موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۱۱ء

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۲۸ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق:

’’اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے افسر رثم سٹائز نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور ان آفات کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

بتایا جاتا ہے کہ کیمیاوی و تابکاری اثرات اور دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافہ کے باعث موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ان موسمی تبدیلیوں کے ساتھ قدرتی حوادث، سیلاب اور زلزلہ وغیرہ کے امکانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مستقبل کی دنیا کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش نظر آتا ہے کہ پینے کے قابل پانی کی قلت ایک عالمی مسئلہ کی صورت اختیار کرنے لگی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ انسانی آبادی کی تباہی کے لیے سائنسی ہتھیاروں کی بہتات ہے کہ سائنسی علوم اور وسائل کو انسانی معاشرہ کی ترقی اور انسانوں کو زندگی کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ضرور استعمال کیا گیا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ سائنس کا استعمال انسانیت کی تباہی کے لیے زہریلے اور خوفناک ہتھیاروں کی تیاری کی صورت میں کیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار اس مقدار میں دنیا میں موجود ہیں کہ اس زمین کی کئی بار تباہی کے لیے کافی ہیں اور اگر یہ استعمال نہ بھی ہوں تو ان کے زہریلے اثرات دنیا میں ماحولیاتی خرابیوں کا باعث بن رہے ہیں اور آنے والا دور اس حوالہ سے انسانی سوسائٹی کے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

اس کا ایک پہلو تو جناب سرور کائنات ؐ کے ان ارشادات میں موجود ہے جن میں کثرت زلزال کا ذکر ہے اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ قرب قیامت کا دور آگیا ہے اور اس قسم کی علامات کے ظہور کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو بہرحال ہمارے لیے سبق و عبرت کا باعث ہیں اور آنے والے دور کی تیاری بالخصوص ایمان کی حفاظت کے خصوصی اہتمام کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ لیکن اس کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا ذکر برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے گزشتہ سال (جون ۲۰۱۰ء) کے دوران نیویارک میں ماحولیات کے حوالہ سے منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں یہ کہہ کر کیا تھا کہ:

’’اگر دنیا کو ماحولیات کے حوالہ سے کسی بڑی تباہی سے بچانا ہے تو اس کے لیے ان معاشرتی اصول و قوانین کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو قرآن کریم بیان کرتا ہے۔‘‘

ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ماحولیات کے حوالہ سے موجودہ خطرات و خدشات آسمانی تعلیمات اور اصولِ فطرت سے انحراف کا نتیجہ ہیں اور ان سے نجات کے لیے اسی طرف واپسی ضروری ہے۔

درجہ بندی: