دینی مدارس کے خلاف مغربی حکمرانوں کی مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۱ء

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسٹر جارج ڈبلیو بش کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر اتحادی فوجوں کی لشکر کشی کا ہمیشہ دفاع کیا ہے۔ مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ عراق پر فوج کشی ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کے جس الزام میں کی گئی تھی، وہ غلط ثابت ہوا ہے اور عراق میں کہیں بھی اس قسم کے ممنوعہ ہتھیاروں کا سراغ نہیں ملا، تو مسٹر ٹونی بلیئر نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ اس کے باوجود عراق پر ہمارا حملہ ضروری تھا۔ گویا ممنوعہ ہتھیاروں کی بات صرف بہانہ تھی اور حملہ آوروں کے اصل مقاصد کچھ اور تھے۔ اب اسی قسم کی صورتحال دینی مدارس کے خلاف مغربی ملکوں کی الزام تراشی اور مسلسل مہم کے حوالہ سے بھی دکھائی دے رہی ہے جس کا اندازہ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۳۰ ستمبر کو شائع ہونے والی اس خبر سے کیا جا سکتا ہے کہ:

’’سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ پاکستان ۱۹۷۰ء کی دہائی میں شروع کی جانے والی غلطی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ سی این این آئی بی این کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ۱۹۷۰ء کی دہائی کی اس غلطی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے جب اس نے مذہب کو سیاست کے ساتھ جوڑنے اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے دینی مدارس کا آغاز کیا تھا، بعض اوقات یہ مدارس انتہاپسندی کا خطرناک ذریعہ بھی بنے ہیں ۔‘‘

گویا سابق برطانوی وزیر اعظم کے خیال میں پاکستان نے مذہب کو سیاست کے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں کیا تھا اور اس کے لیے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی غرض سے دینی مدارس کا آغاز بھی ۱۹۷۰ء کی دہائی میں کیا گیا تھا۔ یہ کسی عام شخص کی معلومات نہیں ہیں بلکہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم کی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر وہ دینی مدارس کی کردار کشی کی مہم عالمی سطح پر جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ دینی مدارس کا قیام ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی حکمرانوں کی طرف سے اس خطہ کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دیے جانے پر مسلم معاشرہ میں عربی اور فارسی زبانوں کے ساتھ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی تعلیم کو باقی رکھنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اور پہلا مدرسہ ۱۸۶۶ء میں دیوبند میں قائم ہوا تھا۔ ۱۹۷۰ء کی جس دہائی کی بات مسٹر ٹونی بلئیر کر رہے ہیں اس میں بہت سے دینی مدارس اپنے قیام کو ایک صدی مکمل کر چکے تھے اور دار العلوم دیوبند نے تو باقاعدہ صد سالہ تقریبات کا بھی اہتمام کیا تھا۔

پھر مذہب کو سیاست سے جوڑنے کی بات بھی مسٹر ٹونی بلیئر نے ۱۹۷۰ء کی دہائی سے منسوب کر دی ہے۔ جبکہ برصغیر کی پہلی عوامی سیاسی تحریک جو خلافت کے تحفظ کے لیے ۱۹۷۰ء کی دہائی سے نصف صدی قبل چلی تھی اور اس کے نعروں کی گونج پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل پورے برصغیر کے گلی کوچوں میں سنائی دی تھی، وہ سیاست کا مذہب کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کے لیے تھی۔ اور تحریک پاکستان کی بنیاد بھی اس پر تھی کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنی الگ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں اور اپنے مذہب کے مطابق قومی معاشرہ کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب قیام پاکستان کے بعد ملک کی منتخب دستور ساز اسمبلی نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی صورت میں مذہب اور سیاست کے مستقل جوڑ کو پاکستانی ریاست کا بنیادی نظریہ قرار دیا تھا تو وہ بھی ۱۹۷۰ء کی دہائی سے دو عشرے قبل کی بات ہے۔ مگر مسٹر ٹونی بلیئر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ڈیڑھ صدی کی اس مسلسل سیاسی، تہذیبی اور تعلیمی جدوجہد کو ۱۹۷۰ء کی دہائی کے دائرے میں سمیٹ کر دینی مدارس کے خلاف اپنے مقدمہ کا تانا بانا بن رہے ہیں۔

ہم مسٹر ٹونی بلئیر سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح عراق پر فوج کشی کے وقت وہاں ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں ان کی معلومات ناقص اور ادھوری تھیں، جن کی بنیاد جھوٹی اور گمراہ کن رپورٹوں پر تھی، اسی طرح مسلمانوں کے ہاں مذہب اور سیاست کے جوڑ اور دینی مدارس کے بارے میں بھی ان کی معلومات انتہائی سطحی اور ناقص ہیں۔ وہ دینی مدارس کی کردار کشی کی مہم جاری رکھنے سے پہلے اپنی معلومات درست کریں اور دینی مدارس کی تعلیمی اور تہذیبی جدوجہد کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں تا کہ انہیں معلوم ہو کہ دینی مدارس نے مسلم معاشرہ کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں کیا کردار ادا کیا ہے اور آنے والے دور میں وہ مذہب کا سیاست سے تعلق باقی رکھنے کے لیے کیا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔