھ انہیں کسی نہ کسی طرح سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے پورے جنوبی ایشیا میں کام کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ، اسلامی عقائد و افکار کا تحفظ اور دینی اقدار و روایات کی پاسداری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۴ء

اردو کے پیپر میں ایک افسوسناک سوال

گریڈ ۸ کے ۲۰۱۴ء کے امتحانات میں ’’اردو‘‘ کا پرچہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے ایک سوال کی طرف ہم حکومت اور قارئین کو توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ سوال ملاحظہ فرمائیے: ’’مندرجہ ذیل اشعار کو غور سے پڑھیں اور سوالات نمبر ۳۵ ، ۳۶، ۳۷، ۳۸، ۳۹ اور ۴۰ کے درست جوابات منتخب کریں۔ ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ نے منبر پر کہا۔ میں تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور؟ ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھی۔ کہ تیرے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۴ء

تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی حکومت اور پاکستانی طالبان سے اپیل

اجتماع میں تیس سے زائد دینی تنظیموں کے دو سو سے زائد نمائندگان نے شرکت کی اور پاکستان شریعت کونسل کے دیگر رفقاء کے ہمراہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں۔ کانفرنس کے کم و بیش سبھی شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ ملک میں امن کے قیام کے لیے یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور وطن عزیز کے امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ بیرونی سازشوں کی روک تھام کے لیے بھی ان مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۴ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف افسوسناک مہم

گزشتہ دنوں سینٹ آف پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اپنا کام مکمل کر چکی ہے اس لیے اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

دیوبند کے حالیہ سفر کی مختصر روداد

شیخ الہندؒ ایجوکیشنل چیریٹی ٹرسٹ دیوبند کی دعوت پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے وفد کے ہمراہ دیوبند دہلی اور بھارت کے بعض دیگر شہروں میں حاضری اور متعدد بزرگوں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے شیخ الہند ؒ کی تحریک ریشمی رومال کو ایک صدی مکمل ہونے پر صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا اور اسی کے تحت ۱۳ و ۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو دہلی میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۴ء

دیوبند کے حالیہ سفر کی مختصر روداد

شیخ الہندؒ ایجوکیشنل چیریٹی ٹرسٹ دیوبند کی دعوت پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے وفد کے ہمراہ دیوبند دہلی اور بھارت کے دیگر شہروں میں حاضری اور متعدد بزرگوں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے شیخ الہند ؒ کی تحریک ریشمی رومال کو ایک صدی مکمل ہونے پر صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا اور اسی کے تحت ۱۳ و ۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو دہلی میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۴ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ

ملک کے معروف تعلیمی ادارہ دارالعلوم تعلیم القرآن (راجہ بازار، راولپنڈی) میں ۱۰ محرم الحرام کو جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر ہر صاحبِ درد شخص کا دل تڑپ اٹھا ہے اور کرب و اضطراب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کا قائم کردہ یہ دینی مرکز پون صدی سے تعلیمی و دعوتی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے اور ہزاروں علماء کرام نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ عاشوراء کے دن نماز جمعۃ المبارک کے وقت وہاں ماتمی جلوس کے گزرنے پر جو قیامت بپا ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۳ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۳ء

افغانستان میں غیر ملکی تسلط کی مدد کی شرعی حیثیت / سعودی حکومت کا جرأتمندانہ فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۱ اکتوبر کو آئی این پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’ملک کے ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے افغانستان پر غیر ملکی تسلط میں سرکاری اور ہر طرح کی مدد کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے کہ شرعی نقطۂ نظر سے حکومت پاکستان اس امر کی مجاز نہیں ہے کہ وہ پڑوسی مسلمان ملک پر غیر مسلموں کے قبضے کو مستحکم کرنے میں غیر ملکی جارح قوت کی مدد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۳ء

سپریم کورٹ اور سودی نظام

عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ: (۱) کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟ (۲) کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۳ء

علم کی ضروریات اور ذمہ داریاں

امام غزالیؒ نے جتنے درجات بیان کیے ہیں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ان میں سے دوسرے درجے میں زیادہ فٹ بیٹھتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو دین کے کسی نہ کسی شعبہ میں اور کسی نہ کسی درجے میں کچھ نہ کچھ علم تو رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس حیثیت سے اپنی ضروریات اور ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے اور ہم انہیں پورا کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔ اس لیے میں اسی حوالہ سے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔علماء کہلاتے ہوئے کچھ چیزیں تو ہماری ضروریات ہیں اور کچھ باتیں ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۳ء

اسلامی نظریات کونسل کی سفارشات

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۴ ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی آئینی تقاضہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ ہزاروں سفارشات ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

پشاور کا المناک سانحہ

۲۲ ستمبر کو پشاور کے ایک چرچ میں دو خودکش دھماکوں کے دوران ۸۰ کے لگ بھگ افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قوم کے تمام طبقات کی طرف سے اس کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور مسیحی برادری کے حضرات اپنی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک خودکش حملوں کے باعث کہرام مچ گیا اور ہر طرف لاشوں اور زخمیوں کے بکھرنے سے پوری قوم غم و اندوہ کا شکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے دو دینی مدرسوں مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ مظاہر العلوم کے خلاف پولیس ایکشن سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران چلاس ضلع دیامر میں ایک حملہ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہلال خان اور ان کے رفقاء جاں بحق ہوئے، ہلال خان گوجرانوالہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور اچھے پولیس افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا، ان کی شہادت پر خود ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۲۲ جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’عدالت عظمیٰ نے بمبئی کے ان سینکڑوں رقص خانوں کو کھلوا دیا ہے جنہیں مہاراشٹر سرکار نے ۲۰۰۵ء میں یہ کہہ کر بند کروا دیا تھا کہ ان ’’ڈانس بارز‘‘ میں رقص و سرور کے نام پر جنسی ایکٹ (چکلے) چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ اور فحش حرکات کی جاتی ہیں، رقاصائیں انتہائی اشتعال انگیز پوشاکوں میں لوگوں کے سامنے آ کر بے شرمی کے مظاہرے کرتی ہیں جن سے تماش بینوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۳ء

قصاص کے شرعی قانون کے خلاف مہم

روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں ۱۹ اگست ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’پاکستان میں سزائے موت کو ختم کرنے اور پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے صدر کی جانب سے حکومت پاکستان کو لکھے جانے والے خط پر وکلاء نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نے جان کے بدلے جان کا حکم دیا ہے اور قاتل کو سزائے موت دینا فساد فی الارض کو روکنا ہے ،جبکہ اسلام ہمیں جان کے بدلے جان اور خون کے بدلے خون کا قانون دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۳ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

روزنامہ اسلام ، اسلام آباد میں ۲۶ جون ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’سپریم کورٹ میں ہاؤس بلڈنگ کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ۳ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کوئٹہ کو کیس واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے، سود پر لفظوں کا غلاف چھڑا دیا گیا ہے، سود وصول کرنے والے مذہب سے مذاق کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’وارث پورہ سے ملحقہ بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں بم دھماکے میں ملوث تین میں سے ۲ ملزمان کو پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جبکہ تیسرا ملزم ذیشان عرف ببلو مسیح بم دھماکہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ سی پی او رفعت مختار راجہ ایس ایس پی آپریشنز گوہر نفیس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز منگل کی رات ۹ بجے کے قریب بم دھماکہ کے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

عام انتخابات کے نتائج اور دینی حلقوں کا مستقبل

ملک میں ایک بار پھر عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے اور اس دفعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت کے ساتھ مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، پنجاب میں بھی نون لیگ کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مخلوط حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہیں، خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے حکومت سازی کے لیے معاہدہ کر لیا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

انتخابات اور دینی جماعتیں

ملک بھر میں انتخابات کی گہماگہمی ہے اور بہت سی پارٹیاں ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے مہم جوئی میں مصروف ہیں، ان سطور کی اشاعت تک انتخابی مہم عروج پر ہو گی اور سیاسی پارٹیاں اور ان کے امیدوار قسمت آزمائی کی جدوجہد میں مگن ہوں گے۔ بہت سی مذہبی جماعتیں بھی حسبِ معمول انتخابی میدان میں ہیں اور ان کے سینکڑوں امیدوار ملک کے مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف گزشتہ روز کراچی واپس پہنچ گئے ہیں اور عام انتخابات میں حصہ لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی آمد پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوتوں اور حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کی گارنٹی لے کر وطن واپس آئے ہیں اور عام انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عام انتخابات میں حصہ لینا ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا ووٹروں کا کام ہے کہ وہ کسے اپنی نمائندگی کے لیے چنتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۳ء

شیخ الازہر کا اعلانِ حق

روزنامہ کائنات اسلام آباد کے ۷ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے کہ: ’’مصر کی معروف تاریخی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور بحرین کا برادر ہمسایہ عرب ملک کے طور پر احترام کریں، اہل السنۃ والجماعۃ مسلک کے پیر و کار ملکوں میں شیعہ ازم کے فروغ کی کوششیں نا پسندیدہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی ۱۳ فروری ۲۰۱۳ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ہی جنس کے افراد کے مابین شادی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ ۹۷ کے مقابلہ میں ۲۴۹ ارکان نے بل کے حق میں رائے دیتے ہوئے شادی کی ازسرِنو تشریح کی ہے جس کے تحت شادی صرف ایک مرد اور عورت کے مابین ہی نہیں بلکہ دو افراد کے مابین معاہدے کا نام ہے۔ فرانس کے صدر فرانکوئس اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور ان کی حلیف بائیں بازو کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ نے خبر شائع کی ہے کہ: ’’مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اسرائیل کی شہریت کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سابقہ فتوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنا شرعی حوالہ سے حرام ہے کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالہ سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا بھی ہے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پھیلے اس با برکت شہر کی آبادی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ: ’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالہ سے ان صفحات پر ہم اپنے جذبات کا اس سے قبل کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ اس خطہ کے مسلمان انتہائی مظلومیت کا شکار ہیں کہ جس ملک میں وہ صدیوں سے رہ رہے ہیں وہاں کی حکومت انہیں اس ملک کا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ان کا مسلسل قتل عام ہو رہا ہے، پڑوس کے ممالک حتٰی کہ بنگلہ دیش بھی ان کے مہاجرین کو با قاعدہ پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

قادیانیوں کی عالمی سر گرمیاں

قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عطاء الرحمٰن نے ایک تحریک کے ذریعے ایوان کو توجہ دلائی ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے قادیانیوں نے ایک تقریب منعقد کی ہے جس میں تقریب کے منتظمین کے خیال میں اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود تھا۔ مولانا موصوف نے کہا کہ پاکستان کے دستور کے مطابق قادیانی گروہ مسلمان نہیں ہے اس لیے ان کی کسی تقریب کو اسلام کے حوالہ سے منعقد کرنے میں پاکستانی سفارت خانے کا مبینہ تعاون دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

قیامت کب آئے گی؟

۲۱ دسمبر گزر گیا ہے اور قیامت کی پیشگوئی کرنے والوں کی طرف سے حسبِ سابق یہ عذر سامنے آیا ہے کہ کیلنڈر کا حساب صحیح طور پر نہیں لگایا جا سکا۔ گزشتہ سال کیلیفورنیا کے معمر پادری فادر کیمنبگ کی طرف سے ۱۲ مئی ۲۰۱۱ء کو قیامت واقع ہو جانے کی پیشگوئی کی گئی تھی اور اس روز بھی بہت سے لوگ قیامت کے انتظار میں تھے مگر وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا تھا جیسے ۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ء کا دن گزر گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک فرقہ کے موجودہ سربراہ پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے ۲۰۱۲ء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حساب سے درست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی تازہ تصنیف میں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اور اس کے دس لاکھ نسخے شائع کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ رواں سال کو ۲۰۱۲ء کہنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

روہنگیا مسلمانوں کی داستان مظلومیت

میانمار (برما) کی سرحدوں کے اندر اراکان نام کا خطہ جو ایک دور میں مسلمانوں کی خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا ان دنوں بدھ دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہے اور مسلم اکثریت کا یہ صوبہ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد کے باعث مسلمانوں کے وجود سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں کا جرم یہ بتایا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں

رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

اچھے اور برے لوگوں کی علامات

امام بخاریؒ نے ’’الادب المفرد‘‘ میں حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے ایک روایت بیان کی ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے مسلمانوں کی علامات بیان فرمائی ہیں۔ اسماء بنت یزیدؓ انصاریہ خاتون ہیں، صحابیہ ہیں اور ان کا لقب خطیبۃ الانصار بیان کیا جاتاہے۔ بڑی خطیبہ تھیں اور عوتوں میں وعظ کیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن جناب رسول اللہؐ نے فرمایا اَلا اُخبرکم بخیارکم کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

توہین رسالت ؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے

توہین رسالت ؐ پر مبنی بدنام زمانہ حالیہ امریکی فلم کے خلاف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بلاشبہ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جناب نبی اکرم ؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی پوری شدت کے ساتھ قائم ہے اور اس میں خدانخواستہ کمی یا کمزوری کی جو امید عالمی سیکولر لابیوں نے ایک عرصہ سے اپنے ذہنوں میں بسا رکھی ہے اس کا کوئی امکان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

مغربی فلسفہ حیات کی مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ کشمکش

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پنچایت یا فتوے کے ذریعے بندشوں کے نفاذ اور کسی کی نجی آزادی سلب کرنے کے اقدام کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی، ان سے دہلی سے ملحق باغپت کی ایک پنچایت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

برما میں مسلمانوں کی حالت زار

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے شمارہ ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

حقوقِ انسانی اور امریکہ

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ نے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ: ’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت سابق امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ (۲ ملین ڈالر) سے زائد رقم میں نیلام ہو گیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے Emancipation Proclamation نامی اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

قومی اداروں میں بالادستی کی کشمکش

اس وقت ہمارے قومی اداروں میں بالا دستی کی کشمکش کا عجیب سا ماحول بن گیا ہے۔ (۱) پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہے یا سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہے؟ (۲) دستور کی تعبیر و تشریح اور تطبیق میں پارلیمنٹ بالاتر ہے یا سپریم کورٹ کی بیان کردہ تعبیر و تشریح حتمی ہے؟ (۳) فوج اور خفیہ ادارے عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں؟ (۴) اور اس کشمکش میں ایوان صدر کا مقام کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق مصر کی سپریم کورٹ نے مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات غلط قوانین کے تحت ہوئے تھے اور ایک تہائی نمائندے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل نہیں تھے۔ جبکہ کویت کی دستوری عدالت نے بھی ایک فیصلے میں، جسے کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کویت کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر ماضی کی پارلیمنٹ بحال کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

سزائے موت ختم کرنے کی تیاری

روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد ۲۴ مئی ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی، اس ضمن میں مسوّدہ قانون تیاری کے آخری مراحل میں ہے، انہوں نے کہا کہ نئے مجوزہ قانون کے تحت تعزیرات میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی جبکہ حدود قوانین میں بدستور یہ سزا قائم رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۲ء

سرکاری دفاتر میں اردو زبان کی ترویج کا مسئلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے اردو کو دفتری زبان قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے دس روز میں جواب جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل اےکے ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں اب بھی انگریزی کو دفتری زبان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

عالمی رابطہ ادب اسلامی

۱۲ اپریل کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام ’’اخلاقی ادب اور قیام امن کا چیلنج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سیمینار میں شرکت اور اس کی ایک نشست میں بطور مہمان خصوصی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی مسلم ارباب فکر و دانش کا عالمی سطح کا فورم ہے جس کا قیام اپریل ۱۹۸۱ء کے دوران ندوۃ العلماء لکھنو میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک عالمی سیمینار کے موقع پر عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

غریبوں کے قرضوں پر تین گنا سود

روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ اپریل کی خبر کے مطابق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگلے بجٹ میں غریب عوام کے لیے رہائشی سہولیات اور بینکوں سے حاصل کردہ قرضوں پر سود کی معافی کی سکیم کا اعلان کرے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں بے گھر کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۲ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

بلوچستان کی صورتحال اور لمحۂ فکریہ

دفاع پاکستان کونسل نے ۲۷ فروری کو کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور دیگر راہنما مسلسل متحرک ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان پر اے پی سی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں۔ادھر امریکی کانگریس میں بلوچستان کو خودمختاری دیے جانے کی قرارداد پیش ہوئی ہے جس پر پاکستان کے سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

تجارت میں عورت کی نمائش اور تضحیک

روزنامہ جنگ لاہور (۱۳ فروری ۲۰۱۲ء) کی ایک خبر کے مطابق جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عوام کی عدالت‘‘ میں جیوری نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ۶۵ فیصد کی واضح اکثریت کے ساتھ یہ تسلیم کیا ہے کہ اشتہارات میں عورت کی غیر ضروری نمائش خواتین کی تضحیک ہے۔ اس موضوع پر عوام کو رائے دینے کے لیے کہا گیا تھا جس پر اس قرارداد کے حق میں اور اس کے خلاف لوگوں نے رائے دی اور جیوری کے مطابق ۶۵ فیصد عوام نے اس موقف سے اتفاق کیا کہ اشتہارات میں عورت کی نمائش اس کی تضحیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

میمو کمیشن اور منصور اعجاز

ان دنوں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منصور اعجاز لندن سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ سے امداد طلب کی تھی اور پاکستان کے آرمی چیف کو ان کے منصب سے الگ کرانے کی تحریک کی تھی۔ میمو کمیشن کی کاروائی جاری ہے اس لیے ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

ویلنٹائن ڈے کے دو مناظر

۱۴ فروری کو دنیا بھر میں ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ منایا گیا اور پاکستان میں بھی اس عنوان سے محبت کے نام پر بے حیائی کے مختلف مناظر دیکھنے میں آئے جن میں سے ایک منظر روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۵ فروری ۲۰۱۲ء) کے مطابق یہ ہے کہ: ’’جلال پور جٹاں میں دوشیزہ نے ویلنٹائن ڈے پر پھول پیش نہ کرنے پر منگیتر کی بھرے بازار میں پٹائی کر دی۔ جبکہ سمبڑیال میں طالبہ نے پھول پیش کرنے پر دو منچلوں کی چھترول کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۲ء

افغان طالبان کی استقامت کو سلام

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۴ جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک ٹاپ سیکرٹ جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار حاصل کرنے اور دوبارہ سخت مذہبی قوانین نافذ کرنے کے مقصد کو ترک نہیں کیا۔ اس جائزے نے اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے کابل اور شورش پسندوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

قرآن و سنت کی دستوری بالادستی

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۸ جنوری ۲۰۱۲ء) کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محترم جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے کسی قانون کے درمیان حائل ہے تو اس کے لیے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران کہی جس میں درخواست گزارنے استدعا کی ہے کہ قوانین کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے قراردادِ مقاصد کے تحت قرآن و سنت کے احکام کو ملکی قوانین کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

قومی خواتین کمیشن کا قیام

روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا پاکستان میں شرعی قوانین ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ایک اور حربہ کے طور پر برسلز میں قائم مغربی ترجمان انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے وفاقی شرعی عدالت کو ختم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی سی جی نے ’’پاکستان میں اسلامی پارٹیاں‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ تازہ رپورٹ میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)، جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

بے حیائی کا مسلسل فروغ اور ہماری کوتاہیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی ایک مسلمان تنظیم ’’ آل انڈیا مسلم کمیٹی‘‘ نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کی شرمناک حرکات کے باعث اسے مسلم کمیونٹی سے خارج قرار دے کر بھارتی مسلمانوں سے اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کمیٹی کے بیان کے مطابق پاکستانی اداکارہ کی قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر اور ریئلٹی شو میں نکاح کی توہین کا رویہ اسلامی معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

خواتین کے حقوق کا بل

روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق: خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

ایران میں زواج متعہ کا قانونی فروغ

نیویارک سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’غربۃ‘‘ نے ۱۱ نومبر ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ایرانی حکومت نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر قابو پانے کے لیے زواج مؤقت (متعہ) کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے اور عام شاہراہوں پر اس مقصد کے لیے مراکز قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق ان مراکز کو ’’بیوت العفاف‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ غیر رسمی جنسی تعلقات کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ’’زواج مؤقت‘‘ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۱ء

یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان

نیویارک سے اردو میں شائع ہونے والے جریدہ ہفت روزہ ’’ایشیا ٹربیون‘‘ کے ۲۴ نومبر کے شمارہ میں خبر شائع ہوئی ہے کہ: ’’سوئیٹزرلینڈ میں مساجد اور ان کے میناروں کے خلاف مہم چلانے والے معروف سیاستدان نے قبول اسلام کے بعد اب سوئیٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس کے مینار سوئیٹزرلینڈ میں واقع کسی بھی مسجد سے بلند ہوں گے۔ سوئس پیپلز پارٹی ایس وی پی سے وابستہ ڈینئیل اسٹریج کی جانب سے قبول اسلام پر مقامی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کے خلاف مغربی حکمرانوں کی مہم

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسٹر جارج ڈبلیو بش کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر اتحادی فوجوں کی لشکر کشی کا ہمیشہ دفاع کیا ہے۔ مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ عراق پر فوج کشی ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کے جس الزام میں کی گئی تھی، وہ غلط ثابت ہوا ہے اور عراق میں کہیں بھی اس قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کا سراغ نہیں ملا، تو مسٹر ٹونی بلیئر نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ اس کے باوجود عراق پر ہمارا حملہ ضروری تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۱ء

شادی کے مقدس بندھن کا مذاق نہ اڑایا جائے

چند ماہ قبل جس روز اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں پاکستانی ہم جنس پرستوں کا اجتماع ہوا، اسی روز نیویارک میں سینکڑوں ہم جنس مرد جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ شادی کے قانونی بندھن میں بندھے تھے اور نیویارک کے میئر نے اس تقریب کی صدارت کی تھی۔ جبکہ مرد اور عورت کی فطری شادیوں کی صورتحال یہ ہے کہ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۵ ستمبر کو یہ خبر شائع کی ہے: ’’لاس اینجلس (اے پی پی) انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے بچوں نے ان پر شادی کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۱ء

ماڈل دینی مدرسوں کا حشر

جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار کا ماحول تبدیل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر متوازی ماڈل دینی مدارس کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور کروڑوں روپے خرچ کر کے چند ماڈل دینی مدارس تعمیر کیے گئے تھے جن میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے سہولتوں اور مفادات کے پرکشش اعلانات بھی ہوئے تھے۔ مگر ان ماڈل مدرسوں کا کیا حشر ہوا؟ اس کی جھلک روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۱ء

دیوبندیت! ایک عالمی فکری تحریک

روزنامہ اسلام لاہور (۱۰ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’عالمگیر دیوبندیت اور تبلیغی جماعت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا، معروف جرمن اسکالر اور کراس روڈ ایشیا پروجیکٹ (زنیٹرم ماڈرنر اورینٹ) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈائرچ ریٹز نے سیمینار کے موضوع کے حوالہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ممتاز احمد، نائب صدر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی صاحبزادہ ساجد الرحمن سمیت اساتذہ، انتظامی افسران، ملازمین اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم

روزنامہ پاکستان لاہور (۱۹ ستمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستان کی ۹۷ ارب ڈالر کی رقم پڑی ہے، پاکستانی غریب ہیں لیکن پاکستان غریب نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ڈیپازٹ ہیں۔ اگر اس رقم کو استعمال کیا جائے تو پاکستان جیسا ملک اس رقم سے ۳۰ سال تک ٹیکس فری بجٹ بنا سکتا ہے، تمام پاکستانیوں کو چھ کروڑ ملازمتیں دی جا سکتی ہیں، کسی بھی دیہات سے اسلام آباد تک دو رویہ سڑکیں تعمیر کی جا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت

گزشتہ روز (۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء ) گوجرانوالہ کے مختلف طبقات کے سرکردہ لوگوں نے کرپشن کے خلاف ایک ’’واک‘‘ کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ سیاستدان حضرات، تاجر راہنماؤں، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان، علماء کرام و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، سرکاری افسران، صحافیوں، اساتذہ، خواتین، طلبہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس واک کا اہتمام گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے ڈی آئی جی پولیس (ویلفیئر) ذوالفقار احمد چیمہ کی سرکردگی میں کیا اور یہ حضرات پیدل مارچ کرتے ہوئے جنرل بس اسٹینڈ سے ماڈل ٹاؤن کی مکرم مسجد تک گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۱ء

انسانی اسمگلنگ اور غلامی کی نئی شکلیں

مغربی ملکوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرہ سے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور انسان کو وہ عزت فراہم کر دی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ لیکن یہ دعویٰ صرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی فائلوں میں درج ہے، جبکہ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ لاکھوں انسانوں کو آج بھی عالمی سطح کے منظم ادارے ورغلا کر اور دوسرے ملکوں میں بہتر روزگار کی فراہمی کی لالچ دے کر تکنیکی طور پر غلام بنا لیتے ہیں اور پھر ان سے غلاموں کی طرح ہی کام لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

اقوام متحدہ کی طرف سے ’’جنوبی سوڈان‘‘ کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر رکنیت دینے کے فیصلے کے ساتھ ہی سوڈان کی پہلی تقسیم مکمل ہو گئی ہے اور دوسری تقسیم کی طرف پیشرفت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوڈان جو افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک تھا نسلی اعتبار سے تین اکائیوں پر مشتمل ہے: (۱) شمالی سوڈان، جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ (۲) جنوبی سوڈان جہاں مسیحیوں اور روح پرست افریقی قبائل کی اکثریت ہے۔ (۳) اور مغربی سوڈان جہاں افریقی مسلمان آباد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۱ء

موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۲۸ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے افسر رثم سٹائز نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور ان آفات کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۱ء

امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کی تقریب

۲۶ جون ۲۰۱۱ء کو اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی پاکستانی ہم جنس پرستوں کی تقریب کے حوالے سے ملک کے مذہبی حلقوں کا احتجاج جاری ہے اور اس سلسلہ میں عوامی مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی بیانات کے ذریعہ بھی پاکستانی عوام کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن امریکی سفارت خانے یا امریکی حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں کسی ندامت یا افسوس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

نفاذ شریعت کے لیے مسیحی مصری راہنما کا مطالبہ

ہیوسٹن (امریکہ) سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’اعداد‘‘ نے ۲۹ جون ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ عرب جمہوریہ مصر میں حال ہی میں ابھر نے والی عوامی تحریک ’’الحریۃ والعدالۃ‘‘ کے ایک مسیحی راہنما ناجی نجیب نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نفاذِ شریعت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ’’لا خوف من تطبیق الحدود الاسلامیۃ فاذا کان السارق جزاءہ ان تقطع یدہ فلتقطع والقاتل یقتل‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

پاکستان میں کرپشن کی حکمرانی

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ (ہیوسٹن، امریکہ) نے ۱۴ جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں یہ خبر شائع کی ہے کہ عالمی ادارہ ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ نے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران کرپشن میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس سے قومی خزانہ کو تین ہزار ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حکومتی اداروں میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور وزراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عوام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۵ جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق انٹرنیشنل سروے ایجنسی ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ نے حال ہی میں اسلامی نظام کے بارے میں پاکستانی عوام کے خیالات و جذبات معلوم کرنے کے لیے سروے کا اہتمام کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ۶۷ فیصد عوام نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کی ہے، ۲۰ فیصد لوگوں نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ ۱۳ فیصد کی رائے یہ ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیر جناب شفیق احمد نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب اسلام رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے الگ ہو کر مشرقی پاکستان کے عوام نے جب بنگلہ دیش کے نام پر اپنی الگ اور آزاد ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اسے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دی گئی تھی اور بنگلہ دیش کے قائد شیخ مجیب الرحمن مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ یہ نئی ریاست سیکولر بنیادوں پر اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گی۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۱ء

شریعت سے ہم آہنگ معاشی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع شدہ ۲۴ جون ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب یاسمین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری خطرات سے نمٹنے کے لیے شریعت سے ہم آہنگ ٹھوس نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے اسلامی بینک اور ان کے صارفین دونوں حقیقی کاروباری خطرات کم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ گزشتہ روز کراچی میں ’’اسلامی مالیات میں پیش بندی اور پیش بندی کا معاہدہ‘‘ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۱ء

سائنسی ایجادات، نعمت یا مصیبت؟

بھارتی پنجاب میں آئینی طور پر قائم ’’خواتین کمیشن‘‘ کی خاتون چیئر پرسن گورودیوکور سنگھ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ: ’’تقریباً نوے فیصد نئے شادی شدہ مرد و عورت صرف اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ دلہن فون پر کسی دوسرے مرد سے بات کر رہی ہے جبکہ بیشتر معاملات میں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سسرالی معاملات میں اپنے والدین سے مشورہ کر رہی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

قاری محمد عبد اللہؒ کی وفات

گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحبؒ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا، ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں سے تھے اور مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

قومی خود مختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا مگر شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن ‘‘نے اس سوالیہ پہلو کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرمناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آرہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کی عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

خلافت و امامت، اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ہر جمعرات کو ایک تعلیمی گھنٹہ فکری نوعیت کے مسائل اور حالات حاضرہ کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس سال پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران مختلف ادیان کے تعارف اور ان کے بارے میں ضروری معلومات پر گفتگو ہوتی رہی، جبکہ شش ماہی امتحان کے بعد سالانہ امتحان تک انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان جاری فکری تہذیبی کشمکش سے متعلقہ چند امور پر گفتگو ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۱ء

اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کا افسوسناک طرزعمل

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی ۱۶ مارچ ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر نصر فرید الواصل نے بتایا ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے ان پر اسرائیل کو قدرتی گیس کی فروخت کے حق میں فتویٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ایک عربی ٹی وی ’’الحیاۃ ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق مصری مفتی اعظم نے کہا ہے کہ حسنی مبارک کی طرف سے ان پر کئی مرتبہ یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ قاہرہ اور تل ابیب کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کے حق میں مہر تصدیق ثبت کریں اور اسلام کی رو سے انہیں جائز قرار دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی

امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کی مذموم کاروائی کے بعد پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں ہر طبقہ کے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور امریکی پادری کی مذمت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جبکہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس ملعون پادری کے خلاف کاروائی کرے کیونکہ اس نے یہ شرمناک حرکت کر کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکافرت کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

چند روز قبل گوجرانوالہ میں ریل بازار کی پولیس چوکی میں علی الصبح بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام و دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلیل ٹاؤن میں واقع دارالعلوم گوجرانوالہ کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش چار گھنٹے جاری رہا، اس دوران طلبہ کے کمروں اور اساتذہ کی رہائش گاہوں کی لیڈی پولیس اور سراغرساں کتوں کے ذریعہ تفصیلی تلاشی کی گئی۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری

وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جو اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور آئندہ بیس سالوں میں دو ارب بیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جو مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالہ سے مسلمانوں کے لیے خوش کن ہے مغربی ممالک کے لیے اسی درجہ میں قابل تشویش بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

مبینہ دہشت گردی کے اصل اسباب

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ فروری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے جاپان کے تین روزہ سرکاری دورے کے موقع پر جاپانی سرمایہ کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور عالمی امن کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘ جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں کو توجہ دلانے کا مسئلہ ہے یہ ملکی معیشت کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے حکمرانوں کی کوششوں کو ہم سراہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۱ء

سوات میں دارالقضاء کا قیام

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سوات میں دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی سطح پر دار القضاء کے قیام کا مطالبہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے کیا تھا اور پھر تحریک طالبان اسلام کے مولوی فضل اللہ صاحب نے اس کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی نے ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا - - - مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر متنوع قسم کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، اس قتل کو افسوسناک قرار دینے والے بھی موجود ہیں اور اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، مگر یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ نے صورتحال بالکل بدل ڈالی ہے اور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پالیسیوں اور اندازوں میں ہلچل کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

پاپائے روم کا بے جا غصہ و اضطراب

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر پاکستان میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔‘‘ جہاں تک قانون کے غلط طور پر استعمال ہونے کا تعلق ہے ہم اپنے مختلف مضامین میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ یہ محض بہانہ ہے، اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کا تعلق صرف اس قانون سے نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سے قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

پنجاب میں مسجد مکتب اسکیم کا مکمل خاتمہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رانا محمد اقبال خان نے مسجد مکتب اسکیم کی بندش پر وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ہدایت کی ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی وارث کلو، سعید اکبر نوانی، علی اصغر منڈا اور دیگر ارکان نے اسمبلی میں اس بات پر احتجاج کیا کہ مسجد مکتب سکیم کو صوبائی محکمہ تعلیم نے بند کر دیا ہے جو غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۱ء

تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا پروگرام

۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ؐکے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور راہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کا اس قدر بھرپور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا مرغوب الرحمنؒ

جمعرات کا دن اسلام آباد آنے جانے میں گزرا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی میں ظہر کے بعد اور پھر مغرب کے بعد دو لیکچر تھے، صبح نصرۃ العلوم میں سبق پڑھا کر روانہ ہوا اور رات بارہ بجے کے لگ بھگ واپسی ہوئی۔ اس دوران اخبارات نہ دیکھ سکا، جمعہ کے روز صبح موبائل فون چیک کیا تو اس میں ایک میسج کے ذریعے کسی دوست نے دار العلوم دیوبند (بھارت) کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب کی وفات کی خبر دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

فرانس میں سڑکوں پر نماز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے بعد مساجد کے باہر سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی لگانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ سڑکوں پر نماز کی ادائیگی قابل قبول نہیں اور مساجد بھر جانے کے بعد سڑکوں پر نماز کے لیے صف بندی فرانس کی سیکولر روایات کے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۱ء

سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم

روزنامہ پاکستان لاہور ۹ نومبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اسپین کی حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور روایتی خاندانی نظام کی حمایت کرتے ہوئے اسپین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی قانونی اجازت دینے کے قوانین پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

سوڈان میں مسیحی ریاست کا منصوبہ

انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے الگ کر کے ایک عیسائی ریاست قائم کرنے کے عمل کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ سوڈان میں دارفور کے جنوبی علاقہ کو سوڈان سے الگ کر کے ایک الگ مسیحی ریاست کی شکل دینے کے منصوبہ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ سوڈان رقبہ کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فیصد بتایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

یورپ کو اصل خطرہ دہشت گردی سے یا بنیاد پرستی سے؟

سہ روزہ دعوت دہلی کے یکم نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر ایچ اے ہیلر نے جو ایک برطانوی یونیورسٹی میں نسلی تعلقات کے تحقیقی مرکز کے سر براہ ہیں ’’یورپ کے مسلمان‘‘ نامی اپنی کتاب میں کہا ہے کہ:
’’یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بحث سکیورٹی کے مسائل سے شروع ہوئی تھی اور اس کا تناظر القاعدہ جیسے گروپوں کا طرز عمل تھا۔ یورپی باشندوں کو خوف تھا کہ انتہاپسند مسلم گروپوں کی پرتشدد سر گرمیاں یورپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم

عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی ناروا پشت پناہی

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۹ ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ نے چناب نگر میں قادیانیوں کے دو کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے کہا ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے سے انکار کر دیا ہے۔انکار کے حوالہ سے محکمہ نے جو تفصیل جاری کی ہے اس کے مطابق گورنمنٹ ٹی آئی کالج اور جامعہ نصرت کالج چناب نگر قادیانی جماعت نے ۱۹۷۲ء میں قائم کیے تھے، اس وقت کی حکومت نے انہیں سرکاری کنٹرول میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول

گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

جہاد، دہشت گردی اور جد و جہد آزادی میں فرق

آزاد کشمیر کے حالیہ سفر میں مجھے ۲۲ ستمبر کو باغ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ساتھ گفتگو کا موقع بھی ملا۔ میری گفتگو کے بعد ایک وکیل صاحب نے دلچسپ سوال کیا کہ عام طور پر تاثر یہ ہے کہ علماء دیوبند عمومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتے اور دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ کی حمایت نہیں کر رہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

جعلی ڈگریاں، معاشرتی ناسور

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی پڑتال اور جعلی ڈگریوں کی نشاندہی کا سلسلہ جاری ہے جس پر ملک کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ جعلی ڈگریوں کا یہ معاملہ صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر قومی شعبوں میں بھی اس کے اثرات نظر آرہے ہیں اور مختلف اداروں میں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازموں کی برخواستگی کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

سعودی عرب میں نکاح صغیرہ کی ممانعت

روزنامہ اردو نیوز جدہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کی وزارت انصاف شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر ۱۷ برس مقرر کرنے والی ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ المدینہ اخبار نے بتایا ہے کہ عدالتی مشیر ڈاکٹر صالح اللحیدان کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف اس قرارداد کا جائزہ لے رہی ہے، جلد ہی یہ قرار داد جاری کر دی جائے گی، اس کے بموجب ۱۷ برس سے کم عمر کی لڑکی کو شادی کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

طلاق، ایک متعدی بیماری

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۷ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق طبی اور نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں طلاق ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے جس کی زد میں دوست احباب، خاندان اور اپنے پرائے سب آرہے ہیں۔ اس سماجی بیماری کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے بعض خطوں میں طلاق کی شرح ۷۵ فی صد تک پہنچ چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

عالم اسلام کے تکفیری گروہ ۔ خوارج کی نشاۃ ثانیہ

جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز نے ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت تعلیم و تربیت نے سعودی اسکولوں میں انتہا پسندانہ افکار پھیلانے پر دو ہزار سے زائد اساتذہ کو برطرف کر دیا ہے۔ مشیر معاون وزیر داخلہ برائے فکری سلامتی ڈاکٹر عبد الرحمن الہدیق نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اساتذہ اسباق میں نصاب تعلیم کے اہداف و مقاصد کو پس پشت ڈال کر انتہا پسندانہ افکار اور تشدد پر مبنی خیالات پھیلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۰ء

انسانوں کی تجارت اور اقوام متحدہ

روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ۱۶ جون ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ انسانوں کی تجارت جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے اور یہ لعنت دنیا کے ہر علاقے میں موجود ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محنت، مشقت اور جنسی استحصال کے لیے مردوں عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ اور ان کی خرید و فروخت، مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے پیسہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

ختم نبوت محاذ کی تازہ صورتحال اور دینی حلقوں کی ذمہ داری

لاہور میں قادیانیوں کے دو مذہبی مراکز پر مسلح حملوں کے بعد جس طرح قومی اخبارات اور میڈیا کے دیگر ذرائع میں قادیانیوں کے کفر و اسلام اور ایک اسلامی ریاست میں ان کے معاشرتی اسٹیٹس کے مسئلہ کو ازسرنو زیر بحث لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ ملک بھر کے دینی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جہاں تک قادیانی مراکز پر مسلح حملوں اور ان کے نتیجے میں ایک سو کے لگ بھگ شہریوں کے جاں بحق ہونے کا مسئلہ ہے ملک کے تمام سیاسی و دینی حلقوں نے اس کی مذمت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

قرآن کریم کے احکام اور شہزادہ چارلس

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۸ جون ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق نیویارک میں ماحولیات کے حوالہ سے حال ہی منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے کہا ہے کہ دنیا کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے قرآنی احکام و قوانین پر عمل ضروری ہے انہوں نے اس موقع پر کہا ہے کہ اگر ہم دنیا کو ماحولیات کے حوالہ سے کسی بڑی تباہی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قرآن کریم کے قوانین پر عمل کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

توہین رسالتؐ ۔ تصویر کے دو رُخ

مغربی دنیا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی اور توہین پر مبنی خاکوں کی دوبارہ اور وسیع پیمانے پر اشاعت کے سلسلہ نے عالم اسلام کے مذہبی حلقوں میں ایک بار پھر ہیجان پیدا کر دیا ہے اور احتجاجی بیانات، مظاہروں اور دیگر ذرائع سے غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

دیوبندی مدارس اور دہشت گردی

روزنامہ جنگ ملتان کی خبر کے مطابق امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی میں دہشت گردی سے متعلقہ سب کمیٹی کے رکن ایڈورکسے نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دیوبندی مدارس کو بند کرے کیونکہ وہ گریجویٹ دہشت گردوں کی کھیپ پیدا کر رہے ہیں اور امریکہ اور بھارت جیسے جمہوری ملکوں پر حملوں کے لیے دہشت گرد تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ۸۰۰ دیوبندی مدارس ہیں جن کا جہاد پر فوکس ہے اور یہ مدارس نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی تعلیم اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

صدر اور وزیر اعظم کا عدالتی استثنا

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۱ مئی ۲۰۱۰ء کی ایک خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں صدر، وزیر اعظم اور گورنروں کو عدالتی کاروائی سے مستثنٰی قرار دینے کو غیر اسلامی قرار دینے اور قرآن و سنت سے متصادم دیگر قوانین کو کالعدم قرار دینے سے متعلق انجمن اصلاح معاشرہ کے امیر حاجی گل احمد کی آئینی درخواست کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس زاہد حامد پر مشتمل بنچ نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۰ء

موجودہ ملکی و علاقائی صورت حال میں علماء دیوبند کا’’مشترکہ موقف‘‘

اجتماع اور مشاورت میں شریک ہونے والے حضرات میں صدر وفاق المدارس و صدر اجلاس حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا عبد المجید آف کہروڑ پکا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبید اللہ اشرفی، مولانا فضل الرحیم، مولانا عبد الرحمن اشرفی، مولانا سید عبد المجید ندیم، مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اللہ وسایا، مولانا اشرف علی، مولانا عبد السلام، مولانا قاضی ارشد الحسینی، حافظ حسین احمد، مولانا پیر عزیز ارحمن ہزاروی ،مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی، مولانا محمد عبد اللہ آف بھکر، مولانا انوار الحق حقانی، مفتی کفایت اللہ ہزاروی اور مولانا سعید یوسف خان بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

جیلوں میں بے سہارا لوگ

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۱ فروری ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق گجرات کے ڈی سی او سردار اکرم جاوید نے ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ بعض بے سہارا قیدی صرف اس لیے جیل میں بند ہیں کہ ان کے مقدمات میں ان کی مصالحت دوسرے فریق سے ہو چکی ہے اور دوسرا فریق ان سے قصاص لینے کی بجائے دیت پر راضی ہو چکا ہے مگر ان کے پاس دیت ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے اور وہ ادائیگی نہ کر سکنے کی وجہ سے برسوں سے جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

فیصل آباد میں فرقہ وارانہ دہشت گردی

اس سال بارہ ربیع الاول کو فیصل آباد میں جس افسوسناک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس نے ملک بھر کے سنجیدہ مذہبی اور قومی حلقوں کو پریشان اور مضطرب کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی صاحب شعور اس کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

مولانا شمس الحق مشتاقؒ

شہدائے کراچی کی تازہ کھیپ پر تعزیت اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے میں اپنے ایک اور ساتھی کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ اچھڑیاں ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے مولانا شمس الحق مشتاق ہیں جن کا گزشتہ شب انتقال ہو گیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی زندگی کا بھی ایک متحرک دور کراچی میں گزرا ہے اور وہ کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں جمعیت علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

پیر صبغۃ اللہ شاہ راشدی شہیدؒ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۱ مارچ ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق حکومت سندھ نے ۲۰ مارچ کو سندھ کے عظیم مجاہد حضرت پیر صبغۃ اللہ راشدی ؒ کے یوم وفات کے موقع پر سرکاری تعطیل کی ہے اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یوم وفات یا اس قسم کے دیگر ایام کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے البتہ اس کے ذریعے آج کے دور میں کسی شخصیت، واقعہ یا مسئلہ کے ساتھ عوامی وابستگی اور جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

افغانستان کی صورتحال اور سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا تجزیہ

افغانستان کی صورتحال کے بارے میں لندن کانفرنس کے موقع پر طالبان سے مذاکرات پر زور دینے کے بعد افغانستان میں اتحادی فوجوں نے دباؤ بڑھا دیا ہے اور طالبان راہنماؤں کی گرفتاریوں کی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ لندن کانفرنس کا مقصد خود برطانوی حکومت کے نمائندے نے یہ بتایا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا فیصلہ طالبان کی قوت کو تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں طالبان کی ۸۰ فیصد اکثریت جنگ کی حامی نہیں ہے اور انہیں الگ کرنے کے لیے مذاکرات کا جال بچھایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

امریکہ کی ’’ٹی پارٹی‘‘

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ مسز سارہ پالن نے، جو امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں نائب صدر کے منصب کے لیے امید وار تھیں، امریکہ کی پرانی ’’ٹی پارٹی ‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ امریکی معاشرہ کو ماضی کی قدروں کی طرف واپس جانے کا پیغام دے رہی ہیں۔ ’’ٹی پارٹی ‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف امریکی عوام کی جدوجہد آزادی کا سب سے پہلا فورم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

اچھی حکمرانی، مگر کیسے؟

۹ فروری ۲۰۱۰ء کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے معزز جج سردار محمد رضا خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا فریضہ ہے، اس غلط نظریہ کے باعث دوسرے سبھی متعلقہ اداروں نے خود کو ہلکا پھلکا سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ’’اچھی حکمرانی‘‘ پر توجہ ہی نہیں دی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

اسلامی شریعت ایک مغربی دانشور کی نظر میں

سہ روزہ دعوت دہلی نے ۴ دسمبر ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک کے دانشوروں میں اسلامی شریعت کی ضرورت و افادیت پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے قلم سے اسلامی شریعت کی خوبیاں مسلسل اجاگر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سر براہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کے اس لیکچر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے اس حق کی حمایت کی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

مغربی ممالک میں مساجد کی تعمیر پر منفی ردعمل کے اسباب

لندن میں برطانیہ کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کے پروگرام کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور لندن کی نیو ہیم کونسل نے کہا ہے کہ مسجد کی انتظامیہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر منصوبے کا ماسٹر پلان جمع نہیں کرایا اور یہ مدت گزشتہ ماہ ختم ہو گئی ہے، جبکہ روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق علاقہ کے اڑتالیس ہزار افراد نے مسجد کی تعمیر روکنے کے لیے متعلقہ محکموں میں درخواست جمع کرا رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل

عدالت عظمیٰ نے ’’قومی مفاہمت آرڈیننس‘‘ (NRO) کو دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر ختم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا ہے اس پر ہر محبت وطن شہری خوش ہے اور اب کسی حد تک یہ توقع نظر آنے لگی ہے کہ قومی سیاست میں کرپشن، بددیانتی اور ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے افسوسناک رجحانات میں کمی آئے گی اور ملک میں صحت مند سیاست کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

خودکش حملے اور حکومتی پالیسیاں

ان دنوں خودکش حملوں کے خلاف علماء کرام کے اجتماعی فتویٰ کے لیے سر کاری حلقوں کی طرف سے کوششیں جاری ہیں، وفاقی وزیر داخلہ کراچی کا دورہ کر چکے ہیں اور وفاقی وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں سر کردہ علماء کرام کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے مگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۹ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد شہباز شریف نے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی اجلاس لاہور میں طلب کیا تھا جو دراصل محرم الحرام کے دوران امن و امان سے متعلقہ مسائل و امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

قرضوں کی معافی کو غیر قانونی قرار دینے کا تاریخی فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۹ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکوں سے حاصل کی گئی رقوم کی معافی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ ۱۹۷۱ء سے اب تک بینکوں سے معاف کرائے جانے والے قرضوں کی فہرست پیش کرے اور ان کی واپسی کے لیے نظام کار وضع کیا جائے۔ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے، جس میں جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

دیوبندی جماعتوں کی خصوصی توجہ کے لیے

۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کو لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پر دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک درجن سے زائد جماعتوں کی صوبائی قیادتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد موجودہ ملکی صورتحال اور اس کے تناظر میں علماء دیوبند کے خلاف پروپیگنڈے میں مسلسل اضافے کا جائزہ لینا اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی سطح پر ایک مجلس مشاورت قائم کی جائے جو باہمی مشاورت اور اشتراک عمل میں اضافہ کے لیے محنت کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

فوجوں کے ذریعے دل جیتنے کا فارمولا

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۶ نومبر ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق افغانستان میں برطانیہ کے سینئر کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نک پارکر نے، جو افغانستان میں نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر بھی ہیں، ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے بہتر جنگی ساز و سامان کی نہیں بلکہ لوگوں کے دل اور ذہن کو جیتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے مزید اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اور ہماری مجموعی صورتحال

روزنامہ پاکستان لاہور کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے اور ان کی مجموعی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے جس میں ساٹھ فیصد ایشیائی ملکوں میں رہتے ہیں۔ ’’فورم آف ریلیجین اینڈ پبلک لائف‘‘ کی رپورٹ تیار کرنے میں تین سال صرف ہوئے، اس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کل تعداد میں سے بیس فیصد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ روس میں ان کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

دینی مدارس پر چھاپوں کا نیا راؤنڈ

جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور دیگر متعدد مدارس پر چھاپوں کے بعد دینی مدارس کے خلاف کاروائی کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مدارس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں طلبہ کو مبینہ دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور حکمرانوں کے بقول دہشت گرد ان مدارس کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل جنوبی پنجاب کے بہت سے مدارس پر چھاپے مارے گئے تھے لیکن ان چھاپوں سے کچھ حاصل نہ ہوا اور اساتذہ و طلبہ کی تفصیلی تلاشیوں کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ ان غریبوں کے پاس کتابوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

پلاٹوں کی سیاست: صوبائی حکومت اور حزب اختلاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صوبائی اسمبلی میں شیخ علاء الدین ایم پی اے کی طرف سے پیش کی جانے والے اس تجویز کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے مسترد کر دیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی طرح صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی لاہور میں حکومت کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

توہین رسالتؐ پر سزا کا قانون پھر موضوع بحث

توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ ایک بار پھر قومی سیاست میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سر براہ الطاف حسین نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں قادیانیوں کو مظلوم قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

خونی انقلاب، معاشی انصاف اور جعلی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ ستمبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایوان کارکنان میں یوم پاکستان کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خونی انقلاب ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اگر حکمرانوں نے عوام کے لیے روٹی، تعلیم، معاشی و معاشرتی انصاف کا انتظام نہ کیا تو عوام اس جعلی نظام کو زمین بوس کر دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

صدر قذافی کا جنرل اسمبلی سے خطاب

لیبیا کے صدر معمر القذافی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جو ان کے چالیس سالہ دور اقتدار میں اس عالمی فورم پر ان کا پہلا خطاب تھا۔ انہوں نے مغربی ملکوں کی پالیسیوں اور اقوام متحدہ کے کردار پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرفداری کر رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر ناجائز فوج کشی کی ہے، انہوں نے سوال کیا کہ اگر وٹیکن میں مذہبی ریاست ہو سکتی ہے تو طالبان کی مذہبی حکومت کو کیوں برداشت نہیں کیا جا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

اربعین ولی اللّٰہی کا درس

دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مغربی دنیا

ہفت روزہ اردو ٹائمز نیویارک کے ۱۳ اگست ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈر لیبرمین نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے امن مذاکرات کے لیے فلسطینی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدہ محض ایک تخیل ہے اور اس سلسلہ میں اسرائیلی پالیسی حقائق پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ البتہ امن مذاکرات سے فلسطین کی اقتصادی اور سیکیورٹی صورت میں بہتری آ سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں مسلمانوں کی سر گرمیاں

میں اٹھارہ جولائی سے امریکہ میں ہوں اور تین ستمبر تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ امتحان اور جلسہ دستار بندی کے بعد امریکہ آجاتا ہوں اور کم و بیش ایک ’’چلہ‘‘ یہاں گزر جاتا ہے، مختلف مقامات پر دینی مدارس اور مساجد میں حاضری ہوتی ہے اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو کا موقع بھی مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

مغرب میں قبولِ اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان

بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ برٹ کے بیٹے جوناتھن برٹ نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا اور اب وہ یحییٰ برٹ کے نام سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں۔چند سال قبل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے یحییٰ برٹ کے اعزاز میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا محمد عیسٰی منصوری اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی، اس نشست میں یحییٰ برٹ نے اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد کے تاثرات بیان کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

رعایا پروری اور حضرت عمر بن الخطابؓ

روزنامہ امت کراچی ۲ جولائی ۲۰۰۹ء کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ریاست میں بسنے والوں کے مسائل کی ذمہ داری اپنے اوپر لی تھی اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے، اب اگر کوئی قیدی مر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ آج عہدوں پر براجمان تمام ذمہ داران کو حضرت عمرؓ کے اس ارشاد سے راہنمائی لے کر ریاست میں بسنے والوں کی تکالیف اور مسائل کو حل کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

گزشتہ دنوں ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا اور جامعہ دار العلوم کورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کی مختلف علمی نشستوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف دینی اداروں کی طرف سے سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے بڑے دینی مدارس اپنے مظلوم اور متاثر بھائیوں کی امداد اور بحالی کے لیے پوری دلچسپی کے ساتھ سر گرم عمل ہیں، مجھے بتایا گیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، آبادی کا وسیع پیمانے پر انخلا ایک مستقل مسئلہ ہے اور ہزاروں خاندان کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں پر امن شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بظاہر پاک فوج اس خطہ میں حکومتی رٹ قائم کرنے اور مبینہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے یہ وسیع فوجی آپریشن کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

قاہرہ میں صدر اوباما کا خطاب

امریکہ کے صدر جناب باراک حسین اوباما نے ۴ جون کو قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے خصوصی خطاب کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے اور وہ مسلمانوں اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے منافرت کی وہ فضا ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسلم دنیا میں امریکہ کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ صدر اوباما نے اس سے قبل استنبول میں بھی اسی نوعیت کا خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

امام اہلسنتؒ کی رحلت

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کو ابھی ایک سال ہی گزرا ہے کہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ بھی ہم سے رخصت ہو گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۵ مئی کو صبح ایک بجے کے لگ بھگ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی، اس وقت قریب میں کوئی ڈاکٹر صاحب میسر نہ آئے، چند لمحے تکلیف میں رہے، ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹروں کی تلاش میں رہے۔ والد محترم کے اصل معالج ڈاکٹر فضل الرحمان کو اطلاع کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۹ء

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی

شیخ صفدرؒ بھی ہم سے جدا ہو گئے۔ علم و دین پر وہ آخر فدا ہو گئے۔ علم تھا ان کا سب سے بڑا مشغلہ۔ ذوق و نسبت میں اس کی فنا ہو گئے۔ وہ جو توحید و سنت کے منّاد تھے۔ شرک و بدعت پہ رب کی قضا ہو گئے۔ خواب میں ملنے آئے مسیح ناصریؐ۔ شرف ان کو یہ رب سے عطا ہو گئے۔ بو حنیفہؒ سے ان کو عقیدت رہی۔ اور بخاریؒ کے فن میں سَوا ہو گئے۔ شیخ مدنی ؒ سے پایا لقب صفدری۔ اور اس کی علمی نہج کی ادا ہو گئے۔ میانوالی کا اک بطل توحید تھا۔ جس کی صحبت میں وہ با صفا ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۹ء

سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ’’قومی ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن میں نے کانفرنس سے خطاب کی دعوت دینے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ کانفرنس کے موضوع پر بہت سے مقررین آپ سے خطاب کریں گے اس لیے میں اپنے معمول کے خلاف کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر ملک بھر سے آنے والے علماء اور دینی کارکنوں کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

قومی ختم نبوت کانفرنس اور اس کے اہداف

۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کے فرزند جانشین حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زیدمجدہم نے کی اور مختلف مکاتِب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکنوں اور عوام نے شریک ہو کر کانفرنس کے موضوع اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

مذاہب اور مذہبی اکابر کی اہانت کا حق

سہ روزہ دعوت دہلی کی یکم اپریل ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’جنیوا میں تقریباً ۲۰۰ افراد اور میڈیا گروپوں سے وابستہ دانشوروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے کہا ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دے جس میں انہوں نے عالمی پیمانے پر ایسا قانون تیار کرنے کی مانگ کی ہے جس کے ذریعے مذہبی رہبروں اور مختلف ادیان کی اہانت سے لوگوں کو روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

مولانا صوفی محمد کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کے معاہدہ کے تحت سوات اور ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے اور عدالتوں میں مختلف مقامات کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ مولانا صوفی محمد خود ان فیصلوں اور مقدمات کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں

ربیع الاول کے وسطی عشرہ میں مجھے چار پانچ روز کے لیے ہانگ کانگ جانے کا موقع ملا ۔ ہانگ کانگ مشرق بعید کا ایک اہم جزیرہ ہے جو کم و بیش ایک صدی تک برطانیہ کے زیرنگیں رہا اور ۱۹۹۷ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اسے برطانیہ سے واپس لیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب پوری دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمٰی کی سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

عالم اسلام کے خیالات اور امریکہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی وزیر خارجہ محترمہ ہیلری کلنٹن گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے دورے پر پہنچیں تو انڈونیشیا کے کئی شہروں میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں عوام نے امریکہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا، بلکہ انڈونیشیا کی ایک بڑی مسلمان تنظیم محمدیہ کے سر براہ جناب شمس الدین نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دعوت میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے امریکہ کو انڈونیشیا عوام کے جذبات سے باخبر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی

روزنامہ پاکستان لاہور کی خبر کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتیں بحال کر دی گئی ہیں، اور بلوچستان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر جناب لشکری رئیسانی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دیوانی کیسوں کے متعلق جلد اقدامات اٹھانے کے خواہاں ہیں اس لیے عوام کی خواہش پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتوں کو بحال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس سے زیادہ کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان شرعی عدالتوں کی ہیئت اور طریق کار کیا ہے اس کے بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی

روزنامہ پاکستان ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی ربی موردافے الیاہو نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کا قتل عام جائز ہے اور ایسا اقدام کرنے والوں کو مجرم تصور نہ کیا جائے بلکہ اگر دس لاکھ فلسطینی بھی قتل ہو جائیں تو پرواہ نہ کی جائے۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کاروائی ہو رہی ہے وہ یہودی ربی کے بقول یہودیوں کی ان تعلیمات کے مطابق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دشمنوں کو اجتماعی سزا دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے قومی اسمبلی کی اسپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے نام ایک خط میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پہلے پارلیمنٹ میں مسلسل کئی روز تک اس مسئلہ پر جو مباحثہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

بارک اوباما کو امریکی سینیٹر کا حقیقت پسندانہ مشورہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ دسمبر ۲۰۰۸ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ مزید فوج بھیجنے سے افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ سیکیورٹی کے لیے افغان قوم کے دل و دماغ کو جیتنا لازمی ہے۔ بوسٹن میں ایک خبر رساں ادارے سے بات چیت کے دوران سینیٹر جان کیری نے کہا کہ وہ نو منتخب صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کو یہ تجویز دیں گے کہ افغان پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرکے تربیت دی جائے کیونکہ یہی مسئلہ کا حل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

جمعیۃ علماء اسلام اور شرعی عدالتیں

عید الاضحٰی کی تعطیلات میں مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا جہاں علاقہ کے علماء کرام کے سالانہ اجتماع میں شرکت اور گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے، پہلے چند سال ضلع صوابی کے مقام باجہ میں ہوتا رہا، اس سال صوابی سے آگے ضلع بونیر کی حدود میں طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں ہوا، علاقہ بھر کے علماء کرام جمع تھے، دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب مدظلہ العالی اور راقم الحروف کے علاوہ بہت سے دیگر علماء کرام نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

ہم جنس پرستی کی لعنت اور اقوام عالم

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ساٹھ ملکوں کی طرف سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ مرد کا مرد سے جنسی تعلق کوئی جرم نہیں ہے اور اس سلسلہ میں قانونی کاروائیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ فرانس کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس اعلامیہ کو یورپی اور لاطینی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس پر ساٹھ ممالک کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں، جبکہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم، مسیحی کیتھولک چرچ، امریکہ، روس اور چین نے اس اعلامیہ کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’بین المذاہب کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جو دو روز جاری رہی اور اس میں کم و بیش ۷۰ ممالک کے سربراہوں، وزرائے خارجہ، سفیروں اور دیگر حکام نے شرکت کی جن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، اسرائیلی صدر شمعون پیریز، افغان صدر حامد کرزئی، اردن کے شاہ عبد اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی تحریک پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ سے پاکستانیوں کی نفرت کے اسباب

روزنامہ امت کراچی ۵ نومبر ۲۰۰۸ء کی خبر کے مطابق لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر جناب برائن ڈرہنٹ نے رحیم یار خان میں مسلم لیگی راہنما چوہدری جعفر اقبال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت کی نسبت پاکستان کو عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے منصوبوں کے لیے کئی گنا زیادہ امداد دیتی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستانی امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

جنوبی افریقہ میں چند دن کی حاضری

نومبر کے آغاز میں مجھے چند روز کے لیے جنوبی افریقہ جانے کا موقع ملا۔۳۱ اکتوبر اور یکم و نومبر کو کیپ ٹاؤن میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشل کونسل کے تعاون سے بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سر براہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی نے مجھے بطور خاص اس میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں مولانا عطاء الرحمن اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں نکاح و طلاق کے قوانین میں جن ترامیم کی سفارش کی ہے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی تکمیل کے بعد کونسل میں ہی نظرثانی کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کا فیصلہ

پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ اور اس پر بحث و مباحثہ کے بعد جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے اس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ ترمیم بھی شامل کر لی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لے کر قومی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نیز عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پہلی ترجیح ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے قیدیوں کو عمر قید کی سزا

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں سمری صدر کو بھجوائی جا رہی ہے۔ اس پر ایک طرف سزائے موت کے قیدیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن دوسری طرف ان مقتولین کے گھروں میں ایک بار پھر صف قائم بچھ گئی ہے جن کے جگرگوشوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت کے ان قیدیوں کو م مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں اور انڈونیشیا کی حکومت کا فیصلہ

مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کو ایک سو سال مکمل ہونے پر جہاں قادیانی جماعت دنیا بھر میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے وہاں پاکستان میں اس کی سر گرمیوں میں اضافے کی خبریں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں قادیانی اسٹوڈنٹس کی ایسی سر گرمیوں کا نوٹس لیا گیا ہے جو طلبہ اور طالبات میں قادیانیت کے پر چار کے لیے کی جا رہی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحہ کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے ’’لال مسجدعلماء ایکشن کمیٹی ‘‘ کے نام سے فورم قائم کر کے ۶ جولائی کو لال مسجد میں جلسہ کرنے اور وہاں سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

ڈنمارک کی عدالت کا افسوسناک فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ جو ن ۲۰۰۸ء کے مطابق ڈنمارک کی اپیل کورٹ نے ڈنیش اخبار ’’جیلینڈر پوسٹن‘‘ میں جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت کے حوالہ سے مسلمانوں کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف رٹ دائر کی گئی تھی کہ نبی کریمؐ کے ۱۲ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کوئی قابل اعتراض (نعوذ باللہ) عمل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا سید انور حسین نفیس الحسینیؒ

حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق رائے پور کی عظیم خانقاہ سے تھا اور وہ اپنی منفرد طرز کے باعث علمی و دینی حلقوں میں ایک امتیازی پہچان رکھتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ضلع سیالکوٹ کے ایک خوشنویس خاندان کے چشم و چراغ تھے، اس فن میں انہوں نے ایسی پیش قدمی کی کہ ان کا شمار عالم اسلام کے ممتاز خطاطوں میں ہوا اور ان کی اجتہادی صلاحیتوں نے اس فن کو حسن و نزاکت کی نئی جہتوں سے متعارف کرایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

اللہ تعالیٰ کا نام اور مسیحی ادارے

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۱۰ جنوری ۲۰۰۸ ء کی اشاعت میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا کی مسیحی آبادی گاڈ (God) کے لیے انگریزی میں تو گاڈ کا لفظ استعمال کرتی ہے لیکن مقامی زبان میں لفظ ’’اللہ‘‘ استعمال کرتی ہے حتٰی کہ کیتھولک مسیحیوں کا ہفت روزہ ’’دی ہیرالڈ‘‘ بھی مقامی زبان کے ایڈیشن میں یہی کرتا ہے۔گزشتہ دنوں ملائیشیا کی حکومت نے لفظ ’’اللہ‘‘ کے استعمال پر اس خیال سے پا بندی لگا دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

جناب صدر! ہماری منزل یہ نہیں ہے

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۸ ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ یورپ کے دوران یورپی یونین کے دارالحکومت بر سلز میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے غیر حقیقی معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا ہے کہ اس پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے اور کہا کہ ’’آپ لوگ جس معیار تک پہنچ چکے ہیں وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں وقت درکار ہے اور یہ وقت ہمیں ملنا چاہیے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

شیطان کی پیش قدمی او ر پا پائے روم

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار جناب عبد اللہ طارق نے ۷ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع ہو نے والے اپنے کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ میں بتایا ہے کہ رومن کیتھولک چرچ نے شیطان کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے حکمت عملی وضع کی جاری ہے جس کے تحت سینکڑوں روحانی عامل (Exorcists) ٹرینڈ کیے جائیں گے۔منصوبے کے تحت چرچ کا ہر بشپ اپنے ڈایومسسز میں پادریوں کا ایک گروہ ترتیب دے گا اور ان سب کو ایگزارسزم کی خصوصی مہارت دلوائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

امریکہ کا صدارتی امیدوار ’’باراک حسین اوباما‘‘

روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق نیویارک کے سابق گورنر باب کیری نے آئندہ انتخاب کے ایک امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما سے اس بات پر معافی مانگ لی ہے کہ انہوں نے ایک اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما کے اسلامی تشخص کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ باب کیری نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا ہے کہ انہوں نے باراک اوباما کو خط لکھا ہے جس میں ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے اسلامی تشخص کا ذکر کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی ایک نو مسلم خاتون دانشور سے ملاقات

۱۹۹۰ء کی بات ہے ایک دن ہمارے محترم دوست پروفیسر عبد اللہ جمال صاحب کا فون آیا کہ امریکہ سے ایک محترمہ خاتون جو پروفیسر ہیں اور نو مسلم ہیں، پاکستان آئی ہوئی ہیں اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی سے ملنا چاہتی ہیں مگر حضرت صوفی صاحبؒ نے معذرت کر دی ہے، آپ اس سلسلہ میں کچھ کریں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر چہ یہ بات بہت مشکل ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے انکار کے بعد انہیں اس ملاقات کے لیے آمادہ کیا جاسکے مگر میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔ چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا اور گزارش کی کہ ملاقات میں کیا حرج ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مفسر قرآن نمبر ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انہوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مفسر قرآن نمبر ۲۰۰۸ء

حیا کا فطری جذبہ اور عریانی و فحاشی

روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اخبار ڈیلی سن کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ فلمی دنیا کی معروف سپر ماڈل سنڈی کرافورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے نیم برہنہ ماڈلنگ سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے شعور کی منزل تک پہنچنے والے بچے اسے اس حالت میں دیکھیں، اس کا کہنا ہے کہ ’’اس وقت میری بیٹی کا یا ۶ سال اور بیٹا پریسلے ۸ سال کا ہو گیا ہے وہ دونوں اس وقت شعور کی منزل پر پہنچ رہے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ میری ایسی ماڈلنگ دیکھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

موت کی سزا: اقوام متحدہ اور آسمانی تعلیمات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے موت کی سزا ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قوانین میں موت کی سزا کو ختم کر دیں۔ روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق یہ قرارداد ۵۴ کے مقابلہ میں ۱۰۴ ووٹوں سے منظور کی گئی ہے جبکہ ۲۹ ملکوں کے نمائندوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا قادیانی امیدوار

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم، نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کی صوبائی سیٹ پر ایک قادیانی امام بخش قیصرانی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹکٹ دیے جانے کی مذمت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

حیات عیسٰی علیہ السلام اور پنجاب ٹیکسٹ بور ڈ لاہور

اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے تھے، وہ اسی حالت میں دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور مدینہ منورہ میں وفات پاکر جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر میں مدفون ہوں گے۔ اس کے برعکس قادیانی امت ایک عرصہ سے اس عقیدہ کا پرچار کر رہی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

منشیات کا فروغ اور حکومت کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۵ نومبر ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس سال ۴۰ میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ افیون ہیروئن کی شکل میں قبائلی سرداروں اور پیشہ ور اسمگلروں کے ذریعے پاکستان میں سپلائی ہوتی ہے اور پھر دنیا کے مختلف ممالک میں سپلائی ہونے کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ نومبر۲۰۰۷ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل دین ہے مگر مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے، اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سر کا، یہ محض معاشرتی رواج ہے، جبکہ حجاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھا۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے یہ بھی کہا ہے کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں ہے، یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص جرائم کی سزا کو حدود اللہ کہا جائے، وغیرہ ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

’’معتدل مسلمان‘‘ کا امریکی معیار

دہلی سے شائع ہونے والے جریدہ سہ روزہ دعوت کی ۱۶ نومبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں امریکہ کے تحقیقی ادارہ ’’راند‘‘ کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی راہنماؤں کی طرف سے ’’اعتدال پسند مسلمانوں‘‘ کو مسلم ممالک میں آگے لانے او ر ’’انتہا پسندوں‘‘ کو کارنر کرنے کی جو پالیسی جاری ہے اور جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں اس میں ’’معتدل مسلمانوں‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے اور وہ کن حوالوں سے اعتدال پسند مسلمانوں اور انتہا پسند مسلمانوں کے درمیان امتیاز قائم کرتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

اللہ تعالیٰ کے خلاف امریکی سینیٹر کا مقدمہ

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ نیویارک عوام نے ۲۱ تا ۲۷ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ امریکہ کی ریاست نبراسکا کے ایک سینیٹر ارتی چیمبر نے ڈگلس کاؤنٹی کی عدالت میں خدا پر مقدمہ دائر کر دیا ہے، اس نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ خدا نے اسے اور اس کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اوماہا کے سینیٹر نے کہا ہے کہ خدا نے زمین پر رہنے والے اربوں انسانوں کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہ کاریوں اور دہشت کے ذریعے دہشت زدہ کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۷ء

امریکہ میں دعوت اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے تقاضے

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے ۲۰ تا ۲۶ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ نیویارک اسٹیٹ پولیس کے دو نوجوان افسروں نے اسلام کی سادگی اور تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ مین ہیٹن نارتھ زون کے ڈیٹیکٹو جیف فالکنر اور کمیونٹی آفیئرز کے لفٹیننٹ لمیونٹی جیسپرز نے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (اکنا) کے مرکزی ہیڈ کوارٹر جمیکا کوئنز میں ایک افطار پارٹی کے موقع پر اسلام قبول کر لیا۔ پولیس افسران کے قبول اسلام کے وقت کافی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۷ء

تحریک طلبہ و طالبات

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں ایک اجلاس کے دوران ’تحریک طلبہ و طالبات‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کے سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امراء اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کرکے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور اقوام متحدہ

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف حکومت کے وحشیانہ آپریشن کے بعد اس کی صدائے بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور مختلف اداروں میں اس کے اسباب و عوامل اور نتائج و عواقب پر بحث جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے سو موٹو نوٹس اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کردہ رٹ کو غازی عبدالرشید شہیدؒ کے اہل خاندان کی طرف سے دی گئی درخواستوں کے ساتھ جمع کرتے ہوئے اس کیس کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۷ء

انسانی حقوق اور پاپائے روم

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی پیشوا پاپائے روم پوپ بینڈیکٹ شانز دہم نے اسقاط حمل کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے انسانی حقوق میں شمار نہ کیا جائے۔ نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے ۱۳ تا ۱۹ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ پاپائے روم نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف یورپ کے سفارتکاروں اور نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسقاط حمل یکسر ناقابل قبول ہے اور اسے انسانی حقوق نہ سمجھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور قرآنی تعلیمات

جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز نے ۲۰ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ برطانیہ کا ایک ٹی وی چینل آئی ٹی وی سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ایک خصوصی پروگرام پیش کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کو قرآن کریم کی نظر سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس دستاویزی فلم کی بنیادی بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ نہ تو مسیحا تھا اور نہ ہی انہیں مصلوب کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

علمی و فکری جدوجہد کا سب سے اہم محاذ

امریکہ میں نائن الیون کے سانحہ کے بعد نہ صرف یہ کہ مسلمانوں میں دین سے تعلق کا رجحان بڑھ رہا ہے اور مساجد و مکاتب کی رونق میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ امریکی دانشوروں میں بھی یہ سوچ نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ سوسائٹی اور ریاست سے مذہب کا تعلق منقطع کرنے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنے کی ضرورت ہے اور وہ مذہب ہی کے ذریعے پُر ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن میں ایک مسلمان دانشور سے ملاقات ہوئی جو امریکی دانشوروں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

جکارتہ میں بین الاقوامی خلافت کانفرنس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں حزب التحریر کے زیراہتمام خلافت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی اجتماع منعقد ہوا ہے جس میں ستر ہزار افراد کے لگ بھگ علماء، اسکالرز اور دینی کارکنوں نے شرکت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حزب التحریر کے راہنماؤں نے کہا کہ یہ خلافت اسلامیہ کے قیام کا بہترین وقت ہے اور تمام مسلمانوں کو اس کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

سانحہ لال مسجد کے اثرات و نتائج جوں جوں سامنے آرہے ہیں ان کے اسباب و عوامل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہی کر دیا تھا، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں

روزنامہ الجریدہ لاہور نے ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں آن لائن کے حوالہ سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے تحت لاہور میں منعقد ہونے والی ایک ریلی کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز ‘‘کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ قومی یکجہتی ریلی کے عنوان سے یہ اجتماع لاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جس میں خبر کے مطابق تمام غیر مسلم اقلیتوں کے راہنماؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

ترکی میں اسلام پسندوں کی کامیابی

برادر مسلم ملک ترکی میں ہونے والے عام انتخابات میں جناب طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ ساڑھے پانچ سو میں سے تین سو چالیس نشستیں جیت کر دوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اس سے قبل بھی ترکی میں اسی پارٹی کی حکومت تھی اور طیب اردگان اس کے وزیر اعظم چلے آرہے تھے لیکن حالیہ انتخابات میں ملک کے سیکولر حلقوں نے فوج کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ جس طرح طیب اردگان اور ان کی جماعت کے خلاف عوامی مظاہرے کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحے نے پوری قوم کو غم اور صدمہ سے دو چار کر دیا ہے اور جس شخص کے سینے میں بھی گوشت کا دل ہے وہ اس المیہ پر مضطرب اور بے چین ہے۔ ۱۰ جولائی کی صبح کو عین اس وقت جبکہ حکومت اور غازی عبدالرشید شہیدؒ کے درمیان مذاکرات ایک مثبت نتیجے پر پہنچ چکے تھے، ان مذاکرات کو ملک کی مقتدر شخصیت نے ویٹو کر دیا اور پھر مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوتے ہی جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے اندر موجود افراد بالخصوص طالبات اور بچوں کو مسلح آپریشن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

چیف جسٹس کی بحالی اور قوم کی توقعات

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف چار ماہ قبل دائر کیے جانے والے ریفرنس کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدالت عظمیٰ کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض دوبارہ سرانجام دینا شروع کر دیے ہیں اور ملک بھر میں عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلہ پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اس سے کم و بیش ساڑھے چار ماہ قبل ان الزامات کی آڑ میں، جن کا صدارتی ریفرنس میں تذکرہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور کارکنوں کو یرغمال بنا کر لال مسجد میں لے آئے جن میں چین کے باشندے بھی تھے۔ اس پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی انتظامیہ سے بات چیت کی اور اسلام آباد میں چین کے سفیر محترم بھی حرکت میں آئے جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس وعدہ پر ان یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں ان مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

کیا مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین جرم نہیں ہے؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۸ جون ۲۰۰۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کے مذہبی آزادی کے بین الاقوامی کمیشن نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بش حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان سے سرگرمی کے ساتھ رجوع کرے، اور کمیشن نے اس کے ساتھ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توہین مذہب کو غیر مجرمانہ فعل قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

بین المذاہب مکالمہ اور دینی مراکز کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ لندن ۱۰ مئی ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ کو فروغ دینے کے لیے لندن میں ایک فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ٹونی بلیئر کے خیال میں عالمی سطح پر کوئی ادارہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ بین المذاہب یا انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے لیے کام نہیں کر رہا اس لیے انہوں نے یہ پروگرام ترتیب دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

دو لڑکیوں کی باہمی شادی کا افسوسناک واقعہ

ان دنوں اخبارات میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کا تذکرہ چل رہا ہے جنہوں نے آپس میں شادی رچا لی ہے، شہزینہ اور نازیہ نامی دو لڑکیوں نے ایک دوسرے کی محبت میں باہمی شادی کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے ایک نے لڑکا بننے کے لیے آپریشن کرایا جس سے اس کے چہرے پر داڑھی وغیرہ کے آثار نمودار ہوئے اور دونوں نے آپس میں شادی کر لی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ داڑھی نمودار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک لڑکی ہے تو خاندان کی طرف سے بات عدالت تک جا پہنچی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

دینی مدارس کا حمیت وغیرت پر مبنی کردار

گزشتہ ماہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تو ایک خوشگوار خبر سننے کو ملی، وہ یہ کہ گزشتہ برسوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے دینی مدارس کی مالی امداد اور خطیر رقوم کے ذریعہ دینی مدارس کو تعاون کی حکومتی پیشکش کے جواب میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے پابندی لگا دی کہ وفاق سے ملحق کوئی مدرسہ سرکاری امداد قبول نہیں کرے گا اور سرکاری امداد قبول کرنے والے مدارس کا وفاق کے ساتھ الحاق ختم کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

عالم اسلام اور مغرب کے درمیان غلط فہمیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق لاہور کے ایک ہوٹل میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل آفیئرز (پائنا) کے زیر اہتمام ’’اسلام اور مغرب کے مابین درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا جس میں قومی سطح کے بہت سے دانشوروں کے علاوہ اسپین سے یونیورسٹی آف بار سلونا کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر پری ویلا نووہ اور پروفیسر راحیل بیونو نے بھی خطاب کیا، مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے اہم نکات یہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

مسئلہ فلسطین اور برطانوی وزیر خارجہ بالفور کا موقف

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے قتل کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۹ نومبر ۲۰۰۵ء کو اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی کو راہ چلتے شہید کر دیا تھا جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب ممالک نے صدائے احتجاج بلند کی، اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس احتجاج کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کو قتل کرنا جائز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی

ہفت روزہ وزارت گوجرانوالہ نے ۲۴ اپریل ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر دی ہے کہ ممبئی بھائی ہائیکورٹ نے مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر کے مطابق مسلمان لڑکے عمر اور ہندو لڑکی پرانیکا کی شادی کو پرانیکا کے خاندان والوں نے قبول نہیں کیا اور اس شادی کے خلاف ہندو تنظیموں بجرل دل اور آر ایس ایس نے ممبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ درج کرا دیا، جس میں ان کا موقف یہ تھا کہ عمر نے پرانیکا کو اغوا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

تعلیمی اداروں میں ہوش ربا فیسیں

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو ایک خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ہوش ربا فیسوں کو طلبہ اور والدین کے لیے بوجھ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کرے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی نے سردار عاشق گوپانگ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں سرکاری کالجوں میں بھی طلبہ سے کالج فنڈ کی وصولی کو ٹیکس قرار دیا ہے اور اسے بند کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

تھائی لینڈ میں شراب پر پابندی کے اقدامات

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۷ء کو اے پی پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ تھائی لینڈ کی حکومت نے شراب اور الکوحل کے اشتہارات پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ خبر کے مطابق وزیر صحت مونگ کول نا نے بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس قانون کو بہت جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سکولوں، مندروں اور حکومتی دفاتر کے قریب شراب فروخت کرنے پر پابندی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

غربت اور دہشت گردی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کبیر والا کے دورہ کے موقع پر استقبال کے لیے آنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار دہشت گرد ہیں اور غربت کے خاتمہ سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تعلق ہے ہمیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جذبہ سے اتفاق ہے لیکن ان کا تجزیہ ہمارے نزدیک بہرحال محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

حکومت نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر سربہ مہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی رو سے یہ ضروری ہوگیا تھا اس لیے یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ ہمارے ملک کی دو بڑی دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے قائم کردہ رفاہی ادارے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

بیرونی ممالک میں فضلائے نصرۃ العلوم کی سرگرمیاں

عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے آٹھ دس روز کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا اور مختلف شہروں میں علمائے کرام اور دینی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم، ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اور مدینہ مسجد آکسفورڈ میں اجتماعات سے خطاب کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے بعض فضلاء کے ہاں جانے اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی کا بھی اتفاق ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کو گرانے کا نوٹس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد نے وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق کے ساتھ مذاکرات سے معذرت کر لی ہے اور اس امر پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ایک طرف تو دینی مدارس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف دینی مدارس پر دباؤ اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سختی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

غیر فطری نظام کا منطقی نتیجہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق امریکہ میں خاوند کے بغیر رہنے والی خواتین اب اکثریت اختیار حاصل کر گئی ہیں۔ خبر کے مطابق نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۰۰ء میں بغیر خاوند کے رہنے والی خواتین کا تناسب ۴۹ فیصد تھا جو ۲۰۰۵ء میں بڑھ کر ۵۱ فیصد ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ طلاق یا بیوہ ہونے کی صورت میں عورتیں دوسری شادی سے گریز کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

میڈیا اور ٹی وی کی تباہ کاریاں

عید الفطر کے موقع پر عراق کے سابق صدر صدام حسین کو جس انداز سے پھانسی دی گئی اور اس کی جس بھونڈے انداز میں تشہیر کی گئی اسے دیکھ کر بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ سمیت مختلف مقامات پر سات بچے اس پھانسی کی نقل اتارتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں رحیم یار خان کے مقام پر ایک بچے نے صدام حسین کی پھانسی کی فلم دیکھ کر اپنے گلے میں رسی ڈال لی اور لٹک کر جان بحق ہوگیا اور اسی طرح کے واقعات دوسرے مقامات میں بھی ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۷ء

ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد اب ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور قانون کے طور پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے۔ مگر حکمران طبقے اس ’’دھکا شاہی‘‘ میں کامیاب ہوجانے کے بعد بھی اندر سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے ضمیر کی ملامت ان بیانات کی صورت میں مسلسل سامنے آرہی ہے جو وہ حدود شرعیہ اور دینی حلقوں کے بارے میں دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی قبر کی بے حرمتی

اخبارات میں ان دنوں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کی قبر کی بے حرمتی کے حوالہ سے احتجاج کی خبریں اور بیانات شائع ہو رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ تھانہ بھون (انڈیا) میں حضرت تھانویؒ کی قبر کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے بے حرمتی کی ہے جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا سرکاری طور پر نوٹس لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

قرآن کریم کے چالیس پارے

سینٹ میں متحدہ حزب اختلاف نے وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف کے اس بیان کے خلاف تحریک التوا جمع کرا دی ہے جس میں انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری جماعت سے آٹھویں جماعت تک بچوں کو چالیس پارے پڑھائے جائیں گے تاکہ انہیں مدرسہ جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ تحریک التوا میں ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم کے اس بیان سے پاکستانی قوم کو شدید دکھ ہوا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

ملک کا عدالتی بحران اور حکومت کی ذمہ داری

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب محمد جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال کرنے کے بعد جبری رخصت پر بھیجے دینے کی کاروائی سے ملک میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ پورے ملک کی وکلاء برادری اس پر سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپوزیشن کی سیاسی و دینی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جسٹس محمد افتخار چودھری جب سے ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ بنے ہیں تب سے قومی اور عوامی نوعیت کے مقدمات میں ان کی دلچسپی نمایاں رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

’’حسبہ بل‘‘ کی راہ میں رکاوٹیں

سرحد کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے ’’حسبہ بل‘‘ کی دوبارہ منظوری کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے گورنر سرحد کو اس وقت تک اس بل پر دستخط کرنے سے روک دیا ہے جب تک اس کے بارے میں عدالت عظمیٰ کوئی فیصلہ نہیں کر دیتی۔ دوسری طرف سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب محمد اکرم درانی نے کہا ہے کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق از سر نو ترتیب دیا گیا تھا اور اس میں اپوزیشن کی ترامیم کو بھی شامل کیا گیا ہے اس لیے اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷

دینی تعلیم کا نظام اور قومی دھارا

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ نومبر ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے کہا ہے کہ حکومت دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے اور اس حوالہ سے تین پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔ان میں پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ ملک بھر میں مدرسوں کے قیام کے لیے ٹھوس طریقہ کار اپنایا جائے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ نرسری کی سطح پر نصاب میں چند اہم مضامین، ریاضی، سائنس اور انگلش کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ تیسرا اور آخری پہلو مدرسوں کو قومی دھارے میں لانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۶ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کر لیا ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دینی حلقوں کے متفقہ موقف اور اس سلسلہ میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی مشاورت سے قائم ہونے والی ’’علماء کمیٹی‘‘ کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بلکہ حدود قرآنی میں عملاً ردوبدل کے باوجود اس بل کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ اور مقتدر ترین حلقوں کی طرف سے تحدی کے انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی قانون کے معاملات میں دینی حلقوں یا بقول ان کے انتہا پسندوں کی کوئی بات نہیں چلنے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں عورتوں کے حجاب کا مسئلہ

فرانس کے بعد اب برطانیہ میں بھی مسلمان عورتوں کے حجاب کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور مسلمان خواتین کو حجاب سے باز رکھنے کی مہم میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ اس سے قبل فرانس میں یہ سوال کھڑا ہوا تھا اور حکومت فرانس نے مسلمان عورتوں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اسلام کے شرعی احکام کے مطابق پردہ کریں اور شرعی حجاب استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

تصوف اور روشن خیالی

گزشتہ دنوں پاکستان میں تصوف کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سرپرست اعلیٰ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو چنا گیا ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اس کے چیئرمین ہوں گے۔ اس کونسل کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور اعتدال پسندی کو عام کرنے میں ’’صوفی اسلام‘‘ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج ان باتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی کی افسوسناک مہم

ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کی بحث

حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے حوالہ سے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں راقم الحروف کو بھی شریک ہونے کا موقع ملا، اس کی تھوڑی سی تفصیل قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں معاشرتی جرائم کی شرعی سزاؤں یعنی حدود شرعیہ کا ’’حدود آرڈیننس‘‘ کے نام سے ایک قانونی پیکج نافذ کیا گیا تھا جو سیکولر حلقوں کے اعتراض و تنقید کا مسلسل ہدف بنا ہوا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے منسوخ کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

فرقہ وارانہ کتابوں کی ضبطی کا معاملہ

ان دنوں اخبارات میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ کتابوں کی ایک فہرست کے بارے میں مختلف حلقوں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں۔ اس فہرست کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ کم و بیش ساٹھ کتابوں پر مشتمل ہے اور یہ ان کتابوں کی فہرست ہے جنہیں فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بننے والی کتابیں قرار دے کر انہیں ضبط کرتے ہوئے دوبارہ ان کی اشاعت کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کتابوں میں حضرت حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ کی تصنیف ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

پاپائے روم کا انتہائی افسوسناک بیان

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہنما اور پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے گزشتہ دنوں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک پرانے بازنطینی مسیحی بادشاہ عمانوتیل دوم کا یہ جملہ اپنی تائید کے ساتھ دہرا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اضطراب کی کیفیت سے دو چار کر دیا ہے کہ حضرت محمدؐ نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مذہب اسلام کو تلوار کی زور سے دنیا میں پھیلائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی

لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل

قومی اسمبلی میں ’’تحفظ خواتین بل‘‘ کے نام سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل نے اسے مسترد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا عندیہ ایک عرصہ سے دیا جا رہا تھا اور بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کے مطالبہ پر ان ترامیم کی تیاری پر مسلسل کام ہو رہا تھا جس کا نتیجہ تحفظ خواتین بل کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس سے ملک میں حدود شرعیہ کے نفاذ و بقا کا مسئلہ بحث و مباحثہ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

مسلمان ممالک میں ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام

روزنامہ پاکستان ۲۴ اگست ۲۰۰۶ء کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم عبداللہ احمد بداوی نے اپنے ملک کی ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے قوانین لاگو کریں جن کے ذریعہ مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کی ممانعت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ایسے قوانین نہیں ہیں وہ اپنے ہاں مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے پرچار کے امتناع کے قوانین وضع کرکے لاگو کریں اور اس سلسلہ میں جو بھی قدم ضروری ہو اٹھایا جائے۔ خبر کے مطابق ملائشیا کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی میں ساٹھ فی صد مسلمان ہیں اور ملائیشیا کا سرکاری مذہب اسلام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

درسی کتب سے مذہبی مواد حذف کرنے کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتب میں مذہبی عقائد سے متعلق کٹر خیالات کو حذف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتابوں سے کٹر عقائد اور خیالات کو حذف کرکے اصلاحات کے مخلصانہ رویے کا ثبوت دیا ہے اسی لیے اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر جان یان فورڈ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے اصلاحات پر عملدرآمد کا جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

لبنان کی صورتحال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقہ کے لیے جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالمگیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دارالحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے بڑے مدارس کے سرکردہ حضرات نے حکومت کی یہ ہدایت مسترد کر دی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا دیا جائے۔ خبر کے مطابق حکومت نے چار غیر ملکی طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کو خط لکھا ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اور جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

بائبل اور ہم جنس پرستی

روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق آکسفورڈ (برطانیہ) کے بشپ رچڑد نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل ہم جنس تعلقات کی (نعوذ باللہ) حمایت کرتی ہے، انہوں نے سنڈے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائبل کے عقیدے کے مطابق ہم جنس پرستی پر کوئی ممانعت نہیں ہے، انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو نئے زاویے سے دیکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران مجھے دو ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، کم و بیش ہر سال ان دنوں برطانیہ جاتا ہوں اور متعدد دینی مراکز اور تعلیمی مدارس کے پروگراموں میں شرکت ہوتی ہے، اس سال ابراہیم کمیونٹی کالج لندن، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ، مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم، مدینہ مسجد آکسفورڈ اور ابوبکر اسلامک سنٹر ساؤتھ آل لندن کے پروگراموں میں شرکت کے علاوہ بریڈ فورڈ، نوٹنگھم، برنلی، کراؤلی، رچڑیل اور ویکفیلڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فلم

بین الاقوامی میڈیا میں ان دنوں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بننے والی فلم ’’ڈونچی کوڈ‘‘ کا خاصا چرچا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کے مختلف حصے پیش کیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر کے بارے میں توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی حلقوں کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے اور غالباً پاکستان میں اس پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا مطالبہ

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۰۶ء کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر پاکستان کو سیکولر ریاست بنایا جائے، انہوں نے حدود آرڈیننس پر سخت تنقید کی اور اس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملاّ‘‘ مسلمانوں کا سب سے بڑا ’’مجرم‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۶ء

عامر چیمہ ؒ کی شہادت اور حکومت کی ذمہ داری

عامر چیمہ شہیدؒ کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ جنازہ کے وقت اور پروگرام کو آخر وقت تک ابہام میں رکھا گیا اور اس کے بارے میں متضاد خبریں نشر کی جاتی رہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ نماز جنازہ میں زیادہ لوگ شریک نہ ہو سکیں، اس کے باوجود زندہ دل مسلمانوں کے ایک بڑے ہجوم نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے بعد بھی ملک بھر سے مسلمان بڑی تعداد میں ساروکی چیمہ پہنچ کر اس باغیرت مسلم نوجوان کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

قومی اسمبلی میں نماز کا وقفہ ختم کرنے کی تجویز

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قواعد و ضوابط کمیٹی نے جناب نصر اللہ دریشک کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نماز کا وقفہ ختم کر دینے کی تجویز پیش کی ہے جس پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

وفاقی شرعی عدالت بحران کی زد میں

وفاقی شرعی عدالت ان دنوں بحران کا شکار ہے اور روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس نسیم سکندر نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا منصب قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے، انہیں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس اعجاز یوسف کی سبکدوشی کے بعد صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعہ چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۶ء

اسلامی تعلیم کے نصاب میں تبدیلی کے اقدامات

ان دنوں پھر اعلیٰ سطح پر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے اسلامی تعلیمات کے نصاب میں تبدیلی کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور صدر پرویز مشرف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ نصاب فرقہ واریت کا باعث بن رہا ہے اس لیے اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ دراصل مغرب کے دباؤ کے باعث ہمارے حکمران طبقے ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ ملک کے سرکاری نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کا جتنا کچھ مواد موجود ہے اسے اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

۱۳ اپریل ۲۰۰۶ء کو شیر گڑھ مردان میں تحریک آزادی کے عظیم راہنما حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی یاد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں متحدہ مجلس عمل کے راہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کے علاوہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی اور دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور تحریک آزادی میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

دوپٹہ اختیاری نہیں دینی فریضہ ہے

گزشتہ روز اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں طلبہ و طالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عورت کی مرضی ہے کہ وہ دوپٹہ لے یا نہ لے ، کسی پر اس سلسلہ میں جبر نہیں کیا جا سکتا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اس قسم کے خیالات کا اظہار اس سے قبل بھی کئی بار کر چکے ہیں لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کم و بیش پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علماء لدھیانہ کے معروف خاندان سے تھا اور ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۶ء

تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں اہل علم کی ذمہ داری

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر پہلو تاریخ کے حوالہ سے اہم اور قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہے اسی لیے اس کے تحفظ اور اسے تاریخ کے ریکارڈ میں پوری تفصیل کے ساتھ لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ اہمیت ’’حجۃ الوداع‘‘ کو حاصل ہے اس لیے کہ اس روز جناب نبی اکرمؐ کے اس مشن کی عملی تکمیل ہوئی تھی جس کا اعلان آپؐ نے نبوت ملنے اور پہلی وحی نازل ہونے کے بعد صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ کے سامنے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۶ء

ملک بھر کے احباب سے ایک ذاتی گزارش

ایک ذاتی نوعیت کے مسئلے کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ دینی اجتماعات اور پروگراموں میں حاضری طالب علمی کے دور سے میرا معمول رہی ہے اور ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جہاں میں نے اس سلسلے میں حاضری نہ دی ہو۔ یہ سلسلہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے لیکن اب یہ معاملہ میری دسترس سے بتدریج نکلتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۶ء

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے متعلق چند ضروری باتیں

ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع ہونے پر مسلم امہ میں جو اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی ہے وہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور احتجاجی مظاہروں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے- اخباری رپورٹوں کے مطابق اس روزنامہ نے باقاعدہ دعوت دے کر کارٹونسٹوں سے یہ خاکے بنوائے اور انہیں اہتمام کے ساتھ شائع کیا، اس پر ابتدا میں رسمی طور پر مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا بلکہ یورپ کے بعض دیگر ملکوں کے اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کرنا شروع کر دیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

فلسطین میں حماس کی حکومت

فلسطین کے حالیہ انتخابات میں حماس نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ فلسطین کے عوام آزادی کے لیے جنگ لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالہ سے انہی پر اعتماد کرتے ہیں۔ مگر امریکہ اور اس کے حواریوں کو حماس کی اس کامیابی پر سخت پریشانی ہے اور وہ فلسطینی عوام کے اس جمہوری فیصلے کا احترام کرنے کی بجائے حماس کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ابھی سے سرگرم عمل ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

پتنگ بازی اور انسانی جانیں ‒ دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق لاہور میں ایک اور دس سالہ بچہ پتنگ بازی کی نذر ہوگیا، تفصیل کے مطابق پیکو روڈ کا دس سالہ بچہ حمزہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ ایک پتنگ بجلی کی تاروں پر گری، اس کے ساتھ لٹکتی دھاتی تار سے چھو کر بچہ بری طرح جھلس گیا اور تھوڑی دیر کے بعد جاں بحق ہوگیا۔ اس دوران لاہور کے بعض شہریوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی کے دھندے میں ملوث افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

اسلامی بینکاری کی طرف پیش رفت

ایک خبر کے مطابق ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے اسلامک فنانشل سروسز انڈسٹری کے تحت دس سالہ پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور اسلامک فنانشل سروسز بورڈ کے مشترکہ تعاون سے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، اسلامک فنانشل سروسز کو عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا جائے گا اور اسلامی بینکاری میں اجارہ، مضاربہ، مرابحہ، مشارکہ، قرض حسنہ، صدقہ، سکوک، تکافل، زکٰوۃ کے فروغ اور اسے لاگو کرنے کے لیے پالیسیاں وضع کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۶ء

دنیا کا نقشہ اور اسرائیل

روزنامہ اسلام لاہور نے ۱۵ جنوری ۲۰۰۶ء کی اشاعت میں الفالائن کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے اس بات پر شدید احتجاج کیا ہے کہ گزشتہ دنوں فلسطینیوں کی حمایت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش کیے گئے دنیا کے نقشے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسے اقدام کرنا جب ایران اسرائیل کو دنیا سے مٹانے کے بیانات دے رہا ہے، انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۶ء

وفاقی وزارت تعلیم کا ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘

روزنامہ پاکستان لاہور ۸ جنوری ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے فرقہ وارانہ فسادات کے مکمل خاتمہ کے پیش نظر شمالی علاقہ جات میں نماز کے طریقہ ادائیگی کے بغیر نصاب رائج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ نماز کی ادائیگی کا طریقہ صرف پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی کتاب میں ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے تمام فرقے صوبہ سرحد میں متعارف کردہ کتاب پر متفق ہیں جس میں نماز کی ادائیگی کا کوئی طریقہ بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۶ء

ایک اور جعلی امام مہدی کا ظہور

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ دسمبر ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق پولیس نے فیصل آباد میں مسلح آپریشن کے بعد ایک شخص شہباز احمد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس کا ایک ساتھی محمد شفیع پولیس کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوگیا ہے۔ شہباز احمد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق ریاض احمد گوہر شاہی سے تھا جس نے کچھ عرصہ قبل امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی امریکہ کے ایک ہوٹل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے جو جلد ظاہر ہونے والے ہیں اور پھر دنیا پر ریاض گوہر شاہی کی حکمرانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۶ء

دنیائے اسلام میں امریکہ کا تشخص

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۴ دسمبر ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کو اس وقت مسلم دنیا میں اپنے تشخص کا مسئلہ درپیش ہے جسے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات فلاڈیلفیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ عرب ٹی وی مستقل طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اسلام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، امریکہ مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے سکتا اور وہ ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ قرار دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۶ء

مسلم سربراہ کانفرنس، دنیائے اسلام کو مایوسی

گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ میں مسلم سربراہ کانفرنس کا غیر معمولی اجلاس ہوا، اجلاس جس انداز سے بلایا گیا اور اسے غیر معمولی قرار دے کر اس کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے بہت سے مسلمانوں کو یہ خوش فہمی ہوگئی تھی کہ شاید مسلم حکمرانوں کو وقت کی ضروریات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مسلم امہ کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کوئی سنجیدہ پروگرام تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۶

نصاب تعلیم سے نماز سکھانے کا طریقہ خارج

وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی کے اس اعلان پر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے کہ قومی نصاب تعلیم سے نماز پڑھنے کا طریقہ سکھانے کا مواد خارج کیا جا رہا ہے اس لیے کہ ان کے خیال میں بچوں کو نماز کا طریقہ سکھانا، والدین کی ذمہ داری ہے۔ متعدد دینی و سیاسی راہنماؤں نے اسے سیکولر ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قومی نصاب تعلیم سے دینی تعلیمات کے حصے کو بتدریج خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا بیرونی اشاروں پر کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۶ء

بیرونی ممالک میں قید ہزاروں پاکستانی شہری

روزنامہ انقلاب لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بارہ ہزار سے زائد پاکستانی شہری اٹلی، یونان، ترکی اور ایران کی جیلوں میں اذیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ ۱۶ ہزار سے زائد افراد دھکے کھا کر وطن واپس آگئے ہیں اور سینکڑوں افراد بین الاقوامی سرحد کو ناجائز طور پر عبور کرتے ہوئے متعلقہ ملک کی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۵ء

حکومت پنجاب کا مستحسن اقدام

روزنامہ اسلام لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ میں متحدہ مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی مولانا قاضی حمید اللہ خان اور ان کے رفقاء کے خلاف میراتھن ریس کو روکنے کے لیے مظاہرہ کرنے کے الزام میں درج مقدمہ واپس لے لیا ہے جس پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج طارق افتخار نے قاضی صاحب موصوف اور ان کے ۹۶ رفقاء کو باعزت بری کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ سے متاثرہ مساجد و مدارس، اصحاب خیر کی خصوصی توجہ کے مستحق

عید الفطر کے بعد مجھے تین چار روز کے لیے زلزلہ زدہ علاقے میں جانے کا موقع ملا، پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ہمراہ تھے، ہم نے راولاکوٹ، ہاڑی گہل، تھب، ارجہ، جگلڑی، ملوٹ، دھیرکوٹ، جھالہ، باغ، مظفر آباد ، گڑھی حبیب اللہ، بالا کوٹ اور مانسہرہ میں زلزلہ کی تباہ کاری کے مناظر دیکھے، متاثرین سے ملاقاتیں کیں، کچھ سامان اور نقدی ہمارے پاس تھی جو زیادہ مستحقین میں تقسیم کی، امدادی گروپوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۵ء

پاکستان میں عیسائیت کی تبلیغ

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی تبلیغی سرگرمیوں کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان میں سترہ ہزار مسلمانوں کو عیسائی بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے مختلف مسیحی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جو تعلیم، سماجی خدمت، صحت اور دیگر حوالوں سے کام کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ سادہ لوح اور نادار مسلمانوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ کی تباہ کاریاں ۔ چند توجہ طلب امور

۸ اکتوبر کے زلزلہ کی شدت اور سنگینی کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے اور ملکی و عالمی سطح پر تمام ممکنہ اور میسر وسائل استعمال کیے جانے کے باوجود نہ تو نقصانات کا پورے طور پر تخمینہ لگایا جا سکا ہے، نہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی ملبہ میں دب جانے والے انسانوں کو زندہ یا مردہ وہاں سے نکال لینے کی کوئی صورت قابل عمل دکھائی دے رہی ہے۔ امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری، مسلم امہ اور پاکستانی قوم کی بھرپور نمائندگی ان امدادی کاروائیوں میں نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۵ء

کینیڈا میں خاندانی اسلامی قوانین پر پابندی کا فیصلہ

مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران حسب معمول بیرونی سفر پر ہوں۔ ۳۰ اگست کو پروگرام کے مطابق مجھے لندن پہنچنا تھا جہاں مانچسٹر میں مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی سیرت وخدمات کے حوالہ سے کانفرنس رکھی ہوئی تھی اور گلاسگو میں بھی ایک کانفرنس کا اہتمام تھا۔ انڈیا سے مولانا مفتی سیف اللہ خالد رحمانی پہنچ چکے تھے، پاکستان سے مجھے شریک ہونا تھا مگر ٹریول ایجنٹ کی غفلت کے باعث آخر وقت تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان دنوں فلائٹوں پر بہت رش ہوتا ہے اور میری سیٹ اوکے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۶ اگست ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا کام شروع ہونے کے بعد اس وجہ سے رک گیا ہے کہ وفاقی وزارت اوقاف نے اس سلسلہ میں جو فارم فراہم کیے ہیں ان میں دینی مدارس سے ان کی آمدنی کے ذرائع اور کوائف بھی طلب کیے گئے ہیں اور انہیں اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ چندہ دینے والے معاونین کے نام بھی حکومت کو فراہم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۵ء

پاپائے روم سے ایک ضروری گزارش

روزنامہ نوائے وقت ملتان ۲۲ اگست ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے جرمنی کے شہر کولون میں مسلمان راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور نفرت انگیز نظریات کے خلاف جنگ میں مدد کرنا مسلمان راہنماؤں کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی چاہے وہ کسی شکل میں ہو ایک گمراہ کن اور ظالمانہ فیصلہ ہے کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے زندگی کے مقدس حق کو پامال کرتا ہے اور سول سوسائٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۵ء

پاکستان میں بیرونی امداد کا غلط استعمال

روزنامہ جنگ لاہور ۲۵ اگست ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے فنڈ برائے بہبود آبادی نے آبادی کی روک تھام کے لیے پاکستان کو دی جانے والی امداد بند کر دی ہے اور وزارت بہبود آبادی کے ساتھ چلنے والے اپنے تمام منصوبے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹاف اور گاڑیوں کو بھی واپس لے لیا ہے، جس پر پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں مذکورہ پروگرام کے انچارج ڈاکٹر مبشر کا کہنا ہے کہ وہ امداد دیتے ہیں مگر وزارت کے افسر اس میں غبن کرتے ہیں اور اس کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۵ء

حسبہ ایکٹ اور وفاقی حکومت

سرحد کی صوبائی اسمبلی نے ’’حسبہ بل‘‘ بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ حسبہ ایکٹ میں صوبائی سطح پر ایک احتسابی نظام تجویز کیا گیا ہے جو صوبائی محتسب کی نگرانی میں قائم ہوگا اور صوبہ بھر میں عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کے ساتھ معاشرتی خرابیوں اور منکرات کے سدباب کے لیے کام کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۵ء

دینی مدارس اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر

لندن کے بم دھماکوں کے بعد پاکستان میں دینی مدارس کے خلاف نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے، مدارس پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، میڈیا میں دینی مدارس اور علماء کے خلاف کردار کش پروپیگنڈے کی مہم زوروں پر ہے اور وفاقی کابینہ دینی مدارس کے نئے کردار کو متعین کرنے کے لیے اجلاس کر چکی ہے۔ جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کو یکم دسمبر تک بہرحال رجسٹریشن کرانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۵ء

کینیڈا میں ہم جنس پرستوں کی شادی کا قانون

روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ جولائی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق کینیڈا کی سینیٹ نے بھی ہم جنس پرستوں کی شادی کا بل ۲۱ کے مقابلہ میں ۴۳ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے اور اس طرح بلجیئم، ہالینڈ اور اسپین کے بعد کینیڈا چوتھا مغربی ملک ہے جس نے مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی ہے۔ اس سے قبل متعدد مغربی ممالک کے عدالتی فیصلوں اور حکومتی اقدامات کی صورت میں ہم جنس پرستوں کی باہمی شادی کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے مگر اب باقاعدہ منتخب پارلیمنٹوں کے ذریعے اسے قانونی شادی قرار دینے کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۵ء

اسلامی معیشت کے ماہر علماء کی ضرورت

راقم الحروف کو برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران لیسٹر میں اسلامک دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک فکری نشست میں شرکت کا موقع ملا جس میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلامی معاشی نظام کے حوالہ سے علمی اور معلوماتی گفتگو کی۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ دنیا بھر میں اس وقت دو سو سے زائد ایسے ادارے کام کر رہے ہیں جو سود سے پاک اسلامی معاشی اصولوں کے مطابق اپنا نظام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین جناب محمد میاں سومرو نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ۱۹۹۷ء کے بعد تیار ہونے والی رپورٹوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی لائبریری میں رکھوانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممبران پارلیمنٹ اس کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ رولنگ متحدہ مجلس عمل کے سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک استحقاق نمٹاتے ہوئے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

عالم اسلام کی نمائندگی کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل نشست

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے دائمی ارکان کی توسیع کی صورت میں مسلم ممالک کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے ریاض میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلامتی کونسل میں توسیع کا مقصد سب کو نمائندگی مہیا کرنا اور مبنی بر انصاف رکنیت دینا ہے تو ایسی صورت میں مسلم ممالک کا حق ہے کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہے جس کے پانچ ارکان مستقل اور دائمی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۵ء

الجزائر میں تعلیمی نصاب کا مسئلہ / آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف مہم

روزنامہ اسلام لاہور ۲۵ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق الجزائر کی دینی جماعتوں نے وزارت تعلیم کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے جس کے تحت کالجوں کے سیکنڈ ایئر کے نصاب سے اسلامیات کا مضمون خارج کر دیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نصاب سے اسلامیات کے مضمون کا اخراج ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور الجزائر کے عوام کی اکثریت کے جذبات کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘

دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۵ء

اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا ایجنڈا

۱۲ ربیع الاول کو حسب سابق اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیرا ہتمام قومی سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم جناب شوکت عزیز اور وفاقی وزراء سمیت متعدد راہنماؤں اور دانشوروں نے اظہار خیال کیا، راقم الحروف کو بھی وفاقی وزارت مذہبی امور کی طرف سے شرکت کی دعوت موصول ہوئی مگر جمعتہ المبارک اور پہلے سے طے شدہ دیگر مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کر دی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے مختلف علماء کرام نے موجودہ حالات کے تناظر میں سیرت نبوی علٰی صاحبہا التحیۃ والسلام کے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

گوجرانوالہ کی میراتھن ریس اور ردعمل

گوجرانوالہ میں میراتھن ریس کے موقع پر دینی مدارس کے طلبہ اور متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے کی قیادت میں جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی صدائے بازگشت پورے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے اور ملک بھر کے دینی حلقوں کو نئے سرے سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ وہ اگر معاشرہ میں منکرات کی روک تھام کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ جرأت مندانہ موقف اور کردار کا مظاہرہ کریں تو یہ راستہ کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۵ء

اسلام کے جدید یورپی برانڈ کی تیاریاں

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں ’’نیوزویک‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یورپ کی حکومتیں معتدل مسلمانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اکثر بیرون ملک سے آنے والے مسلمان امام اسلام کا (ان کے بقول) غلط مطلب نکال کر مسلمانوں کے کان بھر رہے ہیں۔ نیوزویک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویٹزرلینڈ کے بشپ سے لے کر ڈینش وزراء تک سبھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یورپ اپنے برانڈ کا جدید ترین اور یورپی رنگ میں رنگا ہوا اسلام ایجاد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۲۰۰۵ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے محترم جسٹس چوہدری مزمل احمد خان نے گوجرانوالہ میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے موقع پر روزنامہ جنگ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لڑکی بالغ ہو، اس کا کوئی شناختی کارڈ بنا ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں یا کسی مسجد میں نکاح کیا ہو، اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

آغا خان تعلیمی بورڈ اور حکومتی وضاحتیں

آغا خان تعلیمی بورڈ کے بارے میں حکومتی وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان وضاحتوں سے مسئلہ صاف ہونے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے ۔کچھ عرصہ قبل حکومت نے آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ کو ایک پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کے طور پر منظور کیا اور یہ خبریں منظر عام پر آنے لگیں کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو آغا خان بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی اسکیم زیرغور ہے۔ اور ایک مرحلہ پر یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی کہ اسلام آباد کے وفاقی ثانوی تعلیمی بورڈ کو آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے سوال پر وفاقی بورڈ کے ارکان میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا مسئلہ

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی حکومت سے سفارش کر دی ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ بحال کیا جائے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کو ختم کیا جائے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب قادیانیوں کو ملک کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ قادیانی گروہ اپنے بارے میں عالم اسلام کے دینی مراکز اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

عازمین عمرہ کی پریشانی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے ہزاروں پاکستانی واپسی کی سیٹیں کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے عمرہ پر جانے والے ہزاروں افراد تاحال جدہ ایئرپورٹ اور پی آئی اے کے دفتر کے باہر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں جن کے لیے نہ تو جہاز میں واپسی کی سیٹ ہے اور نہ ہی انہیں بکنگ کے لیے پی آئی اے کے جدہ آفس میں داخل ہونے دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

عید پر مختلف بچوں کا اقدام خودکشی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۴ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں یعنی عید کے روز یہ خبر شائع کی ہے کہ لاہور میں عید کے موقع پر نئے کپڑے اور چوڑیاں وغیرہ نہ ملنے پر خودکشی کا اقدام کیا ہے، خبر کے مطابق کوٹ لکھپت کے رہائشی عمران کی بیٹی نسرین نے عید کے کپڑے نہ ملنے پر گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھالیں، اور بادامی باغ کی آسیہ اور شالیمار نے بھی عید کی کی چوڑیوں اور کپڑوں کے لیے والدین سے پیسے نہ ملنے پر زہریلی گولیاں نگل لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

فلسطینی ریاست کا قیام

روزنامہ اسلام لاہور نے ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں اے این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ترج رؤٹد لارسن نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ ۲۰۰۸ء سے قبل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سب سے اہم چیز فلسطینی ریاست کا قیام ہے، چاہے یہ ۲۰۰۵ء میں قائم ہو یا ۲۰۰۸ء میں وجود میں آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

کیا دنیا صدام حسین کے بعد محفوظ ہوگئی ہے؟

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اگلے چار سال کی مدت کے لیے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد کہا تھا کہ دنیا عراقی صدر صدام حسین کی اقتدار سے محرومی کے بعد زیادہ محفوظ ہوگئی ہے، یہ کہہ کر وہ عراق پر امریکی حملے کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن فرانس کے صدر یاک شیراک نے ان کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ عراق کی صورتحال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

عورت کو طلاق کا حق دینے کی تجویز

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کی مشیر نیلو بختیار کی سربراہی میں قائم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے عورت کو طلاق کا حق دینے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے اس لیے وہ اسے مسترد کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے قائم کردہ وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیر موصوف نے ان سفارشات کی تفصیل نہیں بتائی البتہ ان کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی کنارے کی متنازعہ باڑ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر تعمیر کی جانے والی متنازعہ باڑ کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل عالمی عدالت انصاف کے ۱۵ میں سے ۱۴ ججوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی علاقے میں جو دیوار تعمیر کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اس لیے اسے گروایا جائے۔ عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دیوار کی تعمیر کو فوراً روک دیا جائے اور تعمیر شدہ باڑ کو مسمار کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

چناب نگر کی مسجد کا تنازعہ۔ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں

قادیانی ہیڈ کوارٹر چناب نگر میں مسجد کے تنازعہ پر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ چناب نگر کی مرکزی سڑک پر پولیس چوکی کافی عرصہ سے موجود تھی جس میں مسلمانوں کی ایک پختہ مسجد بھی بنائی گئی تھی، قادیانیوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ پولیس چوکی اور مسجد قادیانیوں کی تحویل میں دے دی جائے جسے مسمار کرکے وہ اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

آغا خان بورڈ کی سرگرمیاں

روزنامہ اوصاف ملتان ۲۷ مئی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے دو سال قبل جاری ہونے والے آغا خان بورڈ آرڈیننس کو ملک بھر میں تعلیمی سال سے نافذ کر دیا ہے اور اس کی کاپیاں ملک بھر کے ۲۳ تعلیمی بورڈز کو بھجوا دی گئی ہیں۔ اس آرڈیننس کے تحت ملک بھر میں آغا خان ایجوکیشن بورڈ کو پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک طلبہ اور طالبات کے امتحانات لینے اور انہیں اسناد جاری کرنے کی اجازت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

اسلام کی صحیح شناخت کا معاملہ

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزشتہ ہفتہ ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی شرکت کی۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جون ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق جناب خورشید محمود قصوری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی سربراہ کانفرنس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کے لیے آواز اٹھائے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسلامی کانفرنس کو مؤثر اور متحرک بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

مغربی تہذیب کے عروج کی ایک تصویر

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس کے غلبہ کے موجودہ دور میں انسانی تمدن اپنے عروج تک پہنچ گیا ہے اور اس کی تہذیب و ثقافت اعلیٰ انسانی اقدار و روایات کی حامل ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ اور کامل تہذیب کہلانے کی حق دار ہے۔ انسانی حقوق، احترام انسانیت اور اخلاق و شرافت کا ورد کرتے ہوئے دانشوروں کی زبانیں نہیں تھکتیں لیکن گوانتا موبے کے عقوبت خانوں اور بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی اہل کاروں نے اپنے قیدیوں کے ساتھ جو شرمناک سلوک روا رکھا ہے اس نے مغربی تہذیب کے چہرے سے اخلاق و شرافت اور انسانی اقدار کے تمام نقاب نوچ کر ایک طرف رکھ دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ کا قانون

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون پر نظرثانی کے حق میں ہیں اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا ایک قومی کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سزائے موت کے خلاف قرار داد اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرار داد کے حق میں ۲۹ ووٹ آئے جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپان، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت ۱۹ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۵ ممالک بشمول برکینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

صدر بش سے عرب لیگ کا مطالبہ

روزنامہ اسلام لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق تیونس میں منعقد ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور فوجی کاروائی کی مذمت کی گئی ہے اور امریکی صدر بش سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ پورا کریں۔ دوسری طرف روزنامہ اسلام کی اسی روز کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے ایک بڑے مذہبی پیشوا دوف لینور نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جو فوجی کاروائیاں کر رہی ہیں وہ بالکل جائز ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

پوپ جان پال کی اپیل

روزنامہ جنگ ۳ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے عالمی سربراہ پوپ جان پال نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اپنی مسیحی جڑیں دوبارہ دریافت کرے، پوپ نے یہ بات یورپی یونین میں دس نئے ملکوں کی شمولیت کے موقع پر کہی ہے، اس سے پہلے وہ اصرار کر چکے ہیں کہ یورپی یونین میں عیسائی مذہب کو شامل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

تعلیمی نصاب اورحکومتی وضاحتیں

سکولوں اور کالجوں کے نصاب تعلیم میں اسلامی حوالوں سے مبینہ تبدیلیوں کا مسئلہ ان دنوں قومی سطح پر زیر بحث ہے اور حکومتی حلقوں کی وضاحتوں کے باوجود اس سلسلہ میں شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا بدستور موجود ہے۔ ملک کے دینی و تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب کی جو نئی کتابیں سامنے آئی ہیں ان میں متعدد قابل اعتراض باتیں موجود ہیں اور بعض مقامات پر قرآنی سورتیں اور آیات نصاب سے خارج کرنے کے علاوہ نئی کتابوں میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد نئی پود کے اذہان کو دینی پابندیوں سے آزاد کرنا اور ملک کے نصاب تعلیم کو سیکولر رُخ دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

حماس کے نئے سربراہ کی شہادت

فلسطینی مجاہدین کے سربراہ الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کے بعد ان کے جانشین کو بھی شہید کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی حکومت نے اپنے اس کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی لیڈروں کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے جنہیں اس طرح قتل کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکی صدر بش نے اسرائیلی حکومت کی اس وحشیانہ کاروائی کو ’’حق دفاع‘‘ قرار دے کر اس کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

خدمات علمائے دیوبند کانفرنس

آزاد کشمیر کے شہر باغ میں یکم و دو مئی کو جمعیۃ علماء اسلام آل جموں و کشمیر کے زیر اہتمام دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ منعقد ہو رہی ہے جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے طول و عرض سے بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے بھی کشمیری علماء کرام اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شریک ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

مدارس اور مغربی حکومتیں

دینی مدارس کے بارے میں مغربی ممالک کی دلچسپی اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کے سفارت کار، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے دینی اداروں کے ساتھ روابط اور ان کے حوالہ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مالی تعاون اور فنی امداد کی پیشکشیں ہو رہی ہیں، اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں اجتماعی دھارے میں لانے کے عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں اور انہیں معاشرہ کا ’’کارآمد حصہ‘‘ بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

پنجاب یونیورسٹی کا ’’عذر لنگ‘‘

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شہادۃ العالمیہ کی سند کو ایم اے عربی و اسلامیات کے برابر تسلیم کر رکھا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک کی متعدد یونیورسٹیاں وفاق المدارس کے فضلاء کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت دے رہی ہیں۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے کہ اس سند کے حامل کو تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات و عربی کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین گیلانی نے فیصل آباد کے ایک نو عمر جوڑے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لو میرج کیسوں میں عدالتوں کی ہمدردیاں والدین کے ساتھ ہوتی ہیں مگر قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا ساتھ دیتا ہے، ایسی صورتحال میں عدالتیں معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے اس فعل کو روک سکتی ہیں اور نہ ایسے جوڑوں سے کوئی زبردستی کر سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

ایٹمی سائنسدانوں کا معاملہ

پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں پر ابتلا اور آزمائش کا جو دور گزر رہا ہے اس نے ہر محب وطن شہری کو الم و اضطراب سے دو چار کر رکھا ہے اور ذہنوں میں خودبخود یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ اس سلوک کے بعد ایٹمی پروگرام اور صلاحیت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت ممتاز سائنسدانوں پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی پھیلاؤ جیسے ’’ناقابل معافی‘‘ جرم کا ارتکاب کیا اور ایٹمی ٹیکنالوجی بعض ملکوں کو منتقل کرنے میں حصہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

جنسی آوارگی کی صدائے بازگشت

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۵ فروری ۲۰۰۴ء کو سی این این کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک انٹرویو میں ہم جنس پرستوں کی شادی پر پابندی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں مزید چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے، انہوں نے امریکی آئین میں ترمیم کے لیے کہا جس سے ہم جنس پرستوں پر پابندی لگائی جائے۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

جہاد اور صدر پاکستان

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’علماء و مشائخ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اور بہت سی قابل توجہ باتیں کی ہیں وہاں مختلف مسلم حلقوں کی جہادی سرگرمیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرہ میں آتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں جہاد کا اعلان صرف حکومت کا حق ہے اور پرائیویٹ طور پر جہاد کے نام سے کوئی عمل ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کی اصلاح و امداد کا مسئلہ

دینی مدارس کی اصلاح کے نام سے حکومتی پروگرام کا آغاز ہوگیا ہے جس کے تحت اربوں روپے کی مالی امداد کا سلسلہ شروع ہے اور حکومت نے دینی مدارس کے وفاقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست دینی مدارس کی مالی امداد کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاق جو پوری وحدت اور ہم آہنگی کے ساتھ دینی مدارس کے آزادانہ نظام میں سرکاری مداخلت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں انہیں غیر مؤثر کر دیا جائے اور اصلاح اور امداد کے نام سے دینی مدارس کے ساتھ براہ راست رابطہ کرکے انہیں سرکاری پروگرام میں شریک کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے چند دینی مراکز میں حاضری

گزشتہ ماہ مجھے دو ہفتے کے لیے بنگلہ دیش جانے کا موقع ملا، دارالرشاد میرپور ڈھاکہ کے زیر اہتمام ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کی افتتاحی تقریب کے لیے دارالرشاد کے پرنسپل مولانا سلمان ندوی کا اصرار تھا جس کے ساتھ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا اصرار بھی شامل ہوگیا اور اس وجہ سے مجھے یہ سفر کرنا پڑا، ورنہ مدرسہ میں اسباق کے آغاز کے بعد اتنا لمبا سفر میرے لیے مشکل تھا۔ دسمبر کے اواخر میں ڈھاکہ میں تبلیغی اجتماع تھا جس کی وجہ سے براہ راست ڈھاکہ جانے والی کسی فلائیٹ میں سیٹ نہ مل سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۴

دینی مدارس پر چھاپے اور حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کی گرفتاری

گزشتہ جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس پر پولیس کے اچانک چھاپوں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مدظلہ العالی کی گرفتاری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ خطباء کرام اور دینی راہنماؤں نے حضرت شاہ صاحب مدظلہ کی گرفتاری اور دینی مدارس کے خلاف حکومتی کاروائیوں پر شدید احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے لیے امریکی امداد

روزنامہ پاکستان لاہور یکم دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سفیر محترم کرسٹوف برومر نے پشاور کے معروف دینی ادارے دار العلوم سرحد کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب کو جدید بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا کہ امریکہ پاکستان کے دینی مدارس کی مدد کرنا چاہتا ہے، اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

فرانس میں ان دنوں اسکارف کا مسئلہ قومی مسائل میں سرفہرست حیثیت اختیار کر چکا ہے اور فرانس کے صدر اور وزیر اعظم کے اعلانات کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے سر پر اسکارف لینے کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے۔ دوسری طرف سینکڑوں مسلم خواتین نے پیرس میں گزشتہ روز مظاہرہ کیا ہے جس میں اسکارف پر مجوزہ پابندی کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

مصری وزیر خارجہ کی مسجد اقصیٰ میں پٹائی

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ احمد ماہر گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں نماز ادا کرنے کے لیے آئے تو فلسطینی نوجوانوں نے ان کی جوتوں سے پٹائی کر دی اور اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ مصر ایک دور میں فلسطین کی آزادی، فلسطین کی وحدت اور فلسطینی عوام کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

امریکہ میں دینی مصروفیات

میں ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء سے امریکہ ہوں اور رمضان المبارک کے دوسرے ہفتہ کے دوران واپسی کا ارادہ ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی قریب ریاست ورجینیا کے علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں دارالہدیٰ کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے جس میں مسجد کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے بانی و منتظم مولانا الحمید اصغر نقشبندی کا تعلق بہاولپور سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

مسیحی جوڑے کا نکاح اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

ماہنامہ نصرت العلوم کے ستمبر کے شمارے میں ہم نے لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر کیا تھا جس میں ایک مسیحی جوڑے کے نکاح کے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ چونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں بالغ لڑکے اور لڑکی کو باہمی رضا مندی سے شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے، اس لیے اگر وہ خود کو کورٹ میں میاں بیوی کے طور پر رجسٹرڈ کرا لیں تو ان کے لیے نکاح کے حوالہ سے مذہبی قوانین اور اور طریق کار کی پابندی ضروری نہیں رہتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

کرائے کے شوہر

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نے ۹ اکتوبر تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں سی این این کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ماسکو میں کرائے پر شوہر فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔ نینا راکمانین نامی خاتون نے بے شوہر خواتین کے لیے ایک سروس شروع کی ہے جس کے تحت مذکورہ خواتین گھنٹوں، دنوں یا مہینوں کے حساب سے شوہر کرائے پر حاصل کرکے ان سے گھر کے ضروری کام کاج کرا سکیں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیس کے قریب این جی اوز کی خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بارے میں تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن کی طرف سے حدود آرڈیننس کی منسوخی کی سفارش سامنے آچکی ہے جس کی حمایت میں اس مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

مسلم حکمرانوں کو مہاتیر محمد کی تلقین

روزنامہ اسلام لاہور سے ۱۷ ستمبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں نوجوان مسلمان راہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مہارت اور ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مغربی ترقی تک پہنچنا ہوگا تاکہ انہیں اسلام کی تضحیک اور تمسخر اڑانے سے روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں کمال اتاترک جیسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی خلافت کا نظام قابل عمل ہے ۔جہاں تک مصطفی کمال اتاترک جیسی اصلاحات کے نفاذ کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا نفاذ کسی بھی مسلمان ملک میں ممکن نہیں رہا، اس لیے کہ وہ اصطلاحات خود ترکی میں کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

بہائی مذہب اور عقیدۂ ختم نبوت

ماہنامہ نصرۃ العلوم کے اگست کے شمارے میں ’’حالات و واقعات‘‘ کے تحت راقم الحروف نے فلسطین کے وزیر اعظم محمود عباس کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کا تعلق بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق بہائی مذہب سے ہے جو اسلام سے منحرف گروہ ہے اور قادیانیوں کی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کا انکار کرتے ہوئے مرزا بہاء اللہ شیرازی کی نبوت کا قائل ہے ۔ اس پر پشاور سے جناب مہربان اختری صاحب کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمود عباس بہائی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

زائد از ضرورت مکانات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش حال ہی میں قومی اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں ضروریات کے حوالہ سے درجہ بندی کی جائے اور زائد از ضرورت مکان کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ شاداب نے جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ایک خبر شائع کی ہے جو علمی و دینی حلقوں کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ صائمہ نامی ایک مسیحی لڑکی نے گھر سے بھاگ کر ایک مسیحی نوجوان سے شادی کر لی جس پر لڑکی کی ماں نے عدالت میں اس لڑکے کے خلاف اغوا کا کیس درج کرا دیا اور ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی شادی مسیحی مذہب کے قوانین کے مطابق رسومات کی ادائیگی کے ساتھ نہیں ہوئی اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

شریعت ایکٹ اور گورنر سرحد

اخباری اطلاعات کے مطابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے متفقہ طور پر منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے جبکہ سرحد کابینہ کے تجویز کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو اس اعتراض کے ساتھ واپس بھجوا دیا ہے کہ اس میں عدالتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور آئینی حدود سے تجاوز کیا گیا ہے۔ سرحد اسمبلی نے شریعت ایکٹ ۷ جون ۲۰۰۳ء کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے اقلیتی ارکان نے بھی شریعت ایکٹ کی حمایت کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۳ء

فلسطین کا بہائی وزیر اعظم

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم محمود عباس کی سربراہی میں کابینہ نے فلسطین کے لیے جو مسودہ قانون منظور کیا ہے اس میں زنا ،شراب اور جوئے کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ محمود عباس کا تعلق اسلام سے منحرف گروہ بہائی فرقہ سے ہے جس کے سربراہ مرزا محمد علی باب اور اس کے جانشین مرزا بہاء اللہ شیرازی نے اب سے ڈیڑھ صدی قبل ایران میں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا بہاء اللہ شیرازی نے کہا تھا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۳ء

مولانا اعظم طارق کا شریعت بل اور مسیحی اقلیت

ملت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کر رکھا ہے جس میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف ملک میں رائج تمام قوانین ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس شریعت بل کا مسودہ ان نصف درجن کے لگ بھگ شریعت بلوں سے ملتا جلتا ہے جو مختلف اوقات میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش ہوئے، ان پر سالہا سال تک بحث ہوئی اور ان ایوانوں میں منظور بھی ہوئے لیکن اس کے بعد پھر طاق نسیاں کی نذر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ

اخباری اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینٹ کے چیئرمین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے متحدہ مجلس عمل کے متعدد منتخب ارکان پارلیمنٹ کی ان تعلیمی اسناد کو چیلنج کر دیا گیا ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے ملک کے آئین میں ترامیم کرتے ہوئے جو نئے ضابطے نافذ کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کردی گئی تھی جس کے تحت جو شہری بی اے نہیں ہے وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

سرحد اسمبلی کا شریعت ایکٹ

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں ’’شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری دی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف پروپیگنڈے کی ایک نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ شریعت ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سرحد میں دستور کے مطابق صوبائی اختیارات کی حدود میں تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور قرآن و سنت کے احکام کی روشنی میں انتظامی و عدالتی امور چلائے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

عراق میں امریکی مقاصد

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ جون ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے صدارتی مشیر اینڈ بیئرز نے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراق پر جنگ مسلط کرکے وہاں کے عوام کی ذہنی و افرادی قوت اور دولت کے تحفظ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

افغانستان میں ہیروئن کا کاروبار

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۷ مئی ۲۰۰۳ء کو اے پی پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ کسٹم حکام نے چھاپہ مار کر افغانستان سے پاکستان آنے والی ۵۴۰ ملین روپے مالیت کی ہیروئن پکڑی ہے، یہ ہیروئن کوئٹہ میں پکڑی گئی ہے اور اے۔ پی۔ پی کی رپورٹ کے مطابق یہ اب تک کسی بھی ایجنسی کی طرف سے پکڑی جانے والی ہیروئن کی سب سے بڑی مقدار ہے جو کسٹم حکام نے قابو کر لی ہے تاہم دونوں طرف سے بھاری فائرنگ کے دوران اسمگلر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کے خلاف امریکی امداد

ہفت روزہ ضرب مومن کراچی نے ۲ تا ۸ مئی ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ امریکہ نے امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی نسل کو ان دینی مدارس میں جانے سے روک سکے گا جہاں سے مجاہدین اپنی تنظیموں میں نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں۔ یو ایس ایڈ ایجنسی نے پاکستان میں اسکولوں کی تعمیر نو اور تعلیمی نظام کے استحکام کے لیے پانچ سال کا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت ایک ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۳ء

سیرت نبویؐ کے حوالہ سے ضروری گزارش

ربیع الاول کے مہینہ میں عام طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے ان کے حالات اور تعلیمات کے تذکرہ کے لیے باقی سال کی بہ نسبت زیادہ اہتمام کے ساتھ مجالس و محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔ جس کا کسی شرعی ضابطہ اور اصول سے کوئی تعلق تو نہیں ہے لیکن چونکہ دوسری اقوام میں اپنے پیشواؤں کے دن منانے اور مخصوص ایام میں انہیں اہتمام کے ساتھ یاد کرنے کا سلسلہ موجود ہے، اس لیے ان کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی یہ رسم عام ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۳ء

اور اب شام کی باری ہے!

بغداد پر قبضہ کے ساتھ ہی امریکی حکمرانوں نے شام کی حکومت کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس کے خلاف وہی الزامات دہرائے جا رہے ہیں جو اس سے قبل عراق کی حکومت کے خلاف ایک عرصہ سے دہرائے جا رہے تھے۔ عراق پر الزام تھا کہ اس نے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ چھپا رکھا ہے، اقوام متحدہ کے معائنہ انسپکٹروں نے عراق کے بار بار معائنہ اور دورہ کے بعد اس کی واضح تردید کی کہ انہیں عراق کے پاس ممنوعہ ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت کے اقدامات

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق صوبہ سرحد کی اسمبلی میں نفاذ شریعت ایکٹ پیش کیا جا رہا ہے جو صوبہ سرحد کے مشہور عالم دین مولانا مفتی غلام الرحمن کی سربراہی میں نفاذ شریعت کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے اور حسبہ ایکٹ اور مصالحتی کمیٹی ایکٹ کی صورت میں ایوان میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، ان کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی اتحاد کا قبضہ

امریکہ نے برطانیہ اور دوسرے اتحادیوں کے تعاون سے بغداد پر قبضہ کر لیا ہے اور عراق پر اپنی حکومت مسلط کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی اتحاد جس قسم کے خوفناک اسلحہ سے لیس ہو کر عراق پر حملہ آور ہوا تھا اور جو وسائل اس کی پشت پر تھے ان کے پیش نظر عراقی فوج کے اس حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے مسلسل تین ہفتے امریکی اتحاد کا مقابلہ کیا اور باوجود اس کے کہ گزشتہ ایک عشرہ سے عراق کی اقتصادی ناکہ بندی جاری تھی اور عراق پر کسی قسم کے مہلک ہتھیار بنانے پر پابندی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

فرانسیسی وزیر داخلہ کی مسلمانوں کو دھمکی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق فرانس کے وزیر داخلہ نکلس سرکوزی نے مسلم راہنماؤں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ فرانس میں اسلامی اقدار کے فروغ کی کوشش نہ کریں ورنہ ایسے شدت پسندوں کو فرانس سے نکال دیا جائے گا۔ فرانس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور دنیا میں مغربی جمہوریت کے سفر کا آغاز انقلاب فرانس سے ہوا تھا لیکن دنیا بھر میں جمہوریت کا سبق پڑھانے والے یورپی لیڈر اسلامی اقدار کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے ملکوں میں اسلامی اقدار کا فروغ کسی صورت میں گوارا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

اسامہ انقلابی راہنما ہیں ۔ امریکی کانگریس خاتون کا موقف

روزنامہ ’’اسلام ‘‘کراچی نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۳ء کو این این آئی کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن مسز مارکی کیپٹر نے گزشتہ دنوں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہہ کر امریکی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کہ اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ وہ ایک انقلابی راہنما ہیں جو اپنے ملک میں ظالم حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ مسز مارکی کیپٹر کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن ان امریکی انقلابیوں سے مماثلت رکھتے ہیں جنہوں نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۳ء

شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں کی حالت زار

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۳ء کو اے، پی، پی کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں اور تازہ جھٹکوں میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دیامر شمالی علاقہ جات کا ضلع ہے جس میں اہل سنت کی اکثریت ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے دوسرے اضلاع میں مجموعی طور پر اہل تشیع، آغا خانی اور نور بخشی فرقوں کو اکثریت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکی حملے کا مقصد

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بالآخر عراق پر حملہ کردیا ہے، تادم تحریر جنگ جاری ہے اور اس میں شدت پیدا ہو رہی ہے، ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک جنگ کا کوئی واضح رخ سامنے آچکا ہو مگر ابھی تک عراقی فوج مختلف محاذوں پر مزاحمت کر رہی ہے اور عراقی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں عراق پر قبضے کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گا۔ یہ حملہ دراصل اسی عسکری کاروائی کا تسلسل ہے جس کا آغاز کویت پر عراق کے قبضے کے بعد خلیج عرب میں امریکی اتحاد کی فوجوں کی آمد سے ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۳ء

امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں مختلف شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور متعدد ممالک کے مجموعی طور پر کروڑوں افراد نے سڑکوں پر آکر امریکی عزائم کے خلاف جذبات کا اظہار کیا، مظاہرین نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کے لیے عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور بے گناہ عوام کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

مفتی اعظم سعودی عرب کا کلمۂ حق

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کے مطابق اس سال حج کے موقع پر منٰی کے میدان میں خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا ہے اور عالم اسلام کو اس طرف ان الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ ’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں، یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

بیت اللحم میں ایک سوگوار کرسمس

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق اس سال ۲۵ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے شہر بیت اللحم میں ان کی یاد میں جو ایک دو تقریبات منائی جا سکیں ان میں دعائے نیم شب تھی جس میں چند سو عبادت گزاروں نے حصہ لیا، شہر میں خوشیوں کی بجائے سوگ کا سا ماحول رہا، میونسپل کمیٹی کے عہدیداروں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کی وجہ سے سب تقریبات منسوخ کردی تھیں اور صرف دعائیہ تقریبات رہنے دیں۔ اسرائیلیوں نے بعد میں اپنی فوج شہر کے وسط سے دو دن کے لیے ہٹا لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

سرحد کی صوبائی حکومت کے اعلانات

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں میٹرک تک تعلیم مفت دی جائے گی۔ اجلاس میں دیگر کئی اہم فیصلوں کے علاوہ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ صوبہ میں اردو سرکاری زبان ہوگی اور صوبائی سطح پر تمام پیشہ وارانہ اور مقابلے کے دیگر امتحانات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوا کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں سنا جب ان کی خطابت کا ہر طرف شہرہ تھا اور توحید و سنت کے پرچار کے ساتھ ساتھ شرک و بدعات کے تعاقب میں وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ خطابت کے محاذ پر سرگرم تھے۔ ہم طالب علم تھے گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں جہاں بھی ان کی تقریر ہوتی ہم جتھہ بن کر جاتے اور ان کے پرجوش خطابت کا حظ اٹھاتے۔ یہ ان کی خطابت کے عروج کا دور تھا، وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دو دو تین تین گھنٹے بولتے اور پرجوش خطابت کے ساتھ ترنم کا جوڑ ملا کر عجیب سماں باندھ دیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

اسلامی تحریکات اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا خوف

’’آن لائن‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے قومی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی تحریکات کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مختلف ممالک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صدر پیوٹن نے اپنے انٹرویو میں اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ اسلامی شدت پسند دنیا میں اسلامی خلافت لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوگئی ہے، جمعیۃ علماء اسلام کے اکرم خان درانی نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے، اکرم خان درانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تحریک آزادی کے نامور عسکری راہنما فقیر ایپیؒ کے دست راست حاجی گل نوازؒ کے پوتے ہیں جن کی جائیداد ضبط کرکے ان کے مکانات کو اس جرم میں فرنگی حکومت نے بموں سے اڑا دیا تھا کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے ہتھیار بکف تھے اور فرنگیوں سے اپنا وطن آزاد کرانے کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

عالم اسلام کے ممتاز محقق، دانش ور اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکہ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا اور وہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے معتمد تلامذہ اور رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے سیرت نبویؐ کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالہ سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

’’ہے جرم ضعیفی کے سزا مرگ مفاجات‘‘

عراق پر امریکی حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، عراق نے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو معائنہ کے لیے عراق آنے کی اجازت دے دی ہے اور انسپکٹروں نے تفصیلی معائنہ کے بعد رپورٹ دی ہے کہ انہیں ممنوعہ اسلحہ کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اس کے باوجود امریکہ اور برطانیہ مصر ہیں کہ عراق پر حملہ ہو کر رہے گا۔ ادھر خلیج عرب کے ممالک کی تعاون کونسل نے دوحہ میں ایک اجلاس میں قطر اور دیگر عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو عراق پر حملہ کے لیے اڈے فراہم نہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ۔ ایک صاحب بصیرت سیاستدان

سیاست زندگی بھر حضرت مفتی صاحبؒ کا اوڑھنا بچھونا رہی ہے، انہوں نے سیاست کو مشغلہ، ہابی یا آج کے سیاسی پس منظر میں کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ مشن اور فریضہ کے طور پر اختیار کیا اور اس کا حق ادا کر کے دکھایا۔ ان کا شمار ملک کے مقتدر اور کامیاب سیاستدانوں میں ہوتا تھا اور ان کی سیاسی قیادت کا لوہا ان کے معاصر بلکہ سینئر سیاستدانوں نے بھی مانا۔ لیکن آج سیاست اور سیاستدانوں کی اصطلاحات کے گرد مفہوم و تعارف کے جو نامانوس دائرے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں اور جن لوازمات نے ایک سیاستدان کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۷ء

لیڈی ڈیانا

لیڈی ڈیانا اور ان کے ذاتی معالج کے ان تبصروں کی روشنی میں لیڈیا ڈیانا کی حادثاتی موت پر دنیا بھر میں رونما ہونے والے ردعمل کی تہہ تک پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ لیڈی ڈیانا دراصل مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی سے جنم لینے والی ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی الجھنوں کی علامت بن گئی تھی اور اس نے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کی منزل حاصل کرنے کے لیے شاہی اقدار اور خاندان کی روایات سے بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۷ء

مولانا انیس الرحمان درخواستی شہیدؒ

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے نواسے اور جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمان درخواستیؒ کو گزشتہ جمعہ کے روز کراچی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم انتہائی شریف الطبع انسان اور عمدہ تعلیمی ذوق رکھنے والے مدرس عالم دین تھے، حضرت درخواستیؒ کے علوم و روایات کے امین تھے اور چند سال قبل انہوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر بھی کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۷ء

الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت اور اخوان المسلمین شام کے سابق مرشد عام الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃؒ کا تعلق شام سے تھا اور وہ شام کے معروف حنفی محدث الاستاذ محمد زاہد الکوثریؒ کے تلمیذ خاص اور ان کے علمی جانشین تھے۔ عرب دنیا میں حنفی مسلک کے تعارف اور اس کی ترویج و اشاعت میں ان دونوں بزرگوں کا بہت بڑا حصہ ہے اور یہ بزرگ گزشتہ پون صدی کے دوران عالم عرب میں حنفیت کے علمی ترجمان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۷ء

مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی گزشتہ روز لاہور سیشن کورٹ کے احاطہ میں بم کے خوفناک دھماکہ میں جام شہادت نوش کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے نائب مولانا اعظم طارق کے ہمراہ ایک مقدمہ کی پیشی کے سلسلہ میں سیشن کورٹ میں موجود تھے کہ اچانک بم کا دھماکہ ہوا جس میں مولانا ضیاء الرحمان فاروقی سمیت دو درجن سے زائد افراد جاں بحق جبکہ مولانا اعظم طارق سمیت ایک سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے۔ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ کا تعلق سمندری ضلع فیصل آباد سے تھا اور وہ مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا محمد علی جانبازؒ کے فرزند تھے ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۷ء

غازی محمد انور پاشاؒ

روزنامہ جنگ لاہور ۵ اگست ۱۹۹۶ء کی خبر کے مطابق ترکی کے ایک سابق وزیر جنگ غازی محمد انور پاشاؒ کی میت کو ۷۴ سال کے بعد تاجکستان سے منتقل کر کے ۴ اگست ۱۹۹۶ء کو دوبارہ استنبول میں دفن کیا گیا ہے اور تدفین کی اس تقریب میں ترکی کے صدر جناب سلیمان ڈیمیریل اور وزیراعظم جناب نجم الدین اربکان نے بھی شرکت کی ہے۔ غازی انور پاشاؒ خلافت عثمانیہ کے دورِ زوال کے ایک نامور سپوت ہیں جنہوں نے خلافت کو سہارا دینے اور اس کے نظام کی اصلاح کے لیے اپنی بساط کی حد تک انتھک جدوجہد کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۶ء